Night Mare Novel by Durr-e-shahwar Malik – Episode 2

0
نائیٹ میئر از در شہورا ملک – قسط نمبر 2

–**–**–

وہ ایک بڑا سا شاپنگ مال تھا وہ اس میں چلی جا رہی تھی آس پاس کچھ دکانیں تھیں ۔۔ وہ اکیلی نہیں تھی ۔۔ ساتھ میں اس کی امی اور خالہ تھی ۔۔
وہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے شاپنگ مال کے دوسرے مرحلے پر آگئی تھی ۔
“ماما مجھے واشروم جانا ہے ” ۔۔ ساتھ چلتے ہوئے اس نے کہا۔
سیما نے اس کی طرف دیکھا اور سامنے سے آتی لڑکی سے پوچھا۔۔
“بیٹا واشروم کس فلور پر ہے ۔۔”
“انٹی وہ سامنے لیفٹ پر ۔۔ “
وہ تینوں اس کے اشارے پر چلتے ہوئے واشروم پہنچ گئی۔
وہ ایک عجیب سی جگہ تھی۔ ۔
اندر آو تو سامنے کو ایک گلی سیدھی جا رہی تھی اور اس کے ساتھ تین چھوٹے چھوٹے واش رومز بنے ہوئے تھے ۔۔
وہ ایک روم تھاا خالی ۔۔ پورا کمرا ایسا تھا جیسے سو سال سے یہاں کوئی آیا نا ہو۔
رانیہ اپنا بیگ سیما کو دے کر واش روم کی طرف چل پڑی ۔۔
اس رہداری سے گزرتے ہوئے اسے ایک دروازا نظر آیا جو بند تھا اور اس پر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا ۔
وہ اسے دیکھ کر واشروم چلی گئی ۔۔
تھوڑی دیر میں وہ باہر ائی تو۔۔۔ دوبارہ اس دروازے کو دیکھا اس کا تالا ہلکا ہلکا ہل رہا تھا جیسے کسی نے دروازا کھٹکایا ہو۔ وہ اگے بڑھ کر اندر دیکھنے لگی کہ کون ہے کیونکہ وہ ہلکی سے لکیر سا کھل چکا تھا ۔۔
اس نے دیکھا تو اندر اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔
وہ سر جھٹک کر اگے بڑھ گئی ۔۔
جیسے وہ اگے گئی اسی وقت ایک اور لڑکی واش روم جانے کے لیے وہاں سے گزری ۔۔
یہ سیما اور اس کی خالہ سامیہ اس کھنڈر نما واش روم کے مین گیٹ سے باہر نکلنے لگے ۔۔
اسی وقت وہ لڑکی جو اس تالا لگے دروازے سے اندر جھانک رہی تھی ۔۔ اسے کسی نے دبوچ کر اندر کیا۔۔ اور ایک دل خراش چیخ دروازے کے اندر سے ائی ۔۔
“ماما ” ۔۔ رانیہ ایک دم چیخ کر اٹھ گئی ۔۔
وہ پسینے سے شرابور تھی ۔۔ سانس اس کا تیز تیز چل رہا تھا۔
“کیا ہوا بیٹا ۔۔ ” سیما اس کے پاس ہی لیٹی ہوئی تھی اس کی چیخ سے فوراً اٹھ گئی ۔۔
“ماما یہ خواب مجھے مار ڈالے گے ماما مجھے لگتا ہے میں وہاں موجود ہوتی ہوں۔۔ وہ خوفناک آواز ابھی بھی میرے کان میں گونج رہی ہے ماما ۔۔ وہ جگہ ابھی بھی میرے ذہن میں ہے ۔۔ ماما میں پاگل ہو رہی ہوں۔۔۔۔ ماما پلیز مجھے مار دیے ۔۔ ماما مجھے مار دیے ماما میرا گلا دبا کر مار دیے مجھے۔ ۔ “
ایک دم روتے روتے وہ ہسنے لگی ۔۔ اور عجیب سی نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا پھر رونا شروع ہو گئی ۔۔ اتنا کہ ۔۔ اصغر اس کی آوزیں سن کر کمرے میں ا گئے ۔۔
“کیا ہوا سیما” ۔۔
“پتا نہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ میری بیٹی کو کیا ہو گیا ہے۔ ” سیما خود بھی رونے لگی رانیہ کی حالت دیکھ کر۔۔
“میں امی کو کال کرتا ہوں وہ کچھ بتا دیے ” ۔۔ اصغر کہنے کہ بعد کال کرنے چلا گیا ۔
اصغر کے جانے کہ بعد سیما نے اس پر ایت الکرسی پڑھ کر پھونکنا شروع کی ۔۔ تو ایک دم اس کا جسم جان چھوڑنے لگا۔۔
اس کا پورا جسم جھٹکے کھانے لگا۔۔
انکھیں اوپر کو چڑھ گئیں ۔۔
منہ ایسا سخت بند ہو گیا اس کا جیسے دانتوں پر لاک لگ گیا ہو۔۔۔۔
سیما کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔ اور وہ بھاگی ۔۔ اصغر کی طرف ۔۔
“اصغر ادھر آئیے اصغر ۔۔ “
اسے پکارتی ہوئی وہ واپس کمرے میں آئیں۔۔
رانیہ اب پورے بستر پر آڑی ترچھی ہو رہی تھی ۔۔
“ماما میرا سانس بند ہو رہا ہے ماما میرا سانس بند ہو رہا ہے ۔۔ ” بس ایک ہی بات وہ بار بار کرے جا رہی تھی ۔۔
“اصغر یہ معملا ڈاکٹرز کا نہیں ہے ۔۔ ” سیما نے رانیہ کو اپنی بہاؤ میں سمیٹنے کی کوشش کی ۔۔
“ماما یہ مجھے مار ڈالے گی ۔۔ ماما اسے کہیے جائے یہ مجھے مار ڈالے گی ۔۔” رانیہ کو اپنے ہاتھوں پر جیسی سیما نے لیا تو سامنے شیشے کے پاس اشارہ کر کے وہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگی ۔۔
“کوئی نہیں ہے وہاں رانیہ انکھیں کھولوں ۔۔ رانیہ اپنی انکھیں کھولوں ۔۔” ۔۔
سیما نے خود بھی اس کی انکھیں کھولنے کی کوشش کی ۔۔
لیکن وہ بہت سخت بند تھیں ۔۔
اصغر کو اچانک پتا نہیں کیا ہوا ۔۔ وہ بھاگے اور وضو کر کے قرآن کھول لیا ۔۔ وہ ویسے ہی چیخ رہی تھی ۔۔
اصغر نے سورہ یسن نکالی قرآن میں سے اور پڑھنا شروع کر دی ۔۔
رانیہ ویسے کی چیخ رہی تھی ۔۔۔
پھر آہستہ آہستہ اس نے انکھیں کھول دیں ۔۔ اور اپنے اردگرد دیکھنے لگی ۔۔
سیما کو دیکھ کر اسے گلے لگا لیا۔۔
“ماما”
بس وہ ماما کرے جا رہی تھی ۔۔ اور روئے جا رہی تھی ۔۔
سیما نے انکھوں کے اشارے سے اصغر کو جانے کو کہا۔۔
وہ چپ کر کے باہر چلے گئے ۔۔
سیما اسے گلے لگائے ہی وہیں پاس لیٹ گئی۔ ۔
!……………..!
گھر میں اس وقت صرف وہ تھی ۔۔ سیما ساتھ والوں کے گھر گئی ہوئی تھی۔
وہ اٹھی تو گھر میں اسے کوئی نظر نا آیا اسے پیاس لگی ہوئی تھی پانی پینے چلی گئی۔
کچن میں پہنچ کر اسے محسوس ہوا کوئی اس کے ساتھ وہاں آیا ہے چل کر ۔۔
اس نے آہستہ سے سر گھما کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔۔
سر جھٹک کر فرج سے پانی لیا ۔۔ اور واپس کمرے میں آنے کے لیے مڑ گئی۔
اسے پھر محسوس ہوا کوئی اس کے ساتھ ہے ۔۔
اب کی بار اسے باقاعدہ ننگے پاؤں چلنے کی آواز آئی ۔۔
اس نے آیت الکرسی پڑھنا شروع کر دی ۔۔
دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔
تیزی سے کمرے میں جا کر بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔
اسی وقت لائٹ بھی چلی گئی ۔۔
دل کی دھڑکن اسے واضع سنائی دے رہیں تھیں۔ دوپہر کے وقت بھی اس کے کمرے میں اندھیرا ہو گیا تھا۔۔
اس نے زور سے انکھیں بند کر دی ۔۔
اسے پھر محسوس ہوا جیسے کوئی بیڈ پر آ کر بیٹھا ہو
“کو ۔۔ ککک کون ہے ۔۔” اس نے بند انکھوں سے ہی ڈرتے ہوئے پوچھا ۔۔ کوئی جواب نا آیا۔۔
اس نے ڈرتے ہوئے ایک انکھ کھولی تو سامنے کوئی نا تھا ۔۔
اس نے جلدی سے دوسری انکھ بھی کھول دی ۔۔
اس نے جلدی سے پاس پڑے موبائل کی لائٹ آن کی ۔۔ اور دیکھا کون ہے ۔۔ لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔۔
وہ پھر سے آیت الکرسی پڑھنے لگی ۔۔
اسے کوئی پاس سے اٹھ کر جاتا ہوا محسوس ہوا۔۔
اور پھر اس میں اور ہمت نا رہی وہ بیہوش ہو گئی۔
!……………………!
یہ ان کا پورانا گھر تھا ۔۔ وہ اس گھر کے سہن پر کھڑی تھی ۔۔
اچانک وہاں پر کچھ عورتیں آئیں سب نے سفید لباس پہنا ہوا تھا۔
اور ان کے چہرے پر سفید رنگ کے دوپٹے بندے ہوئے تھے ۔۔ چہرے بھی سفید تھے ۔۔ جیسے کبھی خون رہا نا ہو ان میں ۔۔
وہ ساری عورتیں اسے غور سے دیکھ رہی تھیں۔ ۔
“میں تمھاری نانی ہوں ۔۔ رانیہ میرے پاس آؤ ۔۔”
“نہیں میں تمھاری نانی ہو رانیہ میرے پاس آؤ” ۔۔
وہ ان سب کو دیکھ رہی تھی وہ ساری بار بار کہہ رہی تھیں۔
کہ اچانک اسے سامنے سے اپنی نانی آتی دیکھائی دیں ۔۔
اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر وہاں سے لے گئیں ۔۔
ایک دم جھٹکے سے اس کی انکھ کھل گئی ۔۔
کمرے میں اندھیرا تھا ۔ اس نے اپنے ارد گرد دیکھا موبائل اٹھایا اور ٹارچ آن کر دی ۔۔
کتنی دیر وہ لمبے لمبے سانس لیتی رہی ۔
“یہ کیا تھا کون تھیں وہ عورتیں ۔۔ اور نانو ماما کیوں ائیں تھیں ۔۔ کون تھیں وہ سب ۔۔ اور یہ لائٹ کیوں نہیں ائی ابھی تک ۔۔ ” ۔۔
اس نے خودکلامی کی اور اٹھ کر باہر آ گئی اسے اب ڈر زیادہ لگنے لگا تھا۔۔ ۔ سیما بھی ابھی تک گھر نہیں ائی تھی ۔۔
اس نے سیما کو کال کی تو موبائل گھر پر ہی بج رہا تھا۔۔
وہ جا کر مین گیٹ کھول کر وہا کھڑی ہو گئی ۔۔اسے دور سے ہی احمد آتا دیکھائی دیا ۔۔
اس کی سانس میں سانس ائی ۔۔
احمد اسے اس طرح گیٹ پر دیکھ کر حیران ہوا۔
“کیا ہوا ایسے یہاں کیوں کھڑی ہو۔ “
“لائٹ نہیں ہے اور اندر اندھیرا ہے ۔۔ ڈر لگ رہا ہے ۔۔”
احمد اسے لیے اندر ا گیا ۔۔ جیسے اندر ایا لائٹ بھی ا گئی ۔۔ اور ۔۔ سیما بھی اسی وقت گھر آئی۔۔
“کہا تھیں آپ ماما” ۔۔ سیما کو دیکھ کر رانیہ روہانسی ہو گئی۔
“بیٹا کام سے گئی تھی ۔۔۔۔ “
اتنا کہہ کر وہ کمرے میں چلی گئی ۔
رانیہ بھی کمرے میں آ گئی۔
!…………….!
“میں اج کوثر کی طرف گئی تھی ۔۔ اس سے بات کی میں نے رانیہ کے معاملے کے بارے میں ۔۔ ” رات کو جب اصغر سونے کو لیٹا تو ۔۔ سیما انہیں اپنے جانے کا بتانے لگی۔۔
“اچھا تو کیا کہتی وہ ۔۔،”
“ان نے ایک بندے کا بتایا ہے جو حساب لگاتا ہے ۔۔ اس کے ذریعے معلوم ہو جائے گا کہ رانیہ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے ۔۔ “
“دیکھو میں اپنی بیٹی کو کسی کے پاس نہیں لے جانے والا۔۔ میں نے ایک سئکریٹز سے بات کی ہے ۔۔ پرسوں کی اپوائنٹمنٹ ہے ۔۔ “
اتنا کہہ کر وہ کروٹ بدل کر سو گئے ۔ جس کا صاف مطلب تھا وہ اس معاملے میں بات نہیں کرنا چاہتے ۔۔
وہ بھی چپ کر کے کمرے میں آ گئی۔
رانیہ جاگی ہوئی تھی ۔۔ انہیں دیکھ کر ہسنے لگی۔
“ماما بھوک لگی ہے ۔۔ ” وہ جیسے پاس آ کر بیٹھی تو اس نے کہا۔۔
“اچھا روٹی بنا دوں یا بریڈ لو گی۔۔” وہ واپس اٹھتے ہوئے بولیں ۔۔
“نہیں ماما میں مرغی کھاؤں گی” رانیہ نے لاڈ سے کہا۔۔
“لیکن بیٹا وہ تو بنی نہیں ہے آج میں نے آلو مٹر بنائے تھے۔ ” ۔۔
“کچی کھاؤں گی میں ۔۔ مجھے دو۔۔ مجھے دو کچھی مرغی دو ۔۔ “
ایک دم رانیہ کا بولنے کا اسٹائل بدل گیا بلکل بچوں کی طرح ضد کرنے لگی ۔۔
سیما کو بھی ہنسی ائی اس پر۔۔
“کچی مرغی کیسے کھاؤ گی۔ ” سیما ہنستے ہوئے اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“نہیں دیے گی آپ مجھے ۔۔ ہاں ناراض کریے گی مجھے ۔۔”
رانیہ نے روتا منہ بنا کر کہا۔
“ہاں نہیں دوں گی ۔۔'”
سیما کی بات پر وہ زور زور سے چیخنے لگی
“مجھے دو مجھے چائیے ہے ۔۔ مجھے دو ۔۔ پھر وہ رونا شروع ہو گئی اس کی آواز اب بڑھتی جا رہی تھی ۔۔
“رانیہ بس کر دو چپ کر جاؤں کچی مرغی نہیں دو گی تمہیں میں سو جاؤں ورنہ میں تمہیں ۔۔ بابا پاس بند کر آؤں گی” ۔۔
سیما نے غصے سے اس کی انکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔
“کون سے بابا”
وہ ایک دم چپ ہو گئی ۔۔ اس کی انکھیں ایک دم سے لال سرخ ہو گئیں تھیں ۔۔ سیما اس کی انکھیں دیکھ کر ڈر گئی ۔۔
عجیب سی وحشت تھی ان انکھوں میں ۔۔
“سو جاؤں کوئی نہیں “
سیما اتنا کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔
سیما کے جاتے ساتھ ہی ۔۔ رانیہ ایک طرف کو گر گئی۔
اس کا وجود ایک دم سے بلکل نڈھال ہو گیا تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد جب ۔۔ سیما اس کے لیے بریڈ اور دودھ لے کر ائی ۔۔تو وہ گہری نیند سو رہی تھی ۔۔
اسے سوتا دیکھ کر وہ حیران ہو گئیں ۔۔
“ابھی اسے اتنی بھوک لگی تھی اور اب۔۔”
وہ سوچتے ہوئے واپس چلیں گئیں ۔۔
!…………………..!
اس نے جیسے ہی وہ جاڑی ہٹائی تو پاس ہی ایک عورت بیٹھی بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔
وہ سب دوستوں کو چھوڑ کر اس کی طرف چل پڑی۔۔
“رانیہ نا جاوں بریک ختم ہونے والی ہے” اس کے پاس کھڑی ایک دوست نے کہا۔۔
اس نے سنی نہیں اور اس عورت کے پاس چل پڑی ۔۔
“سنے”
وہ عورت اس کی آواز پر اس کی طرف پلٹی ۔۔ تو رانیہ کو ایک دم جھٹکا لگا ۔۔ وہ عورت وہ خود تھی یا اس جیسی شکل والی ۔۔
وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ کہ اچانک اس کی گود میں موجود بچا بھی اس کو دیکھنے لگا۔
بڑی بڑی انکھیں ہنستا چہرہ ۔۔
جیسے اس کا اپنا بچپن ہو۔۔
“آپ کون ہیں”۔ ۔
رانیہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔
اس عورت نے جواب نہیں دیا بس ہسنے لگی ۔۔
رانیہ کو عجیب لگا ۔ اس نے دوبارہ پوچھا۔۔
“اپ کون ہیں ۔۔”
اس بار وہ عورت ہنسی نہیں اور اچھل کر رانیہ کے اوپر آئی اور اس کا گلا دبا دیا ۔جھٹکا لگنے سے وہ زمین پر گر گئی تھی ۔۔پاس بیٹھی وہ بچی تالیاں بجا رہی تھی
رانیہ ہاتھ پاؤں مار رہی تھی ۔۔کوئی نہیں سن رہا تھا۔۔
اس نے بہت آوازیں دیں اپنی ماں کو لیکن کسی نے نہیں سنی ۔۔
رانیہ نے زور زور سے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔۔ کہ اچانک اس کی جھٹکے سے آنکھ کھل گئی اس نے اپنے پاس دیکھا تو ساتھ ہی سیما لیٹی موبائل پر کچھ کر رہی تھی ۔
اور وہ خود کروٹ لیے لیٹی تھی ۔۔اس کا جسم اتنا سن ہو گیا تھا کہ وہ ہاتھ تک نہیں اٹھا پا رہی تھی ۔۔ تھوڑی دیر اس نے گہرا گہرا سانس لیا۔۔ پھر کروٹ بدل کر سیما کو دیکھا۔۔
“ماما کتنی آوازیں دیں میں نے آپ کو کتنا چیخی آپ نے کیوں نہیں سنا۔ “
ان کو ہلاتے ہوئے اس نے کہا۔۔
“لیکن بیٹا اپ کی ایک بھی آواز نہیں ائی مجھے” ۔۔
سیما نے اس کی طرف منہ کیا ۔
“اپ نے پھر کوئی خواب دیکھا ہے ۔”
“جی ماما اپنے اسکول کی وہ جھاڑیاں دیکھی ہیں جہاں ہم کھیلتے تھے۔ ” سیما کے گلے لگتے ہوئے وہ گویا ہوئی۔
“بیٹا یہ سب اپ کا وہم ہے اپ باتیں سوچتی ہو نا تبھی ایسا ہوتا ہے ۔۔ ہم کل اپ کو ڈاکٹر پاس لے کر جائے گے ۔۔
انشاء اللہ آپ بلکل ٹھیک ہو جاؤں گی۔ “۔
سیما نے پیار سے اس کے بال سہلاتے ہوئے کہا
“ماما میں نے کوئی وہم نہیں پالا ہوا۔۔ ماما میں اپنے اپ کو اس جگہ پاتی ہوں ۔۔ میرے ساتھ وہ سب سچ میں ہو رہا ہوتا ہے ۔ ماما یہ سب وہم کیسے ہو سکتا ہے ۔ میں کوئی بچی تھوڑی ہوں جو مجھے سمجھ نا ائے ۔۔ تائیس سال کی جوان لڑکی ہوں میں ۔۔ ۔”
“ہو سکتا ہے تمھاری سوچنے کی پاور بہت تیز ہو۔۔”
“لیکن ماما”
“لیکن ویکن کچھ نہیں ہے ہم جائیں گے معلوم ہو جائے گا۔۔
اب سو جاؤں آپ” ۔۔
سیما کہنے کے بعد کروٹ لے کر خود سونے لگی۔
اس کے پاس اس کے سوالوں کے کوئی جواب نہیں تھے ۔۔
رانیہ نے بھی گہرا سانس لیا اور دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: