Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 4

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 4

–**–**–

تھم گئی رفتار ہستی وقت ساکن ہو گیا
جب نگاہوں کو جھکا کر آپ شرمانے لگے
مرحلے جتنے کڑے تھے حوصلہ بڑھتا ہے
راستوں کے موڑ منزل پر نکل آنے لگے
زہران کا گھر یونیورسٹی کے نذدیک ہی سوسائٹی میں تھا۔۔۔۔
اس کے گھر کے نذدیک ایک پارک تھا۔۔۔۔جہاں وہ روزانہ صبح 6 بجے نماز کے بعد جاگنگ کرنے جاتا اس کا روزانہ کا معمول تھا۔۔۔۔
جاگنگ کے دوران اس نے ادھر اودھر جائزہ لیتے یہ بات نوٹ کی کچھ دن سے یونیورسٹی روڈ پہ موجود گرلز ہاسٹل کی کھڑکی سے کوئی لڑکی اسے دیکھتی ہے۔۔۔۔
وہ لڑکی روزانہ اس کے پارک آنے والے ٹائم کھڑکی میں آتی اور اس کے واپس جانے تک ہر طرف سے بے خبر ہو کر صرف اسے تکتی۔۔۔۔۔دور سے وہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا وہ کیسی ہوگی۔۔۔۔
اتنا
اس کے سنہری بال کبھی کبھی نظر آجاتے تھے۔۔۔۔
پھر اچانک سے اس لڑکی نے کھڑکی میں آنا چھوڑ دیا۔۔۔۔
جس کی وجہ سے زہران کا دل بے چین رہنے لگا۔۔۔۔
انہی دنوں اس کی ایک دو بار بات غنچہ گل سے ہوئی۔۔۔
لیکن مکمل حجاب میں ہونے کی وجہ سے وہ صرف اس کی آنکھیں دیکھ سکتا تھا جو کہ نیلی تھیں۔۔۔۔
اس نے بہت بار یہ بھی نوٹ کیا نقاب میں چھپی لڑکی اکثر بے خیالی میں اسے ہی دیکھتی رہتی ہے۔۔
اور بات کرنے پر گھبرا جاتی ہے۔۔۔۔
جب وہ اپنی کزن کے ساتھ ہاسٹل گیا۔۔۔
وہاں آفس میں موجود لڑکی کے بال بھی کھڑکی میں کھڑی ہونے والی لڑکی جیسے ہی تھے۔۔۔
اس کے گھبرانے کا انداز غنچہ گل جیسا تھا۔۔۔۔
آنکھیں بھی غنچہ گل کی آنکھوں سے ملتی تھیں۔۔۔
جس سے زہران کو اس بات کا یقین ہو چلا تھا۔۔۔۔۔
حیا کے پردے میں لپٹی اس لڑکی سے زہران کو محبت ہو گئی ہے۔۔۔
جو لڑکی اس سے بات کرنے سے گھبراتی تھی۔۔۔۔
اس سے اپنے دل کی بات کیسے کی جاتی۔۔۔؟
اس نے دل میں فیصلہ کر لیا سٹڈیز ختم ہونے کے بعد وہ غنچہ گل سے بات کرے گا۔۔۔
پھر اپنے ڈیڈی سے بات کرے گا۔۔۔۔وہ اس کی پسند کو ضرور سراہیں گے۔۔۔۔۔وہ تھی ہی سراہے جانے کے قابل۔۔۔
وہ فیصلہ کر کے بہت مطمئن ہو چکا تھا۔۔۔
لیکن وہ نہیں جانتا تھا تقدیر کے فیصلے انسان کے فیصلوں سے مخالف بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس میں زہران کی نظریں بار بار غنچہ پر ہی جا رہی تھیں
جنہیں محسوس کر کے غنچہ بہت پزل ہو رہی تھی۔۔۔
اب تو کوئی شک کی گنجائش نہیں بچی تھی۔۔۔
وہ اسے پہچان چکا ہے۔۔۔۔
اس کی نظروں میں پسندیدگی کا عنصر وہ نمایاں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔
لیکن وہ اسے اپنی طرف سے کوئی امید دلانا نہیں چاہتی تھی
جبکہ دوسری طرف زہران کی تو آج ٹون ہی بدلی ہوئی تھی۔۔
اس
کا دل ایک نئی لے پہ دھڑک رہا تھا۔۔۔
کمی بس اس بات کی تھی اسے غنچہ سے بات کرنی تھی۔۔۔
اسے سنگ ِ مرمر کی یہ مورت بہت اچھی لگنے لگی تھی۔۔۔
وہ سارا دن اس سے بات کرنے کا موقع ڈھوڈتا رہا۔۔۔
جبکہ غنچہ گل اس سے کتراتی ہوئی کوئی بھی موقع دیے بغیر ہاسٹل واپس آ گئی۔۔۔
اپنے کمرے میں آ کر اس نے کچھ دیر سستانے کے بعد نماز پڑھی۔۔۔۔
پھر ادھر اودھر ٹہلتے ہوئے اپنی ماں کے بھیجے ہوئے ڈرائیور کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔
اس کا آج کھانا کھانے کا دل بھی نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ گھر نہیں جانا چاہتی تھی اسے اس جگہ سے نفرت تھی۔۔۔
وہ ایک لمحہ وہاں نہیں گزار سکتی تھی۔۔۔
یہاں تو 3,4 دن گزارنے کا حکم دے دیا تھا اس کی ماں نے اور وہ اپنی ماں کے حکم کی مخالفت بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
وہ اپنی سوچوں کے بھنور میں ڈوبتی جا رہی تھی کہ اچانک ہونے والی دروازے کی دستک پہ چونکی۔۔۔۔۔
ہاسٹل کی ملازمہ دروازے پر کھڑی تھی جو اسے اطلاع دینے آئی تھی اس کے گھر سے اسے لینے آئے ہیں۔۔۔۔
جانے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا اس کے پاس۔۔۔
ناچار اپنا عبایا اوڑھ کر نقاب ٹھیک کیا۔۔۔۔
اپنے مختصر سی سامان کا سوٹ کیس اٹھا کر آفس آ گئی۔۔۔۔۔
جہاں وارڈن کے سامنے بیٹھا ڈرائیور اس سے کچھ گفتگو کر رہا تھا۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی وہ خاموش ہو گیا۔۔
سلام بی بی جی۔۔۔۔۔غنچہ کودیکھتے ہی سلام جھاڑنے لگا۔۔۔۔
بیگم صاحبہ نے کہا ہے اپ جلدی لے کر حویلی پہنچوں۔۔۔۔۔
جی چلیے۔۔۔۔۔۔اس نے بیزاری سے جواب دیا۔۔۔۔
ڈرائیور اس کا سوٹ کیس اٹھا کر آگے چلنے لگا۔۔۔۔
وہ بھی اس کے پیچھے دھیمی چال چلتی ہوئی ہاسٹل سے باہر آ کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔
ڈوبتے دل کے ساتھ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے جنہیں اس نے اپنی انگلیوں سے صاف کر کے انکھیں موند لیں۔۔۔۔۔
بند
آنکھوں کے پیچھے زہران کے چہرے کی شبیہہ لہرائی۔۔۔۔۔
ایک بار پھر اس کا دل دکھنے لگا وہ جس کو دیکھ کر جیتی تھی اسے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔
زہران کی محبت کا جو ننھا پودا اس نے اپنے دل کی سرزمین پہ اگایا تھا۔۔۔۔۔
آج وہ پودا تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا تھا۔۔۔۔
جس کی جڑیں بہت مضبوطی سے اسے جکڑے ہوئے تھیں۔۔۔۔۔
سارے راستے وہ اسے یاد کر کے دکھی ہوتی رہی۔۔۔۔
خود کو تسلیاں دیتی رہی دو تین دن بعد واپس آ کر اسے دیکھ لونگی۔۔۔۔
اپنے دل کو مطمئن کر کے اس نے آنکھیں پھر سے موندھ لیں اور سر بیک سے ٹکا لیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طویل سفر کے بعد وہ حویلی پہنچ گئی تھی۔۔۔۔
گاڑی مخصوص گلی میں داخل ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
وہ آج سے پہلے کبھی یہاں نہیں آئی تھی اور نہ آنا پسند کرتی تھی۔۔۔۔۔۔
حویلی بہت خوبصورت اور شاندار تھی۔۔۔۔۔
لیکن اس کی شہرت شاندار نہیں تھی۔۔۔۔۔۔
حویلی کی طرز پر بنی اس عمارت کو کوئی بھی حویلی نہیں کہتا تھا۔۔۔۔
بلکہ یہ وہ جگہ تھی جو کوٹھا کہلاتی تھی۔۔۔۔
جہاں دن سوتے اور راتیں جاگتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
گلی میں جگہ جگہ پھولوں,گجروں ,مختلف بناؤ سنگھار اور گھنگھروؤں کی دکانیں تھیں۔۔۔۔
ان سب چیزوں کی فروخت کے لیے اس جگہ سے بہتر کوئی اور جگہ نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔۔۔
وہ یہ سب حیرت سے دیکھ رہی تھی اور دل میں توبہ بھی کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
گاڑی
حویلی کے اندرونی حصے میں جا کر رکی۔۔۔۔
ایک ملازم نے گاڑی کا اس کی طرف والا دروازہ کھولا۔۔۔۔
بھوک اور تھکن سے اس کا برا حال تھا۔۔۔۔
حسینہ بیگم کو بھی اس کے آنے کی اطلاع دی جا چکی تھی۔۔۔۔۔
حویلی کی بڑی بڑی دیواروں بالکونی اور کھڑکیوں سے جھانکتی لڑکیاں اسے حیرت سے دیکھتیں اور آپس میں سر گوشیاں کرتیں۔۔۔۔
جب وہ ہال میں داخل ہوئی چند لڑکیوں نے اس پر پھول پھینکنے اور حسینہ بیگم نے آگے بڑھ کر اس کے منہ میں مٹھائی کا ٹکڑا ڈالا۔۔۔۔۔اور اسے پیار سے گلے لگایا۔۔۔۔۔
وہ ایک شاکڈ کی کیفیت میں سب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اپنے اتنے والہانہ استقبال پر وہ حیران و پریشان تھی۔۔۔۔۔
حسینہ بیگم اس کی بلائیں لیتی نہ تھک رہی تھیں۔۔۔۔
بار بار اس پر صدقے واری جاتیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے لے جا کر ایک تخت پر بٹھایا اور اس کے لیے جوس منگوایا۔۔۔۔۔
جوس پینے کے بعد اس کے اعصاب تھوڑے بحال ہوئے۔۔۔۔
تو اس نے ارد گرد نظر دوڑائی جہاں سب لڑکیاں اسے عجیب عجیب نظروں سے تک رہی تھیں۔۔۔۔
وہ کہیں سے بھی اس ماحول کا حصہ نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔
وہ اب بھی عبایا پہنے ہوئے تھی۔۔۔۔۔
ان سب کے چہرے میک اپ سے بھرے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔
اور لباس آدھے تھے۔۔۔۔۔کچھ کے تو بالکل ہی نہ ہونے کے برابر تھے۔۔
حسینہ بیگم نے کچھ ناگواری سے اس کے برقعے کو دیکھا۔۔۔
غنچہ بیٹا اس کالے لبادے کو اتار دیجئے اب آپ یہاں محفوظ ہیں اور یہاں کوئی مرد بھی نہیں سب عورتیں ہیں۔۔۔۔
وہ جو چپ اور بیزار بیٹھی ادھر اودھر دیکھ رہی تھی اپنی ماں کی بات سن کر ان کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔۔
امی جان ادھر کیسے؟؟؟؟؟
میرا مطلب ہے آپ مجھے میرا کمرہ دکھا دیں میں اودھر ہی برقعہ بھی اتاروں گی آرام بھی کرونگی۔۔۔۔
حسینہ
بیگم نے اس کی بات پر چند لمحے کچھ سوچا اور پھر سے گویا ہوئی۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے ہم آپ کو آپ کے کمرے میں پہنچا دیتے ہیں۔۔۔
آپ کچھ دیر آرام کر کے آجائیں سب کے ساتھ کھانا کھانے۔۔۔۔۔
ان سب لڑکیوں کے ساتھ کھانا کھانے کا سوچ کر ہی وہ پریشان ہو گئی تھی۔۔۔۔
لیکن فلحال اپنی ماں کا حکم ماننے کے سوا کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
نگینہ بائ۔۔۔۔۔
حسینہ بیگم کی پکار سن کر ایک لڑکی فوراً ان کے نذدیک آئی۔۔۔۔۔
اور موئدبانہ انداز میں کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔
جی حسینہ بیگم حکم کیجیئے؟۔۔
جائیے غنچہ گل کو ان کی آرام گاہ میں لے جائیں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ان کو تیار کر کے دسترخوان پر لانا آپ کی ذمہداری ہے۔۔۔۔۔
جی حضور ہم ایسا ہی کریں گے۔۔۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ لڑکی غنچہ گل کے قریب آئ۔۔۔۔۔
آئیے غنچہ بیگم ہم آپ کو آرام گاہ میں لیے چلتے ہیں۔۔۔۔۔
وہ تو اس کے بیگم کہنے پر ہی حیران ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
فوراً سے وہاں سے اٹھی کہیں اس کی ماں کوئی نیا حکم نہ صادر کر دے۔۔۔۔۔
اور نگینہ بائ کے ساتھ ایک کمرے میں آگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: