Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 10

0
پاگل آنکھوں والی لڑکی از اشنال سید – قسط نمبر 10

–**–**–

اسکول سے واپسی پر بارش کی بوچھاڑ کن من میں بدل چکی تھی، ایبٹ آباد کے سارے منظر دھل گئے تھے، بھیگی سڑکوں پر تیز روم سے جھانکتی خوشبو نے اس کےجکڑ لئے۔
گیسٹ روم کا دروازہ کھلا تھا اور پردے برابر کئے گئے تھے۔
اس کے ناک سے ٹکراتی سگریٹ کی خوشبو اعلان کر رہی تھی کہ اندر کون بیٹھا ہے۔غصےمیں تن فن کرتی راہداری عبور کرکے وہ کچن کے دروازے تک پہنچی، جہاں آسیہ خاتون گیسٹ روم میں بیٹھے شخص کیلئے چائے بنانے کھڑی تھیں۔
“امی…….. یہ کیوں آیا ہے یہاں؟” وہ چیخی۔
“آہستہ بولو، سن لے گا۔ “وہ دبی دبی آواز میں چلائیں۔
“سن بھی لے تو کیا فرق پڑتا ہے، انتہائی ڈھیٹ قسم کا واقع ہوا ہے، جانتا ہے کہ زبردستی میرے متھے لگا ہے۔”
خداکا خوف کرو اشنال، شوہر ہے تمہارا۔”
لفظ شوہر نے اسکا حلق کڑوا کر دیا تھا…
“زبردستی کا شوہر!”
اور بھی بہت کچھ بڑبڑاتے وہ روم کی جانب بڑھی، ہینڈبیگ دور اچھالا، اسکارف،عبایا بھی اتارا اور گولا بنا کر زمین پر پٹخا۔
غصے میں بھری بیڈ پر بیٹھ گئی…..
اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں ہے، حد ہے کسی کے گھر میں آ کر سیگریٹ کے دھوئیں اڑانا بیڈمینرز میں آتا ہے، یقیناً ائیر فورس والوں سے چھپ کر پیتا ہوگا، فوجیوں کی پھینٹی لگے گی تب پتا چلے گا۔”
ابھی تک سیگریٹ کی خوشبو اس کے نتھنوں میں گھسی ہوئی تھی۔
“کتنے دن لگیں گے اب کمرے کو صاف ہوتے، سارا کمرا سگریٹ سے بھر دیا ہے….”
کیپٹن شاہ کے لیے اس کے پاس ناگواری ہی ناگواری تھی۔
سگریٹ کی خوشبو اسے اچانک ماضی میں لے گئی….. اس نے تھک کر تکیہ پر سر رکھ دیا…….
“تمہاری آنکھوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے زئی جیسے……”
“جیسے؟”
“تم ڈرنک کرتے ہو؟”
“ہاہاہا” وہ ہنسا تھا۔
مجھ سے سے سب یہی پوچھتے ہیں، لیکن مجھ سا شریف بندہ تمہیں چراغ لے کر نکلو گی تب بھی نہیں ملے گا۔”
وہ ہنسی تھی…..
اوہو اسے خوشششش…..
“جان شاہ۔”
پہلی بار پہلی بار کسی نے زئی کے خیالوں سے اسے کھینچ نکالا تھا، نامحسوس انداز سے…… وہ آنکھیں بند کئے چونکی…..
زئی کا خیال اڑ چکا تھا۔۔۔
مگر وہ کون تھا، جان شاہ پکارنے والا تو وہ……مگر نہیں یہ تو کوئی ننھی سی آواز تھی….
اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا، سامنے چار پانچ سال کا پیارا سا بچہ کھڑا تھا…..
وہ اسے دیکھ کر مسکرایا۔
جان شاہ۔” اس بچے نے پھر وہی لفظ دہرائے۔
بچے کے نین نقش بتاتے تھے کہ وہ کیپٹن شاہ کا عزیز ہے…
پھر وہ اشنال کے قریب آیا۔
مائے نیم از سید واسع شاہ۔”
شکر ہے اس کی آنکھیں نیلی نہیں ہیں، اشنال نے سانس بھری، اور مسکرائی۔بچے تو دشمن کے بھی پیارے اور معصوم ہوتے ہیں، بچو سے بئیر کیسا،وہ مسکرائی۔
“کم ہئیر۔”
اشنال نے اسے بلایا، اور اب وہ اسکی گود میں بیٹھا اس کی گود میں بیٹھا اس کے لمبے ناخنوں سے کھیل رہا تھا۔
“جے اصلی ہیں؟”
“بلکل۔”
اسے شاید یقین نہیں آیا تھا، اسنے اب اشنال کے ناخن کو پکڑ کر اپنی انگلی سے نیچے کی جانب زور لگایا،
جیسے وہ توڑ کر دیکھنا چاہتا تھا کہ ناخن اصلی ہے کہ نقلی….
“اوووووچ، سسییییء….”
اس سے ہاتھ چھڑا کر اب وہ آپنے بیچارے زخمی ناخن کو پھونکیں مار رہی تھیں…..
ہاہاہاہاہا،وہ ہنسنے لگا تھا….
“یوناٹی بوائے۔”
اشنال نے اس کے کان کھینچے…..
وہ پھر سے ہنسنے لگا….
________________________
واسع شاہ کیپٹن شاہ کی گود میں لیٹا اسکے کف لنکس سے کھیل رہا تھا، اور شاہ کی بےخود سی نظریں اسکے چہرے کے طواف میں لگی تھیں….
جیسے اس کے سامنے واقعی جان شاہ ہو۔۔۔۔۔
“چاچو جان شاہ مجھ سے میری لیشز مانگ رہی تھی۔”
“اچھا۔”اس کے ڈمپل مزید گہرے ہوئے۔
میں نے کہا آپ کی لیشز ہیں تو۔”
ہاں صیح،پھر؟”
“پھر انہوں نے کہا اپکی والی جادہ پاری ہیں۔”
پھر آپ نے دیں؟”
“جی، میں نے دیں۔”
وہ کیسے؟”
میں نے اپنی لیشز جوں فنگر سے ٹچ کرکے انکی لیشز سے جوڑ دیں۔”
ہاہاہاہاہا…. میرا شہزادہ۔”
“چاچو انکی آئیز جادہ پاری ہیں، میں نے انکی آئیز کو کس بھی کیا۔”
“ناااااااا کر یار۔”
شاہ نے جھک کر واسع کے ننھے ہونٹوں کو چوم لیا….
“میرے بیٹے کو کن کاموں پر لگا رہے ہو، کیپٹن شاہ؟”
بھابھی کمر پر ہاتھ رکھ کرگھوری، وہ دونوں چاچو بھتیجا ہنس پڑے….
اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا بھابھی۔”
شاہ واسع شاہ کے بالوں سے کھیلنے لگا…..
یہ بگڑا نا تو سمبھالنا تم ہی۔”
“ارے فکر نا کریں، چاچو نہیں بگڑا بتھیجا کیسے بگڑے گا۔”
میں دیکھ رہی ہوں چاچو آہستہ آہستہ بگڑنے لگے ہیں۔”
ہاہاہا، اب تو بگڑنا بنتا ہے ناں بھابھی۔ وہ آپ نے سنا نہیں، علی زریون کیا فرما گئے ہیں۔
میں اس کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا۔
وہ مجھ کو خواب نہیں،نیند سے جگاتی تھی۔”
پھر اسکی خوبصورت ہنسی شاہ ولا میں بکھرنے لگی۔
______________________
“بیوقوف مت بنو ایشے، بس کرو، کوئی اتنا بڑا ظلم نہیں ہوا ہے تم پر، ہر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے، کب تک مظلومیت کی چادر اوڑھوگی…
اسے نافرق پڑا تھا ناپڑے گا، وہ اپنی زندگی میں خوش ہے، اسے تمہاری زرہ پروا نہیں، وہ بس تمہارے ساتھ وقت گزار رہا تھا، کب تک تم اسے یاد کر کے اپنی زندگی برباد کرتی رہو گی؟
اب تمہاری زندگ تمہاری نہیں رہی، تم اب کسی کی بیوی ہو، بھول جاؤ اسے، کیوں مزید اپنے تماشے لگا رہی ہو….؟
اللہ نے شاہ کی صورت میں تمہیں ایک موقع دیا ہے، خدا کے لئے سمجھ جاؤ۔
کیا تم نے سنا نہیں……
“تمہارا رب جس چیز کو تمہارے قریب کردے اس میں حکمت تلاش کرو، اور جس چیز کو تم سے دور کر دے اس پر صبر احتیار کرو۔”
اب خود کو اور اذیت مت دو۔
فری آج اسے سمجھانے کے لیے پچھلے ایک گھنٹے سے کال پر تھی۔
” کیسے کرو صبر؟ فری، نہیں آتا مجھے صبر، نہیں بھول پا رہی میں اسے، تم میری جگہ پر ہوتی تب میں تم سے پوچھتی کہ بھلا آسان ہوتا ہے یادوں سے چھٹکارا پانا…؟
فری میں جب سوچتی ہوں کہ میں کسی اور کے ساتھ زندگی گزاروں گی، میرا دل چلنا بند ہو جاتا ہے، میں نے اس کے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب دیکھے ہیں فری۔
اس نے میرے ساتھ جو بھی کیا، مجھے دھوکا دیا، وقت گزارا، جو بھی کیا فری اس نے، پر میں نے….. میں نے تو سچی محبت کی ہے ناں فری، میری محبت جھوٹی نہیں تھی، فریب نہیں تھا، دھوکا نہیں تھا، جذبات کے ساتھ کھیلا نہیں تھا میں نے فری…..
تم بتاؤ….؟ مجھے کیسے صبر آئے۔
تم کوشش کرکے دیکھوں ایشے۔”
کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی۔
“تمہیں لگتس ہے میں نے کوشش نہیں کی ہو گی؟
میں جتنا اسے بھولنے کی کوشش کرتی ہوں وہ مجھے اتنا ہی یاد آکر بتاتا ہے کہ میں ہوں۔”
وہ ہے نہیں وہ تھا، اب شاہ ہے۔”
نہیں ہے کہیں شاہ، کہیں نہیں ہے شاہ، زبردستی مسلط کیا گیا مجھ پر۔”
تمہارا جوڑ اللہ نے اس کے ساتھ بنایا ہے۔
نکاح میں بہت طاقت ہوتی ہے، تم بس بیوقوفیاں چھوڑ دو۔”
میں نے کیا تھا میں ابھی شادی نہیں کرسکتی۔
کیوں کہاتھا…؟
اسلئے کہ میں دھوکا نہیں دینا چاہتی تھی کسی کو۔میں ایسا نہیں کر سکتی فری کہ دل میں کوئی اور ہو اور شادی کسی اور سے کر لوں۔
جب دل کسی رشتے کو مانے ہی نا۔ جب دل سے کوئی اور جا ہی نا پائے، تو ایسے کاغذی تعلق کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، دل میں دو لوگ نہیں رہ سکتے۔”
نکال باہر کرو زئی کو، کچھ نہیں لگتا تمہارا وہ۔
اتنا ہی اچھا ہوتا ناں تو وہ تمہیں یوں لاوارثوں کی طرح چھوڑ نا دیتا۔
اگر وہ اتنا سچا ہوتا نا تو وہ تمہارے علاؤہ کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نا دیکھتا، وہ کبھی تمہیں اپنانا چاہتا ہی نہیں تھا، وہ صرف وقت گزاری تھی،
جو محبت کرتے ہے نا، ایشے میری جان وہ جھوٹ کبھی نہیں بولتے ، وہ کبھی دھوکے نہیں دیتے۔
اس کے لیے تم بھی باقی لڑکیوں کی طرح چند دن کی عیش تھی۔
تم اس کے لفظوں کے جال میں پھنس کر اپنا آپ گوا بیٹھی ہو۔
تباہ ہو چکی ہو، بہت تقلیفیں برداشت کر چکی ہو۔
اس کا کیا اس کو کوئی فرق نہیں پڑا، وہ اپنی زندگی میں خوش ہے۔
اس کو یاد بھی نہیں ہوگا کہ اس نے کسی کی خوشیاں چھینی ہے، کسی کو مردہ بنا کر چھوڑ گیا ہے،
ایشے ایسے لوگوں کو اللہ بھی ڈھیل دیتا ہے اور پھر ایک بار رسی کو کھینچتا ہے، اللہ اپنے بندے پر کیے گئےظلم کبھی نہیں بولتا،۔ انسان بول بھی جائے وہ نہیں بولتا، جانتی ہو کیوں ؟
کیونکہ انسان کا دل اللہ کا گھر ہے اور جب کوئی گھر کو توڑتا ہے ، انسان کو تقلیف دیتا ہے تو اللہ کو بھی تقلیف ہوتی اپنے بندے کے درد سے، سو چوں ایشے….
ہماری ماں ہمارے ساتھ برا کرنے والے کو کچھی معاف نہیں کرتی، اسے جب پتا چلتا کہ میرے بچے کا دل توڑا ہے کسی نے تو اسے معاف نہیں کرتی ، تو وہ خدا جو ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے وہ کیسے اپنے بندے کی تقلیف بھول سکتا ہے کیسے اس کو بنا سزا کے چھوڑ اسکتا ہے۔
اسے اپنے کئے کی سزا ضرور ملے گی۔
دفع کرو اسے اب، اور شاہ کو سوچو سب اچھا ہوگا…”
کچھ بھی اچھا نہیں ہے اس شاہ میں۔
چاپلوس ہے بےحد، کبھی خود آتا ہے تو کبھی بھابھی بتھیجے کو بھیج دیتا ہے۔”
ایشے زندگی باربار مہلت نہیں دیتی، سمجھ جاؤ۔
چھوڑ دو اسے سوچنا، بس شاہ کو سوچو، سب وہی سب کچھ ہے۔”
تم لوگوں کی سوچ ہے کہ میں زئی کو بھول جاؤنگی، میں اس شخص کو کیسے بھول سکتی ہوں، جو میرا سکون نگل گیا…. جو میری ذہنی بربادی کا ذمہ دار ہے۔
کیسے بھول جاؤں اسے….؟٫
فون بند کرکے وہ پھر رونے لگی تھی……
تم اس سے دور دہو، لوگ اس سے کہتے تھے
وہ میرا سچ ہے ، بہت چیخ کر بتاتی تھی۔
_________________________
وہ بیڈ پر کافی سارے رسالے پھیلائے بیٹھی تھی، یوں ہی انکو الٹ پلٹ کرتے ایک صفے پر لکھے کچھ لفظوں پر اس کی نگاہ ٹھہر گئی۔ اس نے وہ صفحہ اٹھایا اور پڑھنے لگی…..
اور جن عورتوں کے ساتھ زبردستی زنا کیا جائے ان عورتوں کو چاہیے کہ وہ چیخ وپکار نا مچائیں اور خاموش ہو جائیں۔ اپنا پردہ رکھیں کہ اللہ صبر کرنے والیوں کو پسند کرتا ہے، اور بے شک ان کے ساتھ کی گئی ہر نا انصافی کا پورا پورا حساب لیا جائے گا۔”
دن میں جانے کتنی بار اس نے یہ تحریر پڑھی۔ اس کے ساتھ تو ایسا کچھ نہیں ہوا تھا، زنا کے آگے بیوفائی تو معمولی سی چیز ہے۔ وہ کوئی پہلی لڑکی تو نہیں تھی، جس کے ساتھ دھوکا کر گیا تھا، اپنی حدودسے باہر نکل جانے والی لڑکیوں کو پھر سزائیں تو ملتی ہیں، تو وہ کیوں اتنا واویلا مچارہی تھی۔
اللہ نے توانہیں بھی صبر کا کہاہیں جن کےساتھ زبردستی زنا کیا جاتا ہے جبکہ اس نے تو خود جانتے بوجھتے ایک غیر مرد سے راہِ رسم بڑھائے تھے۔ ٹھیک ہے محبت کرنا گناہ نہیں ہیں، مگر محبت کے کچھ تقاضے ہیں۔
اگر کسی سے محبت ہو بھی تو اس کو نکاح کی دعوت دو ، اور اگر مرد اس بات کے لیے راضی ہو تو پھر تو بلکل بھی دیر نہ کی جائے۔ کیونکہ جب یہ ناپاک رشتے طول پکڑتے ہیں تو تباہی مچاتے ہیں۔
اگر مرد اس بات کے لیے ابھی راضی نہیں،وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا کچھ وقت مانگتا ہے تو اسے صاف کہہ دو کہ جب وقت آیا تو تب آجانا میرے والدین سے اجازت لینے، کیونکہ جہنوں نے محرم بنانا ہوتا ہے نا وہ وقت نہیں مانگاکرتے، اور جو وقت کزار رہے ہوتے ہے نا وہ صرف وقت کو آگے بڑھاتے ہے ، اور مجبوریاں بتاتا ہے ، جانتے ہو مرد کبھی مجبور نہیں ہوتا، وہ اگر احتجاج کرکے چار شادیاں کر سکتا ہے، تو وہ اپنی پسند کی شادی بھی کر سکتا ہے، اگر وہ محبت کے لیے قدم بڑھا سکتا ہے ، قسمیں کھا سکتا ہے تو وہ شادی بھی کر سکتا ہے، اکثر وقت گزارنے کے بعد جان چھڑانے کے لیے کہہ دیتے ہے گھر والے نہیں مانے، درحقیقت وہ خود نہیں مانے ہوتے، ان کی حوس پرستی کی تکمیل ہو جاتی ہے تو وہ کہہ دیتے ہے کہ نہیں مانتے گھر والے ، ماں باپ ظلم نہیں ہوتے، چلو وہ نہیں مانے کچھ دن ضد ہو گی پھر وہ مان بھی جائے گے، پر اگر کوئی مرد نکاح جیسے پاک رشتے کےلئے راضی نہیں تو عورت کو کوئی حق نہیں، کہ وہ ایک غیر مرد سے رشتہ رکھے ، اور بعد میں تباہی کا رونا روئے، وہ اپنی بربادی کی خود زمہ دار ہوتی ہے۔
_________________________
جو لڑکیاں غیر مردوں کو نا محرموں کو اپنا آپ پیش کرتی ہیں، وہ ذلیل و خوار ہی تو ہوتی ہیں۔
اس رات وہ پچھتائی تھی اپنے ان سارے اعمال پر جو اس نے زئی کی محبت میں مبتلا ہو کر کئے تھے، اس نے تو زرا صبر نہیں کیا تھا،
وہ تو روئی تھی، چیخی تھی، بین کئے تھے اس نے، اپنے جسم کے حصوں کو اذیت پہنچائی تھی۔
سب سے بڑی بات اس نے خدا کو ناراض کیا تھا، اس کا کہا نہیں مانا۔ خدا نے کہا مرد کی نگاہوں میں مت جھانکنا، وہ ایک غیر مرد کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ خدا نے کہا تمہارا جوڑ میں خود بناؤں گا، اس نے سنا، اور خود ہی اپنے لئے چن لیا۔ جو خدا کے کاموں میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، پھر خدا بھی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے کہ اچھا..؟ مجھ پر بھروسہ نہیں ہے؟ ٹھیک ہے ڈھونڈو اور جب تھک جاؤ تو لوٹ آنا۔
اور پھر وہی ہوتاہے، ہم تھک جاتے ہیں، اپنی چاہت کے پیچھے بھاگ بھاگ کر، پھر ہم اسی کی طرف لوٹ کر آتے ہیں۔
خوش قسمت ہوتے ہیں وہ چندلوگ جو وقت پر لوٹ آتے ہیں، کچھ بد قسمت لوگوں کو جب احساس ہوتا ہے ،بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
اشنال بھی شاید بدقسمت لوگوں میں سے تھی۔
اس نے بھی گناہ کیا تھا، اللہ کے کاموں میں دخل کرکے، اللہ کو ناراض کر کے، آج وہ جس محبت کے لیے ترس رہی تھی، وہ اللہ کی نافرمانی کر کے اس نے کی تھی، کہیں نہ کہیں اس نے فہد کے سچے پیار کو ٹھکرا کر اس کے دل کو توڑ کر بھی گناہ کیا تھا،اور اللہ کے بندے کا دل توڑ کر کیسے انسان سکون میں رہ سکتا ہے، کبھی نا کبھی مکافات عمل دنیا میں ہی ہو جاتاہے۔
آج ب اس کا اپنا دل ٹوٹا تو اس کو احساس ہواتھا، آج اسے اپنے سارے کئے گناہ یاد آرہے تھے، اس کے آنسو اس کی ندامت کو واضح کر رہے تھے۔
آج کی رات اس کے احتساب کی رات تھی، آج اس نے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنی تھی۔
تہجد کا وقت تھا ،چہرے سے آنسوؤں کو صاف کیا اور وضو کر کے جائےنماز بچھائی، آج اس کو جائے نماز بچھاتے ہوئے بھی شرمندگی ہو رہی تھی، وہ جب بھی رب کے آگے جھکی اپنے مطلب کی خاطر جھکی۔
تہجدکی نیت باندھی تو ندامت کے آنسو بہتے ہوئے جائے نماز پر گرنے لگے، اسے اپنے وہ سارے گناہ یاد آرہے تھے، جو وہ ایک غیر مرد کی محبت میں مبتلا ہو کر کرتی ائی تھی،
جو میل ہے تیرے دل میں
وہ صاف کر دے گا….!!
تو مانگ تو صحیح دل سے
وہ معاف کر دے گا…..!!
مولا میری توبہ
مولا میری توبہ……!!!
_______________________
سجدے میں جا کر اس کے آنسوؤں میں اور روانی آ گئی تھی، اس کے آنسو اب سسکیوں میں بدل گئے تھے۔
وہ روتے روتے صرف اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہی تھی، وہ گناہ جو اس کو ایک اچھی لڑکی سے بری لڑکی میں تبدیل کر گے تھے، اس نے محبت تو کی تھی مگر حدود کو توڑ کر..
تہجد کی تمام رکات اسی طرح اس نے روتے ہوئے ادا کی ۔
دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو اس کے لبوں نے بے ساختہ یہ ہی الفاظ ادا کئے……..اللہ پاک معاف کر دے، میرے مالک میں گناہگار ہو گی……میں اتنی غافل ہوگئی تھی… میں بھول ہی گئی کہ میں تو تیری نافرمانی کر رہی ہوں…
میں جس راستے پر چل رہی ہو وہ صرف اور صرف گہری کھائی میں جاتا ہے…، میں نے تجھ کو اتنا ناراض کر دیا میرے مالک معاف کر دے…….
اک عرض کروں میں، سن میرے خدا
میں تو کچھ بھی نہیں ہوں، کہیں تیرےسوا..!
دل سے ہوئی ہے، جو بھی خطائیں
کر معاف مجھ کو یہی التجا ہے…..!!!
پل،پل ہر دم…..اک تو ہم دم
بس دل یہ ہی پکارے…….!!!!
مولا میری توبہ….. مولا میری توبہ….!!
_______________________
آنسوؤں کی کڑیاں اس کے چہرے کو بھگوتے ہوئے اس کی کی ہتھیلی کو بھر رہے تھے،مگر اس اج اپنے گناہوں کی معافی مانگنی تھی۔
اللہ پاک تو کہتا ہے ناکہ ایک بار میرے در پر جھک کر دیکھوں، اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر دیکھوں میں معاف کر دو گا۔
آج تیری یہ بندی نادم ہے اپنے کئے پہ، اپنے گناہوں پہ، معاف کردے مجھے میرے مولا بخش دے…
میں نے خود کو خود ہی اس عذاب میں جھونکا ہے، میں نے خود یہ راستہ چنا ہے آج میں خود اپنی تباہی کی زمہ دار ہوں، میں نے گناہ کیے ہیں، غیر محرم سے محبت کی ہے، تیرےبنائے قانون کو توڑا تیری نافرمانی کی، تو نے مجھ بار بار ٹھکر لگوائی مگر میں آندھی ہو گئی تھی، تجھے ناراض کرنے میں میں نے کوئی کسر نا چھوڑی ، اج اگر تو معاف نہیں کرے گا تو مولا میں کس کے در پر جاؤ گی… تو واحد ہے معاف کرنے والا…
میری سانس سانس تیری خدائی
کیوں ملی تھی مجھ کو تیری جدائی..!!
بگڑی میری کو مولا زرا سلجھادے
یہ جوآگ ہے میں نے خود لگائی..!!
نہیں مجھ سے پھر یہ گئی بجھائی
اپنے کرم سے مولا رحم برسادے..!!
اللہ پاک میں نے تیرے بندے کا دل توڑا تھا،میں نے غرور کیا تھا، میں نے اسے دوتکار دیا تھا۔
میں یہ بھول گئی تھی…. کہ تو اپنے بندے کے دل دکھانے والے کو سزا ضرور دیتا ہے۔
میں نے اس کو ٹھکرایا تب احساس نہ ہوا، آج جب مجھے زئی نے توڑا، مجھے دھوکا ملا،تو احساس ہوا،درد ہوا کہ اس شخص پر کیا گزری ہوگی جس کو میں نے توڑاتھا، جس کو میں نے ٹھکرایا تھا،جس کی محبت کو میں نے بکاری سمجھا تھا….. وہ تو میری زندگی سے خاموشی سے چلا گیا، اس نے تو صبر کر لیا…. مگر اللہ پاک اس کا صبر، اس کی آہ مجھے لگ گئی، مجھے میرے کئے کا صلہ مل گیا….
کسی کو بکاری سمجھتے سمجھتے، کسی کی سچی محبت کو ٹھکرا کر آج میں کسی کی محبت کے لئے خود بکاری بن گئی…. آج میں بھی تباہ ہو گئی ہو…. مجھے معاف کر دے نا میرے مولا۔
اللہ پاک میں تو اسے بھول گئی تھی….. اس کے ساتھ کی گئی زیادتی بھول گئی تھی…… زئی کی محبت میں اتنا ڈوب گئی کہ میں نے اپنی الگ دنیا بنا لی۔ میں حوا میں اڑنے لگی تھی……
تجھ سے اس قدر دور ہوگئی کہ تو مجھے بلاتا رہا اور میں نے اٹھ کر سجدہ نا کیا …. میں اپنی بربادی کے گلے کرتی رہی، پر اپنے گناہوں کو نا دیکھا… میں کہتی رہی کہ میں نے کیا کیا، کیوں ہوا میرے ساتھ یہ…. میں بھول گئی تھی کہ میں نے خود یہ راستہ چنا تھا، میں نے غیر مرد سے رشتہ جوڑا تھا یہ قصور تھا میرا یہ گناہ تھا میرا…
کبھی دل جو توڑے تھے میں نے
بڑی بھول مجھ سے ہوئی ہے
وہ جو چوٹ میں نے لگائی
میرے دل پہ بھی آلگی ہے
_______________________
میں نہیں جانتی میں کس طرح اپنے گناہوں کی معافی مانگو….. میرے پاس لفظ نہیں ہے مولا ….. تو تو رحیم ہے بن بولے سمجھ جاتا ہے….تیری رحمت کا دریا چھلکیاں مار رہا ہے، اک قطرہ مجھے بھی دے مولا….. اک قطرہ اس گناہگار کو بھی عنایت کردیں۔
میرے پاس لفظ نہیں ہے
مانگوں میں کیسے اپنی دعا….!!
دل سے ہوئی ہے، جو بھی خطائیں
کر معاف مجھ کوز یہ ہی التجاہے…!!!
پل، پل، ہر دم، اک تو ہم دم
بس دل یہی پکاریں….!!!!
مولا میری توبہ…… مولا میری توبہ….!!
___________________________
آج اس کے گناہ جیسے جیسے دھل رہے تھے، ویسے ویسے وہ اللہ کے آگے جھکتی جارہی تھی…..
آج اس وقت کا اندازہ ہی نہیں رہا تھا۔ وہ سمجھ رہی تھی اگر آج اسے معاف نا کیا گیا تو کبھی اس کو واپس موقع نہ ملے گا، آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی……. غیر کی محبت کے لئے بھی تو روئی تھی ،پر اج وہ اللہ کے آگے معافی کے لئے رو رہی تھی اسے پروا نہیں تھی……
آج وہ رو کے سسک کر فریاد کر رہی تھی اپنے رب سے….
اللہ پاک ہم انسان بھی نا کیسے تجھ سے غافل ہو جاتے ہیں ناں…… کسی انسان کی محبت میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ تجھے بھول جاتے ہیں کہ تجھے بھول جاتے ہیں، تو ہمیں کیسے کیسے یاد کرواتاہے اپنی….. ہم پھر بھی غافل رہتے ہے۔
اللہ پاک میں نے ایک غیر کو چاہ کر ناقابلے معافی گناہ کیا ہے، مجھے لگا وہ میرے لیے سچا ہے، مجھے کبھی کوئی دور نہیں کرسکتا اس سے…..
میں اس سچی اور مخلص محبت کرتی رہی…. میں اس کی محرم بنا چاہتی تھی، مگر وہ میرے لئے مخلص تھا ہی نہیں، اس کی خطائیں کیا گنو میں مولا …. میری اپنی ہی خطائیں ہیں….
تو نے جوکیا اپنے اپنے بندے کے لیے اچھا کیا۔ مگر یہ انسان کبھی بھی نا سمجھ سکا…. ہمیشہ ناشکرا رہا…. جب جب گناہ کئے یہ ہی کہا میرے ساتھ ہی کیوں ہوا یہ؟…. کبھی اپنے گناہوں کو نا دیکھا….
میں نے خود کو اذیت دے کر تجھے اور دکھ دیا…. تیری ناشکری بن گئی…. میں آج اپنے ہر گناہ کی معافی مانگتی ہوں مجھے معاف کر دے نا….
اللہ پاک کیا میرے گناہ تیری رحمت سے زیادہ ہے..؟بلکل بھی نہیں۔ میرے سارے گناہ ایک طرف، تیری رحمت کا ایک قطرہ ایک طرف، معاف کر دے ناں میرے رب…
میرے دل سے اس کی محبت کو نکال دے۔ میرے اس سلگتے وجود کو راحت دے…. میں دن رات تڑپتی ہوں میرے اللہ…. مجھے سکون نہیں آتا کہیں بھی…. میرا دل اکثر درد سے پھٹتا ہے…. میری ااس اذیت کو ختم کر دے۔
میں ہار گئی مولا… میں ہار گئی ہوں۔ واقع میں تیری چاہت جیت گئی، میں تھک گئی بھاگ بھاگ کر اپنی چاہت کے پیچھے، میرا سکون تک چھین گیا مجھ سے…
“مجھے سکون دے دے…. سکون دے دے۔” وہ سسکیاں لیتے ہوئے بولی تھی….
تو نے مجھے شاہ جیسا ہمسفر دیا، میں اس کے قابل بھی نا تھی میرے مولا۔
میں اسے کوئی دکھ نہیں دینا چاہتی، میں کسی کو اب تکیف نہیں دینا چاہتی، میں دل میں کسی اور کو رکھ کر اس سے شادی نہیں کر سکتی تھی۔ میں اس کے ساتھ ناانصافی نہیں کرنا چاہتی تو مجھ پر رحم فرما دےمولا۔
آنسوؤں تھے کہ بہتے ہی جا رہے تھے آج آنکھیں بھی اپنے قصور وار ہونے پر رو رہی تھی قرض ادا کر رہی تھی….
میں تو اپنے لائق نہیں تھا،
جوملا ہے تو نے دیا ہے…!!!
جو کرے تو سب سے اچھا
جو برا ہے میں نے کیا ہے…!!!
اب کوئی درد نہیں ہے
دل کا سکوں ہے تو اے خدا…!!!
دل سے ہوئی ہے،جو بھی خطائیں
کر معاف مجھ کو یہ ہی التجا ہے…!!!
پل پل،ہردم، اک تو ہم دم
بس دل یہ ہی پکارے…!!!
مولا میری توبہ…….. مولا میری توبہ…!!!
___________________
آج اس نے دل سے دعا کی تھی کہ وہ زئی کو بھول جائے۔
زئی کی سوچیں اس سے دور ہو جائیں۔
خدا مان تو جاتا ہے…. مگر وقت لگتا ہے۔
اس نے اپنے آنسو صاف کئے اور جائے نماز طے کر کے رکھی۔ اور وہی بیڈ کے ساتھ زمین پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
کسی نے جان بوجھ کر وش نہیں کیا،
کسی سے اپنی سے اپنی برتھ ڈے کا کیک کٹ نہیں رہا۔
بارہ اگست۔ آج اس کا برتھ ڈے تھا،چار سال گزر چکے تھے، محبت کرنے والوں کو انتظار لاحاصل رہے گا، پھر بھی وہ انتظار کی شمع بجھنے نہیں دیتے۔
صبح سے کئی بار فون چیک کر چکی تھی کہ شاید کسی نے اسے بھولے بسرے یاد کرہی لیا ہو، شاید کوئی اپنے کہے لفظوں کی لاج رکھ ہی لے، مگر ہر دفعہ مایوسی اسے ملنے آتی۔
اس نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے تو اس کی نظر ٹیبل پر رکھے گفٹ پیک پر پڑی…..
یہ گفٹ اسے شاہ کی طرف سے آج صبح ملا تھا، جسے اس نے کھولنے کی زحمت بھی نہیں کی…..
ہمیں جن کی چاہ ہوتی ہے وہ ہمیں آنکھیں سینکنے کو بھی نہیں ملتے،اور جن کی خواہش ہی نہیں ہوتی وہ ہر موڑ پر ٹکراتے ہیں۔
وہ چلتی ہوئی ٹیبل تک آئی،اور چئیر پر بیٹھ کر گفٹ پیک سے ریپر اتارنے لگی۔
پنک کلر گلیٹر شیٹ کو اس نے کھولا تو اندر ڈیری ملک چاکلیٹ رکھی تھی اور گلیٹر پیپر کی اندرونی سطح پر خوبصورت ہینڈ رائیٹنگ میں ایک عبارت لکھی تھی،
“اللہ کو کوشش کرنے والے پسند ہیں۔”
پھر نیچے”ہیپی برتھ ڈے جان شاہ” لکھا تھا۔
اور ان چیزوں کے نیچے شاید کوئی کتاب تھی، جس کا ریپر اس نے اتارا تو کتاب قرآن پاک تھی…..
شاہ نے اسے ترجمہ وتفسیر والا قرآن پاک گفٹ کیا تھا….
“اتنا خوبصورت،اس قدر قیمتی تحفہ۔” اسکی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں…..
شاید نہیں یقیناً کسی مایوس شخص کے لیے قرآن پاک سے خوبصورت اور بہترین تحفہ کوئی نہیں ہو سکتا تھا…
اس نے قرآن پاک کو بوسہ دیا….
شاید میں تمہارے لائق نہیں ہوں سید سکندر شاہ، اس نے اقرار کیا تھا….
میں ایک بری لڑکی ہوں…
مگروہ بھول گئی تھی یہ کتاب پتھروں کو پگھلا دینے والی تھی، گناہوں کو مٹا دینے والی تھی، اسے پڑھنے کے ساتھ اسے سمجھنے کی ضرورت تھی….
_________________________
وہ اپنی سخت ڈیوٹی میں بھی اشنال کے لئے وقت نکال لیتا تھا، ہر رات وہ اسے کچھ ٹیکسٹ کرتا، جس کا وہ جواب دینا تو دور سین کرنا بھی پسند نہیں کرتی۔
شاید وہ خود سے مانوس کرنا چاہ رہا تھا، اسلئے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اس سے اکتائی ہوئی ہے، شاہ اسے اکیلا نا چھوڑتا۔
شاہ کے میسجز کے جواب اشنال کی خاموشی ہنوز برقرار تھی، جسے وہ توڑنا چاہتا تھا۔
پھر وہ آہستہ آہستہ اسکے میسجز سین کرنے لگی تھی،یہ بات شاہ کے لیے غنیمت تھی۔
عورت بھی عجیب ہے جب کسی سےٹوٹ کر محبت کرتی ہے تو اسی کی ہو جاتی ہے، اس کے علاؤہ کسی اور کا ہو پانا اس کے لیے مشکل کیا ناممکن ہوتا ہے، بدلے میں وہ شخص دھوکا ہی کیوں نہ دے دے مگر پھر بھی اسی کی چاہ کرتی ہے، اس کے بعد آنے والی کسی کی انتہا کی محبت کی بھی پرواہ نہیں کرتی۔
اشنال بھی یہ ہی کر رہی تھی اپنی محبت کی خود غرضی میں وہ شاہ کا امتحان لے رہی تھی، اس کی محبت کی پرواہ نہیں کر رہی تھی، مگر کب تک اس نے سوچ لیا تھا زئی کو زندگی سے نکالنا ہے، بھولنا ہے اسے، وہ یہ بھی جانتی تھی کہ ایسا کرنے میں لگے گا۔
وہ وقت ہی تو چاہتی تھی آگے بڑھنے کے لیے، وہ نہیں چاہتی تھی کہ دل میں زئی کو رکھ کر کسی اور کی نہیں ہو سکتی تھی، مگر گھر والوں نے اس کی ایک نہ سنی،
اور شاہ کے ساتھ اس کو جوڑ دیا۔
_________________________
وہ اسے آہستہ آہستہ ڈپریشن سے نکالنے لگا تھا….. وہ خود بھی کوشش کرنے لگی تھی کہ وہ اس رشتے کو قبول کر لے…..
مگر اس کے لیے تھوڑا مشکل تھا۔
اشنال کا فون مسلسل بج رہا تھا، وہ جانتی تھی کس کی کال ہے، مگر وہ فلحال کسی سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھی۔ صبح سے عجیب بے کلی سی چھائی ہوئی تھی اس کے وجود پر۔
اس نے انباکس کھولا۔ اشنال کال ریسیو کریں، کا میسج پڑا تھا۔
وہ شاید تھک گئی تھی، یا پھر ہار گئی تھی کہ آج وہ ٹیکسٹ ملنے پر خاموش نہیں رہ سکی، اور جواباً لکھ بھیجا۔
“میری طبیعت نہیں ٹھیک ہے،پھر بات کرونگی۔”
“اشنے کال اٹھاؤ۔” پھر اصرار ہوا۔
وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ اسکی بات مان کر اسے کیسا محسوس ہونا تھا….
جس کا نمبر سیل پر چمکتا دیکھ کر دل پر تپتی ریت بچھ جاتی تھی، آج اس کا نمبر اس نے شاہ کے نام سے سیو کرلیا تھا…..
اب کی بار بیل بجنے پر کال ریسیو کرلی گئی…..
“سر میں درد ہے؟” شاہ نے پوچھا۔
” ہممممم۔”
“میڈیسن لی”؟
“جی-“
آنکھیں بند کرو اشنے۔” شاہ نے ریکوئسٹ کی۔
اسے گھبراہٹ ہونے لگی…..
“میں بعد میں کال کرو…”
“اشنے آنکھیں بند کرو۔” شاہ نے حکم دیا۔
اشنال نے ہینڈز فری لگا کر آنکھیں بند کر لیں اور سر تکیے پر رکھ دیا….
کچھ دیر دونوں طرف خاموشی چھائی رہی۔ پھر اسے ایسی آواز سنائی دی جس سے اس کا دل ایک لمحہ کے لئے لرزا۔
الرحمٰن علم القرآن ۔
شاہ اپنی خوبصورت آواز میں اسے سورت رحمٰن کی تلاوت سانے لگا۔
بلاشبہ وہ ایک بہترین قاری تھا، اسکی آواز بہت خوبصورت تھی، زئی کی آواز کو بیٹ کرتے ہوئے…
اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے۔
“فبای الاءربکما تکذبان ۔
پھر وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔
یہ مرد کی کونسی صورت تھی،یہ اللہ کا کونسا تحفہ تھا، کیا یہ اللہ کے راضی ہونے کی نوید تھی، کہ وہ اسے اس چیز سے نوازنے جارہا تھا، جس کے وہ لائق بھی نہیں تھی؟
ایک آواز اس نامحرم کی تھی جو دل کا محرم تھا، جسے سن کر اکثر نازیبا گفتگو کانوں سے دھوئیں نکال دیتی…
ایک آواز اس محرم کی تھی،جسے سن کر خوف سے آنسو جاری ہوئے تھے…
اب وہ آواز سے رونے لگی…
شاہ اسے رولانا ہی چاہتا تھا، رونے سے دلوں کے بوجھ کم ہو جاتے ہیں، اور جو آنسو تلاوت قرآن کریم سن کر نکلیں وہ دلوں میں میل کو کھرچ لیتے ہیں۔
شاہ یہی چاہتا تھا کہ اشنال کے دل کے سارے میل دھل جائیں۔
“اور ہماری آیتیں ان کے سامنے جب پڑھی جاتی ہیں تو ان کی آنکھیں روتی ہیں، ان کے دل روتے ہیں۔”
شاہ نے تلاوت کی ختم کی اور چپ چاپ اس کی سسکیاں سننے لگا، وہ روتی رہی، روتی رہی، وہ رونا سنتا رہا….
کتنی اذیت میں تھی وہ پہلی بار اس نے جانا تھا….
“جان شاہ۔” اللہ ہے ناں ہمارے ساتھ۔”
وہ آواز پھر دلاسہ بن کر آئی ۔
وہ ناراض ہے مجھ سے۔”
وہ محسوس کر سکتا تھا کہ رونے سے اس کی آواز اور بھی خوبصورت ہو گئی تھی۔
اسے کہومان جائے، وہ مان جاتا ہے اشنے، بس وہ چاہتا ہے کہ اس کے آگے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرو، تھوڑا سا رو لو۔”
میں بہت بری ہوں، بہت خراب، وہ روٹھا ہے مجھ سے کب سے، شاید اس رات سے جس رات میں جاگتے ہوئے بھی بےحسی کا ثبوت دیتے ہوئے اس سے رجوع نہیں کیا۔
اس سے بےپروا رہی۔ آج وہ بھی مجھ سے ناراض ہے،روٹھ گیا ہے۔
میں روز معافی مانگتی ہوں مگر وہ ابھی بھی مجھ سے ناراض ہے۔
جب وہ مجھے ساری رات بلاتا رہا، میں روتی رہی مگر اٹھ کر اس تک نہیں گئی، میں بے حس بن گئی تھی شاہ۔”
اشنے وہ تو غفور ہے،رحیم ہے، اسکا کہنا ہے،
اگر تم روئے زمین کو اپنے گناہوں سے بھر کر بھی مجھ سے معافی مانگو گے، تو میں تمہیں معاف کر دونگا۔
ہم انسانوں کو منانے کیلئے سالوں انکے در کی خاک چھانتے ہیں، رب کو منانے کیلئے کچھ لمحے چاہیے ہوتے ہیں، وہ لمحوں میں مان جاتا ہے اشنے۔
اللہ پر گمان نہیں یقین رکھو…….. سب ٹھیک ہوجائے گا۔”
وہ اس کے آنسو اپنی آواز سے چن رہا تھا۔
محبت،چاہت، اور خلوص کا یہ سب سے خوبصورت احساس تھا…
اس رات دونوں نے کال کٹ نہیں کی، وہ روتی رہی کافی دیر، اور وہ سنتا رہا کافی دیر….
_________________________
دنیا میں ہمارا جیسے شخص سے واسطہ پڑتا ہے، اسکے بعد ہم باقی ساری دنیا کو اسی کی سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں، پھر ہمارے لئے ساری دنیا اس ایک شخص جیسی ہوجاتی ہے، پھر ہم ہر شخص کو اسی جیسا سمجھنے لگتے ہیں، مگر ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا، ناہی ہمیں ہر ایک تو اس ایک جیسا سمجھ لینا چاہیے…..
کچھ مرد شاہ جیسے بھی ہوتے ہیں۔ دونوں ہی مرد تھے، دونوں کی پسند بھی ایک تھی، دونوں ہی بلا کے حسین تھے، دونوں ہی کی آواز خوبصورت تھی،
اگر کچھ جدا تھا دونوں میں تو وہ بس گفتگو تھی، کردار تھا، خلوص تھا،سچائی تھی، پاکیزگی تھی۔
شاہ محرم تھا اسکا مگر اس سے کوئی ایسا مطالبہ نا کرتا جیسا زئی اس سے کرتا تھا،اور پورا نہ ہونے پر دل سے اتار پھینکتا تھا۔
واقعی دنیا میں شاہ جیسے مرد بھی رہتے ہیں، ہاں بس ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے…..
_________________________
اشنے چائے پیو گی؟”
شڑپ شڑپ….. سے وہ محسوس کرسکتی تھی کہ وہ چائے دل سے پی رہا ہے، یا تو وہ جان کر ایسا کرتا تھا، یا شاید وہ چائے پیتا ہی ایسے تھا کہ ہر سپ سنائی دیتا….
“میں چائے نہیں پیتی….” سادے لفظوں میں گم صم سی آواز گونجی۔
“چائے بنانا تو آتی ہے نا؟”
وہ خاموش رہی۔
میں چاہتا ہوں میری بیوی ایسی ہو جسے میں آدھی رات کو جگا کر بھی کہوں کہ چائے بنالاؤ، تو وہ انکار نا کرے، سخت سردی میں بھی وہ آنکھیں رگڑتی اٹھے اور کچن میں جاکر چائے بنا لائے۔”
وہ پھر خاموش رہی، شاہ اس کے اندر چھائی اداسی محسوس کر رہا تھا، جبھی اس کا دل بہلانے کو سارے دن کی سخت ٹریننگ کے بعد تھکن محسوس کرتے ہوئے بھی لائن پر تھا۔ شاہ کیلئے یہ غنیمت تھا کہ وہ اسے سن رہی ہے، اس نے پھر کوشش کی….
“کیا اشنے میرے لیے آدھی رات کو سخت سردی میں چائے بناسکتی ہیں؟”
“نہیں!” سرد لہجے میں سرد سے انکار پر وہ ہلکا سا مسکرایا….
“میرے کچن میں چھپکلیاں نہیں ہیں، قسمے، ہاہاہا…..”
وہ ہنسا مگر اشنال کی اگلی بات پر اسکی ہنسی کو بریک لگ گئے….
“نفرت ہے مجھے تمہاری آواز سے، زہر لگتی ہے مجھے تمہاری ہنسی۔ تمہیں ہنستا دیکھ کر دل چاہتا ہے تمہارا منہ نوچ لوں۔
کیسے ہنس لیتے ہوتم اتنا، دوسروں کو اتنا رلانے والے خود کیسے بے فکری سے ہنس لیتے ہیں؟
تمہیں ڈر نہیں لگتا اپنے ہنسنے سے؟ تم نے میری ہنسی چھین لی ہے زئی۔”
میری زندگی کو تباہ کردیا۔ میرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے تم کیسے سکون میں ہو۔ تمہیں خدا کا ذرہ خوف نہیں ہیں۔
وہ لاشعوری طور پر زئی سے مخاطب تھی، اور وہ سمجھ چکا تھا۔
شاہ نے اسے روکا نہیں،بولنے دیا۔
وہ کئی سالوں کا کرب اپنے دل میں دبائے گھٹ گھٹ کر مر رہی تھی، وہ چاہتا تھا کہ اشنے اپنا سارا غبار نکالے، وہ چیخے اور اپنی ساری اذیت نکال دے۔اس نے اذیت کو دل میں دفن کر رکھا تھا، جس سے اس کا وجود اندر سے مر گیا تھا۔
شاہ چاہتا تھا کہ وہ زندہ ہوجائے، کافی دفعہ وہ حد کر دیتی، اسے لگتا وہ ہمت ہار جائے گا، مگر پھر ایک نیا خواب اسے نئے سرے سے راستہ دکھا دیتا….
اب وہ رو رہی تھی ، ہچکیوں سے،وہ اسے روز ننھے بچوں کی طرح سسکتا سنتا رہتا، اس کا بس نہیں چلتا وہ زئی کا پتا ڈھونڈ کر اس کی کھال ادھیڑ ڈالتا۔
“اشنے.” شاہ نے اسے پکارا۔
“پلیز لیومی الون۔” روتے ہوئے ہی اس نے کال کٹ کردی…
“میں تمہیں اکیلا ہی تو نہیں چھوڑ سکتا، جان شاہ۔”
ہتھیلی کامکابنا کر اس نے دیوار پر مارا، اور سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ گیا…….
اسے کسی سے محبت تھی ،اور وہ میں نہیں تھا۔
یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی…..
___________________________
وہ جانتی تھی وہ غلط کر رہی ہے مگر وہ زئی کے آگے خود کو بے بس سا محسوس کرتی یا شاید اس نے خود کو بےبس بنا دیا تھا۔
وہ آج پھر تہجد میں روئی تھی،اس نے آج پھر اللہ سے معافی مانگی تھی، التجاء کی تھی کہ وہ اس سے راضی ہو جائیں۔
ہم ہمیشہ مشکل میں اپنے آپ کو خود ڈالتے ہیں،مگر پھر اس مشکل سے خود نکل نہیں پاتے، کسی طرح بھی نہیں، چاہے بھی تو نہیں۔
کیونکہ ہم صرف چاہ رہے ہوتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہم چاہیں اور ہو جائے، ایسا تھوڑا ہی ہوتا ہے، کچھ ہونے کیلئے کچھ کرنا پڑتا ہے…
یہاں ہم کوشش کرتے ہیں دل سے، وہاں پھروہ اللہ ہی ہوتا ہے،جو ہمیں اس مشکل سے نکال دیتا ہے….
پہلے وہ خود نکلنا نہیں چاہتی تھی، لیکن اب وہ خود ہی نکلنا چاہ رہی تھی مگر نکل نہیں پارہی تھی…..
بس اسے رب کو منانے میں تھوڑی سی کوشش اور کرنی تھی، اوراس نے مان جاناتھا…..
کیونکہ وہ رب ہے وہ مان جاتا ہے….
اور اللہ پر گمان نہیں یقین رکھو..…
________________________
پہلا دن گزرا، دوسرا، تیسرا، اور کرتے کرتے چھ دن گزر گئے، شاہ کا کوئی ٹیکسٹ نہیں آیا۔
وہ شاید ناراض ہوگیا تھا،
اسے ہونا بھی چاہیے تھا…..
اشنال اس کا لایا ہوا قرآن تفسیر سے پڑھنے لگی، بہت سی باتیں جو ہماری نظروں سے گزرتی ہیں جنہیں ہم اگنور کردیتے ہیں، انہیں اب وہ سمجھنے لگی تھی…..
شاید وہ زندگی کو سیکھنے لگی، اس نے موت مانگ کر دیکھا تھا، ایک عرصہ وہ مرنے جینے کی کیفیت میں رہی مگر مکمل مر نہیں پائی۔
اس کے ساتھ بہت سے لوگ اسے دیکھ دیکھ کر مرتے رہے اور وہ اپنے ساتھ انہیں بھی اذیت دیتی رہی….
مگر اب اسے جینا تھا ان سب کے لیے جو اسے جیتا دیکھنا چاہتے تھے۔
وہ بہت رولی تھی مگر اب ہنسنا چاہتی تھی، اپنی ہنسی..
زئی کو بھلانا مشکل تھا، مگر ناممکن نہیں، کوشش کی جاسکتی تھی،اس نے کی تھی، وہ کر رہی تھی….
لیکن کوئی جان نہیں سکتا تھا وہ کتنا مر رہی تھی، اپنے اندر موجود زئی کو مار دینا آسان نہیں تھا….
وہ زئی کی سوچوں سے چھٹکارا پانے کیلئے شاہ کی سوچوں میں خود کو گم کرنے لگتی…..
یہ بھی تو بے بسی ہے نا، کسی کو محبت کو دفن کرکے خود کو کسی اور کی محبت میں زندہ رکھنا….
وہ گیسٹ روم میں جاکر شاہ کی خوشبو کو ڈھونڈتی، مگر وہ وہاں ہوتی تو ملتی، جب ہم منہ موڑ لیتے ہیں، تو خوشبوئیں بھی روٹھ جاتی ہیں…
اس سے کچھ اچھا ہونے کی کوشش میں سب کچھ خراب ہورہا تھا۔
وہ پھر رونے لگی تھی…… وہ روہی سکتی تھی….
“I want someone to see the Dark parts of my mind, the messy, the destructive, and still choose to stay.”
________________________
مسلسل چھ دن سے جاری شدید سر درد نے اسے نڈھال کر رکھا تھا، کسی طور آرام نہیں آرہا تھا۔ ابھی وہ بستر سے اتری ہی تھی کہ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا اور چکرا کر فرش پر گر پڑی…..
مائیگرین شدت اختیار کر گیا تھا….
پچھلے چھ گھنٹوں سے وہ ہاسپٹل روم میں بےہوش پڑی تھی، آہستہ آہستہ اسے ہوش آنے لگا تھا، اس نے آہ بھری تو سانس کے ساتھ کوئی مانوس سی خوشبو اس کے حلق تک پہنچی……
یہ وہی خوشبو تھی جس کی مہک اس کے حلق تک لکھ دی گئی تھی، جسے اس نے اپنے آس پاس بہت ڈھونڈا مگر ملی نہیں… اب وہ خوشبو اسے زندگی کی نوید سنا رہی تھی…….
ابھی مجھ میں کہیں،باقی تھوڑی سی ہے زندگی
جگی دھڑکن نئی….. جانا زندہ ہوں میں تو ابھی
___________________
اس نے بے اختیار پکارا۔
” شاہ۔”
شاہ جو اس کی حالت دیکھ کر نڈھال سا کھڑا تھا، اپنے نام کی پکار پر بھاگتا ہوا اس کے قریب آیا، اور اس کے قریب بیٹھ گیا
شاہ نے اشنے کے منہ سے اپنا نام سنا تو اس کی بےجان سی جان میں جان آئی تھی……..
کچھ ایسی لگن س لمحے میں ہیں
یہ لمحہ کہاں تھا میرا…!!
اب ہے سامنے، اسے چھو لوں زرا
مر جاؤ یا جی لوں زرا….!!!
خوشیاں چوم لوں، یا رو لو زرا
مر جاؤ یا جی لوں زرا…..!!!
ابھی مجھ میں کہیں باقی
تھوڑی سی ہے زندگی……!!!!
_________________________
وہ بند آنکھوں سے اسے اپنے پاس محسوس کرسکتی تھی…
اس نے پھر پکارا تھا….
” شاہ۔”
“جی جان شاہ۔”
اور محبتوں میں لاڈ اٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی…..
“میں، میری آنکھیں نہیں کھل رہیں شاہ۔”
درد نے اس کی آنکھوں پر اٹیک کیا تھا، کہ وہ روشنی سے گھبرانے لگی تھیں۔
شاہ تھوڑا اداس ہوا تھا، مگر اسے اشنے کی ہمت بنا تھا۔
سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
شاہ نے اس کا ہاتھ تھام کر گالوں سے مس کیا..
اس لمس کو پاتے ہی اس کے آنسو کناروں کی صورت اتر آئے تھے۔
دوسری بار اسکا لمس محسوس کررہی تھی، پہلی بار اسے اس لمس پر وحشت ہوئی تھی، اب کی بار اس لمس پر اسے سکون ملا تھا۔
بلاشبہ شاہ کا لمس اس کیلئے زندگی جیسا تھا….
دھوپ میں جلتے ہوئے تن کو
چھایا پیڑ کی مل گئی….!!!
روٹھے بچے کی ہنسی جیسے
پھسلانے سے پھر کھل گئی….!!!
کچھ ایسا ہی اب محسوس دل کو ہو رہا
برسوں کے پرانے زخم پہ مرحم لگا سا ہے..!!!
__________________________
آج آس سکون کو پا کر وہ رو دی تھی جیسے زندگی پھر سے ملی ہو……
شاہ نے ان آنسوؤں کو تکیے پر گرنے سے پہلے ہی اپنی پوروں پر چن لیا تھا…..
کچھ ایسا رحم اس لمحے میں ہیں
یہ لمحہ کہاں تھا میرا…..!!!!
اب ہے سامنے ،اسے چھولوں زرا
مر جاؤ یا جی لوں زرا….!!!! خوشیاں چوم لوں، یا رو لوں زرا
مر جاؤ یا جی لوں زرا…!!!!
________________________
“اشنے۔”
وہ بولا تو اس کی آواز میں یوں لگا جیسے تیز ہوا سے سچی محبت کے بجھے دئیے جل اٹھے ہوں…..
اشنال نے پھر آنکھیں کھول کر اسے دیکھنا چاہا، مگر روشنی نے راستہ روک لیا……
تم جانتی ہو اشنے؟ رات مجھے لگا کسی نے میری سانس روک لی ہوں،
مجھے لگا تھا شاہ مر گیا ہو جیسے،
کیوں کیا تم نے ایسا؟”
اس کی آواز میں دکھ تھا، گلہ تھا، ناراضگی تھی….
سارے مرد ایک سے نہیں ہوتے یہ اسے شاہ نے سکھایا تھا…
پھر شاہ نے اسکی تھوڑی کو سختی سے پکڑا اور سخت لہجے میں کہنے لگا….
بہت ہوگیا، تم ایسے نہیں سدھرنے والی، اور اب میں بھی تمہیں کوئی مہلت نہیں دینے والا۔
مجھے انتہائی فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے تم نے۔”
تھوڑی چھوڑ کر…..
وہ اس پر جھکا اور اپنے لب اس کے ماتھے پر ثبت کر دئیے……
اور پھر وہ اس کمرے سے نہیں ہاسپٹل سے بھی چلا گیا تھا….
ڈور سے ٹوٹی پتنگ جیسی
تھی یہ زندگانی میری…!!!
آج ہو کل ہو میرا نا ہو
ہر دن تھی کہانی میری..!!!!
اک بندھن نیا سا پیچھے سے
اب مجھ کو بلائے……..!!!!
آنے والے کل کی کیوں
فکر مجھ کو ستا جائے….!!!
اک ایسی چبھن اس لمحے میں ہیں
یہ لمحہ کہاں تھا میرا…..!!!
اب ہے سامنے اسے چھو لوں زرا
مر جاؤ یا جی لوں زرا…..!!!
خوشیاں چوم لوں یا رو لو زرا
مر جاؤ یا جی لوں زرا…..!!!
اشنے اپنی بےبسی پر رودی تھی، جب وہ پاس تھا تو وہ اسے دیکھنا نہیں چاہتی تھی، اب دیکھنا چاہتی تھی تو آنکھیں کھلنے سے انکاری ہو گئیں تھیں……..
روتے روتے وہ مسکرا دی۔
کہ اس کے ماتھے پہ سلگتا وہ لمس اسے یقین دلا گیا تھا کہ……
وہ جو روٹھ کرجو گیا ابھی،
ہاں وہی میرا ہے، صرف میرا……
اور بےشک، اللہ کی چاہت پر راضی ہولینے میں سکون ہی سکون تھا……..

 

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: