Night Mare Novel by Durr-e-shahwar Malik – Last Episode 5

0
نائیٹ میئر از در شہورا ملک – آخری قسط نمبر 5

–**–**–

وہ جیسے ہی چیختا ہوا اندر گیا ۔۔
برہان باہر آ رہا تھا۔۔
“کیا ہوا ” اسے ایسے ہانپتا کانپتا دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا
“باہر باہر ۔۔ ” اصغر سے بولنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔
برہان کہے بخیر باہر چلا گیا دیکھنے۔
دروازا کھولا تو سامنے فاطمہ کھڑی تھی۔
“جی”
“جی”
دونوں نے ایک ساتھ کہا ایک دوسرے کو دیکھ کر۔۔
“یہ میری نند ہے” سیما جلدی سے بولی ۔۔
“اوو اچھا اچھا آئیں آپ کا ہی انتظار تھا۔۔ “
برہان کہتا ہوا سائیڈ پر ہو گیا۔۔
“باہر کوئی اور بھی تھا۔۔” اصغر ابھی تک اسی سوچ میں تھا۔۔
“تھا نہیں ہے اور ابھی بھی ہے لیکن اندر نہیں آ سکتا ۔۔”
اتنا کہہ کر برہان ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں اندر لے آیا۔
باقی سب بھی اندر ا گئے۔
احمد رانیہ کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔۔
اندر ا کر برہان نے سورہ رحمن پڑھنی شروع کر دی ۔۔
وہ سارے بیٹھ گئے تھے ۔۔
وہ جیسے جیسے اپنی آواز اونچی کر رہا تھا۔۔
رانیہ اتنا ہی تڑپ رہی تھی ۔۔
سیما یہ سب دیکھ کر بہت تکلیف میں تھی ۔۔
فاطمہ یہ سب دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی تھی۔ ۔
پھر اچانک وہ رونے لگی ۔۔
پاس بیٹھی سیما نے اسے سنبھالا ۔۔
“بس بچے بس” سیما اسے پیار سے چپ کروا رہی تھی۔
دونوں رانیہ کا حال دیکھ کر روئے جا رہی تھیں۔ ۔۔
احمد اور اصغر اس سب کو سمجھنے سے قاصر تھے ۔۔
مہجبین بیقینی سے سب منظر دیکھ رہی تھی۔
جیسے ہی برہان چپ ہوا رانیہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
اور غصے سے فاطمہ کو دیکھنے لگی ۔۔
“برباد کیا تو نے مجھے تو کہیں کی نہیں رہے گی” رانیہ نے فاطمہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“ششش چپ آواز نا ائے مجھے ۔۔ بچی کو چھوڑ کر جاؤں ابھی کہ ابھی ورنہ اس کا حال دیکھا ہے نا تمہیں بھی جلا دوں گا میں ۔۔” برہان نے رانیہ کی انکھیں بند کرتے ہوئے کہا۔۔
اور پھر وہ کچھ پڑھنے لگا ۔
اور رانیہ سکون سے لیٹ کر سو گئی ۔۔
“جی اپ مجھے اب بتائیں کیا تعلق ہے آپ کا اس سب سے ۔۔ “
اس کے سوتے ہی ۔۔ برہان نے فاطمہ سے پوچھا۔۔
“می میرا ۔ میرا تو کوئی تعلق نہیں ہے “
فاطمہ نے گھبرائے ہوئے انداز میں کہا۔۔
“سچ بول دیں آپ کے لیے بھلا ہوگا۔۔” برہان نے اس کی انکھوں میں غصے سے دیکھ کر کہا۔۔
سب خاموشی سے اس کے بولنے کا انتظار کر رہے تھے۔
فاطمہ نے پہلے سیما کو دیکھا پھر اصغر کو۔۔۔۔
“بھائی ۔۔ بھابھی ۔۔
اپ تو جانتے ہیں نا مجھے بیٹی کا کتنا شوق تھا ۔۔ کے اللّٰہ مجھے بیٹی دے ۔۔
لیکن اللّٰہ نے مجھے بیٹوں سے نوازا بیٹی نہیں دی ۔۔ میں نے صبر کر لیا شائید اللّٰہ کو یہ ہی منظور ۔۔
لیکن
میرے دل میں اس حسرت کو میری ساس اور نند نے ماند نہیں پڑھنے دیا۔۔
پھر شامیر بھی یہ ہی کہنے لگے کہ تم ایک بیٹی نہیں دے سکی مجھے ۔۔
تو بھائی ہمارے محلے میں روبی باجی رہتی ہیں ان نے مجھے بتایا ایک بابے کا کہ وہ ایسا تعویذ دیتا ہے کے جو تم چاہوں وہی ہو گا۔۔
میں ان کے ساتھ وہاں گئی ۔۔ شروع کے تین دن اس نے مجھے سانپ کے دانت جلانے کو دیے تھے ۔۔
میں نے وہ باقاعدگی سے جلائے تھے اپنے کمرے میں ۔۔
پھر اس نے ایک تعویذ دیا جسے گھر کے درختوں پر لگانا تھا۔ ۔
میں نے لا کر وہ الماری میں رکھا کے رات میں جا کر لگاؤں گی جب سب سو جائے گے ۔۔
اس دن رانیہ بھی ہماری طرف ائی ہوئی تھی ۔۔
میں کچن میں تھی ۔۔ اور یہ اور حمزہ میرے کمرے میں کھیل رہے تھے ۔۔
الماری میں پتا نہیں یہ دونوں کب گھسے میں نہیں جانتی ۔۔
جب مجھے کمرے میں خاموشی محسوس ہوئی تو آ کر دیکھا ۔۔ حمزہ تو وہاں نہیں تھا ۔
لیکن رانیہ الماری سے وہ تعویذ نکالے بیٹھی تھی ۔۔ رانیہ ان تعویذ کو کھول چکی تھی ۔
ایک ایک کر کے سارے ۔۔ مجھے دیکھا تو میرے پاس ائی اور کہنے لگی۔
“مجھے برباد کر دیا تم نے” اتنا کہہ کر وہی بیہوش ہو گئی۔
میں حیران رہ گئی ۔چار سالا بچی ایسا جملا کیسے بول سکتی ہے ۔۔ اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا ۔۔ وہ بہت گرم ہو رہی تھی جیسے تیز بخار ہو ۔
میں سوچو میں گم تھی پتا نہیں کیا ہو گا اب ۔۔
ان تعویذ کو ایک تھیلی میں ڈال کر رکھا ۔۔
پھر اپنے کام پر لگ گئی ۔۔
دوسرے دن میں اس بابا پاس گئی تو پتا چلا وہ رات کو ہی چل بسے ۔۔ مجھے بہت افسوس ہوا ۔
میں نے روبی باجی کے کہنے پر تعویذ کو اپنے گھر سے دور جا کر پانی میں گھول کر اچھی طرح چھڑیوں پر گرا دیا۔۔
لیکن مجھے ہمیشہ ایک ڈر سا لگا رہا کہ اس دن رانیہ نے جیسے کہا تو کہیں اس پر تعویذ کا تو اثر نہیں ہو گیا۔۔
اور پھر رانیہ اس کے بعد سے مجھ سے چڑی چڑی رہنے لگی۔
میں وجہ جانتی تھی میں نے کبھی نہیں بھائی بھابھی کو بتایا مجھے ڈر لگتا تھا بھائی میرے ان سب کے خلاف ہیں ۔۔ اور میرے شوہر بھی بس میں ڈر کے مارے ساری زندگی چپ رہی ۔۔
لیکن کچھ دن پہلے بھابھی نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔۔ میں بھی حیران۔۔ ہوں اس نے کبھی اسے تنگ نہیں کیا تو آج کیوں۔۔”
فاطمہ کہنے کے بعد سوالیہ نظروں سے برہان کو دیکھنے لگی ۔۔
برہان چپ رہا ۔۔ اور سیما اور اصغر کو دیکھنے لگا۔۔ سیما اور اصغر بےیقعینی سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔
“کیونکہ ان کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ظاہر ہونے کا۔۔
وہ اس وقت پر ا کر لازمی ظاہر ہوتے ہیں ۔۔ اس کی وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ جیسے ان نے ہی بتایا ہے کہ۔ ۔ یہ کوئی وظیفہ پڑھ رہی ہے۔ ” اتنا کہہ کر برہان چپ ہو گیا۔۔
کیونکہ ۔۔ رانیہ کو ہوش آ گیا تھا۔
ہوش آتے ہی وہ سب کو دیکھنے لگی۔ ۔
, برہان اس کے پاس آ کر بیٹھا۔۔
“بیٹا میری طرف دیکھوں” ۔۔
“جی”رانیہ نے بوجھل ہوتی انکھوں سے اسے دیکھا۔۔
“میں کچھ سوال کروں گا جواب دو گی۔۔”
“جی” ۔۔
“انکھیں بند کرو” ۔۔
برہان نے کہنے کہ بعد خود بھی آنکھیں بند کر لیں .”
“اندھیرا نظر ا رہا ہے۔ “
“جی”
“کوئی ہے اس اندھیرے میں”
“نہیں”
” غور کرو کوئی ہے “
“ہاں ہاں ایک آدمی ہے”
“کیا کر رہا ہے “
“کونے پر بیٹھا رو رہا ہے ۔”
“اچھا “
برہان نے اتنا کہہ کر کلام پڑھنے لگا۔۔
رانیہ کا چہرا آنسوؤں سے تر تھا۔۔۔۔
برہان پڑھ کر چپ ہوا۔۔
“معافی مانگو بچی سے ۔۔ اور کہوں آئیندہ تنگ نہیں کروں گا۔۔ “
“ہاں میں معافی مانگتا ہوں نہیں کروں گا تنگ جانے دو مجھے۔ جانے دو “
رانیہ نے روتے ہوئے کہا۔۔
” اسے لے جاؤں اور بند کر دو جب تک اس کی سزا ختم نا ہو اسے چھوڑنا نہیں””
برہان نے کہتے ساتھ انکھیں کھول دیں ۔۔
“رانیہ بیٹا ۔۔ اب کوئی ہے وہاں” ۔۔
“نہیں اب کوئی نہیں ہے ” ۔۔
“پکا” ۔۔
“ہاں پکا کوئی نہیں ہے” ۔۔
“اچھا بیٹا مجھے یہ بتاؤں کون سا وظیفہ کر رہی ہو ۔”
“ایک کتاب میں پڑھا تھا۔۔ وہ وظیفہ ۔۔ دل کی ہر خواہش پوری ہو جاتی ہے اگر اسے ساتھ دن ایک ہی جگہ اور ایک کی مقررہ وقت پر پڑھے ۔۔ “
“اچھا بچے اب مجھ سے وعدہ کرو بنا کسی استاد کے تم کوئی وظیفہ نہیں کرو گی ایسا ” ۔۔
“جی وعدہ میرا”
“چلو اب آنکھیں کھول دو” ۔۔
رانیہ نے اس کے بعد انکھیں کھول دیں۔
“میں اب چلتا ہو
اپ کا گھر ان سب چیزوں سے پاک ہے ۔۔ اور جو ہیں ۔۔ وہ اللہ کے نیک بندے ہیں ۔۔ “
اتنا کہہ کر برہان جانے کو اٹھ گیا۔۔
“بیٹا اپ سے ایک بات پوچھ سکتا۔۔”
برہان کے اٹھتے ہوئے ۔۔اصغر نے کہا۔
“جی انکل” ۔
“بیٹا دکھنے میں اپ ایسے نہیں لگتے لیکن اپ کو ان سب کا علم یہ سب کیسے۔ “
“ورثے میں ملا ہے انکل مجھے یہ ۔۔ میرے پر دادا کو دعا تھی بزرگوں کی ۔۔ وہ اب نسل در نسل چلی آ رہی ہے ۔۔ پر دادا سے دادا کو ملی پھر چاچو کو ملی چاچو کے بعد مجھے اور میرے بھائی کو۔۔”
برہان جاتے جاتے رک گیا۔۔
“بیٹا بہت شکریہ اپ کا”
“نہیں انکل شکریہ نہیں دعا دیں مجھے اور دعا کریے مجھے صبر آ جائے ۔۔ اپنی بیٹی پر۔۔”
اتنا کہہ کر برہان جانے کے لیے اٹھ گیا۔۔
اصغر اسے باہر تک چھوڑنے گیا۔۔
!………….!
گاڑی میں بیٹھنے کے بعد بھی مہجبین چپ رہی۔ ۔
“کیا ہوا مہجبین” ۔۔
اسے اس طرح دیکھ کر برہان نے خود پوچھ لیا۔۔
“وہ وہ رانیہ نے کیا کہا تھا اپ نے خود ۔۔ اور اپ نے بھی کہا کے کرنا ضروری تھا وہ کیا تھا برہان” ۔
مہجبین رونے لگی۔
“ہاہاہاہا پاگل لڑکی ۔۔ یہ جو جنات ہوتے ہیں نا یہ ہماری سائیکی سے کھیلتے ہیں ۔۔ انہیں معلوم تھا وہ تمھارے سامنے ایسا کہے گے تم مجھ سے لڑوں گی اور اس طرح میں اپنا حصار نہیں بنا پاؤں گا اور وہ مجھ پر ہاوی ہو جائے گے ۔۔ بس اس وجہ سے میں نے اس کی بات کو سیریس نہیں لیا اور تمہیں بھی اسی وجہ سے چپ کروا دیا۔۔ “
گلیوں سے گاڑی نکال کر اب وہ مین روڈ پر ا گیا تھا۔
“اوو اچھا”۔ مہجبین نے گرتے آنسوؤں صاف کیے ۔۔
“پاگل لڑکی” ۔۔
ہنستے ہوئے کہہ کر اس نے سامنے سڑک پر نظریں جما لیں۔۔
! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
تین دن سوئی جاگی کیفیت کے بعد آج جا کر رانیہ کچھ سنبھلی تھی ۔۔
سیما کے ساتھ کام کرتے ہوئے ۔۔ وہ ان سے باتیں بھی کر رہی تھی۔ ۔
پھر ۔۔ کچھ خیال آیا تو اپنا موبائل اٹھا لائی ۔۔
“ماما ایک سیلفی ہی لے لو جب سے بیمار ہوئی ہو ایک سیلفی بھی نہیں لی۔ ۔”
کمرے میں کم ۔روشنی کی وجہ سے ۔۔ وہ کہہ کر باہر سہن میں چلی گئی۔
اب وہ آرام سے کھڑی سیلفی لے رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے کوئی نظر آیا اور وہ سمجھی کے سیما ہے ۔۔ سیلفی لے کر جب مڑی تو پیچھے کوئی نہیں تھا۔۔
وہ اندر ائی تو سیما وہاں نہیں تھی ۔۔
وہ انہیں آواز دینے لگی تو وہ کمرے میں تھیں ۔۔
“ماما آپ باہر آئیں تھیں ۔۔ “
“نہیں تو۔ ۔”
رانیہ ان کے جواب پر سوچ میں پڑ گئی ۔۔ اور اس نے موبائل نکال کر پک دیکھی تو بلک اس کے پیچھے سفید چادر میں کوئی تھا جو نظر آ رہا تھا
“ماما یہ یہ کون ہے ۔۔ “
رانیہ نے ڈرتے ہوئے سیما کو دیکھا۔۔
“ڈرنے کی بات نہیں ہے بیٹا ۔۔ انکل نے کیا کہا تھا۔۔ اس گھر میں اب نیک روحیں ہیں۔۔ جاؤں جا کر نماز پڑھو اور باہر جا کر تصویر نا لیا کرو۔۔”
سیما نے اسے سمجایا۔۔
وہ ڈری ہوئی سیما کے گلے لگ گئی ۔۔
“ماما مجھے ڈر لگتا ہے۔ اب بہت” ۔۔
“نہیں بیٹا ڈرنے کی کیا بات ہے ۔۔ وہ بھی اللہ کی مخلوق ہے اپ انہیں تنگ نہیں کریے گی تو وہ بھی اپ کو نہیں تنگ کریے گے”۔
سیما نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔۔
“اچھا ماما” ۔۔
رانیہ نے ویسے ہی لیٹے ہوئے انکھیں بند کر دیں ۔۔۔۔ اسے پھر سے لگا وہ بہت سی تھک سی گئی۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: