Neelay Parinday By Ibn-e-safi – Last Episode 6

0
نیلے پرندے ​از ابن صفی – آخری قسط نمبر 6

–**–**–

صبح ہوتے ہی سب سے پہلے اس نے سجاد کو فون کیا!۔۔۔ ظاہری مقصد یونہی رسمی طور پر خیریت دریافت کرنا تھا اسے توقع تھی کہ اگر اسے کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہوگا تو سجاد اسے خود ہی بتائے گا!۔۔۔ لیکن سجاد نے کسی نئے واقعے کی اطلاع نہیں دی! فیاض کو پھر بھی اطمینان نہیں ہوا!۔۔۔ اس نے سجاد سے کہا کہ وہ بعض مسائل پر گفتگو کرنے کے لئے وہاں آئے گا اور پھر ناشتہ کر کے وہ جمیل کی کوٹھی کی طرف روانہ ہوگیا!۔۔۔۔ اسے ڈرائنگ روم میں کافی دیر تک بیٹھنا پڑا۔ لیکن فیاض سوچنے لگا کہ اسے کن مسائل پر گفتگو کرنی ہے!۔۔۔ بہرحال سجاد ڈرائنگ روم میں موجود نہیں تھا۔ اس لئے اسے سوچنے کا موقع مل گیا!۔۔۔ لیکن وہ کچھ بھی نہ سوچ سکا! اس کی دانست میں ابھی تک کوئی نئی بات ہوئی ہی نہیں تھی!۔۔۔ عمران کی پچھلی رات کی باتوں کو وہ مجذوب کی بڑ سمجھتا تھا اور اسی بنا پر اس نے سلیم کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں محسوس کی تھی! عمران کا خیال آتے ہی اسے غصہ آگیا۔۔۔ اور ساتھ ہی عمران نے ڈرائنگ روم میں داخل ہو کر “السلام علیکم یا اھل التصور” کا نعرہ لگایا!

فیاض کی پشت دروازے کی طرف تھی۔ وہ بے ساختہ اچھل پڑا۔

“یہ کیا بے ہودگی ہے۔۔۔!” فیاض جھلا گیا!

“پروا نہ کرو! میں اس وقت شرلاک ہومز ہو رہا ہوں! پیارے ڈاکٹر واٹسن۔۔۔ پرندوں کے والد بزرگوار کا سراغ مجھے مل گیا ہے۔۔۔ اور میں بہت جلد۔۔۔ السلام علیکم۔۔۔

“وعلیکم السلام” سجاد نے سلام کا جواب دیا، جو دروازے میں کھڑا عمران کو گھور رہا تھا۔۔۔

“آئیے۔۔۔ آئیے۔۔۔!” عمران نے احمقوں کی طرف بوکھلا کر کہا!

سجاد آگے بڑھ کر ایک صوفے پر بیٹھ گیا! اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے!۔۔۔

“کیوں کیا بات ہے!” فیاض نے کہا “تم کچھ پریشان سے نظر آرہے ہو!”

“میں۔۔۔ ہاں۔۔۔ میں پریشان ہوں سعیدہ بھی اسی مرض میں مبتلا ہو گئی ہے۔۔۔!”

“کیا؟” فیاض اچھل کر کھڑا ہو گیا!

“ہاں۔۔۔ مگر۔۔۔۔ اس کے صرف چہرے پر دھبے ہیں۔۔۔ بقیہ جسم پر نہیں!”

“سیاہ دھبے!” فیاض نے بے ساختہ پوچھا!

“فیاض صاحب!” سجاد نے ناخوشگوار لہجے میں کہا! “میرا خیال ہے کہ یہ مذاق کی بات نہیں ہے!”

“اوہ۔۔۔ معاف کرنا۔۔ مگر۔۔۔ کیا کوئی نیلا۔۔۔ پرندہ!۔۔۔”

“پتہ نہیں! وہ سو رہی تھی۔۔۔! اچانک کسی تکلیف کے احساس سے جاگ پڑی۔۔۔ اور جاگنے پر محسوس ہوا جیسے کوئی چیز۔۔۔ داہنے بازو میں چبھ گئی ہو!”

“پرندہ لٹکا ہوا تھا!” عمران جلدی سے بولا!

“جی نہیں وہاں کچھ بھی نہیں تھا!” سجاد نے جھلائے ہوئے لہجہ میں کہا “اچانک اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے پر پڑی اور بے تحاشہ چیخیں مارتی ہوئی کمرے سے نکل بھاگی!”

“اوہ۔۔۔!” عمران اپنے ہونٹوں کو دائرے کی شکل دے کر رہ گیا!

فیاض عمران کو گھورنے لگا اور عمران آہستہ سے بڑبڑآیا “ایسی جگہ ماروں گا جہاں پانی بھی نہ مل سکے!” اس پر سجاد بھی عمران کو گھورنے لگا!

“مگر۔۔۔” عمران نے دونوں کو باری باری دیکھتے ہوئے کہا “جمیل صاحب کو داغ دار بنانے کا مقصد تو سمجھ میں آتا ہے۔ مگر سعیدہ صاحبہ کا معاملہ!۔۔۔۔ یہ میری سمجھ سے باہ رہے۔۔۔ آخر شوکت کو ان سے کیا پرخاش ہو سکتی ہے!”

“شوکت!” سجاد چونک پڑا۔

“جی ہاں! اس کی لیبارٹری میں ایسے جراثیم موجود ہیں جن کا تذکرہ ڈاکٹروں کی رپورٹ میں ملتا ہے!”

“آپ اسے ثابت کر سکیں گے!” سجاد نے پوچھا!

“چٹکی بجاتے اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈلوا دوں گا! بس دیکھتے رہ جایئے گا!”

“آخر کیا ثبوت ہے تمہارے پاس!” فیاض نے پوچھا!

“آہا! اسے مجھ پر چھوڑ دو! جو کچھ میں کہوں کرتے جاؤ۔۔۔ اس کے خلاف ہوا تو پھر میں کچھ نہیں کرسکوں گا! بہرحال آج اس ڈرامے کا ڈراپ سین ہو جائے گا!”

“نہیں پہلے مجھے بتاؤ!” فیاض نے کہا!

“کیا بتاؤں! یک بیک عمران جھلا گیا! “تم کیا نہیں جانتے! بچوں کی سی باتیں کر رہے ہو!۔۔۔ کیا سلیم پر گولی نہیں چلائی گئی تھی۔۔۔ کیا ریوالور کے دستے پر شوکت کی انگلیوں کے نشانات نہیں ملے! کیا میں نے اس کی لیبارٹری میں نیلے رنگ کے پرندے نہیں دیکھے جنہیں وہ آتش دان میں جھونک رہا تھا۔۔۔۔!”

“ریوالور۔۔۔ سلیم۔۔۔ مردہ پرندے۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ میں کچھ نہیں سمجھا!” سجاد متحیرانہ انداز میں بولا!

“بس سجاد صاحب! اس سے زیادہ ابھی نہیں! جو کچھ میں کہوں کرتے جائیے!۔۔۔ مجرم کے ہتھکڑیاں لگ جائیں گی!”

“بتائیے۔۔۔ جو کچھ آپ کہیں گے کروں گا!”

“گڈ۔۔۔ تو آپ ابھی اور اسی وقت اپنے بھائیوں اور جمیل صاحب کے ماموؤں سمیت جاوید مرزا کے یہاں جائیے! کیپٹن فیاض بھی آپ کے ہمراہ ہوں گے!۔۔۔ وہاں جائیے اور جاوید مرزا سے پوچھئے کہ اب اس کا کیا ارادہ ہے جمیل سے اپنی لڑکی کی شادی کرے گا یا نہیں۔۔۔ ظاہر ہے کہ وہ انکار کرے گا۔۔۔۔! پھر اس وقت ضرورت اس بات کی ہوگی کہ کیپٹن فیاض اس پر اپنی اصلیت ظاہر کرکے کہیں گے کہ انہیں اس سلسلے میں اس کے بھتیجوں میں سے کسی ایک پر شبہ ہے اور فیاض تم اسے کہنا کہ وہ اپنے سارے بھتیجوں کو بلائے۔۔۔ تم ان سے کچھ سوالات کرنا چاہتے ہو!”

Read More:  In Lamhon K Daman Main Novel By Mubashra Ansari – Episode 12

“پھر اس کے بعد” فیاض نے پوچھا!

“میں ٹھیک اسی وقت وہاں پہنچ کر نپٹ لوں گا!”

“کیا نپٹ لو گے!”

“تمہارے سر پر ہاتھ رکھ کر روؤں گا!” عمران نے سنجیدگی سے کہا!

فیاض اور سجاد اسے گھورتے رہے۔۔ اچانک سجاد نے پوچھا۔ “ابھی آپ نے کسی ریوالور کا حوالہ دیا تھا۔ جس پر شوکت کی انگلیوں کے نشانات تھے!”

“جی ہاں۔۔۔۔ بقیہ باتیں وہیں ہوں گی! اچھا ٹاٹا۔۔۔” عمران ہاتھ ہلاتا ہوا ڈرائنگ روم سے نکل گیا۔۔۔۔ اور فیاض اسے پکارتا ہی رہ گیا!

“میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ حضرت کیا فرمانے والے ہیں!” سجاد بولا!

“کچھ نہ کچھ تو کرے گا ہی! اچھا اب اٹھو! ہمیں وہی کرنا چاہئے جو کچھ اس نے کہا ہے!”

۱۷​

بات بڑھ گئی!۔۔۔ نواب جاوید مرزا کا پارہ چڑھ گیا تھا!

اس نے فیاض سے کہا۔۔۔ “جی فرمائیے! میرے سب بچے یہیں موجود ہیں! یہ شوکت ہے! یہ عرفان ہے، یہ صفدر ہے۔۔۔ بتائیے کہ آپ کو ان میں سے کس پر شبہ ہے اور شبے کی وجیہ بھی آپ کو بتانی پڑے گی!۔۔۔ سمجھے آپ!”

فیاض بغلیں جھانکنے لگا! وہ بڑی بے چینی سے عمران کا منتظر تھا! اس وقت اسٹڈی میں جاوید مرزا کے خاندان والوں کے علاوہ جمیل کے خاندان کے سارے مرد موجود تھے! بات جمیل اور پروین کی شادی سے شروع ہو ئی تھی! جاوید مرزا نے ایک مبروص سے اپنی لڑکی کا رشتہ کرنے سے صاف انکار کر دیا!۔۔۔ اس پر سجاد نے کافی لے دے کی، پھر فیاض نے اس کے بھتیجوں میں سے کسی کو جمیل کے مرض کا ذمہ دار ٹھہرایا۔۔۔

لیکن جب جاوید مرزا نے وضاحت چاہی تو فیاض کے ہاتھ پیر پھول گئے! اسے توقع تھی کہ عمران وقت پر پہنچ جائے گا!۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ عمران۔۔۔۔؟ فیاض دل ہی دل میں اسے ایک ہزار الفاظ فی منٹ کی رفتار سے گالیاں دے رہا تھا!

“ہاں آپ بولتے کیوں نہیں! خاموش کیوں ہو گئے!” جاوید مرزا نے اسے للکارا۔

“اماں چلو۔۔۔۔ یار۔۔۔ شرماتے کیوں ہو!” اسٹڈی کے باہر سے عمران کی آواز آئی اور فیاض کی بانچھیں کھل گئیں۔

سب سے پہلے سلیم داخل ہوا۔ اس کے پیچھے عمران تھا۔۔۔۔ اور شاید وہ اسے دھکیلتا ہوا لا رہا تھا! “سطوت جاہ!” جاوید مرزا جھلائی ہوئی آواز میں بولا “یہ کیا مذاق ہے۔۔۔۔ آپ بغیر اجازت یہاں کیسے چلے آئے!”

“میں تو یہ پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہوں کہ آخر ان حضرت کی رپورٹ کیوں نہیں درج کرائی!” عمران نے سلیم کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ “آج سے چار دن قبل۔۔۔۔!”

“آپ تشریف لے جائیے۔۔۔ جائیے!” نواب جاوید مرزا غرایا!

“آپ کو بتانا پڑے گا جناب!” دفعتاً عمران کے چہرے سے حماقت مآبی کے سارے آثار غائب ہو گئے۔

“یہ مجھے زبردستی لائے ہیں!” سلیم خوفزدہ آواز میں بولا!

“سطوت جاہ! میں بہت بری طرح پیش آؤں گا!” جاوید مرزا کھڑا ہو گیا! اسی کے ساتھ ہی شوکت بھی اٹھا!

“بیٹھو!” عمران کی آواز نے اسٹڈی میں جھنکار سی پیدا کر دی! فیاض نے اس کے اس لہجے میں اجنبیت سی محسوس کی!۔۔ وہ اس عمران کی آواز تو نہیں تھی، جسے وہ عرصہ سے جانتا تھا۔

“میرا تعلق ہوم ڈیپارٹمنٹ سے ہے!” عرمان نے کہا “آپ لوگ ابھی تک غلط فہمی میں مبتلا تھے! مجھے ان جراثیم کی تلاش ہے، جو آدمی کے خون میں ملتے ہی اسے بارہ گھنٹے کے اندر ہی اندر مبروص بنا دیتے ہیں! شوکت! کیا تمہاری لیبارٹری میں ایسے جراثیم نہیں ہیں!”

“ہرگز نہیں ہیں!” شوکت غرایا!

“کیا تم بدھ کی رات کو اپنی لیبارٹری میں چند مردہ پرندے نہیں چلا رہے تھے۔۔۔۔ نیلے پرندے!”

“ہاں! میں نے جلائے تھے پھر؟”

عمران سلیم کی طرف مڑا “تم پر کس نے فائر کیا تھا!”

“میں نہیں جانتا!” سلیم نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر کہا۔

“تم جانتے ہو! تمہیں بتانا پڑے گا!”

“میں نہیں جانتا جناب۔۔۔۔! مجھ پر کسی نے اندھیرے میں فائر کیا تھا! ایک گولی بازو پر لگی تھی۔۔۔۔ اور میں بدحواسی میں درخت پر چڑھ گیا تھا!”

“یہ ریوالور کس کا ہے!” عمران نے جیب سے ایک ریوالور نکال کر سب کو دکھاتے ہوئے کہا!”

شوکت اور جاوید مرزا کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں!

“میں جانتا ہوں کہ یہ ریوالور شوکت کا ہے اور شوکت کے پاس اس کا لائسنس بھی ہے!۔۔۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ سلیم پر اسی ریوالور سے گولی چلائی گئی تھی اور جس نے بھی فائر کیا تھا اس کی انگلیوں کے نشانات اس کے دستے پر موجود تھے۔۔۔ اور وہ نشانات شوکت کی انگلیوں کے تھے!”

“ہوگا! ہوگا!۔۔۔۔ مجھے شوکت صاحب سے کوئی شکایت نہیں ہے!” سلیم جلدی سے بول پڑا۔

“اصلیت کیا ہے سلیم!” عمران نے نرمی سے پوچھا!

“انہوں نے کسی دوسرے آدمی کے دھوکے میں مجھ پر فائر کیا تھا!”

“کس کے دھوکے میں!”

“یہ وہی بتا سکیں گے! میں نہیں جانتا!”

“ہوں! فیاض ہتھ کڑیاں لائے ہو!” عمران نے کہا۔

“نہیں! نہیں۔۔۔ یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔۔۔!” نواب جاوید مرزا کھڑا ہو کر ہذیانی انداز میں چیخا!

“فیاض ہتھ کڑیاں۔۔۔!”

Read More:  Es Manjdhar Main Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Lat Episode 8

فیاض نے جیب سے ہتھ کڑیوں کا جوڑا نکال لیا۔

“یہ ہتھ کڑیاں سجاد کے ہاتھ میں ڈال دو!”

“کیا۔۔۔!” سجاد حلق کے بل چیخ کر کھڑا ہو گیا!

“فیاض۔۔۔۔! سجاد کے ہتھ کڑیاں لگا دو!”

“کیا بکواس ہے!” فیاض جھنجھلا گیا!

“خبردار سجاد! اپنی جگہ سے جنبش نہ کرنا!” عمران نے ریوالور کا رخ سجاد کی طرف کردیا۔۔۔!

“عمران میں بہت بری طرح پیش آؤں گا!” فیاض کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا!

“فیاض میں تمہیں حکم دیتا ہوں ۔۔۔ میرا تعلق براہ راست ہوم ڈیپارٹمنٹ سے ہے اور ڈائریکٹر جنرل کے علاوہ سی بی آئی کا ہر آفیسر میرے ماتحت ہے۔۔۔ چلو جلدی کرو!”

عمران نے اپنا شناختی کارڈ جیب سے نکال کر فیاض کے سامنے ڈال دیا!

فیاض کے چہرے پر سچ مچ ہوائیاں اڑنے لگیں! اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ شناختی کارڈ میز پر رکھ کر وہ سجاد کی طرف مڑا اور ہتھ کڑیاں اس کے ہاتھوں میں ڈال دیں!

“دیکھا آپ نے؟” سلیم نے شوکت کی طرف دیکھ کر پاگلوں کی طرح قہقہہ لگایا “خدا بے انصاف نہیں ہے!” شوکت کے ہونٹوں پر خفیف سے مسکراہٹ پھیل گئی!

“تم ادھر دیکھو سلیم!” عمران نے اسے مخاطب کیا! “تم نے کس کے ڈر سے جیل میں پناہ لی تھی!”

“جس کے ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں ہیں! یہ یقیناً مجھے مار ڈالتا۔۔۔ ہم جانتے تھے کہ وہ جراثیم ہماری لیبارٹری سے اسی نے چرائے ہیں! لیکن ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا!۔۔۔ اکثر لوگ ہماری لیبارٹری میں آتے رہتے ہیں! ایک دن یہ بھی آیا تھا۔۔۔ جراثیم پر بات چھڑ گئی تھی۔۔۔۔ میں نے خوردبین سے کئی جراثیم بھی دکھائے ان میں وہ جراثیم بھی تھے جو سو فیصدی شوکت صاحب کی دریافت ہیں! پھر ایک ہفتے بعد ہی جراثیم کا مرتبان پراسرار طور پر لیبارٹری سے غائب ہو گیا! اس سے تین ہی دن قبل کالج کے سائنس کے طلبا ہماری لیبارٹری دیکھنے آئے تھے!۔۔۔ ہمارا خیال انہی کی طرف گیا۔۔۔ لیکن جب غائب ہونے کے چوتھے ہی دن جمیل صاحب اور نیلے پرندے کی کہانی مشہور ہوئی تو میں نے شوکت صاحب کو بتایا کہ ایک دن سجاد بھی ہماری لیبارٹری میں آیا تھا! پھر اسی شام کو ہماری لیبارٹری میں تین مردہ پرندے پائے گئے! وہ بالکل اسی قسم کے تھے جس قسم کے پرندے کا تذکرہ اخبارات میں کیا گیا تھا! ہم نے انہیں آگ میں جلا کر راکھ کر دیا اور پھر یہ بات واضح ہو گئی کہ سجاد یہ جرم شوکت صاحب کے سر تھوپنا چاہتا ہے! دوسری شام کسی نامعلوم آدمی نے مجھ پر گولی چلائی! میں بال بال بچا! شوکت صاحب نے مجھے مشورہ دیا کہ میں کسی محفوظ مقام پر چلا جاؤں تاکہ وہ اطمینان سے سجاد کے خلاف ثبوت فراہم کر رکھیں۔ میرا دعوٰی ہے کہ مجھ پر سجاد ہی نے حملہ کیا تھا! محض اس لئے کہ میں کسی سے یہ کہنے کے لئے زندہ نہ رہوں کہ سجاد بھی کبھی لیبارٹری میں آیا تھا اور وہ جراثیم دکھائے گئے تھے!”

“بکواس ہے!” سجاد چیخا! “میں کبھی لیبارٹری میں نہیں گیا تھا!”

“تم خاموش رہو! فیاض اسے خاموش رکھو!” عمران نے کہا پھر سلیم سے بولا “بیان جاری رہے۔” سلیم چند لمحے خاموش رہ کر بولا “شوکت صاحب نے محض میری زندگی کی حفاظت کے خیال سے مجھ پر چوری کا الزام لگا کر گرفتار کرا دیا!۔۔۔ لیکن سجاد نے میرا وہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا۔۔۔ ایک انگریز لڑکی وہاں پہنچی، جو غالباً سجاد ہی کی بھیجی ہوئی تھی اور مجھے خوامخواہ غصہ دلانے لگی تاکہ میں جھلا کر اپنے جیل آنے کا راز اگل دوں!”

“خیر۔۔۔ خیر۔۔۔ آگے کہو!” عمران بڑبڑایا وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کا اشارہ روشی کی طرف ہے!

“پھر پتہ نہیں کیوں اور کس طرح میری ضمانت ہوئی!۔۔۔۔ ظاہر ہے کہ اس انہونی بات نے مجھے بدحواس کر دیا اور میں نے اسی طرف کا رخ کیا! لیکن کوئی میرا تعاقب کر رہا تھا!۔۔۔۔ کوٹھی کے پاس پہنچ کر اس نے ایک فائر بھی کیا! لیکن میں پھر بچ گیا۔ یہاں پائیں باغ میں اندھیرا تھا۔۔۔۔ میں لیبارٹری کے قریب پہنچا۔۔۔۔ شوکت صاحب سمجھے شائد میں وہی آدمی ہوں جو آئے دن لیبارٹری میں مردہ پرندے ڈال جایا کرتا تھا!۔۔۔ انہوں نے اسی کے دھوکے میں مجھ پر فائر کر دیا!۔۔۔”

“کیوں؟” عمران نے شوکت کی طرف دیکھا!

“ہاں یہ بالکل درست ہے!۔۔۔ سجاد یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح ان پرندوں پر چچا صاحب کی بھی نظر پڑ جائے اور وہ مجھے ہی مجرم سمجھنے لگیں! ویسے انہیں تھوڑا بہت شبہ تو پہلے بھی تھا!” عمران نے جاوید مرزا کی طرف دیکھا! لیکن جاوید مرزا خاموش رہا۔۔۔!

“کیا بکواس ہو رہی ہے۔۔۔ یہ سب پاگل ہو گئے ہیں!” سجاد حلق پھاڑ کر چیخا! “ارے بدبختو۔۔۔ اندھو! میرے ساتھ چل کر میری لڑکی سعیدہ کی حالت دیکھو! وہ بھی اسی مرض میں مبتلا ہو گئی ہے! کیا میں اپنی بیٹی پر بھی اسی قسم کے جراثیم۔۔۔ یاخدا۔۔۔ یہ سب پاگل ہیں۔” دفعتاً شوکت ہنس پڑا۔۔۔

“خوب!” اس نے کہا “تمہیں بیٹی یا بیٹے سے کیا سروکار تمہیں تو دولت چاہئے۔ دونوں مبروصوں کی شادی کر دو! وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کریں گے! دوسری حرکت تم نے محض اپنی جان بچانے کے لئے کی ہے!”

Read More:  Purisrar Cheekhain by Ibn e Safi – Episode 5

“نہیں سجاد! تم کچھ خیال نہ کرنا!” عمران مسکرا کر بولا “دوسری حرکت میری تھی!”

سجاد اسے گھورنے لگا۔۔۔۔ اور شوکت کی آنکھیں بھی حیرت سے پھیل گئی تھیں! فیاض اس طرح خاموش بیٹھا تھا جیسے اسے سانپ سونگھ گیا ہو!

“دوسری حرکت میری تھی۔۔۔۔ اور تمہاری لڑکی کسی مرض میں مبتلا نہیں ۃوئی! ان داغوں کو خالص اسپرٹ سے دھو ڈالنا چہرہ صاف ہو جائے گا!۔۔۔”

“خیر۔۔۔ خیر۔۔۔! مجھ پر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے اور میں عدالت میں دیکھوں گا!”

“ضرور دیکھنا سجاد! واقعی تمہارے خلاف ثبوت بہم پہنچانا کافی مشکل کام ہوگا! لیکن یہ بتاؤ۔۔۔ کہ پچھلی رات اپنی لڑکی کا چہرہ دیکھ کر تم بے تحاشہ ایندھن کے گودام کی طرف کیوں بھاگے تھے۔۔۔ بتاؤ۔۔۔ بولو۔۔۔ جواب دو!”

دفعتاً سجاد کے چہرے پر زردی پھیل گئی! پیشانی پر پسینے کی بوندیں پھوٹ آئیں۔ آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہونے لگیں اور پھر دفعتاً اس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی وہ بے ہوش ہو گیا تھا!

۱۸​

اسی شام کو عمران روشی اور فیاض رائل ہوٹل میں چائے پی رہے تھے! فیاض کا چہرہ اترا ہوا تھا اور عمران کہہ رہا تھا! “مجھے اسی وقت یقین آگیا تھا کہ سلیم شوکت سے خائف نہیں ہے جب اس نے جیل سے نکلنے کے بعد جاوید مرزا کی کوٹھی کا رخ کیا تھا!”

“مگر ایندھن کے گودام سے کیا برآمد ہوا ہے!” روشی نے کہا “تم نے وہ بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔۔۔”

“وہاں سے ایک مرتبان برآمد ہوا ہے، جس میں جراثیم ہیں!۔۔۔۔ اور نیلے رنگ کے پرندوں کا ایک ڈھیر ربڑ کے تین پرندے۔۔۔ گوند کی ایک بوتل اور انجکش کی تین سوئیاں۔۔۔۔! کیا سمجھیں!۔۔۔ وہ حقیقتاً پرندہ نہیں تھا جسے جمیل نے اپنی گردن سے کھینچ کر کھڑکی سے باہر پھینکا تھا!۔۔۔ بلکہ ربڑ کا پرندہ جس پر گوندھ سے نیلے رنگ کے پر چپکائے گئے تھے! اس کے پیٹ میں وہ سیال مادہ بھرا گیا تھا جس میں جراثیم تھے! پرندے کی چونچ کی جگہ انجیکشن لگانے والی کھوکھلی سوئی فٹ کی گئی تھی!۔۔۔ پہلے جمیل پر باہر سے کھڑکی کے ذریعے ایک پرندہ ہی پھینکا گیا تھا! جو اس کے شانے سے ٹکرا کر اڑ گیا تھا۔ پھر وہ نقلی پرندہ پھینکا گیا! جس کی لگی ہوئی سوئی اس کی گردن میں پیوست ہو گئی۔ ظاہر ہے کہ وہ بدحواس ہو گیا ہوگا، جیسے ہی اس نے اسے پکڑا ہوگا دباؤ پڑنے سے سیال مادہ سوئی کے راستے گردن میں داخل ہو گیا ہوگا!۔۔۔ پھر اس نے بوکھلاہٹ میں اسے کھینچ کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا! پہلے نیلے رنگ کا ایک پرندہ اس کے شانے سے ٹکرا کر اڑ چکا تھا۔ اس لئے اس نے بھی اسے پرندہ ہی سمجھا!۔۔۔ اور پچھلی رات۔۔۔ واہ۔۔۔۔ وہ بھی عجیب اتفاق تھا میں جمیل کی کوٹھی میں گھسا! سعیدہ کو کلوفارم کے ذریعہ بے ہوش کر کے اس کے چہرے پر اپنی ایک ایجاد آزمائی جسے میک اپ کے سلسلے میں اور زیادہ ترقی دینے کا خیال رکھتا ہوں! پھر کلورو فارم کا اثر زائل ہونے کا منتظر رہا! یہ سب میں نے اس لئے کیا تھا کہ گھر والوں کا اس پر رد عمل دیکھ سکوں! خاص طور سے سجاد کی طرف خیال بھی نہیں تھا! جیسے ہی میں نے محسوس کیا کہ اب کلورو فارم کا اثر زائل ہو رہا ہے۔ میں نے اس کے بازو میں سوئی چبھوئی اور مسہری کے نیچے گھس گیا!۔۔۔۔ پھر ہنگامہ برپا ہو گیا! سجاد ہی سب سے زیادہ بد حواس نظر آرہا تھا۔ ظاہر ہے کہ اسے بھی کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی تھی کیونکہ سعیدہ اس کی بیٹی ہی ٹھہری!۔۔۔۔ لیکن جب میں نے اسے گھر والوں کو وہیں چھوڑ کر ایک طرف بھاگتے دیکھا تو۔۔۔۔ تم خود سوچو سوپر فیاض! بھلا اس وقت ایندھن کے گودام میں جانے کی کیا تک تھی! بہرحال سجاد ہی نے بے خبری میں میرے لئے اپنے خلاف ثبوت بہم پہنچائے! دراصل اس کی شامت آگئی تھی! ورنہ ان چیزوں کو رکھ چھوڑنے کیا ضرورت تھی!”

“اچھا بیٹا! وہ تو سب ٹھیک ہے!” فیاض نے ایک طویل انگڑائی لے کر کہا “وہ تمہارا شناختی کارڈ”

“یہ حقیقت ہے کہ میں تمہارا آفسیر ہوں! میرا تعلق براہ راست ہوم ڈیپارٹمنٹ سے ہے! اور ہوم سیکرٹری سر سلطان نے میرا تقرر کیا ہے۔۔۔ لیکن خبردار۔۔۔ خبردار۔۔۔ اس کا علم ڈیڈی کو نہ ہونے پائے ورنہ میں تمہاری مٹی پلید کر دوں گا سمجھے۔۔۔!”

فیاض کا چہرہ لٹک گیا! اس کے لئے یہ نئی دریافت بڑی تکلیف دہ تھی!

“تم نے مجھے بھی آج تک اس سے بے خبر رکھا!” روشی نے جھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔

“ارے کس کی باتوں میں آئی ہو روشی ڈئیر!” عمران برا سا منہ بنا کر بولا “یہ عمران بول رہا ہے۔۔۔۔ عمران جس نے سچ بولنا سیکھا ہی نہیں!۔۔۔ میں تو فیاض کو گھس رہا تھا!”

فیاض کے چہرے پر اب بھی بے یقینی پڑھی جا سکتی تھی!

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: