Neelay Parinday By Ibn-e-safi – Episode 4

0
نیلے پرندے ​از ابن صفی – قسط نمبر 4

–**–**–

روشی نے ایک قہقہہ لگایا جس کا انداز چڑانے کا سا تھا! روشی نے اس وقت اپنے ذہن کو بالکل آزاد کر دیا تھا! وہ اپنے طور پر اس سے گفتگو کرنا چاہتی تھی! عمران کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں تھا!۔۔۔ عمران کی باتوں سے اس نے اندازہ کر لیا تھا کہ وہ صرف اس ملاقات کا رد عمل معلوم کرنا چاہتا ہے! اس کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں!

“آپ کون ہیں؟” قیدی نے پھر پوچھا!

“میں ہاہا۔۔۔!” روشی نے پھر قہقہہ لگایا اور بری عورتوں کی طرح بے ڈھنگے پن سے لچکنے لگی!

“میں سمجھ گیا!” قیدی آہستہ سے بڑبڑایا۔ “لیکن تم مجھے غصہ نہیں دلا سکتیں! قطعی نہیں! کبھی نہیں!”

بات بڑی عجیب تھی اور ان جملوں کی نوعیت پر غور کرتے کرتے روشی کی اداکاری رخصت ہوگئی اور وہ ایک سیدھی سادی عورت نظر آنے لگی! قیدی اسے توجہ اور دلچسپی سے دیکھتا رہا! پھرا س نے آہستہ سے پوچھا!

“تمہیں یہاں کس نے بھیجا ہے!”

اچانک روشی کی ذہانت پھر جاگ اٹھی اس نے مایوسانہ انداز میں سرہلا کر کہا “نہیں تم وہ آدمی نہیں معلوم ہوتے!”

“کون آدمی!”

“کیا تمہارا نام سلیم ہے!”

“میرا یہی نام ہے!”

“اور تم نواب زادہ شوکت کے لیبارٹری اسسٹنٹ تھے!”

“ہاں یہ بھی ٹھیک ہے!”

“پھر تم وہی آدمی ہو!”

قیدی کے چہرے پر تفکر کے آثار پیدا ہوگئے لیکن ان میں سراسیمگی کو دخل نہیں تھا!۔۔۔ وہ خالی الذہنی کے انداز میں چند لمحے روشی کے چہرے پر نظر جمائے رہا پھر وہ دو تین قدم ہٹ کر بولا “تم جاسکتی ہو!”

“لیکن۔۔۔ اگر۔۔۔ تم سلیم۔۔۔!”

“میں کچھ نہیں سننا چاہتا! یہاں سے چلی جاؤ!”

“مگر۔۔۔ وہ!”

“جاؤ!” وہ حلق پھاڑ کر چیخا اور دو سنتری تیزی سے چلتے ہوئے سلاخوں کے پاس پہنچ گئے۔۔۔ قبل اس کے کہ قیدی کچھ کہتا روشی بول پڑی! “تم فکر نہ کرو سلیم میں تمہارے گھر والوں کی اچھی طرح خبرگیری کروں گی!”

اور پھر وہ جواب کا انتظار کئے بغیر باہر نکل گئی!

۸​

عمران نے روشی کا بیان بہت غور سے سنا اور چند لمحے خاموش رہ کر بولا!

“تم واقعی چل نکلی ہو! اس سے زیادہ میں بھی نہ کرسکتا۔۔۔!”

“اور تم میری کاروائی سے مطمئن ہو!” روشی نے پوچھا!

“اتنا مطمئن ۔۔۔ کہ۔۔۔!”

عمران جملہ پورا نہ کرسکا! کیونکہ کسی نے کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک دی تھی۔

“ہاں۔۔۔ آں۔۔۔ کم ان!” عمران نے دروازے کو گھورتے ہوئے کہا!

ایک لڑکی دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ عمران نے اس پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی۔۔۔

“میں سعیدہ ہوں!” لڑکی نے کہا! “آپ نے مجھے دیکھا تو ہوگا!”

“نہیں ابھی نہیں دیکھ سکا! سیکرٹری میری عینک!”

لڑکی کچھ جھنجھلا سی گئی۔

“میں سجاد صاحب کی لڑکی ہوں!”

“لاحول ولا قوۃ۔ میں لڑکا سمجھا تھا۔۔۔ تشریف رکھئے! سیکرٹری! ڈائری میں دیکھو۔۔۔ یہ اسجاد صاحب کون ہیں!”

“سجاد صاحب!” لڑکی غصیلی آواز میں بولی! “آخر آپ میرا مذاق کیوں اڑا رہے ہیں!”

“میں نے آج تک پتنگ کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں اڑائی! آپ یقین کیجئے۔۔۔ یوں تو اڑانے کو میرے خلاف بے پر کی بھی اڑائی جاسکتی ہے!”

“میں یہ کہنے آئی تھی کہ جمیل بھائی آپ سے ملنا چاہتے ہیں!” سعیدہ جھلا کر کھڑی ہوگئی۔

“سیکرٹری۔۔۔ ذرا ڈائری۔۔۔!”

عمران کا جملہ پورا ہونے سے قبل ہی سعیدہ کمرے سے نکل گئی!

“اس لڑکی کو میں نے کہیں دیکھا ہے!” روشی بولی “تم نے کیا کہہ دیا وہ غصہ میں معلوم ہوتی تھی!” عمران خاموش رہا! اتنے میں فون کی گھنٹی بول اٹھی! عمران نے بڑھ کر ریسیور اٹھا لیا!

“ہیلو۔۔۔! ہاں۔۔۔! ہاں! ہم ہی بول رہے ہیں! سطوت جاہ! اوہ۔۔۔ اچھا۔۔۔ اچھا! ضرور۔۔۔ ہم ضرور آئیں گے۔۔۔!”

عمران نے ریسیور رکھ کر انگڑائی لی اور خوامخواہ مسکرانے لگا!

“مجھے اس آدمی۔۔۔ سلیم کے متعلق بتاؤ۔۔۔” روشی نے کہا۔

“کیا وہ بہت خوبصورت تھا!” عمران نے پوچھا!

“بکواس مت کرو! بتاؤ مجھے۔۔۔ وہ عجیب تھا اور اس کا وہ جملہ۔۔۔ تم مجھے غصہ نہیں دلا سکتیں۔۔۔ اور اس نے پوچھا تھا کہ تمہیں کس نے بھیجا ہے!”

“روشی!۔۔۔ تم نے اس کے بارے میں کیا سوچا ہے!” عمران نے پوچھا!

“میں نے! میں نے کچھ نہیں سوچا! ویسے وہ چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے! ہے نا!”

“یہی خاص نکتہ ہے۔۔۔!” عمران کچھ سوچتا ہوا بولا “لیکن اس نے جو گفتگو تم سے کی تھی۔۔۔ وہ عجیب تھی۔۔۔ تھی یا نہیں۔۔۔! اب تم خود اندازہ کر سکتی ہو!”

“یعنی اس سلسلے میں حقیقت وہ نہیں ہے جو ظاہر کی گئی ہے!”

“باس۔۔۔ بالکل ٹھیک ہے! اس سے زیادہ میں بھی نہیں جانتا!”

تھوڑی دیر تک خاموشی رہی پھر روشی بڑبڑانے لگی “اور وہ نیلا پرندہ!۔۔۔ بالکل کہانیوں کی باتیں۔۔۔!”

“نیلا پرندہ!” عمران ایک طویل سانس لے کر اپنی ٹھوڑی کھجانے لگا! “میرا خیال ہے کہ اسے جمیل کے علاوہ اور کسی نے نہیں دیکھا! پیر یٰسین نائٹ کلب کے مینجر کا یہی بیان ہے! آج میں ان چند لوگوں سے بھی ملوں گا جن کے نام مجھے معلوم ہوئے ہیں۔۔۔!”

“کن لوگوں سے!”

“وہ لوگ جو اس شام کلب کے ڈائننگ ہال میں موجود تھے!”

لیکن اسی دن چند گھنٹوں کے بعد اس سلسلے میں عمران نے روشی کو جو کچھ بھی بتایا وہ امید افزا نہیں تھا! وہ ان لوگوں سے ملا تھا جو واردات کی شام کلب میں موجود تھے! لیکن انہیں وہاں کوئی پرندہ نظر نہیں آیا تھا! البتہ انہوں نے جمیل کو بوکھلائے ہوئے انداز میں اچھلتے ضرور دیکھا تھا!

“پھر اب کیا خیال ہے!” روشی نے کہا۔۔۔!

“فی الحال ۔۔۔ کچھ بھی نہیں!” عمران نے کہا اور جیب سے چیونگم کا پیکٹ تلاش کرنے لگا!۔۔۔ روشی میز پر پڑے ہوئے قلم تراش سے کھیلنے لگی! اس کے ذہن میں بیک وقت کئی سوال تھے! عمران تھوڑی دیر تک خاموش رہا پھر بولا “فیاض نے کہا تھا کہ نائٹ کلب میں وہ پرندہ کئی آدمیوں کو نظر آیا تھا!۔۔۔ لیکن دوسروں کے بیانات اس کے برعکس ہیں!”

“ہوسکتا ہے کہ کیپٹن فیاض کو غلط اطلاعات ملی ہوں!” روشی نے کہا۔

“اسے یہ ساری اطلاعات سجاد سے ملی تھیں! اور سجاد جمیل کا چچا ہے!”

“اچھا۔۔۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا خود جمیل ہی ان اطلاعات کا ذمہ دار ہے!”

“ہاں۔۔۔ فی الحال یہی سمجھا جا سکتا ہے!” عمران کچھ سوچتا ہوا بولا!

“اچھا پھر میں چلا۔۔۔ جمیل مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔!”

۱۰​

نواب جاوید مرزا کے یہاں رات کے کھانے کی میز پر عمران بھی تھا! شوکت کے علاوہ خاندان کے وہ سارے افراد موجود تھے جنہیں عمران پہلے بھی یہاں دیکھ چکا تھا! وہ کافی دیر سے سوچ رہا تھا کہ آخر شوکت کیوں غائب ہے! کھانے کے دوران میں جاوید مرزا کو اچانک اپنے والد مرحوم یاد آگئے اور عمران خوامخواہ بور ہو تا رہا لیکن اس نے کسی مصرع پر گرہ نہیں لگائی ہوسکتا ہے کہ وہ خود ہی بات بڑھانا نہ چاہتا رہا ہو!

خدا خدا کر کے والد صاحب کی داستان ختم ہوئی۔۔۔ پھر دادا صاحب کا بیان بھی چھڑنے والا ہی تھا کہ عمران بول پڑا “وہ صاحب! کیا نام ہے یعنی کہ سائنسدان صاحب نظر نہیں آتے۔۔۔!.

“شوکت!” جاوید مرزا بے دلی سے بڑبڑایا “وہ لیبارٹری میں جھک مار رہا ہو گا!”

“لاحول ولا قوۃ!” عمران نے اس طرح ہونٹ سکیڑے جیسے لیبارٹری میں ہونا اس کے نزدیک بڑی ذلیل بات ہو!۔۔۔

اس پر عرفان نے سائنسدانوں اور فلسفیوں کی بوکھلاہٹ کے لطیفے چھیڑ دیئے!۔۔۔ عمران اب بھی بوریت محسوس کرتا رہا! آج وہ کچھ کرنا چاہتا تھا! جیسے ہی عرفان کے لطیفوں کا اسٹاک ختم ہوا عمران بول پڑا۔ “آپ کی کوٹھی بہت شاندار ہے۔۔۔ پہاڑی علاقوں میں ایسی عظیم عمارتیں بنوانا آسان کام نہیں ہے۔۔۔!”

“میرا خیال ہے کہ آپ نے پوری کوٹھی نہیں دیکھی!” جاوید مرزا چہک کر بولا!

“جی نہیں!۔۔۔ ابھی تک نہیں!”

“اگر آپ کے پاس وقت ہو۔۔۔ تو۔۔۔!”

“ضرور۔۔۔ ضرور۔۔۔ میں ضرور د یکھوں گا!۔۔۔” عمران نے کہا۔ کھانے کے بعد انہوں نے لائبریری میں کافی پی۔۔۔ اور پھر جاوید مرزا عمران کو عمارت کے مختلف حصے دکھانے لگا!۔۔۔ اس تقریب میں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی شریک نہیں تھا! جاوید مرزا پر ایک بار پھر عظمت رفتہ کی بکواس کا دورہ پڑا۔ لیکن عمران نے اسے زیادہ نہیں بہکنے دیا!

“یہ آپ کے شوکت صاحب۔۔۔ کیا کسی ایجاد کی فکر میں ہیں!”

“ایجاد!” جاوید مرزا بڑبڑایا “ایجاد وہ کیا کرے گا! بس وقت اور پیسوں کی بربادی ہے! لیکن آخر آپ اس میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں!”

“وجہ ہے!۔۔۔”

“وجہ!” دفعتاً جاوید مرزا رک کر عمران کو گھورنے لگا!

“یقیناً آپ کو گراں گزرے گا!” عمران جلدی سے بولا “کیوں کہ آپ پرانے وقتوں کے لوگ ہیں! لیکن ہمارے طبقے پر جو برا وقت پڑا ہے اس سے آپ نا واقف نہ ہوں گے! اب ہم میں سے ہر ایک کو پرانی عظمت کو برقرار رکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا!”

“یعنی کیا کرنا پڑے گا۔۔۔!”

“میں نے ایک پروگرام بنایا ہے۔۔۔ شوکت صاحب سے کہئے کہ لیبارٹری میں محدود ہو کر سر کھپانا محض ذہنی عیاشی ہے!۔۔۔ باہر نکلیں اور اپنے طبقے کی عظمت برقرار رکھنے کے لئے کچھ کام کریں!”

“وہ کیا کرے گا!”

“مثلاً ایک ہزار ایکڑ زمین میں۔۔۔!”

“کاشت کاری!” جاوید مرزا جلدی سے بولا۔۔۔ “بکواس ہے؟”

“افسوس یہی تو آپ نہیں سمجھے! خیر میں خود ہی شوکت صاحب سے گفتگو کروں گا!۔۔۔ان کی لیبارٹری کہاں ہے!”

“آپ خوامخواہ اپنا وقت برباد کریں گے!” جاوید مرزا نے بے دلی سے کہا!۔۔۔ وہ شاید ابھی کچھ دیر اور عمران کو بور کرنا چاہتا تھا!

“نہیں جناب میں اسے ضروری سمجھتا ہوں۔ لیکن اگر وہ میری مدد کرسکیں۔۔۔ “جاوید مرزا نے کسی ملازم کو آواز دی اور عمران کا جملہ ادھورا رہ گیا۔۔۔!

پھر چند ہی لمحات کے بعد وہ اس ملازم کے ساتھ لیبارٹری کی طرف جا رہا تھا۔

لیبارٹری اصل عمارت سے تقریباً ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلہ پر ایک چھوٹی سی عمارت میں تھی۔ اس میں تین کمرے تھے! شوکت یہیں رہتا بھی تھا! عمران نے نوکر کو عمارت کے باہر ہی سے رخصت کردیا۔۔۔!

ظاہر ہے کہ وہ کس کام کے لئے یہاں آیا تھا! دروازے بند تھے اور وہ سب نیچے سے اوپر تک ٹھوس لکڑی کے تھے! ان میں شیشے نہیں تھے! کھڑکیاں تھیں۔۔۔ لیکن ان میں باہر کی طرف سلاخیں لگی ہوئی تھیں!۔۔۔ البتہ ان میں شیشے تھے اور وہ سب روشن نظر آرہی تھیں جس کا مطلب یہ تھا کہ کوئی اندر موجود ہے!۔۔۔ اس نے ایک کھڑکی کے شیشوں پر پل بھر کے لئے ایک سایہ سا دیکھا! ممکن ہے کہ وہ کسی کی متحرک پرچھائیں رہی ہو۔۔۔!

عمران اس کھڑکی کی طرف بڑھا۔۔۔

دوسرے ہی لمحے وہ عمارت کے اندر کے ایک کمرے کا حال بخوبی دیکھ سکتا تھا!۔۔۔ حقیقتاً وہ لیبارٹری ہی میں جھانک رہا تھا!۔۔۔ یہاں مختلف قسم کے آلات تھے! شوکت لوہے کی ایک انگیٹھی پر جھکا ہوا تھا! اس میں کوئلے دہک رہے تھے اور ان کا عکس شوکت کے چہرے پر پڑ رہا تھا!۔۔۔

عمران کو انگیٹھی سے دھواں اٹھتا نظر آ رہا تھا!۔۔۔۔ اور وہ شاید گوشت ہی کے جلنے کی بو تھی جو لیبارٹری کی حدود سے نکل کر باہر بھی پھیل گئی تھی۔۔۔!

شوکت چند لمحے انگیٹھی پر جھکا رہا پھر سیدھا کھڑا ہوگیا!

اب وہ قریب ہی کی میز پر رکھے ہوئے دفتی کے ایک ڈبے کی طرف دیکھ رہا تھا!

پھر اس نے اسی میں ہاتھ ڈال کر جو چیز نکالی وہ کم از کم عمران کے خواب و خیال میں بھی نہ رہی ہوگی!۔۔۔ ظاہر ہے کہ وہ کسی فوری کامیابی کی توقع لے کر تو یہاں آیا نہیں تھا!۔۔۔

شوکت کے ہاتھ میں ایک ننھا سا نیلے رنگ کا پرندہ تھا۔۔۔ اور شاید وہ زندہ نہیں تھا۔۔۔ وہ چند لمحے اس کی ایک ٹانگ پکڑ کر لٹکائے اسے بغور دیکھتا رہا پھر عمران نے اسے دہکتے ہوئے انگاروں پر گرتے دیکھا۔!۔۔۔ ایک بار پھر انگیٹھی سے گہرا دھواں اٹھ کر خلا میں بل کھانے لگا۔۔۔ شوکت نے مزید دو پرندے اس ڈبے سے نکالے اور انہیں بھی انگیٹھی میں جھونک کر سگریٹ سلگانے لگا!

عمران بے حس و حرکت کھڑا رہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب اسے کیا کرنا چاہئے! ویسے وہ اب بھی قانونی طور پر اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرسکتا تھا!۔۔۔

عمران سوچنے لگا! کاش کہ ان میں سے ایک ہی پرندہ اس کے ہاتھ لگ سکتا! مگر اب وہاں کیا تھا!۔۔۔ ایک بات اس کی سمجھ میں نہ آسکی! مردہ پرندے! ان کے جلائے جانے کا مقصد تو یہی ہوسکتا تھا کہ وہ انہیں اس شکل میں بھی کسی دوسرے کے قبضے میں نہیں جانے دینا چاہتا! یعنی ان مردہ پرندوں سے بھی جمیل والے واقعے پر روشنی پڑ سکتی تھی!

عمران لیبارٹری کی تلاشی لینے کے لئے بے چین تھا!۔۔۔ لیکن! وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو اس پر ذرہ برابر بھی شک ہوسکے کیونکہ یہ ایک ایسا کیس تھا جس میں مجرم کے خلاف ثبوت بہم پہنچانے کے سلسلے میں کافی کد و کش کی ضرورت تھی۔۔۔ اور مجرم کا ہوشیار ہو جانا یقیناً دشواریوں کا باعث بن سکتا تھا!۔۔۔

شوکت انگیٹھی کے پاس سے ہٹ کر ایک میز کی دراز کھول رہا تھا! دراز مقفل تھی! اس نے اس میں سے ایک ریوالور نکال کر اس کے چیمبر بھرے اور جیب میں ڈال لیا! انداز سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ کہیں باہر جانے کی تیاری کر رہا ہے! پھر وہ اس کمرے سے چلا گیا!

عمران کھڑکی کے پاس سے ہٹ کر ایک درخت کے تنے کی اوٹ میں ہوگیا! جلد ہی اس نے کسی دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز سنی۔ پھر سناٹے میں قدموں کی آہٹیں گونجنے لگیں۔ آہستہ آہستہ یہ آوازیں بھی دور ہوتی گئیں اور پھر سناٹا چھا گیا!

عمران تنے کی اوٹ سے نکل کر سیدھا صدر دروازے کی طرف آیا! اسے توقع تھی کہ وہ مقفل ہوگا!۔۔۔ لیکن ایسا نہیں تھا! ہاتھ لگاتے ہی دونوں پٹ پیچھے کی طرف کھسک گئے۔۔۔!

عمران ایک لحظہ کے لئے رکا!۔۔۔ دروازہ غیر مقفل ہونے کا مطلب یہ تھا کہ شوکت زیادہ دور نہیں گیا! ہوسکتا تھا کہ وہ رات کے کھانے کے لئے صرف کوٹھی ہی تک گیا ہو! مگر وہ ریوالور۔۔۔ آخر صرف کوٹھی تک جانے کے لئے ریوالور ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت تھی! عمران نے اپنے سر کو خفیف سی جنبش دی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو اس وقت اس چھوٹی سی عمارت کی تلاشی ضرور لی جائے گی!

اس نے جیب سے ایک سیاہ نقاب نکال کر اپنے چہرے پر چڑھا لیا! ایسے مواقع پر وہ عموماً یہی کیا کرتا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ کسی سے مڈھ بھیڑ ہو جانے کے باوجود بھی وہ نہ پہچانا جاسکے۔

یہاں سے آتے وقت اس نے جاوید مرزا کے نوکر سے شوکت کے عادات و اطوار کے متعلق بہت کچھ معلوم کر لیا تھا۔۔۔ شوکت یہاں تنہا رہتا تھا۔۔۔ اور اس کی لیبارٹری اسسٹنٹ کیے علاوہ بغیر اجازت کوئی وہاں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ خواہ وہ خاندان ہی کا کوئی فرد کیوں نہ!۔۔۔ فی الحال اس کا لیبارٹری اسسٹنٹ جیل میں تھا! لہٰذا شوکت کے علاوہ وہاں کسی اور کی موجودگی ناممکنات میں سے تھی۔ لیکن عمران نے اس کے باوجود بھی احتیاطا نقاب استعمال کیا تھا وہ اندر داخل ہوا۔۔۔ عمارت میں چاروں طرف گہری تاریکی تھی!۔۔۔ لیکن عمران سے روشنی کرنے کی حماقت سرزد نہیں ہوئی۔۔۔و ہ دیکھ بھال کے لئے ننھی سی ٹارچ استعمال کر رہا تھا۔ جس کی روشنی محدود تھی!

دس منٹ گذر گئے! لیکن کوئی ایسی چیز ہاتھ نہ لگی جسے شوکت کے خلاف بطور ثبوت استعمال کیا جاسکتا!

دو کمروں کی تلاشی لینے کے بعد وہ لیبارٹری میں داخل ہوا یہاں بھی اندھیرا تھا! لیکن انگیٹھی میں اب بھی کوئلے دہک رہے تھے۔۔۔

عمران نے سب سے پہلے دفتی کے اس ڈبے کا جائزہ لیا جس میں سے مردہ پرندے نکال نکال کر انگیٹھی میں ڈالے گئے تھے! مگر ڈبہ اب خالی تھا!

عمران دوسری طرف متوجہ ہوا۔

“خبردار!” اچانک اس نے اندھیرے میں شوکت کی آواز سنی! “تم جو کوئی بھی ہو اپنے ہاتھ اوپر اٹھا لو۔۔۔”

مگر اس کا جملہ پورا ہونے سے قبل ہی عمران کی ٹارچ بجھ چکی تھی! وہ جھپٹ کر ایک الماری کے پچھے ہوگیا!۔۔۔

“خبردار۔ خبردار۔۔۔” شوکت کہہ رہا تھا” ریوالور کا رخ دروازے کی طرف ہے۔ تم بھاگ نہیں سکتے!”

عمران نے اندازہ کر لیا کہ شوکت آہستہ آہستہ سوئچ بورڈ کی طرف جا رہا ہے۔۔۔ اگر اس نے روشنی کردی تو؟۔۔۔ اس خیال نے عمران کے جسم میں برق کی سی سرعت بھر دی اور وہ تیزی سے بے آواز چلتا ہوا دروازے کے قریب پہنچ گیا! اسے شوکت کی حماقت پر ہنسی بھی آرہی تھی۔ اول تو اتنا اندھیرا تھا کہ وہ اسے دیکھ نہیں سکتا تھا! دوم اسی کمرے میں اکیلا ایک وہی دروازہ نہیں تھا۔۔۔ لیکن عمران نے اسی دروازے کو راہ فرار بنایا جس کی طرف شوکت نے اشارہ کیا تھا! وہ نہایت آسانمی سے عمارت سے باہر نکل آیا اور پھر تیزی سے کوٹھی کی طرف جاتے وقت اس نے مڑ کر دیکھا تو لیبارٹری والی عمارت کی ساری کھڑکیاں روشن ہو چکی تھیں!

۱۱​

روشی نے تحیر آمیز انداز میں عمران کی طرف دیکھا۔

“ہاں میں ٹھیک کہہ رہا ہوں!” عمران نے سر ہلا کر کہا “پچھلی رات شوکت نے مجھے دھوکہ دیا تھا۔۔۔ شاید اسے کسی طرح علم ہو گیا تھا کہ میں کھڑکی سے جھانک رہا ہوں!۔۔۔”

“ریوالور تھا اس کے پاس!”

“ہاں! لیکن اس کی کوئی اہمیت نہیں! ہو سکتا ہے کہ وہ اس کا لائسنس بھی رکھتا ہو!”

“اور وہ پرندے نیلے ہی تھے!”

“سو فیصدی!” عمران نے کہا! کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا “تم پچھلی رات کہاں غائب رہیں!”

“میں اسی آدمی سلیم کے چکر میں رہی تھی!”

“ہائیں روشی! تم سچ مچ سراغرساں ہوتی جا رہی ہو!۔۔۔ بہت خوب!۔۔۔ ہاں تو پھر۔۔۔ تم نے غالباً۔۔۔”

“ٹھہرو! بتاتی ہوں!۔۔۔ میں نے اس کے متعلق بہتری معلومات حاصل کی ہیں!”

“شروع ہو جاؤ!”

“اس کے بعض اعزہ نے اس کی ضمانت لینی چاہی تھی! لیکن اس نے اسے منظور نہیں کیا تھا! اس پر خود پولیس کو حیرت ہے!”

“اس سے اس کی وجہ ضرور پوچھی گئی ہوگی!”

“ہاں! ہاں۔ لیکن اس کا جواب کچھ ایسا ہے جو کسی فلم یا اخلاقی قسم کے ناول کا موضوع بن کر زیادہ دلچسپ ثابت ہو سکتا ہے!”

“یعنی۔۔۔!”

“وہ کہتا ہے کہ میں اپنا مکروہ چہرہ کسی کو نہیں دکھانا چاہتا! میں نے ایک ایسے مالک کو دھوکا دیا ہے جو انتہائی نیک، شریف اور مہربان تھا! میں نہیں چاہتا کہ اب کبھی اس کا سامنا ہو۔ میں جیل کی کوٹھڑی میں مر جانا پسند کروں گا!”

“اچھا!” عمران احمقوں کی طرح آنکھیں پھاڑ کر رہ گیا۔!

“میں نہیں سمجھ سکتی کہ بیسویں صدی میں بھی اتنے حساس آدمی پائے جاتے ہوں گے! ظاہر ہے جو اتنا حساس ہو گا وہ چوری ہی کیوں کرنے لگا۔۔۔! ویسے اس کے جاننے والوں میں یہ خیال عام ہے کہ وہ ایک بہت اچھا آدمی ہے اور اس سے چوری جیسا فعل سرزد ہونا ناممکنات میں سے نہیں۔۔۔! مگر دوسری طرف وہ خود ہی اعتراف جرم کرتا ہے!”

“تو پھر اس کے جاننے والوں میں کئی طرح کے خیالات پائے جاتے ہوں گے!”

“ہاں میں نے بھی یہی محسوس کیا ہے!” روشی سر ہلا کر بولی “کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ محض کسی قسم کا ڈرامہ ہے۔”

“لیکن کس قسم کا! اس کے مقصد پر بھی کسی نے روشنی ڈالی یا نہیں!”

“نہیں اس کے بارے میں کسی نے کچھ نہیں کہا!”

عمران کچھ سوچنے لگا!۔ پھر اس نے کہا “معاملات کافی پیچیدہ ہیں!”

“پیچیدہ نہیں بلکہ مضحکہ خیز کہو!” روشی مسکرا کر بولی “سلیم شوکت کا ملازم تھا! اگر شوکت کو اصل مجرم سمجھ لیا جائے تو سلیم کے جیل جانے کا واقعہ قطعی بے مقصد ہوا جاتا ہے!”

“کسی حد تک تمہارا خیال بالکل درست ہے!”

“کسی حد تک کیا! بالکل درست ہے!” روشی بولی!

“نہیں اس پر بالکل کی چھاپ لگانا ٹھیک نہیں!” عمران کچھ سوچتا ہوا بولا!

“اچھا پھر تم ہی بتاؤ کہ اسے جیل کیوں بھجوایا گیا۔۔۔!”

“ہوسکتا ہے کہ اس نے سچ مچ چوری کی ہو!”

“اوہو! کیا تمہیں وہ گفتگو یاد نہیں جو جیل میں میرے اور اس کے درمیان ہوئی تھی!”

“مجھے اچھی طرح یاد ہے!”

“پھر!”

“پھر کچھ بھی نہیں! مجھے سوچنے دو! ہاں ٹھیک ہے اسے یوں ہی سمجھو! فرض کرو کہ سلیم شوکت کے جرم سے واقف ہے اسی لئے وہ اس پر چوری کا الزام لگا کر اسے جیل بھجوا دیتا ہے!”

“اگر یہی بات ہے!” روشی جلدی سے بولی “تو وہ نہایت آسانی سے شوکت کے جرم کا راز فاش کرسکتا تھا! عدالت کو بتا سکتا تھا کہ اسے کس لئے جیل بھجوایا گیا ہے!”

“واہ۔۔۔ ہا!” عمران ہاتھ نچا کر بولا “تم بالکل بدھو ہو!۔۔۔ عدالت میں شوکت بھی یہی کہہ سکتا تھا کہ وہ اپنی گردن بچانے کے لئے اس پر جھوٹا الزام عائد کر رہا ہے۔۔۔ آخر اس نے گرفتار ہونے سے قبل ہی اس کے جرم سے پولیس کو کیوں نہیں مطلع کیا۔۔۔ واضح رہے کہ سلیم کی گرفتاری جمیل والے واقعے کے تین بعد عمل میں آئی تھی!”

“چلو میں اسے مانے لیتی ہوں!” روشی نے کہا “سلیم نے مجھ سے یہ کیوں کہا تھا کہ تم مجھ کو غصہ نہیں دلا سکتیں!”

“تم خاموشی سے میری بات سنتی جاؤ!” عمران جھنجھلا کر بولا “بات ختم ہونے سے پہلے نہ ٹوکا کرو۔۔۔ میں تمہیں سلیم کے ان الفاظ کا مطلب بھی سمجھا دوں گا اور اسی روشنی میں کہ شوکت ہی مجرم ہے ویسے میری گفتگو کا ماحصل ہو گا کہ سلیم شوکت سے بھی زیادہ گھاگ ہے! فرض کرو، سلیم نے سوچا ہو کہ وہ جیل ہی میں زیادہ محفوظ رہ سکے گا! ورنہ ہو سکتا ہے کہ شوکت اپنا جرم چھپانے کے لئے اسے قتل ہی کرا دے! شوکت نے اسے اس توقع پر ہی چوری کے الزام میں جیل بھجوا دیا ہو گا کہ وہ اس کا راز ضرور اگل دے گا! لیکن خود بھی ماخوذ ہونے کی بنا پر عدالت کو اس کا یقین دلانے میں کامیاب نہ ہو گا! شوکت کے پاس اس صورت میں سب سے بڑا عذر یا اعتراض یہی ہو گا کہ اس نے گرفتار ہونے سے تین دن قبل پولیس کو اس سے مطلع کیوں نہیں کیا!”

“میں سمجھ گئی۔۔۔ لیکن سلیم کے وہ جملے۔۔۔!” روشی نے پھر ٹوکا!

“ارے خدا تمہیں غارت کرے۔۔۔ سلیم کے جملوں کی ایسی کی تیسی۔۔۔ میں خود پھانسی پر چڑھ جاؤں گا! تمہارا گلا گھونٹ کر۔۔۔! ہاں۔۔۔ مجھے بات پوری کرنے دو۔ روشی کی بچی!”

روشی ہنس پڑی! عمران نے کچھ اسی قسم کے مضحکہ خیز انداز میں جھلاہٹ ظاہر کی تھی۔۔۔!

“ارے اس بندوق کے پٹھے نے بالکل خاموشی اختیار کر لی۔۔۔ یعنی شوکت کے جرم کا معاملہ بالکل ہی گھونٹ کر اپنے جرم کا اعتراف کر لیا!۔۔۔ اب تم خود سوچو شیطان کی خالہ کہ شوکت پر

اس کا کیا رد عمل ہوا ہو گا!۔۔۔ ظاہر ہے اس نے یہ ضرور چاہا ہو گا کہ شوکت پر اس کا کیا رد عمل ہوا ہو گا!۔۔۔ ظاہر ہے کہ اس نے یہ ضرور چاہا ہو گا کہ وہ سلیم کے اس روئیے کی وجہ معلوم کرے۔۔۔ اور دوسری طرف سلیم نے بھی یہی سوچا ہو گا کہ شوکت اس کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔۔۔ پھر تم وہیں جا پہنچیں! سلیم سمجھا کہ شوکت ہی کی طرف سے اس کی ٹوہ میں آئی ہو! لہٰذا اس نے تمہیں اڑن گھائیاں بتائیں اور یہاں تک کہہ دیا کہ تم اسے غصہ دلا کر بھی اصلیت نہیں اگلوا سکتیں۔۔۔! ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنی دانست میں شوکت کو اور زیادہ خوفزدہ کرنے کے لئے تم اس سے قسم کی گفتگو کی ہو!”

“مگر!”

“مگر کی بچی! اب اگر تم نے کوئی نکتہ نکالا تو میں ایک بوتل کوکا کولا پی کر ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جاؤں گا۔”

“تمہارا نظریہ غلط بھی ہوسکتا ہے!” روشی نے سنجیدگی سے کہا!

“نائیں۔۔۔ میں شرلاک ہومز ہوں!” عمران حلق پھاڑ کر چیخا۔ “مجھ سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہوسکتی!۔۔۔ میں جوتے کا چمڑا دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ کبوتر کی کھال ہے یا مینڈک کی کھال کا ہے۔۔۔! ابھی مجھے ڈاکٹر واٹسن جیسا کوئی چغد نہیں ملا یہی وجہ ہے کہ میں تیزی سے ترقی نہیں کرسکتا!۔۔۔”

“اچھا فرض کرو اگر پیر یٰسین نائٹ کلب کے مینجر ہی کی بات سچ ہو تو!”

“مجھے بڑی خوشی ہو گی! خدا ہر ایک کو سچ بولنے کی توفیق عطا کرے!”

“مجھ سے بے تکی باتیں نہ کیا کرو!” روشی جھلا گئی!

“اے۔۔۔ روشی تم اپنا لہجہ ٹھیک کرو! میں تمہارا شوہر نہیں ہوں۔۔۔ ہاں!”

“تمہیں شوہر بنانے والی کسی گدھی ہی کے پیٹ سے پیدا ہو گی!”

“خبردار اگر تم نے گدھی کی شان میں کوئی نازیبا کلمہ منہ سے نکالا!” عمران گرج کر بولا اور روشی برا سا منہ بنائے ہوئے کمرے سے نکل گئی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: