Neelay Parinday By Ibn-e-safi – Episode 1

0
نیلے پرندے ​از ابن صفی – قسط نمبر 1

–**–**–

چودھویں کی چاندنی پہاڑیوں پر بکھری ہوئی تھی۔۔۔ سناٹے اور چاندنی کا حسین امتزاج صدیوں پرانی چٹانوں کو گویا جھنجھوڑ کر جگا رہا تھا!۔۔۔ ایک لامتناہی سکوت کے باوجود بھی نہ جانے کیوں ماحول بڑا جاندار معلوم ہو رہا تھا۔ پہاڑوں میں چکراتی ہوئی سیاہ سڑک پر جو بلندی سے کسی بل کھائے ہوئے سانپ سے مشابہ نظر آتی تھی۔ ایک لمبی سی کار دوڑتی دکھائی دے رہی تھی۔

اچانک وہ ایک جگہ رک گئی۔۔۔ اور اسٹیرنگ کے سامنے بیٹھا ہوا آدمی بڑبڑانے لگا “کیا ہو گیا ہے۔۔۔ بھئی!”

اس نے اسے دوبارہ اسٹارٹ کیا۔۔۔ انجن جاگا ۔۔۔ ایک مختصر سی انگڑائی لی اور پھر سو گیا!۔۔۔

کئی بار اسٹارٹ کرنے کے باوجود بھی انجن ہوش میں نہ آیا!۔۔۔

“یار دھکا لگانا پڑے گا!” اس نے پیچھے مڑ کر کہا! مگر پچھلی سیٹ سے خراٹے ہی بلند ہوتے رہے۔۔۔

اس نے دونوں گھٹنے سیٹ پر ٹیک کر بیٹھتے ہوئے سونے والے کو بری طرح جھنجھوڑنا شروع کردیا!۔۔۔

لیکن خراٹے بدستور جاری رہے۔

آخر جگانے والا سونے والے پر چڑھ ہی بٹھا!

“ارے۔۔۔ ارے۔۔ ۔ بچاؤ۔۔۔ بچاؤ!” اچانک سونے والے نے حلق پھاڑ نا شروع کردیا۔ لیکن جگانے والے نے کسی نہ کسی طرح کھینچ کھانچ کر اسے نیچے اتار ہی لیا!

“ہائیں! میں کہاں ہوں؟” جاگنے والا آنکھیں مل مل کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔

“عمران کے بچے ہوش میں آؤ!” دوسرے نے کہا!

“بچے۔۔۔ خدا کی قسم ایک بھی نہیں ہے۔۔۔ ابھی تو مرغی انڈوں پر بیٹھی ہوئی ہے سوپر فیاض۔۔۔!”

“کار اسٹارٹ نہیں ہو رہی ہے!” کیپٹن فیاض نے کہا۔

“جب چلے تھے تب تو شائد اسٹارٹ ہو گئی تھی!”

“چلو دھکا لگاؤ!”

عمران نے اس کے شانے پکڑے اور دھکیلتا ہوا آگے بڑھنے لگا!

“یہ کیا بیہودگی ہے! میں تھپڑ رسید کردوں گا!” فیاض پلٹ کر اس سے لپٹ پڑا۔۔۔

“ہائیں۔۔۔ ہائیں۔۔۔ ارے میں ہوں۔۔۔ مرد ہوں!”

“کار دھکا دئیے بغیر اسٹارٹ نہیں ہوگی!” فیاض حلق پھاڑ کر چیخا۔

“تو ایسا بولو نا۔۔۔ میں سمجھا شائد۔۔ ۔ واہ یار۔۔۔!”

فیاض اسٹیرنگ کے سامنے جا بیٹھا۔۔۔ اور عمران کار کو آگے سے پیچھے کی طرف دھکیلنے لگا۔

“ارے۔۔۔ ارے۔۔۔!” فیاض پھرچیخا!”پیچھے سے!”

عمران نے منہ پھیر کر اپنی کمر کار کے اگلے سرے سے لگا دی اور زور کرنے لگا۔

“ارے خدا غارت کرے۔۔۔ سور۔۔۔ گدھے!” فیاض دانت پیس کر رہ گیا۔

“اب کیا ہوگیا۔۔۔!” عمران جھلائے ہوئے لہجے میں بولا۔

فیاض نیچے اتر آیا۔ چند لمحے کھڑا عمران کو گھورتا رہا پھر بے بسی سے بولا۔

“کیوں پریشان کرتے ہو؟”

“پریشان تم کرتے ہو! یا میں؟”

“اچھا۔۔۔ تم اسٹیرنگ کرو! میں دھکا دیتا ہوں!” فیاض نے کہا۔

“اچھا بابا!” عمران پیشانی پر ہاتھ مار کر بولا!

وہ اگلی سیٹ پر جا بیٹھا اور کیپٹن فیاض کار کو دھکیل کر آگے کی طرف بڑھانے لگا!

کار نہ صرف اسٹارٹ ہوئی بلکہ فراٹے بھرتی ہوئی آگے بڑھ گئی!

“ارے۔۔۔ ارے۔۔۔ روکو۔۔۔ روکو۔۔۔!” فیاض چیختا ہوا کار کے پیچھے دوڑنے لگا! لیکن وہ اگلے موڑ پر جا کر نظروں سے اوجھل ہوگئی! فیاض برابر دوڑتا رہا!۔۔۔ اس کے علاوہ اور چارہ بھی کیا تھا۔۔۔ وہ دوڑتا رہا۔ حتٰی کہ طاقت جواب دے گئی۔۔۔ اور وہ ایک چٹان سے ٹیک لگا کر ہانپنے لگا! چڑھائی پر دوڑنا آسان کام نہیں ہوتا۔ وہ ایک پتھر پر بیٹھ کر ہانپنے لگا۔

اس وقت اس حرکت پر وہ عمران کی بوٹیاں بھی اڑا سکتا تھا! لیکن اسانسوں کے ساتھ ہی ساتھ اس کی ذہنی حالت اعتدال پر آتی گئی!

عمران پر غصہ آنا قدرتی امر تھا! لیکن اس کے ساتھ ہی فیاض کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ آج اس نے بھی عمران کو کافی پریشان کیا ہے!

آج شام کو وہ عمران کو تفریح کے بہانے کار میں بٹھا کر کسی نامعلوم منزل کی طرف لے اڑا تھا۔ عمران کی لاعلمی میں روشی سے اس کا سامان سفر پہلے ہی حاصل کر چکا تھا اور وہ سب کار کی اسٹپنی میں ٹھونس دیا گیا تھا۔

وہ جانتا تھا کہ عمران آج کل کام کے موڈ میں نہیں ہے! لہٰذا اسے یہ حرکت کرنی پڑی اور پھر جب یہ “تفریحی سفر” طویل ہی ہوتا چلا گیا، تو عمران کو یہ بتانا پڑا کہ وہ اسے سردار گڈھ لے جا رہا ہے! اس پر عمران ایک لمبی سانس کھینچ کر خاموش ہو گیا تھا! اس نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ اس طرح سردار گڈھ لے جانے کا مقصد کیا ہے؟۔۔۔

پھر اس نے کوئی بات ہی نہیں کی تھی! کچھ دیر یونہی بیٹھا رہا تھا۔ پھر پچھلی سیٹ پر جا کر خراٹے لینا شروع کر دئیے تھے!

ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں فیاض کا غصہ زیادہ زور نہ پکڑ سکا ہوگا! وہ اسی پتھر پر گھٹنوں میں سر دئیے بیٹھا رہا! خنکی کافی تھی!۔۔۔ سیگرٹوں کے کاٹن اور کافی کا تھرموس گاڑی ہی میں رہ گئے تھے! ورنہ وہ اسی پرسکون ماحول سے لطف اندوز ہونے کی کوشش ضرور کرتا!

ویسے وہ مطمئن تھا کہ عمران کا مذاق خطرناک صورت اختیار نہیں کرسکتا وہ واپس ضرور آئے گا اور کچھ تعجب نہیں کہ وہ قریب ہی کہیں ہو!

فیاض گھٹنوں میں سر دئیے عمران ہی کے متعلق سوچتا رہا! اسے اس کی بہتیری حرکتیں یاد آ رہی تھیں! وہ حرکتیں جن پر ہنسی اور غصہ ساتھ ہی آٹے تھے اور دوسروں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ ہنستے رہیں یا عمران کو مار بیٹھیں!

حماقت کا اظہار اس کی فطرت کا جزو ثانی بن چکا تھا اور وہ کسی موقع پر بھی اس سے باز نہیں رہتا تھا۔۔۔ وہ ان کے سامنے بھی حماقت انگیز حرکتیں کرتا جو اسے احمق نہیں سمجھتے تھے۔ مثلاً خود کیپٹن فیاض کے لئے عمران نے ایک نہیں درجنوں کیس نپٹائے تھے! کام اس نے کئے تھے اور نام فیاض کا ہوا تھا۔ ظاہر ہے کہ وہ ایسے آدمی کو احمق نہیں سمجھ سکتا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ بھی عمران کے احمقانہ رویے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی!

تقریباً پانچ منٹ گزر گئے اور فیاض اسی طرح بیٹھا رہا!۔۔۔ لیکن کب تک۔۔۔ آخر اسے سوچنا پڑا کہ کہیں سچ مچ عمران اسے چوٹ نہ دے گیا ہو! کیونکہ وہ بھی تو اسے دھوکہ ہی دے کر سردار گڈھ لے جا رہا تھا۔

فیاض اٹھا اور دل ہی دل میں عمران کو گالیاں دیتا ہوا سڑک پر چلنے لگا۔۔۔ لیکن جیسے ہی اگلے موڑ پر پہنچا اسے سامنے سے کوئی آتا دکھائی دیا! چلنے کا انداز عمران ہی کا سا تھا!۔۔۔ فیاض کی مٹھیاں بھینچ گئیں!

عمران نے دور ہی سے ہانک لگائی “کپتان صاحب! وہ پھر رک گئی ہے۔۔ چلو دھکا لگاؤ۔۔۔!”

فیاض کی رفتار تیز ہو گئی! وہ قریب قریب دوڑنے لگا تھا! عمران کے قریب پہنچ کر اس کا ہاتھ گھوما ضرور لیکن خلا میں چکر کاٹ کر رہ گیا کیونکہ عمران بڑی پھرتی سے بیٹھ گیا تھا!

“ہائیں۔۔۔ ہائیں۔۔۔! کیا ہو گیا ہے تمہیں!” عمران نے اٹھ کر اس کے دونوں ہاتھ پکڑ تے ہوئے کہا! “ابھی تو تم اچھے بھلے تھے۔۔۔”

“میں تمہیں مار ڈالوں گا!” فیاض دانت پیس کر بولا!

“اب یہاں تنہائی میں جو چاہو کرلو۔۔۔ کوئی دیکھنے آتا ہے!” عمران نے شکایت آمیز لہجے میں کہا “اگر وہ سالی سٹارٹ نہیں ہوتی تو اس میں میرا کیا قصور ہے!”

“ہاتھ چھوڑو!” فیاض نے جھٹکا دے کر کہا! لیکن عمران کی گرفت مضبوط تھی وہ ہاتھ نہ چھڑا سکا۔

“وعدہ کرو کہ مارو گے نہیں!” عمران بڑی سادگی سے بولا۔

“مجھے غصہ نہ دلاؤ۔!”

“اچھا تو اس کے علاوہ جو کچھ کہو لادوں! ٹافیاں لو گے!”

فیاض کا موڈ ٹھیک ہونے میں بہت دیر نہیں لگی!۔۔۔ وہ کرتا بھی کیا عمران پر غصہ اتارنا بھی ایک طرح سے وقت کی بربادی ہی تھی۔

ویسے اس بار حقیقتاً کار کو دھکا دینے کی ضرورت نہیں پیش آئی!

عمران نے اپنے کئی منٹ اس کے انجن پر ضائع کئے تھے! وہ زیادہ دو رنہیں گیا تھا!۔۔۔ قریب ہی ایک جگہ کار روک کر انجن کی مرمت کرنے لگا تھا! اسے توقع تھی کہ فیاض بے تحاشہ دوڑتا ہوا وہاں تک پہنچ جائے گا۔ لیکن جب کئی منٹ گذر جانے کے باوجود بھی فیاض نہ آیا تو وہ خود ہی اس کی تلاش میں چل پڑا۔

تھوڑی دیر بعد وہ پھر اسی چکراتی ہوئی سڑک پر سفر کر رہے تھے! لیکن کار فیاض ہی ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔ اور عمران نے پھر پچھلی سیٹ سنبھال لی تھی۔

فیاض بڑبڑانے لگا “اس وقت تمہاری جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو۔۔۔!”

“چین سے گھر پر پڑا سو رہا ہوتا!” عمران نے جلدی سے جملہ پورا کر دیا!

“بکواس مت کرو۔” فیاض نے کہا۔ “معاملہ پانچ ہزار پر طے ہوا ہے!”

“کیسا معاملہ!”

“سردار گڈھ میں تمہارا نکاح نہیں ہوگا!” فیاض نے خشک لہجے میں کہا!

“ہائیں۔۔۔ پھر کیا۔۔۔ یونہی مفت میں میرا وقت برباد کرا رہے ہو!”

“ایک بہت ہی دلچسپ کیس ہے!”

“یار فیاض! میں تنگ آگیا ہوں!”

“تمہاری زبان سےپہلی بار اس قسم کا جملہ سن رہا ہوں!” فیاض نے حیرت ظاہر کی۔

“سینکڑوں بار کہہ چکا ہوں کہ لفظ کیس میرے سامنے نہ دہرایا کرو۔ کیس لاحول ولا قوۃ۔ میں نے اکثر دائیوں کو زچگی کرانے کو بھی کیس ہی کہتے سنا ہے!”

“سنو عمران۔۔۔! بور نہ کرو!۔۔۔ ایسا دلچسپ۔۔!”

“میں کچھ نہیں سننا چاہتا! ختم کرو! مجھے نیند آرہی ہے!” عمران نے اپنے اوپر کمبل ڈالتے ہوئے کہا!

“فی الحال میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے سامنے کوئی ایسی حرکت نہ کرنا جس سے وہ بد دل ہو جائیں!۔۔۔ معاملہ ایسا ہے کہ وہ سرکاری طور پر کوئی کاروائی نہیں کرسکتے! اگر کرنا بھی چاہیں تو کم از کم میرا محکمہ اسے ہنس کر ہی ٹال دے گا!”

فیاض بڑبڑاتا رہا۔۔۔ اور عمران کے خراٹے کار میں گونجتے رہے اتنی جلدی سوجانا ناممکنات میں سے تھا۔۔۔ شائد عمران کچھ سننے کے موڈ ہی میں نہیں تھا!

۲​

سردار گڈھ ایک پہاڑی علاقہ تھا! اب سے پچاس سال قبل یہاں خاک اڑتی رہی ہوگی۔مٹی کا تیل دریافت ہو جانے سے اچھا خاصا شہر بس گیا تھا۔

شروع میں صرف مزدور طبقہ کی آبادی تھی! آہستہ آہستہ یہ آبادی پھیلاؤ اختیار کرتی گئی! پھر ایک دن سردار گڈھ جدید طرز کا ایک ترقی یافتہ شہر بن گیا! پہلے صرف مٹی کے تیل کے کنوؤں کی وجہ سے اس کی اہمیت تھی لیکن اب اس کا شمار مشہور تفریح گاہوں میں بھی ہونے لگا تھا۔۔۔ اور یہاں کے نائٹ کلب دور دور تک شہرت رکھتے تھے!۔۔۔

کیپٹن فیاض نے کار ایک کلب کے سامنے روک دی! ٹاؤن ہال کے کلاک ٹاور نے ابھی ابھی گیارہ بجائے تھے اور یہ نائٹ کلبوں کے جاگنے کا وقت تھا۔۔۔ مگر عمران کے خراٹے شباب پر تھے۔۔۔ فیاض جانتا تھا کہ وہ سو نہیں رہا ہے! خراٹے قطعی بناوٹی ہیں! لیکن وہ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا تھا! یہ اور بات ہے کہ وہ کار کے قریب سے گذرنے والوں سے آنکھیں ملاتے ہوئے شرما رہا تھا۔ وہ کار کے قریب سے گذرتے وقت ایک لمحہ رک کر خراٹے سنتے اور پھر مسکراتے ہوئے آگے بڑھ جاتے!

“او مردود!” فیاض جھلا کر اسے جھنجھوڑنے لگا!

پہلے تو اس پر کوئی اثر ہی نہیں ہوا۔ پھر یک بیک بوکھلا کر اس نے کھلے ہوئے دروازے سے چھلانگ لگا دی! مگر اس بار چوٹ اسی کو ہوئی! غالباً مقصد یہ تھا کہ سڑک پر گرنے کی صورت میں فیاض نیچے ہوگا اور وہ خود اوپر!۔۔۔ مگر فیاض بڑی پھرتی سے ایک طرف ہٹ گیا اور عمران جھونک میں تو تھا ہی اوندھے منہ سڑک پر چلا آیا۔۔۔

البتہ اس کی پھرتی بھی قابل تعریف تھی۔ شاید ہی کسی نے اسے گرتے دیکھا ہو!۔۔۔ دوسرے ہی لمحے میں وہ اتنے پرسکون انداز میں فیاض کے شانے پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔

“ہاں تو اب ہم کہاں ہیں!” عمران نے ایسے لہجے میں پوچھا جس میں نہ تو شرمندگی تھی اور نہ بے اطمینانی!۔۔۔ فیاض پر ہنسی کا دورہ پڑ گیا تھا!

عمران بے تعلقانہ انداز میں کھڑا رہا۔

آخر فیاض بولا۔ “کپڑے تو جھاڑ لو۔۔۔”

اور عمران بڑی سعادت مندی سے فیاض کے کپڑے جھاڑنے لگا!

“اب جھینپ نہ مٹاؤ!” فیاض پھر ہنس پڑا۔

“تم ہمیشہ اوٹ پٹانگ باتیں کیا کرتے ہو!” عمران بگڑ گیا۔

“چلو۔ چلو!” فیاض نے اسے دھکیل کر عمارت کی طرف بڑھایا۔ وہ دونوں ہال میں داخل ہوئے۔ ابھی بہتیری میزیں خالی تھیں! فیاض نے چاروں طرف نگاہ دوڑا کر ایک میز منتخب کی۔۔۔ اور وہ دونوں کرسیوں پر بیٹھ گئے!

اس گوشے کے ویٹر نے قریب آکر انہیں سلام کیا۔

“وعلیکم السلام” عمران نے اٹھ کر اس سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔

“بچے تو بخیریت ہیں!”

“جج۔۔۔ جی۔۔۔ صاحب۔۔۔ ہی ہی ہی!” ویٹر بوکھلا کر ہنسنے لگا اور فیاض نے عمران کے پیر میں بڑی بے دردی سے چٹکی لی۔۔۔ عمران نے “سی” کر کے ویٹر کا ہاتھ چھوڑ دیا۔

“کھانے میں جو کچھ بھی ہو لاؤ!” فیاض نے ویٹر سے کہا اور ویٹر چلا گیا!

جن لوگوں نے عمران کو ویٹر سے مصافحہ کرتے دیکھا تھا۔ وہ اب بھی ان دونوں کو گھور رہے تھے!

فیاض کو پھر اس پر تاؤ آگیا اور وہ تلخ لہجے میں بولا۔

“تمہارے ساتھ وہی رہ سکتا ہے، جسے اپنی عزت کا پاس نہ ہو!”

“آج کل فری پاس اور کنسیشن بالکل بند ہے!” اس نے سرہلا کر کہا اور ہونٹ سکوڑ کر چاروں طرف دیکھنے لگا!

“فیاض! پروا نہ کرو!” عمران نے تھوڑی دیر بعد سنجیدگی سے کہا!”میں جانتا ہوں کہ تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔ کیا میں نہیں جانتا کہ یہ پیر یٰسین نائٹ کلب ہے؟”

“میں کب کہتا ہوں کہ تم سردار گڈھ پہلی بار آئے ہو!” فیاض بولا! خلاف توقع اس کا موڈ آن واحد میں تبدیل ہو گیا تھا! ہو سکتا ہے کہ یہ عمران کی سنجیدگی کا رد عمل رہا ہو۔

“میں روزانہ باقاعدہ طور پر اخبار پڑھتا ہوں!” عمران نے کچھ سوچتے ہوئے کہا!

“پھر؟”

“آج سے ایک ہفتہ قبل اسی ہال میں ایک ننھا سا نیلا پرندہ اڑ رہا تھا!” عمران آہستہ سے بولا!

“اوہو!۔۔۔ تو تم سمجھ گئے!” فیاض کے لہجے میں دبی ہوئی سی مسرت تھی۔

“مگر تم اس سے یہ نہ سمجھنا کہ مجھے ایسے کسی پرندے کے وجود پر یقین بھی ہے!”

“تب پھر کیا بات ہوئی؟” فیاض نے مایوسی سے کہا!

“مطلب یہ ہے کہ اپنے طور پر تحقیق کئے بغیر ایسے کسی پرندے کے وجود پر یقین نہیں کرسکتا!”

“اور تم تحقیق کئے بغیر مانو گے نہیں!” فیاض نے چہک کر کہا!

“مجھے پاگل کتے نے نہیں کاٹا!” عمران کا لہجہ بہت خشک تھا!

“مجھے کیا پڑی ہے کہ خوامخواہ اپنا وقت برباد کروں!”

“وہ تو تمہیں کرنا ہی پڑے گا!”

“زبردستی؟۔۔۔”

“تمہیں کرنا پڑے گا؟”

“کیا کرنا پڑے گا؟” عمران کی کھوپڑی آؤٹ آف آرڈر ہوگئی!

“کچھ بھی کرنا پڑے!”

“اچھا میں صبر کروں گا مگر نہیں ویٹر کھانا لا رہا ہے! میں فی الحال کھانا کھا کر ایک کپ چائے پئیوں گا!۔۔۔ لہٰذا بکواس بند!”

کھانے کے دوران میں سچ مچ کی خاموشی رہی! شائد فیاض بھی بہت زیادہ بھوکا تھا!۔۔۔ کھانے کے بعد چائے کے دوران پھر وہی تذکرہ چھڑ گیا!

“جمیل کا یہی بیان ہے! میں نے وہی میز منتخب کی ہے جس پر اس دن جمیل تھا!”

“کیا؟” عمران اچھل کر کھڑا ہوگیا۔ “یعنی یہی میز جو ہم استعمال کر رہے ہیں؟”

“ہاں یہی! اور خدا کے لئے سنجیدگی سے سنو! بیٹھ جاؤ!”

“واہ رے آپ کی سنجیدگی!” عمران چڑ کر ہاتھ نچاتا ہوا بولا۔ “سانپ کے پھن پر بٹھا دو مجھے۔ لعنت بھیجتا ہوں ایسی دوستی پر!۔۔۔”

فیاض نے اسے کھینچ کر بٹھا دیا اور کہا “تمہیں یہ کام کرنا ہی پڑے گا! خواہ کچھ ہو! میں ان لوگوں سے وعدہ کر چکا ہوں۔۔۔!”

“کن لوگوں سے؟”

“جمیل کے خاندان والوں سے!”

“اچھا تو شروع ہو جاؤ۔۔۔ میں سن رہا ہوں!”

“جمیل اسی میز پر تھا!”

“پھر موڈ خراب کر رہے ہو میرا!” عمران خوفزدہ آواز میں بولا۔ “بار بار یہی جملہ دہرا کر۔۔۔”

“ہشت!۔۔۔ درجنوں آدمیوں نے اس نیلے پرندے کو ہال میں چکر لگاتے دیکھا تھا! وہ چند لمحے خلا میں چکراتا رہا پھر اچانک جمیل پر گر پڑا۔۔۔ اور اپنی باریک سی چونچ اس کی گردن میں اتار دی! جمیل کا یہی بیان ہے کہ اسے اس کی چونچ اپنی گردن سے نکالنے میں کسی قدر قوت بھی صرف کرنی پڑی تھی۔ بہرحال اس نے اسے کھینچ کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا تھا۔ دور بیٹھے ہوئے لوگ اس کا مضحکہ اڑانے کے لئے ہنسنے لگے! ان کےساتھ وہ بھی ہنستا رہا۔ لیکن وہ زیادہ دیر تک یہاں نہیں بیٹھ سکا! کیونکہ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا! جیسے گردن میں کسی بچھو نے ڈنک مار دیا ہو۔۔۔ لیکن پھر یہ تکلیف ایک گھنٹے سے زیادہ نہ رہی۔ رات بھر وہ سکون سے سویا اور جب دوسری صبح جاگا تو اپنےسارے جسم پر بڑے بڑے سفید دھبے پائے۔۔۔ خاص طور پر چہرہ بالکل ہی بدنما ہو گیا ہے۔۔۔ اب اگر تم اسے دیکھو تو پہلی نظر میں وہ برص کا کوئی بہت پرانا مریض معلوم ہوگا!۔۔۔”

“کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ داغ اسی پرندے کے حملے کا نتیجہ ہیں!” عمران بولا۔

“یقیناً!”

“کیا ڈاکٹروں کی رائے یہی ہے!”

“ڈاکٹروں کو اسے برص تسلیم کر لینے میں تامل ہے!۔۔۔ جمیل کا خون ٹیسٹ کیا گیا ہے اور اسی کی بنا پر ڈاکٹر کوئی واضح رائے دیتے ہوئے ہچکچا رہے ہیں!”

“خون کے متعلق رپورٹ کیا ہے؟”

“خون میں بالکل نئی قسم کے جراثیم پائے گئے ہیں! کم از کم اس وقت تک کے دریافت شدہ جراثیم میں ان کا شمار نہیں کیا جا سکتا!”

“اوہ۔ اچھا! رپورٹ کی ایک کاپی تو مل ہی جائے گی۔۔۔!”

“ضرور مل جائے گی۔”فیاض نے سگریٹ سلگائے ہوئے کہا۔

“مگر اس کے خاندان والے محکمہ سراغرسانی سے کیوں مدد چاہتے ہیں! اس مرض کا سراغ تو ڈاکٹر ہی پا سکیں گے!”

“حالات کچھ اسی قسم کے ہیں!” فیاض سرہلا کر بولا “اگر واقعی یہ کوئی مرض ہے تو اس پرندے نے جمیل ہی کو کیوں منتخب کیا جب کہ پورا ہال ہی بھرا ہوا تھا؟”

“یہ دلیل بے تکی ہے!”

“پوری بات بھی تو سنو! اگر اچانک اس دن وہ اس مرض میں مبتلا نہ ہو گیا ہوتا تو اس کی منگنی تیسرے ہی دن ایک بہت اونچے خاندان میں ہو جاتی۔!”

“آچ۔۔۔ چھا!۔۔۔ ہوں!”

“اب تک خود سوچو!”

“سوچ رہا ہوں!” عمران نے لا پرواہی سے جواب دیا! پھر کچھ دیر بعد بولا “گردن کے زخم کے متعلق ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟”

“کیسا زخم!۔۔۔ دوسری صبح اس جگہ صرف ایک نشان نظر آ رہا تھا جیسے گردن میں گزشتہ دن انجکشن دیا گیا ہو اور اب تو شائد خود جمیل بھی یہ نہ بتا سکے کہ پرندے نے کس جگہ چونچ لگائی تھی۔”

“خوب۔۔۔!” عمران کنکھیوں سے ایک جانب دیکھتا ہوا بڑبڑایا! کچھ دیر تک خاموشی رہی پھر عمران نے پوچھا!

“اچھا سوپر فیاض! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟”

“یہ کہ تم اس سلسلے میں جمیل کے خاندان والوں کی مدد کرو!”

“لیکن اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ جمیل کی منگنی تو ہونے سے رہی! تم مجھے ان لوگوں کا پتہ بتاؤ جن کے ہاں جمیل کی منگنی ہونے والی تھی!”

“اس سے کیا ہوگا!”

“میری منگنی ہوگی! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں شادی کے بغیر ہی مر جاؤں؟”

“میں نہیں سمجھا!”

“فیاض صاحب!۔۔۔ پتہ!”

“اچھا تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ انہیں لوگوں کی حرکت ہے!”

“اگر ان کا تعلق پرندوں کی کسی نسل سے ہے تو یقیناً انہی کی ہوگی اور مجھے انتہائی خوشی ہوگی کہ میں کسی چڑے کا داماد بن جاؤں!”

“تم پھر بہکنے لگے!”

“فیاض۔۔۔ ڈئیر۔۔۔ پتہ۔۔۔!”

فیاض چند لمحے سوچتا رہا پھر بولا “وہ یہاں کا ایک سربرآوردہ خاندان ہے!۔۔۔ نواب جاوید مرزا کا خاندان۔۔۔ پروین۔۔۔ جاوید مرزا ہی کی اکلوتی لڑکی ہے اور جاوید مرزا بے اندازہ دولت کا مالک ہے!”

“آہا۔۔۔” عمران اپنی رانیں پیٹتا ہوا بولا “تب تو اپنی چاندی ہے!”

“بکواس بند نہیں کرو گے!”

“اچھا! خیر ہٹاؤ!” عمران نے کچھ سوچتے ہوئے کہا “جمیل کس حیثیت کا آدمی ہے!”

“ظاہر ہے کہ وہ بھی دولت مند ہی ہوگا ورنہ جاوید مرزا کے یہاں رشتہ کی تجویز کیونکر ہوتی۔۔۔ اور اب تو جمیل کی دولت میں مزید اضافہ ہو جائے گا کیونکہ ابھی حال ہی میں اس کی ایک مملوکہ زمین میں تیل کا بہت بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے!”

“کیا جمیل اس زمین کا تنہا مالک ہے؟”

“سو فیصدی! خاندان کے دوسرے لوگ حقیقتاً اس کے دست نگر ہیں! یا دوسرے الفاظ میں اس کے ملازم سمجھ لو۔ تین چچا دو ماموں۔۔۔ چچا زاد بھائی بھی کئی عدد۔۔۔!”

“اور چچا زاد بہنیں؟”

“کئی عدد۔۔۔!”

“ان میں سے کوئی ایسی بھی ہے جس کی عمر شادی کے قابل ہو!”

“میرا خیال ہے کہ خاندان میں ایسی تین لڑکیاں ہیں!”

“جمیل کے کاروبار کی تفصیل۔۔۔!”

“تفصیل کے لئے مزید پوچھ گچھ کرنی پڑے گی ویسے یہاں اس کے دو بڑے کارخانے ہیں۔ ایک ایسا ہے جس میں مٹی کے تیل کے بیرل ڈھالے جاتے ہیں! دوسرے میں مٹی کے تیل کی صفائی ہوتی ہے!”

“تو گویا وہ کافی مالدار ہے!” عمران سرہلا کر بولا “لیکن کیا خود جمیل ہی نے تم سے گفت و شنید کی تھی!”

“نہیں! اس نے تو لوگوں سے ملنا جلنا ہی ترک کر دیا ہے! نہ وہ گھر سے باہر نکلتا ہے!”

“تو کیا میں اسے نہ دیکھ سکوں گا!”

“کوشش یہی کی جائے گی کہ تم اسے دیکھ سکو!۔۔۔ ویسے وہ میرے سامنے بھی نہیں آیا تھا۔”

“تم نے یہ نہیں بتایا کہ محکمہ سراغراسانی سے رجوع کرنے کی ضرورت کیسے محسوس ہوئی تھی؟”

“اس کے چچا۔۔۔ سجاد کو۔۔۔ وہ میرا پرانا شناسا ہے!”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: