Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 1

0
پاگل آنکھوں والی لڑکی از اشنال سید – قسط نمبر 1

–**–**–

یہ بری لڑکیاں بھی کبھی اچھی رہی تھیں،ہاں مگر کبھی کبھی کی بات تھی…
ایبٹ آباد شہر کوان دنوں طوفانی بارشوں نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا،آج بھی طوفان پوری رفتار سے شہر پر حملہ آور تھا۔وہ سرشام ہی تمام کھڑکیاں اور دروازے بند کئے،روم میں چھپ کر بیٹھی تھی۔ جب سے اس کی زندگی طوفانوں کی نذر ہوئی تھی،اسے طوفانوں سے خوف آتا تھا،اس کا بس نہیں چلتا تھا وہ خود کو کسی ایسی مٹی میں دفن کرلےجہاں سے ایسے طوفان کی سائیں سائیں نا سنائی دے،ایسےہی کئی طوفان اپنے ساتھ اس کاسب کچھ بہا لے گئے تھے۔
طوفان کی وجہ سے ایبٹ آباد شہر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا،کمرےمیں چارجنگ لائٹ کی مدھم سی روشنی اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی،اس خاموشی میں گھڑی کی سوئی ٹک ٹک ہر سیکنڈ کے ساتھ سنی جا سکتی تھی۔
کمرے کے ایک کونے میں رائیٹنگ ٹیبل پر ایک نیلے رنگ کی ڈائری پڑھی تھی، اور رائیٹنگ ٹیبل کے پاس رکھی چئیر پر سفید رنگ کے کاٹن کے سوٹ میں سفید شیفون کا دوپٹہ شانوں پر پھیلائے،بھورے بالوں کی الجھی بکھری چٹیا کاندھے پر پڑی،چٹیاسےجھانکتی کچھ الجھی لٹیں، کہنیوں کو ٹیبل پر رکھے،ہاتھوں کی انگلیوں میں مقید سیاہ رنگ کا نفیس سا قلم گھماتے وہ سوچوں میں الجھی بیٹھی تھی…….
اس کی بھوری خاموش آنکھیں اندھیرے میں شاخ پر بیٹھے اس اداس جگنو کی طرح دکھ رہی تھیں جس کا آشیانہ بارش میں اجڑ چکا ہو…..
اسکی آنکھوں کے جگنو مرگئے تھے،جو آنکھیں مرے ہوئے جگنوؤں کی آنکھوں میں ہی تدفین کر دیتی ہیں،وہ زیارت گاہ بن جاتی ہیں،جسطرح حاجت مند مزاروں پر منت کے چراغ جلانے آتے ہیں،بالکل اسی طرح کچھ زندہ بچ جانے والے خواب سرشام اس کی آنکھوں میں مردہ خوابوں کےمزاروں پر اپنے اپنے حصے کے چراغ جلاتےآتے تھے۔
شاید نہیں ہاں یقیناً وہ ان لوگوں میں سے تھی جو حال کو یکسر فراموش کئے ماضی میں سانسیں لیتے تھے…
ماضی.. کیا تھا اس کا ماضی…
وہ ڈائری کےسادے ورق پر جھکی اورقلم کی آواز گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ شامل ہو گئی…
سفید ورق سیاہ ہونے لگا…..
یادماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
ماضی:۔
دھک دھک دھک دھک دھک دھک
کوئی دونوں ہاتھوں سےبند دروازے کوپیٹ رہا تھا۔
“ارےبھئی!دم تولو،چل کر آرہی ہوں اڑکر نہیں۔”
گھرکےاندرسےکوئی بھاگتاہواآیا۔
دروازہ کھلتے ہی غصے میں لال پیلی وہ اندرداخل ہوئی،
اورسیدھی کمرے میں جاکر رکی…
عشیہ اس کے پیچھے ہولی۔
اتنا غصہ،خیر توہے کڑئیے؟”
وہ ان سنی کرگئی۔
ہاتھ میں پکڑے نوٹس بیڈ پراچھالے،کاندھے پر لٹکتا بیگ زمین پر پھینکا،سر یہ پڑی میرون چادراتار کر دور اچھالی اور بیڈ کے کنارے سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
“اب بتاؤ کیا بات ہے۔”
“میں یقین سے کہہ رہی ہوں اس خبیث کا قتل میرے ہاتھوں ہی لکھا ہے۔”
اور وہ ایک جملے میں ہی سمجھ گئیں تھیں کہ بات کس کی ہو رہی ہے۔”
“اب کیا کردیا اس نے؟”
اس لمبی سانس لےکر وہ بتانےلگی…
واپسی پر اس کی فرینڈ فروا اپنے ماموں کے گھر چلی گئی جو کالج سے نزدیک پڑتا تھا اس وجہ سے آج اسے اکیلے گھر تک کا راستہ طے کرنا تھا۔ڈیڑھ بجے تپتی دوپہر میں اس نے کالج سے گھر تک کا راستہ پیدل چلنا شروع کیا۔
ابھی اسے چلتےدس منٹ ہوئے ہو گئے کہ اسے وہی جانی پہچانی آوازیں سنائی دینے لگیں،وہ اگنور کرتی نظریں راستے پر جمائے چلتی رہی،اچانک کوئی اس کے ساتھ ساتھ چلنے والا قدم پیچھے رہ گیا،کسی نے اسے اکسایا-
یارمردبن ڈرنہیں،آج موقع ہےبول دے۔”
وہ ہنسنے لگا اور تھوڑا تیز چل کر اس کے ساتھ ہم قدم ہوا پھراس لڑکے نے اس کی طرف کچھ بڑھایا۔
“یہ آپ کے لیے۔”
اس نےلب بھینچے بمشکل خودکو کچھ کہنے سے روکا، اور قدم اور تیز کر دیئے۔
کراچی کی شدید ہیٹ اسٹروک والی گرمی میں اس سچویشن میں غصے کو مشکل سے ضبط کرتی وہ پسینے پسینے ہورہی تھی۔کالج کے سفید ڈریس میں اسکا چہرہ اس وقت غصے کی شدت سے سرخ پڑ رہا تھا،سرکی چادر جسے وہ بمشکل سنبھالتی تھی آج بار بار بےترتیب ہو رہی تھی۔کپکپاتے ہاتھوں سے بار بار چادر کو درست کرتی وہ بڑی مشکل میں پڑی تھی۔
کوئی لڑکے کے حق میں بولا۔
“بھابھی لےلو،کب تک بیچارے کی محبت کو ٹھکراؤ گی؟”
ایک لمحے کو وہ روکی، پیچھے پلٹ کر بولنے والے کو کھا جانے کی نظروں سے دیکھا۔سامنے والے تین لڑکوں میں سے دو کو وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ انھیں کے سامنے وہ بچپن سے بڑی ہوئی تھی۔اسنے نفرت بھری نظروں سے گفٹ دینے والے کو دیکھا اور غصے کو ضبط کرتی ایک بار پھر اپنے راستے پر چل پڑی۔
وہ لڑکا وہی روک گیا اور دوستوں کے اکسانے پر بھی وہی کھڑا رہا۔
اس نے اپنے دروازے سے اندر داخل ہوتے تک کسی کی نظروں کو خود پر محسوس کیا۔
وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے پھر لیٹ گئی۔
“دفع کرو،منہ نہ لگوایسے لوگوں کے،یہ آخری سال ہے تمہارا، یونیورسٹی کیلئے ویسے بھی دوسرے روڈ سے جانا پڑےگا۔چلو اٹھو فریش ہو جاؤ۔”
وہ اٹھی اور بوٹوں کے تسمے کھولنے لگی۔
وہ کوئی اپسرا،کوئی حور، کوئی قلوپطرہ نہیں تھی،وہ غیر معمولی حسین بھی نہیں تھی،وہ توبس درمیانی رنگت کی درمیانی قد کاٹھ کی نازک سی عام سی لڑکی تھی،لیکن اسے دیکھنے والا ایک بار دیکھ کر دوبارہ ضرور دیکھنا چاہتا۔وجہ تھی اس کے چہرے پر حد درجہ پھیلی معصومیت،اور اس کی بھوری جگنو جیسی آنکھیں،جواپنے قدموں پر نظر رکھ کر چلتیں۔کوئی اگر ان آنکھوں کو اوپر اٹھنے پر مجبور کرتاتو ان آنکھوں میں بسے جگنو خفگی سے گھورنے پر لگتے،جودیکھنے والے کو کافی دلچسپ محسوس ہوتے….
اس نے پہلا لفظ بابا بولنا سیکھا تھا۔اس کے بابا کراچی میں”سیٹھ عبداللہ”کے نام سے جانے جاتے تھے، سیٹھ عبداللہ کی فرنیچر مارکیٹ میں فرنیچر عبداللہ کے نام سے شاپ تھی،اور مارکیٹ کے اندر والے پورشن میں ایک کارخانہ تھا۔وہ ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے، گھر، گاڑی، پیسہ، شہرت،رشتے،دوست، سب کچھ تھا پاس…. الحمدللہ۔
سیٹھ عبداللہ کی کل کائنات ان کی تین بیٹیاں تھیں،سب سے بڑی اریشہ شادی شدہ تھی اور وہ اس وقت اپنے دو بچوں اسوہ اور ہادی کے ساتھ ایبٹ آباد میں مقیم تھیں،دوسرے نمبر پر عشیہ تھی جو انگیجڈ تھی اور امی کی بیماری کی وجہ سے ایف اے ہی کر پائی تھی اور اب سارا گھر سنبھال رکھا تھا۔پھر تیسرا اور آخری نمبر اشنال کا تھا۔انہیں اپنی تینوں بیٹیاں ہی بڑی پیاری تھی،مگر اشنال چھوٹے ہونے کے ناطے زیادہ پیارسمیٹے ہوئے تھی۔اشنال کی ماں آسیہ خاتون استھما کی پیشنٹ تھیں،اور اس بیماری کی وجہ سے وہ کہی بار موت کے منہ سے واپس آ چکی تھیں۔
اشنال نے جب بچپن میں اپنی ماں کو اس حالت میں دیکھا تو وہ ڈر گئی،اور اس خوف کی وجہ سے ان سے دور رہنے لگی،وہ بہت چھوٹی تھی،بچپن میں بیٹھا ڈر پختہ ہو گیا۔
اسے اپنی ماں سے خوف آتا تھا،یہی وجہ تھی کہ جس عمر میں بچے اپنی ماں کے پاس سوتے وہ اپنے بابا کے پاس سوتی تھی،دن کے اوقات میں بھی وہ زیادہ تر بہنوں کے ساتھ ہوتی،اور جس دن امی کی طبیعت بگڑی ہوتی وہ ڈر کے مارے کمرے میں چھپی رہتی….
اسے بابا ہی کے پہلو میں تحفظ محسوس ہوتا، بابا کی موجودگی میں گھر میں شیروں کی طرح گھومتی تھی،بابا کی غیر موجودگی میں وہ اپنے گھر میں سہمی چڑیا کی طرح رہتی….
اس کی زندگی کی کل روشنی اس کے بابا تھے۔
گوکہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ سمجھدار ہو گئی تھی، اور امی کی بیماری کو سمجھنے لگی تھی مگر تب تک وہ بابا کے بیحد قریب آچکی تھی،جہاں اس کے بابا تھے وہاں کوئی بھی نہیں تھا اس کی امی بھی نہیں۔
رات بارہ بجے شروع ہونے والا ٹی ٹونٹی کرکٹ میچ جب دوسری اننگز میں داخل ہوا تو لائٹ چلی گئی،دونوں باپ بیٹی نے ایک ساتھ.”اووووہ شٹ” کی آواز نکالی۔
امی اور عشیہ بظاہر توسوئی ہوئی تھیں،مگر روم میں پھیلی ٹی وی کی لائٹ نیلی پیلی چمکیں مارتی اور کمنٹیٹر کی چنگھاڑتی آواز سے وہ سونے اور جاگنے کی کیفیت میں تھیں۔
ان دونوں باپ بیٹی کی عادت تھی کہ والیم تیس پینتیس تک نہ ہو تو انہیں کرکٹ کا مزا ہی نہیں آتا۔پہلے تو انہوں نے ہمیشہ کی طرح کوشش کی کہ وہ دونوں بھی ان کو جوائن کرسکی پھر اس کے خراٹے کمرے میں گونجنے لگے۔
اشنا ل اور اس کے بابا بلاشبہ کرکٹ کے دیوانوں میں سے تھے،رات کایہ پہر انکی دیوانگی کا گواہ تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ دیر اور”کے الیکٹرک” کو کوستے اشنال کی آنکھوں کے جگنو اندھیرے میں چمکے۔
“بابا ایف ایم۔”
انہوں نے اپنا فون ایشے کو پکڑایا۔
اور پھر کمرے میں ایف ایم 107 کے آر جے اعجاز کی اردو کمنڑی شور پیدا کرنے لگی….
“گیند اب باؤنڈری لائن سے باہر جا رہی ہے اور اور اور یہ چھکاااااآاااا”
“یییییییں”دونوں کرکٹ کے دیوانوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر تالی ماری۔سونے والوں نے کانوں پر تکیے رکھ دیئے۔
“پتری! یہاں گرمی ہو رہی ہے صحن میں چلتے ہیں۔”
اب وہ صحن میں۔ بچھی چار پائی پر بیٹھے،سیل فون سے چنگھاڑتی کرکٹ کمنٹری سننے لگے۔
گلی سے آتی آوازوں سے وہ اندازہ لگا سکتے تھے کہ شہر کراچی میں کرکٹ کے دیوانوں کی کمی نہیں ہے۔
پھر وہ دونوں باپ بیٹی پاکستان کو جتا کر ہی سوتے تھے….
ایک اور بات دونوں میں مشترک تھی۔وہ چاہے رات جتنی دیر جاگیں صبحِ وقت پر اٹھتے تھے،وہ بالکل بھی نیند کے شیدائیوں میں سے نہیں تھے…
کوچنگ سے واپسی پر وہ گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے لگی تھی کہ پیچھے سے ثناء نے آواز دی۔
“رکو ایشے۔ یہ فہد نے دیا ہے۔”
ثناء نے اسی لڑکے کا نام لیا جو اشنال کے نزدیک محبت نام کےڈرامے کرتا تھا۔
اشنال نے ایک لمبی سانس خارج کی اور لیٹر ثناء کے ہاتھ سے لیکر پڑھے بغیر ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے اور کاغذ کے ٹکڑے ثناء کی ہتھیلی پر رکھ کر بولی۔
“اپنے اس سستے عاشق سے کہنا،اشنال عبداللہ محبت کے چکروں میں نہیں پڑتی،اس کی منزل کچھ اور ہے۔میں اس سے محبت نہیں کرتی،ایسےکہو کسی اور پر ٹرائی کرے”
وہ اوپر چڑھنے ہی لگی تھی کہ ثناء کی آواز نے اس کے قدم روک لئے۔
ایشے محبت کو دھتکارو مت، محبت کی بددعا بھی لگ جاتی ہے۔”
وہ پیچھے مڑی اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔
“بددعائیں حق پر لگتی ہیں،جب مجھے محبت ہے ہی نہیں تو کیوں لے لوں یہ سب؟ اسےکہو زبردستی میرے متھے نالگے”
دروازے کے بند ہوجانے پر ثناء نے پیچھے کو قدم اٹھائے،سامنے فہد کھڑا تھا جس کا مطلب تھا وہ سب سن چکا ہے۔
وہ اس کے ہاتھ سے اپنی محبت کے ٹکڑے لے کر چلا گیا، اور وہ واقعی ہمیشہ کیلئے چلا گیا تھا،کہ اس کے بعد اسے اپنے راستے میں کہیں نظر نہیں آیا۔
وہ خود تو چلا گیا مگر محبت کی بددعائیں اشنال عبداللہ کے پاس ہی چھوڑ گیا تھا۔
محبت اپنے ساتھ برا کرنے والوں کابرا حال کر دیتی ہے۔
آج فری پیریڈ میں وہ کلاس سے باہر گراؤنڈ میں اکیلی بیٹھی مسکرا رہی تھی۔فروا اس کے سامنے آ کر بیٹھی اور گنگنانے لگی۔
“تم اتنا جو مسکرا رہے ہو
کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو؟”
“فروا یار ! کاجل ساٹھ روپے کا ہوگیا۔”وہ دونوں ہونٹوں کو سیڈایموجی کی طرح لٹکا کر بولی۔
فروا نے ہاتھ میں پکڑے نوٹس ایشے کے سر پر مارےاور وہ ہنس دی۔
“توبہ ہے ایشے میں سمجھی اشنال عبداللہ کو شاید کسی نے لو لیٹر دے دیا ہے جسے پڑھ کر وہ خود ہی خود مسکرا رہی ہیں”
تمہاری سوئی ہمیشہ مجھے لو کروانے پر ہی کیوں اٹکی رہتی ہے؟”
یہاں بیھٹے وہ کب سے آنکھوں میں گھستی بدتمیز مکھی کی گندی کسسز کو ڈوج کرنے کے شغل میں تھی،اس کی ہئیر ٹیل کبھی ادھر کبھی ادھر جھولتی….
“میں دراصل چاہتی ہوں تمہیں کسی سے عشق ہو جائے، ہائے!سچی کتنا مزا آئےگا،تم جو مجھ پر ہنس رہی ہوتی ہو پھر میں ہنسو گی، یا اللہ جی ایشے کو عشق ہوجائے۔”
فروا نے دعا کی صورت ہاتھ اٹھائے اور آنکھیں میچ کر دل سے بولی۔
“تم شاید بھول رہی ہو کہ مجھے تین،چار لوگوں سے عشق ہو چکا ہے”
اشنال نے آخر بد تمیز مکھی کو نوٹس کی کک لگائی،یا تو مکھی بیچاری مر گئی ہوگی یا شاہد وہ لنگڑی ہوئی پڑی ہوگی کہیں….
پھر وہ انگلیوں پر گن کر بتانے ہی لگی تھی کہ فروا اسکا ہاتھ روک کر اسی کے سٹائل میں خود اپنی انگلیوں پر گننے لگی۔
“ایک میرے بابا جانی،دوسرے میرے لالا جانی،تیسرے میرے سمندر جانی،اود چوتھے میرے کاجل جانی۔
فروا نے منہ پھلا کر کہا،کاجل جانی،وہ ہنسنے لگی۔
“کتنا جاننے لگی ہونا تم مجھے فری۔”
وہ ہنستی اس کی آنکھوں کے جگنو بھیگ جاتے،دیکھنے والوں کو ایسے لگتا جیسے پانی میں موم بتیاں تیر رہی ہوں…
“پتا ہے اشنال کبھی کبھی مجھے خیرت ہوتی ہے کہ تم کالج تک بغیر کسی افیر کے کیسے پہنچ آئی، ویسے تو تم کسی عاشق مزاج جن کی طرح میرے ساتھ چپکی ہوئی ہوبچپن سے مگر کہیں تم مجھے ڈوج تو نہیں کر گئی؟” فروا نے انتہائی مشکوک نظروں سے اسےگھورا۔
“مجھے محبت ہے…”اشنال نے لفظ”ہے” پر زور دیا۔
محبت کے نام پر آنکھوں کے سارے جگنو رقص کی لے پر اتر آئے تھے….
“علیزے کے دلاور شاہ سے، حیا کے جہان سے،امامہ کے سالار سے، حورین کے ہادسے،اور اور….
“اور بس اشنال بی بی بس،ناول کی دنیا سے باہر نکل آئیں اور حقیقت کی زمین پر قدم رکھیں، آپ کا جہان یہیں ناظم آباد میں ہی کہیں ہوگا۔
ایشے کہیں وہ جہان تو نہیں جو ہر تیسرے دن بعد بس اسٹاپ پر ملتا ہے۔”باجی،کتھے چلےاو” “نے ہو بہو اس ہجڑے کی نقل اتارتی۔ پہلے تو وہ خوب ہنسی پھر رازدارانہ انداز میں گویا ہوئی۔
“مگر یار ایک مسئلہ ہےوہ تو مجھے تم میں انٹر سٹڈ لگتا ہے”
فروا کی آنکھوں میں کالے جن اتر آئے،بس ماتھے پر دو عدد سینگوں اور منہ سے نکلتے دو عدد لمبے دانت آنا باقی تھے،جوکہ ایشے کی اگلی بات پر وہ بھی نکل آئے تھے۔
“دیکھو نا، میں نے جہان کی اسٹوری پڑی ہوئی ہے اسلئے میں اسے اچھے سے مسکرا کر ڈیل کرتی ہوں،کہ مجھے وہ ڈولی یاد آ جاتا ہے۔تم نے نہیں پڑھی ہوئی نا تو تم اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورتی ہو۔اور تمہاری حرکات بلکل میری پیاری حیاء سکندر جیسی ہیں،تو پابت ہوا کہ یہ والا جہان تمھارا ہے…..
اس کی آنکھوں کے جگنو ہنستے ہنستے دہرے ہو رہے تھے….
“ایشے کی بچی تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا۔”فروا نے اشنال کی گردن دبوچ لی…..
میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ کچھ نہیں ہو سکتا اب تو۔”اپنی گردن مسلتےمایوسی سے بولی۔
“مطلب؟”
“کاجل پچاس سے ساٹھ کا ہو یا سو کا میں تو ہر حال میں خریدوں گی کہ میری آنکھیں کاجل کے بغیر بیمارہو جاتی ہیں۔”
اشنال نے لہجے میں کاجل جانی کے لیے ڈھیروں محبت سمو کر کہا۔
“مرو تم۔” فروا غصے سے واک آؤٹ کر گئی،اشنال بھی ہنستے ہوئے اس کے پیچھے فری فری کرتی بھاگی…
اور زندگی میں سچی اور بھرپور خوشیاں ہمیشہ نہیں رہتیں،جب ہم خوشیوں کی قدر نہیں کرتے ناں تو وہ خوشیاں ہم سے روٹھ جاتی ہیں…
وہ شیشے کے سامنے کھڑی بالوں پر کنگھی کر رہی تھی، پھراس نے چہرے اور ہاتھوں پر موسچرائزر لگایا اور آنکھوں میں ہلکی سی لائن کاجل کی پھیری۔اب وہ مکمل ریڈی تھی،کہ اچانک اسے شیشے میں اپنے عکس کے پیچھے کسی کا مسکراتا چہرا نظر آیا،وہ پلٹے بنا آئینے کو گھورتے ہوئے بولی۔
“کسی کو چھپ چھپ کر دیکھنا بیڈمینرر میں آتا ہے،بابا۔
آپ نیوز کے بہانے لڑکی سے فلرٹ کر رہے ہیں۔”
بابا آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر شرارت سے بولے۔
“میں نے تو کچھ نہیں دیکھا۔پھر ہنسنے لگے۔
“مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی پتری،رات کے دس بجے یا تو وہ لوگ تیار ہوتے ہیں جہنوں نے کس فنگشن میں جانا ہو،یا پھر وہ رات کی ڈیوٹی پر جاتے ہیں،مگر میں پہلی بار دیکھ رہا ہوں رات کے دس بجے فل اچھے سے تیار ہو کر کوئی سونے جا رہا ہو۔”
وہ ہنستے ہوئے بابا کا بازو دبوچ کر انکے ساتھ بیٹھی…
“بابا، ید ہے آپ نے بتایا تھا کہ رات کو روحیں آتی ہیں تو بس میں اس لیے زرا تیار شیار ہو کر سوتی ہوں تاکہ ان کو ہمارے گھر پہ آکر اچھا فیل ہو،اور دوبارہ بھی آئیں، اب دیکھیں ناہم گندے سندے سے سوئیں ہو گے بدبووں میں لپٹے تو وہ بولیں گی کتنے گندے لوگ ہیں پھر وہ دوبارہ آئیں گے ہی نہیں۔”
اس نے ناک سکوڑی۔بابا نے اس کی ناک کو چٹکی سے پکڑا۔
“میری ناٹی پتری۔بابا صدقے جائے۔”
سیٹھ عبداللہ نے اس کے ماتھے پر پیار کیا،وہ اشنال عبداللہ تھی،محبت کی بوند کے بدلے دریا بہانے والوں میں سے تھی….
“ایشےصدقے اپنے باباکے۔”
اس نے دونوں ہاتھوں سے بابا کے چہرے کے صدقے اپنے ماتھے پر لئے….
اور پھر دونوں باپ بیٹی کے قہقہے اس چھوٹی سی جنت میں گونجنے لگے۔
مگر وہ شاید بھول گئے تھے،کہ خوشیاں ہمیشہ کب رہی ہے۔
ان خوشیوں کے بعد اس کی زندگی میں ایسے طوفان آنے والے ہیں،جواس کی زندگی کو ویران کر جائے گے،اس کی ہنسی کے ساتھ اس کی آنکھوں کے چمکتے جگنو بھی ویران کر جائے گے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: