Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 9

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 9

–**–**–

اس نے جو فیصلہ کیا تھا اس پر قائم ہو گئی تھی۔۔۔
کسی بھی احساس اور بات کو بھلانے وہ استاد اندو جی سے رقص سیکھنے لگی۔۔۔۔
وہ بہت زیادہ مہنت کرنے کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اور مہینوں کے بجائے دنوں میں تیزی سے اپنے سیکھنے کی مشق مکمل کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
اسے پر جیسے جنون سا طاری ہو گیا تھا۔۔۔۔
اس کی ذہن میں ہر وقت ایک ہی سوچ گردش کرتی تھی۔۔۔
حسینہ بیگم کی بادشاہت ختم کرنی ہے۔۔۔۔
دن رات انتھک محنت کے بعد آخر کار وہ بہترین رقص سیکھ گئی تھی۔۔۔
اس میں طوائفوں جیسے مخصوص انداز اور ادب و آداب آگئے تھے۔۔۔
وہ اپنا خالص لب و لحجہ بھول کر بناوٹی انداز اپنا چکی تھی۔۔۔
یہ رقص طوائف کا نہیں ، یہ رقص ھے درویش کا
کہ اس رقص میں ھیں ، سو درد کے اظہار رقصاں
آج اس کا پہلا مجرا تھا۔۔۔۔۔
صبح سے ہی کوٹھے پہ ہر طرف ہل چل مچی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
بڑے بڑے امیر اور رئیس ذادوں کو دعوت نامے بھیجے گئے تھے۔۔۔
جو اس شہر کے شرفاء میں شمار کیے جاتے تھے۔۔۔۔
حسینہ بیگم نے اس کے لیے خاص قسم کے گلاب اور موتیے کے پھول, گجرے اور ہار منگوائے تھے۔۔۔
اس کے لیے بہت قیمتی لباس اور زیورات بھی منگوائے گئے۔۔۔۔
سر شام ہی نگینہ بائ اور شہنیلہ بائ اسے تیار کرنے اس کے کمرے میں پہنچ گئیں۔۔۔۔
وہ چپ چاپ ساری کاروائی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
شہنیلہ بائ نے اس کے ھاتھ اور پاؤں پر مخصوص طوائفوں کی لگائی جانے والی مہندی سے خوبصورت نقش و نگار بنائے۔۔۔۔۔
شہنیلہ بائ مہندی لگا کر سوکھنے کے لیے چھوڑ کر گئی تھی۔۔۔۔
مہندی سوکھ کر اپنا خوبصورت رنگ چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔
اپنے مہندی لگے ہاتھوں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔۔۔۔
خوش نصیب ہوتی ہیں وہ لڑکیاں جو سر شام اسی طرح مہندی لگاتی,تیار ہوتی ہیں کسی غیور اور محبت کرنے والے مرد سے شادی کے لیے۔۔۔۔
اور ہم کتنے بد نصیب ہیں جس عزت دار ذندگی کے خواب دیکھا کرتے تھے وہ سب آج چکنا چور ہو رہے ہیں۔۔۔۔
وہ نم آواز میں نگینہ بائ سے مخاطب ہوئی۔۔۔۔
اس کوٹھے پر وہی تو ایک تھی جس سے وہ کافی قریب ہو گئی تھی۔۔۔۔اپنے دل کی بات کہہ کر بوجھ ہلکا کر لیتی تھی۔۔۔۔
اس کی بات اور خواہش سن کر نگینہ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے کبھی اس کا بھی یہی خواب تھا۔۔۔۔۔
حضور آئیے ہم آپ کو تیار کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔
حسینہ بیگم آنے والی ہونگی مہمان بھی آنا شروع ہو گئے ہیں۔۔۔۔
وہ بے دلی سے سنگھار میز کے آئینے کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔۔
اپنی آنکھوں میں آئے نمکین پانی کو اس نے اپنی ہتھیلی سے رگڑ کر صاف کیا۔۔۔۔
نگینہ بائ نے اسے خوبصورت جھمکے کنگن چوڑیاں اور پاؤں میں پائزیبیں پہنائ اور طوائفوں کے مخصوص اسٹائل میں اس کے بال بنائے۔۔۔
تیاری مکمل ہونے کے بعد وہ اپنا عکس آئینے میں دیکھنے لگی۔۔۔۔
اس کی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی وقت آ گیا۔۔۔۔
حسینہ بیگم اسے دیکھ کر دیکھتی ہی رہ گئی۔۔
ماشاءاللہ چشم بدور غنچہ بیگم آپ آسمان سے اتری ہوئی حور لگ رہی ہیں۔۔۔۔
جو بھی آپ کو دیکھے گا سنبھل نہیں پائے گا۔۔۔۔
حسینہ بیگم نے خاندانی گھنگھرو منگوا کر اس کے پاؤں میں اپنے ہاتھوں سے پہنائے۔۔۔۔۔
ان گھنگھروؤں کی ہمیشہ لاج رکھیئے گا۔۔۔۔
یہ ہمارے خاندانی گھنگھرو ہیں۔۔۔
ہماری والدہ نے ہمیں پہنائے تھے اور آج ہم آپ کو پہنا چکے ہیں۔۔۔
وہ اسے فخر سے بتا رہی تھیں۔۔۔۔
جیسے کوئی خاندانی اوڑھنی یا چادر سونپ رہی ہوں۔۔۔۔
ماشاءاللہ اللّٰہ نظر بد سے بچائے۔۔۔۔
رخسار بیگم نے بھی آگے بڑھ کر اس کی بالائیںں لیں۔۔۔۔
نگینہ بائ سب طوائفوں کو ہمارا پیغام بھیجئے ہمیں کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔
اچانک ہی اس نے نگینہ بائ کو مخاطب کیا۔۔۔۔
حسینہ بیگم اس کے انداز بیان پر حیران رہ گئی تھی ایسی بھی کیا بات تھی جس کے لیے اس نے سب کو بلاوا بھیجا تھا۔۔۔۔
سب طوائفیں تجسس اور حیرت سے کمروں سے نکل کر ہال میں آئیں۔۔۔۔
وہ بھی شان بے نیازی سے تختِ پر آ کر بیٹھ گئی۔۔۔
ہمیں آپ سب کو کچھ ضروری اعلان سنانا تھا۔۔۔۔
ہمارا پہلا حکم ہے۔۔۔۔
ہماری بولی کوئی نہیں لگائے گا۔۔۔
ہم اپنی بولی خود لگا سکتے ہیں۔۔۔۔
اس بات کا فیصلہ کرنے والی آپ نہیں ہم ہیں۔۔۔۔
حسینہ بیگم اس کی بات کاٹ کر درمیان میں چلائیں۔۔۔۔
حسینہ بیگم آپ شاید بھول رہی ہیں۔۔۔۔
آپ ہمیں خود اپنے ہاتھوں سے گھنگھرو پہنا چکی ہیں۔۔۔۔
اب ہم یہاں کی ملکہ ہیں۔۔۔۔ملکہ طوائف اس نے چہرے پہ دل جلا دینے والی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اس لیے حکم بھی اب ہمارا ہی مانا جائے گا۔۔۔۔
اور فیصلہ بھی ہم ہی کریں گے۔۔۔
اپنا رخ حسینہ بیگم کی طرف موڑ کر انہی کے انداز میں کہہ رہی تھی۔۔۔۔
ہمارا دوسرا حکم ہے آج کے بعد کوٹھے پر رقص ہوگا کوئی بھی مہمان اندر مہمان خانے میں نہیں ٹھرے گا۔۔۔۔
ہر روز ایک طوائف کا مجرا ہو گا اور دو مجرے ہمارے ہونگے۔۔۔
جو رقم کوٹھے پر کیے جانے والے مجروں سے ملے گی اس کا آدھا حصہ ان کا ہوگا جو مجرا کریں گی اور آدھا حصہ کوٹھے کا ہوگا۔۔۔۔۔
آپ میں سے جو بھی کسی مہمان کے ساتھ اپنی مرضی سے جانا چاہے جا سکتی ہیں۔۔۔۔
ان سے کمائی گئی رقم پر ہمارا یا کوٹھے کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
آپ جیسے چاہیں جہاں چاہیں اس رقم کو خرچ کر سکتی ہیں۔۔۔۔
وہ جیسے جیسے بولتی جا رہی تھی وہاں موجود سب طوائفوں کے چہروں پر روشنی اور خوشی پھیلتی جا رہی تھی
ان سب کو حسینہ بیگم کے چنگل سے آذاد ہونے کی امید نظر آ رہی تھی۔۔۔۔
صرف ایک نگینہ بائ ہی تھی۔۔۔۔جو جان گئی تھی غنچہ گل نے اتنی بڑی قربانی کیوں دی۔۔۔۔
وہ بھی اب اپنے دل پر بوجھ محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
ایک اچھی انسان کو غلط راستے پر لانے میں اس کا بھی کردار شامل ہے۔۔۔۔
غنچہ گل اپنی بات ختم کر کے کمرے میں چلی گئ۔۔۔۔
پیچھے حسینہ بیگم دم بخود سی رہ گئی۔۔۔۔۔
حضور تحمل سے کام لیجئیے۔۔
ابھی ہم کچھ نہیں کر سکتے مجرا ہال مہمانوں سے بھرا پڑا ہے۔۔۔
اگر غںچہ بیگم نے مجرے سے انکار کر دیا تو ہم بالکل سڑک پر آجائیں گے۔۔۔۔۔
موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ہمارا چپ رہنا ہی مناسب ہے۔۔۔
آپ اندر جائیے ہم غنچہ بیگم کو بھیجتے ہیں۔۔۔۔
غصے میں بھری ہوئی حسینہ بیگم کو رخسار نے سمجھا بجھا کر اندر بھیجا
رخسار بیگم اسے آنے کا کہہ گئی تھیں۔۔۔۔
اس نے فیصلہ تو کر لیا تھا لیکن اب اتنے مردوں میں جانے اور ان کی نگاہوں سے خوفزدہ ہو کر وہ کانپ رہی تھی۔۔۔۔
اس میں جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔
آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔۔۔۔۔
اچانک کمرے کا دروازہ کھلا نگینہ بائ دوڑتی ہوئی اس کے پاس آئی۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: