Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 3

0
پاگل آنکھوں والی لڑکی از اشنال سید – قسط نمبر 3

–**–**–

سوچ سوچ کر اسکا دماغ پھٹا جا رہا تھا۔
آخر اشنال نے ایک حل نکالا۔
شکرانے کے نفل پڑھے کہ جان چھوٹی۔
رات کے تقریباً نو بجے اشنال کو میسج موصول ہوا۔
“کافی جینیئس ہیں آپ،اپنی آنکھوں کی طرح۔
لیکن اس ڈھائی سو کے بیلنس کا اب میں کیا کروں؟
میرا تو منتھلی پیکج ہر وقت رہتا ہے، آپ کے ڈھائی سو تو میرے کسی کام کے نہیں۔
جبکہ میرے ڈھائی سو آپ کے ڈھائی سو آپ کے کتنے کام آئے تھے،اور بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ آپ نے ابھی تک مجھے تھینک یو بھی نہیں بولا۔”
اوپر تلے تین چار میسیجز نے اشنال کو بوکھلا دیا….
مگر پھر اسے لگا شاید وہ ٹھیک کہہ رہا ہے،لڑکیوں کا دل
عموماً جلد موم ہو جاتا ہے،مگر ایسا اشنال کے ساتھ پہلی بار ہوا تھا کہ وہ کسی مرد کے معاملے میں موم پڑی تھی، ورنہ سہ مردوں کو رعایت نہیں دیتی تھی۔
اس نے جواباً ٹیکسٹ کیا۔
“آپ کی مدد کا شکریہ۔”
ایسا بھونڈا سا شکریہ اپنے پاس رکھیں۔”
اب وہ لڑکا اشنال کی ڈھیل سے فری ہو رہا تھا،وہ سب سمجھ رہی تھی، اسلئے اس بار خاموش رہی۔
اگلا میسج آیا۔
اب جب تک یہ ڈھائی سو ختم نہیں ہوتے، مجھ سے بات کرتی رہیں،یہ سزا ہے اپکی۔”
اس دھونس پر اشنال کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“میم میں آپ سے بات کر رہا ہوں۔”
ناچاہتے ہوئے بھی وہ اسے رپلائے کرنے لگی۔
“آپ کو آپ کے پیسے مل گئے ہیں، اس لئے اب مجھے مزید میسج مت کریں۔”
اشنال غصہ میں لال ہوئی،کہاں پھنس گئی تھی وہ۔
“اب پھاڑ کھانے والی آنکھوں سے کیوں دیکھ رہی ہیں؟
کیا آپ نے میرے نمبر پر ٹیکسٹ نہیں کیا تھا؟
کیا جھوٹ بول رہا ہوں؟ “وہ استفار کر رہا تھا۔”
پہلے تو اُسے ہنسی آئی کہ کہہ تو ٹھیک رہا تھا، پھر میسج ٹائپ کیا۔
آپ نے مجھے قرض معاف نہیں کیا تھا،اور میں کسی کا ایک روپیہ بھی کھا کر اپنی قبر بھاری نہیں کرنا چاہتی۔”
آپ کی بات میں وزن ہے،لیکن اس طرح تو الٹا میرا نقصان ہوگیا،اب دیکھیں نا ڈھائی سو اگر آپ میری ہتھیلی پر رکھتی تو میں ان سے کوئی کام کی چیز لے سکتا تھا، میں تو نیکی کرکے گھاٹے میں رہا۔”
اس نے آنسو کی لائنوں والا ایموجی سینڈ کیا۔
اشنال کو پھر ہنسی آئی۔
“اب ہنسیں نہیں ڈھائی سو ختم ہونے تک ٹیکسٹ کرتی رہیں”
اس نے پلکوں کو اوپر کی جانب جنبش دے کر لڑکے کے سینس آف ہیومر کی داد دی….
“نام پوچھ سکتا ہوں آپکا؟”
وہ خاموش رہی۔
اب دیکھیں ناں، جنت میں جا کر اپکی شکایت کس نام سے لگاؤں گا؟ کہ فلانی لڑکی نے میرے احسان کے بدلے میرا نقصان کیا تھا۔”
وہ پھر مسکرائی۔
“اشنال عبداللہ۔”
“ہائے،یہ کیسا نام ہوا،اشنال۔
کچھ عجیب سا نہیں؟
ویسے جیتنی عجیب آپ ہیں، آپ کا نام بھی ایسا ہی عجیب ہونا چاہیے تھا….
میرا نام تو پوچھا ہی نہیں آپ نے،چلیں میں خود بتا دیتا ہوں۔
مجھے زی کہتے ہیں۔”
بلاشبہ وہ خاصا باتونی تھا۔ایک رپلائے کے بدلے تین چار میسیجز کرنے والا….
یہ پہلی بار ہوا تھا کہ اشنال عبداللہ کسی مرد کی باتوں میں آئی تھی….
اس نے اپنے دائرے سے ایک قدم نکال لیا تھا….
وہ لڑکا فہد جو اشنال کے راستے میں محبت کا کشکول لیے کھڑا ہوتا تھا اس شہر سے جاتے سمے اپنے گھر کی باہر والی دیوار پر لکھ گیا تھا۔
“محبت بہت قیمتی تھی
اور میں غریب تھا۔
کوئی آج اسے بتاتا کہ اشنال عبداللہ کتنی سستی تھی، کتنی جلدی بک گئی تھی وہ، مہینوں میں نہیں،ہفتوں میں نہیں،چند لمحوں میں چند لفظوں میں بک گئی تھی وہ…..
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
ایک لمحہ لگتا ہے گناہوں کی دلدل میں قدم رکھنے میں،
اسی ایک لمحے میں ہماری برسوں کی نیک نامی راہیگا چلی جاتی ہے۔
انہیں بات کرتے ہوئے آج تیسرا دن تھا اور دونوں میں ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے کافی بے تکلفی ہو چکی تھی۔
اجنبیت کی دیوار کو گرانے میں زی کافی ماہر تھا،
جبکہ اشنال کی زندگی میں زئی وہ پہلا مرد تھا جس کیلئے اس نے اجنبیت کی دیوار کو توڑ تھا۔
وہ باتوں سے منتر پڑھتا تھا…
جادوگر تو تھا ہی مگر بلاشبہ وہ خوبصورت بھی بلا کا تھا۔
وہ اپنی پکچر اسے میل کر چکا تھا،اپنی ہیزل آئیز کے ساتھ وہ سیدھا دل میں اترتا تھا۔
گوری کھلی ہوئی نکھری رنگت جیسے بارش کے بعد دھوپ نکلے، اسکی مسکراہٹ اکیلی تھی جیسے پھولوں کی آدھ کھلی کلی بڑھتے بڑھتے پورا پھول بن جائے۔
اس کے چہرے پر داڑھی بہت سجتی تھی، اسے دیکھ کر زندگی محسوس ہوتی تھی۔
زئی کی صبح دن بارہ بجے ہوتی تھی، بارہ بجے اشنال کو گڈ مارننگ کا میسج ملتا،تو مسکرا دیتی….
یہ احساس ہی منفرد،بہت الگ سا تھا کہ کسی کیلئے وہ اتنی خاص ہے کہ وہ صبح اٹھتے ہی اسے یاد کرے۔
آج زئی نے ٹیکسٹ میسجز پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک عجیب فرمائش کر دی۔
“کال کروں؟”
اچانک اس فرمائش پر وہ انکار کر بیٹھی۔
” نہیں کال نہیں کر سکتی۔”
“ایشے میں تمہاری آواز سننا چاہتا ہوں، بس کچھ منٹ پلیز۔”وہ ریکوئسٹ کر رہا تھا۔
“لیکن زئی امی اور عشیہ ہیں گھر پہ۔”
” میں کال کرتا ہوں تم خاموش رہنا اور انباکس میں رپلائے کرتی رہنا۔”
زئی نے نہایت آسان حل پیش کیا۔
اور اشنال عبداللہ مان گئی۔
یوں ان کی پہلی کال اسطرح ہوئی تھی کہ زئی پولتا رہا اور وہ خاموشی سے سنتی ٹیکسٹ پر رپلائے کرتی رہی۔
بڑا زبردست ایکسپیرئنس ہے قسمے گونگی لڑکی سے بات کرنا۔
“وہ ہنسا تھا۔
اور اشنال کو لگا صحرا میں بارش ہو جیسے…
لڑکیوں کو ایسی غلطیاں مہنگی پڑتی ہیں،اور ایسی غلطیوں کی سزائیں بہت لمبی ہوتی ہیں۔
اگلے دن زئی نے اسے پھر کال پر اصرار کیا۔
“ایشے میں نے تمہاری آواز سنی ہے،مان جاؤ ناں یار۔”
اور اشنال عبداللہ زئی کی بے چینیوں کے اگے ہار گئی۔
اشنال نے اسے کہا ابھی نہیں کچھ دیر بعد،
زئی نے کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے،میں تین بجے کے قریب کال کرونگا۔”
اس سے بات کرنے کا سوچ کر اشنال سے کھانا ہی نہیں کھایا گیا،
دو بجے وہ نماز کیلئے اٹھی دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے تو ڈرتے ڈرتے بولی۔
“یا اللہ اگر یہ میرے لئے ٹھیک نہیں ہے تو مجھے روک دیں کسی طرح پلیز۔”
یہ دعا مانگ کر وہ اٹھ گئی۔
پتا ہے جب ہم کوئی گناہ کرنے کی ٹھان لیتے ہیں نا تو پھر خدا سے نظریں چرانے لگتے ہیں۔
اس کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔
وہ اشنال عبداللہ تھی، اسے معلوم تھا کہ کونسا راستہ صحیح تھا، اور کونسا غلط،پر اس نے آنکھیں اور کان بند کر لئے تھے، کیونکہ وہ خود غلط راستے پر چلنا چاہ رہی تھی۔
شاید اسے خوش فہمی تھی کہ اشنال عبداللہ کیلئے غلط راستے بھی سہل ہو جائیں گے۔
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
ٹھیک تین بجے کے سیل پر زئی کا نمبر چل رہا تھا،
وہ کمرے سے نکل کر چھت پر چلی گئی۔
اور گناہوں کی دلدل میں آہستہ آہستہ ہمارے قدم پڑتے ہیں…
کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے کال ریسیو کی۔
“اسلام علیکم۔”
زئی کی خوبصورت آواز نے منتر پھونکا۔
“ہائے.”
سس دلنشیں ہائے پر ہاتھ کے ساتھ اسکا دل بھی کانپا۔
“کوئل سی تیری بولی، اتنی معصوم آواز۔”
اس تعریف پر اشنال کے گال بلش کر اٹھے، اس نے ہونٹوں کو دانتوں تلے کترا۔
“ایشے کچھ بولو۔”
“جی۔”
اس نے حتیٰ الامکان خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کی۔
اسے اپنی تیز ہارٹ بیٹ سنائی دینے لگی….
“سنو میں فون پر کھا نہیں جاؤں گا، جی سے آگے بھی بولو۔”
“اچھا۔”
اور پھر چند باتوں کے بعد پندرہ منٹ کی پہلی کال کا اختتام ہوا…
اور جب سماعت کو کسی آواز کا چسکا پڑ جائے تو اسے سننے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں…
کالز کا سلسلہ پڑھتا گیا…
اجنبیت کی دیواریں گر گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اجنبیت کی دیواریں گر گئیں…
گناہوں کے کاغذ سیاہ ہوتے رہے….
آج فرائیڈے تھا،یعنی کہ ہاف ڈے۔ تقریباً گیارہ بجے کے قریب، اسکول کی چھٹی ہوئی تو بچوں کو نکالنے کے بعد وہ اور فروا بھی گھر کیلئے نکلیں۔ اپنی گلی سے کچھ فاصلے پر پہنچنے پر اشنال کی نظر یوں ہی سامنے اٹھی،ایک لمحے کو پلکیں بند ہوئیں،بند ہو کر پھر کھلیں اور ٹھہر گئیں….
“زئی!” اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
فروا نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا….
بلاشبہ وہ زئی ہی تھا،سفید کرتے پر کالی واسکٹ پہنے، کلائی پر سلور ڈائل کی براؤن اسٹریپ گھڑی پہنے، بالوں میں ہاتھ پھیرتا۔
وہ زئی ہی تھا…
اسے دیکھ کر دلکشی سے مسکرایا،اور آئی ونک کرتا گلی کا موڑ مڑ گیا…
اشنال بھی دھک دھک کرتے دل کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوگئی….
رات زئی نے فون پر اسے بتایا کہ وہ اسی گلی میں رہتا ہے،اسکا اپنا گھر تو کوئٹہ میں ہے پر یہاں کام کے سلسلے میں آتا جاتا رہتا ہے،یہاں وہ ماموں کے پاس ہوتا ہے….!
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
دسمبر کے مہینے میں کراچی بھی ٹھنڈی ہواؤں کی لپیٹ میں آہی جاتا ہے،وہ فریش ہو کر نکلی تو ٹھنڈی ہوا اسکی ناک سے ٹکرائی اور چھینکوں کا سلسلہ شروع ہوگیا،رنگ کرتے فون کو اٹھا کر وہ چھت پر آگئی….
“تمہاری آواز کانپ کیوں رہی ہے؟” زئی نے پوچھا۔
“آج سردی بہت ہے ناں۔”
میں آجاؤں؟”
اس کی دھیمی سرگوشی پر اشنال لرز اٹھی۔
“جی؟” اس کے منہ فقط اتنا ہی نکلا۔
“میں آجاؤں تمہارے پاس؟”
“وہ کیوں؟”
“تمہاری سردی ختم ہو جائے گی۔”
زئی کے لفظوں نے اشنال کے لفظوں کا گلا گھونٹ دیا تھا، ایک دل تھا مگر جو فل اسپیڈ میں دوڑ رہا تھا۔
پھر وہ ہنسا۔
“زئی”……….وہ چیخی، وہ سمجھ رہی تھی زئی اسے یو نہی تنگ کر رہا ہے۔
وہ پھر ہنسا….اس کی ہنسی ایسی تھی جیسے کسی نے اس کے آس پاس گلابوں کا رس نچوڑا ہو….
“ایشے….”
وہ اسے ایشے بلاتا تو اسے لگتا ایشے نام کے حروف میں کسی نے افشاں بھر دی ہو…
وہ اپنی باتوں سے آہستہ آہستہ اشنال کے گرد محبت کا ہالہ بنانے لگا….
وہ آہستہ آہستہ اسے اس کے دائرے سے نکالنے لگا تھا….
مگر کوئی کسی کو اس کے دائرے سے نہیں نکال سکتا، جب تک ہمارے اپنے قدم دائرے سے باہر سرکنے کی کوشش نا رکھیں۔
محبت زور زبردستی کی قائل نہیں ہوتی،یہ اگر ہونا چاہے تو خود بخود ہو جاتی ہے،نا ہونا چاہے تو کسی کے لاکھ چاہنے پر بھی نہیں ہوتی۔
اور اشنال کو زئی سے محبت ہوگئی تھی، وہ اس کی باتوں میں آگئی تھی….
محبت کے ساز نے اس کے کان کی لو کو چھوا تھا، اس کے دکانوں نے محبت کا ڈروپ نگل لیا تھا…
میں اسے سنتے ہوئے جیتی ہوں خبر تھی اسکو
اپنی آواز کی تاریں، شہر سے گرادیں اس نے….
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
وہ کوئٹہ جانے سے پہلے بتا کر گیا تھا،مگر وہاں جا کر اس نے اشنال سے کوئی رابطہ نہیں رکھا….
اس نے زئی کے نمبر پر دو تین ٹیکسٹ چھوڑے جن کا بھی کوئی جواب نا آیا….
کوئی جواب نا آیا….
وہ بنجارہ سبھی سبھی پیج و خم سے واقف تھا….
تڑپانے کا ہنر بھی اسے خوب آتا تھا….
وہ لفظوں سے کھیل چکا تھا اب وہ خاموشی سے کھیل رہا تھا….
وہ شاید اقرار کیلئے سیدھے لفظوں کا قائل نہیں تھا یا پھر سہ شاید چاہتا تھا کہ اقرار کا جرم بھی اشنال کے سر آئے….
اور جب ہم ایک غلطی کر لیتے ہیں پھر باقی کی غلطیاں خود بخود ہونے لگتی ہیں…
اشنال نے اپنی زندگی کی ایک اور بھیانک غلطی کر دی تھی…
وہ پورے پیروں سمیت دائرے کی حدود کو کراس کر چکی تھی….
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
اچھی لڑکیاں نامحرم سے محبت کرلیں تو وہ پھر لڑکیاں تو رہ جاتی ہیں مگر اچھی نہیں….
بری لڑکیوں کو اچھا بننے میں سالوں لگ جاتے ہیں مگر اچھی لڑکی کو بری کہلانے میں محض چند لمحے درکار ہوتے ہیں….
محبت نے ایک اچھی لڑکی کو ایک بری لڑکی میں بدل دیا تھا اور جانے محبت میں وہ کس حد بری بننے جا رہی تھی۔
محبت میں سب سے پہلے ہماری انا کا جنازہ نکلتا ہے….
اشنال نے محبت کے اقرار میں پہل کر دی تھی…
اس نے سوچا نہیں تھا مگر اس سے ہو گیا تھا، اور محبت بےبس کر دیتی ہے….
ایک ہفتے کے بعد زئی نے رابطہ بحال کیا….
“مجھے مس کیا تھا؟”
زئی کا اپنا پن اسے لے ڈوبا، لفظوں کی جگہ آنکھوں سے آنسوں نکل آئے….
“ہاں کیا تھا۔”
پوچھا گیا تھا،کتنا؟
وہ محبت کا بوجھ اکیلے نہیں سنبھال سکتی تھی سو خود کو کہہ جانے دیا،
“بہت سارا۔”
وہ اس کی آواز میں نمی محسوس کر چکا تھا۔
“ایشے۔”
محبت کا مدھم ساز جسے مرہم کہتے ہیں،جب سر بکھیرتا ہے تو دل کے سارے پرزے رقص کرنے لگتے ہیں…
محبت سیدھی سادی نہیں ہوتی، اسکے بہت سارے ساز ہوتے ہیں۔
پتا ہے ہمیں جب محبت ہونے لگتی ہے تو یہ دل کے اندر پہلا زخم چھوڑتی ہے، اس زخم پر جب محبت کی ضربیں لگتیں ہیں تو ساز مرہم اپنا کام دکھاتا ہے….
“ایشووووو”
مرہم دل کے اندر لگے محبت کے تازہ زخم کو چھوا….
جو کہنا چاہتی ہو کہہ دو۔” مرہم نے اب محبت کے تازہ زخم کو چھوا….
جو کہنا چاہتی ہو کہہ دو۔” مرہم نے اب محبت کے زخم کو چاٹ لیا تھا…
زئی اس طرح مت کیا کرو میرے ساتھ۔”
وہ مسکرایا، کہ اقرار کا وقت ہوا چاہتا تھا….
“جب کوئی شخص کسی کے دل میں وہ جذبات محسوس کر لیتا ہے جو وہ چاہتا ہے، تو وہ ایسے لفظوں کے تیر استعمال کرتا ہے،جس سے اس کی محبت میں مبتلا لڑکی پوری طرح پگھل جاتی ہے۔
اور اچھی لڑکیاں اپ ی حدود سے باہر نکل جاتی ہے…
اشنال بھی اپنی حدود کو بھول کر آگے نکل چکی تھی…
سوری نااااااا…”
پہلے وہ ہکلائی مگر پھر کہہ گئی،جو شاید اسے نہیں کہنا چاہیئے تھا۔
عورت کو اظہار میں پہل نہیں کرنی چاہئیے۔
“آ……..آئی،۔……,،، آئی لو یو زئی۔”
وہ پہلی لڑکی تھی شاید جو محبت کا اقرار کرکے روئی تھی…. پھوٹ پھوٹ کے روئی تھی….
بنجارے کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی…..
“آئی لو یو ٹو ایشے۔”
محبت کے ساز اکٹو پس نے اسے جکر لیا….
اور وہ بنجارہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی فاتح ٹھہرا….
اس کے قافلے سے گزرنے والی کوئی لڑکی بنجارے پہ دل نا ہارے، ممکن ہی نہیں تھا…..
“نیکسٹ ایسا مت کرنا۔”
“آئی پرامس میری جان آئندہ سے خیال رکھوں گا۔”
اسکا میری جان کہنا اشنال کی سانسیں روک گیا….
“پتا ہے میں سوچ رہا ہوں، روتے ہوئے تم کیسی لگتی ہوگی، سچی سچی بتانا، ناک سے نوزی نکلتی ہے ایشے؟؟”
ایحححححح زئی…”
اسے ابکائی آئی،وہ ہنسنے لگا…
وہ اس کے آنسو چننے لگا تھا، مگر یہ تو طے ہے، جو ہاتھ آنسو چنتے ہیں وہی ہاتھ پھر آپ کی آنکھوں میں آنسوں لانے کا سبب بھی بنتے ہیں…
اس نے دل زئی کو دے دیا تھا،اور جب کسی دل میں کوئی غیر آنے لگے رو خدا اس دل سے نکل جاتا ہے اور جس دل سے خدا نکل جاتا ہے وہاں بے سکونی کے ڈیرے اپنا آستانہ بنا لیتے ہیں….!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: