Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 2

0
پاگل آنکھوں والی لڑکی از اشنال سید – قسط نمبر 2

–**–**–

پچھلے ایک مہینے سے ان دونوں کے گروپ میں تیسری لڑکی کنزہ شامل ہوئی تھی،کالج سے واپسی پر وہ تینوں سہلیاں ایک ساتھ تھیں،کہ کنزہ کی آواز سنائی دی۔
“کسی کے چہرے کی خوشی دیکھنے والی ہے کہ آج اسے اشنال کا دیدار میسر ہوا۔”
وہ چونکی،ناسمجھی سے کنزہ کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی۔
“کیا مطلب؟”فروا بولی۔
“مجھے پتا ہے اشنال عبداللہ تمہاری شکل معصوم ہے مگر اتنی بھی معصوم مت بنو،میں سب سمجھ رہی ہوں۔”
“کہناکیا چاہتی ہو؟” وہ دونوں الجھیں۔
“میں تقریباً دس دن سے دیکھ رہی ہوں کہ کوئی تمہیں فالوکر رہا ہے،دو، دونوں سے تم نہیں آئی تو میں نے اسے پریشان دیکھا ہے،اور آج تمہیں دیکھ کر اس کے چہرے پر کتنا سکون ہے دیکھوں ذرا۔”
اشنال نے کنزہ کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔
سڑک کے دوسری طرف ایک لڑکا جینز شرٹ پہنے موٹر بائیک پر بیٹھا تھا مگرنظریں نیچی تھی۔
“اگر میں کہوں کہ میں نے آج سے پہلے اس لڑکے کو دیکھا ہی نہیں تو کیا تم یقین کرو گی؟”
“کنزہ ہنسی اور بولی۔”
اپنی معصوم شکل سے مجھے بیوقوف مت بناؤ،میں سب جانتی ہوں۔”
اس الزام پر اشنال کی زبان تالو سے چپک کر رہ گئی۔
ساتھ چلتی فروا اس کے حق میں بولی۔
“ہم تین ہمیشہ ساتھ جاتی ہیں،تم اتنے یقین سے کیسے کہہ رہی ہو کہ وہ اشنال کو ہی دیکھ رہا ہوگا،ہو سکتا ہے وہ تمہیں دیکھ رہا ہوں،یا پھر مجھے فالو کر رہا ہو۔”
مجھے کنزہ ہاشم کہتے ہیں،میں اڑتی چڑیا کے پر گن لیتی ہوں۔
ہم تینوں میں سے سب سے پہلے میرا گھر آتا ہے،میں اپنے فلیٹ پر پہنچتے ہی کھڑکی سے تم دونوں کو دیکھتی ہوں۔میرے بعد فروا تمہارا گھر آتا ہے،اگر وہ لڑکاہم دونوں میں سے کسی کو فالو کرتا،تو ہمارے گھر پہنچ جانے کے بعد اشنال کے راستے پر نظریں کیوں رکھتا؟
اشنال کل مجھے سچ بتانا،میں بھی سننا چاہوں گی اشنال عبداللہ کی محبت کی داستان۔”
کنزہ ایک آنکھ کو بند کرتے ہاتھ ہلاتی اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گئی۔
اس قسم کا واہیات بہتان اشنال کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا….
وہ ابھی تک شاک میں تھی،فروا نے اسے ٹہوکا دیا…
ایشے میری جان مجھے معلوم ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے،تم کنزہ کی باتوں کو دل پر نالو،ہمیں ایسی لڑکی سے دوستی ہی نہیں رکھنی چاہیے تھی۔”
فروا دوست ہونے کا ثبوت دے کر اپنے گھر چلی تھی،اور اشنال کا بس نہیں چل رہا تھا کسی طرح اڑ کر گھر پہنچ جائے۔
عورت کی بدنامی کتنی سستی ہے،اگر کوئی مرد کسی عورت کے راستے پر نظر رکھتا ہے تو بھی عورت بدنام ہو جاتی ہے،وہ لاکھ روئے، چیخے جھٹلائے مگر کوئی اس کی گواہی کو خاطر میں نہیں لاتا۔
آہ ہمارے معاشرے کی تلخیاں….
شام کو نوٹس بناتے اس نے عشیہ سے کہا۔
“عشیہ مجھے عبایا لینا ہے۔”
“تمہیں پتا ہے نا بابا کو تمہارا عبایا لینا نہیں پسند۔”
“عشیہ بابا کی نظروں میں ابھی بھی میں چھوٹی ہی ہوں پر دنیا کی نظروں میں چھوٹی نہیں رہی میں، بس مجھے عبایا لینا ہے۔”
اشنال عبایا والی لڑکی میں مرد زیادہ دلچسپی لیتا ہے۔اسے تجسس رہتا ہے، عبایا کے اندر جھانک لینے کا۔”
“نہیں عشیہ مجھ سے چادر سنبھالی ہی نہیں جاتی،اوپر سے کراچی میں ہوائیں اتنی تیز ہے کہ نوٹس سنبھالو، چادر اڑنے لگتی ہے،چادر سنبھالو تو قمیص۔تم مارکیٹ چلو،عبایا سے کچھ بہتر فیل کرونگی میں۔”
وہ بضد تھی….
اچھا ٹھیک ہے شام میں چلتے ہیں۔”عشیہ کو ہامی بھرنی ہی پڑی۔
جب سے اس نے عبایا لیا تھا اس کی زندگی میں کچھ سکون آیا تھا…
❤️❤️❤️❤️
وہ کوئی بہت زیادہ نیکوکار نہیں تھی،وہ تو ایک عام سی مسلمان تھی،یا یوں کہہ لیں وہ بس ایک اچھی لڑکی تھی۔پانچ وقت نماز بنا کسی تاخیر کے پڑھتی تھی،
سویرے فجر کی نماز کے بعد درمیانی آواز میں تلاوت قرآن اس کا معمول تھا،سورت یسین،سورت رحمن، سورت ملک،سورت واقعہ اسےزبانی یاد تھیں،جودن کے محتلف اوقات میں وہ پڑھتی رہتی۔
ہر نماز کے بعد وہ کافی وقت دعا مانگتی رہتی،اپنے لئے اپنے بابا اماں بہنوں اور ساری امت کے لئے،اسے بابا نے بتایا تھاکہ سب کیلئے دعا مانگا کرو کہ ہوسکتا ہے کسی کو دعاؤں کی ضرورت ہو۔”
وہ اپنی دعاؤں میں جس جس کانام ہوسکے لے کر دعا مانگتی،اسے یاد تھا اس نے پہلی بار تہجد تب پڑھی جب وہ نائنتھ کلاس میں تھی۔
وہ پانی پینے واٹر کولر تک آئی تھی جب دو ٹیچرز آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔ایک ٹیچر سے اس نے کہتے سنا تھا کہ…
تہجد پڑھنے والے اللہ کے بہت خاص بندے ہوتے ہیں۔”
پھر سردی ہو یا گرمی وہ ہر رات تہجد کیلئے خود اٹھ جاتی تھی،اور دیر تک کچھ نا کچھ پڑھتی رہتی۔
وہ فطرتاً خاموش طبع تھی،دوستوں کے نام پر اس کے پاس واحد فروا حسین تھی،جو بچپن سے اسکے ساتھ تھی۔
وہ خود سے بے نیاز سی تھی،اس دور میں جہاں لڑکیاں اپنے میل کزنز سے بھائیوں جیسے ہنسی مذاق کرتیں،وہ سب سے ہٹ کر رہتی۔فیملی کے کسی لڑکے سے اس کی دوس نہیں تھی، کوئی ماموں کا بیٹا ہو،چاچو،خالہ،پھپو، اشنال کے لیے سب ایک کیٹگری میں آتے تھے،اور وہ سب ہی اشنال کے دائرے میں نہیں آتے تھے۔
اسے سیل فون کا نا جائز استمال بھی نہیں کرتی تھی، فون ڈائری میں بابا،آپی، عشیہ اور فروا کے سوا کسی کا نمبر فیڈ نہیں تھا….
وہ پر اعتماد تھی یا خود کی زات سے لاپروا،اس نے کبھی اس بارے میں نہیں سوچا کہ کس راستے پر کون اسے دیکھ رہا ہے یا کون اس کا تعاقب کر رہا ہے،کون اس کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے۔
کالج سے گھر تک کے راستے پر ہر طرح کے مردوں کی اچھی بری نظروں کو کسی خاطر میں ناہی لاتی۔اس نے اپنے گرد دائرہ بنا رکھا تھا،ناکبھی اشنال نے اس دائرے کے باہر جھانکا ناہی باہر قدم نکالنے کی خواہش رکھی۔
وہ ناولوں کی دنیا میں رہنے والی لڑکی تھی،اسے یقین کہہ لے یا خوش فہمی تھی کہ اس کا شہزادہ اس محلے کی گلی کے سنسان نکڑ پر کھڑے لڑکیوں کا راستہ روکنے والا ہو ہی نہیں سکتا۔اس کے شہزادے کا جو عکس تھا وہ بہت اونچا تھا،ایفل ٹاور سے بھی اونچا،جیسے سارے ناولز کے ہیروز کی ساری اچھائیاں ملا کر کسی ایک شہزادے میں ڈال دی جائیں۔وہ فینٹسی ورلڈ میں رہتی تھی۔
اسے خود کی قسمت پر اندھا یقین تھا کہ اس کا شہزادہ اس کی سوچ کی تخلیق کردہ خصوصیات سے گندھا ہوگا،مگر وہ بھول گئی تھی کہ ناولوں میں لکھے شہزادے صرف کاغذی ہوتے ہیں۔سوچوں میں بننے والے شہزادوں کے عکس کا حقیقی دنیا میں ملنے والے شہزادوں سے زرا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔
شاید ٹھیک کہتے ہیں لوگ،قدموں کی طرح ہمیں خوابوں کو بھی اوقات کے دائرے میں رکھنا چاہیے، کیونکہ کچھ سرپھرے خواب ہماری زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
قدرت نے اس کی پرسکون زندگی میں طوفانوں اور آزمائشوں کا ایک جال بچھا رکھا تھا،اور اللہ اپنے بندوں کو آزماتا بھی تو ہے۔
پھر جیت انہی کی ہوتی ہے جو ثابت قدم رہتے ہیں۔
…………..
وہ زمین پر بیٹھی ناخن کاٹ رہی تھی جبکہ عشیہ ریسپی بک میں آج کیلئے کوئی ریسپی نوٹ کر رہی تھی۔امی چارپائی پر بیٹھیں سپارا پڑھ رہی تھیں،جب ڈور بیل بجی۔
عشیہ دروازے کی طرف بڑھی،واپسی پر اس کے ساتھ پڑوس والی آنٹی گھر داخل ہوئیں اور امی کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئیں۔
سلام کا جواب دینے کے بعد ہاتھ میں پکڑا شاپر اشنال کی طرف بڑھایا اور کہنے لگیں۔
“یہ لو ایشےتمہارا سوٹ،ارم تھینکس کہہ رہی تھی۔”
“میرا سوٹ؟” اشنال نے ناسمجھی سے شاپر کو دیکھا….
“ارم تمہارا سوٹ پہن کر گئی تو یقین کرو پورے حال کی نظریں ارم پر ہی تھیں،اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ ہر کوئی اس کی تعریف کر رہا تھا،ایسالگ رہا تھا یہ سوٹ بنا ہی ارم کیلئے ہو۔”
اشنال کا ناخن کاٹتا ہاتھ تھم گیا تھا….
اس نے مشکوک نگاہوں سے عشیہ کو دیکھا جس نے اس کی کاٹ دار نظروں سے خود کو بچانے کیلئے سر ادھر ادھر گمایا۔
وہ خاتون اپنی بیٹی کی تعریفیں کرکے چلی گئیں تو اشنال نے ایک نظر اپنے سوٹ کی طرف دیکھا،اپنا آدھا ناخن جو کاٹنے سے رہ گیا تھا اسے انگلی سے کھینچ کر ہی ہٹیایا اور اپنا سوٹ اٹھا کر روم میں چلی آئی۔
سوٹ کو لاکر میں رکھنے کے بعد وہ اندھے منہ بیڈ پر لیٹ گئی۔
عشیہ اس کے پیچھے روم تک آئی وہ سمجھ چکی تھی کہ اشنال رو رہی ہے۔اس کے روٹھنے کا اسٹائل ہی ایسا تھا۔
“ایشے سوری یار۔”
عشیہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جسے اس نے فوراً جھٹک دیا
“تم کل کوچنگ میں تھی تو آنٹی آئیں تھیں ک ارم کو مایوں پہ جانا ہے،اسے اشنال کا وہ بلیک سوٹ دے دیں جو اس نے عید میں پہنا تھا،ارم رات میں پہن کر کل واپس کردے گی۔قسم لےلو میں نہیں دینا چاہ رہی تھی، امی نے کہا زبردستی دلوایا۔”
وہ کچھ نہیں بولی”، ایسے ہی شوں شوں کرتی رہی۔ عشیہ جانتی تھی کہ جب تک اس کا دل خالی نہیں ہو جاتا ایسے ہی روتی رہے گی اور پھر خود نارمل ہو جائے گی۔
وہ اشنال کی عادتوں سے واقف تھی۔
اشنال اپنی چیزوں کو شیئر نہیں کرتی تھی،ایسےہی کئی چیزوں سے وارڈ روب کا ایک حصہ بھرا پڑا تھا۔
اچھی عادتوں کے ساتھ ہمارے اندر کچھ بری عادتیں بھی ہوتی ہیں وہ کسی کی چیز استعمال نہیں کرتی اور اپنی چیزیں استعمال کرنے نہیں دیتی تھی،اگر کسی کو اس کی کوئی چیز پسند آجاتی تو وہ اس جیسی نئی چیز لا کر گفٹ کر دیتی تھی،مگر اپنی چیز کسی کو نا دیتی۔اور اگر اس کی پرمیشن کے بنا کوئی اس کی چیز استعمال کر لیتا تو وہ پہلے تو خوب روتی پھر اس استعمال شدہ چیز کو لاکر میں رکھ کر لاک کر دیتی۔
وہ اپنی پرانی چیزوں کو پھینکی نہیں تھی،اسے پرانی چیزوں سے محبت تھی….
وہ بچپن سے ہی ایسی تھی۔
وہ چار سال کی تھی،ایک شام سی سائیڈ پر وہ اپنے بابا کی انگلی پکڑ کر چل رہی تھی،اس کی کزن اپنے بابا سے ہاتھ چھڑا کر اشنال کے بابا کی انگلی پکڑ کر چلنے لگی تھی۔
اشنال عبداللہ کو جب پتا لگا کہ اس کے بابا کو کوئی اور بھی شئیر کرنا چاہ رہا ہے تو اس کی چھوٹی سی ناک سکڑ گئی،وہ بابا کے آگے سے ہوتی ہوئے اپنی کزن تک آئی اور اس کے ہاتھ سے اپنے بابا کی انگلی چھڑائی اور سختی سے بولی،
“جے میلے بابا ہیں۔”
اس کی کزن منہ بسورتی ہوئی اپنے بابا کے ساتھ چلنے لگی…
اب وہ اپنے بابا کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں لیفٹ اور رائٹ ہینڈ میں سختی سے تھامے سمندر کی گیلی ریت پر مسکراتے ہوئے الٹے قدموں چلنے لگی تھی۔
وہ اشنال عبداللہ تھی،وہ اپنے شیئر نہیں کرتی تھی۔
ہمیں چیزوں کو شیئر کرنے کی عادت وقت پر ہی ڈال لینی چاہیے ورنہ ایسی عادتیں آگے چل کر بہت سارے نقصان ہمارے حصے میں ڈال دیتی ہیں….!!!
❤️⁩⁦❤️❤️
شام پانچ بجے جب وہ کوچنگ کیلئے نکلی تو راستے میں اسےکچھ کتوں کا سامنا کرنا پڑا۔کچھ مردوں نے کتوں سے صرف ایک عادت اپنائی ہے، کتے انسانوں کو دیکھ کر بونکتے ہیں اور ہماری گلیوں کے مرد ہر لڑکی کو دیکھ کر، اسی لئے وہ ایسے مردوں کو “کتا”کہہ کر بلاتی تھی۔
“ہائے! وہ اس کی آنکھوں میں کاجل کی ڈوریاں۔”
پان کی کیبن پر بیٹھے چار لڑکوں میں سے کسی نے یہ ایک جملہ پھینکا۔
“اس کی کاجل والی آنکھیں، سبحان اللہ۔”
پھر کسی کی گٹکے سے بھری زبان میں کھجلی ہوئی….
ضبط سے اس کی نبض تن گئیں تھیں مگر وہ آج بھی خاموش رہی،اس کا ماننا تھا بھونکنے والے کتوں کو پتھر مارو تو وہ اور بھونکتے ہیں اسلئے وہ پھر خاموشی سے چل دی۔
ابھی وہ کچھ قدم چلی ہو گی کہ مین ہول کے ڈھکن سے پیر الجھا،وہ لڑکھڑائی۔
“دیکھ تو نے نظر لگا دی آنکھوں کو۔”
اب یہ کسی دوسرے کی آواز تھی۔پھر وہ ہنسنے لگے۔
اس وقت اشنال کا دل کیا کہ اس ڈیش کو اس مین ہول کا ڈھکن کھول کر اندر ڈال دے…..
مگر جب اس نے اپنی سوچ کو فرض کیا تو اسے ابکائی آگئی۔
“اییییییحیح”
کوچنگ گیٹ تک وہ اپنی سوچ پر لاحولاولا پڑھتی آئی…
کوئی بھی لڑکی گھر سےباہر چاہے شوقیہ نکلے،چاہے کسی مجبوری میں اسے اس طرح کے مردوں کا سامنا تو کرنا ہی پڑتا ہے،یہ تو لڑکیوں پر ہوتا ہے کہ وہ راہ میں پڑے کانٹوں میں الجھتی ہیں یا خود کو بچا کر نکل جاتی ہیں…..
اشنال عبداللہ کو معلوم تھا اس کی راہ میں کانٹے آنے ہیں اور اس بچ کر چلنا ہے، بلا شبہ وہ ایک مضبوط کردار کی لڑکی تھی،جو راستے کے پتھروں کے باوجود لڑکھڑائی نہیں تھی۔
اس کے پیپر کافی اچھے ہوئے تھے رزلٹ بھی ایٹی پرسنٹ رہا،اس نے یونیورسٹی جوائن کر لی تھی۔ یونیورسٹی وہ ریگولر نہیں جاتی تھی مہینے میں ایک آدھ چکر لگا لیتی تھی۔اسی دوران اسے ایک سکول سے ٹیچنگ کی آفر ہوئی،اس نے بابا سے بات کی تو انھوں نے اجازت دے دی،یوں وہ پڑھنے کے ساتھ پڑھانے بھی لگی…
صبح سکول اور شام میں کچھ بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی،باقی کچھ ٹائم وہ اپنی سٹڈیز کودیتی…
مگر زندگی ہمیشہ سیدھی سادی تھوڑی ہوتی ہے،زندگی طوفانوں کا دوسرا نام ہے،اس کی زندگی کے پہلے طوفان نے دستک دے دی تھی…
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
اگست کے مہینے میں عشیہ کی شادی کا شور اٹھا،اسی سلسلے وہ امی کے ساتھ مارکیٹ آئی تھی،ابھی انھوں نے خریداری شروع ہی کی تھی کہ اچانک شور ہوا کہ فلاں جگہ پر فلاں شخص مارا گیا ہےاور لوگ مشتعل ہوگئے ہیں۔ہبڑدبڑ میں وہ مارکیٹ سے امی کو سنبھالے نکلی۔
ابھی وہ واپسی کیلئے بس اسٹاپ پر اپنی مطلوبہ بس کے انتظار میں تھیں کہ دو موٹر سائیکل سوار آئے اور اس کے ہاتھ سے کلچ چھین کر فرار ہوگئے،یہ سب اتنی جلدی میں ہوا کہ وہ دونوں منہ کھولے ہی رہ گئیں، ناوہ شور مچا سکیں نا ہی ان کے پیچھے جا سکیں۔ آسیہ خاتون کی حالت غیر ہونے لگی،ایک اس شہر کے ہنگامے دوسرا کلچ چوری ہونا جس میں سات ہزار نقد، اور ایک موبائل تھا،ان کا بی پی شوٹ کر گیا۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اس سچویشن کو ہینڈل نہیں کر پا رہی تھی۔
ان کے سامنے ایک بائیک آکر رکی،۔
“اگر آپ یہاں اس انتظار میں کھڑی ہیں کہ وہ چھینا ہوا سامان واپس دے جائیں گے، تو بھول ہے آپکی۔
بسیں بند ہو گئیں ہیں،ان رکشوں میں سے کسی کو پکڑیں اور گھر جائیں،آپ کے شہر کے حالات کا کچھ نہیں پتا ہوتا۔”
بائیک پر بیٹھا لڑکا انہیں وقت کی نزاکت کا احساس دلا رہا تھا۔
“مگر رکشہ تو کیا میرے پاس بس کا کرایہ بھی نہیں ہے،سارے پیسے کلچ میں تھے۔”
گھبراہٹ سے اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
لڑکے نے ایک رکشے کو روکا اور اشنال کی طرف مڑا۔
“کہاں جانا ہے آپ نے؟”
کچھ دیر کے لیے اسے اپنے ایریا کا نام ہی بھول گیا۔
“میم میں پوچھ رہا ہوں آپ نے کہا جانا ہے؟”
لڑکے نے دوسری بار پوچھا۔
نننن ناظم آباد۔ وہ حواس میں لوٹی۔
اس نے رکشے والے سے بات کی۔شاید اس نے کچھ زیادہ پیسے مانگ لئے تھے جس پر وہ لڑکا غصے میں والٹ سے پیسے نکالتا بولا۔
“ایک تو آپ کے شہر کے لوگ بڑے عجیب ہیں۔انسانیت تو رہی ہی نہیں یہاں۔اس سچویشن میں بھی اپنا فائدہ اٹھانا نہیں بھولتے۔”
رکشے والے نے دل پر لے لیا تھا۔
“بابو اس ایریے تک جانے کیلئے جان ہتھیلی رکھنی پڑے گی، جان کے آگے ڈھائی سو بھی کم ہیں۔شکر کرو میں لے کر جا رہا ہوں۔”
“رکشہ ڈرائیور جتاتے ہوئے بولا۔
واقعی سڑک خالی تھی اور کسی دوسری گاڑی کے انتظار کا مطلب تھا اپنی جان گنوانا۔
اچھا اچھا بس یہ لو اور انہیں پہنچا دینا ادھر۔”
“جائیں میم جلدی سے۔”
وہ امی کو بٹھا کر خود بھی رکشے میں بیٹھنے لگی تھی کہ اسے لڑکے کی آواز سنائی دی۔
ایک منٹ میم،میرے ڈھائی سو کون واپس کرے گا؟”
وہ ایک لمحے کیلئے بھونچکی پھر اسے خیال آیا یہ لڑکا اسکا ماموں زاد تھوڑی تھا جو اس پر احسان کر رہا تھا۔
پریشانی میں اس کے اوسان ہی خطا ہوگئے تھے لیکن وہ ہوش میں آئی اور بولی۔
“میں واپس تو ضرور کرونگی پیسے لیکن….”
لیکن یہ نمبر رکھیں،جب قرض لوٹانے کا خیال آیا تو اس نمبر پر رابطہ کیجیے گا۔”
لڑکے نے نمبر اس کی طرف بڑھایا جسے اس نے تھام لیا۔
وہ رکشے میں بیٹھ گئی تو لڑکا بولا۔
“سنیے میم قرض جیتنی جلدی ہوسکے اتار دینے چاہیے زندگی کا کیا بھروسہ۔”
وہ دلکشی سے مسکرایا اور اپنی بائیک پر بیٹھا سٹی پر کوئی دھن بجاتا غائب ہو گیا…
اور وہ اسے اگنو کرتی امی کو سنبھالے و بخیروعافیت گھر پہنچنے کی دعائیں کرنے لگی…
تم نمبر تو دے رہے ہو مجھے,
فون تعلق خراب کرتا ہے۔
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
ایک ہفتے تک تو وہ اس بات کو بھولی رہی مگر ایک دن ڈائجسٹ پڑھتے اس کی نظر اسلامی صفحے پر رک گئی،جہاں لکھا تھا۔
“آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 💕 ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھانے سے منع فرمادیتے تھے جس پر قرض ہو جہاں تک ک اس کے قرض کو ادا کردیا جائے۔”
یہ لائن پڑھتے ہی اسے وہ لڑکا اور اس کا قرض یاد آیا…
آج بے چین کرنے لگی کہ اگر وہ قرض ادا کئے بنا ہی مر گئی تو کیا ہو گا،جبکہ اس لڑکے نے تو اپنا قرض معاف بھی نہیں کیا تھا۔قرض کی رقم تھوڑی سی ہی کیوں نا ہو تب تک معاف نہیں ہوتی جب تک دینے والا بخش نادے۔
تین راتیں اسے سوچ سوچ نیند نا آتی کہ اس نمبر پر ٹیکسٹ کرے یا پھر رہنے دے،کبھی وہ دل کو یہ سوچ کر تسلی دیتی کہ خیرہے ڈھائی سو ہی ہیں کونسے لاکھ روپے ہیں۔ جو واپس ناکرے تو طوفان آجانا،پھر خیال آتا ایک روپیہ بھی اسے پکڑ میں لا سکتا ہے۔
وہ لڑکے سے رابطہ کرنے سے گھبرا رہی تھی،بہت سوچ بچار کے بعد وہ آر یا پار والی سچویشن پر پہنچی۔
اشنال نے اسے پیسے لوٹانے کا سوچا اور ڈرتے ڈرتے اس نمبر پر ایک ٹیکسٹ چھوڑا۔
“آپ کا قرض کس طرح لوٹانا ہے؟”
پہلا ٹیکسٹ کرتے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور دل ایف سولہ طیارے کی طرح اڑان پر تھا۔ کوئی دس منٹ بعد رپلائے آیا۔
“جس طرح لیا تھا اسی طرح میم۔”
اسے اس بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا تو رپلائے بھی نہیں بھیجا۔
لڑکے کا ایک میسج آیا۔
“جگہ آپ منتخب کریں، میں وہاں آکر اپنے پیسے لے جاتا ہوں۔”
اشنال کا تو دل ہی باہر آگیا۔
نہیں نہیں میں کہیں نہیں آسکتی، آپ کوئی اور طریقہ بتائیں۔”
“ٹھیک ہے ایڈر لکھوائیں،میں پھر آپ کے گھر آ جاتا ہوں۔”
اشنال نے اچھل کر یوں دروازے کو دیکھا جیسے وہ آہی گیا ہو۔
“کوئی آسان حل بتائیں۔” وہ منمنائی۔
“میرے پاس یہی طریقے ہیں،اور ہاں مجھے اپنے پیسے جلدی چاہیے۔سمجھی آپ؟”
میسج کے اینڈ پر غصہ وال ایمو جی لڑکے کے جارحانہ پن کا ثبوت دے رہا تھا۔
اشنال تو رونے کو ہو بیٹھی،اس کا دل چاہ رہا تھا کوئی بھاری سا وٹا(پتھر)اس کے سر پر مارے۔ وہ سوچنے لگی کہاں ہوتے ہیں؟ وہ عظیم لوگ جو نیکی کرکے دریا میں ڈال دیتے ہیں۔اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ بڑا ہی کوئی کنجوس لڑکا ہے،دو سو روپے کیلئے مرا جا رہا ہے۔
دو دن مزید ان دونوں کا کوئی رابطہ نہیں ہوا…
دو دن مید بے چینی میں گزرے….
سوچ سوچ کر اسکا دماغ پھٹا جا رہا تھا۔
اخر اشنال نے ایک حل نکالا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: