Neelay Parinday By Ibn-e-safi – Episode 2

0
نیلے پرندے ​از ابن صفی – قسط نمبر 2

–**–**–

“اب ہم کہاں چلیں گے؟”

“میرا خیال ہے کہ میں تمہیں جمیل کی کوٹھی میں پہنچا دوں! لیکن خدا کے لئے بہت زیادہ بوریت نہ پھیلانا!۔۔۔ تمہیں اپنی عزت کا بھی ذرا پاس نہیں ہوتا!”

“میری فکر تو تم کیا ہی نہ کرو! میری عزت ذرا واٹر پروف قسم کی ہے!”

“میں نہیں چاہتا کہ لوگ مجھے الو سمجھیں!”

“حالانکہ تم سے بڑا الو آج تک میری نظروں سے نہیں گزرا!”عمران نے سنجیدگی سے کہا!”لاؤ ایک سگریٹ مجھے بھی دو! میں بھی باقاعدہ طور پر سگریٹ شروع کر دوں گا۔ کل ایک بزرگ فرما رہے تھے کہ جن پیسوں کا گھی دودھ کھاتے ہو اگر انہیں کے سگریٹ پئیو تو کیا حرج ہے!”

“اچھا اب بکواس بند کرو!” فیاض اس کی طرف سگریٹ کیس بڑھاتا ہوا بولا۔۔۔ اور اس نے سگریٹ کیس لے کر اپنی جیب میں ڈال لیا۔۔۔ وہ دونوں کرسیوں سے اٹھ گئے!

“کیا مطلب ۔۔۔!” فیاض نے کہا۔

“تمہارے پاس کافی سگریٹ ہیں! اب میں آج ہی سے تو سگریٹ خریدنے سے رہا!۔۔۔

فیاض ہونٹوں ہی ہونٹوں میں کچھ بڑبڑا کر خاموش ہو گیا۔

۳​

جمیل کی کوٹھی بڑی شاندار تھی اور اس کا پھیلاؤ بہت زیادہ تھا! ہوسکتا ہے کہ اس کی تعمر اس اندازے کے ساتھ ہوئی ہو کہ پورا خاندان اس میں رہ سکے! کم و بیش پچیس کمرے ضرور رہے ہوں گے۔

فیاض عمران کو پچھلی رات ہی یہاں پہنچا گیا تھا اور پھر فیاض وہاں اتنی ہی دیر ٹھہرا تھا جتنی دیر میں وہ سجاد اور اس کے بھائیوں سے عمران کا تعارف کرا سکا تھا! عمران نے بقیہ رات سکون سے گزاری! یعنی صبح تک اطمینان سے سوتا رہا!

دن کے اجالے میں لوگوں نے عمران کے متعلق کوئی اچھی رائے نہیں قائم کی! کیونکہ وہ صورت ہیسے پرلے سرے کا بیوقوف معلوم ہوتا تھا!

چائے اس نے اپنے کمرے میں تنہا پی۔۔۔ اور پھر باہر نکل کر ایک ایک سے “امجاد صاحب” کے متعلق پوچھنے لگا! لیکن ہر ایک نے اس نام سے لاعلمی ظاہر کی! آخر سجاد آٹکرایا! عمران نے اس سے بھی “امجاد صاحب” کے متعلق پوچھا۔!

“یہاں تو کوئی بھی امجاد نہیں ہے!” سجاد نے کہا!۔۔۔ یہ ایک ادھیڑ عمر کا قوی الجثہ آدمی تھا! اور اس کے چہرے پر سب سے نمایاں چیز اس کی ناک تھی!

“تب پھر شائد میں غلط جگہ پر ہوں!” عمران نے مایوسی سے کہا۔ “کیپٹن فیاض نے کہا تھا کہ امجاد صاحب میرے پرانے شناسا ہیں اور ان کے بھتیجے!۔۔۔”

“امجاد نہیں سجاد!” سجاد نے کہا “میں ہی سجاد ہوں!”

“نہیں صاحب مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ امجاد۔۔۔! اگر آپ سجاد کہتے ہیں! تو پھر یہی درست ہوگا۔ آپ کے بھتیجے صاحب۔۔۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں!”

“بہت مشکل ہے جناب!” سجاد بولا “وہ کمرے سے باہر نکلتا ہی نہیں۔۔۔ ہم سب خوشامدیں کرتے کرتے تھک گئے!”

“مجھے وہ کمرہ دکھا دیجئے!”

“آئیے۔۔۔ پھر کوشش کریں! ممکن ہے کہ۔۔ مگر مجھے امید نہیں!”

دو تین راہداریوں سے گذرنے کے بعد ایک کمرے کے سامنے رک گئے عمران نے دروازے کو دھکا دیا! لیکن وہ اندر سے بند تھا!

سجاد نے آواز دی لیکن اندر کوئی کھانس کر رہ گیا۔۔۔ اتنے میں عمران نے جیب سے سگریٹ کیس نکال کر ایک سگریٹ سجاد کو پیش کیا اور دوسرا خود سلگا لیا!۔۔۔ سجاد نے سگریٹ سلگا کر پھر دروازے پر دستک دی۔

“خد اکے لئے مجھے میرے حال پر چھوڑ دو!” اندر سے ایک بھرائی ہوئی سی آواز آئی!

“جمیل بیٹے! دروازہ کھول دو! باہر آؤ۔۔۔دیکھو میں نے ایک نیا انتظام کیا ہے! ہمارے دشمنوں کی گردنیں نالی میں رگڑ دی جائیں گی!”

“چچا جان میں کچھ نہیں چاہتا۔۔۔ میں کچھ نہیں چاہتا!”

“ہم تو چاہتے ہیں!”

“فضول ہے! بیکا رہے۔۔۔! اس کمرے سے میری لاش ہی نکلے گی!۔۔۔”

“دیکھا آپ نے!” سجاد نے آہستہ سے عمران سے کہا اور عمران صرف سر ہلا کر رہ گیا!

پھر سجاد خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا! وہ بے خیالی میں پے در پے سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہا تھا! اچانک اس کے چہرے کے قریب ایک دھماکہ ہوا اور سگریٹ کی دھجیاں اڑ گئیں۔

“ارے خدایا!” سجاد چیخ مار کر فرش پر ڈھیر ہو گیا۔

“کیا ہوا!” اند رسے کوئی چیخا! پھر دوڑنے کی آواز آئی اور دروازہ جھٹکے سے کھل گیا۔ دوسرے لمحے عمران کے سامنے ایک قوی ہیکل نوجوان کھڑا تھا جس کے چہرے پر بڑے بڑے سفید دھبے تھے!

اس نے جھپٹ کر سجاد کو فرش سے اٹھایا اور سجاد عمران کی طرف دیکھ کر دھاڑا۔

“یہ کیا بیہودگی تھی!”

“ارے۔۔۔ لل۔۔۔ خد۔۔۔ خدا کی قسم۔۔۔!” عمران ہکلانے لگا!

“یہ کیا ہوا!۔۔۔ “جمیل نے سجاد کو جھنجھوڑ کر کہا “یہ کیا تھا!”

“کچھ نہیں!” سجاد عمران کو قہر آلود نظروں سے گھورتا ہوا ہانپ رہا تھا!

“آپ کون ہیں؟” جمیل عمران کی طرف مڑا۔ لیکن پھر دوسرے ہی لمحے میں دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا کر کمرے میں گھس گیا! دروازہ پھر بند ہو چکا تھا!

“مجھے بتائیے کہ اس بیہودگی کا کیا مطلب تھا!” سجاد عمران کے چہرے کے قریب ہاتھ ہلا کر چیخا۔

گھر کے کئی دوسرے افراد بھی اب وہاں پہنچ گئے تھے!

“دیکھئے! عرض کرتا ہوں!” عمران گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا۔ “یہ کیپٹن فیاض کی حرکت ہے! اس نے میرے سیگرٹ کیس سے اپنا سگریٹ کیس بدل لیا ہے یہ دیکھئے!۔۔۔ سگریٹ کیس پر اس کا نام بھی موجود ہے!”

عمران نے سگریٹ کیس اسے پکڑا دیا۔۔!

Read More:  Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 31

“یہ سگریٹ دراصل میرے لئے تھا!” عمران پھر بولا “مجھے بہت افسوس ہے! لاحول ولا قوۃ۔ آپ جلے تو نہیں؟”

وہ آگے جھک کر اس کے چہرے کا جائزہ لینے لگا!

“اگر یہ مذاق تھا تو میں ایسے مذاق پر لعنت بھیجتا ہوں!” سجاد نے ناخوشگوار لہجے میں کہا “میں نہیں جانتا تھا کہ فیاض ابھی تک بچپنے کی حدود میں ہے!”

“میں فیاض سے سمجھ لوں گا!” عمران اپنی مٹھیاں بھینچ کر بولا۔

دوسرے افراد سجاد سے دھماکے کے متعلق پوچھنے لگے اور سجاد نے سگریٹ پھٹنے کا واقعہ دہراتے ہوئے کہا “اس طرح اچانک ہارٹ فیل بھی ہوسکتا ہے! فیاض کو ایسا مذاق نہ کرنا چاہئے تھا! اس نے اس کے سگریٹ کیس سے اپنا سگریٹ کیس بدل لیا ہے! اب سوچتا ہوں کہیں فیاض نے مجھ سے بھی تو مذاق نہیں کیا ہے!”

“ضرور کیا ہوگا!” عمران حماقت انگیز انداز میں پلکیں جھپکاتا ہوا بولا۔

“آپ کا عہدہ کیا ہے؟” سجاد نے اس سے پوچھا۔

“شہدہ۔۔۔! میرا کوئی شہدہ نہیں ہے۔ لا حول ولا قوۃ کیا آپ مجھے لفنگا سمجھتے ہیں! لفنگا ہوگا وہی سالا فیاض۔ ایک دفعہ پھر لا حول ولا قوۃ!”

“آپ اونچا بھی سنتے ہیں؟” سجاد اسے گھورنے لگا!

“میں اونچا نیچا سب کچھ سن سکتا ہوں!” عمران برا سا منہ بنا کر بولا اور سگریٹ کیس سے دوسرا سگریٹ نکالنے لگا۔۔۔ پھر اس طرح چونکا جیسے دھماکے والا واقعہ بھول ہی گیا ہو اس نے جھلاہٹ کا مظاہرہ کرنے کے سلسلے میں سارے سگریٹ توڑ کر پھینک دئیے اور سگریٹ کیس کو فرش پر رکھ کر پہلے ہی تو اس پر گھونسے برساتا رہا!۔۔۔ کھڑا ہو کر جوتوں سے روندنے لگا! نتیجہ یہ ہوا کہ سگریٹ کیس کی شکل ہی بگڑ گئی!

کچھ لوگ مسکرا رہے تھے اور کچھ اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

“میں نے آپ کا عہدہ پوچھا تھا!” سجاد بولا۔

“میں آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا!” عمران کا لہجہ ناخوشگوار تھا! “میں ابھی واپس جاؤں گا۔ فیاض کی ویسی کی ایسی۔۔۔ ایسی کی ایسی۔۔۔ لا حول ولا قوۃ۔۔۔ کیا کہتے ہیں اسے۔۔۔ ویسی کی جیسی۔۔۔!”

“ایسی کی تیسی!” ایک لڑکی نے ہنستے ہوئے تصحیح کی۔۔۔!

“جی ہاں! ایسی کی تیسی۔۔۔ شکریہ!” عمران نے کہا اور لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ لڑکی نے سجاد کا ہاتھ پکڑا اور ایک دوسرے کمرے میں لے آئی!

“یہ آدمی بڑا گھاگ معلوم ہوتا ہے۔” اس نے سجاد سے کہا۔

“بالکل گدھا!”

“نہیں ڈیڈی! میں ایسا نہیں سمجھتی!۔۔۔ جمیل بھائی کو کمرے سے نکالنے کی ایک بہترین تدبیر تھی!۔۔۔ یہ بتائیے کہ پہلے بھی کوئی اس میں کامیاب ہوسکتا تھا! خود فیاض صاحب نے بھی تو کوشش کی تھی!”

سجاد کچھ نہ بولا! اس کی پیشانی پر شکنیں ابھر آئی تھیں۔ اس نے تھوڑی دیر بعد کہا!

“تم ٹھیک کہتی ہو! سعیدہ! بالکل ٹھیک! مگر کمال ہے۔۔۔ صورت سے بالکل گدھا معلوم ہو تا ہے!”

“محکمہ سراغرسانی میں ایسے ہی لوگ زیادہ کامیاب سمجھے جاتے ہیں اور وہ سچ مچ اپنی ظاہر کی حالت کی ضد ہوتے ہیں!”

عمران راہداری سے کچھ اس انداز میں رخصت ہوا تھا جیسے اپنے کمرے میں پہنچتے ہی وہاں سے روانہ ہو جانے کی تیاریاں شروع کر دے گا۔

“اب کیا کیا جائے!” سجاد نے سعیدہ سے کہا۔

“میں۔۔۔ میں نہیں تم جاؤ۔۔۔!”

“اچھا۔۔۔ میں ہی روکتی ہوں!”

سعیدہ اس کمرے میں آئی جہاں عمران کا قیام تھا! دروازہ اندر سے بند نہیں تھا! اس نے دستک دی! لیکن جواب ندارد! آخر تیسری دستک کے بعد اس نے دھکا دے کر دروازہ کھول دیا کمرہ خالی تھا۔ لیکن عمران کا سامان بدستور موجود تھا۔ پھر نوکروں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ عمران خالی ہاتھ باہر گیا ہے۔

۴​

پیر یٰسین نائٹ کلب دن میں بھی آباد رہتا تھا!۔۔۔ وجہ یہی تھی کہ وہاں رہائشی کمرے بھی تھے۔۔۔ اور وہاں قیام کرنے والے مستقل ممبر کہلاتے تھے اور پھر چونکہ یہ “سیزن” کا زمانہ تھا اس لئے یہاں چوبیس گھنٹے کی سروس چلتی تھی!

عمران نے ڈائننگ ہال میں داخل ہو کر چاروں طرف دیکھا اور پھر ایک گوشے میں جا پہنچا۔ اس کی پشت پر ایک کھڑکی تھی اس نے ویٹر کو بلا کر آئس کریم کا آرڈر دیا۔ حالانکہ خنکی اس وقت بھی اچھی خاصی تھی!۔۔۔

وہ تھوڑی دیر تک آئس کریم کی چسکیاں لیتا رہا۔۔۔ پھر یک بیک اس طرح اچھلا کہ سینے کے بل میز پر آ رہا وہاں سے پھسل کر فرش پر آ رہا اور پھر وہ اس طرح کپڑے جھاڑ جھاڑ کر اچھل کود رہا تھا جیسے کپڑوں میں شہد کی مکھیاں گھس گئی ہوں۔۔۔

ہال میں اس وقت زیادہ آدمی نہیں تھے! بہرحال جتنے بھی تھے وہ اپنی جگہوں پر بیٹھے تو نہیں رہ سکتے تھے!

“کیا بات ہے۔۔۔ کیا ہوا!” کسی نے پوچھا!

“پپ۔۔۔ پپ۔۔۔ پپرندہ۔۔۔ پرندہ!” عمران ایک رسی پر ہانپتا ہوا بولا پھر اس نے اس کھڑکی کی طرف اشارہ کیا جس کے قریب بیٹھ کر اس نے آئس کریم کھائی تھی!

“پرندہ!” ایک لڑکی نے خوفزدہ آواز میں دہرایا!

اور پھر لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے! ویٹروں نے جھپٹ جھپٹ کر ساری کھڑکیاں بند کردیں!

لیکن اتنے میں ایک بھاری بھرکم ادمی عمران کے قریب پہنچ گیا اور وہ صورت سے کوئی اچھا آدمی نہیں معلوم ہوتا تھا! اس کا چہرہ کسی بلڈاگ کے چہرے سے مشابہ تھا!

“پرندہ!” وہ عمران کے شانے پر ہاتھ مار کر غرایا۔ “ذرا میرے ساتھ آئیے!”

“کک۔۔۔ کیوں؟”

“اس لئے کہ میں یہاں کا مینیجر ہوں!” اس نے عمران کی بغلوں میں ہاتھ دے کر اسے کرسی سے اٹھا دیا!

Read More:  Purisrar Cheekhain by Ibn e Safi – Episode 2

عمران کو اس کے اس رویہ پر حیرت ضرور ہوئی لیکن وہ خاموش رہا اور اس نے اس بات کا موقع نہیں دیا وہ بغلوں میں ہاتھ دئیے ہوئے ہی اسے اپنے ساتھ لے جاتا۔

مینیجر نے اسے اپنے کمرے میں کھینچ کر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ عمران اس وقت پہلے سے بھی زیادہ بیوقوف نظر آرہا تھا!

“ہوں کیا قصہ تھا پرندے کا!” وہ عمران کو گھورتا ہوا غرایا۔

“قصہ تو مجھے یاد نہیں!” عمران نے بڑی سادگی سے کہا۔ “لیکن پرندہ ضرور تھا!۔۔۔ نیلا۔۔۔!”

“اور وہ تمہاری گردن میں لٹک گیا! کیوں؟”

“نہیں اٹک سکا!۔۔۔ میں دعویٰ کرتا ہوں ! ۔۔۔”

“تمہیں کس نے بھیجا ہے! اس نے میز کی دراز کھول کر لوہے کا ایک دو فٹ لمبا رول نکالے ہوا کہا۔

“کسی نے نہیں! میں والدین سے چھپ کر یہاں آیا ہوں!۔۔۔” عمران نے لاپرواہی سے جواب دیا! لیکن اس کی نظریں لوہے کے اس رول پر تھیں!

“میں تمہاری ہڈیاں بھوسہ کردوں گا!” مینیجر گردن اکڑا کر بولا۔

“کیا والد صاحب نے ایسا کہا ہے؟” عمران نے خوفزہ آواز میں پوچھا!

“تمہیں یہاں کس نے بھیجا ہے؟”

“اچھا تم ہی بتاؤ کہ کون بھیج سکتا ہے؟” عمران نے سوال کیا لیکن مینیجر رول سنبھال کر اس پر ٹوٹ پڑا۔

عمران “ارے” کرتا ہوا ایک طرف ہٹ گیا!۔۔۔ رول دیوار پر پڑا اور مینیجر پھر پلٹا ۔۔۔ دوسرا حملہ بھی سخت تھا! لیکن اس بار مینیجر جھونک کر میز سے جا ٹکرایا اور پھر میز کے ساتھ ہی خود بھی الٹ گیا! موقع تھا! عمران چاہتا تو اتنی دیر میں دروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکل سکتا تھا!۔۔۔ مگر وہ احمقوں کی طرح کھڑا۔۔۔ ارے ارے۔۔۔ ہی کرتا رہ گیا!

“آپ کے کہیں چوٹ تو نہیں آئی!” عمران نے اس سے پوچھا جب وہ دوسری طرف ہاتھ ٹیک کر اٹھ رہا! اس کے اس جملے پر مینیجر کو اس زور کا غصہ آیا کہ وہ ایک بار پھر الٹی ہوئی میز پر ڈھیر ہو گیا۔۔۔!

“میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا!” مینیجر دوبارہ اٹھنے کی کوشش کرتا ہوا غرایا!

“آپ خوامخواہ خفا ہو رہے ہیں چچا جان!” عمران نے نہایت سعادت مندی سے عرض کیا “آپ یقیناً والد صاحب کے دوست معلوم ہوتے ہیں! اگر آپ کی یہی خواہش ہے تو میں آئندہ یہاں نہ آؤں گا!”

مینجر سامنے کھڑا اسے گھور رہا تھا اور اس کا سینہ سانسوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ پھول کر پچک رہا تھا!۔۔۔

“جی ہاں” عمران احمقوں کی طرح سر ہلا کر بولا! “والد صاحب کہتے ہیں کہ جہاں عورتیں بھی ہوں وہاں نہ جایا کرو۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ کان پکڑتا ہوں۔۔۔ اب کبھی نہ آؤں گا!”

مینجر پھر بھی نہ بولا! وہ ایک کرسی پر بیٹھ کر عمران کو گھورنے لگا! عمران بھی سرجھکائے کھڑا رہا۔۔۔ اس کے اس روئیے نے مینجر کو الجھن میں ڈال دیا ورنہ یہ بات وہ بھی سوچ سکتا تھا کہ عمران اگر بھاگنا چاہتا تو وہ اسے روک نہ پاتا!

“پرندہ! تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا!۔۔۔” اس نے تھوڑی دیر بعد پوچھا!

“وہ میری گردن سے ٹکرایا تھا!۔۔۔ مجھے پروں کی ہلکی سی جھلک دکھائی دی تھی۔۔۔ پھر میں نہیں جانتا کہ وہ کدھر گیا!”

“بکواس۔۔۔ بالکل بکواس۔۔۔ میرے کلب کو بدنام کرنے کی انتہائی مکروہ سازش!”

“میں بالکل نہیں جانتا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں!”

“تم بس یہاں سے چپ چاپ چلے جاؤ اور کبھی یہاں تمہاری شکل نہ دکھائی دے! سمجھے!”

عمران کچھ سوچنے لگا! پھر سر ہلا کر بولا “یہ کوئی دوسرا معاملہ معلوم ہوتا ہے!۔۔۔ آپ والد صاحب کے دوست نہیں ہیں۔ کیوں؟”

“چلے جاؤ!” مینجر حلق پھاڑ کر بولا!

“تم میری توہین کر رہے ہو دوست!” عمران یک بیک سنجیدہ ہو گیا!

“تم کون ہو؟”

“میں سیاح ہوں۔۔۔ اور میں نے اس پراسرار پرندے کے متعلق اخبارات میں پڑھا تھا!”

“سب بکواس ہے!” مینجر غرایا!۔۔۔ “وہ پرندہ اس کتے۔۔۔ جمیل کے علاوہ اور کسی کو نہیں دکھائی دیا تھا۔۔۔ کلب کو بدنام کرنے کا ایک نا پاک طریقہ!”

“تب تو ضرور یہی بات ہو سکتی ہے۔۔۔ اور میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے بھی اس کہانی پر یقین نہیں آیا ہے!”

“ابھی تم نے کیا سوانگ بھرا تھا!” مینجر پھر جھلا کر کھڑا ہو گیا!

“بیٹھو بیٹھو! یہ میرا پیشہ ہے!” عمران ہاتھ اٹھا کر بولا!

“کیا پیشہ!۔۔۔”

“میں ایک اخبار کا رپورٹر ہوں!۔۔۔ چندرنگر کا مشہور اخبار۔۔۔ اجالا!۔۔۔ نام سنا ہوگا تم نے۔۔۔ میں صحیح واقعہ معلوم کرنے کی غرض سے یہاں آیا ہوں!”

“تم جھوٹے ہو!” مینجر غرایا!

“تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں جھوٹا ہوں!۔۔۔ مجھے صحیح معلومات حاسل کرنی ہیں ورنہ میں اب تک یہاں ٹھہرتا کیوں؟۔۔۔ میرا سر اتنا مضبوط نہیں ہے کہ لوہے کی سلاخ سے محبت کرسکے۔”

“تو تم نے پرندے کا نام اس طرح کیوں لیا تھا!”

“محض اس لئے کہ تم مجھ سے کھل کر گفتگو کرسکو!۔۔۔ تم نے محض غصے میں اس بات کا اظہار کر دیا کہ یہ تمہارے کلب کو بدنام کرنے کے لئے ایک سازش ہے۔۔۔۔ کیا تم نے دوسرے اخبار کے رپورٹروں سے بھی یہی کہا ہوگا؟”

“نہیں!” مینجر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولا!

“کیوں؟”

لیکن مینجر نے اس “کیوں” کا کوئی جواب نہیں دیا!

عمران نے سر ہلا کر کہا “تم نے اس لئے اس بات کا اظہار نہیں کیا کہ جمیل شہر کا ایک بہت بڑا آدمی ہے۔۔۔”

Read More:  Mamta Ki Chori Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Episode 1

اس پر مینجر نے شہر کے اس بہت بڑے آدمی کو ایک گندی سی گالی دی اور پھر خاموش ہو گیا!

“ٹھیک ہے! تم کھلم کھلا نہیں کہہ سکتے! ظاہر ہے کہ تمہارا کلب انہیں بڑے آدمیوں کی وجہ سے چلتا ہے!”

مینجر نے تمام بڑے آدمیوں کے لئے بھی وہی گالی دہرائی اور اپنے جیب میں ہاتھ ڈال کر سیگرٹ کا پیکٹ تلاش کرنے لگا۔

“ٹھیک ہے!” عمران مسکرا کر بولا “میں تم سے متفق ہوں اور میرا اخبار بھی متفق ہو جائے گا! لیکن صحیح حالات کا علم ہونا ضروری ہے۔”

“میں دعوٰی سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ پرندہ جمیل کے علاوہ اور کسی کو نہیں دکھائی دیا تھا!”

“لیکن جمیل تمہارے کلب کو کیوں بدنام کرنا چاہتا ہے!”

“میں نے الیکشن میں اس کی مخالفت کی تھی!” مینجر بولا۔

“مگر میرا خیال ہے کہ اس نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا!” عمران نے کہا۔

“وہ خود نہیں حصہ لیتا! مگر اپنے امیدوار کھڑے کرتا ہے۔۔۔ اور اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس حلقہ انتخاب سے اس کے امیدوار کے علاوہ اور کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے!”

“اچھا خیر۔۔۔ ہاں مگر تمہاری مخالفت کا کیا نتیجہ نکلا تھا۔”

“اس کے دو امیدوار کامیاب نہ ہوسکے!”

“اور وہ اس کے باوجود بھی تمہارے کلب میں آتا رہا تھا!” عمران نے کہا!

“ہاں۔۔۔ اسی پر تو مجھے حیرت تھی! لیکن اس پرندے والے معاملے نے میری آنکھیں کھول دیں! وہ اس طرح انتقام لینا چاہتا ہے! آدھے سے زیادہ مستقل ممبروں نے کلب سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔۔۔ اور روزانہ کے گاہکوں میں بھی کمی واقع ہو گئی ہے!”

“اچھا اگر یہ سازش ہے تو میں دیکھ لوں گا!” عمران بولا! “اور میں یہاں سے اس وقت تک نہ جاؤں گا۔ جب تک حقیقت نہ معلوم کرلوں!”

مینجر کچھ نہ بولا! اس کے چہرے پر یقین و تشکیک کی کشمکش کے آثار نظر آرہے تھے!

۵​

شام بڑی خوشگوار تھی! سورج دور کی پہاڑیوں کی طرف جھک رہا تھا اور کپکپاتی ہوئی سرخی مائل دھوپ سرسبز چٹانوں پر بکھری ہوئی تھی۔

عمران چلتے چلتے اچانک منہ کے بل گر پڑا پہلے تو ننھی ننھی بچیوں نے قہقہہ لگایا لیکن جب عمران اٹھنے کی بجائے بے حس و حرکت اوندھا پڑا ہی رہا تو بچیوں کےساتھ والے اس کی طرف دوڑ پڑے۔۔۔ ان میں دو جوان لڑکیاں تھیں اور تین مرد! ایک نے عمران کو سیدھا کیا۔۔۔ اور پھر اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر بولا۔

“بیہوش ہو گیا ہے۔۔۔!”

“دیکھئے سر تو نہیں پھٹا!” ایک لڑکی بولی۔۔۔ اور وہ آدمی عمران کا سر ٹٹولنے لگا!

یہ لوگ اپنے اچھے لباس کی بنا پر اچھی حیثیت والے معلوم ہو رہے تھے!

“نہیں سر محفوظ ہے!” نوجوان بولا! “یہ شائد کسی قسم کا دورہ ہے۔۔۔ کیا کہتے ہیں اسے۔۔۔ مرگی۔۔ مرگی!” وہ عمران کو ہوش میں لانے کی تدبیریں کرنے لگا!

سامنے ہی ایک عالیشان عمارت تھی اور یہاں سے اس کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔۔۔ یہ نواب جاوید مرزا کی کوٹھی تھی!۔۔۔

“اب کیا کرنا چاہئے!” نوجوانوں میں سے ایک نے کہا “یہ بیچارہ یہاں کب تک پڑا رہے گا۔۔۔ کیوں نہ ہم اسے اٹھا کر کوٹھی میں لے چلیں!”

لڑکیوں نے بھی اس کی تائید کی اور تیسرا جو سب سے الگ تھلگ کھڑا تھا منہ بنا کر بولا “میرا خیال ہے کہ اس کی ضرورت نہیں!”

“کیوں؟” ایک لڑکی جھلا کر اس کی طرف مڑی!

“یہ مجھے کوئی اچھا آدمی نہیں معلوم ہوتا!”

“برا ہی سہی!” لڑکی نے ناخوشگوار لہجے میں کہا “دنیا کا کوئی آدمی فرشتہ نہیں ہوتا!”

عمران کو زمین سے اٹھایا گیا! لیکن وہ تیسرا الگ ہی الگ رہا۔

حالانکہ وہ دونوں اس کی ضرورت محسوس کر رہے تھے۔۔۔ جوں توں کرکے وہ کوٹھی میں داخل ہوئے اور سب سے پہلا کمرہ جو ان کی پہنچ میں تھا۔ عمران سے آباد ہوگیا! وہ اسے ہوش میں لانے کے لئے طرح طرح کی تدبیریں اختیار کرتے رہے لیکن کامیابی نہ ہوئی! آخر تھک ہار کر انہیں ڈاکٹر کو فون کرنا پڑا۔۔۔

“یہ بن رہا ہے!” اس نوجوان نے کہا جس نے اسے برا آدمی کہا تھا!

“تم احمق ہو!” لڑکی بولی!

“ہوسکتا ہے کہ شوکت کا خیال درست ہو؟” دوسرے نے کہا!

“تم بھی احمق ہو!”

پہلے نے کچھ نہیں کہا دوسری لڑکی بھی خاموش رہی۔

“اچھا میں اسے ہوش میں لاتا ہوں۔” شوکت آگے بڑھ کر بولا۔۔۔!

“نہیں۔۔۔ قطعی نہیں!” لڑکی نے سخت لہجے میں کہا “ڈاکٹر آرہا ہے!”

“تمہاری مرضی!” شوکت برا سا منہ بنائے ہوئے پیچھے ہٹ گیا!

اتنے میں ایک باوقار بوڑھا کمرے میں داخل ہوا۔ اس کی عمر ستر کے لگ بھگ رہی ہوگی لیکن تندرستی بہت اچھی تھی! سفید بالوں میں بھی وہ جوان معلوم ہوتا تھا!۔۔۔

“کیا بات ہے!۔۔۔ یہ کون ہے؟”

“ایک راہگیر!” لڑکی نے کہا “چلتے چلتے گرا اور بیہوش ہوگیا!”

“لیکن یہ ہے کون؟”

“پتہ نہیں! تب سے اب تک بیہوش ہے!”

“اوہ۔۔۔ تم لوگوں کو عقل بالکل نہیں! ہٹو ادھر مجھے دیکھنے دو!”

بوڑھا مسہری کے قریب پہنچ کر بولا “آدمی ذی حیثیت معلوم ہوتا ہے! اس کی جیب میں وزیٹنگ کارڈ ضرور ہوگا! تم لوگ اب تک جھک مارتے رہے ہو!”

اس نے عمران کی مختلف جیبیں ٹٹولنے کے بعد آخر کار ایک وزیٹنگ کارڈ نکال ہی لیا!۔۔۔ اور اس پر نظر ڈالتے ہی اس نے قہقہہ لگایا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: