Night Mare Novel by Durr-e-shahwar Malik – Episode 4

0
نائیٹ میئر از در شہورا ملک – قسط نمبر 4

–**–**–

وہ کمرے میں بیٹھی ۔۔ اپنی سوچو میں گم تھی جب اچانک الماری کے اوپر سے ایک ایک کر کے ساری چیزیں نیچے گرنے لگی ۔۔
وہ یک ٹک انہیں دیکھنے لگی۔
پاس بیٹھی سیما حیرت سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔
احمد اسی وقت کمرے میں آیا۔۔
رانیہ اسے دیکھ کر ہسنے لگی۔
“تم میرے دوست بنوں گے” ۔۔
احمد کو اپنی طرف اشارے سے بلاتے ہوئے اس نے کہا۔۔
احمد نے عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“پاگل واگل تو نہیں ہو گئی یہ ماما۔۔” احمد نے تنزیہہ کہا اور سیما کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔
سیما کی نظریں اب بھی اوپر سے نیچے گرے سامان پر تھیں ۔۔
احمد کی بات پر رانیہ غصے سے اٹھی اور اس کا گلا پکڑ لیا۔
احمد کا تو سانس رک گیا۔ انکھیں باہر کو آگئی۔
لال پڑتا چہرا۔
سیما بھاگی ہوئی رانیہ کے پاس ائی ۔۔
“رانیہ بیٹا بھائی ہے تمھارا چھوڑ دو اسے ۔۔” سیما نے اس کے ہاتھوں کو کھولتے ہوئے کہا۔۔
رانیہ غصے سے پلٹی اور سیما کا گلا پکڑ لیا۔۔
احمد کا چھوڑ کر ۔۔
“تو کون ہے پھر ہاں” چہرے پر خوفناک مسکراہٹ لیے وہ سیما کو دیکھ رہی تھی۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے رانیہ ماما کو چھوڑوں ” احمد نے رانیہ کو سیما سے دور کیا لیکن اس نے اسے نا چھوڑا۔
سیما کا سانس بلکل بند ہونے کو تھا۔۔
احمد بار بار اسے پیچھے کر رہا تھا۔۔
ایک دم رانیہ نے سیما کر چھوڑا ۔۔ اور بیڈ پر جا کر سمٹ کر بیٹھ گئی۔
“مجھے مار ڈالے گی ۔۔۔” خود اپنے اندر سموئے وہ روتے ہوئے بولی ۔۔
پھر ایک دم۔ہسنے لگی ۔۔
“تم سب بھی مرو گے ۔ سب کو مرنا ہو گا” ۔۔
احمد اسے دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا۔۔
سیما نڈھال سی زمین پر ڈھ گئی تھی۔
احمد رانیہ کو کمرے میں بند کر کے سیما کو وہاں سے لے گیا۔۔۔
!……..…..!
“وتشا ناس وتشے راس وس ردا جا رستم جس تے را ما رستم “
سیما گیری نیند سو رہی تھی جب اسے اپنے پاس سے سرگوشی میں کچھ کہنے کی آواز آئی۔
ان نے اٹھ کر دیکھنے کے لیے انکھ کھلی تو سامنے کا منظر دیکھ کر ان کا دل دہل گیا۔۔
رانیہ بلکل ان کے ساتھ بیٹھی تھی ۔
اور انہیں کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اس کے ہاتھ میں کچھ تھا وہ اسے کھا رہی تھی ۔۔ آنکھیں بہت عجیب تھیں ۔۔ لمبی اور سیاہ ۔۔
اور لمبی پلکیں ۔۔ ان کی بیٹی کا چہرا ایسا نا تھا جیسا انہیں ابھی محسوس ہو رہا تھا۔۔
ان نے غور کیا تو اس کے ہاتھ میں کچی مرغی تھی جسے وہ کھا رہی تھی ۔
اور آہستہ آہستہ بول رہی تھی کچھ جو انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔
سیما سہمی ہوئی دیکھ رہی تھی سب ۔۔ اپنی جوان بیٹی کو اس حالت میں دیکھ کر ان کا دل بری طرح رو رہا تھا۔۔
وہ کافی دیر کھاتی رہی
پھر اٹھ کر کمرے سے چلی گئی ۔
سیما بھی دبے پاؤں پیچھے گئی۔
وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ چل بےشک زمین پر رہی تھی لیکن اس کے پاؤں زمین پر نہیں تھے ۔۔
تھوڑے سے اوپر اٹھے ہوئے تھے ۔۔
وہ کتنی دیر وہاں کھڑی اسے دیکھتی رہیں ۔۔
وہ آسمان پر دیکھ کر کچھ کہہ رہی تھی انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔
پھر رانیہ نے اپنے اوپر لیا دوپٹہ اتار کر پھینک دیا ۔۔
سیما سارے منظر دیکھ رہی تھی ۔۔
پھر اپنی قمیض کا دامن پھاڑا ۔۔ اور اسے اپنے گلے کے گرد باندھنے لگی۔ ۔
پھر ۔۔ ایک دم مڑی اور چیختی ہوئی سیما کے گلے ا لگی ۔۔
سیما نے دل خراش چیخ ماری اور وہیں بےہوش ہو گئی۔
اس کی آواز سن کر اندر لیٹی ۔۔ رانیہ باہر ائی ۔۔
وہ زمین پر گری ہوئیں تھیں۔
“ماما ۔۔ اٹھے ماما” لیکن سیما ہلی تک نہیں ۔۔
رانیہ اصغر کو بلانے چلی گئی۔
اصغر ایا تو انہیں گرا دیکھا تو اٹھا کر کمرے میں لایا۔۔
ان کا جسم آگ کی طرح تپ رہا تھا ۔۔
“کیا ہوا تھا رانیہ بیٹا ۔۔ “
“بابا پتا نہیں ۔۔ میں تو واش روم گئی تھی واپس آئی تو ماما یہاں نہیں تھیں میں دیکھنے باہر گئی تو ماما پانی پی رہیں تھیں میں نے کہا جلدی آئیں ۔۔ مجھے کہنے لگی تم جاؤں میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔ “
“پتا نہیں کیا ہو گیا ہے کبھی تم بیہوش ہو جاتی ہو کبھی تمھاری ماں۔ اس کا خیال رکھنا میں ڈاکٹر کا پتا کرتا ہوں ” اصغر کہہ کر باہر چلا گیا۔۔
اصغر کے جانے کے بعد رانیہ سیما کے ساتھ لیٹ کر سو گئی ۔۔
سیما نے اس کا وجود محسوس کر کے ایک دم آنکھیں کھول دیں ۔۔
“کیا ہوا ماما” رانیہ کو اپنے پاس دیکھ کر وہ تھوڑا پیچھے ہوئی لیکن اس کے پوچھنے پر کچھ بھی کہے بغیر اسے سینے سے لگا کر انکھیں بند کر لیں۔
!………………..!
صبح کو جب اسے ہوش ایا تو مہجبین اس کے پاس ہی تھی ۔۔
“مہجبین وہ بچی ۔۔ “
اٹھتے ساتھ ہی اس نے اس بچی کا پوچھا۔۔
“کیسا فیل کر رہے ہیں آپ” مہجبین نے بات کو گول کیا۔۔
“مہجبین ہمیں اس بچی کو بچانا ہو گا۔۔ ورنہ میں پوری زندگی خود کو معاف نہیں کر پاؤں گا۔۔ “
برہان ایک دم بیڈ سے اٹھ گیا اسی وقت برہان کے ابو ۔ حنیفہ کمرے میں داخل ہوئے ۔
“کیا ہوا “
اسے ایسے اٹھتا دیکھ کر کہا۔۔
“بابا مجھے آپ سے اجازت چائیے ہے ۔۔ “
حنیفہ کو دیکھ کر وہ واپس بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔
“کس بات کی ۔۔”
حنیفہ بھی اس کے پاس ا کر بیٹھ گیا۔۔
“علم کی بابا ۔۔ اپنے علم کو استعمال کرنے کی۔ “
“کیا ۔۔ پاگل ہو تم ۔۔ میں پہلے اسی وجہ سے اپنا بڑا بیٹا کھو چکا ہوں برہان مجھ میں تمہیں کھونے کی ہمت نہیں یے میرے بیٹے ۔۔” حنیفہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
“بابا اولاد کھونے کا دکھ بہت بڑا ہوتا ہے بابا ۔۔ میں جانتا ہوں میں نے بھی کھوئی ہے ۔۔ لیکن بابا وہ بچی تکلیف میں ہے ۔۔ میں اسے بچا سکتا ہوں ۔۔ اللّٰہ چاہتے ہیں میں اسے بچاؤں تبھی میرا دل بار بار اس کی طرف جا رہا ہے بابا باقی زندگی اور موت تو اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے ۔۔ کسی کو تکلیف سے نکالنے کی شفا اگر اللّٰہ نے میرے ہاتھ میں رکھی یے تو بابا مجھے کرنے دیں پلیز ” ۔
برہان نے حنیفہ کے اگے ہاتھ جوڑ دیے ۔۔
“ہہہہم ٹھیک ہے بیٹا ” ۔۔
بوڑھی انکھوں سے گرتے انسو صاف کرتے ہوئے برہان کے کندھے کو تھپتھپایا اور اٹھ کر باہر چلے گئے۔
ان کے جانے جے بعد وہ کچھ سوچنے لگا۔۔
“سنو کل کی انٹری پر ان کا نمبر ہوگا اپوائنٹمنٹ کی تھی نا ان نے کوئی نمبر لکھوایا ہوگا اج ہی چیک کروں ۔۔ ” بیڈ سے نیچے اترتے ہوئے ۔۔ مہجبین کو کہتا ہوا وہ واشروم میں چلا گیا ۔
مہجبین نے اس کے جانے کے بعد ہسپتال میں کال کر دی ۔۔
!………………!
فاطمہ کو دیکھ کر سیما جلدی سے اس کے پاس ائی ۔۔
“تم کہا تھی ہاں کل سے بلا رہی ہوں تمہیں میں ۔۔ “
“بھابھی بھائی نے منع کیا تھا انے سے کہتے ہیں ۔۔ رانیہ بیمار ہے بچیں آئے گے تو شور ہو گا وہ اور بیمار ہو جائے گی۔۔”
“اپنے بھائی کو تو چھوڑو تم وہ ایسے ہی ہیں ۔۔ مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔ “
وہ فاطمہ کو اپنے ساتھ لیے ۔۔ اصغر کے کمرے میں آگئی ۔۔
“ہاں بھابھی بولیں” ۔۔ کمرے میں آ کر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔
“فاطمہ پتا نہیں رانیہ کو کیا ہو گیا ہے ۔۔ اس دن پتا تمھارے گھر جانے کا کہا تو اس نے کیا کیا۔۔” ۔۔
فاطمہ کو سب بتا کر وہ چپ ہوئی تو اسی وقت رانیہ ان کے کمرے میں ائی ۔
“آگئی تو ” فاطمہ کی طرف ہنستے ہوئے دیکھ کر وہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔
سیما نے جلدی سے فاطمہ کو اٹھایا اور گھر سے چلتا کیا۔۔
“کیوں بھیجا ہاں کیوں بھیجا۔۔”
کمرے کے بیچ میں کھڑے ہو کر وہ زور زور سے چلانے لگی ۔۔
سیما نے نہیں سنا ۔۔ پھر وہیں وہ بیہوش ہو گئی ۔۔ سیما اس کے پاس بھی نہیں گئی ۔۔
“اللّٰہ میری بچی کو اس عذاب سے نجات بخش دے “
وہ اسے دور سے ہی دیکھ کر دعائیں دیتی رہیں ۔۔
!……………. !
اصغر کلائنٹ کے ساتھ ڈیل کر کے فری ہوا تو
انجان نمبر سے کال انے لگی ۔۔
دوسری بیل پر اس نے اٹھا لی ۔۔
“السلام و علیکم ڈاکٹر برہان بات کر رہا ہوں میں”
“جی وعلیکم السلام خیریت اپ نے کال کی ۔ “
“مجھے اپ سے ملنا ہے اپ کی بیٹی کے سلسے میں ۔۔ کہیں بعد میں دیر نا ہو جائے ۔۔ “
برہان کی بات پر وہ ٹھٹھکا۔۔
“جی جی بولیں “
“اپنے گھر کا ایڈریس بھیج دیے ۔۔ میں اپنی وائف کے ساتھ شام۔کو اپ سے وہیں ملو گا۔۔ ” اتنا کہہ کر برہان نے کال کاٹ دی ۔۔
اصغر نے بھی ایڈریس سینڈ کر دیا لیکن وہ پریشان تھا۔۔ سیما کو کال کر کے شام میں ان کے آنے کا بتا دیا۔۔
پھر اپنے کام میں بیزی ہو گیا لیکن ذہن ابھی بھی برہان کی بات پر الجھا ہوا تھا۔۔
!…………….!
شام میں اصغر گھر آیا تو اس کے ساتھ ہی برہان اور مہجبین بھی پہنچ گئے ۔۔
سیما نے انہیں ڈرائنگ روم میں بیٹھایا ۔۔ اور خود کچن میں چلی گئی ۔
اصغر بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔
“میں وقت ضائع کیے بغیر اصل بات پر آو گا۔۔
کل جب آپ اپنی بیٹی کے ساتھ ہمارے ہسپتال آئے تھے ۔۔ جب اپ کمرے میں داخل ہوئے تھے تو آپ کی بیٹی اکیلی نہیں تھی ۔۔
اس کے ساتھ ایک اور بھی وجود تھا ۔۔
اپ کی بیٹی کو تڑپتا دیکھ کر بھی میں کچھ نا کر پایا کیونکہ مجھے میرے بابا کی قسم تھی کے میں کبھی بھی ۔۔ اپنے علم کو استعمال نہیں کروں گا۔۔
لیکن ۔۔ شائد مجھے اس کی سزا ملی اسی رات میری بیٹی کی ڈیتھ ہو گئی۔ ۔ راستے میں چوروں کی فائرنگ کی ثبت میں آ گئی تھی وہ ۔۔ ” اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گیا ۔۔جیسے لفظ جمع کر رہا ہو اگے بولنے کے لیے۔
“بہت افسوس ہوا جان کر ” اصغر نے افسوس کا اظہار کیا ۔
“بس یہ ہی وجہ ہے کے میں آج یہاں اپ کی بیٹی کو بچانے آیا ہوں” اتنا کہہ کر وہ پھر چپ ہو گیا۔۔
“مجھے خوشی ہوگی اگر آپ میری بیٹی کو اس تکلیف سے نکالیں گے ۔۔” اصغر فوراً بولا۔۔
اور پھر سیما کو اشارہ کیا رانیہ بلانے کا۔
تھوڑی دیر میں سیما واپس آئی تو رانیہ اس کے ساتھ تھی ۔۔
“ادھر آو بیٹا میرے پاس ۔۔”
برہان نے پیار سے رانیہ کو بلایا۔۔
“کیوں اپنی بیٹی کی طرح ان کی بیٹی کو بھی مار دے تو ” رانیہ نے ایک دم۔ہنستے ہوئے کہا۔۔
“اسے مارنا تو ضروری تھا نا آو ادھر میرے پاس ۔ میں تمہیں کیسے ماروں گا ۔۔ تم تو میری ہم راز ہو” برہان نے اسی کی طرح اسے جواب دیا۔
مہجبین یہ سن کر حیران رہ گئی ۔۔
“کیا مطلب ہے برہان آپ نے”
“شششششش” برہان نے مہجبین کو چپ کروایا ۔۔ اور رانیہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بیٹھا دیا۔۔
“کون ہو تم” برہان نے اس کی چھوٹی انگلی پکڑ لی اور اپنی انکھیں بند کر لیں ۔ پھر اس سے پوچھا۔۔
لیکن اس نے کچھ نا کہا۔۔
“بتاؤں مجھے کون ہو تم اس بچی کو کیوں تنگ کرتی ہو”
“اس نے مجھے تکلیف پہنچائی تھی ۔۔ ” وہ ایک دم زور سے رونے لگی ۔۔
“سچ بتاؤں مجھے کون ہو تم ۔۔ ” برہان نے غصے سے پوچھا۔۔
“بابا مجھے چھوڑ دیں بابا مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔ “
وہ ایک دم مریم کی آواز میں بولنے لگی ۔۔
برہان اس کی ساری چالاکیاں سمجھ رہا تھا۔۔
“مجھے تم گمرہ نہیں کر سکتی ۔۔ “
اتنا کہہ کر برہان دل میں کلام پڑھنے لگے ۔۔ رانیہ زور زور سے چیخنے لگی ۔۔
“سچ بتا دے کچھ نہیں کہو گا میں ۔۔”
“اچھا اچھا بتا رہا ہوں میں مجھے جلانا نہیں بتا رہا ہوں میں۔۔”
رانیہ کی آواز سے ہی قرب ظاہر ہو رہا تھا۔۔
“میں اس کے ساتھ بچپن سے ہوں ۔۔ میں نے اسے کبھی تنگ نہیں کیا لیکن اب یہ مجھے تنگ کرتی ہے ۔۔ یہ جو وظیفہ پڑھ رہی ہے اس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔۔ اسے کہو پڑھنا چھوڑ دے میں بھی اسے کچھ نہیں کہو گا۔۔ “
“کون سا وظیفہ “
“مجھے نہیں پتا لیکن جو بھی پڑھ رہی ہے میرے لیے بھاری ہے وہ ۔۔ ” ۔۔
“اچھا کہاں سے آئے تھے تم ۔۔” برہان نے ایک اور سوال پوچھا۔۔
“اس کی پھوپھو لائی تھی مجھے ۔۔ ” برہان نے انکھیں کھول کر اصغر کو دیکھا ۔
اصغر ان کی بات سمجھ گیا تھا اس وجہ سے ۔۔ جلدی سے گیا فاطمہ کو کال کرنے
“تم اسے خواب میں کیوں تنگ کرتے ہو ۔۔ “
“مجھے مزا آتا ہے جب یہ تڑپتی ہے کیونکہ اس نے مجھے تڑپایا ہے۔۔ “
وہ ایک دم ہسنے لگی ۔۔
“تم کس قبیلے کے ہو” برہان اب اسے اپنے قابو میں کر رہا تھا
“ہندومت کے قبیلے سے ہوں ” ۔۔
“مسلمان ہونا چاہتے ہو “۔
،”نہیں میں نہیں ہونا چاہتا” ۔۔
“میں تمہیں جلا دو گا پھر ” برہان نے کچھ پڑھ کر اس پر پھونکا۔۔
“مجھ ایک کو۔ جلا کر کیا کروں گے میرا پورا قبیلا اس گھر میں آتا جاتا رہتا ہے ۔”
“اب نہیں آئے گا ۔۔ ” اتنا کہہ کر برہان چپ ہو گیا۔۔
کافی دیر وہ اس کی انگلی پکڑے پڑھتا رہا۔۔
پھر رانیہ ایک طرف کو ڈھ گئی۔
برہان نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔
“اس کو تو میں نے جلا دیا ہے ۔۔ اپ لوگوں کو اپنے گھر کو پاک کرنا ہو گا۔۔ “
برہان نے پاس پڑا پانی پیتے ہوئے کہا۔۔
“یہ اتنی آسانی سے جان نہیں چھوڑتی ۔۔ جب تک ان کے آنے کے لیے جگہ نا بند کی جائے۔ “
“وہ کیسے برہان صاحب”
“گھر میں اللّٰہ کے کلام کو زندہ رکھے ۔۔ اور اپنے دل کو اللّٰہ کی یاد میں وقف کر دیے ۔۔ “
“جی شکریہ ۔ برہان صاحب” ۔۔
“جی ۔۔ وہ آپ کی بہن نہیں ائی ۔۔”
برہان کو اچانک یاد آیا۔۔
“بس آتی ہو گی ۔۔”
ابھی اضغر نے کہا ۔ تو ایک دم باہر کی بیل بجی ۔۔
اصغر نے جا کر مین گیٹ کھولا تو ۔۔ تو سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر کانپ گیا۔۔۔ ۔۔ وہاں پر ایک عجیب و غریب جلا ہوا شخص کھڑا تھا اس کے جسم پر کھال نہین تھی ۔۔ گوشت ہی گوشت تھا ۔۔ اسے دیکھ کر اصغر نے دروازہ بند کر دیا ۔ اور واپس اندر کی طرف بھاگا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: