Neelay Parinday By Ibn-e-safi – Episode 5

0
نیلے پرندے ​از ابن صفی – قسط نمبر 5

–**–**–

۱۲​

عمران کا ایک ایک لمحہ مصروفیت میں گزر رہا تھا! اس کی دانست میں مجرم اس کے سامنے موجود تھا۔ بس اب اس کے خلاف ایسے ثبوت مہیا کرنا باقی رہ گیا تھا جنہیں عدالت میں پیش کیا جاسکے۔

اس نے شوکت کے پاس مردہ پرندے دیکھے تھے! جنہیں وہ آگ میں جلا رہا تھا۔۔۔ بعض اوقات مختلف حالات کی ظاہری یکسانیت دھوکا بھی دے جاتی ہے! لہٰذا عمران نے شوکت کے حق میں بھی بہتیرے نظریات قائم کئے! لیکن خود بخود ان کی تردید ہوتی چلی گئی۔

پروین شوکت کی چچا زاد بہن تھی اور نواب جاوید مرزا کی اکلوتی بیٹی! ظاہر ہے کہ اس کی جائیداد کی مالک وہی ہوتی! شوکت بھی کبھی صاحب جائیداد تھا لیکن اس کی جائیداد سائنٹفک تجربات کی نذر ہو گئی تھی۔۔۔

لہٰذا وہ دوبارہ اپنی مالی حالت درست کرنے کے لئے پروین سے شادی کے خواب دیکھ سکتا تھا۔ عمران نے اپنا یہ خیال کیپٹن فیاض پر ظاہر کیا جسے اس نے تار دے کر خاص طور پر سے سردار گڈھ بلایا تھا!

“مگر! عمران!” فیاض نے کہا “یہ ضروری تو نہیں کہ پروین کی شادی اس واقعے کے بعد شوکت ہی سے ہو جائے! اگر جاوید مرزا کو اس کی شادی اپنے بھتیجوں کے ہی میں سے کسی کے ساتھ کرنی ہوتی تو بات جمیل تک کیسے پہنچتی!”

“اعتراض ٹھیک ہے!” عمران بولا “لیکن اس صورت میں میرے قائم کردہ نظرئیے کو دوسرے دلائل سے بھی تقویت پہنچ سکتی ہے۔ نظریہ بدستور وہی رہے گا لیکن دلائل۔۔۔”

“اچھا مجھ بتاؤ۔۔۔ اب تم کیا دلیل رکھتے ہو!”

“انسانی فطرت کی روشنی میں اسے دیکھنے کی کوشش کرو! ہم سب ذاتی آسودگی چاہتے ہیں۔ ہر معاملے میں! لیکن حالات کے ساتھ ہی آسودگی حاصل کرنے کا طریق کار بھی بدلتا رہتا ہے۔۔۔! شوکت کو پروین سے شادی کرلینے پر بھی آسودگی حاصل ہو سکتی ہے اور شادی نہ ہونے کی صورت میں اپنے انتقامی جذبے کو بے لگام چھوڑ دینے سے بھی اسی قسم کی آسودگی حاصل ہو سکتی ہے! یعنی اگر وہ انتقاما پروین کے ہر منگیتر کا چہرہ بگاڑتا رہے۔ تب بھی اسے اتنا ہی سکون ملے گا جتنا پروین سے شادی ہو جانے پر حاصل ہو سکتا ہے!”

فیاض چند لمحے سوچتا رہا پھر آہستہ سے بولا “تم ٹھیک کہتے ہو!”

“میں جھک مار رہا ہوں۔۔۔۔ اور تم بالکل گدھے ہو!” دفعتاً عمران کا موڈ بگڑ گیا!

“کیا؟” فیاض اسے متحیرانہ انداز میں گھورنے لگا!

“کچھ نہیں میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم اس محکمے کے لئے مناسب نہیں ہو! استعفٰی دے کر میری فرم میں ملازمت کرو! فی طلاق کے حساب سے کمیشن الگ۔۔۔ یعنی اس سے اور تنخواہ سے کوئی مطلب نہ ہوگا!”

“عمران پیارے کام کی بات کرو!” فیاض بڑی لجاجت سے بولا “میں چاہتا ہوں کہ تم اس معاملے کو جلد سے جلد نپٹا کر واپس چلو۔۔۔ وہاں بھی کئی مصیبتیں تمہاری منتظر ہیں!”

“ہائیں! کہیں میری شادی تو نہیں طے کردی۔۔۔!”

“ختم کرو!” فیاض ہاتھ اٹھا کر بولا “شوکت والے نظرئیے کے علاوہ کسی اور کا بھی امکان ہے یا نہیں۔۔۔!”

“ہے کیوں نہیں! یہ حرکت جمیل کے چچا یا ماموں کی بھی ہو سکتی ہے!”

“ہاں! ہو سکتا ہے! مگر میں اس پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں!”

“محض اس لئے کہ سجاد سے تمہارے دوستانہ تعلقات ہیں! کیوں؟”

“نہیں! یہ بات نہیں! ان میں سے ہر ایک میرے لئے ایک کھلی ہوئی کتاب ہے! ان میں کوئی بھی اتنا ذہین نہیں ہے۔۔۔”

“خیر مجھے اس سے بحث نہیں ہے۔۔۔! میں نے جس کام کے لئے بلایا ہے اسے سنو!” عمران نے کہا اور پھر خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا!

تھوڑی دیر بعد پھر بولا “سلیم کا قصہ سن ہی چکے ہو! میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح اسے جیل سے باہر لایا جائے!”

“بھلا یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔!”

“کوئی صورت نکالو۔۔۔!”

“آخر اس سے کیا ہوگا!”

“بچہ ہوگا اور تمہیں ماموں کہے گا!” عمران جھلا کر بولا!

“ناممکن ہے۔۔۔۔ یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا!”

“بچہ!” عمران نے پوچھا!

“بکو مت! میں سلیم کی رہائی کے متعلق کہہ رہا ہوں! وہ چوری کے جرم میں ماخوذ ہے! اسے قانون کے سپرد کرنے والا شوکت ہے! جب تک کہ وہ خود کو عدالت سے اس کی رہائی کی درخواست نہ کرے ایسا نہیں ہوسکتا!”

“میں بھی اتنا جانتا ہوں!”

“اس کے باوجود بھی اس قسم کے احمقانہ خیالات رکھتے ہو!”

“اگر وہ رہا نہیں ہوسکتا تو پھر اصل مجرم کا ہاتھ آنا محال ہے!”

“آخر شوکت کے خلاف ثبوت کیوں نہیں مہیا کرتے۔۔۔!”

“مجھے یہ سب بنڈل معلوم ہوتا ہے!۔۔۔ خصوصاً پرندوں کی کہانی!”

“پھر شوکت ان مردہ پرندوں کو آگ میں کیوں جلا رہا تھا!” فیاض نے کہا!

“وہ جھک مار رہا تھا! اسے جہنم میں ڈالو! لیکن کیا تم کسی ایسے پرندے کے وجود پر یقین رکھتے ہو جس کے چونچ مارنے سے آدمی مبروص ہو جائے؟ اور اس کے جسم میں ایسے جراثیم پائے جائیں جو ساری دنیا کے لئے بالکل نئے ہوں! ظاہر ہے کہ سفید داغوں کی وجہ وہی جراثیم ہیں!”

“ممکن ہے کسی سائنٹفک طریقہ سے ان پرندوں میں اس قسم کے اثرات پیدا کئے گئے ہوں!”

“اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ یعنی تم بھی یہی سمجھتے ہو! اس کا یہ مطلب ہو اکہ ہر آدمی کسی ایسے سائنٹفک طریقوں کے متعلق سوچ سکتا ہے! تو گویا شوکت بالکل بدھو ہے اس نے دیدہ دانستہ اپنی گردن پھنسوائی ہے! سارا سردار گڈھ اس بات سے واقف ہے کہ شوکت ایک ذہین سائنسدان ہے اور جراثیم اس کا خاص موضوع ہیں!”

“پھر وہ مردہ پرندے۔۔۔!”

“میں کہتا ہوں کہ اس بات کو ختم ہی کردو تو اچھا ہے! سلیم کی رہائی کے متعلق سوچو!”

“وہ ایسا ہے جیسے مچھر کے بطن سے ہاتھی کی پیدائش کے متعلق سوچنا!”

“تب پھر اصل مجرم کا ہاتھ آنا بھی مشکل ہے۔۔۔۔ اور میں اپنا بستر گول کرتا ہوں!”

“تم خود ہی کوئی تدبیر کیوں نہیں سوچتے!” فیاض جھنجھلا کر بولا۔

“میں سوچ چکا ہوں!”

“تو پھر کیوں جھک مار رہے ہو! مجھے بتاؤ کیا سوچا ہے!”

Read More:  Purisrar Cheekhain by Ibn e Safi – Episode 3

“اس کے کسی عزیز کو ضمانت کے لئے تیار کراؤ!”

“مگر وہ ضمانت پر رہا ہونے سے انکار کرتا ہے!”

“اس کے انکار سے کیا ہوتا ہے۔۔۔! مٰں اسے عدالت میں جھکی ثابت کرا دوں گا اور پھر اسے اس بات کی اطلاع دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ اس کی ضمانت ہونے والی ہے اتنا تو تم کر ہی سکو گے کہ جیل سے عدالت لانے سے قبل اس پر یہ ظاہر کیا جائے کہ مقدمے کی پیشی کے سلسلے میں اسے لے جایا جا رہا ہے!”

“ہاں یہ ہو سکتا ہے!”

“ہو نہیں سکتا بلکہ اسے کل تک ہو جانا چاہیئے!” عمران نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا!

۱۳​

ضمانت ہو جانے کے بعد بھی سلیم عدالت سے نہیں ٹلا! اس کے چہرے پر سراسیمگی کے آثار تھے! وہ عدالت ہی کے ایک برآمدے میں مضطربانہ انداز میں ٹہل رہا تھا اور کبھی کبھی خوف زدہ آنکھوں سے ادھر اُدھر بھی دیکھ لیتا تھا!

عمران اس کے لئے بالکل اجنبی تھا! اس لئے اس سے بہت قریب رہ کر بھی اس کی حالت کا مشاہدہ کر سکتا تھا!

شام ہو گئی اور سلیم وہیں ٹہلتا رہا! جس نے اس کی ضمانت دی تھی وہ ہتھ کڑیاں کھلنے سے پہلے ہی عدالت سے کھسک گیا تھا!

پھر وہ وقت بھی آیا جب سلیم اس برآمدے میں بالکل تنہا رہ گیا! عمران بھی اب وہاں سے ہٹ گیا تھا! لیکن اب وہ ایسی جگہ پر تھا جہاں سے وہ اس کی نگرانی بہ آسانی کر سکتا تھا! سلیکم کو شک کرنے کا موقعہ دئیے بغیر!

عدالت میں سناٹا چھا جانے کے بعد سلیم وہاں سے چل پڑا۔ عمران اس کا تعاقب کر رہا تھا۔ سلیم نے ٹیکسیوں کے اڈے پر پہنچ کر ایک ٹیکسی کی! عمران کی ٹو سیٹر بھی یہاں سے دور نہیں تھی!

بہرحال تعاقب جاری رہا! لیکن عمران محسوس کر رہا تھا کہ سلیم کی ٹیکسی یونہی بے مقصد شہر کی سڑکوں کے چکر کاٹ رہی ہے! پھر اندھیرا پھیلنے لگا! شاہراہیں بجلی کی روشنی سے دہکنے لگیں۔ عمران نے سلیم کا پیچھا نہیں چھوڑا وہ اپنا پٹرول پھونکتا رہا!

جیسے ہی اندھیرا کچھ اور گہرا ہوا آگلی ٹیکسی جیکسن روڈ پر دوڑنے لگی اور عمران نے جلد ہی اندازہ کرلیا کہ اس کا رخ نواب جاوید مرزا کی حویلی کی طرف ہے!

دونوں کاروں میں تقریباً چالیس گز کا فاصلہ تھا اور یہ فاصلہ اتنا کم تھا کہ سلیم کو تعاقب کا شبہ ضرور ہو سکتا تھا! ہو سکتا ہے کہ سلیم کو پہلے ہی شبہ ہو گیا ہو اور وہ ٹیکسی کو اسی لئے ادھر ادھر چکر کھلاتا رہا ہو!

جاوید مرزا کی حویلی سے تقریباً ایک فرلانگ ادھر ہی رک گئی! عمران نے صرف رفتار کم کر دی۔۔۔ کاری روکی نہیں اب وہ آہستہ آہستہ رینگ رہی تھی!

سڑک سنسان تھی۔ ٹیکسی واپسی کے لئے مڑی! عمران نے اسے راستہ دے دیا!

اپنی کار کی اگلی روشنی میں اس نے دیکھا کہ سلیم نے بے تحاشہ دوڑنا شروع کر دیا ہے! عمران نے رفتار کچھ تیز کر دی۔۔۔ اور ساتھ ہی اس نے جیب سے کوئی چیز نکال کر باہر سڑک پر پھینکی! ایک ہلکا سا دھماکہ ہوا اور سلیم دوڑتے دوڑتے گر پڑا لیکن پھر فورا ہی اٹھکر بھاگنے لگا!۔۔۔ پھر عمران نے اسے جاوید مرزا کے پائیں باغ میں چھلانگ لگاتے دیکھا۔۔۔!

عمران کی کار فراٹے بھرتی ہوئی آگے نکل گئی!۔۔۔ لیکن اب اس کی ساری روشنیاں بچھی ہوئی تھیں!

دو فرلانگ آگے جا کر عمران نے کار روکی اور اسے ایک بڑی چٹان کی اوٹ میں کھڑا کر دیا۔ اب وہ پیدل ہی پائیں باغ کے اس حصے کی طرف جا رہا تھا جہاں لیبارٹری والی عمارت واقع تھی! اچانک اس نے ایک فائر کی آواز سنی جو اسی طرف سے آئی تھی۔ جدھر لیبارٹری تھی! پھر دوسرا فائر ہوا اور ایک چیخ سناٹے کا سینہ چیرتی ہوئی تاریکی میں ڈوب گئی!۔۔۔ عمران نے پہلے تو دوڑنے کا ارادہ ترک کیا پھر رک گیا!۔۔۔ اب اس نے لیبارٹری کی طرف جانے کا ارادہ بھی ترک کر دیا تھا وہ جہاں تھا وہیں رکا رہا۔ جلد ہی اس نے کئی آدمیوں کے دوڑنے کی آوازیں سنیں۔ ان میں ہلکا سا شور بھی شامل تھا!۔۔۔ عمران کار کی طرف پلٹ گیا! اس کا ذہن بہت تیزی سے سوچ رہا تھا!

لیکن اچانک اس کے ذہن میں ایک نیا خیال پیدا ہوا! کیا وہ تنہائی میں بھی حماقتیں کرنے لگا ہے؟ کیا وہ حماقت نہیں تھی؟ اس نے فائروں کی آوازیں سنیں! اور وہ چیخ بھی کسی زخمی ہی کی چیخ معلوم ہوئی تھی! پھر آخر وہ کار کی طرف کیوں پلٹ آیا تھا۔۔۔ اسے آواز کی طرف بے تحاشہ دوڑنا چاہیئے تھا!۔۔۔

عمران نے اپنی کار سٹارٹ کی اور پھر سٹرک پر واپس آگیا!۔۔۔ کوٹھی کے قریب پہنچ کر اس نے کار پائیں باغ کی روش پر موڑ دی اور اسے سیدھا پورچ میں لیتا چلا گیا!

جاوید مرزا کوٹھی سے نکل کر پورچ میں آ رہا تھا۔ اس کی رفتار تیز تھی چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔۔۔ اور ہاتھ میں رائفل تھی!

“خیریت نواب صاحب!” عمران نے حیرت ظاہر کی!

“اوہ۔۔۔ سطوت جاہ۔۔۔ ادھر۔۔۔!” اس نے لیبارٹری کی سمت اشارہ کرکے کہا “کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔۔۔ دو فائر ہوئے تھے۔۔۔ چیخ۔۔۔ بھی۔۔۔ آؤ۔۔۔ آؤ۔۔۔!”

جاوید مرزا اس کا بازو پکڑ کر اسے بھی لیبارٹری کی طرف گھسیٹنے لگا!۔۔۔

کوٹھی کے سارے نوکر لیبارٹری کے قریب اکٹھا تھے! صفدر عرفان اور شوکت بھی وہاں موجود تھے! شوکت نے جاوید مرزا کو بتایا کہ وہ اندر تھا! اچانک اس نے فائروں کی آوازیں سنیں۔۔۔ پھر چیخ بھی سنائی دی۔۔۔ باہر نکلا تو اندھیرے میں کوئی بھاگتا ہوا دکھائی دیا! لیکن اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی وہ غائب ہو چکا تھا!۔۔۔

“اور۔۔۔ لاش!” جاوید مرزا نے پوچھا!

“ہم ابھی تک کسی کی لاش ہی تلاش کرتے رہے ہیں!” عرفان بولا۔

“لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی!”

“لاش!” عمران آہستہ سے بڑبڑا کر چاروں طرف دیکھنے لگا!

“تم اب یہاں تنہا نہیں رہو گے! سمجھے!” جاوید مرزا شوکت کے شانے جھنجھوڑ کر چیخا!

Read More:  Yeh Mamlay Dil Kay by Fizza Batool – Episode 2

شوکت کچھ نہ بولا! وہ عمران کو گھور رہا تھا!

“کوئی آسیبی خلل۔۔۔ میرا دعوٰی ہے۔۔۔! عمران مکا ہلا کر رہ گیا!

“آپ اس وقت یہاں کیسے!” شوکت نے اس سے پوچھا۔۔۔!

“شوکت تمہیں بات کرنے کی تمیز کب آئے گی!” جاوید مرزا نے جھلائے ہوئے لہجہ میں کہا اور عمران ہنسنے لگا۔۔۔ اچانک اس کے داہنے گال پر دو تین گرم گرم بوندیں پھسل کر رہ گئیں اور عمران اوپر کی طرف دیکھنے لگا! پھر گال پر ہاتھ پھیر کر جیب سے ٹارچ نکالی! انگلیاں کسی رقیق چیز سے چپچپانے لگی تھیں۔

ٹارچ کی روشنی میں اسے اپنی انگلیوں پر خون نظر آیا۔۔۔۔ تازہ خون!۔۔۔ سب اپنی اپنی باتوں میں محو تھے! کسی کی توجہ عمران کی طرف نہیں تھی!۔۔۔

عمران نے ایک بار پھر اوپر کی طرف دیکھا! وہ ایک درخت کے نیچے تھا اور درخت کا اوپری حصہ تاریکی میں گم تھا!

“لیکن۔۔۔ ہمیں یہاں کسی کے جوتے ملے ہیں!” صفدر کہہ رہا تھا!

“شاید بھاگنے والا اپنے جوتے چھوڑ گیا ہے۔”

اس نے درخت کے تنے کی طرف روشنی ڈالی!۔۔۔ جوتے سچ مچ موجود تھے! عمران آگے بڑھ کر انہیں دیکھنے لگا! لیکن صفدر نے ٹارچ بجھا دی! اور عمران کو اپنی ٹارچ روشن کرنی پڑی!

“ختم کرو! یہ قصہ! چلو یہاں سے!” جاوید مرزا نے کہا۔

“شوکت میں تم سے خاص طور پر کہہ رہا ہوں کہ تم اب یہاں نہیں رہو گے!”

“میرے لے کوئی خطرہ نہیں ہے!” شوکت بولا!

“ہے کیوں نہیں!” عمران بول پڑا۔ “میں بھی آپ کو یہی مشورہ دوں گا!”

“میں نے آپ سے مشورہ نہیں طلب کیا!”

“اس کی پروا نہ کیجئے! میں بلا معاوضہ مشورہ دیتا ہوں!” عمران نے کہا اور پھر بلند آواز میں بولا “میں اسے بھی مشورہ دیتا ہوں جو درخت پر موجود ہے۔۔۔ اسے چاہیے کہ وہ نیچے اتر آئے۔۔۔ وہ زخمی ہے۔۔۔ آؤ۔۔۔ آجاؤ نیچے۔۔۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تم مسلح نہیں ہو۔۔۔۔ اور یہاں سب تمہارے دوست۔۔۔ ہیں۔۔۔ آجاؤ نیچے!”

“ارے، ارے، تمہیں کیا ہو گیا ہے سطوت جاہ!” جاوید مرزا نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔

اچانک عمران نے اپنی ٹارچ کا رخ اوپر کی طرف کر دیا۔

“میں سلیم ہوں!” اوپر سے ایک بھرائی ہوئی سی آواز آئی۔

“حکیم ہو یا ڈاکٹر! اس کی پروا نہ کرو! بس نیچے آ جاؤ!” سناٹے میں صرف عمران کی آواز گونجی بقیہ لوگوں کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا!

درخت پر بیک وقت کئی ٹارچوں کی روشنیاں پڑ رہی تھیں!۔۔ لیکن عمران کی نظر شوکت کے چہرے پر تھی! شوکت دفعتاً برسوں کا بیمار نظر آنے لگا!

سلیم شاخوں سے اترتا ہوا تنے کے سرے پر پہنچ چکا تھا! اچانک اس نے کراہ کر کہا۔۔۔ “میں گرا۔۔۔ مجھے بچاؤ۔۔۔۔!”

ایک ہی چھلانگ میں عمران تنے کے قریب پہنچ گیا!

“چلے آؤ۔۔۔ چلے آؤ۔۔۔ خود کو سنبھالو۔۔۔۔ اچھا۔۔۔ میں ہاتھ بڑھاتا ہوں اپنے پیر نیچے لٹکا دو!” عمران نے کہا!

جاوید مرزا وغیرہ اس کی مدد کو پہنچ گئے کسی نہ کسی طرح سلیم کو نیچے اتارا گیا!۔۔۔ اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے! اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا “میرے داہنے بازو پر گولی لگی ہے!”

“مگر تم تو جیل میں تھے۔۔۔!” جاوید مرزا بولا!

“جج۔۔۔ جی ہاں میں تھا!” سلیم آگے پیچھے جھولتا ہوا زمین پر گر گیا۔ وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔

۱۴​

وہ لوگ بے ہوش سلیم کو کوٹھی کی طرف لے جا چکے تھے اور اب لیبارٹری کی عمارت کے قریب عمران کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا! وہ بھی ان کے ساتھ تھوڑی دور تک گیا تھا! لیکن پھر ان کی بے خبری میں لیبارٹری کی طرف پلٹ آیا تھا! ان سب کے ذہن الجھے ہوئے تھے اور کسی کو اس کا ہوش نہیں تھا کہ کون کہاں رہ گیا!۔۔۔ البتہ نواب جاوید مرزا شوکت کو وہاں سے کھینچتا ہوا لے گیا تھا!

لیبارٹری والی عمارت کا دروازہ کھلا ہوا تھا!۔۔۔ عمران اندر گھس گیا!۔۔۔ اس کی ٹارچ روشن تھی! اندر گھستے ہی جس چیز پر سب سے پہلے اس کی نظر پڑی وہ ایک ریوالور تھا۔ اس کا دستہ ہاتھی دانت کا تھا اور یہ سو فیصدی وہی ریوالور تھا جو عمران نے پچھلی رات شوکت کے ہاتھ میں دیکھا تھا۔ عمران نے جیب سے رومال نکالا اور اس سے اپنی انگلیاں ڈھکتے ہوئے ریوالور کو نال سے پکڑ کر اٹھا لیا۔۔۔ اور پھر وہ اسے اپنی ناک تک لے گیا! نال سے بارود کی بو آرہی تھی! صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اس سے کچھ ہی دیر قبل فائر کیا گیا ہے!۔۔۔ پھر عمران نے میگزین پر نظر ڈالی۔۔۔ دو چیمبر خالی تھے! اس نے اپنے سر کو خفیف سی جنبش دی۔۔۔۔ اور ریوالور کو بہت احتیاط سے رومال میں لپیٹ کر جیب میں ڈال لیا پھر وہ وہیں سے لوٹ آیا۔۔۔ آگے جانے کی ضرورت ہی نہیں تھی! اتنا ہی کافی تھا بلکہ کافی سے بھی زیادہ!۔۔۔۔

عمران کوٹھی کی طرف چل پڑا۔ اس کا ذہن خیالات میں الجھا ہوا تھا۔۔۔ یک بیک وہ رک گیا او ر پھر تیزی سے لیبارٹری کی عمارت کی طرف مڑ کر دوڑنے لگا!

“کون ہے! ٹھہرو!” اس نے پشت پر شوکت کی آواز سنی!۔۔۔ لیکن عمران رکا نہیں۔ برابر دوڑتا رہا۔۔۔ شوکت بھی غالباً اس کے پیچھے دوڑتا رہا تھا!

“ٹھہر جاؤ۔۔۔ ٹھہرو۔۔۔ ورنہ گولی مار دوں گا” شوکت پھر چیخا۔۔۔

عمران لیبارٹری کی عمارت کے گرد ایک چکر لگا کر جھاڑیوں میں گھس گیا اور شوکت کی سمجھ میں نہ آسکا کہ وہ کہاں غائب ہو گیا!

شوکت نے اب ٹارچ روشن کر لی تھی اور چاروں طرف اس کی روشنی ڈال رہا تھا۔

شوکت نے اب ٹارچ روشن کرلی تھی اور چاروں طرف اس کی روشنی ڈال رہا تھا!۔۔۔ لیکن اس نے جھاڑیوں میں گھسنے کی ہمت نہیں کی!

پھر عمران نے اسے عمارت کے اندر جاتے دیکھا! عمران ٹھیک عمارت کے دروازے کے سامنے والی جھاڑیوں میں تھا۔ اس نے شوکت کو دروازہ کھول کر ٹارچ کی روشنی میں کچھ تلاش کرتے دیکھا!۔۔۔

اب عمران شوکت کو وہیں چھوڑ کر خراماں خراماں کوٹھی کی طرف جا رہا تھا۔ اس نے ایک بار مڑ کر لیبارٹری کی عمارت پر نظر ڈالی۔۔۔ اب اس کی ساری کھڑکیوں میں روشنی نظر آرہی تھی!

Read More:  In Lamhon K Daman Main Novel By Mubashra Ansari – Episode 1

۱۵​

اس واقعہ کو تین دن گزر گئے! فیاض سردار گڈھ ہی میں مقیم تھا! عمران اس سے برابر کام لیتا رہا۔۔۔ لیکن اسے کچھ بتایا نہیں!۔۔۔ فیاض اس پر جھنجھلاتا رہا۔ اور اس وقت تو اسے اور زیادہ تاؤ آیا۔ جب عمران نے لیبارٹری کی راہداری میں پائے جانے والے ریوالور کے دستے پر انگلیوں کے نشانات کی اسٹڈی کا کام اس کے سپرد کیا!۔۔۔ عمران نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسٹڈی کے نتائج معلوم کرکے اسے سب کچھ بتا دے گا۔۔۔! مگر وہ اپنے وعدے پر قائم نہ رہا! ظاہر ہے کہ یہ غصہ دلانے والی بات ہی تھی!۔۔۔

فیاض واپس جانا چاہتا تھا مگر عمران نے اسے روکے رکھا مجبوراً فیاض کو ایک ہفتے کی چھٹیاں لینی پڑی۔ کیوں کہ وہ سرکاری طور پر اس کیس پر نہیں تھا!۔۔۔

آج کل عمران سچ مچ پاگل نظر آرہا تھا!۔۔۔ کبھی ادھر کبھی ادھر۔۔۔ اور اپنے ساتھ فیاض کو بھی گھسیٹے پھرتا تھا۔۔۔!

ایک رات تو فیاض کے بھی ہاتھ پیر پھول گئے۔۔۔ ایک یا ڈیڑھ بجے ہوں گے! چاروں طرف سناٹے اور اندھیرے کی حکمرانی تھی۔۔۔ اور یہ دونوں پیدل سڑکیں ناپتے پھر رہے تھے۔۔۔! عمران کیا کرنا چاہتا تھا؟ یہ فیاض کو بھی معلوم نہیں تھا!۔۔۔

عمران ایک جگہ رک کر بولا!۔۔۔ “جمیل کی کوٹھی میں گھسنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے!”

“کیا مطلب!”

“مطلب یہ کہ چوروں کی طرح۔۔۔!”

“اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔۔۔!”

“کل رات! نواب جاوید مرزا کی کوٹھی میں میں نے ہی نقب لگائی تھی!۔۔۔ تم نے آج شام اخبارات میں اس کے متعلق پڑھا ہوگا!”

“تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا!”

“پہلے چلا تھا۔۔۔ درمیان میں رک گیا تھا! اب پھر چلنے لگا ہے۔۔۔ ہاں میں نے نقب لگائی تھی اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا!”

“کیوں لگائی تھی! بہت جلد معلوم ہو جائے گا! پروا نہ کرو، ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ جمیل کی کوٹھی!”

“بکواس مت کرو!” فیاض نے برا سا منہ بنا کر کہا “میں اس وقت بھی کوٹھی کھلوا سکتا ہوں! تم وہاں کیا دیکھنا چاہتے ہو!”

“وہ لڑکی۔۔۔ سعیدہ ہے ناا۔۔۔ میں بس اس کا روئے زیبا دیکھ کر واپس آجاؤں گا۔ تم فکر نہ کرو۔ اس کی آنکھ بھی نہ کھلنے پائے گی۔۔۔۔ اور میں۔۔۔!”

“کیا بک رہے ہو!”

“میں چاہتا ہوں کہ جب وہ صبح سو کر اٹھے تو اسے اپنے چہرے پر اسی قسم کے سیاہ دھبے نظر آئیں میں اس سے شرط لگا چکا ہوں!”

“کیا بات ہوئی!”

“کچھ بھی نہیں بس میں اسے یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جمیل کے چہرے پر وہ سفید داغ محض بناوٹی ہیں۔۔۔ یعنی میک اپ!”
“ہائیں تم کیا کہہ رہے ہو!”

“دوسرا لطیفہ سنو!” عمران سر ہلا کر بولا “جس دن سلیم کی ضمانت ہوئی تھی اسی رات کو کسی نے اس پر دو فائر کئے تھے۔۔۔ ایک گولی اس کے داہنے بازو پر لگی تھی!”

“کیا تم نے بھنگ پی رکھی ہے!” فیاض نے حیرت سے کہا!

“فائر جاوید مرزا کے پائیں باغ میں ہوئے تھے! لیکن سلیم نے پولیس کو اس کی اطلاع نہیں دی!”

“یہ تم مجھے آج بتا رہے ہو!”

“میں! میرا قصور نہیں!۔۔۔ یہ قصور سراسر اسی گدھے کا ہے۔۔۔ وہ مرنا ہی چاہتا ہے تو میں کیا کروں!”

“اس کا خون تمہاری گردن پر ہوگا تم نے ہی اسے جیل سے نکلوایا ہے!”

“اس کے مقدر میں یہی تھا۔۔۔ میں کیا کر سکتا ہوں!”

“عمران خدا کے لئے مجھے بور نہ کرو۔۔۔!”

“تمہارے مقدر میں یہی ہے! میں کیا کر سکتا ہوں اور تیسرا لطیفہ سنو! وہ ریوالور مجھے لیبارٹری کی عمارت کی راہداری میں ملا تھا۔۔۔ اور وہ نشانات۔۔ جو اس کے دستے پر پائے گئے ہیں! سو فیصدی شوکت کی انگلیوں کے نشانات ہیں!۔۔۔”

“او۔۔۔ عمران کے بچے۔۔۔۔!”

“اب چوتھا لطیفہ سنو۔۔۔۔! سلیم اب بھی جاوید مرزا کی کوٹھی میں مقیم ہے!”

“خدا تمہیں غارت کرے۔۔۔۔!” فیاض نے جھلا کر عمران کی گردن پکڑ لی!

“ہائیں۔۔۔ ہائیں!” عمران پیچھے ہٹتا ہوا بولا “یہ سڑک ہے پیارے اگر اتفاق سے کوئی ڈیوٹی کانسٹیبل ادھر آ نکلا تو شامت ہی آجائے گی!”

“میں ابھی سلیم۔۔۔ کی خبر لوں گا!۔۔۔”

“ضرور۔۔۔ لو۔۔۔۔ اچھا تو میں چلا۔۔۔۔!”

“کہاں!”

“جمیل کی کوٹھی کی پشت پر ایک درخت ہے جس کی شاخیں چھت پر جھکی ہوئی ہیں!”

“بکواس نہ کرو۔۔۔۔ میرے ساتھ پولیس اسٹیشن چلو! وہاں سے ہم اسی وقت جاوید مرزا کے ہاں جائیں گے!”

“میں کبھی اپنا پروگرام تبدیل نہیں کرتا۔ تم جانا چاہو تو شوق سے جا سکتے ہو! مگر کھیل بگڑنے کی تمام تر ذمہ داری تم پر ہی ہوگی!”

“کیسا کھیل۔۔۔ آخر تم مجھے صاف صاف کیوں نہیں بتاتے!”

“گڑیوں کے کھیل میں عمر گنوائی۔۔۔ جانا اک دن سوچ نہ آئی!” عمران نے کہا اور ٹھنڈی سانس لے کر خاموش ہو گیا۔۔۔!

فیاض کچھ نہ بولا اس کا بس چلتا تو عمران کی بوٹیاں اڑا دیتا!

“اب! میں تمہاری کسی حماقت میں حصہ نہ لوں گا!” اس نے تھوڑی دیر بعد کہا ” جو دل چاہے کرو! میں جا رہا ہوں! اب تم اپنے ہر فعل کے خود ذمہ دار ہوگے!”

“بہت بہت شکریہ! تم جا سکتے ہو۔۔۔ ٹاٹا۔۔۔ اور اگر اب بھی نہیں جاؤ گے تو۔۔۔ باٹا۔۔۔ ہپ!”

۱۶​

عمران دھن کا پکا تھا۔۔۔ فیاض کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی وہ چوروں کی طرح جمیل کی کوٹھی میں داخل ہوا تھا! فیاض وہیں سے واپس ہو گیا تھا! لیکن اسے رات بھر نیند نہیں آئی تھی!۔۔۔ عمران کی بکواس سے اس کے صحیح خیالات کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل تھا۔۔۔ اور یہی چیز فیاض کے لئے الجھن کا باعث تھی!۔۔۔۔ وہ ساری رات یہی سوچتا رہ گیا کہ معلوم نہیں عمران نے وہاں کیا حرکت کی ہو!۔۔۔ ضروری نہیں کہ وہ ہر معاملے میں کامیاب ہی ہوتا رہے! ہو سکتا ہے کہ وہ پکڑا گیا ہو!۔۔۔ پھر اس کی کیا پوزیشن ہوگی!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: