Night Mare Novel by Durr-e-shahwar Malik – Episode 1

0
نائیٹ میئر از در شہورا ملک – قسط نمبر 1

–**–**–

اس کہانی میں موجود واقعات سب سچے ہیں البتہ کردار اور جگائیں فرضی ہیں ۔۔۔
اس کہانی میں ہوئے تمام واقعات کس کی زندگی کا حصہ ہیں۔۔ اس کا نام کہانی کے اختتام پر بتاؤں گی ۔۔۔جب تک کہانی کو انجوائے کریں ۔۔
لائیک کریے شئیر کریے ۔۔ شکریہ ۔۔ 😊
#Nightmare (the real story)
از_قلمدرشہوارملک ۔۔
لال رنگ کی دیوار کے ساتھ چھوٹا سا بچہ کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں چاقو تھا جس پر سے خون کے قطرے گر رہے تھے ۔۔
اس نے دور سے اس بچے کو دیکھا تو وہ ڈر گئی ۔۔
وہ بچہ اس دیوار پر رنگ کر رہا تھا ۔۔ خون سے۔ ۔
وہ اسے دیکھتے ہوئے اس کے پاس ائی۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ اس بچے کے پاس کیوں نہیں جا رہی ہے ۔۔
اپنے قدموں کو روکتے ہوئے بھی اس کے قدم اس تک جا رہے تھے ۔۔
اس کے بلکل پاس جا کر وہ رک گئی ۔۔
اس بچے کے پاس زمین پر ایک بلی مری ہوئی تھی وہ اس کے خون سے دیوار کو رنگ رہا تھا۔
اس نے اسے دیکھ کر چیخ ماری ۔
اس کی چیخ سن کر وہ بچہ مڑا ۔۔
اس کے چہرے پر خوفناک سی مسکراہٹ تھی ۔۔
وہ عجیب نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔
وہ بنا منہ موڑے پیچھے کی طرف بھاگنے لگی ۔۔ اور گر گئی ۔۔
دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔
کہ اچانک اسے کسی نے جھنجوڑ کر اٹھا دیا۔۔
وہ اٹھی اور اپنے ارد گرد دیکھا تو سامنے اس کی امی تھی ۔۔ وہ ان کے گلے لگ کر رونے لگی ۔ جسم پسینے سے شرابور تھا ۔۔
“کیا ہوا رانیہ بچے کیا ہوا۔۔” سیما اسے سینے سے لگائے پچکار رہی تھی ۔۔
“ماما ماما ۔۔ وہ بچہ ۔۔ ماما ” سیما سے دور ہو کر اس نے اپنا خواب یاد کیا ۔۔۔
“کچھ بھی نہیں ہے تمھارا وہم ہے ۔۔ آیت الکرسی پڑھو اور سو جاؤں “
سیما کہنے کے بعد دوسری طرف منہ کر کہ سو گئی ۔۔
وہ کتنی دیر اس خواب کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔
انکھیں پھر نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔
اس نے پاس پڑھے موبائل میں ٹائم دیکھا تو ۔۔ تین بج رہے تھے ۔۔ ٹائم دیکھ کر وہ سیما سے گلے لگ کر لیٹ گئی اور ایت الکرسی پڑھنے لگی ۔۔ اسے کب نیند ائی اسے پتا نہیں چلا۔۔
!…………………..!
“تم نے رات میں مجھے ڈرا دیا تھا رانیہ اتنی عجیب آوازیں نکال رہی تھی تم ۔۔۔ میں نے کتنا جگایا تمہیں تم سن ہی نہیں رہی تھی ۔۔ “۔۔
صبح فجر کی نماز کے بعد ۔۔ وہ قرآن پڑھ رہی تھی ۔۔ جب سیما نے نماز پڑھنے کے بعد اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
“ماما یہ خواب میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتے۔ “
رانیہ نے افسردہ ہو کر کہا۔۔
“کچھ بھی نہیں ہے بیٹا تم نے سر پہ سوار کیا ہوا ہے ۔۔ رات کو دعا پڑھ کے سویا کرو ۔۔ اور یہ فصول سے ڈرامے دیکھنا چھوڑ دو تم ۔۔ “
سیما اسے سمجھا کر خود بھی قرآن پڑھنے لگی ۔۔
ارینہ بھی چپ کر کے قرآن پڑھنے لگی ۔
!…………………!
وہ کچن میں کھڑی چائے بنا رہی تھی جب اسے لگا کوئی پیچھے کھڑا ہے اس نے مڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا ۔۔
“احمد ۔۔ یہ تم ہو۔۔ ماما اسے دیکھے یہ مجھے تنگ کر رہا ہے ۔۔ ماما پلیز اسے سمجھائے ۔۔ “
وہ کچن سے ہی چیختی ہوئی باہر ائی ۔۔
سیما دہولے ہوئے کپڑے سمیٹ رہی تھی۔ احمد ان کے پاس ہی بیٹھا موبائل استعمال کر رہا تھا ۔۔
“کیا ہوا رانیہ “
اس کے ایسے چیختے ہوئے اندر آتا دیکھ کر وہ بولیں ۔۔
“ماما یہ کچن میں آ کر مجھے ڈرا رہا ہے ۔۔” رانیہ بلکل رو دینے کو تھی۔
“ماما جھوٹ بول رہی ہے ۔۔ میں کب سے اپ کے پاس ہوں۔ “
احمد نے غصے میں کہا۔۔
“ہاں بیٹا یہ کب سے میرے پاس ہے ۔۔ ” سیما کو بھی تعجب ہوا ۔
“پھر ماما ۔۔۔”
“تمھارے دماغ میں پتا نہیں کیا چلتا رہتا ہے ۔۔ جا کر کام کرو “
سیما نے اسے ڈانٹ کر بھیج دیا۔۔
وہ واپس کچن میں آئی تو سارے کپ میں چائے ڈلی ہوئی تھی ۔
وہ ایک دم کانپ اٹھی ۔۔
اس نے ذہن پر زور دیا شاید وہ ڈال کر گئی ہے ۔۔
لیکن اسے نہیں یاد آیا ۔
پھر سر جھٹک کر کپ ٹرے میں رکھے ۔۔
“ماما سہی کہیتی ہیں ۔۔ میں سوچتی رہتی ہوں تبھی مجھے یاد نہیں رہتا کہ میں کام کر چکی ہوں۔۔”
خود کلامی کرتے ہوئے وہ کمرے میں چلی گئی۔
!………………!
“اٹھو رانیہ ۔۔ بھائی کو جگاؤ اسے یونی جانا ہے ۔۔ اسے ناشتہ بنا دو میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔ “
سیما نے اسے اٹھایا اور بول کر خود دوبارہ سو گئی۔۔
تھوڑی دیر تک وہ اٹھی اور احمد کو جگانے چلی گئی ۔۔
کہ اچانک اسے واش روم سے پانی گرنے کی آواز ائی ۔۔
اس نے دروزا بچا کر پوچھا۔۔
“احمد ۔۔ تم ہو اندر ۔۔ احمد”
لیکن اندر سے آواز نہیں ائی ۔۔
پھر پانی گرنا بند ہو گیا ۔۔
اس نے دروزا کھولا تو بالٹی اوپر تک بھری ہوئی تھی ۔۔
وہ رات میں خود خالی کر کے سوئی تھی ۔ اور پانی اچانک بند کیسے ہوا۔
“ک ک کون ہے ” اس نے ڈرتے ہوئے کہا ۔۔ اور اندر چلی گئی۔
لیکن اندر کوئی نہیں تھا ۔
وہ باہر آگئی۔
“شاید ماما ائی ہوں صبح ۔۔ لیکن پانی گر رہا تھا مجھے آواز ائی ہے۔۔۔ ماما کو بتاؤں گی تو ڈانٹے گی”
ڈرتے ڈرتے وہ احمد کو جگانے چلی گئی۔
اسے اٹھا کر کچن میں آ گئی ۔۔۔
وہ ناشتہ بنا رہی تھی اسے لگا کے اس کے پیچھے پھر کوئی ہے۔ اس نے مڑ کر نہیں دیکھا ۔۔
“مجھے اپنے وہم سے لڑنا ہو گا اسے اپنے پر ہاوی کروں گی تو بیمار ہو جاؤں گی میں ۔۔”
اپنے سے پھر خود کلامی کرتے ہوئے اس نے ناشتہ بنایا ۔
احمد کو ناشتہ دے کر وہ دوبارہ سونے کو لیٹ گئی ۔۔
!……………..!
وہ ایک ہسپتال تھا ۔۔ چاروں طرف خالی خالی اسٹریچر پڑی ہوئیں تھیں ۔۔ ان میں سے ایک اسٹریچر پر کوئی لیٹا ہوا تھا اس کے اوپر چادر تھی اور اس کے ارد گرد ۔۔ دو لوگ کھڑے تھے وہ دہاڑے مار کر رو رہے تھے ۔۔ وہ انہیں دیکھ رہی تھی ۔۔ اس کے دل کو وہ آوازیں چیر رہی تھیں
۔۔ وہ انہیں چپ کروانا چاہ رہی تھی ۔۔ وہ بھاگ کر ان کی طرف گئی ۔۔ کہ اچانک اسے کسی نے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اس نے دیکھا تو وہ اس کے ابو تھے ۔۔
“گھر چلو ابھی کے ابھی”
اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے اس کمرے سے باہر نکال رہے تھے ۔۔
“ماما ماما” وہ نیند میں بولنے لگی ۔۔ اس کی آواز سن کر سیما اس کے پاس ائی اور اسے اٹھایا ۔۔
“ماما بابا” وہ بہت ڈری ہوئی تھی۔ ۔۔
“پھر کوئی خواب دیکھا تم۔نے ۔۔۔
گھر میں بیٹھ بیٹھ کر خود کو بیمار کر لو گی تم اٹھو جا کر کوئی جاب کر لوں جب تک ریزلٹ نہیں آتا ۔۔۔ خالی ذہن میں عجیب عجیب باتیں سوچتی ہو تم ۔۔ “
بارہ بجے کے قریب ۔۔ وہ اٹھی۔ ۔وہ اتنی دیر سوئی رہی اسے پتا ہی نہیں چلا ۔
“ماما میں تو کر لوں لیکن ابو تو مانے نا “
“وہ تمہاری اپنی وجہ سے نہیں مانتے۔ ۔۔۔ پتا نہیں کیا ہوتا ہے تمہیں اپنا اپ چھوڑ دیتی ہو ۔ اچانک سے ۔۔ تو وہ ڈر جاتیں ہیں اس وجہ سے جانے نہیں دیتے ۔۔ لیکن تم جاؤں گی تو تم ٹھیک ہو گی نا اچانک سے گھر میں بیٹھنے سے ہو رہا ہے یہ سب ۔۔ ” سیما نے اسے سمجھایا۔۔ وہ سر ہلا کر اٹھ گئی ۔۔
اور منہ ہاتھ دھونے چلی گئی۔ ۔
سیما اسے اٹھا کر کچن میں جا کر اس کے لیے ناشتہ بنانے لگیں۔ ۔
ساتھ میں دوپہر کا سالن بھی چڑھا دیا۔۔
رانیہ باہر ائی تو ناشتہ کیا۔۔ پھر گھر کی صفائی پر لگ گئی ۔۔
پورے گھر سے جھاڑو مار کر وہ پوچے مارنے لگی تو اسے عجیب سا ہوا ۔۔ ایسے جیسے ۔۔ جسم کا ایک ایک۔ حصّہ الگ ہو جائے گا۔
“ماما ماما ” اس نے روتے ہوئے ۔۔ سیما کو آواز دی ۔۔
“کیا ہوا رانیہ” ۔۔۔ وہ بھاگی ہوئی اس کے پاس ائی ۔۔
“ماما ۔۔ ماما مجھے ایسا لگ رہا کہ میری انتڑیاں نکل جائے گی ۔۔ ماما دیکھے بہت درد ہو رہا ہے ۔۔ ماما ابھی سب باہر آ جائے گا ماما دیکھیں ۔۔ ” وہ بہت عجیب طریقے سے بول رہی تھی ۔۔ جیسے کوئی بچہ ۔۔ تکلیف سے بلبلا رہا ہو۔۔
“کیا ہوا رانیہ ۔۔ چھوڑو اسے ۔۔ میرے ساتھ آو یہاں۔۔” اس کے ہاتھ سے پوچا لے کر اسے کمرے میں لے گئیں وہ اور بیڈ پر بیٹھایا۔۔
“کیا ہوا ہے ۔۔ بولو۔۔”
“ماما میری انتڑیاں باہر آ جائے گیں بہت درد ہو رہا ہے ۔۔”
وہ پھر سے رونے لگی ۔۔
اچانک اس نے ہاتھ پاؤں چھوڑ دیے ۔ سیما نے جلدی سے اصغر کا کال کی ۔۔ لیکن وہ اٹھا نہیں رہے تھے ۔۔
وہ بستر پر بلکل سیدھی لیٹ گئی۔ اسے کسی چیز کا ہوش نہیں رہا ۔۔
سیما کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے وہ کبھی ایسے بےہوش نہیں ہوئی تھی ۔۔ ان نے بار بار اصغر کو کال کی ۔۔ لیکن وہ نہیں اٹھا رہے تھے ۔۔
اچانک ان کی کال خودی آ گئی۔
“کیا ہوا ۔۔”
“جلدی سے گھر آئیں آپ” ۔۔ سیما نے گھبرائے ہوئے کہا اور کال کاٹ دی ۔
اصغر نے اسی وقت گھر کی راہ لی ۔۔
!……………….!
اسے ایمرجنسی میں ہسپتال لے جایا گیا ۔
ڈاکٹر ۔نے۔ نیند کا انجیکشن لگا دیا ۔۔
“ڈاکٹر اسے کیا ہوا ہے ۔۔” اصغر فوراً ڈاکٹر پاس گیا۔۔
“کچھ کہہ نہیں سکتے ہم میں نے کچھ ٹیسٹ لکھے ہیں وہ کروا لیں۔۔ “
ڈاکٹر کہہ کر باہر چلا گیا۔
اصغر ۔۔ سیما کے پاس آیا اور ۔۔ اسے بتایا ڈاکٹر کا ۔
“تو اپ کیا کہتے ہیں ۔۔”
“کیا کہنا کروانے پڑے گے ۔۔”
اصغر کہہ کر چلا گیا رانیہ کو ایڈمڈ کروانے کے لیے۔۔۔
لیکن جب وہاں پہنچا تو اس کے سامنے ایک اسٹریچر لے کر جا رہے تھے ۔۔ اور اس کے ساتھ ایک عورت روئے جا رہی تھی ۔۔
اصغر کے دل میں پتا نہیں کیا آیا وہ ۔۔ اس عورت کے ساتھ جاتے لڑکے کو آواز دے بیٹھا۔۔
“سنو لڑکے۔۔”
وہ لڑکا رک گیا اور اس کی طرف دیکھا۔۔
“جی انکل” ۔۔ اس کی آواز بھی بھاری ہو رہی تھی جیسے وہ بھی رویا ہو۔۔
“ابو ہیں اپ کے۔۔” اصغر کو لگا شائید اس کے والد محترم ہیں ۔
“نہیں انکل میری بہن ہے۔ ان ظالم ڈاکٹرز نے غلط انجیکشن لگا دیا میری بہن کو اس کا بی پی ائی تھا پہلے ہی ان ظالم لوگوں نے نیند کا انجیکشن لگا دیا ۔۔ میری بہن ۔۔مار دی ان لوگوں نے ۔ ” وہ لڑکا روتا ہوا اپنی ماں کے گلے لگ گیا ۔
اصغر کو اس کی بات سے دھچکا لگا
“نیند کا انجیکشن لگا دیا “
یہ جملا بار بار کانوں کی سماعت سے ٹکراتا رہا ۔۔
وہ الٹے قدم واپس روم میں آیا جہاں رانیہ کو رکھا ہوا تھا۔۔
“اسے لے کر گھر چلنا ہے۔ ” ویل چئیر لا کر اسے اس میں لیٹایا ۔
سیما بار بار پوچھتی رہی کیا ہوا ہے ۔۔
وہ جواب نہیں دے رہے تھے۔
ڈاکٹرز بھی ان سے کہہ رہے تھے ان نے کسی کی نہیں سنی اسے لا کر گاڑی میں لیٹایا ۔۔ اور جلدی سے اسے لے کر گھر کی طرف روانہ ہو گئے ۔۔۔۔
پورے راستے وہ یا اللّٰہ مدد کرتے رہے ۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔ بہت بار ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا۔۔
“کیا ہوا ہے اپ کو” ۔۔ سیما نے ایک بار پھر گھبرا کر پوچھا۔۔
“سیما دعا کرو اپنی بیٹی کے لیے ۔۔” ان نے بس اتنا کہا ۔۔ اور پھر خاموش ہو گئے ۔۔ گھر پہنچتے ہی اسے اندر لے کر گئے ۔۔
“سیما اسے ہوش میں لاؤ جلدی سے ۔۔ “
ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔ انہیں سمجھ کچھ نہیں آ رہا تھا ۔
“کیا ہوا بابا ۔۔”
احمد بھی ان کی آواز سن کر ان کے پاس آ گیا۔۔
“بیٹا اسے اٹھاؤں” ۔۔
وہ اتنا کہہ کر باہر چلے گئے ۔۔
“ماما کیا ہوا ہے ۔۔”
“پتا نہیں بتا بھی نہیں رہے کچھ ۔۔” سیما نے پریشان ہو کر احمد کو دیکھا۔۔
“ماما پانی ۔۔ ماما پانی” ۔۔ اچانک سے رانیہ ۔نے۔ ہلکی سی آواز میں کہا۔۔
“جاؤں احمد ابو کو بلاؤ اور پانی بھی لیتے آنا۔۔”
احمد فوراً باہر گیا۔۔
احمد کے بتاتے ہی وہ اندر ائے اور ۔۔ رانیہ کو گلے لگا لیا۔
“میری بیٹی ٹھیک ہے بلکل ٹھیک ہے ۔۔” اسے پیار کرتے ہوئے وہ پیچھے ہوئے ۔۔
“یہ لو پانی پیو۔۔” ۔۔ سیما نے اسے پانی پلانے کے لیے تھوڑا سا اوپر کیا۔۔
“سیما اسے پانی پلا کر باہر آو میرے پاس۔۔ “وہ کہہ کر باہر چلے گئے۔
!…………!
“جی “.. سیما اسے پانی پلا کر ان کے پاس آ گئی تھی۔
“تمہیں پتا میں اسے کیوں لایا وہاں سے”… اصغر نے اسے پوری بات بتائی۔
سیما نے دل پر ہاتھ رکھ لیا۔۔
“اللّٰہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ۔میری بچی ۔۔ ٹھیک ہے ۔۔ ۔۔
۔ اللّٰہ اس بچی کے ماں باپ کو صبر دے امین ۔۔”
امین ۔۔ اور سنو۔۔ تم ۔۔رانیہ کے ساتھ رہنا ۔۔۔ سیما اسے ہماری ضرورت ۔۔ہے ۔۔
ہو سکتا ہے اکیلے رہ رہ کر وہ ایسی ہوتی جا رہی ہے ۔۔ اسے کہو گھر سے نکلا کرے ۔۔” ۔۔
“جی میں نے اسے کہا تھا اج۔۔”
“ہاں اسے کہوں کوئی کارس کر لے ۔۔ جب تک یونی میں ایڈمیشن نہیں ہوتا ۔”
“جی بہتر لیکن پہلے وہ ٹھیک ہو جائے پھر ۔ “
“وہ دوستوں میں رہے گی تو ٹھیک ہو جائے گی ۔۔ وہ پہلے ایسی نہیں تھی ۔۔ اب ہو گئی ہے اچانک کلج ختم ہوا تو گھر میں رہ گئی ہے تبھی۔۔”
“چلیں میں دیکھتی ہوں۔۔”
سیما کہہ کر واپس رانیہ کے کمرے میں ا گئی ۔۔ وہ سوئی ہوئی تھی ۔۔ سیما بھی اس کے ساتھ لیٹ گئی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: