Night Mare Novel by Durr-e-shahwar Malik – Episode 3

0
نائیٹ میئر از در شہورا ملک – قسط نمبر 3

–**–**–

سنسان گلی تھی وہ اگے پیچھے دیکھے بغیر بھاگے جا رہی تھی ۔۔
پیچھے سے اسے کوئی آواز دے رہا تھا وہ اس آواز کو سن کر اور تیز بھاگنے لگی ۔۔
“رانیہ نا جاؤں نا مجھے چھوڑ کر۔۔”
لگاتار کوئی اسے پکار رہا تھا ۔۔
وہ بھاگے جا رہی تھی۔
اچانک آواز انا بند ہوگئی ۔
وہ رکی اور مڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا پیچھے۔۔
وہ واپس جانے کے لیے آہستہ آہستہ قدم بڑھانے لگی ۔۔ کہ اچانک سامنے سے خوفناک آواز نکالتے ہوئے ایک بچا آیا اور اس کے ساتھ چمٹ گیا۔۔
“چھوڑو مجھے” ۔۔ وہ زور سے چیخنے لگی ۔۔
لیکن کوئی نہیں سن رہا تھا۔
وہ بچہ ۔۔ پہلے اس کا ہاتھ کھانے لگا ۔۔ اسے تکلیف ہو رہی تھی ۔۔
وہ آہستہ آہستہ خود کو مرتے دیکھ رہی تھی۔
پھر اچانک اس کے منہ پر کسی نے ہاتھ رکھ دیا اس کا سانس بھی رکنے لگا۔۔ وہ چکراتے سر کے ساتھ زمین بوس ہو گئی۔
اسے دور سے سیما کی آواز آ رہی تھی ۔۔
وہ جواب دینا چاہ رہی تھی لیکن وہ نہیں دے پا رہی تھی۔
کتنی دیر۔ وہ اس آواز کو سنتی رہی ۔
پھر محسوس ہوا کوئی اسے ہلا رہا یے ۔۔ لیکن وہ اپنے کو مرتا دیکھ رہی تھی۔ اس کے جسم سے خون زمین پر دھار سا جائے جا رہا تھا پاس کھڑا بچا اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا ۔
پھر اس نے اپنے سر کو اتار کر اسمان پر اچھال دیا۔ ۔
ادھی کھلی آنکھوں سے وہ یہ منظر دیکھ رہی تھی ۔۔
پھر ایک شخص اس کے پاس ایا۔۔
اس کے ہاتھ میں کفن تھا ۔۔ اس نے وہ لا کر اس کے اوپر دیا۔۔
وہ بچہ اب سانپ کر طرح رینگنے لگا اس کے پاس ہی۔
اس کی کھوپڑی آسمان پر ہی معلق تھی ۔۔
اس کا دل بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔
اسے دور سے ۔۔پھر سے سیما کے پکارنے کی آواز ا رہی تھی۔
وہ شخص اب اس پر کفن ڈال کر اسے پاؤں سے پکڑ کر گھسیٹنے لگا۔۔۔
اس نے نم ہوتیں آنکھیں زور سے بند کی ۔۔ اسے یقین آ گیا تھا وہ اج مر جائے گی ۔۔ اچانک اسے کسی نے پکڑ کر بیٹھا دیا اور اس کے چہرے پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا۔۔
وہ چیخ مار کر ایک دم بیدار ہوگئی۔
“ماما ماما ” انکھیں کھلتے ہی وہ سیما کے گلے لگ گئی ۔
“کیا ہوا بیٹا تم سوتے ہوئے رو کیوں رہی تھی وہ بھی اتنی تکلیف سے ۔۔ کیا ہوا بچے ۔۔ ” سیما نے اسے اپنے ساتھ لگائے ہوئے پوچھا۔۔
وہ جب اسے جگانے آئی تو اس کے چہرے پر قرب تھا تکلیف تھی اور وہ رو رہی تھی ۔۔ سیما نے بہت جگایا بہت آوازیں دیں وہ جب نا اٹھی تو اسے اٹھا کر بیٹھا دیا اور منہ پر ٹھنڈا پانی گرایا۔۔
“ماما یہ خواب ۔۔ یہ خواب بہت خوفناک تھا ۔۔ وہ سب مجھے مار ڈالے گئے ماما ۔۔ “
سیما سے دور ہو کر وہ بے بسی سے بولنے لگی ۔۔
“بیٹا دیکھوں ہم نے کل جانا ہے ڈاکٹر پاس ۔۔ ڈاکٹر سے بات ہو جائے تو ہی پتا چلے گا کے کیا ہونے والا ہے۔ اور کوئی نہیں ایسے مار سکتا خواب میں ۔۔ تم ڈرتی ہو تبھی شیطان تمہیں ڈراتا ہے۔ “
سیما اسے سمجھاتے ہوئے بیڈ سے اٹھ گئی۔
“اٹھوں منہ ہاتھ دھوں لو ناشتہ بنا رہی وہ کر لینا ۔۔ پھر پھوپھو کی طرف چلی جاؤں اج تم دل بہل جائے گا ۔ “
سیما بول کر کمرے سے باہر چلی گئی۔ تو ایک دم رانیہ غصے سے اٹھ کر ان کے پاس ائی۔
“اس بدبخت نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا اور تو مجھے وہاں بھیجنا چاہتی ہے ۔۔” سرخ انکھوں سے سیما کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے رانیہ نے کہا ۔۔
سیما کا دل دہل گیا ۔۔ وہ رانیہ کو دیکھ کر دو قدم پیچھے ہوئی۔
“کیا ۔۔ کیا کہہ رہی ہو تم۔۔” سیما نے ڈرتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر کہا ۔
“کیا ۔۔ میں نے کیا کہا۔۔ میں اپ کے پاس کب ائی۔ ” ۔۔
رانیہ ایک دم اپنے ارد گرد دیکھنے لگی ۔
سیما کی چھٹی حس اسے الارم بجانے لگی ۔۔
“ککک کچھ نہیں جاوں منہ ہاتھ دھو کر آؤ ۔” وہ کہہ کر باہر چلی گئی۔
سیما کے جانے کے بعد وہ واشروم چلی گئی ۔۔
منہ پر پانی گرایا تو خود کو آئینے میں دیکھنے لگی ۔۔
ایک پل کو اسے لگا کے سامنے کھڑی وہ نہیں ہے ۔۔
وہ شیشے میں خود کو غور سے دیکھنے لگی ۔۔
کہ اچانک وہ مسکرانے لگی ۔۔
اور انکھیں عجیب وحشت سی تھی ان میں ۔۔
وہ خود کو دیکھ کر ۔ ڈر گئی ۔۔
اس نے شیشے پر دیکھے بغیر منہ دھویا اور باہر آ گئی۔
باہر ائی تو کمرے کا دروازا لاک تھا ۔
اس نے دروازا کھولا تو وہ کھل نہیں رہا تھا۔
اچانک اس کے کان کے پاس کسی نے سرگوشی کی ۔۔
“احمد ۔ رانیہ”
وہ ایک دم پلٹی تو وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔
اس نے دروازا پھر سے کھولنے کی کوشش کی ۔۔ پھر اس کے کان میں کسی نے سرگوشی کی ۔۔
“رانیہ ۔۔۔۔ رانیہ۔۔۔۔ “
اسے اپنے کندھے پر کسی کا دباؤ محسوس ہوا ۔۔۔
اس نے ڈرتے ڈرتے مڑ کر دیکھا تو وہاں ہری چادر میں کوئی تھا ۔۔نظریں جھکائی ہوئیں تھیں۔
اسے دیکھتے ہی اس نے زور کی چیخ ماری اور وہیں بیہوش ہو گئی ۔
اس کی چیخ سن کر سیما جلدی سے کمرے میں آئی۔
دروازا بند تھا اس نے جھٹکا دے کر کھولا تو ۔۔ وہ زمین بوس تڑپ رہی تھی ۔۔ اس کے وجود سے جیسے جان نکل رہی ہو۔۔
سیما کا سانس ہی رک گیا۔
“کیا ہوا رانیہ رانیہ بیٹا کیا ہوا۔۔”
وہ ویسی ہی رہی ۔۔ سیما نے اسے اٹھانا چاہ بھی تو وہ اسے نہیں اٹھا پائی ۔۔
ان نے جلدی سے اصغر کو کال کی ۔۔
دوسری بیل پر ان نے اٹھا لی ۔۔ سیما نے انہیں رانیہ کا بتایا ۔۔
وہ اسی وقت گھر ا گئے۔
سیما اس پر دعائیں پڑھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں۔
وہ پھر سو گئی تھی۔
اسے بیڈ پر لیٹا کر اس کے پاس ہی بیٹھ گئیں ۔۔
!………………….!
اسے اپنے سینے پر وزن محسوس ہوا ۔۔ اس نے انکھیں کھول کر دیکھا تو ۔۔ اس کے اوپر بلی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔ بلیاں اسے بہت پسند تھیں ۔۔ اس نے بلی پر ہاتھ پھیرا تو ایک دم وہ اس کے اوپر سے اتر کر نیچے چلی گئی۔
اس نے اٹھ کر دیکھا تو وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔
یہ اسی کا کمرا تھا لیکن کمرا کم قبرستان زیادہ لگ رہا تھا ۔
اس نے چاروں طرف دیکھا تو ساری دیواریں ٹوٹیں ہوئیں تھیں ۔۔
ان میں سے لال رنگ کے کیڑے نکل رہے تھے جو قبروں میں پائے جاتیں ہیں ۔۔ وہ یہ سب دیکھ کر دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔
اسے اپنے بیڈ کے پاس کوئی لیٹا ہوا محسوس ہوا اس نے تھوڑا سا جھک کر اپنے بیڈ کی الٹی طرف دیکھا تو ۔۔ نیچے ایک مردہ لیٹا ہوا تھا ۔۔۔
کفن منہ سے ہٹا ہوا تھا کوئی تاذہ تاذہ مرا ہو جیسے ۔۔
اس کے منہ پر وہی کیڑے چل رہے تھے جو دیواروں پر تھے ۔۔
اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔
اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ ایک بار پھر اس میت کو دیکھا۔۔
اچانک اس میت کی انکھیں کھل گئیں۔
اور چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔ خوفناک مسکراہٹ
پھر اس نے اپنے کفن سے ہاتھ نکالا ۔
اور اس کی طرف کیا ۔
رانیہ چیخ کر بکل پیچھے ہوگئی۔
وہ میت اب اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔
رانیہ اس خواب کو مزید نہیں دیکھنا چاہ رہی تھی اس نے بہت کوشش کی انکھیں کھول دے لیکن اس کی انکھیں نا کھلی ۔۔۔
وہ میت اٹھ کر اب ایک قبر سے بچے کو نکال کر اس کے پاس لے ائی وہ کوئی چھوٹی سی بچی تھی دو تین سال کی ۔۔
وہ اس بچی کو دیکھ رہی تھی ۔۔
اس کفن پہنی میت نے ۔۔ اس کی گردن گول۔گمانا شروع کر دی ۔۔ جیسے سکرو گھما رہا ہو۔۔
رانیہ نے زور زور سے سیما کو آواز دینا شروع کر دی ۔۔ لیکن اس کی آواز کسی نے نہیں سنی ۔۔
رانیہ نے جیسے ہی ایت الکرسی پڑھنا شروع کی اس کی انکھیں ایک دم کھل گئیں وہ پھٹی پھٹی نظروں سے ۔۔ سیما کو دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ اس کے سامنے بیٹھی قرآن پاک پڑھ رہی تھی ۔۔
“ماما اپ کب آئیں” ۔۔
“ابھی ابھی آئی ہوں ۔۔ سوچا تم پر دم کر دوں ۔۔ تم جو ڈری ہوئی ہو ۔۔ تو تھوڑا ڈر کم ہو جائے ۔۔ “
رانیہ نے کوئی جواب نہیں دیا سر ہلا کر دوبارہ انکھیں بند کر لیں ۔۔
!……………..!
رات کو جب اصغر گھر آیا تو ۔ سیما نے اسے سب بتایا۔۔
“پہلے میں اپنی تسلی کے لیے اسے کل لے جاؤں اس کے بعد تم لے جانا جس بابے کے پاس لے کر جانا ہے۔ “
اصغر غصے سے کہہ کر سونے چلیں گئے۔
سیما دل ہی دل میں سوچنے لگی کے کسی طرح کل ہی لے جائیں ۔ وہ بہت ڈر گئی تھی ۔۔
“پتا نہیں میری بچی کو کیا ہو گیا ہے ۔۔ کوئی سایہ ہی ہے ۔۔ورنہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ اور یہ سمیرا کے بارے میں کیا کہہ رہی ہے ۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔۔ اللّٰہ رحم کریں میری بچی پر ۔۔” وہ دعا کرتی ہوئی رانیہ کے پاس آگئیں
رات پوری وہ رانیہ کے پاس ہی بیٹھی رہیں کبھی اس پر ایت الکرسی پڑھ کر پھونک دیتی تو کبھی اس کے لیے رقیہ لگا دیتیں ۔۔
تین بجے کے قریب ان پر نیند تاری ہونے لگی ۔۔
وہ اس کے پاس ہی سیدھی ہو کر لیٹ گئیں۔
ابھی ۔۔ ان کو سوئے ہوئے ۔۔ کچھ دیر ہی ہوئی تھی ۔۔
رانیہ چیخ مار کر ان سے چپک گئی ۔۔
سیما نے اسے اپنے ساتھ سمو لیا ۔۔ اور اس پر ایت الکرسی پڑھ کر پھونکنے لگی۔۔
وہ نیند میں ہی تھی ۔۔
سیما کے گلے لگ کر وہ سو گئی ۔۔
!……………..!
وہ سکون سے سو رہی تھی۔ ۔ جب اچانک اس کے اوپر ایک لمبے بالوں والی عورت چھلانگ لگا کر اس کے اوپر ائی ۔۔ اس نے چیخ ماری اور سیما کے گلے لگ گئی ۔۔
!……………!
اصغر نے اج آف لیا تھا اسے ہسپتال لے جانے کے لیے ۔۔
اپوائنٹمنٹ وہ پہلے لے چکا تھا۔
احمد کے یونی جانے کے بعد ۔۔ یہ سب ہسپتال کے لیے نکل گئے ۔۔
!……….!
ویٹنگ آریہ پر بیٹھے یہ ۔۔ اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے ۔۔
اتنے میں کمپانڈر نے ان کا نام۔پکارہ ۔۔
اصغر سیما اور رانیہ تینوں ساتھ اندر گئے ۔۔
رانیہ جیسے اندر داخل ہوئی تو سامنے بیٹھے ڈاکٹر کو دیکھ کر اس کی انکھیں باہر کو آ گئیں ۔۔
اور دوسرے ۔۔ ٹیبل پر بیٹھی لیڈی ڈاکٹر کی گود پر اس بچی کو دیکھ کر اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔
اس ڈاکٹر نے رانیہ کی طرف دیکھا۔۔
تو وہ ایک دم کھڑے ہو گئے ۔۔
رانیہ خوفزدہ ہو کر اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
یہ بچی اور ڈاکٹر اس نے خواب میں دیکھے تھے ۔ یہ میت والا ڈاکٹر ہی تو تھا ۔۔ اور وہ بچی وہی تھی جس کی گردن موڑی تھی اس نے ۔۔
ڈاکٹر اور رانیہ یک ٹک ایک دوسرے کو دیکھے جا رہے تھے ۔۔
اصغر کو عجیب لگا تو وہ بول پڑا۔
“ڈاکٹر یہ میری بیٹی رانیہ ہے ۔۔ اس کے سلسلے میں بات کرنی ہے” ۔
اصغر کی آواز پر وہ چونکہ اور پھر بیٹھ گیا۔۔
“جی بولیں کیا ہوا انہیں ۔۔”
“ڈاکٹر یہ سوتے ہوئے ڈر جاتی ہے کہتی ہے عجیب خواب آتے ہیں ۔ ” اصغر رانیہ کہ ڈیٹیل دینے لگا۔۔
سیما اور رانیہ پاس ا کر بیٹھ گئیں ۔۔
“اچھا رانیہ اپ خواب میں کیا دیکھتی ہوں ۔۔ مطلب خود کو بھاگتے ہوئے ۔۔ یہ اونچائی سے گرتے ہوئے ۔۔ یا کچھ اور” ۔۔ برہان اب نارمل ہو گیا تھا۔۔
وہ اپنے پروفیشنل لہجے میں بات کرنے لگا۔۔
“میں حقیقت دیکھتی ہوں ۔۔ میں جو دیکھتی ہوں ۔۔ وہ سب سچ ہوتا یے ۔۔ میں وہاں موجود ہوتی ہوں ۔۔ میرے ساتھ جو ہوتا ہے خواب میں ۔ میں اسے محسوس کرتی ہوں ۔۔”
اتنا کہہ کر رانیہ کانپنے لگی ۔۔ اسے پھر جھٹکے پڑنے لگے ۔۔
برہان اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
برہان نے مہجبین کی طرف دیکھا ۔۔
مہجبین نے انکھوں سے اشارہ کیا کے کیا ہوا۔۔
برہان نے مریم کو باہر لے جانے کا اشارہ کیا۔۔
مہجبین سمجھ کر باہر لے گئی ۔۔
برہان ۔۔ رانیہ کو زمین پر تڑپتا ہوا دیکھ رہا تھا۔
“آپ اسے لے جائیں ۔۔ میرے پاس ان کا علاج نہیں ہے ۔ “
برہان نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔۔
اس کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے ۔۔
اصغر نے ڈاکٹر کو دیکھا ۔۔ جب ڈاکٹر منہ موڑے کھڑا رہا تو ۔۔
اصغر نے تڑپتی رانیہ کو اٹھایا ۔
اور باہر لے ایا ۔۔ سب لوگ دیکھ رہے تھے ۔۔
وہ جلدی سے چلتا ہوا ۔
رانیہ کو گاڑی تک لایا۔۔
گاڑی میں ڈال کر وہ اسے ۔۔ سیدھا ۔۔ سیما کی بتائی جگہ پر لے گیا۔۔
!…………….!
“برہان یہ کیا تھا۔۔”
ان کے جانے کی بعد مہجبین واپس کمرے میں ائی ۔۔
“مہجبین ۔۔ ادھے گھنٹے کی بریک دے دو میں ابھی پیشنٹ نہیں دیکھ سکتا ” ۔۔
پیشانی پر امڈتے پسینے کے قطرے اس نے فوراً صاف کیے ۔۔
“وہ ٹھیک ہے پہلے یہ بتاؤں کیا تھا۔۔
“مہجبین ۔۔ وہ بچی شائید مر جائے ۔۔”
“کیا ۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو تم ۔۔”
مہجبین کو تعجب ہوا برہان کی بات پر۔۔
“اس کے ساتھ ایک اور وجود بھی جیتا ہے ۔۔ جو اس کے وجود پر برسوں سے قبضہ کر کے بیٹھا ہوا ہے ۔۔ شائید وہ اسے مار دے ۔۔” ۔۔
برہان نے ۔۔ پھر پیشانی صاف کی ۔۔
“مہجبین وہ تڑپ رہی تھی میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پایا۔۔
بابا نے اگر مجھے قسم نا دی ہوتی نا ۔۔ مہجبین تو شائید میں اس بچی کو ایسے تڑپتا ہوا واپس نا بھیجتا ۔۔ “
“دیکھوں برہان ۔۔ تم سب جانتے ہو نا تو جا کر بابا سے بات کرو ۔۔ کسی کو تکلیف سے نکالنا بھی خدمت خلق ہے ۔ تم کہوں تو میں بات کروں۔ ” ۔۔
مہجبین نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے ڈھارس دی
“ھھم وہ نہیں مانے گے ۔۔ “
“کر کے دیکھ لیتے ہیں ۔۔”
“چھوڑو اب ۔۔ وہ لوگ جا چکے ہیں ۔۔ ۔۔ وہ سمجھ گئے ہونگے ۔۔ کسی بابا وغیرہ کو دیکھا دیے گے ۔۔ تم پیشنٹ بلواؤ”
برہان کہہ کر اپنی جگہ پر جا بیٹھا۔۔
اور مہجبین نے دوسرے پیشنٹ کو بلوایا
!………………….!
بڑے سے سہن کے بیچ میں وہ کھڑی تھی ۔۔ ایک مندر تھا وہاں بہت سے بت پڑے تھے ۔۔ ایک بابا ہر بت کے اگے دودھ ڈالتا اور سب لوگ اس دودھ کو زبان سے چاٹنے لگ جاتے تھے ۔۔ وہ یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ غصے سے چلتی ہوئی اس مندر کے اندر گئی ۔۔ اور بابا کے ہاتھ سے پیالا لیا اور وہ پیلا بت پر دے مارا۔
وہ بابا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
اپنے ہاتھ میں پکڑی چھڑی اس نے رانیہ کو ماری رانیہ نے پاس پڑا پتھر اٹھا کر بابا کے سر پر مارا اور پھر سارے بت توڑنے لگی ۔۔
ایک دم جھٹکا لگنے سے اس کی انکھ کھل گئی ۔۔ وہ گاڑی میں تھی ۔۔ اور گاڑی ایک ۔ گھر کے پاس رکی تھی ۔۔
وہ الجھی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔ا سے یاد نہیں ا رہا تھا کے وہ گاڑی پر کیسے ائی ۔۔ اور اب یہ کہا آئیں ہیں ۔
!..……..۔۔۔۔۔۔۔۔!
وہ ایک چھوٹا سا گھر تھا ۔۔
سب آ جا رہے تھے دروازا کھلا تھا۔۔
رانیہ کو لے کر اصغر اندر آیا سیما بھی ساتھ تھی ان کے پ۔
سامنے ایک لڑکا کھڑا تھا انہیں دیکھ کر اس نے اگربتی پکڑائی ۔۔ اور سامنے لگی جھالر پر جلا کر لگانے کو کہا۔۔
سیما نے اس سے لے کر جلائی اور وہاں لگائی۔۔
اصغر کو یہ سب دیکھ کر غصہ آرہا تھا لیکن وہ چپ رہا۔۔
اندر گئے تو بہت سی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں ۔۔ اصغر کو باہر ہی روک لیا۔۔
اصغر رانیہ کو لیے باہر ہی کھڑا تھا جب ۔۔
اندر سے ایک بابا باہر آیا۔۔
اور آتے ساتھ ہی ۔۔ رانیہ کو اس سے چھینا۔۔
یہ دیکھ کر اصغر کو اور غصہ آیا۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔ “
“تیری بیٹی فتنا ہے مار دے اسے ورنہ یہ مار دے گی سب کو” ہاتھ میں پکڑی چھڑی ۔۔ رانیہ کے سر پر مارتے ہوئے اس نے کہا ۔۔جس کی وجہ سے رانیہ زور سے چیخی اور بابا کا گلا پکڑ لیا۔
اصغر نے اسے چھڑوایا ۔
اور باہر لے آیا ۔۔
رانیہ نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور واپس اندر گئی ۔
“بت پرست بدبخت انسان تیری نسل برباد تیرا ویڑا برباد ۔۔ تو سڑے تلی تلی ۔۔ تیرا سانس بھی رکے تیری نسل ہو برباد ” رانیہ چیخ چیخ ۔۔ کر اس کے اگے بول رہی تھی ۔۔
اس کی آواز بھی بھاری تھی۔
اصغر ۔۔ بے یقینی سے سب دیکھ رہا تھا ۔۔
سیما جلدی سے اس کے پاس گئی ۔
رانیہ نے پھر اس بابا کا گلا دبا دیا۔۔
“رانیہ چھوڑو اسے ۔۔ ” سیما نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دور کیا۔۔ “
سیما کی آواز سن کر وہ ایک دم سیما کی طرف مڑی ۔ اور وہیں بیہوش ہو گئی ۔۔
اصغر اسے اٹھا کر گاڑی میں لے آیا ۔۔ اور گھر کو چلا گیا۔۔
!……………….!
شام کو دونوں گھر کی طرف روانہ ہو رہے تھے تو راستے پر گاڑی خراب ہو گئی ۔
برہان اتر کر دیکھنے لگا۔۔ گلی بھی سنسان تھی ۔
گاڑی گرم ہو گئی تھی ۔۔
بوتل میں پانی بھی ختم ہو گیا تھا ۔۔
اور ارد گرد بھی کوئی نہیں تھا۔
گرمی کی وجہ سے مریم رونے لگی ۔۔
مہجبین اسے لے کر باہر آ گئی ۔
“کیا ہوا ۔۔ برہان” ۔۔
“گاڑی گرم ہو گئی ہے پانی بھی نہیں ہے ۔۔ ” ۔۔
ابھی برہان بات کر ہی رہا تھا ۔۔ سامنے سے دو لڑکے آئے اور ان پر پسٹل رکھ دی ۔۔
“نکالوں جلدی سے “
برہان نے کچھ نہیں دیا اور مہجبین کو گاڑی میں بیٹھنے کو کہا۔۔
“زیادہ تیزی نا دیکھا ” بائیک پر پیچھے بیٹھے شخص نے غصے میں کہا۔۔
اس سے پہلے برہان کچھ بولتا پیچھے سے پولیس کے سائیرن کی آواز ائی ۔۔
وہ دونوں بائیک اگے لے گئے لیکن غصے کی وجہ سے ۔۔ پیچھے والے نے بنا دیکھے گولی چلا دی جو ۔۔ جا کر مریم کی کنپٹی پر لگی ۔۔
اور وہ وہی ہلکی سی چیخ مار کر ایک طرف گر گئی۔ ۔اور تڑپنے لگی ۔۔ خون فوارے کی طرح نکلنا شروع ہو گیا۔۔
برہان پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
ایسے ہی کچھ دیر پہلے ایک جوان لڑکی زمین پر گری تڑپ رہی تھی ۔
پولیس کو گولی کی آواز ائی تھی ۔۔
جب دیکھا بچہ کو تڑپتے تو فوراً ان کے پاس ائی ۔۔
برہان کو کچھ نہیں پتا وہ کیسے ۔۔ مہجبین اور مریم کو لے کر ہسپتال پہنچا۔۔
لیکن اسے بہت دیر ہو گئی تھی ۔۔
مہجبین نے اس کی
نبض دیکھ کر روتے ہوئے ۔۔
برہان کو دیکھا ۔۔
“Our Daughter is no more baby”
مہجبین نے روتے ہوئے ۔۔ برہان کو گلے لگا لیا۔۔
دونوں ایمرجنسی وارڈ کے کوری ڈور میں تھے ۔۔ ڈاکٹر عائشہ ۔۔
مریم کی ڈیڈ بوٹی لے گئی تھی ۔۔
تھوڑی دیر تک ان کے گھر والے بھی ا گئے تھے ۔۔ برہان کو کوئی ہوش نہیں تھا ۔۔ مہجبین کا بھی یہ ہی ہال تھا ۔
غسل دے کر کفن پہنا کر جب نماز جنازہ ۔۔ پڑھایا جا رہا تھا ۔۔
برہان ہچکیوں سے رو پڑا تھا۔۔
مریم میں تو اس کی جان تھی ۔۔
دائم نے برہان کو سنبھالا۔۔
“بھائی سنبھالے خود کو۔۔ “
جنازہ پڑھ کر جب اسے لے کر جایا جا رہا تھا۔۔
برہان نے جانے سے پہلے اپنے باپ کے گلے لگتے ہوئے کہا۔۔
“کیسا امتحان ہے بابا مجھ پر میں ذندہ ہوں اور میری بیٹی “
اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گیا۔۔
“نا رو بیٹا ۔۔ وہ اتنا ہی وقت لکھوا کر ائی تھی رب سے” ۔
اسے سمجھاتے ہوئے خود سے دور کیا اور جنازہ لے جانے کو کہا۔۔
مہجبین کو تو کوئی ہوش نہیں تھا ربیکا کی گود میں وہ بیہوش پڑی ہوئی تھی ۔۔
جوانی میں ہی جوان بچی کا دکھ تھا کیسے برداشت کر لیتی وہ ۔۔
!……………….!
دفنانے کے بعد سب گھر ا گئے ۔۔
برہان گھر آ کر سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
مہجبین کمرے میں ہی تھی۔ ۔
اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی ۔۔
برہان اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اس کے گرتے آنسو اپنی انگلیوں کے پورو پر لیے ۔۔۔ اور انہیں مسل دیا۔۔
پھر تھوڑی دیر مہجبین کو دیکھتا رہا جیسے کچھ کہنا چاہ رہا ہو ۔
“سانس ۔۔۔۔ سانس رکنا کسے کہتے ہیں آج ہی جانا ہے میں نے ۔۔ اس کے جانے کہ بعد ۔ آج درد ہوا ہے دل میں ۔۔ آج جانا ہوں ۔۔ دل کی تڑپ کیا ہوتی ہے ۔۔ آج سمجھا ہوں ۔۔ کسی کا دل ٹوٹے تو تکلیف کیا ہوتی ہے ۔۔ ۔۔ آج جب خود اس تکلیف سے گزرا ہو تو جانا ہوں ۔۔ اس موم سے گڑیا کی چٹخنے کی وجہ کیا تھی ۔۔آج اپنی زندگی کو من و مٹی تلے دبا کر جانا ہوں کلیجے کا پھٹنا کیا ہوتا ہے ۔۔ ” وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ زمین بوس ہوا۔ ۔۔ مہجبین اسے یک ٹک دیکھے جا رہی تھی۔ ۔
“برہان” دل پر ہاتھ رکھ کر اس نے اسے آواز دی ۔۔ وہ بھی تو اپنی دو سالہ بچی کو آج کھو چکی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: