Abid Jan Tarnao Urdu Novels

Noorain aur Naira ki Kahani Novel by Abid Jan Tarnao

Noorain aur Naira ki Kahani Novel by Abid Jan Tarnao
Written by Peerzada M Mohin

نورین اور نائلہ کی کہانی از عابد جان ترناو- مکمل کہانی

نورین اور نائلہ کی کہانی از عابد جان ترناو- مکمل کہانی

–**–**–

وہ دسمبر کی ایک سرد رات تھی۔ باہر بارش برس رہی تھی۔ میں اندر کمبل میں لپٹا کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اتنے میں میرے موبائل پہ میسیج آیا ۔ دیکھا تو وہاں فقط دو لفظ لکھے تھے “ہائے سر” ۔ نمبر کنٹیکٹس میں سیو نہیں تھا یعنی کوئی انجان نمبر تھا۔ “جی آپ کون؟” میں نے سوالیہ میسیج بھیجا۔ “سر میں آپکی سٹوڈنٹ ہوں” فورا ہی جواب آیا۔ “کون سی سٹوڈنٹ؟ کیا نام ہے آپکا؟” میں الجھن میں پڑ گیا یہ کون ہوسکتی ہے۔ “سر میں کلاس 10 میں پڑھتی ہوں، آپ ہمارے ساتھ کلاس لیتے ہیں روزانہ”
“وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس کلاس میں تو 30 لڑکیاں ہیں ، آپ کونسی والی ہیں” اسے شاید سسپنس پھیلانے کا شوق تھا۔ “سر میرا نام N سے شروع ہوتا ہے، باقی آپ خود بوجھ لیں” میں ذہن پر زور دینے لگا۔ اس کلاس میں N سے شروع ہونے والی تین لڑکیاں تھیں، نایاب انعم ، نائلہ خان اور نورین علی۔ اب میں الجھن میں پڑھ گیا کہ یہ ان تینوں میں سے کون ہوسکتی ہے۔ نایاب ایک اوسط درجے کی طالبہ تھی ۔ وہ کلاس میں پچھلے بنچز پہ بیٹھتی۔ نہایت ہی کم گو تھی۔ نائلہ خان اور نورین علی دونوں کلاس کی ذہین ترین طالبات میں شمار ہوتی تھیں۔ نائلہ کے والد سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ پرائیویٹ پریکٹس بھی کرتے ۔ نائلہ ہائی کلاس سے تعلق رکھتی تھی۔ میرا نہیں خیال تھا کہ وہ مجھ جیسے غریب ٹیچر کو میسیج کرے گی۔ باقی رہ گئی نورین تو وہ نسبتا غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ کلاس کے ٹاپ 5 ذہین طالبات میں تھی۔ میری میز کے قریب والی ڈیسک اس کی تھی۔ اسی بناء پہ میں اس سے کبھی کبھار گپ شپ بھی کرتا۔ مجھے لگا یہ میسیج کرنے والی لڑکی وہی ہے۔
یہ سارے خیالات چند سیکنڈ کے اندر ہی میرے ذہن میں آئے۔ اس دوران اس کا ایک اور میسیج آچکا تھا ” کیا ہوا سر ، کس سوچ میں پڑ گئے؟”
“بس میں نے پہچان لیا ہے آپکو، آپ نورین ہی ہیں” میں نے قطعیت سے جواب لکھ بھیجا۔
جوابی میسیج میں اس نے ایک بھر پور قہقہہ “ہاہاہاہاہا” کی شکل میں بھیجا۔ “سر آپ تو کافی شارپ مائینڈڈ ہیں اتنی جلدی پہچان لیا”
“اور کیا! بیٹا آپ کا ٹیچر ہوں”
چند تعارفی میسیجز کے بعد میں نے اس سے پوچھا کس سلسلے میں رابطہ کیا ہے۔
“سر بس ایسے ہی سوچا آپکا حال احوال پوچھ لوں” میں نے شکریہ ادا کیا۔
پھر اس کے میسیجز روٹین میں آنے لگے۔ کبھی کوئی حدیث، قرآنی آیت کا ترجمہ، کوئی کوٹ یا شعر لکھ کے بھیجتی۔ یا اگر اسے پڑھائی میں کوئی مسئلہ ہوتا تو اس کے متعلق میسیج کرتی۔ میں نے کبھی اسے خودسے میسیج نہیں کیا تھا ہمیشہ وہ ہی میسج کرتی اور میں جواب دیتا۔ کلاس میں بھی وہ دوسری لڑکیوں کی بنسبت زیادہ سوالات پوچھا کرتی۔
ایک شام کو اس نے میسیج کیا ” سر آپ سے ایک بات کرنی ہے” میں نے کہا کیا بات ہے ۔
“سر بات یہ ہے کہ آپ کو پتا ہے میٹرک کے امتحانات قریب ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ بورڈ میں میری پوزیشن آئے”
میں نے کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن اس کے لئے آپکو محنت کرنی ہوگی۔ “جی سر اور اس کے لئے آپکی مدد کی ضرورت ہے”
“کیسی مدد؟”
“میں چاہتی ہوں آپ میرے ساتھ تیاری کرلیا کریں۔ آپ مجھے روز ہر مضمون میں کچھ ٹاپکس دیا کریں ، اگلے میں ان میں آپ کو ٹسٹ دیا کرونگی”
پڑھائی کے معاملے میں میں ہمیشہ سٹوڈنٹس کی حوصلہ افزائی کرتا تھا اور اس سلسلے میں انکی ہر طرح کی مدد کرنے کی کوشش کرتا رہتا ۔ مجھے یہ جان کر نہایت خوشی ہوئی کہ نورین پڑھائی میں دلچسپی لے رہی ہے ۔ سو میں نے فورا ہی حامی بھر لی۔ اگلے دن کلاس میں نورین کو ہوم ورک اسائن کرنے کے ساتھ دوسری سٹوڈنٹس کو اس کے ارادے سے بھی آگاہ کیا تاکہ وہ بھی موٹیویٹ ہوجائیں۔ چند اور طالبات نے بھی فرمائش کی ہوم ورک کی۔ میں نے انہیں بھی کام تفویض کردیا۔ یہاں پر ہمیں اک بہت ہی بڑے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مسئلے کا نام تھا “نائلہ خان” ۔ جی ہاں وہی اپر کلاس سے تعلق رکھنے والی لڑکی۔ اس نے نورین کا تمسخر اڑایا کہ یہ ایک چھوٹے خاندان کی لڑکی بورڈ ٹاپ کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ میں نے اس کومنع کیاکہ اس طرح نہیں کہتے ۔ جواب میں اس نے مجھے استہزائیہ نظروں سے دیکھا۔ مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن میں برداشت کر گیا۔ وہ نہایت ہی مغرور لڑکی تھی۔
بہرحال نورین لوگوں کی پڑھائی شروع ہوگئی۔ وہ 10 لڑکیوں کا گروپ تھا۔ میں روزانہ ان کو کام دیتا جس کو وہ شوق سے یاد کرتیں ۔ جتنا جتنا وقت گزرتا ، اتنا اتنا ان لوگوں کا شوق بڑھتا جاتا۔ ادھر نائلہ نے اپنے ساتھ اپنے جیسی چند لڑکیوں کو ملا لیا تھا۔ وہ روز نورین لوگوں پر آوازیں کستی اور ان کو بے جا تنگ کرتیں۔ نورین نے ایک دو بار مجھ سے شکایت بھی کی لیکن میں نے انہیں اپنی پڑھائی پہ توجہ دینے اور ان لوگوں سے نہ الجھنے کو کہا۔
ایک دن ایسا ہوا کلاس کے دوران میں نے نائلہ اور اس کی دوستوں کے سامنے نورین لوگوں کی تعریف کردی پڑھائی کے حوالے سے۔ اس پر نائلہ غصہ سے آگ بگولہ ہوگئی. اس نے ڈائریکٹلی مجھ سے کہا “آپ تو نورین کی تعریف کریں گے ہی ، وہ آپ کی محبوبہ جو ٹھہری۔ ” یہ سن کر میں نے نائلہ کو تھپڑ مارا۔ اس نے تمام کلاس کے سامنے مجھے دھمکی دی کہ وہ اس بے عزتی کا بدلہ لے گی۔ میں نے کہا جو کرسکتی ہو کرلو۔
چند دن بعد اس نے اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنایا۔ ہم سکول کے ساتھ بنے ہاسٹل میں رہتے تھے۔ ہاسٹل ہر دوسرے ہفتے بعد بند ہوتا تھا۔ تمام رہائشی طلباء اور اساتذہ گھروں کو جاتے تھے۔ میرے ساتھ میرا کزن امجد بھی اس سکول میں ٹیچر تھا۔ ہم نے ہاسٹل ہی میں ٹھہرنے اور گھر نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ اتفاق سے پرنسپل صاحب میری کلاس میں آگئے تو میں نے انہیں بتایا کہ اس ہفتے ہم گھر نہیں جائیں گے بلکہ ہاسٹل ہی میں رکیں گے۔یہ بات نائلہ نے بھی سن لی اور موقع غنیمت جان کر مجھے سبق سکھانے کے بارے میں سوچنے لگی اس کا منگیتر تھا کامران۔ نائلہ نے اسے میرے بارے میں خوب بڑھا چڑھا کر باتیں بتائیں اور اسے اس بات پر قائل کیا کہ ہفتے کی رات جب ہاسٹل خالی ہوگا، کامران چند لفنگوں کو لے کر ہاسٹل پر چڑھائی کرلے گا رات کے اندھیرے میں اور مار مار کر میرا بھرکس نکال دے گا۔ ہمیں اس بات کا قبل از وقت علم ہوگیا۔ وہ اس طرح کہ نائلہ نے یہ بات اپنے گروپ کے کسی دوست کو میسیج کردی۔ اس لڑکی کے ضمیر نے یہ گوارا نہیں کیا شاید کہ اس کے ٹیچر کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے۔ لہذا اس نے وہ میسیج نورین کو فاروڈ کیا۔ نورین سے وہ میسیج مجھے ملا۔ میں نے امجد سے کہا کہ کیا کیا جائے۔ اس نے بتایا کہ ہاسٹل کو چھوڑ کر کہیں اور رات گزارتے ہیں۔ میں نے کہا نہیں اس طرح تو وہ اور شیر ہوجائینگے۔ دوسری بات یہ کہ ہم پٹھان ہیں اور پٹھان میدان چھوڑ کر نہیں بھاگتے۔ میں نے اسے بتایا کہ میرے پاس اک دوسرا پلان ہے چلو اس پہ عمل کرتے ہیں اور ان رذیلوں کو سبق سکھاتے ہیں۔
ہمارے پاس ہاسٹل میں دو بندوقیں تھی۔ ان میں بلٹس (گولیاں) نہیں تھے۔ بندوقیں ویسے ہی پڑی رہتی تھی۔ میں نے امجد سے کہا بندوق میں گولیاں نہیں ہیں اس بات کا ہمیں پتا ہے لیکن انہیں نہیں۔ اور ہم نے اس بات کا فائدہ اٹھانا ہے۔
رات کے کھانے کے بعد ہم ٹی وی دیکھنے بیٹھ گئے۔ ہمارا سکول پہاڑی کے اوپر تھا۔ نیچے سڑک صاف نظر آرہی تھی۔ وہ لوگ جب بھی آتے ہماری نظروں میں فورا آجاتے۔
یہ قریبا 11 بجے رات کا وقت ہوگا جب ہم نے کچھ سائے دیکھے۔ یہ کل چار سائے تھے۔ چاروں نہایت احتیاط اور خاموشی سے چلے آرہے تھے۔ ہم نے ٹی وی آف کر دیا ، “بندوقیں” سنبھال لی اور ان کا انتظار کرنے لگے ۔ وہ دیوار پھاند کر اندر آگئے ۔ ان کا رخ ہمارے کمرے ہی کی طرف تھا۔ ہم ہاسٹل کے داخلی دروازے کے قریب دیوار کے پیچھے چھپ کر کھڑے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے ہاسٹل میں قدم رکھا، ہم نے ان کے سرغنے یعنی کامران اور ایک اور لڑکے کے سر سے بندوقیں لگالیں” ہلنا مت ورنہ یہیں بھون کر رکھ دیں گے،میں نے تیز آواز میں فلمی ڈائیلاگ بولا۔ ” اپنے ہاتھ اوپر کرلو” وہ نوجوان لڑکے تھے، جن کا کبھی خواب میں بھی اس صورتحال سے واستہ نہیں پڑا تھا، سو فورا سے پیشتر ہی سب نے ہاتھ بلند کرلئے۔ امجد نے ان کی تلاشی لی تو کامران کے پاس سے پستول برآمد کرلیا۔
اس کے بعد ہم انہیں بندوق کے زور پہ باہر صحن میں لے آئے۔ یہ سخت سردی کا موسم تھا۔ باہر نہایت ہی ٹھنڈ تھی۔ ہم نے بندوق کے زور پہ ہی ان کی قمیصیں اور سویٹرز اتار دئیے اور انہیں ننگی زمین پہ بٹھادیا۔ تھوڑی سی سختی کے بعد انہوں نے اعتراف کرلیا کہ انہیں نائلہ نے ہمیں مارنے بھیجا تھا۔ ہم نے یہ بات موبائل ویڈیو میں ریکارڈ کی۔ پھر ان کی کچھ اور تصاویر لیں اور ویڈیو بنائی نیم برہنگی کی حالت میں۔ تھوڑی دیر بعد کامران کے باقی دوست اسے کوسنے دینے لگے کہ اس کی باتوں میں آکر وہ لوگ اس افتاد میں پھنس گئے تھے۔ ان میں سے ایک لڑکا باقاعدہ رونے لگا اور ہم سے معافیاں مانگنے لگا۔ ہم نے اپنا دل سخت کرلیا تھا۔ ساری رات وہ لوگ سردی سے ٹھٹھرتے رہے، روتے رہے اور معافیاں مانگتے رہے ۔ صبح صادق کے قریب ہم نے انہیں دھمکیاں دے کر چھوڑ دیا کہ اگر انہوں نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو ہم یہ ویڈیو نیٹ پہ ڈال دینگے۔
اگلا دن اتوار کا تھا۔ ہم نے خوب آرام کیا۔ رات والے واقعے کو یاد کرکے خوب ہنسے۔
پیر کے دن جب نائلہ آگئی تو اس کا چہرہ چیخ چیخ کر اس کی ناکامی کی داستان سنا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے انگارے نکل رہے تھے لیکن وہ کچھ کہ نہیں سکتی تھی۔ میں نے اسے کچھ نہیں کہا بس بورڈ پہ ایک شعر لکھ دیا ؛
ہم تو دشمن کو بھی پاکیزہ سزا دیتے ہیں
ہاتھ اٹھاتے نہیں نظروں سے گرا دیتے ہیں
اس کے بعد میں نے اسے مکمل طور پر اگنور کرلیا۔ نہ کلاس میں اسے مخاطب کرتا، نہ ہی اس کی طرف دیکھتا۔ اس نے جو میرے ساتھ کرنے کی کوشش کی تھی اس کے بعد وہ میری نظروں سے گرگئی تھی۔
نورین لوگوں کے ساتھ میں نے اور بھی دل لگا کر محنت شروع کی۔ ان کو بھی جیسے جنون لگ گیا تھا بورڈ ٹاپ کرنے کا۔
امتحانات ہوگئے پھر ان لوگوں کی چھٹیاں ہوگئی لیکن نورین اور اس کے فرینڈز میرے ساتھ مکمل رابطے میں تھیں۔ نورین کے پیپرز بہت ہی اچھے ہوگئے تھے اور اسے امید تھی کہ وہ اپنا ٹاگٹ ضرور حاصل کرے گی۔
وہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار دن تھا ۔ مجھے اپنی کی گئی محنت کا صلہ مل گیا تھا۔ نورین نے بورڈ ٹاپ کرلیا تھا۔ اس دن میرا اللہ تعالی پہ یقین اور بھی پختہ ہوگیا تھا کہ وہ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔
نقرین کے والد بطور خاص شکریہ ادا کرنے میرے پاس آئے تھے۔ اس نے میرے لئے چترالی ٹوپی (پکول) اور چادر خریدی تھی۔ میں نہیں لینا چاہتا تھا لیکن اس نے اتنی محبت سے کہا کہ مجھے انکار کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ اور نورین کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں رہا تھا۔ اسے آسانی سے پشاور کے جناح کالج میں داخلہ مل گیا۔ آج کل وہ خیبر میڈیکل کالج پشاور سے ایم بی بی ایس کر رہی ہے۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: