Neelay Parinday By Ibn-e-safi – Episode 3

0
نیلے پرندے ​از ابن صفی – قسط نمبر 3

–**–**–

“ہاہا۔۔۔ دیکھا پروین! میں نہ کہتا تھا کہ کوئی ذی حیثیت آدمی ہے۔۔۔ یہ دیکھو!۔۔۔شہزادہ سطوت جاہ!”

“شہزادہ سطوت جاہ” شوکت نے طنزیہ لہجے میں دہرایا۔

پروین بوڑھے کے ہاتھ سے کارڈ لے کر دیکھنے لگی!

“ہوسکتا ہے کہ یہ مجھ سے ملنے ہی کے لئے ادھر آیا ہو!” بوڑھے نے کہا۔

شوکت دوسری لڑکی کے قریب کھڑا آہستہ آہستہ کچھ بڑبڑا رہا تھا!

اچانک وہ لڑکی بوڑھے کو مخاطب کرکے بولی “شوکت بھائی کا خیال ہے کہ یہ شخص بیہوش نہیں ہے!”

“تمہارا کیا خیال ہے!” بوڑھے نے لڑکی سے پوچھا۔

“بات یہ ہے کہ اب تک ہوش میں آ جانا چاہئے تھا!” لڑکی نے کہا۔

“یعنی تم بھی یہی سمجھتی ہو کہ یہ بن رہا ہے!”

“جی ہاں! میرا بھی یہی خیال ہے!”

“اچھا تو اس معاملہ میں جو بھی شوکت سے متفق ہو اپنے ہاتھ اٹھا دے!” بوڑھے نے ان کی طرف دیکھ کر کہا۔ پروین کے علاوہ اور سب نے ہاتھ اٹھا دیئے۔

“کیوں تم ان لوگوں سے متفق نہیں ہو؟” بوڑھے نے اس سے پوچھا!

“نہیں! حضور ابا۔۔۔!”

“اچھا تو تم یہیں ٹھہرو۔۔۔ اور تم سب یہاں سے دفع ہو جاؤ!” بوڑھے نے ہاتھ جھٹک کر کہا! پروین کے علاوہ اور سب چلے گئے۔۔۔!

نواب جاوید مرزا عرف عام میں جھکی تھا۔۔۔ اور اس کے ذہن میں جو بات بیٹھتی پتھر کی لکیر ہو جاتی!۔۔۔ وہ لوگ جو اس سے متفق نہ ہوتے انہیں عام طور پر خسارے ہی میں رہنا پڑتا تھا! اس کے تینوں بھتیجے شوکت، عرفان، صفدر اور بھانجی ریحانہ اس وقت دھوکے ہی میں رہے۔۔۔ اس لئے انہیں اس کے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔۔۔ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ نواب جاوید مرزا کی رائے مختلف ہوگی!

“میرا خیال بھی کبھی غلط نہیں ہوتا” جاوید مرزا نے پروین کی طرف دیکھ کر کہا “یا ہوتا ہے؟”

“کبھی نہیں!”

اتنے میں ڈاکٹر آگیا!۔۔۔ وہ کافی دیر تک عمران کو دیکھتا رہا!

پھر جاوید مرزا کی طرف دیکھ کر کہا “آپ کا کیا خیال ہے!”

“نہیں تم پہلے اپنا خیال ظاہر کرو!”

“جو آپ کا خیال ہے وہی میرا بھی ہے!”

“یعنی۔۔۔!”

ڈاکٹر شش و پنج میں پڑ گیا۔ وہ یہاں کا فیملی ڈاکٹر تھا اور یہاں سے اسے سینکڑوں روپے ماہوار آمدنی ہوتی تھی! اس لئے وہ بہت محتاط رہتا تھا!۔۔۔ وہ جاوید مرزا کے سوال کا جواب دیئے بغیر ایک بار پھر عمران پر جھک پڑا۔

“ہاں ہاں!” جاوید مرزا اپنا سر ہلا کر بولا “اچھی طرح اطمینان کرلو۔۔۔ پھر خیال ظاہر کرنا!”

جاوید مرزا ٹہلنے لگا! ایک لحظہ کے لئے اس کی پشت ان کی طرف ہوئی اور پروین نے اشارے سے ڈاکٹر کو سمجھا دیا۔۔۔

جاوید مرزا ٹہلتا رہا۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ بڑبڑا رہا تھا۔ “شہزادہ سطوت جاہ۔۔۔ شہزادہ سطوت جاہ۔۔۔ واہ نام ہی سے شان ٹپکتی ہے۔ پرانی عظمتوں کا احساس ہوتا ہے۔۔۔!”

“جناب عالی۔۔۔” ڈاکٹر سیدھا کھڑا ہوتا ہوا بولا “بیہوشی! گہری بیہوشی۔۔۔ مگر یہ کوئی مرض نہیں معلوم ہوتا!”

“خوب تو تم بھی مجھ سے متفق ہو!”

“قطعی جناب۔۔۔!”

“پھر۔۔۔! یہ ہوش میں کیسے آئے گا!”

“میرا خیال ہے۔۔۔ خود بخود۔۔۔ دوا کی ضرورت نہیں!”

“مگر میرا خیال ہے کہ دوا کی ضرورت ہے!”

“اگر آپ کا خیال ہے تو پھر ہوگی۔۔۔ آپ مجھ سے زیادہ تجربہ کار ہیں!” ڈاکٹر نے کہا!

“نہیں بھئی! بھلا میں کس قابل ہوں!” جاوید مرزا نے مسکرا کر انکساری ظاہر کی!

“فی الحال میں ایک انجکشن دے رہا ہوں!”

“انجکشن” جاوید مرزا نے برا سا منہ بنایا۔ “پتہ نہیں۔۔۔ کیا ہو گیا ہے آج کل کے معالجوں کو۔۔۔ انجکشن کے علاوہ کوئی علاج ہی نہیں ہے!”

“پھر آپ کیا چاہتے ہیں!” ڈاکٹر نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا!

“کوئی نیا۔۔۔ طریقہ۔۔۔ ایک نادر شاہ درانی نے۔۔۔”

یک بیک عمران بوکھلا کر اٹھ بیٹھا!

“گٹ آؤٹ۔۔ آل آف یو” اس نے جھلائے ہوئے لہجے میں کہا اور پھر چاروں طرف دیکھ کر شرمندہ ہوجانے کے انداز میں ہونٹوں پر زبان پھیر پھیر کر تھوک نگلنے لگا۔۔۔!

“اب کیسی طبیعت ہے!” جاوید مرزا نے پوچھا!

“وہ تو ٹھیک ہے۔۔ مگر۔۔۔!” عمران آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھنے لگا!

“میں جاوید مرزا ہوں۔۔۔ یہ پروین ہے۔۔۔ اور یہ ڈاکٹر فطرت!”

“عشرت!” ڈاکٹر نے تصحیح کی!

“اور میں۔۔۔!”

“ہاں ہاں٬ تم سطوت جاہ۔۔۔ ہو! شہزادہ سطوت جاہ!”

“ہائیں۔۔۔!” عمران آنکھیں پھاڑ کر بولا “آپ میرا نام کیسے جان گئے!”

اس پر جاوید مرزا صرف ہنس کر رہ گیا!

“میں نے ابھی تک کسی پر اپنی اصلیت ظاہر نہیں کی تھی۔۔۔ آپ کو کیسے۔۔۔!”

“پروا مت کرو!۔۔۔” جاوید مرزا نے کہا۔۔۔ “اب تمہاری طبیعت کیسی ہے!”

“مگر میں یہاں کیسے آیا۔۔!”

“تم چلتے چلتے گر کر بیہوش ہو گئے تھے!” جاوید مرزا بولا۔

“ہائیں!” عمران کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں “کوئی ایکسیڈنٹ تو نہیں ہوا۔۔۔!”

“ایکسیڈنٹ!” جاوید مرزا نے حیرت ظاہر کی “میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا!”

“میری کار کہاں ہے؟”

“کار” پروین اسے گھور کر بولی “آپ تو پیدل تھے۔۔۔ ہم نے کوئی کار نہیں دیکھی!”

“مذاق نہ کیجئے!” عمران گھگھیا کر بولا!

“نہیں بخدا وہاں کوئی کار نہیں تھی!”

“میرے خدا!۔۔۔ کیا میں خواب دیکھ رہا ہوں!” عمران اپنی پیشانی رگڑنے لگا!

“کیا معاملہ ہے!” جاوید مرزا نے دخل دیا۔

“میں اپنی کار ڈرائیو کر رہا تھا!” عمران نے کہا۔۔۔!

پھر اس کا نتیجہ جو کچھ ہوا ہوگا ظاہر ہے!۔۔۔ جاوید مرزا سے لے کر دروازوں کے شیشے صاف کرنے والا لڑکا تک سب پاگل ہو گئے! بڑی دور دور تک کار تلاش کی گئی۔ مگر۔۔۔ وہاں تھا ہی

کیا!۔۔۔ تھوڑی دیر بعد سب اسٹڈی میں اکٹھے ہوئے۔ شوکت، عرفان، صفدر اور ریحانہ بھی موجود تھے!

شوکت بار بار عمران کو عجیب نظروں سے گھورنے لگتا تھا!۔۔۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ ان سب سے بیزار ہو!۔۔۔ اس نے اس دوران ایک بار بھی حیرت کا اظہار نہیں کیا تھا!

“سردار گڈھ۔۔۔ بھوتوں کا مسکن بن گیا ہے!” جاوید مرزا بڑبڑایا!

“روزانہ ایک انہونی بات سامنے آتی ہے۔۔۔ ویسے سطوت جاہ تم ٹھہرے کہاں ہو!”

“رائل ہوٹل میں!۔۔۔”

سردار گڈھ کب آئے ہو!”

“پرسوں!”

“پھر تم اپنی کار کے لئے کیا کرو گے!”

“صبر کروں گا۔۔۔!”

“آپ کہاں کے شہزادے ہیں جناب!” دفعتا شوکت نے پوچھا!

“پرنس آف ڈھمپ!” عمران اپنی گردن اکڑا کر بولا!

“یہ ڈھمپ کیا بلا ہے!”

“نقشے میں تلاش کیجئے! آپ ہماری توہین کر رہے ہیں!”

“شوکت باہر جاؤ!” جاوید مرزا بگڑ گیا!

شوکت چپ چاپ اٹھا اور باہر چلا گیا!

“تم کچھ خیال نہ کرنا” جاوید مرزا نے عمران سے کہا “یہ ذرا بددماغ ہے!”

“آپ بھی میری توہین کر رہے ہیں!” عمران نے ناخوشگوار لہجے میں کہا! ” نہ آپ نہ جناب۔۔۔ تم۔۔۔ یہ بھی کوئی بات ہوئی۔۔۔!”

“میں نواب جاوید مرزا ہوں!”

“اچھا!” عمران اچھل کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ پھر آگےبڑھ کر اس سے مصافحہ کرتا ہوا بولا “آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔۔۔”

“مجھے بھی ہوئی!”

“اور یہ سب حضرات۔۔۔ اور ۔۔۔ خواتین!”

“یہ عرفان ہے! یہ صفدر ہے۔۔۔ یہ پروین۔۔۔ یہ ریحانہ۔۔۔!”

“یہ پروین۔۔۔” عمران صفدر کی طرف اشارہ کرکے بولا! پھر اپنا منہ پیٹنے لگا۔۔۔ “لاحول ولا قوۃ۔۔۔ بھول گیا۔۔۔! ۔۔۔ یہ یہ!”

جاوید مرزا نے ایک بار پھر ان کے نام دہرا کر عمران کو سمجھانے کی کوشش کی!

“ان سب کی رگوں میں آپ کا خون ہے!” عمران نے پوچھا!
“ہاں یہ دونوں میرے بھتیجے ہیں! یہ بھانجی اور یہ بیٹی!”

“اور۔۔۔ وہ صاحب جو چلے گئے!”

“وہ بھی میرا بھتیجا ہے!”

“ایک بار پھر بڑی خوشی ہوئی!” عمران نے پھر جاوید مرزا سے بڑی گرمجوشی سے مصافحہ کیا!

“مگر آپ کی کار کا کیا ہوگا!” جاوید مرزا نے تشویش آمیز لہجے میں کہا۔ “ایک بار پھر یاد کیجئے کہ آپ نے اسے کہاں چھوڑا تھا!”

“پتہ نہیں میں نے اسے چھوڑا تھا یا اس نے مجھے چھوڑا تھا۔۔۔ مجھے سب سے پہلے اس پر غور کرنا چاہئے!”

اچانک نواب جاوید مرزا نے ناک سکوڑ کر برا سا منہ بنایا!

“سچ مچ!۔۔ میں اس شوکت کو یہاں سے نکال دوں گا!” اس نے کہا۔

“نہیں میں خود ہی جا رہا ہوں!” عمران نے اٹھتے ہوئے کہا!

“ارے ہائیں۔۔۔ آپ کے لئے نہیں کہا گیا!” جاوید مرزا اسے شانوں سے پکڑ کر بٹھاتا ہوا بولا “وہ تو میں شوکت کو کہہ رہا تھا! کیا آپ کسی قسم کی بو نہیں محسو کر رہے!”

“کر رہا ہوں!۔۔۔ واقعی یہ کیا بلا ہے!” عمران اپنے نتھنے بند کرکے منمنایا۔

“اسے سائنٹسٹ کہلائے جانے کا خبط ہے!۔۔۔ اس وقت غالبا اپنی تجربہ گاہ میں ہے اور یہ بدبو کسی گیس کی ہے خدا کی پناہ۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے بھنگیوں کی فوج کہیں قریب ہی مارچ کر رہی ہو!”

“کم از کم شاہی خاندان کے افراد کے لئے تو یہ مناسب نہیں ہے!” عمران نے ہونٹ سکوڑ کر کہا۔

“آپ کے خیالات بہت اچھے ہیں۔۔۔ بہت اچھے۔۔۔” جاوید مرزا اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔ پھر پروین کی طرف مڑ کر کہا۔

“دیکھا!۔۔۔ میں نہ کہتا تھا! آج بھی شاہی خاندانوں میں ایسے نوجوان افراد موجود ہیں۔ جنہیں عمومیت سے نفرت ہے!۔۔۔ یہ سائنٹسٹ وائنٹسٹ ہونا ہمارے بچوں کے لئے مناسب نہیں ہے ڈاکٹر عشرت! تم جا سکتے ہو!”

جاوید مرزا نے آخری جملہ ڈاکٹر کی طرف دیکھے بغیر کہا تھا! ڈاکٹر رخصت ہوگیا!

۶​

اسی شام کو روشی بھی عمران کی ٹوسیٹر کار سمیت سردار گڈھ پہنچ گئی! عمران نے صبح ہی اسے اس کے لئے تار دے دیا تھا اور اسے توقع تھی کہ روشی دن ڈوبتے ڈوبتے سردار گڈھ پہنچ جائے گی! اسے محکمہ سراغراسانی کا ایک آدمی جمیل کی کوٹھی تک پہنچا گیا تھا۔۔۔!

عمران اپنا طریقہ کار متعین کر چکا تھا۔۔۔ اور اسکیم کے تحت اسے رائل ہوٹل میں قیام کرنا تھا۔ وہاں کمرے حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی اور یہ حقیقت ہے کہ اس نے وہاں کے رجسٹر میں اپنا نام شہزادہ سطوت جاہ ہی لکھوایا۔۔۔ اور روشی بدستور روشی رہی! اسے شہزادے صاحب کی پرائیویٹ سیکریٹری کی حیثیت حاصل تھی!

رات کا کھانا انہوں نے ڈائننگ ہال ہی میں کھایا۔۔۔ اور پھر عمران روشی کو یہاں کے حالات سے آگاہ کرنے لگا۔۔۔ اچانک اس کی نظر شوکت اور عرفان پر پڑی جو ان سے کافی فاصلے پر بیٹھے ان دونوں کو گھور رہے تھے!

عمران نے دریافت حال کے سے انداز میں اپنے سر کو جنبش دی اور عرفان اپنی میز سے اٹھ کر تیر کی طرح ان کی طرف آیا! لیکن شوکت نے منہ پھیر لیا۔۔۔!

“تشریف رکھیئے۔۔۔ مسٹر پروان!” عمران نے پرمسرت لہجے میں بولا۔

“عرفان۔۔۔!” اس نے بیٹھتے ہوئے تصحیح کی۔۔۔!

“آپ کچھ خیال نہ کیجئے گا!” عمران نے شرمندگی ظاہر کی “مجھے نام عموماً غلط ہی یاد آتے ہیں!”

“آپ نے عرفان اور پروین کو گڈ مڈ کر دیا!” عرفان ہنسنے لگا “اکثر ایسا بھی ہوتا ہے! کہئے آپ کی گاڑی ملی۔۔۔!”

“لاحول ولا قوۃ! کیا کہوں!” عمران اور زیادہ شرمندہ نظر آنے لگا!

“کیوں کیا ہوا۔”

“وہ کمبخت تو یہاں گیراج میں بند پڑی تھی اور مجھے یاد آ رہا تھا کہ میں گاڑی پر ہی تھا!”

“خوب!” عرفان اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگا! لیکن وہ بار بار نظر چرا کر روشی کی طرف بھی دیکھتا جا رہا تھا! جو سچ مچ ایسے ہی مودبانہ انداز میں بیٹھی تھی جیسے کسی شہزادے کی پرائیویٹ سیکریٹری ہو۔

“سیکریٹری”! اچانک عمران اس کی طرف مڑ کر انگریزی میں بولا “میں ابھی کیا یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔”

“آپ۔۔۔ آپ۔۔۔ میرا خیال ہے۔۔۔ اس آدمی۔۔۔ ہاں آدمی ہی کا نام یاد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔”

“وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ آدمی۔۔۔ جس نے ایک ایکڑ زمین میں۔۔۔ ڈیڑھ من شلجم اگائے تھے!”

“آہا۔۔۔ آہا۔۔۔ یاد آگیا!” عمران اچھل کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ پھر فورا ہی بیٹھ کر بولا “مگر نہیں۔۔۔ وہ تو دوسرا آدمی تھا۔۔۔ جس نے۔۔۔ کیا کیا تھا۔۔۔ لاحول ولا قوۃ۔۔۔ یہ بھی بھول گیا۔۔۔ کیا بتاؤں۔ عمران صاحب!”

“عمران نہیں عرفان!” عرفان نے پھر ٹوکا!

“عرفان صاحب! ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا!”

عرفان بور ہو کر اٹھ گیا! حالانکہ وہ روشی کی وجہ سے بیٹھنا چاہتا تھا! مگر اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ روشی اس احمق کی موجودگی میں اس میں دلچسپی نہیں لے سکتی! کیونکہ اس نے اس دوران میں ایک بار بھی عرفان کی طرف نہیں دیکھا تھا!

عرفان پھر شوکت کے پاس جا بیٹھا۔۔۔!

عمران اور روشی بھی اٹھ کر اپنے کمروں میں چلے آئے!

“وہ دوسرا آدمی تمہیں اچھی نظروں سے نہیں دیکھ رہا تھا!” روشی نے کہا!

“تب وہ تمہیں دیکھ رہا ہوگا!”

“شٹ اپ!”

“آرڈر۔۔ آرڈر۔۔۔ تم میری سیکرٹری ہو اور میں پرنس سطوت جاہ!”

“لیکن اس رول میں تو اپنی حماقتوں سے باز آ جاؤ!” روشی نے کہا۔

مگر عمران نے اس بات کو ٹال کر دوسری شروع کردی!

“کل تم جیل خانے میں جاؤ گی!۔۔۔ اررر۔۔۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہاں ایک قیدی ہے! میں نے آج بہتیری معلومات فراہم کرلی ہیں!۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ قیدی۔۔۔ اس کا نام سلیم ہے۔۔۔ اسے شوکت نے جیل بھجوایا تھا! کل صبح تمہیں اسے ملنے کے لئے اجازت نامہ مل جائے گا!۔۔۔” عمران خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا!

“لیکن۔۔۔ مجھے اس سے کیوں ملنا ہوگا!”

“یہ معلوم کرنے کے لئے کہ اس پر جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں کہاں تک حقیقت ہے!”

“کیا الزامات لگائے گئے ہیں؟”

“اسی سے پوچھنا!”

“لیکن وہ ہے کون اور اس واقعہ سے اس کا کیا تعلق ہے!”

“تم اس کی پروا مت کرو! اس سے جو کچھ گفتگو ہو مجھے اس سے مطلع کر دینا!”

“خیر مت بتاؤ!۔۔۔ مگر۔۔۔ ظاہر ہے کہ میں ایک ملاقاتی کی حیثیت سے وہاں جاؤں گی۔۔۔ وہ اس ملاقات کی وجہ ضرور پوچھے گا!۔۔۔ وہ سوچے گا۔۔۔!”

“اونہہ اونہہ!” عمران ہاتھ اٹھا کر بولا “تم اسکی پروا نہ کرو! اس سے کہہ دینا کہ تم ایک غیر مقامی اخبار کی رپورٹر ہو!”

“تب تو مجھے اس کے تھوڑے بہت حالات سے پہلے ہی واقف ہونا چاہئے!”

“ٹھیک ہے!” عمران پسندیدگی کے اظہار میں سرہلا کر بولا “تم اب کافی چل نکلی ہو! اچھا تو سنو!

سلیم، شوکت کا لیبارٹری اسسٹنٹ تھا! شوکت۔۔۔ وہ آدمی۔۔۔ جو تمہاری دانست میں اس وقت مجھے اچھی نظروں سے نہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ پروین کا چچا زاد بھائی ہے۔۔۔ غالباً تم سمجھ ہی گئی ہوگی!”

“یعنی۔۔۔! وہ خود بھی پروین کے امیدواروں میں سے ہو سکتا ہے!”

“واقعی چل نکلی ہو!۔۔۔ بہت اچھے!۔۔۔ ہاں یہی بات ہے اور شوکت کو سائنٹیفک تجربات کا خبط ہے!

وہ ایک باقاعدہ قسم کی لیبارٹری بھی رکھتا ہے!۔۔۔”

“اور۔۔۔ وہ کیا نام اس کا۔۔۔ سلیم اس کا لیبارٹری اسسٹنٹ تھا۔۔۔ اور شوکت ہی نے اسے جیل بھجوا دیا۔۔۔ آخر کیوں؟۔۔۔ وجہ کیا تھی؟”

“وجہ بظاہر ایسی نہیں جس سے اس کیس کے سلسلے میں ہمیں کوئی دلچسپی ہو سکے۔۔۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وجہ وہ نہ ہو جو ظاہر کی گئی ہو!”

“کیا ظاہر کی گئی ہے۔ میں وہی تو پوچھ رہی ہوں!”

“ایک معمولی سی رقم خرد برد کر دینے کا الزام!”

“یعنی اسی الزام کے تحت وہ جیل میں ہے!” روشی نے پوچھا!

“یقیناً!”

“تب پھر ظاہر ہے کہ حقیقت بھی یہی ہوگی! ورنہ وہ اس جرم کے تحت جیل میں کیوں ہوتا!”

“کیوں کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ اصل جرم عائد کردہ الزام سے بھی زیادہ سنگین ہو! جسے نہ شوکت ہی ظاہر کرنا پسند کرتا ہو اور نہ سلیم!”

“اگر یہ بات ہے تو پھر وہ مجھے حقیقت بتانے ہی کیوں لگا!”

“روشی! روشی!۔۔۔ اتنی ذہین نہ بنو! ورنہ میں بور ہو جاؤں گا۔۔۔ مر جاؤں گا! جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس پر عمل کرو!”

“تب پھر کوئی تیسری بات ہوگی جسے تم ظاہر نہیں کرنا چاہتے!” روشی نے لاپرواہی سے کہا “خیر میں جاؤں گی!”

“ہاں شاباش! میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تم کسی طرح اس سے مل لو!”

۷​

قیدی سلاخوں کی دوسری طرف موجود تھا! روشی نے اسے غور سے دیکھا اور وہ اسے نیچے سے اوپر تک ایک شریف آدمی معلوم ہوا۔ اس کی عمر تیس اور چالیس کے درمیان ہی رہی ہوگی!

آنکھوں میں ایسی نرمی تھی جو صرف ایماندار آدمیوں ہی کی آنکھوں میں نظر آسکتی ہے!

روشی کو دیکھ کر وہ سلاخوں کے قریب آگیا!

“میں آپ کو نہیں جانتا!” وہ روشی کو گھورتا ہوا آہستہ سے بولا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: