Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 6

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 6

–**–**–

وہ نماز سے فارغ ہو کر تلاوت قرآن مجید میں مشغول تھی۔۔۔۔۔
جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔
دوران عبادت اس طرح کی خلل اسے ناگوار تو لگی۔۔۔۔
لیکن برداشت کے گھونٹ پی گئی۔۔۔۔۔
جی
آجائیں اندر۔۔۔۔
اندر آنے کی اجازت دے کر وہ صوفے سے اٹھی اور اپنا چھوٹا سا قران مجید چوم کر احتیاط سے سنبھالنے لگی۔۔۔
یہ قرآن مجید وہ ہمیشہ سے اپنے پاس رکھتی تھی۔۔۔
اندر آنے والی لڑکی وہی نگینہ تھی جو اسے پہلے چھوڑ کر گئی تھی۔۔۔۔
ضرور کھانے کا بولنے آئ ہوگی اس نے دل میں سوچا۔۔۔۔۔آئیے غنچہ بیگم ہم آپ کے لیے ہے لباس کا انتخاب کر کے آپ کو تیار کر دیتے ہیں۔۔۔
باہر سب آپ کا ہی بےصبری سے انتظار فرما رہے ہیں۔۔۔
نگینہ بائ نے خوش دلی سے اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں جلدی سے کپڑے تبدیل کرتی ہوں۔۔۔۔
آپ بس پانچ منٹ انتظار کریں۔۔۔۔
جواباً وہ بھی مسکرا کر کہنے لگی۔۔۔۔۔
غنچہ کی بات سن کر نگینہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی لیکن وہ پھر سے مصنوعی مسکراہٹ سجا کر اسے سمجھانے لگی
غنچہ بیگم حسینہ بیگم آپ کے آنے سے قبل ہی بہت سے ملبوسات اور بناؤ سنگھار کا سامان خرید چکی ہیں اب سے آپ وہی پہنیں گی۔۔۔۔
امی جان کی چوائس تو ہمیشہ سے بہت ہیوی ڈریسز ہوتے ہیں۔۔۔۔
میں نہ وہ پہنتی ہوں نہ ہی پسند کرتی ہوں۔۔۔۔
اس نے تحمل سے جواب دیا اور اپنے کپڑے جو بیگ سے نکال چکی تھی۔۔۔۔
ان کو تبدیل کرنے واشروم جانے لگی۔۔۔
جب حسینہ بائ پھر سے راستے میں آئی اور اسے کندھوں سے تھام کر الماری کے پاس لے گئی۔۔۔۔
یہ حسینہ بیگم کا حکم ہے ہم ان کے حکم کے خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔۔۔
ہم آپ کے لیے قدرے ہلکے لباس کا انتخاب کریں گے۔۔۔
لیکن خدارا آپ ہماری بات مان لیجئیے اسی میں ہم دونوں کی بھلائی ہے۔۔۔۔
وہ التجائیہ انداز اپنا کر اسے سمجھانے لگی۔۔۔۔
غنچہ گل کے چہرے پر پریشانی کے اثرات صاف نظر آ رہے تھے۔۔۔۔
لیکن وہ سمجھ گئی تھی بات ماننے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔۔۔۔
ٹھیک ہے آپ کریں پسند لیکن بہت ہیوی ڈریس نہ ہو۔۔۔
بےدلی سے ہامی بھر کر وہ ایک سائیڈ ہو کر کھڑی ہوگئی۔۔۔
نگینہ نے ہلکے کام والا سفید رنگ میں انار کلی فراک اور چوڑی دار پاجامہ پسند کر کے دیا۔۔۔۔
وہ لباس تبدیل کر کے آئی اور آئینے میں اپنا عکس دیکھنے لگی۔۔۔
لباس بھی اس کی رنگت جیسا تھا۔۔۔۔گلے اور آستین پر انتہائی نفیس کام تھا۔۔۔۔
یہ لباس آپ پر بہت جچ رہا ہے۔۔۔
نگینہ اسے ستائشی نظروں سے دیکھ کر تعریف کرنے لگی۔۔۔
جس پر اس نے ہولے سے مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔۔۔۔
پھر اس کے نہ نہ کرنے کو نظر انداز کر کے اسے ہلکا میک اپ کیا اور ہلکی نازک جیولری پہنا کر ہی سکون کا سانس لیا۔۔۔۔
خوبصورت تو آپ تھی ہی لیکن ذرا سے بناؤ سنگھار نے آپ کو اور حسین بنا دیا ہے۔۔۔۔
وہ دل کھول کر اس کی تعریف کرنے لگی۔۔۔
جس سے غنچہ گل تھوڑی پر سکون ہو گئی۔۔۔۔
ورنہ اسے ان کو سب چیزوں سے کوفت ہو رہی تھی۔۔۔
چلیئے غنچہ بیگم جلدی باہر چلیں دسترخوان لگ چکا ہے اور حسینہ بیگم ہمارا انتظار کر رہی ہیں۔۔۔۔
تیز تیز بولتی وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر ہال میں لے آئی۔۔۔
جہاں واقعی سب لڑکیاں اس کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔۔۔۔
دسترخوان پر بھی انواع اقسام کے کھانے چنے جا چکے تھے۔۔۔۔
کچھ طوائفیں اسے حسد اور کچھ اسے ستائشی نظروں سے دیکھنے لگیں۔۔۔۔
ماشااللہ ماشاء اللہ نظر بد سے بچائے آپ کو۔۔۔
بالکل چاند کا ٹکڑا لگ رہی ہیں آپ۔۔۔
رخسار بیگم نے لحجے کو میٹھا بناتے ہوئے غنچہ کی بلائیں لیں۔۔۔۔
حسینہ بیگم بھی اسے ستائشی نظروں سے دیکھ کر خوش ہو رہی تھیں۔۔۔۔
وہ سب کے اس طرح دیکھنے اور تعریف کرنے سے نروس ہو رہی تھی۔۔۔۔
ایک جگہ سکڑ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
حسینہ نے سب کو کھانا شروع کرنے کا حکم دیا۔۔۔
غنچہ کو بہت بھوک لگی تھی۔۔۔۔
وہ بھی رغبت سے کھانے کے ساتھ انصاف کرنے لگی۔۔۔۔۔
کھانا انتہائی خوشگوار ماحول میں کھایا گیا۔۔۔۔
کھانے سے فارغ ہو کر کچھ لمحے بعد حسینہ بیگم نے رخسار بیگم کو آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی اشارہ کیا ۔۔۔۔
وہ بھی فوراً اشارہ سمجھ کر وہاں سے چل دیں۔۔۔۔
واپس آ کر گھنگھرو پھولوں اور مٹھائی سے سجا تھال لا کر تخت پر رکھ دیا۔۔۔
یہ چیزیں دیکھ کر سب طوائفیں بھی ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔۔۔۔
غنچہ بھی تخت پر بیٹھی یہ سب حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
حسینہ بیگم اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتی کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔
گلا کھنگار کر سب کو اپنی طرف توجہ دلائی۔۔۔۔
ہم سب کے یہاں جمع ہونے کا خاص مقصد ہے۔۔۔۔
آپ سب جانتیں ہیں۔۔۔۔
کچھ عرصے سے کوٹھا ویران ہو گیا ہے۔۔۔۔ں
دن بہ دن شان میں کمی آ رہی ہے۔۔۔۔
کوٹھے کے معاملات کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے ملکہ طوائف بہت اہميت رکھتی ہیں۔۔۔۔۔
اور ہماری نظر میں ملکہ طوائف بننے کے لیے ہماری بیٹی غنچہ گل سے بہتر کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔۔۔
اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے ہم جلد ہی غنچہ کو سب آداب سکھائیں گے اور ان کی رونمائی کی تقریب منعقد کروانا چاہتے ہیں۔۔۔۔
غنچہ جو چپ بیٹھی اپنی ماں کی بات سن رہی تھی۔۔۔۔
ان کا اپنے بارے میں کیا گیا فیصلہ سن سناٹے میں آ گئی۔۔۔۔۔
حسینہ بیگم آگے بھی بول رہی تھیں لیکن اس کا دماغ تو لفظ طوائف میں ہی اٹک گیا تھا۔۔۔۔۔
رخسار
بیگم وہ تھال تخت سے اٹھا کر اس کی طرف آئی۔۔۔۔
وہ ایک دم سے آٹھ کھڑی ہوئی اور تھال کو ہاتھ مار کر دور پھینک دیا۔۔۔۔
اس اچانک رد عمل پر سب گھبرا گئیں۔۔۔۔
وہ اپنی ماں کے مقابل آ کر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
کیا کہ رہی ہیں یہ آپ۔۔؟؟؟؟
ایسا نہیں ہو سکتا آپ نے سوچا بھی کیسے میں طوائف بنوں گی۔۔۔۔۔
کیا اس دن کے لیے پڑھایا آپ نے مجھے۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
اور آپ نے اس تقریب کے لیے مجھے بلایا تھا وہ بھی دھوکے سے۔۔۔۔
میری عزت کا جنازہ نکالنے کی تقریب رکھی ہے آپ نے۔۔۔۔۔
وہ غصے اور صدمے سے اونچی آواز میں بول رہی تھی۔۔۔۔۔
سب طوائفیں تماشہ دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
ٹھاءءءءء۔۔۔۔۔۔تھپڑ کی آواز پورے ہال میں گونجی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: