Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Last Episode 18

0
نمی رقصم از افراح خان – آخری قسط نمبر 18

–**–**–

ہم ہوئے خاک مگر شوقِ بتاں باقی ہے
عشق میں جان گئی، آفتِ جاں باقی ہے
آتشِ عشق نے سب خاک کیا اپنا وجود
راکھ کے ڈھیر تلے سوزِ نہاں باقی ہے
کارواں صفحہِ ہستی سے ہوا رخصت پر
مثلِ نقشِ کفِ پا نام و نشاں باقی ہے
اپنی ہستی کی ہے تمثیل سرابِ موہوم
ہے یقیں ہم ہیں عدم، وہم و گماں باقی ہے
حرفِ الفت کی توقع نہیں دنیا سے نیاز
عشق ہی اپنا فقط فاتحہ خواں باقی ہے
زہران کے جانے کے بعد وہ بہت بدل گئی تھی۔۔۔۔
اس کے چہرے پہ چھائ ویرانی اور اداسی اس کے دکھ کا پتہ دیتی تھی۔۔۔۔
دوسری طوائفوں سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔۔۔
وہ سب ہر وقت غنچہ گل کو خوش رکھنے کی کوشش کرتیں۔۔۔
نگینہ بیگم اسے یہی سمجھاتی وہ ج
خود کو سنبھال کر پھر سے رقص شروع کرے کیوں کہ اس کی پہچان رقص ہی تھا۔۔۔۔
جواب میں وہ کچھ نہیں کہتی خاموشی اختیار کر لیتی۔۔۔۔
وہاج ہفتے میں دو تین مرتبہ ضرور ملنے آتا۔۔۔
ہر بار اسے مایوسی کی سامنا کرنا پڑتا۔۔۔۔
کیوں کہ غنچہ گل اپنے کمرے میں بند ہو جاتی یا پھر ملنے سے ہی انکار کر دیتی۔۔۔
مایوس ہو کر وہ بھی چلا گیا۔۔۔اور بہت دن نہیں آیا۔۔۔
غنچہ گل کو افسوس بہت ہوا لیکن وہ اپنے دل میں پکا عہد کر چکی تھی۔۔۔
وہ اب کبھی کسی مرد پر اعتبار نہیں کرے گی۔۔
وہ ایک رقاصہ ہے دل لگانے کی نہیں بلکہ دل بہلانے کے لیے دیکھتے ہیں لوگ اس کا رقص۔۔۔۔
اس دن موسم بہت خوشگوار ہو رہا تھا۔۔۔
آسمان پر چھائے کالے بادل اور تیز چلتی ٹھنڈی ہوائیں بارش کا پتہ دے رہی تھیں۔۔۔۔
موسم میں خوشگواری آنے سے اس کے من پہ چھائ اداسی بھی کم ہو گئی۔۔۔
اس کی طبیعت بھی آج پہلے سے بہتر تھی۔۔۔
اتنے دنوں کی سستی اور اداسی کی جگہ تروتازگی نے لے لی تھی۔۔۔۔
وہ نہا دھو کر اچھے سے تیار ہوئی۔۔۔۔نگینہ بیگم کو کمرے میں آنے کا کہہ کر وہ خود سنگھار میز کے سامنے سے ہٹ کر کھڑکی کے پاس آپ گئی۔۔۔۔
جیسے ہی اس نے کھڑکی کے پٹ وا کیے ایک ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اس کا استقبال کیا۔۔۔
جس سے اس کی روح تک تروتازگی چھا گئی۔۔۔۔
وہ کھڑکی سے باہر باغ, کوٹھے کے صحن میں دیکھنے لگی۔۔۔
جہاں دوسری لڑکیاں آپس میں باتیں اور ہنسی مذاق کرتیں موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔۔۔
ان سب کو خوش اور مطمئن دیکھ رہا اس کے چہرے پہ بھی ہلکی مسکان آگئی۔۔۔۔
وہ یہ سب نظارہ دیکھنے میں گم تھی۔۔۔
جب اسے صدر دروازے پر گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔۔۔جس سے وہ بھی چونک کر دیکھنے لگی کون آیا ہوگا۔ ۔
گاڑی اب اندرونی احاطے میں آ کر رک چکی تھی۔۔۔
فرنٹ ڈور کھول کر باہر نکلنے والا کوئی اور نہیں بلکہ وہاج درانی تھا۔۔۔
اتنے دن بعد وہاج کو دیکھ کر غنچہ کو خوشگوار حیرت ہوئی۔۔۔۔
وہ بھی ایک نظر اوپر کھڑکی میں کھڑی غنچہ گل پہ ڈال کر گھوم کر دوسری سائیڈ آیا اور دروازہ کھول کر جھک کر کوئی چپز اٹھانے لگا۔۔۔۔
دور سے دیکھ کر یہی اندازہ لگایا غنچہ نے۔۔۔
نگینہ بیگم جو ک غنچہ کے بلانے پہ آئی تھیں۔۔۔
وہ بھی اب نیچے کا منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جہاں وہاج اب وہاج اب وہ چیز باہر نکال چکا تھا۔۔۔
جسے دیکھ کر غنچہ گل اور نگینہ بیگم حیرانگی اور شاک کے ملے جلے تاثرات لیے ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
کیوں کہ وہاج کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں بلکہ کمبل میں لپٹی چھوٹی بچی تھی۔۔۔۔
اسے یہ ڈر تھا غنچہ گل آج بھی نہیں ملے گی اور کمرے میں چلی جائے گی۔۔۔۔
اس لئے اونچی آواز میں غنچہ کو مخاطب کیا۔۔۔۔
تم مجھ سے نہیں ملتی۔۔۔لیکن بیٹی سے ضرور ملو گی۔۔۔۔
اس کا انداز اور دیکھ کر غنچہ کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔۔۔۔
باقی طوائفیں بھی حیران نظروں سے یہ سب دیکھ رہی تھیں۔۔۔
وہاج کوٹھے کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
غنچہ گل بھی کھڑکی سے ہٹ کر کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
نگینہ بیگم نے وہاج کے ہاتھوں سے بچی تھام لی اور اسے پیار کر کے غنچہ کی طرف بڑھایا۔۔۔جسے اس نے محبت سے تھام کر ماتھے پہ بوسہ دیا۔۔۔
ماشاءاللہ بہت پیاری ہے۔۔۔
بالکل آپ جیسی ہے۔۔۔
وہ کھلے دل سے تعریف کر رہی تھی۔۔۔
ہمیں اچھا لگا آپ نے ہمیں اس قابل جانا اور اپنی بیٹی کو ملوانے لائے۔۔۔۔۔
وہ مشکور نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔۔
صرف ملوانے نہیں میں اپنی بیٹی کو تمہیں سونپنے آیا ہوں غنچہ گل۔۔۔
اس کی بات سن کر نگینہ بیگم غنچہ گل اور باقی سب طوائفیں حیرت سے اسے دیکھنے لگیں جو اپنی بات کہہ کر پر سکون انداز میں بیٹھا تھا۔۔۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔ہمیں لگ رہا ہے آپ اپنے حواسوں میں نہیں ہیں۔۔۔
غنچہ گل نے غصے سے کہہ کر بچی اس کی گود میں دی۔۔۔۔
میں اپنے ہوش وہواس میں یہ بات کہہ رہا ہوں۔۔۔
میں چاہتا ہوں تم میری بیٹی کو ماں کا پیار دو۔۔۔
مجھ سے نکاح کر لو۔۔۔
غنچہ گل شاکی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔ یہ شخص یقیناً آج پی آیا ہے۔۔۔۔اسی لیے ایک کے بعد ایک فضول ہانکے جا رہا ہے۔۔۔وہ دل میں سوچ کر رہ گئی۔۔۔
اور اس کی ماں کہاں ہے۔۔۔؟؟؟
اتنی دیر سے چپ بیٹھی نگینہ بیگم اب بول ہی پڑی۔۔۔۔۔
وہ چلی گئی ہے تین مہینے پہلے اس کی پیدائش پر۔۔۔
ہماری علیدگی ہو چکی ہے۔۔۔۔
آپ نے انہیں کیوں جانے دیا روکا کیوں نہیں۔۔۔
بہت روکا شادی سے پہلے ہی وہ کسی اور کو پسند کرتی تھی۔۔۔۔
میں نے سوچا اولاد ہو جانے سے شاید وہ اسے بھول جائے اور میرے ساتھ خوش رہے لیکن یہ بس میری سوچ تھی۔۔
آمنہ کی پیدائش کے ساتھ ہی اس نے طلاق کا مطالبہ بھی کر دیا۔۔۔
اس دن مجھے یقین ہو گیا جس عورت کو اس کی اولاد نہیں روک سکی بالخصوص بیٹی اسے میں کبھی نہیں روک سکوں گا۔۔۔
اس لیے ان چاہے بندھن سے آذاد کر دیا اسے۔۔۔۔
عورت ذات سے میرا یقین اٹھ گیا۔۔۔۔
پھر تم آئیی میری ذندگی میں۔۔۔۔
وہ لمبی بات کہہ کر کچھ خاموش ہو کر غنچہ گل کو دیکھنے لگا جو سانس روکے اس کی بات سن رہی تھی۔۔۔۔
کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہوئے اور وہ پھر سے مخاطب ہوا۔۔۔۔
سب سے پہلے تمہیں میں نے پاشا صاحب کے گھر محفل رقص موسیقی میں دیکھا۔۔۔
تمہارا نپا تلا انداز اور مردوں سے کترانا مجھے تجسّس میں مبتلا کر گیا۔۔۔
پھر میں تم سے اکیلے میں ملا ہر بار تم نے مجھے متاثر کیا۔۔۔
میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ایک رقاصہ کی آنکھ میں اتنی حیاء کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔۔
میں صرف تمہاری حیاء اور اخلاق سے متاثر ہوا۔۔۔۔
مجھے محسوس ہوا میری بیٹی کے لیے تم سے بہتر کوئی اور عورت ماں نہیں ہو سکتی۔۔۔۔
میں تمہارے پاس درخواست لے کر آیا ہوں میری بیٹی کی بھی تربیت کر کے اسے اپنے جیسا حیادار بنا دو۔۔۔
اور نکاح کر کے مجھے مکمل انسان۔۔۔
میں ہمیشہ تمہارے پاس امید لایا تم نے کبھی مجھے ناامید نہیں لوٹایا۔۔۔۔
اپنی بات مکمل کر کے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
غنچہ گل بالکل چپ ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
رکیئے وہاج صاحب۔۔۔یہ آواز نگینہ بیگم کی تھی۔۔۔۔
آپ نکاح خواں کا بندوبست کیجئے غنچہ گل آج ہی نکاح کرے گی آپ سے۔۔۔
غنچہ گل حیران ہوتی نگینہ کے طرف بڑھی۔۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہی ایسا کیسے ممکن ہے؟؟؟
کیوں نہیں ممکن ہم نہ کہتے تھے ایک دن آپ کا خواب ضرور پورا ہوگا آپ اونچا مقام پائیں گی۔۔۔
انکار نہیں کریئے گا۔۔۔۔آپ ہمیں کوٹھے سے نکالنے کا فیصلہ کر چکی ہیں تو ہمیں منظور ہے۔۔۔۔
اس کی رضامندی پر وہاج خوشی سے جھوم گیا۔۔۔
فوراً چند قریبی دوستوں اور نکاح خواں کا بندوبست کیا۔۔۔۔
نکاح کے بعد وہ رخصت ہو کر وہاج کے ساتھ آ گئی۔۔
اس کا دل ہر وقت اپنے رب کا شکر ادا کرتا جس نے اس کی ساری دعائیں قبول کر کے اس کے صبر کا انعام وہاج جیسا چاہنے والا عزت کرنے والا احساس کرنے والا شوہر دے دیا تھا۔۔۔۔
غنچہ گلی بھی ایک اچھی فرمانبردار بیوی ثابت ہوئی تھی ۔۔
وہاج کی ذندگی میں سب خوشیاں لوٹ آئی تھیں۔۔۔
وہ بہت مطمئن اور خوش تھا۔۔۔۔۔
آج ایک ہفتے کے بعد وہ ڈیرے پر آیا صبح سے کام میں مصروف رہنے کے بعد وہ ابھی فارغ ہوا تھا اس کا ارادہ اب گھر جانے کا تھا جہاں اس کی کل کائنات اس کی بیٹی اور اس کی محبوب بیوی انتظار کر رہی تھیں۔۔۔۔
ملازم نے آ کر اسے زہران کی آمد کا بتایا۔۔۔۔اسے اندر بھیجنے
کا کہہ کر صوفے پہ ایزی ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
زہران جب کمرے میں داخل ہوا وہاج سے اسے پہچاننا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔
ملگجا سا حلیہ بنا رکھا تھا اس نے۔۔۔۔
آؤ بیٹھو زہران۔۔۔۔۔کیسے ہو؟؟؟
میں بیٹھنے نہیں آیا صرف یہ پوچھنا تھا۔۔۔۔سنا ہے اس رقاصہ سے تم نے شادی کر لی ہے۔۔۔۔
کیا کوٹھے پہ کم دل بہلاتی تھی جو اب تم اسے گھر کی زینت بنا کر لے آئے ہو۔۔۔
وہ انتہائی طیش کے عالم میں پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
وہاج سے بھی اس کا لحجہ برداشت نہ ہوا۔۔۔۔۔
پہلی بات تو یہ وہ اب رقاصہ نہیں میری بیوی ہے بیویوں سے دل نہیں بہلائے جاتے انہیں عزت بنایا جاتا ہے۔۔۔۔اور میں نہیں چاہوں گا کوئی بھی میری عزت کے بارے میں ایک لفظ بھی غلط اپنے منظر سے نکالے۔۔۔۔
دوسری بات میں اپنی بیوی کی پسند اور وہ میری پسند کا احترام کرتی ہے۔۔۔
اور تم میری بیوی کی نظر میں ناپسندیدہ شخص ہو ۔۔۔
اس لیے یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ صوفے سے اٹھا اپنی شال کندھوں کے گرد لپیٹ کر جاتے ہوئے دروازے میں رکا۔۔۔
ایک آخری بات محبت خوبی اور خامیوں سے بالاتر تعلق ہے۔۔۔۔
محبت میں عاشق کی آنکھ اتنی خوبصورت ہوجاتی ہے کہ اسے معشوق یوسف ثانی نظر آنے لگتا ہے۔۔۔۔
اور تمہاری کیسی محبت تھی جو غنچہ گل جیسی شفاف لڑکی کو نہ جان سکی۔۔۔۔
کبھی سوچنا تنہائی میں تم نے کیا کھویا ہے۔۔۔۔
اپنی بات کہہ کر وہ گھر کی راہ چل دیا۔۔۔۔۔۔
پیچھے کھڑا زہران پچھتاوں میں گھرتا جا رہا تھا یہی پچھتاوے اس کا مقدر بن گئے تھے۔۔۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: