Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 5

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 5

–**–**–

کمرہ خوبصورتی سے سیٹ کیا گیا تھا۔۔۔۔
کمرے کے وسط میں جہازی سائیز بیڈ تھا۔۔۔۔
جس کے دائیں طرف صوفے اور بائیں طرف سنگھار میز رکھا تھا۔۔۔۔ جس پر بناؤ سنگھار کا بہت سامان پڑا تھا ۔۔۔۔۔
زمین
پر بیش بہا قیمتی قالین بچھا تھا۔۔۔۔
وہ کمرے کو ستائش بھری نظروں سے دیکھنے میں مصروف تھی۔۔
نگینہ بائ کے بولنے پر چونکی۔۔۔
حضور آپ آرام کیجیئے ہم کچھ دیر بعد آئیں گے آپ کو تیار کرنے۔۔۔۔۔
نہیں میرے پاس آرام کے لیے بہت وقت ہے۔۔
فلحال میں اپنی سفر میں قضا ہونے والی نمازیں پڑھونگی۔۔۔
اس کی بات سن کر اب حیران ہونے کی باری نگینہ بائ کی تھی۔۔۔۔
کیونکہ
حسینہ بیگم نماز تو دور کی بات کلمہ بھی دن میں ایک بار مشکل سے ہی پڑھتی تھیں۔۔۔۔
انہہی کی بیٹی نماز کی اس قدر پابند۔۔۔۔
بات کچھ ہضم نہ ہو رہی تھی۔۔۔
لیکن وہ کچھ سوچ کر دل ہی دل میں مسکرائ
شروع شروع میں سب ایسی ہوتی ہیں پردے میں لپٹی ہوئی۔۔۔۔۔حاجن نمازن۔۔۔۔
نگینہ انہی باتوں کو سوچ کر دل ہی دل میں اس کا مذاق اڑانے لگی۔۔۔۔
اتنی دیر میں غنچہ وضو کر کے چکی تھی۔۔۔۔
اس کے سوال کرنے پر نگینہ حیرت ذدہ ہو گئی۔۔۔۔
اب کیا بتاتی اسے یہ کوٹھا ہے۔۔کوئی مسجد یا عالم گھر نہیں۔۔۔۔
یہاں
موسیقی کے آلات تو مل سکتے تھے لیکن جانماز نہیں۔۔۔
جی۔۔۔جی ہم ابھی لےکر اتے ہیں۔۔۔۔وہ ہکلا کر بولی۔۔۔۔اور
جانے ہی لگی تھی۔۔۔
غنچہ گل کی آواز پر پھر سے پلٹی۔۔ ۔
رہنے دیں آپ۔۔۔۔شاید اسے بھی انداذہ ہو گیا تھا۔۔۔۔
میرے بیگ میں رکھا ہے آپ کو خواہمخواہ تکلیف میں ڈالنا اچھی بات نہیں۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ اپنے بیگ سے جائنماز نکالنے لگی۔۔۔۔
نگینہ کی نظر اس کے بیگ میں موجود سامان پر گئی۔۔۔۔
جہاں دو چار جوڑے کپڑوں کے تھے وہ بھی بہت پرانے اور عام سے۔۔۔۔ذیادہ تو کتابیں ہی تھیں۔۔۔۔۔
وہ اب نماز پڑھنے میں پوری طرح مہو ہو چکی تھی۔۔۔۔
جبکہ نگینہ کچھ حیرت اور کچھ تفکر کے ملے جلے تاثرات لیے اپنے کمرے کی جانب چل دی۔۔۔۔
جہاں دوسری طوائفوں نے خوش گپیوں کی محفل لگائی ہوئی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ گئیں آپ نگینہ بائ۔۔۔۔ہماری پردے میں لپٹی ہوئی مستقبل کی ملکہ طوائف کو ان کی آرام گاہ میں پہنچا کہ۔۔۔۔
شہنیلہ بائ نے مذاق اڑاتے ہوئے طنزیہ لحجے میں پوچھا۔۔۔۔
نگینہ کچھ بھی بولے بغیر ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
ہمیں نہیں لگتا غنچہ بیگم ایک اچھی ملکہ طوائف بن پائیں گیں۔۔۔ایک اور لڑکی نے لقمہ لگایا۔۔۔
شروع شروع میں تو سب لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں جب یہاں آتی ہیں۔۔۔۔
نگینہ بائی نے بھی اب گفتگو میں حصہ لیا۔۔۔۔
لیکن
وہ کوئی معمولی طوائف نہیں بلکہ ملکاء طوائف بنیں گی۔۔۔۔
اور ہمیں نہیں لگتا وہ ایک اچھی طوائف بن سکیں گی۔۔۔۔
اللّٰہ توبہ۔۔۔۔۔دو الفاظ سے زیادہ بولنے پر بھی ان کا حلق درد کرنے لگتا ہے۔۔۔۔
انہیں دیکھ کر تو ہمیں ایسا معلوم ہو رہا ہے اس کوٹھے کی جو تھوڑی شان بچی ہے وہ بھی نہیں رہے گی۔۔۔۔
ثوبیہ بائ نے تفصیل سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔
اور نہیں تو کیا ہم نے بھی کہا تھا۔۔۔۔ہمیں بنا دیں ملکہ طوائف ہم اس ذمیداری کو بخوبی نبھانا جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
لیکن حسینہ بیگم کو اس گدی کے لیے اپنی بیٹی سے زیادہ بہتر کوئی اور لڑکی نہیں ملی۔۔۔۔
شاید یہ بھول رہی ہیں آپ کو اس مقام کے لیے پہلے ہی نا اہل قرار دیا جا چکا ہے۔۔۔۔
کیوں کہ آپ میں بھی وہ سب خوبیاں نہیں جو اس کوٹھے کی شان و شوکت کو پھر سے لوٹا سکے۔۔۔۔۔۔
نیناں بائ نے شہنیلہ بائ پر بھرپور چوٹ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیا مطلب ہے آپ کا؟؟؟؟
شاید آپ بھی بھول رہی ہیں کہ اس کوٹھے کو جو تھوڑا بہت گزارا چل رہا ہے وہ ہماری ہی بدولت ہے۔۔۔۔
ورنہ اب تک آپ سب سڑکوں پر کھڑی ہو کر گاہک ڈھونڈ رہی ہوتیں۔۔۔۔
شہنیلہ بائ کا غصے سے پارہ ہائ ہو چکا تھا انہیں بات بری لگ گئی تھی۔۔۔۔
اچھا بس کریں آپ سب اب لڑنا بند کریں اور باہر جا کہ
کھانے کے انتظامات دیکھیں ہم بھی آتے ہیں غنچہ بیگم کے ساتھ۔۔۔۔
نگینہ بائ نے بات کو بگڑتے دیکھ کر حکم صادر کیا۔۔۔۔
چونکہ وہ سب طوائفوں میں بڑی تھی اس لیے اس کی بات کا احترام کیا جاتا اور حکم بھی مانا جاتا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: