Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 4

0
پاگل آنکھوں والی لڑکی از اشنال سید – قسط نمبر 4

–**–**–

عشیہ کی شادی دسمبر میں طے پائی تھی،7دسمبر کو عشیہ کی بارات کے ساتھ وہ ایبٹ آباد آئی تھی۔
ان دنوں زئی کو کوئٹہ گیا ہوا تھا،وہ کوئٹہ میں جا کر رابطے مختصر کر لیتا تھا، اس کے پاس مجبوری نام کی ایک لمبی لسٹ ہوتی تھی….
ولیمے کے بعد انہیں واپس کراچی جانا تھا،تو ایبٹ آباد گھومنے کی غرض سے وہ اپنی کزنز کے ساتھ شام پانچ بجے کے قریب گھر سے نکلی….
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️❤️
مری سے واپسی پر وہ چاروں دوست کچھ دیر ایبٹ آباد کے مقام پر ٹھہرے ان میں سے تین سیلفیز لینے کیلئے ادھر ادھر ہوگئے،جبکہ وہ جیپ کے لیفٹ ڈور سے پشت لگا کر کھڑا ہو گیا، آنکھیں بند کئے خوشگوار ہوا میں سانس لینے لگا…
تھوڑی دیر میں اسے قریب سے کسی کے قدموں کا گمان گزرا۔
آنکھیں کھول کر اس نے سڑک کی سیدھ میں دیکھا…
ان میں سے چار سیدھا چلتی ہوئی آرہی تھیں جبکہ میرون شال والی لڑکی الٹے قدموں پیچھے کی طرف چل رہی تھی۔
وہ اس کی طرف پیٹھ دئیے چل رہی تھی،ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا کہ کیسے بنا لڑکھڑائے کوئی پیچھے چل سکتا ہے کہ اسے مدھم سی آواز سنائی دی۔ وہ کہہ رہی تھی…
“یار ایبٹ آباد تو زندگی ہے۔”
پھر اس لڑکی نے اپنے دونوں بازو پھیلائے اور گول گول گھومنے لگی۔ وہ جب اس کی طرف پلٹتی تو اسکے نقاب والے چہرے پر وہ اس کی بند آنکھیں دیکھتا،وہ اس عجیب سی لڑکی کی عجیب سی حرکت پر مسکرایا۔ گلاسز اتار کر وہ دلچسپی سے اسے دیکھتے گیا۔
وہ بولی تو اسکی آواز میں دنیا جہان کی محبت آسمٹی تھی۔
“میں صدقے، میں واری، میں قربان تم ایبٹ آبادیوں کے، اتنی صاف ستھری ہوا ہے،دل چاہتا ہے ایک لمبا سانس کھینچ کر ساری ہوا اپنے اندر بھر جاؤں….”
گول گول گھومتی وہ لڑکیوں کی طرف پلٹی، شاید اب وہ آنکھیں کھول چکی تھی۔
وہ کھلکھلائی……… اس کی ہنسی ایسی تھی جیسے بارش کی بوندیں تلاب کے پانی سے ٹکرائیں…..
“ایشے میں دعا کروں گی تمہاری شادی کسی ایبٹ آبادی سے ہو جائے۔”
کسی لڑکی نے شرارت سے اسے چھڑا جس پر اس کی ہنسی یک لخت تھم گئی….
وہ بولی تو اسکے لہجے میں خفگی در آئی،شاید اس نے گھوری بھی پائی تھی……
اللہ نا کرے۔
ہاں لیکن میں اس کے ساتھ ایبٹ آباد ضرور آؤنگی۔”
اب سہ شاید مسکرائی تھی۔
اور باقی لڑکیوں نے ایک ساتھ ” اویییییییے” کی، سٹی بجائی، پھر وہ ہنسنے لگیں تھیں……
سید سکندر شاہ نے وہاں سے جاتے ہوئے دعا کی تھی کہ اس لڑکی کے خواب سلامت رہیں!!
مگر……..۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوابوں کے تاوان میں اکثر
آنکھیں بیچنا پڑتی ہیں……
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
ایبٹ آباد سے واپس آئے انہیں تین دن ہوچکے تھے، اسے زئی کا کچھ پتا نہیں تھا۔
ایبٹ آباد میں کئے جانے والے دو تین میسجز کے بعد اب تک اشنال نے بھی کوئی ٹیکسٹ نہیں کیا تھا….
وہ چاہتی تھی کہ زئی اس سے خود رابطہ کرے،وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ زئی کتنے دن اس سے بنا بات کئے رہ سکتا ہے…..
“کچھ پتا ہے زئی کے بارے میں اجکل کہاں ہوتا ہے؟”
فروا اشنال سے ملنے اس کے گھر آئی ہوئی تھی، اور اس وقت دونوں چھت پر رکھے جھولے پر بیٹھی تھیں۔
“ہممممممم ہاں وہ فلحال تو کوئٹہ میں ہی ہے۔”
اشنال نے چائے کا کپ فروا کے آگے رکھا، اور خود آسمان میں اڑتے سفید کبوتروں کو دیکھنے لگی….
“اچھا! مطلب اس نے تمہیں اپنے آنے کی خبر نہیں دی۔”
“مطلب؟” اس نے چونک کر فری کو دیکھا۔
“زئی تقریباً ایک ہفتے سے کراچی میں ہے،بات نہیں ہوتی تم لوگوں کی؟”
وہ خاموش رہی…..
کیا تم دونوں کا بریک اپ ہو چکا ہے؟”
اللہ نا کرے…… اشنال کو اس کی بات بری لگی۔
“شاید اس کی دلچسپی ختم ہو گئی ہے۔” فروا نے چائے کا سپ لیا….
“کیا کہنا چاہ رہی ہو تم؟”
“تمہیں معلوم ہے کل شام میں میری کزن فائزہ، آسیہ لوگوں کا گروپ سیر سپاٹے کیلئے کلفٹن گیا تھا، انہوں نے ساتھ مجھے بھی گسیٹ لیا،مجھے نہیں معلوم تھا ان لوگوں نے وہاں اپنے اپنے بندے کو بھی بلایا ہوا تھا۔ وہاں تمہارا زئی بھی آیا تھا، جانتی ہو وہ وہاں کس کے لئے آیا تھا؟
فائزہ سلیم کیلئے۔”
اشنال کو لگا چھت اس کے سر پر آ لگی ہو۔
وہ دونوں وہیں سے ہمارے گروپ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔
فائزہ کزن ہے میری، اس کا تو مجھے پتا ہے یہ اس کا کوئی نواں دسواں بوائے فرینڈ ہوگا۔
مگر زئی، میں زئی کو ایسا نہیں سمجھتی تھی۔”
جگنو یکدم بجھ گئے…..
وہ اشنال کی آنکھوں میں آنسوؤں کے ننھے ستارے دیکھ کر چل بھر کو رکی پھر بولی۔
“مگر کہتے ہیں نا مہندی کے رنگ اور مردکی محبت کا کیا اعتبار۔”
“فروا کی مسکراہٹ میں تلخی تھی۔
اشنال کی لائف میں فروا ہی وہ واحد لڑکی تھی جس پر وہ اندھا اعتبار کرتی تھی اور فروا اشنال سے غلط بیانی کرے ہو ہی نہیں سکتا۔
“زئی ایسا نہیں کر سکتا، فری تمہیں غلط فہمی…..”
“ایشے ہو سکتا ہے زئی ایسا نا ہو، مگر وہ واقعی زئی ہی تھا..”
“زئی میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا۔” اس کے اندر کا یقین مسکرایا….
جگنو پھر روشن ہوئے…
“اور محبت بینائی رکھنے والے کو اندھا کردیتی ہے۔ انسان سب جان کر بھی انجان بن جاتاہے،وہ خود کو اس دھوکے کے آگے بچھا دیتا ہے،اور سب جانتے ہوئے بھی آنکھیں بند کر لیتا ہے،دماغ اگر کچھ غلط ہونے کی نشاندہی کرے بھی تو دل اس کو غلط قرار دیتا ہے۔”
اسے یقین تھا کہ اس کا زئی جھوٹ بول ہی نہیں سکتا تھا، مگر اندر ہی اندر یقین کی چڑیا بے یقینی کے سانپ سے خوفزدہ ہوگئی تھی۔
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦⁦❤️
رات نو بجے اشنال نے اسے ٹیکسٹ کیا۔
“فائزہ سلیم سے ڈیٹ کیسی رہی زئی؟”
“سوری، کون فائزہ سلیم؟”
بنجاروں کو منکر ہونے میں وقت کتنا لگتا ہے۔
جس طرح کسی کی باتوں سے کہا اندازہ ہوسکتا ہے کہ کس کے لفظ کتنے سچے ہیں…
“وہی فائزہ سلیم جس کے ساتھ تم کلفٹن کی سیریں کر کے آئے ہو۔”
“میں اور ڈیٹ کیسی باتیں کرتی ہو؟”
“فری مجھ سے جھوٹ نہیں بولتی زئی۔”
“اوہ، تو تمہاری فروا نے کان بھرے ہیں تمہارے۔
بہت معصوم ہوتم اشنال،اسکی انگلی پکڑ کر مت چلو،اپنا بھی دماغ استعمال کر لیا کرو۔”
“فری جھوٹ نہیں بولتی زئی۔” اس نے پھر زور دیا…..
اچھا تو تمہیں لگ رہا ہے میں جھوٹ بول رہا ہوں؟”
” میں ایسا نہیں کہہ رہی، میں سچ جاننا چاہ رہی ہوں۔”
” تم مجھے بتاؤ، میں تمہیں جھوٹا لگتا ہوں؟”
زئی میں نے سچ پوچھا ہے۔”
“ہاں یا نہیں…؟”
وہ غصے میں تھا،وہ زئی کے غصے سے ڈرتی تھی۔
“نہیں۔”
وہ جانتی تھی اس کی ہاں اسے زئی سے دور لے جائے گی، وہ زئی کو کھونا نہیں چاہتی تھی اسلئے فروا پر یقین رکھتے ہوئے بھی زئی کو جیت جانے دیا….
“اب کیا سوچنے لگی؟”
” میں سوچ رہی تھی،شکر ہے تمہارے ماموں کی بیٹیاں نہیں ہیں ورنہ میرا آدھا خون تو یہ سوچ سوچ خشک ہو جاتا کہ اس وقت کیا ہو رہا ہو گا تو اس وقت کیا….
وہ ہنسنے لگا……
خوف اندر ہی اندر اپنے قدم جمانے لگا تھا۔
کہتے ہیں محبت کے بیچ شک کی دیوار ایک بار آجائے تو زندگی بھر نہیں جاتی۔
وہ اپنے اور زئی کے بیچ دیواروں سے ڈرتی تھی….
اسلئے اس قصے کو یہیں ختم کر دیا……
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
آج سنڈے تھا، ٹیوشن آنے والے بچوں کی چھٹی تھی، اس نے سوچا کیوں نا آج گاجر کا حلوہ بنایا جائے،اسی غرض سے وہ کچن میں کھڑی تھی جب اسے زئی کی کال آئی۔ ہینڈ فری لگا کر اس نے سیل فون شیلف پر رکھا، کال ریسیو کرنے میں تھوڑی تاخیر ہوگئی تھی…
“بزی ہو کیا؟”
“ہاں تھوڑی بہت…”
کیوں کیا کر رہی ہو؟”
“گاجر کا حلوہ بنا رہی ہوں۔”
“ہائے!
گاجر کا حلوہ میرا فیورٹ۔” زئی نے لبوں پر زبان پھیری۔
وہ مسکرائی۔۔۔۔۔۔
“میرے لیے بھی بھیج دینا۔”
“بلکل بھی نہیں، آپ اپنی مامی سے کہیں وہ بنا کر دیں گی آپ کو۔”
زئی کا دل خراب ہو گیا……
“مامی کے ہاتھ سے بنا گاجر کا حلوہ ایک بار کھایا تھا، یقین کرو اب تک انتڑیاں بددعائیں دے رہی ہیں۔”
قسم سے مٹی پلید کر دی تھی گاجر کے حلوے کی….”
اشنال سے اب ہنسی روکنا مشکل ہو گیا تھا…..
“ہنسو مت……..اس نے ڈپٹا……
“تیار کرو اور بھیجو مجھے……۔۔۔وہ سیریس تھا۔
“مگر زئی میں کس طرح بھیجوں گی…..”
وہ تمہارا مسئلہ ہے، مگر مجھے کھانا ہے ہر حال میں۔”
” اممممممممم………. “وہ کچھ سوچنے لگی پھر بولی۔
” زئی تم ایسا کرنا ایک گھنٹے بعد ہمارے گیٹ پر کھڑے ہو کر زور سے آواز لگانا،وظیفہ!!!!!!!۔”
ایشے نے وظیفے کو لمبا کھینچا بلکل اسطرح جس طرح وظیفہ مانگنے والے بچے آوازیں لگاتے ہیں، پھر بولی۔
“اس طرح امی سمجھیں گی واقعی وظیفے والا آیا ہے،
پھر میں تمہیں گیٹ پر حلوہ دے جاؤ گی۔”
“ایشے کی بچی میں تمہیں کچا کھا جاؤں گا۔”
ہاہاہاہاہاہا……………… وہ ہنسی اور ہنستی چلی گئی۔.
اس شام ایشے نے فری کی منتیں کی تھیں کہ کسی طرح وہ گاجر کا حلوہ زئی تک پہنچا دے…….
فروا نے اپنے چھوٹے بھائی کے ذریعے حلوہ زئی تک پہنچا دیا تھا….. جسے زئی اب مزے لے لے کر کھا رہا تھا، اور ساتھ اعتراف کر رہا تھا کہ گاجر کا حلوہ بنانے والی کے ہاتھ چوم لے……..
گناہوں کے سیاہ کاغذ بھاری ہونے لگے تھے۔
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
کچھ لوگ لاشعوری میں غلطیاں کرتے ہیں تب انہیں صحیح غلط کی پہچان نہیں ہوتی،ایسے لوگوں کی سزاؤں میں قدرت کچھ کمی لے آتی ہے،انہیں جلدی ہی اپنی غلطی کی پہچان ہو جاتی ہے،انہیں راستے بھی مل جاتے ہیں اور منزل بھی……
ان کے برعکس وہ لوگ جو شعور کی تمام تر آگاہوں میں قدم رکھنے کے بعد جانتے بوجھتے، صحیح اور غلط کی پہچان ہونے کے باوجود گناہوں میں ہاتھ ڈالتے ہیں،ان کی سزائیں پھر لمبی ہوتی ہیں، پھر اندھیرے اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں راستے دکھائی نہیں دیتے۔یہ لوگ اپنے لئے کھائی خود تلاش کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ کھائی میں ایک بار گرنے کے بعد کھائی سے نکلنا مشکل ہوتا ہے،کھائی کی گہرائی ناپنے کا پیمانہ نہیں ملتا۔
پھر گرنا ہی گرنا ہوتا ہے…..
اس نے جب میڑک کیا تب وہ پندرہ سال کی تھی، ایف ایس سی کے رزلٹ آؤٹ ہونے تک وہ سترہ سال کی تھی، سہ لڑکھڑائی تب جب وہ بالغ ہو چکی تھی۔
اس کی زندگی میں گناہوں کا آغاز اٹھارہویں سال میں ہوا تھا،اور اس عمر میں گناہوں کی عادت پڑ جائے تو چھوٹنا مشکل ہو جاتی ہے۔ اور پھر سزاؤں کا دورانیہ لمبا ہو جاتا ہے…..
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦
فروا نے کچھ ڈریسز لیے تھے اور اشنال کو دیکھنے کیلئے بکایا تھا وہ تیار ہو کر نکلنے ہی لگی تھی کہ اسے زئی کا ٹیکسٹ آیا۔
“میں بور ہو رہا ہوں ایشے۔”
“کچھ دیر قبل میں بھی ایسا ہی محسوس کر رہی تھی، مگر اب بوریت کو گڈ بائے کہنے فروا کے گھر جارہی ہوں…..”
“کوئی ضروری کام تھا؟”
“ہاں نہیں ایسا ضروری بھی نہیں،وہ اپنے ڈریسز دکھانے بلا رہی ہے۔”
“تو ڈریسز لے کر تمہارے گھر آجائے۔”
ہمیشہ وہ ہی آتی ہے، آج میں نے سوچا میں چلی جاتی ہوں۔”
“ایشے مجھے تمہارا وہاں جانا اچھا نہیں لگتا۔”
“ہیں؟ ایسا کیوں؟” اسے تعجب ہوا……
وہاں اس کے بھائی بھی ہیں،وہ تمہیں دیکھتے ہونگے،
بس مجھے اچھا نہیں لگتا تمہیں میرے سوا کوئی دیکھے۔”
“مگر زئی ہم لوگ الگ روم میں ہوتے ہیں،فروا کے بھائی گھر پر ہوں بھی تو اس روم میں نہیں آتے…..
اشنال نے اسے سمجھانا چاہا۔
“مجھے اچھا نہیں لگتا، آگے تمہاری مرضی…..”
وہ اپنی بات کہہ چُکا تھا، اور ایشے وہ سوچ ہی چھوڑ دیتی تھی، جو زئی کو اچھی نا لگے…..
کوئی بہانا بنا کر اس نے فروا کو انکار کر دیا تھا، اب وہ فروا کے گھر جانا چھوڑ چکی تھی، جس پر فری اس سے ناراض بھی ہوئی،وجہ بتانے پر فروا نے اس سے پوچھا۔
“اگر زئی کہے تو مجھ سے دوستی بھی چھوڑ دو گی؟”
جس پر اشنال نے اس سے کہا تھا زئی اسے بلاوجہ بے تکی پابندیاں نہیں لگاتا،وہ ایسا کچھ نہیں کہے گا۔!!!!
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
آدھی رات کے وقت سب گھر والے سو رہے تھے کہ سیٹھ عبداللہ کے فون کی گھنٹی بجی….
یا اللہ خیر۔”
بیل کی آواز پر سب ہی اٹھ گئے اور جو خبر انہیں ملی وہ کسی قیامت سے کم نا تھی…..
سیٹھ عبداللہ کے کارخانے کو کسی نے رات و رات آگ لگا دی تھی….
کارخانے میں پڑا لاکھوں کا فرنیچر جل کر خاکستر ہو گیا تھا….. کچھ تیار سیٹس اور کچھ فرنیچر بنانے کا سامان تھا…..
کارخانے کے مالک کی حیثیت سے سارا نقصان انہیں اکیلے بھرنا تھا،کچھ مالکان نے اپنے پیسے کا مطالبہ کر دیا جس کیلئے سیٹھ عبداللہ کو گاڑی سمیت آسیہ خاتون کا سارا زیور بیچنا پڑا۔”
کم ظرف لوگوں کے ساتھ دنیا میں وسیع القلب لوگ بھی چند ایک موجود ہیں جو بابا کے پرانے دوستوں میں سے تھے۔ انہوں نے بابا سے کہہ دیا کہ آپ دوبارہ بزنس اسٹیبلش کر کے ہمیں قرض لوٹا دیجئے گا…..
سیٹھ عبداللہ اٹھارہ سال کی عمر میں پہلی بار کراچی آئے تھے، یہاں پڑھنے کے ساتھ نوکری بھی شروع کردی۔ شروع میں کاریگر کی حیثیت سے کام کیا، پھر تیس سال کی عمر میں وہ شادی کر کے کراچی آگئے۔ اس پورے عرصے میں انہوں نے بے انتہا محنت کی،
تنکا تنکا جوڑ کر انہوں نے سب سے زیادہ سے پہلے یہ کارخانے اور مارکیٹ میں شاپ خریدی تھی، گھر بنایا….
جس آشیانے کو بنانے میں انہوں نے زندگی کے کئی سال صرف کر دئیے وہ ایک رات میں اجڑ گیا۔
صدمہ بہت بڑا تھا۔ اسی صدمے کو وہ دل پرے گئے تھے، ان کی طبیعت خراب رہنے لگی،دوسرا کارخانہ انہوں نے لگایا پر وہ بھی ناچل سکا، شاید خدانے انکا رزق یہیں تک لکھا تھا۔
وہ ساٹھ کے ہندسے کو عبور کر رہے تھے،اوت ساٹھ سال کی عمر میں بھی تیس سال کے جوان مرد کی طرح زندہ دل اور محنتی تھے، بس یہ ایک صدمہ انہیں ساٹھ سے سو سال تک لے گیا…..
میڈیکل کی پڑھائی کیلئے کافی سارا پیسہ خرچ ہوتا تھا، اس نے میڈیکل چھوڑ کر سمپل بی اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران اس کا ایک سال ضائع ہوگیا…..
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
شام میں اسے کچھ ضرورت کی چیزیں لینے کاسمٹک اسٹور جانا پڑا، وہ آدمی کے ساتھ جب واپس لوٹ رہی تھی تو اس نے راستے میں زئی کو دیکھا، جو انتہائی غصے سے اسے دیکھ رہا تھا۔
وہ گھر لوٹی تو اسے میسج آیا…..
کیا لگتا ہے وہ کاسمیٹکس اسٹور والا اشنال عبداللہ آپ کا؟
کافی گہری دوستی لگتی ہے آپ دونوں کی۔
کب سے ہے؟
مجھ سے کیوں چھپایا؟”
اور وہ اپنا کھلا ہوا منہ بند کرنا بھول گئی۔
“کیا ہوا ہے کوئی جواب؟”
“زئی مجھے ضروری چیزیں لینے جاناتھا،وہ ان کے پاس نہیں تھیں تو میں پوچھ رہی تھی کب تک منگوا دیں گے…..
تمہیں پتا ہے میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میری ایشے یوں سڑکوں پر کھڑی غیر مردوں سے……”
اس نے جیسے خود کو غلط لفظ کہنے سے روکا……
“میری مجبوری ہے،امی پڑھی لکھی نہیں ہیں، اب محلے والوں سے تو سامان نہیں منگوا سکتی ناں۔””
“جو بھی ہے مجھے بہت برا لگا۔ تمہیں جو منگوانا ہو مجھے بتاؤ، میں لادوں گا۔ اور یہ بہانہ بھی نا ملے کی تم یہاں نہیں تھے۔ میں کوئٹہ سے واپس آ کر لا دوں گا، بس تم کسی سے بات نہیں کرو گی۔ میں تمہارا سایہ بھی کسی پر نہیں پڑنے دینا چاہتا۔ تم صرف میری ہو، میں اس ہوا سے بھی لڑوں گا جو تمہیں چھو کر گزرے گی….”
زئی کے ان لفظوں سے اشنال نے اسے اپنے بخت کا اونچا ستارہ مان لیا تھا…..
اش دن کے بعد اشنال نے جو منگوانا ہوتا امی کو لکھ کر دے دیتی مگر خود ا جاتی۔
مرد عورت کو قیدی بنا کر رکھناچاہتا ہے مگر قیدی بنا پسند نہیں کرتا۔خود وہ کتنی ہی لڑکیاں رکھ لے لیکن لڑکی کو کسی دوسرے کا دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے وہ خود ہی کافی ہوتے ہے جذبات سے کھیلنے کے لیے،غلطی لڑکی کی بھی ہوتی ہے جو ماں باپ کے کسی چیز سے روکنے کو پابندی اور روک ٹوک سمجھتی ہے، وہاں کسی اجنبی،کسی غیر محرم کی روک ٹوک کو اپنا مان سمجھتی ہے۔ اس کو خفاظت سمجھتی ہے جب کہ جذبات کھیلنے والے کبھی کسی کے مخافظ نہیں ہوتے۔”
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
زئی کا افیئر فائزہ سلیم تک ہی نہیں رہا تھا، اس کے افیئرز زئی کی لسٹ لمبی ہوتی جا رہی تھی۔ ہر روز وہ ایک نئے افیئر کو لے کر جھگڑنے لگے تھے۔
ان کے درمیان محبت کم اور لڑائیاں بڑھ گئیں تھیں۔ اپنے افیئرز کو چھپانے کیلئے زئی اس پر باز پرس کرنے لگا تھا۔
جب سے زئی نے اسے کہا تھا،وہ اسکول کے پروفیسر کے ساتھ میٹنگ کے بہانے گپے لڑاتی ہے، تب سے اس نے سکول کی جاب ہی چھوڑ رکھی تھی۔ وہ صرف زئی کی تھی، مگر زئی صرف اس کا نہیں تھا۔
اسکا زئی ایسا تو نہیں تھا۔ وہ برا ہرگز نہیں تھا، وہ ایک اچھا لڑکا تھا، ہر لحاظ سے مکمل۔
ایک محلے میں رہتے ہوئے وہ کبھی اشنال کے راستے نہیں ناپتا تھا، وہ گلی کے نکڑ پر کھڑے ہو کر آوارہ لڑکوں کی طرح اس کے تماشے نہیں لگاتا تھا۔
پھر اسے اچانک کیا ہو گیا تھا….؟
وہ آج بھی فروا کے آگے اپنے دکھڑے رو رہی تھی….
“اشنال تم مان لو اسے تم سے محبت نہیں ہے، اور ہم کسی کو زبردستی خود سے محبت کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔”
“میں نے اسے کبھی مجبور نہیں کیا وہ مجھ سے محبت کرے، میں سے بس سچائی مانگی ہے۔ میں نے اسے یہ کہاں ہے کہ میرے ساتھ لکا چھپائی نا کھیلے، میں نے رو اسے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اگر اسے کسی اور سے محبت ہے تو بتائے مجھے، میں ہٹ جاؤں گی اس کے راستے سے، میں اس کی خوشی میں خوش رہوں گی کڑوا گھونٹ بھر لوں گی میں دور ہو جاؤ گی اس سے، میرے پر خلوص جذبات کی توہین یوں تو نا کرے۔
وہ کہتا ہے اسے مجھ سے محبت ہے اور کسی سے نہیں۔ اللہ رسول کی قسمیں کھا کر کہتا ہے،مگر فری اس کے لفظوں اور اس کے کرنوں میں واضح فرق ہے۔ وہ جو کہتا ہے وہ ویسا کرتا نہیں ہے، اگر اسے تعلقات نا رکھنے پڑتے، اسے لفظوں کے جال نا گھڑنے پڑتے، وہ ان چار سالوں میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ میں اسے شیئر نہیں کرسکتی۔ فری اسے کسی اور کا سوچ کر میرا سانس رکتا ہے میرا دم گھٹتا ہے،اسے لگتا کہ میرے جسم سے کوئی روح نکال کر لے گیا ہو فری ان چار سالوں میں میری دنیا میں صرف اس کا راج رہا ہے میری سوچ اس سے شروع ہو کر اس پر ہی ختم ہو جاتی ہے، فری میں اپنے ہمسفر کے روپ میں اسے تصور کرتی ہوں…..
بولتے بولتے اس کی آواز بھر گئی تھی،اس کی گہری آنکھوں سے آنسوں نکل نکل کر اس کی چہرے کو بگو رہے تھے۔”
“اشنال محبت میں عورت کو ہر طرح کی قربانی دینی پڑتی ہے۔”
“فری میں نے اس کی ہر وہ بات مانی ہے جو مجھے نہیں ماننی چاہیے تھی، مگر وہ کسی طرح بھی خوش نہیں ہوتا۔ اسے میری سائیڈ دکھائی ہی نہیں دیتی۔نا میری محبت نظر آتی ہے اسے نا ہی میرا خلوص…..
فری کبھی کبھی وہ اپنے الفاظ سے میرے دل کو چیر دیتا ہے، اسے میرا درد نظر نہیں آتا۔”
اس نے فری کو بے یقینی سے دیکھا….
“وہ خود کو کسی حال میں نہیں بدلے گا، میری جان”
تم خود کو بدل دو……یا چھوڑ دو یا شئیر کر لو….٫”
دونوں صورتیں اذیت بھری تھیں…..
وہ اسے چھوڑ نہیں سکتی تھی،وہ اسے بھول نہیں سکتی تھی، ناممکن تھا۔ ہاں مگر وہ اسے شئیر کرنے کا سوچ سکتی تھی……
اور اشنال عبداللہ نے پہلی بار زندگی میں کچھ شئیر کرنے کا سوچا تھا…..
مگر خود کو بدلنے میں وقت لگتا ہے،یوں نہیں ہوتا کہ یہاں ارادہ باندھا وہاں ہم بدل گئے…..
وہ جتنا آسان سمجھ رہی تھی اتنا نہی تھا…..
وہ نہیں جانتی تھی ابھی اور ٹوٹنا ابھی اور بکھرنا باقی ہے…”
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️❤️
امی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی،وہ امی کو لیکر کلینک آئی تھی اور اپنی باری کے انتظار میں بینچ پر بیٹھی تھی۔ کلینک چھوٹا سا تھا، جس کے دو حصے بنانے کے لیے درمیان میں لکڑی کی دیواریں بنائی گئی تھیں۔ گیٹ سے انٹر ہونے پر پہلا حصہ وہ تھا جہاں مردوں کیلئے جگہ تھی اور دوسرا راستہ عورتوں کے لئے مختص تھا۔
ابھی وہ کچھ دیر اور کلینک میں پھیلی دوائیوں کی بدبو پر غود کرتی کہ اسے جانی پہچانی آواز سنائی دی ۔
اس آواز کو وہ ہزاروں کے میلے میں بھی پہچان سکتی تھی۔
زئی کہہ رہا تھا۔
عروسہ میم، آپ کے اپنے ایریا میں ڈاکٹروں کا کال پڑھ گیا تھا جو آپ یہاں آگئیں؟”
وہ ہنسی۔” ہاہاہاہاہاہاہا…….. جناب ہم کیا کریں کہ ہمیں آرام ہی آپ کے ڈاکٹر سے آتا ہے۔”
“ہائے۔” وہ دلکشی سے بولا۔
اس کے منہ سے نکلے اس ہائے پر ایشے کی جان نکلتی تھی۔
مگر آج اسے یہ ہائے زہر کی طرح لگا۔
وہ پھر بولا۔
“میں صدقے اس بیماری کے جو آپ کو یہاں تک لائی ہے۔”
“بڑے ہی دل پھینک ہو آپ۔”
آہااں، تو پھر کیا خیال ہے؟” وہ شوخا ہوا، اپنی عادت کے مطابق۔
میں انگیجڈ ہوں۔” اس نے زئی کی بات کو ہوا میں اڑایا۔
” اس گنجے کے ساتھ؟”
“بری بات۔” لڑکی نے شاید گھوری دی تھی جس پر زئی ہنسا تھا۔
“ایک بار غور کرو تمہارے اس گنجے سے لاکھ پیارا ہوں میں۔”
پھر وہ دونوں ہنسے….
شاید وہ بھول گئے تھے کہ مردوں کی سائیڈ پر چاہے کوئی نا ہو مگر پردے کے اندر بیٹھے لوگ حرف با حرف نازیبا گفتگو سن رہے تھے۔
امی چیک اپ کے بعد جانے کے لیے اٹھیں تو ساتھ وہ بھی اٹھ گئی گیٹ پش کرنےسے پہلے اس نے باہر کے منظر کو دیکھنے کیلئے لمبی سانس کھینچی۔ ادھر وہ باہر نکلی ادھر وہ ہوش میں آئے۔
اشنال کی شکوہ کناں آنکھیں زئی کی حیران آنکھوں سے لمحے بھر کو ٹکرائیں پھر اشنال ہی آنکھیں جھکا کر گزر گئی۔
ابے یار………… زئی بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہ گیا…..
❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️
عشاءکی نماز اس نے جس خاموشی سے پڑھی، اسی خاموشی سے بنا دعا مانگے منہ پر ہاتھ پھیرے اٹھ کھڑی ہوئی۔
شاید وہ پاگل،خدا کو بتانا چاہ رہی تھی کہ میں ناراض ہوں، حالانکہ وہ تو خود اپنے خدا کو ناراض کر بیٹھی تھی، اور جب ناراض ہوتا ہے تو وہ ہمیں کھلی چھوٹ دے دیتا ہے۔
رات نو بجے اسے زئی کی کال آئی۔
” خیریت تھی، ہاسپٹل کیوں آئیں؟”
“امی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔”
اوہ خیال رکھوامی کا۔”
“ہممممممممم”
پھر وہ خود بولا۔
“ناراض ہو؟”
“کس لئے؟”
“وہ شام کو وہ لڑکی……… یار میں تمہیں بتانا چاہتا تھا مگر تم ایبٹ آباد میں تھی اور میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا……”
وہ خاموش رہی۔
“میری بائیک کا مائینر ساایکسیڈنٹ ہو گیا تھا چورنگی پر، میری ٹانگ اور بازو پر موچ آئی تھی، یہ لڑکی عروسہ اپنے کزن کے ساتھ مجھے ہاسپٹل لے کر گئی تھی۔”
اشنال نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ پھر بولا۔
“بس اسلئے اسے یہاں دیکھ کر میں نے اس سے بات کرلی۔ یقین کرو میرا اس سے اور کوئی تعلق نہیں،اب کوئی ہماری مدد کرے تو اس کا شکریہ تو ادا کرنا ہوتا ہے نا۔”
اور اشنال یہ سوچنے لگی کہ یہ شکریہ کا کونسا طریقہ تھا۔
” ایشے ایسے مت کرو۔”
“کیا کیا ہے؟”
“خاموش مت رہو غصہ کرو مجھ پر۔”
“نہیں غصہ کیسا؟ تم نے بتادیا سچ، ٹھیک ہے سب۔”
“ایشے مجھ پر بھروسہ رکھو، زئی صرف تمہارا ہے۔”
ہممممم…….
زئی مجھے نیند آرہی ہےکل بات کریں ؟”
“ناراض تو نہیں ہونا؟”
“نہیں۔”
لویو میری جان۔
زئی کا فیک لاڈ اس کی آنکھوں کو گیلا کر گیا۔
ٹیک کئیر…”
فون بند کرکے اس نے سونے کیلئے آنکھیں بند کیں تو سیل پھر سے روشن ہوا، وہ سمجھی شاید زئی ہوگا مگر میسج تو زئی کا نہیں تھا مگر اس کے متعلق تھا۔
کسی unknown نمبر سے اسے زئی کی کنورزیشن کے سکرین شاٹ موصول ہوئے تھے، وہ جو سوچے ہوئے تھی کہ تازہ لگے زخم کو دھونا کیسے تھا اسے ایک اور گھاؤ پڑگیا…..
زخم پر زخم لگے تو اذیت ناچ اٹھتی ہے۔
کاش محبت سے پہلے اذیت کا تحمینہ لگایا جاسکتا تو ہم اپنے حصے کی اذیت جان کر محبت ہی چھوڑ دیتے، کہ اذیت جھیلنا ہمارے بس میں نہیں۔
وہ نہیں جانتی تھی کس طرح اس نے وہ کنورزیشن پڑھی تھی، کس طرح وہ سانس لے رہی تھی۔
تمہیں مجھ سے محبت ہے ناں تو پھر یہ اشنال عبداللہ کون ہے؟”
کون اشنال عبداللہ؟”” اسکا زئی کہہ رہا تھا کون اشنال؟
کون اشنال؟
اسے لگا کسی نے اسے تیز گام کے نیچے کچل دیا ہو …
جیسے کسی نے اس کے جسم کو چھری سے کاٹ کر زرے زرے کر دیا ہو….
جب انسان کسی پر اندھا یقین کر لیتا ہے نا تو وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور جب اس کا یقین ٹوٹتا ہے اس کی آنکھیں کھولتی ہے تو شاید تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے انسان کے جینے کی آس امید ختم ہو جاتی ہے۔”
جان کیوں تم پرائی لڑکی کو بیچ میں لا کر ٹائم اور موڈ دونوں خراب کر رہی ہو؟”
اس کازئی کہہ رہا تھا اسے پرائی لڑکی……

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: