Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 5

0
پاگل آنکھوں والی لڑکی از اشنال سید – قسط نمبر 5

–**–**–

وہ لڑکی جسے تم نے محبت میں اندھا کردیا،
جسےدن رات محبت کے کلمے پڑھائے،
جسے اپنے سوا ساری دنیا سے کٹ کر دیا،
جسے اس مقام تک لے گئے، جہاں اسے زئی کے سوا کوئی دیکھائی ہی نہیں دیتا،
جسے اللہ اور رسول کی جھوٹی قسمیں کھا کر محبت کا یقین دلایا،
جسے رات بھر جگا کر محبت کے سور پھونکتے رہے،
جسے سکھایا کہ محبت میں کوئی تیسرا نہیں ہوتا،
محبت میں کبھی ناں نہیں ہوتی،
محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے،
محبت کہہ دے کہ جل جاؤ تو جل جانا ہوتا ہے،
محبت کہے تو روتی آنکھوں،اور ٹوٹے دل کے پرزوں سمیت مسکرانا ہوتا ہے،
محبت کہے انا کو مار دینا ہوتا ہے،
محبت جو سکھائے اسے کسی صفحے کی طرح حفظ کرنا ہوتا ہے….
ا
ور جب وہ سب کچھ سیکھ گئی،تو اسے پرائی کہہ دیا…
اشنال عبداللہ جسے میری دنیا کیاگیا حقیقت میں وہ ایک پرائی لڑکی تھی….
روتے روتے اس کی ٹانگوں سے جان نکلتی گئی،واش روم کے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھی وہ سسکیوں سے روئی، کانپتے ہاتھوں سے وہ کبھی اپنی سسکیوں کو روکتی، کبھی دیوار کے ساتھ ٹکریں مارتی وہ پاگل ہو چکی تھی…..
“کیوں زئی کیوں کیا ایسا، کیا قصور تھا میرا کیا گناہ تھا میرا جو مجھ سے ایسے کھیل گئے، میری اچھی بھلی زندگی میں کیوں آئے تم اگر دھوکا دینا تھا، کیا کمی تھی زئی میرے پیار میں جو تمہیں اور لڑکیوں کے ساتھ رشتے رکھنے کی ضرورت پڑھ گئی، اتنا قریب لا کر میرے دل میں اپنے لئے ہر خواہش پیدا کر کے آج مجھے پرائی کر دیا کیوں زئی……….. کیوں کیوں……………
اک تارا قسمت دا ڈوبیا کنارے تے💔
خامخا ہی جیوندے رےاس دے سہارے تے 💔
جیڑے اک دن ٹوٹ جانڑے 💔
موڑ کے نا جوڑ پانڑے…….💔 سپنے او کوئی سجائے نہ ربا 💔
زندگی چ کدے کوئی آئے نہ ربا 💔۔
آئے جے کرے تا فر جائے نہ ربا 💔
دینے سے جے مینوں بعد اچ ہنجوں 💔
پہلا کوئی ہسائے نہ ربا 💔
زندگی چ کدے کوئی آئے نہ ربا 💔
🔥🔥🔥🔥🔥
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے محبت عہ چڑیل،وہ ڈائن ہے، جواپنی نارسازی کا انتقام لینے، ہر شخص پر اترتی ہے، جو آتی ہے ہمیں برباد کر کے چلی جاتی ہے…..
یہ سلسلہ ختم کیوں نہیں ہوتا؟
کوئی روکے محبت کو کتنے دل اجاڑ گئی ہے…..
ساری رات وہ روتی رہی۔ محبت میں ہمارا دل کبھی اتنا وسیع نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنے اپنے زئی کو ہر کسی کے ساتھ شئیر کر سکیں۔
یہ سوچ کر وہ زئی کیلئے پرائی ہے ایسے تھی جیسے کسی نے اسکی انگلی کا ناخن کھینچ کر نکالا ہو……
اور اگر زئی سے پوچھا جاتا تو وہ مانتا ہی نہیں ک اس نے بات کہی ہے،مان بھی لیتا تو دلیلیں بہت تھیں…..
وہ ایسا ہی تھا پل بھر میں مکر جانے والا، جھکنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔
نیند ایسے روٹھی جیسے کسی نے اس کی اوپر نیچے کی پلکوں کو دور لے جا کر رسیوں سے باندھ دیا ہو، ساری رات گرم سیال آنکھوں سے نکل کر تکیے پر نشان بناتا رہا۔
ان کے تعلق میں یہ پہلی رات تھی کہ وہ ساری رات سو نا سکی….
آنسو دریا کے کسی ٹوٹے بند کی طرح بہتے رہے، گرم آنسو سوجن زدہ سرخ آنکھوں سے نکل کر اب تو آنکھوں کو بھی تکلیف دینے لگے تھے…..
آنکھوں کے آس پاس کی جگہ پر اونچے پہاڑ بن چکے تھے ہاں مگر یہ پہاڑ نرم تھے……
تہجد کا وقت آیا،گزر گیا۔ وہ بےحس لیٹی روتی رہی، پھر اس کے کان میں فجر کی اذان پڑی۔
آنکھوں کو بند کرنے میں اسے اذیت ہوتی ،کچھ دیر بند آنکھوں کے ساتھ اذان سنتی رہی پھر نماز کیلئے اٹھ بیٹھی….
کچھ بھی تھا لیکن وہ نماز کی پابند تھی….
مگر ایسی نمازوں کا کیا جس میں زبان تو پڑھےمگر دماغ سن نا سکے،دل محسوس نا کر پائے….
جب دل میں کسی غیر کی محبت، اللہ کی محبت کی جگہ بسیرا کر لے، تو اس دل میں سکون ختم ہو جاتا ہے اور بے سکونی بھر جاتی ہیں۔
جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تو اس کے دل میں کسی دوسرے کی محبت دیکھ کر تڑپ جاتے ہیں، تو سوچوں اللہ کی محبت تو ستر ماؤں سے زیادہ ہے تو کیسے اپنے بندے کے دل میں کسی غیر کی محبت رہنے دے سکتا ہے، وہ انسان کو اسی بندے کے ہاتھوں توڑ دیتا ہے، اور جب انسان ٹوٹا بکھرا وجود لے کر اللہ کے در پہ جاتا ہے، تو وہ اسے جوڑ دیتا ہے اپنی محبت ڈال کر۔
🔥🔥🔥🔥🔥
پاگل صرف پاگل خانوں میں ہی نہیں ہوتے، ہمارے تمہارے گھروں میں بھی ہوتے ہیں۔ محبت پاگل کر دیتی ہے،کبھی ہم روتے ہیں کبھی قہقہے لگاتے ہیں۔
پاگل خانوں میں موجود پاگل تو خوش نصیب ہیں جنہیں صرف ماضی میں رکھ کر حال اور مستقبل سے بچا لیا گیا ہے۔ گھروں میں موجود پاگل ماضی، حال مستقبل کے دہرے عذاب میں ہیں۔
پاگل تو ہم سے اچھے ہیں،اپنی مرضی سے کھل کر ہنس یا رو تو سکتے ہیں، ہم جیسے پاگل ہنسیں تو نخوت سے دیکھا جاتا ہے،روئیں تو لعنتیں دی جاتی ہیں….
ہم ہنسیں تو پوچھ گچھ،روئیں تو باز پرس…..
کیا تم سمجھ سکتے ہو اس انسان کا دکھ ھو پاگل بھی نا ہو، اور ہوش میں بھی نا رہ پائے….؟؟
زیادتیاں جب حد سے بڑھ جائیں تو برداشت ختم ہونے لگتی ہے، اشنال کی برداشت بھی جواب دے گئی تھی….
روز روز ایک نیا افیئر……..وہ بکھرنے لگی تھی۔
وہ اپنی معمولی چیزیں شئیر نہیں کرتی تھی، زئی تو پھر جیتا جاگتا انسان تھا۔
وہ زئی کو شئیر نہیں کر سکتی تھی، کسی کے ساتھ بھی نہیں، کسی حال میں بھی نہیں۔
جو تکلیف وہ خود محسوس کرتی تھی،اس نے سوچا ایک بار زئی بھی محسوس کرے کہ اپنی محبت کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا سانس رک جانے جیسا ہوتا ہے۔
پھر اس نے جو سوچا وہ کر دکھایا…..
🔥🔥🔥🔥🔥
آج فروا کی مایوں تھی،وہ شام پانچ بجے ہی فروا کے گھر چلی آئی تھی،اور اب رات کے دس بج رہے تھے۔
دلہا والوں نے رسم کرنے آنا تھا، اشنال نے دلہن کی بیسٹ فرینڈ ہونے کی حیثیت سے خوب تیاری کر رکھی، ہاف وائٹ شیفون کے لہنگے پر گولڈن ستاروں والا بلاؤز جو اس کی کمر کو کور کئے ہوئے تھا، ہاف وائٹ نیٹ کے دوپٹے کو شانوں پر سلیقے سے پھیلایا ہوا تھا، دوپٹےکے چاروں اطراف لیس لگی ہوئی تھی، کلائی پر چھن چھن کرتی چوڑیاں اور گجرے سجے تھے، بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنا تھا، ماتھے پر گول سا ٹیکا سجا تھا، کانوں میں بڑے آویزے پہنے تھے،ناک میں چمکتی نوز رنگ، لائٹ سا میک اپ کئے بلاشبہ وہ آج ویسی بن کر آئی تھی جسے زئی اسے دیکھنا چاہتا تھا۔
فروا کے بڑے بھائی سے زئی کی دوستی بہرحال تھی،وہ بس اس کے چھوٹے بھائی یاسر سے چڑتا تھا۔
ہاتھوں میں کیمرہ لئے وہ فروا کے بھائی یاسر کے پاس آئی،جو اس وقت اسٹیج کی ڈیکوریشن میں لگا تھا۔
اشنال نے مخاطب کیا اور اس سے کچھ پوچھنے لگی،وہ اسے کیمرا فنکشنز سمجھارہا تھا۔ عین اسی وقت ہال میں زئی انٹر ہوا، اس کے ہاتھ میں گیندے کے پھولوں کا ٹوکرا تھا۔
اشنال کو یاسر کے پاس کھڑا دیکھ کر زئی کو آگ لگ گئی، اس نے ٹوکرا زمین پر پھینکا تو کچھ پھول اچھل کر زمین پر بکھر گئے، جیسے اس وقت یقیناً زئی کے دل کے پرزے بکھرے تھے۔
وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھتا الٹے قدموں پیچھے ہٹا، اشنال نے ایک نظر زئی کو دیکھا اور پھر یاسر کو، دلکشی سے مسکرا کر وہ واپس گھر کے اندرونی جانب پلٹ گئی….
زئی کے اندر خاندانی خون کھولنے لگا،اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں، ایک جھٹکے سے ہال کا پردہ اٹھا کر باہر نکل گیا…..
اشنال کے اندر ڈھیروں سکون اتر آیا۔ آخر اس نے تمام تر زیادتیوں کا بدلہ ایک ہی وار میں لے لیا تھا، شاید وہ اسے دکھانا چاہ رہی تھی کہ اپنی شے کو شئیر کرنا کتنا تکلیف دیتا ہے۔ وہ اسے دکھانا چاہ رہی تھی کہ جب وہ زئی کو کسی اور کے ساتھ دیکھتی اس سے بھی کئی زیادہ بری حالت میں ہوتی،مگر وہ بھول گئی، کچھ لوگ ہماری طرف سے کسی غلطی کے انتظار میں ہی ہوتے ہیں….
عورت کو ایسی غلطیاں مہنگی پڑ جاتی ہیں۔
اشنال نے ایسا کرکے بہت بڑی غلطی کردی تھی،اس نے اپنے کردار پر کالک مل دی تھی۔
عورت مرد کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتی ہے مگر مرد ایک ذرہ سی غلطی پر اسے بدکردار قرار دے کر دھتکار دیتا ہے اور پلٹ کر نہیں دیکھتا، خواہ عورت کی غلطی ذرہ برابر ہو یا غلط فہمی ہی کیوں نہ ہو عورت اس کے لیے بدقردار ہوجاتی ہے…..
🔥🔥🔥🔥🔥
وہ رات اشنال نے فروا کے گھر گزاری تھی، وہ اس کی بیسٹ فرینڈ تھی اور فروا کا یہاں آخری دن تھا،اگلے دن اسے یہاں سے چلے جانا تھا۔ آج کا دن اسے فروا کے نام کرنا تھا….
مہندی کا فنکشن رات ڈیڑھ بجے کے قریب ختم ہواتو ساری سہیلیاں فروا کو لے کر اس کے روم میں آ گئی، جہاں انہوں نے رتجگا منانا تھا۔ ڈانس کا ماحول فل آن تھا، فروا کی بیسٹ فرینڈ ہونے کے ناطے ساری لڑکیوں نے اصرار کیا کہ اب وہ حق ادا کرے، فروا کے اصرار پر اس نے بھی رقص کیا….
خوبصورت لہنگے میں دیوانی پر رقص کرتی وہ بلاشبہ دیوانی لگ رہی تھی۔
زخم ایسا تونے لگایا، دیوانی دیوانی دیوانی
دیوانی ہو گئی۔
مرہم ایسا تو نے لگایا، روحانی روحانی روحانی
روحانی ہوگئی۔
اس کا انگ انگ سرور میں تھا، وہ زئی کو ہرا آئی تھی، رقص تو بنتا تھا۔
پہچان میرے عشق کی اب تو…..
میں دیوانی ہا دیوانی دیوانی ہوگئی۔
اس کی آنکھوں میں آنسوں اتر آئے تھے،جو عورت مرد کو ہرانے کا سوچتی ہے ناں وہ خود ہار جاتی ہے۔
اشنال عبداللہ ہار گئی تھی، نا صرف اپنے زئی کو بلکہ وہ ایسی دیوانی تھی جو سب کچھ ہار گئی، سب کچھ اپنی انا، اپنی محبت،اپنے خواب، اپنی عزت، اپنا سکون اپنا…… سب کچھ۔”
💔💔💔💔💔
بارات کے بعد گھر پہنچ کر وہ سونے لیٹی تو اسے زئی کا ٹیکسٹ آیا……
“نیا بوائے فرینڈ مبارک ہو اشنال عبداللہ۔۔”
اجنبی پن کی انتہا پر وہ اس کا پورا نام لیتا تھا۔
“تکلیف تو ہوئی ہوگئ نا، میرا بھی سانس رکتاتھازئی، جب جب میں تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھتی تھی۔” وہ مسکرائی۔
“نہیں” مجھے بلکل بھی تکلیف نہیں ہوئی،میری نظروں سے گر چکی ہو تم، میں تمہارے لئے کچھ فیل نہیں کر رہا، اچھا برا کچھ نہیں….. انجوائے کرو….”
زئی کے اجنبی روئیے سے اسے پہلی بار احساس ہوا اس نے کتنی بڑی غلطی کردی تھی۔
مرد خود چاہے کتنی عورتوں کے ساتھ بسر کر آئے مگر عورت کی ایک نظر کسی اور کیلئے برداشت نہیں کر سکتا۔
عورت کو مرد کے ساتھ مقابلہ کرنا مہنگا پڑتا ہے۔
“میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے،میں نے سب صرف تمہیں دکھانے کیا تھا۔”
” ہاہاہاہاہاہا۔” وہ ہنسا تھا۔
ڈرامے باز لڑکی، میرے منہ پر کھڑے ہو کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک لڑکے کے ساتھ گپے مار کر ہنس رہی تھی، اور مجھے کہہ رہی ہو تمہیں دکھانے کو کیا تھا۔
“زئی اس وقت اس جگہ کھڑے کھڑے مر گیا تھا ایشے۔
اب میرے دل میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، تم میرے لئے باقی ساری لڑکیوں کی طرح ہوگئی ہو جو کسی سے بھی بات کر لیتی ہے اس نے کال کاٹ دی تھی۔
اشنال نے پھر سے کال کی۔
میں کال نہیں اٹھاؤ گا کہ تمہاری آواز سن کر میرا غصہ کم ہوجاتاہے، غلطی تم کر چکی ہو اس کے بعد یہی ٹھیک ہے کہ تم آئندہ مجھے ٹیکسٹ نا کرو…”
تم…..تم بھی تو یہی سب کرتے تھے، تم نے سوچا میں کیسے برداشت کرتی تھی؟”
میں تو مرد ہوں نا، کر سکتا ہوں۔
بات ہی تو کرتا تھا نا، کونسا کوئی ریلیشن تھا میرا کسی سے، تم اپنے لڑکی ہونے کا خیال کرلیتی۔”
“زئی…زئی میں……”
بس مجھے کچھ نہیں سننا…”
او وہ واقعی گر چکی تھی، زئی کی نظروں میں،اپنی نظروں میں….
ہمارے معاشرے کے کچھ لوگوں نے مرد کو یہ کہہ کر شیر بنا دیا ہے،کہ وہ مرد ہے سب کر سکتا ہے۔
دنیا والے بھی مرد کے غلط کاموں کو یہ کہہ کر ڈھانپ لیتے ہیں کہ مرد تو کر سکتا ہے۔
جو کام مرد کرتے ہوئے عزت برقرار رکھے ہوئے ہے اور عورت اس کا سوچ کر ہی بد کردار کہلائی جاتی ہے…..
اس دنیا میں عورت اور مرد ایک جیسے جرائم کی سزا ایک ہی نہیں ہے جانے کیوں۔؟
عورت کو ہر معاملے میں صبر کا کہا گیا ہے، لیکن جب اشنال عبداللہ جیسی لڑکیاں صبر نہیں کرتیں بدلے پر اتر آتی ہیں نا تو ان کا حال بھی اشنال عبداللہ جیسا ہوتا ہے۔
“زئی میں ایسی نہیں ہوں، میں نے تمہیں وہ سب فیل کراناچاہا تھا۔ آئی ایم سوری زئی مجھ سے غلطی ہو گئی..
“وہ اشنال عبداللہ تھی، بہت جلدی ہار مان لیتی تھی۔
“افسوس اشنے میں تمہیں ایسا نہیں سمجھتا تھا۔”
اور وہ اسے کہتی ہی رہ گئی کہ زئی میں ایسی نہیں ہوں۔
“میں تم سے محبت کرتا تھا ،کرتا ہوں، کرتا رہوں گا، مجھے افسوس ہے کہ تم ایک اچھی لڑکی تھی مگر اب نہیں رہی۔اس سب کے بعد میرا تم پر سے اعتبار ختم ہو گیا ہے، اور جہاں اعتبار ہی نا ہو وہاں ساتھ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
مجھے تو یہ سوچ سوچ کر ہول اٹھتا ہے جانے کس حد تک تم دونوں کی اٹیچمنٹ رہی ہو گی، آخر اس کے گھر بھی تو جاتی رہی ہوناں۔”
اشنال کو سانپ سونگھ گیا تھا……
“نفرت ہو رہی ہے مجھے اپنے آپ سے کہ تم جیسی لڑکی سے محبت کی میں نے۔
دفع ہو جاؤ میری نظروں سے دوبارہ کبھی مت آنا….”
“ایسا مت کرو زئی، میں مر جاؤں گی۔”
“اس کے بعد تم مر ہی جاؤ تو اچھا ہے۔ میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا…. میرے سامنے مت آنا دوبارہ……
اور اشنال عبداللہ کو ایک مرد سے انتقام لینا بھاری پڑا تھا، زخم بہت گہرا تھا، بہت گہرا…….
ہم لڑکیوں کو حدیں پار کرنا مہنگا پڑتا ہے……
🍁🍁🍁🍁🍁
دو مہینے دونوں نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کی، دونوں اپنی اپنی جگہ ناراض تھے،دونوں ہی ضدی اور انا پرست تھے….
ان دو مہینوں میں وہ نچڑ گئی تھی، گلابی مائل رنگت کملا کر رہ گئی تھی۔
یہ کیسی بد دعا تھی جو اسے لگی تھی کہ زئی نام کا آسیب اس کے حواسوں سے بچھو کی طرح چمٹ گیا تھا، وہ اسے سوچتی اور اتنا سوچتی کہ اس کے آس پاس کچھ اور سوچنے کا وقت ہی نہیں رہتا، وہ بھول گئی تھی کہ اس کی زندگی میں کچھ لوگ زئی کے علاوہ بھی ہیں جنہیں اسے دیکھنا تھا…..
ان دو مہینوں میں وہ ہر رات روتے روتے سوتی،یہ تو طے تھا وہ زئی کو بھول نہیں سکتی تھی…
وہ جب جب شدید تکلیف میں ہوتی تو وہ میسج ٹائپ کر تی مگر اسے سینڈ کر کے سٹاپ کر دیتی…..
اس کی ازیت دن با دن بڑھتی جا رہی تھی…. اس کے روز کے میسج میں ایک ہی سوال ہوتا تھا، کیوں زئی کیوں کیا ایسا، اپنی باری تکلیف برداشت نہ ہوئی میں جو آئے دن برداشت کرتی تھی وہ کیا تھا،
زئی ایک لمحے میں تم نے مجھے پرایا کر دیا چار سال کی محبت میں تمہیں مجھ پر اتنا بھی بھروسا نہیں تھا، تم اتنی جلدی بھول گئے مجھے کیوں زئی کیوں……
اک تھھ پہ تھا بھروسا تو زباں سے پھر گیا
اک پل میں آسماں سا کوئی جیسے گر گیا..
تیرے قدموں میں تھا رکھا میں نے یہ جہاں
ٹھکرایا تو نے مجھ کو جاؤ میں کہاں..!!
میری سمجھ نہ کجھ بھی آوے
میری جان چلی نہ جاوے…!!
اک تیرے بعد جینا ہے سزا…!!!💔💔💔💔
🍁🍁🍁🍁🍁
اسے بخار اٹھا جو بڑھتے بڑھتے ٹائیفائڈ کی شکل اختیار کرگیا، آئے دن ہاسپٹل کے چکر لگاتے راستے میں اسے دو تین بار زئی نے بھی دیکھا تھا، مگر ایک بار بھی اسکا حال پوچھنے کو ٹیکسٹ نہیں کیا۔ پندرہ دن وہ ٹائیفائڈ میں جھلتی رہی، اس نے نہیں آنا تھا، وہ نہیں آیا……
دو مہینے اور تیرہ دن بعد بالآخر اسے زئی کا میسج آہی گیا….
“کال می ایشے۔”
اس انجانی خوشی میں وہ سکرین کو حیرت سے تکتی، آنسو بہتے سکرین دھندلا جاتی، آنسو پونچھتی پھر دیکھتی، وہ زئی ہی تھا بلاشبہ…..
“ایشے میری جان میں غصے میں تھا۔ آئی ایم سوری، مجھے یقین ہے تم ایسی نہیں ہو، بس مجھے غصہ آگیا تھا۔
واپس آجاؤ، میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، میں نے غصے میں بکواس کر دی تھی، واپس آجاؤ پلیز۔
تم جیسا کہوں گی میں ویسا بن جاؤں گا۔۔ بس مجھ پر ٹرسٹ کرو۔
میں تم سے محبت کرتا ہوں، خدا کی قسم ایشے، میری لائف میں کوئی اور نہیں سوائے تمہارے، پلیز کم بیک۔۔”
آئی وانٹ یو ٹو اسٹے ان مائی لائف۔۔۔۔”
وہ مان گئی تھی، کیونکہ وہ زئی کے علاوہ کچھ سوچ نہیں سکتی تھی۔ محبت سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج کر دیتی ہے……
اور یوں وہ ایک بار پھر سے مل گئے تھے…..
مگر شاید ہمیشہ بچھڑنے کیلئے…..
کسی دی موت دا وچھوڑا، پھر صبر دے جاندے…!!!
جیوندیاں دا وچھوڑا , جان لے جاندے…!!!
🍁🍁🍁🍁🍁🍁
وہ واپس لوٹ آیا تھا مگر فری ٹھیک کہتی تھی، وہ بدل نہیں سکتا تھا، اور سب اشنال نے خود ہی کو بدلنا تھا۔
خود کو بدلنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے، وہ خود ہی کو بدلنے کی کوشش میں تھی۔
زئی کے پاس اس کیلئے وقت ہی نہیں تھا، وہ ڈھیروں میسجز کرتی جس پر ایک ہی جواب آتا، ابھی بزی ہوں، کام پر ہوں، گھر جا کر کال کرتا ہوں۔
صبح سے شام انتظار کرتے کرتے رات آتی تو کہہ دیتا نیٹ پرابلم ہے، سگنل نہیں آرہے، جس کا فون ٹونٹی فور آرز اس کے ہاتھ میں رہے اور وہ پھر بھی رپلائے نا کرے، اکثر تو وہ حد کر دیتا تھا کہ تمہارا کوئی میسج آیا ہی نہیں، ایسے میں انسان سمجھ جاتا ہے کہ اس کی لائف میں آپ کی حیثیت صفر ہو کر رہ گئی ہے۔
یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے، جس مرد کے دل میں چور ہوتا ہے نا وہ عورت سے دور بھاگنے لگتا ہے جواسے جج کرلیتی ہے۔
🍁🍁🍁🍁🍁
وہ اسے یہ نہیں کہتا تھا کہ اسے محبت نہیں ہے،وہ اسے عملاً بتاتا تھا کہ اسے کچھ بھی نہیں رہا، یا شاید کچھ تھا ہی نہیں….
اور اشنال ایک ذہین لڑکی تھی،وہ زئی کو سمجھ چکی تھی۔”
اب اس کے افیئرز وہ اگنور کر دیتی، بلکہ اب وہ اسے کسی کے ساتھ دیکھتی بھی تو مسکرا دیتی۔”
وہ اس سے محبت نہیں مانگتی تھی، وہ اب اس سے وقت بھی نہیں مانگتی تھی، بلکہ اس نے زئی سے کچھ مانگنا ہی چھوڑ دیا تھا۔
وہ تو صرف اپنے لئے اس کے پاس جاتی تھی، کیونکہ وہ کسی اور کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی۔
اسے اس بات سے غرض نہیں تھی کہ زئی کتنی لڑکیوں میں انٹرسٹڈ ہے،یا زئی اس سے محبت نہیں کرتا، اس کیلئے یہ کافی تھا کہ وہ زئی سے محبت کرتی ہے، اور کبھی کبھی ہم اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ہمارے لئے کسی سے بات ہو نا ہو ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کی موجودگی ہی کافی ہوتی ہے۔
اس بات کو بھی زئی نے غلط وے میں لیا تھا اور کہا تھا…
“تمہیں محبت نہیں رہی، تم بس نبھا رہی ہو۔”
وہ تھک کر مسکرا دیتی، کہ آخر وہ کرے تو کیا کرے، جب وہ محبت لٹاتی تھی تب اسے نظر نہیں آتا تھا، تب بھی وہ ہنسا ہی تھا۔ اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ ایسا کیا کرے کہ زئی اس سے سٹیسفائیڈہو جائے…..
مگر شاید دل کے تحت پر جب ایک عکس چھا جائے تو باقی کا ہر فرد بے معنی ہو جاتاہے۔
اور زئی کے دل پر جو بھی تھا،اشنال عبداللہ نہیں تھی….
اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی۔
وہ روز لڑتے چھوٹی چھوٹی باتوں پر….. یونہی خفا راضی رہنے میں وقت گزارنے لگا تھا…..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Be sakhta novel by Suhaira Awais – Episode 4

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: