Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 11

0
پاگل آنکھوں والی لڑکی از اشنال سید – قسط نمبر 11

–**–**–

ہاسپٹل سے وہ کل ڈسچارج ہوئی تھی،اور آج پہلی بار اشنے نے اسے کال کی تھی….
پہلے تھوڑی جھجھک ہوئی۔ پھر یہ سوچ کر کے حق رکھتی ہوں اب میں اسے کال ملائی…..
“شاہ۔”
“جی جان شاہ۔”آج کیسے یاد آگئی، لگتا ہے سورج مغرب سے نکلا ہے۔
“شاہ…..”
اگر آپ ایسے تنگ کریں گے تو میں بند کردوں گی کال۔
اچھا اچھا سوری……
اچھا بات سنے۔؟
جی حکم کریں…؟
شاہ، امی سے کہیں آپ مجھے کہیں لے کر جانا چاہتے ہیں۔”
وہ حیران ہوا۔
“کیوں بھئی، کہیں جانا ہے آپ نے؟”
“جی جانا ہے۔”
“کہا جانا ہے؟”
پہلے آپ امی سے پرمیشن لیں، پھر بتاؤں گی۔”
“اچھا ٹھیک ہے۔”
پھر وہ اور شاہ امی سے پرمیشن لے کر گھر سے نکلے، شاہ کی مرسیڈیز جب اشنال کے ایریا سے نکلی تو شاہ نے خانوشی کوتوڑا۔
“جی تو بتائیے کہاں جانا ہے؟”
“قبرستان!”
“وہ چونکا۔
“جی قبرستان؟”
اشنال نے پھر دہرایا….
فرسٹ ڈیٹ ایٹ قبرستان، واؤ، انٹرسٹنگ پہلی بار سنا ہے۔”
وہ گھوری۔
ہم ڈیٹ پر نہیں جارہے۔”
اللہ خیرابھی تو میری شادی بھی ٹھیک سے نہیں ہوئی۔”
وہ پھر سے شرارت کر گیا۔
“شاہ۔”
“جی جان شاہ۔”
“آپ تھوڑی دیر خاموشی سے گاڑی چلائیں، قبرستان چل کر بتائی ہوں کہ کیا کرنا ہے۔”
“اوکے، جو حکم جان شاہ۔”
پھر قبرستان پہنچ کر انہوں نے گاڑی کچے میں پارک کی، اشنال اتر کر بہت ساری بنی ہوئی قبروں کی طرف جانے لگی، شاہ بھی اسکے پیچھے ہولیا۔
ایک جگہ رک کر وہ شاہ سے۔مخاطب ہوئی۔
“آپ وہ لے آئے تھے شاہ،جو میں نے منگوایا تھا؟”
“لے آیا ہوں، مگر…..؟
ایک بیلچہ مل جائے گا؟” وہ اس کی بات کاٹ کر بولی۔
“شاہ ایک لمحے کو ساکت ہو گیا۔ اس کی سانس رک گئی تھی۔
شاہ کو لگا یقیناً وہ پاگل ہوچکی ہے۔
کیا….. کیا کرنا ہے بیلچہ۔
اس نے بوکھلائے ہوئے انداز میں پوچھا۔
کیونکہ وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ اشنے کر کیا رہی ہے۔
آپ پہلے بیلچہ لے کر آئے…… شاہ اسے رک کر دیکھنے لگا۔
“شاہ۔” آپ سے ہوں بیلچہ لے کر آئے۔
کیا کرنا کیا چاہ رہی ہو؟”
وہ عبایا میں تھی اور شاہ نقاب سے اسکی آنکھیں دیکھ سکتا تھا، وہ جھکی ہوئی تھی…..
“پاگل آنکھوں والی لڑکی کو دفن کرنا ہے۔”
شاہ دو قدم پیچھے ہوا تھا اور لب بھینچ لئے تھے…..
_______________________
آپ نے سنا ہوگا ناں شاہ، جنہیں بے دردی سے قتل کرکے لاوارثوں کی طرح پھینک دیا جاتا ہے۔
ان روحوں کے جنازے نہیں پڑھے جاتے وہ زمین پر بھٹکتی رہتی ہیں، پھر وہ اپنے ساتھ دوسروں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن جاتی ہیں۔
نہ خود ان کو سکون ملتا ہے اور وہ دوسروں کو لینے دیتے ہیں۔
مجھے پاگل آنکھوں والی لڑکی کی تدفین کرنی ہے، تاکہ اس کے ساتھ سب سکون میں آسکیں۔”
شاہ آنکھیں سختی سے بند کر کے سانس کھینچا، اورپاس سے جاتے گورکن کو آواز دے کر بیلچہ منگوا لیا….
اشنال نے بیلچہ اس کے ہاتھ سے لے کر خود کھدائی شروع کر دی۔
خواب میرے تھے، چاہتیں میری تھی، خواہشیں میری تھی، بے پنا محبت میری تھی، قبر بھی مجھے کھودنے دیں۔”
اشنے پلیز ایسا مت کرو، “تم نہیں جانتی پاگل آنکھوں والی لڑکی” میرے لئے کیا تھی۔
ایسا مت کرو، مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو رہا، پلیز مت کرو۔
شاہ کے دل میں ایک درد سا ہوا تھا یہ سب دیکھ کر۔
ایسے لگا جیسے کسی نے اس کے دل پر پیر رکھ دیا ہو…..
آپ کی” پاگل آنکھوں والی لڑکی” آپ کے سامنے کھڑی ہے، میں تو زئی کی”پاگل آنکھوں والی لڑکی”کو دفنا رہی ہوں۔”
کچھ دیر کمر پر ہاتھ رکھے اسے گھورتا رہا، پھر تھوڑا سا پیچھے ہٹ کر گاؤں سے پشت لگا کر کھڑا ہوگیا…. وہ بےبس اسے قبر کھودتے دیکھے گیا۔
______________________
جب ایک سا سوراخ ہوگیا تو اشنال نے اپنے بیگ میں سے کاغذوں کا ایک ڈھیر نکالا،اور شاہ سے بولی۔
یہ وہ کاغذ ہیں شاہ، جن پر پاگل آنکھوں والی لڑکی نے کچھ کراچی کے اور کچھ ایبٹ آباد کے کئی ایک سال تک میں ایک ہی نام لکھا تھا، زئی۔”
وہ ساتھ ساتھ کاغذوں کو پھاڑتی اور قبر میں بھرتی جارہی تھی۔
جانتے ہو شاہ۔”
ہم مشرقی لڑکیوں کی زندگی ایک چار دیواری تک محدود ہوتی ہے۔ جہاں ماں باپ بہن بھائیوں کی محبت ہوتی ہے، اور وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں خوش ہوتی ہیں، مگر کہیں نا کہیں ایک اور محبت بھی ان کے دل میں پلتی ہے ، اور وہ محبت کسی کے چاہے جانے کی ہوتی ہے۔
کسی کی محرم بن کر اس پر دل سے یقین کرکے ،اسے اپنا مان سمجھ کر، اس پردل سے یقین کرکے، اسے اپنا مان سمجھ کر اس پر ساری محبت،ساری زندگی لٹانے کی ہوتی ہے، یہ چھوٹے چھوٹے سپنے اس چار دیواری تک محدود رہتے ہیں۔
اس چار دیواری میں رہنے والی لڑکیوں کی دنیا بہت پاک ، صاف، اور سچی ہوتی ہے، اور جب کوئی اس چار دیواری کی دنیا میں باہر کا شخص آکر، خوبصورت خوبصورت لفظوں کے جال بنتا ہے، تو وہ لڑکی ان لفظوں کو سچ سمجھ کر اس کی محبت کے جال میں پھنس جاتی ہے۔ وہ شخص اس کو جھوٹی آس امید دلاتا ہے،اور وہ اندھی ہو کر یقین کرنے لگتی ہے…….
اور اس کے لفظوں کو سچ سمجھ کر اس کی محبت کے جال میں پھنس جاتی ہے۔ اس کے ساتھ کچھ وقت گزار کر وہ دنیا بھر کے خوبصورت سپنے سجانے لگتی ہیں۔
اپنے آنے والی زندگی کے خوابوں کو اس کے ساتھ جوڑ لیتی ہیں،وہ سمجھ لیتی ہے کہ یہ ہی میرے لئے سب کچھ ہے، میری زندگی کا ساتھی، میرا ہمسفر،…..
اس کی آنکھوں پر مکمل پٹی بند جاتی ہیں، وہ سچی ہوتے ہوئے بھی اچھی ہوتے بھی ایک بری اور جھوٹی لڑکی بن جاتی ہے، کیونکہ وہ اپنی جرم دار خود ہوتی ہے۔
اپنی دنیا سے وہ خود قدم باہر نکالتی ہے، وہ اپنی محبت کے سمندر میں اس قدر ڈوب جاتی ہیں کہ وہ سمجھ ہی نہیں پاتی کہ مقابل شخص اس کے ساتھ کھیل رہا ہے، اس کے جذبات کو صرف ایک کھلونا سمجھ کر توڑنے والا ہے…..
شاہ اکثر اوقات وہ ان کی سچائی جان بھی جاتی ہیں نا تو وہ انجان بن جاتی ہے، جانتے ہو کیوں؟
کیونکہ وہ اس قدر محبت میں ڈوب جاتی ہے کہ اس کے لیے اس فریبی شخص کے بنا جینا مشکل ہوجاتا ہے، وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف کھنچی چلی جاتی ہے، کیونکہ جس کو کسی کے لفظوں کی عادت ہو جائے ،یا کانوں کو سماعتوں کی عادت ہو جائے تو ان کے لئے اس کے بغیر رہ پانا مشکل ہوجاتا ہے.وہ نہیں رہ پاتی اس کے بنا… دو پل بھی وہ دور ہو تو ان کی جان پر بن جاتی ہے……وہ رہ ی نہیں پاتی اس کے بنا، اس قدر پاگل ہو جاتی ہے،بہک جاتی ہیں کہ اس کی سچائی جان کر بھی اسے موقع دیتی ہے…. مگر درحقیقت وہ خود کو ایک ٹھوکر کےلئے راہ میں رکھ دیتی ہے۔
جب وہ شخص یہ جان لیتا ہے کہ اب یہ میرے نہیں رہ سکتی، تو وہ خوش ہوتا ہے جیسے شکاری جال میں پھنسے ہوئے شکار کودیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی تمام تر حوس پرست خواہش کو مکمل ہوتے دیکھتا ہے۔ اور وہ اپنی ہر بات منوا لیتا ہے۔
شاہ کچھ لڑکیاں اپنی اندھی محبت میں اس قدر بہک جاتی ہیں کہ اپنی عزت تک کی بازی لگا دیتی ہے، اس محبت نام کےدھوکے فریب میں۔
یہ محبت تو نہیں بس محبت کا ماسک پہن کر ہوا کی بیٹی کی عزت کو تارتار کیا جاتا ہے، اس کے سپنوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے، اس کو زندہ لاش بنایا جاتا ہے، اور پھر اس لاش جو لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔
شاہ اس چھوٹی سی دنیا میں رہنے والی لڑکیوں کی زندگی تو اس محبت سے شروع ہوکر محبت پر ختم ہوجاتی ہے۔ وہ اپنی تمام تر خواہشات اس شخص کے ساتھ جوڑ دیتی ہے۔
مگر بدلے میں اسے کیا ملتا ہے…..؟
دھوکا،
فریب،
وجود کے ٹکڑے،
خواہشات کی کرچیاں،
عزت نفس کا جنازہ۔
_____________________
وہ کاغذوں کے ٹکڑے کرنے کے ساتھ ایک نظر ان کو دیکھ بھی رہی تھی۔
ان میں کچھ کاغذوں پر لکھا تھا…..
“زئی کین آئی کال یو مائن.؟”
کچھ پر لکھا تھا۔
“Eshnaal, i am All yours.
کچھ پر “اشنال زئی” لکھا تھا….
ان میں سے کچھ کاغذوں پر یہ بھی لکھا تھا کہ ایشے تم میری زندگی ہو۔
کچھ پر لکھا تھا…..
“All night, i’ ve waited for you, Eshy!”
کچھ پر لکھا تھا….
تم جیسی لڑکیاں میری زندگی میں اگزسٹ ہی نہیں کرتیں…”
کچھ پر لکھا تھا……
“تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا میں دفع ہو جاؤ۔”
______________________
شاہ اس کے چہرے کو دیکھے جا رہا تھا اور اس کے ادا کئے گئے الفاظوں کو سن رہا تھا۔
“شاہ” جب وہ محبت میں انتہا کرنے والی لڑکی اس شخص کی خواہشات پر پوری نہیں اترتی۔
نااس کی بےجا خواہشات کو پوراکرسکتی ہے تو وہ اس کو لمحے میں زمین پر لاپٹکتا ہے۔ وہ جو اس کی عزت کی دہائیاں دیتا ہے وہ اس کے کردار پر انگلی اٹھانے لگتا ہے، اس کو بد کردار کہنے لگتا ہے، حالانکہ وہ ایسی نہیں ہوتی وہ تو اس کی محبت میں اندھی ہو کر اس پر یقین کر لیتی ہے جو س کے یقین کی دھجیاں اڑا دیتا ہے….
اور جب وہ ہی لڑکی اس کی بات مان لیتی ہے تو اس کو آسمان پر بیٹھا دیتا ہے… اسی طرح وہ سالوں، کتنے مہینوں کسی کے جذبات کے ساتھ فریب کرتے ہیں، وقت گزارتے ہیں، اس کو اس اس قدر حسین خواب دیکھاتے ہیں کہ وہ کسی اور دنیا میں جینے لگتی ہیں۔وہ اس شخص کے سوا کسی کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔
مگر شاہ جب ان کا دل ٹوٹتا ہے نا تو ان کا مان، ان کا یقین کرچیاں کرچیاں ہوجاتاہے….. وہ جیتے جی مر جاتی ہیں۔
سپنے جب ٹوٹتے ہے نا شاہ تو انسان کے اندر وجود کے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ جیسے کسی نے شیشے کو توڑ کر چکنا چور کر دیا ہو، نا وہ جوڑنے کے قابل رہے اور نا رکھنے کے۔
کیسے کوئی کیسی کے ساتھ اتنے سال گزارنے کے بعد اس کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ زندگی گزارنے کا سوچ سکتا ہے۔ وہ شخص جس کے سپنے جس کا وجود جس کی ہر سانس اس کے پیار کے ساتھ زندگی گزارنے کی مالا جپتا ہو۔ بہت مشکل اور ازیت بھرا وقت ہوتا ہے، وہ تو اپنے وقت کو گزار کر چلا جاتا ہے، اپنے لمحے خوبصورت بنا لیتا ہے،مگر اس کا کیا شاہ……. جس کو وہ پل پل مرتا چھوڑ جاتا ہے…. آخر قصور کیا ہوتا ہے اس کا کے وہ اس کی محبت کو سچ مان لیتی ہے اس کے ساتھ جینے کا سوچنے لگتی ہے۔ہاں اس کا ایک قصور ہوتا ہے کہ وہ اپنی حدود کو پار کرتی ہیں ، وہ اپنی دنیا سے باہر قدم نکالتی ہے… اور اس دنیا میں کچھ بھیڑئیے جو مرد کا خول چڑھا کے بیٹھے ہیں اسے لوٹ لیتے ہیں…..
وہ اذیت میں جینے والے صرف موت کی ہی تمنا کرتے ہیں کیونکہ ان کی ساری خوشیاں ختم ہو جاتی ہیں ان کے لیے… راتوں کو روتے ہیں….. سسکتے ہیں….. خود کو اذیت دیتے ہیں….
اکثر لوگ اس اذیت میں اس قدر ہار جاتے ہیں کہ وہ خودکشی کر لیتے ہے۔ اور کچھ جو موت کی تمنا کرتے رہتے ہیں انھیں موت تو نہیں آتی… مگر وہ زندہ لاش بن جاتے ہیں۔اور کتنی ہی ایسی لاشیں لال جوڑوں میں رخصت ہوتی ہیں۔
کتنے ہی ارمان روز مرتے ہیں،
کتنے ہی لوگ گھسیٹتے ہے کہ وہ اس دنیا کے ساتھ آگے بڑھ جائے۔
بہت سے لوگ تو بظاھر خوش ہوتے ہیں،لوگوں کے سامنے ہنستے کھیلتے ہیں مگر اندر سے وہ مر چکے ہوتے ہیں۔
___________________
ایسی ہی وہ لڑکیاں ہوتی ہے جو اس چار دیواری کی دنیا میں اپنی حدودسے باہر نکل کر غیر پر بھروسہ کر کے تباہ ہو جاتی۔ پھر وہ سسک سسک، کر تڑپ تڑپ کر جیتی ہے۔
اور ان کے ساتھ فریب کرنے والا اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاتا ہے، اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ اس نے کسی کی زندگی تباہ کی ہے، کسی کے ارمانوں کا قتل کیا ہے۔کسی کے دل کو توڑا ہے۔ انھیں مردہ بنا کر لاوارثوں کی طرح چھوڑ دیا ہے۔
اور ان ہاری ہوئی، تباہ ہوئی لڑکیوں کو لاوارثوں کی طرح جینا پڑتا ہے کیونکہ وہ اپنی تباہی کے خود ذمہ دار ہوتی ہیں۔ اپنی حدود سے نکلنے کا انجام ملتا ہے۔
اپنے ماں باپ کو دھوکا دینے کا انجام ملتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر اللہ کو ناراض کرنے کا گناہ جو وہ کرتی ہے اس کا بدلہ انھیں ملتا ہے، کیونکہ اللہ اپنی نافرمانی کرنے والے کو معاف نہیں کرتا سزا ضرور دیتا ہے۔
اور شاید میں بھی ان میں سے ایک تھی۔
میں نےبھی محبت کی تھی، محبت کرنا گناہ نہیں، محبت میں حدو کو توڑ کر آگے نکل جانا گناہ ہے۔
اور میں ان حدو کو توڑ کر بہت آگے نکل گئی تھی، جس کی مجھے سزا ملی۔
________________________
اب وہ زمین پر بیٹھی ایک ایک کرکے کاغذوں کے ٹکڑے پھاڑ پھاڑ کر اس کھودے گئے گڑھے میں پھینک رہی تھی۔
جب سارے کاغذ اس نے گڑھے میں رکھ دئیے تھے، پھر اس نے پرس میں سے ٹشو پیپر نکالا، اسے کھولنے لگی، اس میں سرخ رنگ کی چوڑیوں کی کرچیاں تھیں جو اس نے گھڑے میں پھینکیں….
وہ کچھ لمحے خاموشی سے ان کوتکتی رہی… پھر بولی۔
میں نے اس سے پوچھا، زئی سرخ رنگ ہی کیوں؟ اس نے کہا…..
سرخ رنگ محبت کی علامت ہے۔
اس نے غلط کہا تھا شاہ۔
سرخ رنگ تو اس خون کی پیشنگوئی تھی، جو میری آنکھوں سے بہتا تھا۔”
پھر اس نے دوسرے ٹشو پیپر کو کھولا اور اس میں رکھی مٹی گڑھے میں گرانے لگی….
یہ وہ مٹی ہے شاہ جسے اس کے پیروں نے چھوا تھا، اس مٹی کو سمبھالتے سمبھالتے میں آپ مٹی ہو گئی ہوں…..
وہ اٹھ کھڑی ہوئی…… اور بیلچہ لے کر آس پاس کی مٹی کاغذوں پر ڈالنے لگی۔
ہر بیلچہ کے ساتھ مٹی جب کاغذوں پر پڑتی تو کچھ آواز پیدا ہوتی۔
وہ بولی،
“آپ نے کبھی کاغذوں کو روتے دیکھا ہے؟
پتا ہے شاہ یہ کاغذ رو رہے ہیں، انہیں عادت ہوگئی تھی، اشنال کے آنسوؤں کی۔
مگر شاہ یہ کاغذ بھی زئی کی طرح خود بھی غرض ہیں۔یہ محبت پر نہیں رو رہے، یہ اسلئے رو رہے ہیں کہ اب کبھی پاگل آنکھوں والی لڑکی ان پر اپنی اذیت تحریر کرکے روئے گی نہیں۔
انہیں شاید معلوم ہو چکا ہے کہ اشنال زئی، اشنال سید بن چکی ہے۔”
اسے حق تھا وہ اسے روک سکتا تھا، مگر اس نے نہیں روکا، وہ اسے ہر وہ کام کرنے دینا چاہتا تھا جسے کرنے کے بعد وہ سکون محسوس کرے…..
_________________________
اب مٹی کے ساتھ اشنال کے آنسو بھی قبر کی مٹی میں جذب ہو رہے تھے۔
اشنے تم نے رونا ہے تو میں جارہا ہوں۔”
بالآخر اسکا ضبط جواب دے گیا….
وہ پیچھے پلٹی،اوربے یقینی سے اسے دیکھا۔
نیلی جینز پر، پنک ڈارک بلیو شرٹ، فولڈڈکف، کلائی پر چمکتی سلور گھڑی، فوجی کٹ، ہئیر اسٹائل، اسٹائلش سی بئیرڈ، دھوپ کی تمازت سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ خفگی سے اسے دیکھتا روٹھا روٹھا ساوہ پہلی بار اسے پیارا لگا تھا…..
وہ کیپٹن شاہ کو پہلی بار غور سے دیکھ رہی تھی،وہ اسکا دیکھنا محسوس کر رہا تھا…..
پھر وہ لہجے میں چیلنج کر کے بولی….
چلے جائیں گے، مجھے چھوڑ کر؟”
کتنی مشکل میں پڑھ گیا تھا وہ….
اب وہ منہ موڑ کر گاڑی کے چھت پر دونوں بازو رکھے کھڑا ہو گیا۔
شاید شاہ کی ناراضگی کا اظہار تھا، وہ مسکرائی….
اچھی طرح سے قبر بنا کر اس نے شاہ سے منگوائی تختی اٹھائی،جوکہ سیاہ رنگ کی تھی اور سفید رنگ سے”پاگل آنکھوں والی لڑکی” لکھا ہوا تھا….
اور اسے قبر کے سر کی جانب مٹی میں دبانے لگی۔ پھر اس نے آخری کام مرجھایا ہوا گلاب مٹی میں لگا دیا،اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
آنسوؤں سے تر آنکھوں،اور چہرے کے ساتھ کانپتی ہوئی آواز میں بولی۔
جاؤ زئی، میں نے تمہیں آزاد کیا،ساری قسموں سے، سارے وعدوں سے، اپنے ہر آنسو سے، اپنی ہر اذیت سے رہا کیا۔
اپنی ذہنی بربادی بھی بخش دی تم کو۔ اپنے وجود کے ہوئے ٹکڑوں پر کیاہوا ماتم بھی تم کو بخش دیا۔ جاؤ میں نے تم کو خدا کی رضا کے لیے معاف کیا۔”
اب روتے روتے اس کا وجود لرزنے لگا تھا…..
شاہ آگے بڑھا اور اسے خود سے لگالیا….
کافی دیر وہ اس کے ساتھ لگی ہچکیاں لیتی رہی،
شاہ کی شرٹ اس کے آنسوؤں سے بھیگتی رہی۔
مگر آج اسے یہ سب کرکے سکون ملا تھا،اس کے دل کا بوجھ اترا تھا۔
آج اللہ پاک نے ایک اذیت سے پوری طرح آزاد کیا تھا،اور شاہ جیسے محرم کا ساتھ دیا تھا۔یہ سب محسوس کر کے اسے سکون ملا تھا۔
پھر اشنال نے ایک الوداعی نظر پاگل آنکھوں والی لڑکی کی قبر پر ڈالی اور شاہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر اس کے ساتھ گاڑی کی طرف بڑھ گئی…..
پھر اس کی تدفین کرنے کو
ٹوٹے ہوئے خوابوں کے قافلے آئے…!!!
آج گھر میں کافی چہل پہل تھی، شاہ کے گھر والے رخصتی کا دن مقرر کرنے آرے تھے، آپی اور عشیہ کے بچوں نے اس س سنسان حویلی کو چڑیا گھر بنا رکھا تھا…
شاید آج صبح وہ منہ بھی نہیں دھو پائی تھی….
اور صبح سے بھانجیوں میں پھنسی ہوئی تھی….
ابھی ابھی آپی کے آخر سپوت کو شوز پہنانے کے بعد وہ سوچنے لگی تھی کہ شادی شدہ بہنیں میکے آکر نہایت ہی کوئی کام چور ہوجاتی ہیں۔
ان کے بچوں کو نہلاؤ، تیار شیار کراؤ، کھانے کھلاؤ، انکو انٹرٹین کرو، ان کو سلاؤ بھی ۔
میرے بعد تو اور کوئی بہن بھی نہیں ہے جو میرے بچوں کے پیمپر چینج کرے گی، اس نے دہائی دی….
پہلے تو اسے اپنی سوچ پر خوب ہنسی آئی،پھر شرما کر ہاتھ آنکھوں پر رکھ دئیے….
محبت مرتی نہیں ہے مگر اس نے محبت کو محبت سے بدل دیا تھا۔
______________________
ادھر شاہ کا حال بھی برا تھا، شاہ ولا میں سب اسکی شادی کی تیاریوں میں لگے تھے، دادو کی کالز پہ کالز آرہی تھی، جبکہ وہ خود رات دن کی تھکا دینے والی آپریشنل ٹریننگ میں پھنسا تھا…..
ابھی اسے اپنے اور اشنے کے ڈریسز بھی خود سلیکٹ کر کے آرڈر دے دیا تھا، وہ اشنے کیلئے بھی سب خود ہی پسند کرنا چاہتا تھا۔
دہائیاں اپنی جگہ مگر بہر حال وہ ایک فوجی تھا، ہر سچویشن پر قابو پا لینے والا….
______________________
ہم اپنا ایک ہنی مون سوئیٹزرلینڈ میں منائیں گے۔”
رات نو بجے وہ دونوں کال پر تھے…..
شاہ، جیسے یہاں مری میں بندر ہوتے ہیں، کیا سوئیٹزر لینڈ میں بھی بندر ہوتے ہونگے؟”
اشنے نے اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہا….
اگر پہلے نا بھی ہوں تو اب سوئیٹزر لینڈ والے باندری دیکھ لیں گے۔”
ہیں؟’ وہ کیسے؟” اشنے ایکسائیٹڈ ہوتے ہوئے۔
“میں اپنے ساتھ ایک باندری کو لے کر جا رہا ہوں نا۔” وہ ہنسا تھا…..
“شاہ!”وہ چیخی تھی کہ وہ جانتی تھی باندری کسے کہا گیا تھا….
” جی باندری ۔ اوہ سوری جی، جان شاہ۔”
” بہت خراب ہیں آپ۔ مجھ سے بات مت کریں۔”
وہ ہنسا اور ہنستا چلا گیا۔
اشنال نے کال کٹ کر دی….
اسکا فون پھر رنگ کرنے لگا، کچھ دیر روٹھنے کی ایکٹنگ کے بعد خود ہی اٹھا لیا۔
“جان شاہ” آپ سے بات نہیں کرنا چاہتیں۔” اس نے روٹھے لہجے میں کہا…”
“اچھا ٹھیک ہے اشنال سید سے بات کروا دیں۔”
وہ آگر اشنال سید تھی تو اسے بھی کیپٹن شاہ کہتے تھے۔
تمہاری تصویریں دیکھ رہا ہوں، ابھی ابھی ملیں ہے۔
ہائے اوے صدقے جاواں…..نوزرنگ۔”
وہ بھابھی کی طرف سے واٹس ایپ کی گئی پکچرز دیکھنے لگا….
“سچ سچ بتاؤ، میرے لئے پہنی ہے نا؟”
” بلکل نہیں۔ آپ کیلئے نہیں، آپ کی وجہ سے۔” اس نے تصیح کی،
“ایک ای مطلب ہویا ناں۔”
“نہیں جی۔”
” تے فر کی مطلب ہے گا؟”
وہ پنجابی میں بولتا ہوا اچھا لگ رہا تھا…..
“اممممممممم……. اس سے پہلے کہ آپ کا دل کسی نوزرنگ والی پر آجائے، میں ہی نوزرنگ پہن لیتی ہوں…..”
“ہاہاہاہاہا….. دل تو آچکا باندری پر….. ” ایک زور دار قہقہہ ریسور میں ابھرا۔ اشنال نے کان فون سے ہٹایا
“میرا سپیکر پھٹ جائے گا شاہ۔”
وہ ہنسا۔
“سوٹ نہیں کر رہی ؟” اس نے پوچھا۔
“کر رہی ہے اور اتنی کر رہی ہے کہ باندری تو نہیں بس باندری کی چھوٹی بہن لگ رہی ہو….”
اس نے پھر اسے غصہ دلایا۔
“شاہ!”
“جی میری شیرنی…؟”
“آپ کو کسی نے بتایا ہے ہنستے ہوئے آپ خرگوش لگتے ہیں لمبے لمبے دانتوں والا ؟”
ہاہاہاہاہا…… چلو خرگوش تو پھر بھی اچھا ہوتا ہے، گاجر کھاتا ہے، باندریاں تو اپنی جوئیں نکال کر خود ہی کھا جاتی ہیں۔”
آآآآخ تھوووووو……..” اسے سچ میں الٹی آگئی۔
شااااااااہ…..”
جی جان شاااااہ؟”
“میں آپکا جون پی آجاؤں گی۔”
“باندریاں خون بھی پیتی ہیں ہااااااو….”
“بہت خراب ہیں آپ شاہ۔ میرا سر درد کر رہا ہے میں سونے لگی ہوں۔”
سولو، سولو، شاہ ولا پہنچو پھر دیکھتا تمہیں شیرنی۔”
مجھے تڑیاں نا دیو کریں۔”
” ہاں تو کیا کرو گی؟”
“میں میں زہر کھا لو نگی۔”
” خیراے، باندریاں زہر سے نہیں مرتیں، جوئیں بھی تو زہر جیسی ہوتی ناں۔”
“شااااااہ!”
انسان بن جائے، اچھا۔
تو ابھی کیا ہوں، جان شاہ!
ابھی آپ خرگوش………. ہاہاہاہاہاہا
وہ بھی کہا پیچھے رہنے والی تھی۔”
____________________
اچھا شاہ سنیے!
“جی جان شاہ۔”
” میں ایک تصویر بھیج رہی ہوں، میری بری میں ایک ڈریس ایسا بھی ہو”
(شاہ تصویر دیکھنے کے بعد)
“چپ کر کے بیٹھو، تمہارے سارے ڈریسز میری مرضی کے ہونگے۔”
میں خبردار کر رہی ہوں شاہ۔! میں نہیں پہنوں گی۔
استغفرُللہ خود اتنی گندی ڈریسنگ کرتے ہو، میرے لئے بھی ویسی ہی کرو گے”
(اشنے روہانسا ہوتے ہوئے)
جیب کس کی خالی ہوگی؟
“شاہ کی”
“تو پھر ڈریسز بھی شاہ کی پسند کے”
شاہ نے آبرو اچکائے۔
” جی نہیں! پہنے گا کون میں یا آپ؟”
(اشنے نے ڈیلے گھمائے)
“جان شاہ”
“پھر مرضی بھی جان شاہ کی چلے گی۔”
“میری شادی میں ایسا نہیں ہونے والا جان شاہ”
(شاہ نے سکون سے دوٹوک کہا)
شاہ میں مایوں سے ولیمے تک عید پر جو سیاہ ڈریس بنایا تھا، وہی پہنے رکھوں گی بتا رہی ہوں سن لیں۔”
اشنے نے دھمکی دی….
سن لیا، چلو میرے والے ولیمے کے بعد پہن لینا۔”
یہ بندہ مجال ہے کبھی اریٹیٹ ہوا ہو، اشنے نے سوچا،
میں اپنے ساتھ بیگ بھر کر لاؤں گی، اپنی پسند کے ڈریسز کا”
” میں وہ بیگ اسٹور روم میں رکھوا دونگا”
“میں اسٹور سے لے آؤنگی،
“ہیں؟ سچ بتاؤ وہ بیگ اٹھا سکو گی؟
میرا خیال ہے تم نہیں اٹھا سکو گی جان شاہ، اس کام کے لئے بھی تم مجھے بلاؤ گی ، اور تمہیں پتا ہے نا اس بار میں وہ بیگ روم میں لا کر الماری کے اوپر رکھ دونگا۔”
“شاہ اب تم حد کر رہے ہو۔”
پھر سیدھی طرح مان جاؤ،جان شاہ،”
نہیں…… کیوں ہو گا تو وہی جو جان شاہ کہے گی۔
ہائے ےےےے………. میری باندری۔ میرا مطلب میری جان۔
شااااااااہ…….. وہ چلائی تھی۔
“جی کرا جان شاہ۔”
“آئی ہیٹ یو۔
اور ڈریسز کو تو چھوڑو، اب تم مجھے دوبارہ سے شادی کے لیے مناؤ شاہ، اور اب میں مانوں تو کہنا”
ٹوں ٹوں ٹوں……
کال ڈسکنیکٹڈ……..
اور یہاں شاہ کی جان کع لالے پڑے تھے کیونکہ یہ صرف وہی جانتا تھا،اس نے کسطرح جان شاہ کو خود سے شادی کے لیے راضی کیا تھا۔!!!!
پھر وہ اس کی باتیں سوچ کر مسکرایا تھا۔ وہ جانتا تھا اس کو کوئی بھی اب اشنے سے دور نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اب اس کی محرم نہیں۔
ہاہاہاہاہا باندری جئی نا ہوے تے۔”
دونوں اپنے اپنے بستر پر پڑے اپنے اپنے سیل دل پر رکھے ہنس رہے تھے….
اشنال سید نے کسی کو جان شاہ کا مکمل اختیار دے دیا تھا،
اور بیشک اللہ کے بنائے گئے جائز رشتوں میں ہی سکون ہے، اگر ہم دل سے مان لے تو….
________________________
آج انکی مایوں کی رات تھی،وہ صبح ہی گھر پہنچا تھا اور اس وقت مہندی کے سارے فنکشنز ہو جانے کے بعد سب سے بچ بچا کر گاڑی نکالے سنسان سڑک کے بیچوں بیچ کھڑاا تھا…..
اس نے جیب سے سیل فون نکالا اور نمبر ڈائل کیا….. دوسری جانب سے فون اٹھالیا گیا……
“کیا کر رہی ہو؟”
مہندی لگوا رہی ہوں۔”
مایوں کے سمپل سے جوڑے کے ساتھ دوپٹہ سر پہ اوڑھے بالوں کی ڈھیلی ڈھالی چوٹی بنائے، لٹیں ادھر ادھر بکھریں، آنکھوں میں مسکارا لگائے ہلکی سی لپ اسٹک کے ساتھ گجرے بالیاں کانوں میں پہنے، ماتھے پر گلاب اور موتیوں سے بنا ٹیکا لگائے وہ شدید کوفت کے عالم میں مہندی لگوانے بیٹھی تھی….
“آہاں تو مجھے قتل کرنے کے انتظامات ہورہے ہیں۔”
“کیا آپ کو اب بھی لگتا ہے کہ آپ قتل نہیں ہو چکے؟”
ہاں میں تو سال پہلے ہی پیپرز سائن کر کے قتل ہوگیا تھا۔
اچھا اب کام کی بات کریں؟ اشنے ہتھیلی پر مہندی سے میرا نام مت لکھوانا۔”
کیوں…؟”
کیونکہ جب مہندی مٹے گی تو میرا نام بھی مٹنے لگے گا، میں نہیں چاہتا کہ میرا نام آپ سے کسی بھی صورت جدا ہو۔”
وہ دونوں ہی عجیب سرپھرے تھے…
اچھا اب میرے دوسرے ہاتھ پر مہندی لگ رہی ہے، میں آف کرنے لگی ہوں۔”تھوڑی دیر رک جاؤ ناں…!!!
“بلکل نہیں، میں سردی میں اکڑ رہی ہوں..”
میرے لئے اتنا نہیں کر سکتی؟”
آپ کے لئے ہی مہندی لگا رہی ہوں، ورنہ آپ جانتے ہیں مہندی کتنی بری لگتی ہے مجھے۔”
اشنے پلیز تھوڑی دیر اور۔”
تھوڑی سی بھی نہیں، ٹیک کئیر۔”
ابھی اس کی دوسری ہتھیلی پر مہندی کے نقش بننے ہی لگے تھے کہ سیل روشن ہوا….!!!
زینی چیک کرو کون ہے….” وہ کزن سے مخاطب ہوئی۔
“آپ کے اتاولے شہزادے سے انتظار نہیں ہورہا۔”
“کیا لکھا ہے….؟”
لکھا ہے کہ میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں ابھی۔”
اسے کہوں کل تک انتظار کرے۔”
وہ کہہ رہا ہے کہ میری کتنی بڑی خواہش تھی کہ مہندی کے سوٹ میں تمہیں دیکھوں ۔”
“اسے کہو تصویروں پہ گزرا کرے۔”
“وہ کہہ رہا ہے.” شادی پہلی اور آخری بار ہو رہی ہے، اسلئے میں تمہاری حویلی کے گیٹ پر کھڑا ہوں۔”
ہائے او ربا….”وہ اچھلی اور کھڑی سے نیچے جھانکا۔
اففف……. اسے کہو چلا جائے یہاں سے، کسی نے دیکھ لیا تو کہیں گے میں نے بلایا تھا۔”
وہ رو دینے کوتھی….”
“کیا ہے یار،تم دونوں کا نکاح ہوچکا ہے، اگر وہ ایسی کوئی خواہش کرتا ہے تو تمہیں مان لینی چاہیے…!!
میں اس کی ایسی کوئی فضول بات نہیں مان سکتی، اسے کہوں جہاں سے آیا ہے وہیں چلا جائے۔”
وہ ناراض ہو گیا تو….؟”
“تو ہو جائے….”
وہ کہہ رہا ہے سیدھی طرح مان جاؤ ورنہ دیوار پھلانگ کر آجاؤنگا۔”
“اسے کہو ہم نے ڈوگی کو ٹانگیں توڑنے کا آرڈر دے رکھا ہے۔”
کتنی ظالم ہو اشنے۔” زینی نے اسے گھورا اور میسج ٹائپ کرنے لگی۔
تھوڑی دیر سیل خاموش ہوگیا….!!
اچانک دروازے پر دستک ہوئی..!!
وہ منہ پھیر کر دوسری طرف کھڑی ہوگئی، دل تھاکہ پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بےتاب….!!
دیکھوں اسے کہوچلاجائے ورنہ میں کل تک زہر کھالو گی….”
ڈونٹ وری”جان شاہ” کل میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے زہر کھلا دونگا۔”
” دیکھوں خبردار اگر میرے قریب آئے تو۔”
توکیا کروگی؟” وہ آہستہ آہستہ قریب آنے لگا…!!
میں…… میں یہ ساری مہندی تمہارے منہ پر مل دوں گی۔”
وہ منہ پھیرے ہی اسے اپنے ہاتھ دکھانے لگی…!!
پھر…؟” وہ مزید قریب ہوا…!!
پھر صبح دلہے بنے ہوئے کتنے برے لگو گے۔”
ہاہاہاہاہاہا….. میں یہاں صرف یہ دیکھنے آیا تھا کہ میری شیرنی مایوں کے دن چپ چاپ شرمائی شرمائی سی کیسی لگتی ہے۔”
“اب دیکھ لیا نا، اب جاؤ یہاں سے۔”
جب تک تم چہرہ نہیں موڑ لیتی میری طرف میں نہیں جانے والا۔”
وہ بھی ضدی تھا اپنے نام کا ایک…!!!
وہ یکدم پلٹی…!!
“بس دیکھ لیا چہرہ، ہو گئی حسرت پوری، اب جائیں یہاں سے۔”
پیلے دوپٹے سے جانکتی لٹیں اسے مزید خوبصورت بنا رہی تھیں…
بلکل ایسا ہی ایکسپکٹ کر رہا تھا میں کہ میری شیرنی دلہن بنے ہوئے بھی غصے میں پھاڑ کھانے والے لہجے میں دھمکیاں دے رہی ہوگی۔
ایک بات کہوں، آج سے پہلے کسی شیرنی کو اتنے خوبصورت روپ میں نہیں دیکھا۔”
آپ…..اپ…… آپ بہت فضول ہیں۔”
یاد رکھنا، گن گن کے بدلے لو گا، بے رحم لڑکی۔”
“کل کی کل دیکھی جائے گی، ابھی جائیں۔”
وہ اس کے مزید قریب ہواکہ اسے لگا اس کا دل کام کرنا چھوڑ گیا ہو۔ نیلی آنکھوں سے بچنے کیلئے اشنال نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی پلکیں ہلکے ہلکے لرزنے رہی تھیں۔
دیکھیں شاہ میں واقعی میں مہندی آپ کے کرتے پر مل دوں گی…”
وہ مزید قریب ہوا تھا اور انگلیوں سے اسکی ٹھوڑی کو چھوا….
پتا ہے جان شاہ، میرا دل آنکھوں سے ہوتا ہوا تمہاری ٹھوڑی پہ اٹک گیا ہے…
یار، پہلے آنکھیں نہیں سونے دیتی تھیں،اب ٹھوڑی جگائے رکھتی ہے۔
آپ…….. آپ، پتا نہیں نہیں کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ چلیں بس اب جائیں یہاں سے۔”
اس نے اٹک اٹک کر بمشکل بات پوری کی۔
ایسے کیسے چلا جاؤں، مطلب ایسے کیسے؟ “شاہ کا دھیما لہجہ اسے نظریں جھکائے رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ویسے بھی وہ نیلی آنکھوں میں جھانکنے کا گناہ نہیں کرسکتی تھی، اسے لگا اس کیلئے آکسیجن مک گئی ہو جیسے……
وہ جھکا اور اس بار اپنے لب اس کی ٹھوڑی پر رکھ دئیے….
وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی اسے سرپرائز کر گیا تھا۔
اور پھر اشنال کے مہندی والے ہاتھوں نے شاہ کا کرتا سختی سے بھینچ لیا، ہتھیلی کے نقش تو خراب ہونے سو ہوئے، شاہ کا سفید کرتا بھی مہندی میں رنگ گیا….
میں نے خواب میں دیکھا،سوچا، ڈھونڈا، چاہا، اور پالیا۔
“اشنے تم نے کیپٹن شاہ کو بے حال کر رکھا ہے، کل لیتا ہوں خبر تمہاری۔ اور اب تو میرا وائٹ کرتا بھی میلا کردیا تم نے۔” شاہ نے اپنے کرتے کو دیکھا۔
میری مہندی….” اشنے اپنے ہاتھوں کی خراب ہوئی مہندی کو افسوس سے دیکھ رہی تھی اور شاہ اپنے مہندی لگے کرتے کو…..
“شاہ۔”
“جی جان شاہ۔”
” بہت خراب ہیں آپ۔”
“کل بتاؤں گا،پکا….”
جاتے جاتے وہ دو قدم ٹھہرا دونوں ہاتھوں سے اس کے چہرے کے صدقے لے کر ماتھے پر رکھے،
اور اس کا چہرہ آنکھوں میں بھر کر چلا گیا تھا….
اور اسے ایک بار پھر سکتے میں چھوڑ گیا….
وہ محبت کا شکرانہ نہیں دے سکتی تھی…
آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر نکل آئے تھے….
اس نے آنکھیں کھولیں تو زینب کو کھڑے پایا…
شرمانے کیلئے اس نے دونوں ہاتھ منہ پہ رکھنے چاہے مگر ان پہ مہندی لگی تھی، وہ منہ بسور کر رہ گئی۔ اسے زینی کی ہنسی سنائی دی، سامنے کھڑی زینی اس کی حالت پر ہنس رہی تھی، پہلے اس نے زینی کو گھورا پھر خود بھی ہنسنے لگی…..

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: