Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 7

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 7

–**–**–

وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے حیرت اور صدمے سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔ہمیشہ اس جگہ سے دور رکھنے والی اس کی ماں نے آج اسی جہنم میں جھونکنے کے لیے اس پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔
ہمارے سامنے ذبان چلاتی ہیں؟؟
ہمیں برا بول رہی ہیں؟؟؟
ادب و آداب بھول گئی ہیں آپ؟؟؟
لے جائیے انہیں ہماری نظروں کے سامنے سے اور عقل ٹھکانے آنے تک کمرے میں بند کر دیجیئے۔۔۔۔
حسینہ بیگم غصے کے میں دھاڑنے سے کوٹھے کے در و دیوار کانپ کر رہ گئے۔۔۔۔
میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی مجھے واپس ہاسٹل بھیجیں۔۔۔۔
نگینہ بائ اسے گھسیٹتی ہوئی وہاں سے لے جانے لگی۔۔۔
باقی سب طوائفیں بھی حسینہ بیگم کے ردعمل سے سہم گئیں۔۔۔اور اب یہ سوچ رہی تھیں غنچہ گل کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔
حسینہ
بیگم کو پہلے سے اندازہ تھا کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے اس لیے اس نے پہلے ہی غنچہ گل کو بلا لیا تھا۔۔۔۔
وہ غصے میں دندناتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ زوردار آواز سے بند کر دیا۔۔۔
چلو لڑکیوں کیا تماشہ دیکھ رہی ہو۔۔۔سب اپنے کمروں میں جاؤ رخسار بیگم نے تالی بجا کر سب کو جانے کا حکم دیا۔۔۔
فوراً ہیوہ سب وہاں سے چل دیں۔۔۔
نگینہ بائ نے اسے کمرے میں دھکیل کر دروازہ بند کر دیں۔۔
وہ
کتنی ہی دیر دروازہ پیٹتی رہی۔,روتی رہی ,منتیں کرتی رہی۔۔۔اسے جانے دیں لیکن وہاں اس کی سننے والا کوئی نہ تھا۔۔۔۔
تھک ہار کر وہ زمین پر بیٹھ گئی پھر سے رونے لگی۔۔۔
اسے اپنی ماں کے ارادے سن کر بہت دکھ ہوا تھا۔۔۔
وہ یہ تو جانتی تھی اس کی ماں کیا کرتی ہے۔۔۔لیکن یہ سوچ کر وہ ہمیشہ ان کے ہر حکم کو مانتی رہی۔۔۔وہ اسے اس جہنم سے دور رکھ رہی ہے اسے اپنے جیسا نہیں بنانا چاہتی۔۔۔
اسے
اب سمجھ آیا تھا۔۔۔وہ اسے بھی اپنے جیسا بنانے کے لیے وہ صیح وقت کا انتظار کر رہی تھی۔۔
وہ دروازے کے پاس ہی بیٹھی رہی دن سے شام اور شام سے رات ہو گئی۔۔۔
کوئی بھی نہ آیا اس دوران کئی مرتبہ اس نے دروازہ بجایا شاید کسی کو رحم آپ جائے کوئی تو اس کی مدد کرے۔۔۔
لیکن وہاں سب اس جیسی مجبور انسان تھیں جو اس کے ماں کے حکم پر چلتی تھیں۔۔۔
کافی دیر بیٹھے رہنے سے اسے نیند آنے لگی۔۔۔ناجانے رات کے کس پہر دروازہ کھلنے کی آواز پر اس کی آنکھ کھلی۔۔۔۔
اندر آنے والی اس کی ماں ہی تھی جسے دیکھ کر اس نے اپنا منہ نخوت سے دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔۔
رخ موڑ لینے سے ہمارا ارادہ بدل نہیں جائے گا۔۔۔
جو ہم کہہ چکے وہی ہوگا۔۔۔حسینہ بیگم اس کے پاس ہی بیٹھ کر بولنے لگی۔۔۔۔
ہم
نے آپ کو پڑھایا لکھایا اور اس جگہ سے دور اسی لیے رکھا۔۔۔
تاکہ آپ ہم سے بہتر اس کوٹھے کو سنبھال سکیں۔۔۔
ماں کی بات سن کر غنچہ نے اپنی ماں کی طرف دکھ اور پریشانی سے دیکھا۔۔۔۔۔
جب آپ نے مجھے اس گندگی میں ہی پھینکنا تھا اور طوائف ہی بنانا تھا تو پہلے ہی یہ سب کر دیتی۔۔۔
آج جب میں پڑھ کر باشعور ہوگئی اس جگہ کو اچھی طرح پہچان گئی تو اب آپ ایسا کر رہی ہیں۔۔۔۔
آپ ایسا نہیں کریں امی جان میری پڑھائی مکمل ہونے والی ہے۔۔۔۔
اس کے بعد مجھے کہیں بھی اچھی نوکری مل جائے گی۔۔۔
آپ بھی یہ سب چھوڑ دیں ہم باقی کی ذندگی عزت کے ساتھ گزاریں گے۔۔۔۔
اپنی ماں کو سمجھاتے ہوئے ان کے ہاتھ تھام کر امید سے ان کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔
اس کے ہاتھوں کو غصے سے جھٹک کر وہ کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
ارے چل! آئی بڑی عزت دار۔۔ اگر میں آج دنیا کو بتا دوں میں تیری ماں ہوں تو کون دے گا تجھے نوکری۔۔۔۔
نوکری دینا تو دور کی بات تحھ پر تھوکنا بھی گوارہ نہ کریں گے
وہ انتہائی حقارت سے اس کی طرف دیکھ کر کہہ رہی تھی۔۔۔۔
اپنی ماں کا لحجہ سن کر غنچہ گل انتہا کی اذیت اور تکلیف محسوس ہوئی۔۔۔۔
وہ جانتی تھی حسینہ بیگم کو کچھ بھی کہنا سمجھانا بیکار ہے۔۔۔
ہم کھانا بھجوا رہے ہیں اسے کھا کر آرام کریں اور اچھی طرح سوچ لیں۔۔۔۔۔صبح تک کا وقت ہے آپ کے پاس۔۔۔۔ورنہ ہمیں اور بھی طریقے آتے ہیں اپنی بات منوانے کے۔۔۔۔
سخت لحجے میں اسے باور کروا کر وہ وہاں سے چلی گئی۔۔۔
وہ اپنی ماں کی باتیں اور رویہ یاد کر کے رونے لگی۔۔۔
ایک ملازمہ کمرے میں آئی اور کھانا رکھ کر چلی گئی۔۔۔
اس نے کھانے کی طرف دیکھا تک نہیں۔۔۔۔دور کہیں مسجد میں آذان کی آواز بلند ہوئی۔۔۔
اس نے اٹھ کر وضو کیا اور نماز پڑھنے لگی۔۔۔نماز کے بعد سجدے میں سر رکھ کر وہ اپنے رب سے گڑگڑا کر دعا مانگنے لگی اس کی حفاظت فرمائے۔۔۔
نماز سے فارغ ہو کر وہ کمرے کا جائزہ لینے لگی شاید بھاگنے کا کوئی راستہ نکل آئے۔۔۔
ایک خیال آنے کے تحت اس نے کمرے کی کھڑکی کھول کر باہر جھانکا۔۔۔کمرہ اوپر کی منزل پر تھا
نیچے ایک طرف باغ تھا اور دوسری طرف صحن میں باہر جانے کا دروازہ تھا۔۔۔۔
جہاں ایک چوکیدار نیند سے اونگھ رہا تھا۔۔۔۔
کچھ سوچ کر اس نے کھڑکی سے باہر چھوٹی دیوار پر پاؤں رکھے۔۔۔۔
وہ ایک پاؤں آگے اور ایک پیچھے رکھ کر دیوار کا سہارا لیتی احتیاط سے ادھر اودھر دیکھ کر رینکنے کے انداز میں چلنے لگی۔۔۔
دیوار کے آخری سرے پر پہنچ کر اس نے نیچے دیکھا ایک چھوٹا سا پائپ تھا لیکن زمین سے بہت اونچا تھا۔۔۔
وہ ہمتِ کر کے اس پائپ کے ساتھ لٹک گئی۔۔۔۔
پائپ کے آخر پر پہنچ کر اس نے زمین پر چھلانگ لگا دی۔۔۔
اب سب سے مشکل مرحلہ دروازہ کھولنا تھا۔۔۔۔
پاس بیٹھا چوکیدار مکمل طور پر نیند میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ احتیاط سے بناء آواز پیدا کیے قدم اٹھاتی دروازے کے پاس آئی۔۔۔۔لیکن دروازے پر بڑا سا تالا لگا دیکھ کر اسے مایوسی نے آن گھیرا۔۔۔۔
صبح کی روشنی ہر طرف پھیلنے لگی تھی۔۔۔
اپنی اتنی مہنت کے بعد بھی ناکامی دیکھ کر اسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔۔
اگر حسینہ بیگم کو بھاگنے والی کوشش کا پتہ چلا تو اس کا کیا حشر ہوگا۔۔۔۔سوچ کر ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔۔۔۔
وہ تیزی سے پلٹ کر باغ کی طرف گئی اس کا ارادہ کسی بھی چیز کی مدد سے چوکیدار کو بےہوشی کر کے گیٹ کی چابی حاصل کرنا تھا۔۔۔۔
وہ ادھر اودھر نظریں گھما کر کوئی بھاری چیز تلاش کر رہی تھی۔۔۔
اچانک اسے کسی کے چیخنے کی آواز آئی۔۔
جس سمت سے آواز آئی تھی وہ بھی اسی طرف بھاگی۔۔۔۔
وہاں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔۔۔۔جو باغ میں گھنے درختوں کے پیچھے کسی کو بھی نہیں نظر آتا تھا۔۔۔۔
کمرے کی کھڑکی بند تھی لیکن پرانی اور دیمک لگنے کے باعث جگہ جگہ سوراخ تھے۔۔۔
اسے اندازہ ہو گیا تھا یہاں کوئی لڑکی ہے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ سوراخ سے آنکھ ٹکا کر دیکھنے لگی۔۔۔
اس
کی ماں نے ایک لڑکی کو سختی سے بالوں سے پکڑا ہوا تھا۔۔۔
بولو ہماری بات مانو گی یا نہیں۔۔؟؟؟؟
میں نہیں مانونگی خدا کے لیے مجھے جانے دو لڑکی رو رو کر رحم مانگ رہی تھی۔۔۔۔
اس کا لباس پھٹ چکا تھا اور زخمی حالت سے پتہ چل رہا تھا اس پر بہت تشدد کیا گیا ہے۔۔۔۔
یہ سب دیکھ کر غنچہ گل کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔۔
ٹھیک
ہے اب ہم اپنے طریقے سے منوائیں گے اپنی بات۔۔۔۔
شیرا اندر آؤ اس کے آواز دیتے ہی ایک آدمی اندر آیا۔۔۔۔
جی بیگم صاحبہ۔۔۔۔
یہ لو آج رات یہ تمہارے حوالے ہے خوب مزے لو اور اپنے طریقے سے سمجھا دو ہماری بات اس کو۔۔۔۔
لڑکی کو جارحانہ طریقے سے اس کی طرف پھینک کر وہ چلی گئی۔۔۔۔
پیچھے وہ شخص آنکھوں میں حوس لیے لڑکی کی طرف بڑھا۔۔۔۔غنچہ گل کی آنکھیں آپنی ماں کی سفاکیت دیکھ کر پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔اس کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ مرے مرے قدم اٹھاتی باغ سے نکل کر اس پائپ کے پاس آئی بہت مشکل سے اس دیوار کا سہارا لے کر واپس جارہی تھی اس کا ہاتھ اور بازوؤں پر خراشیں آگئی تھیں جن سے خون رسنے لگا تھا۔۔۔۔ لیکن اب کمرے میں جانا ہی مناسب تھا۔۔۔۔۔
کمرے میں پہنچ کر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی اور دل ہی دل میں دعائیں کرنے لگی کسی طرح اس جگہ سے نکلنے کا راستہ بن جائے۔۔۔۔۔
7بجے کے قریب وہ ملازہ دروازہ کھول کر اندر آئی کھانے کے برتن لے جانے لیکن غنچہ نے کھانے کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔۔۔۔
وہ ملازمہ برتن اٹھا کر چپ چاپ کمرے سے باہر چلی گئی۔
ملازمہ کے جانے کے بعد اس کی توقع کے مطابق اس کی ماں آئی۔۔۔۔
اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔
کئی لمحے دونوں کے درمیان خاموشی رہی اس خاموشی کو حسینہ بیگم نے توڑا۔۔۔۔
پھر کیا سوچا آپ نے؟؟؟؟جلدی بتلائیں ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔۔۔۔
حسینہ بیگم لحجہ میں کسی بھی قسم کی لچک پیدا کیے بنا،ء احساس سے عاری ہوگئی تھی۔۔۔۔
وہ چپ چاپ اپنی ماں کو دیکھتی رہی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔۔۔۔
اگر آپ کو لگتا ہے کھانا نہ کھا کر یا اس طرح ٹسوے بہا کر آپ یہاں سے چلی جائیں گی یا ہمارا ارادہ بدل لیں گی تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔۔۔۔۔
خدا کے لیے میں یہ سب نہیں کر سکتی مجھے جانے دیں۔۔۔۔
وہ رو رو کر اپنی ماں کی منتیں کرنے لگی۔۔۔۔
ہم بھی آپ سے کہہ رہے ہیں آپ یہی کام کریں گی یہ ہمارا حکم ہے اور آج تک کسی میں بھی اتنی ہمت نہیں ہوئی ہمارے حکم کے خلاف جائے
وہ سخت لحجے میں اسے باور کراتی وہاں سے جانے لگی۔۔۔
کیوں کر رہی ہیں آپ ایسا۔؟؟؟؟؟
کیوں جھونک رہی ہیں مجھے اس جہنم میں؟؟؟؟
کیوں کہ تم ایک طوائف کی بیٹی ہو اور مت بھولنا طوائف کی بیٹی کا نصیب بھی طوائف بننا ہے۔۔۔۔
اور اب اگر آپ نے ہمارے حکم کے خلاف ایک بھی قدم اٹھایا یہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو ہم آپ کا شیرا سے وہ حال کروائیں گے آپ کبھی فراموش نہیں کر سکیں گی۔۔۔۔
ہماری نرمی اور رعایت کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھائیں۔۔۔۔
حسینہ بیگم سنگ دلی کی انتہاء پر اتر آئی تھی۔۔۔۔
اسے اس کی اوقات یاد دلا کر چلی گئی
پیچھے وہ اپنی ماں کے الفاظوں کو سوچ رہی تھی۔۔۔۔
اسے اپنا آج اس لڑکی سے بھی ذیادہ خطرے میں لگا۔۔۔۔
اس جگہ کوئی ماں کوئی بیٹی بن کر نہیں سوچتا تھا۔۔۔
یہاں سب دل بہلانے والی طوائفیں تھیں۔۔۔۔۔
اسے بھی اب یہی کرنا تھا۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: