Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 6

0
پاگل آنکھوں والی لڑکی از اشنال سید – قسط نمبر 6

–**–**–

وہ چھت پر ٹیوشن پڑھا رہی تھی جب وہ انجان لڑکیاں اس کا پتا پوچھتی چھت پر اس سے ملنے آئیں۔
“تو تم ہو اشنال عبداللہ۔” ان میں ایک لڑکی نے طنزیہ نگاہوں سے اشنال کو دیکھا….
“آپ کون؟”
“زئی کی فیانسی ہوں میں علیزے۔”
اور اشنال کو لگا کسی نے بجلی کی ننگی تار اس پر پھینک دی ہو……
یقین نہیں آرہا؟ یقیناً زئی نے نہیں بتایا ہو گا، اس کا کہنا ہے جس سے عشق ہوتا ہے اسے پردوں میں چھپا کر رکھا ہے۔”
“وہ ایک ادا سے مسکرائی۔
“میں زئی کے بڑے ماموں کی بیٹی ہوں، پی ایچ ایس سوسائٹی میں رہتی ہوں۔ زئی کراچی میرے لئے آتا ہے صرف میری لئے،وہ میرے علاوہ کسی سے محبت نہیں کرتا۔”
اس کے لفظوں میں یقین بول رہا تھا……
“تم جیسی لڑکیاں تو بس اس کی وقت گزاری ہیں، مجھ سے ناراض ہوتا ہے نا جب تو ایک آدھ افئیر بنا لیتا ہے، بس ایک تم ہو جو کسی جن کی طرح اس کے ساتھ چپک گئی ہو۔
بتایا تھا اس نے مجھے تمہارا کہ تم چھوڑنے کے بعد بھی اس کے پاس لوٹ جاتی ہو۔
پاگل لڑکی، خود کو برباد مت کرو، تمہارا نہیں ہے وہ، نا ہو سکتا ہے۔ وہ میرا تھا،میرا ہے، اور میرا رہے گا….”
پھر اس نے اپنے بائیں ہاتھ کی وہ انگلی دیکھائی جس پر رنگ موجود تھی۔
“ایک ثبوت یہ ہے… مجھے پتا تھا تم ثبوت مانگو گی۔”
پھر اس نے اپنا سیل فون نکالا اور زئی کی کنورزیشن اشنال کے سامنے رکھی۔ جسے پڑھتے اشنال کی آنکھوں میں آنسو کی جگہ پہلی بار خون دوڑا تھا۔
“مجھے لگتا ہے تمہارے سمجھنے کے لیے اتنا کافی ہے، وہ تمہیں منزل نہیں دے سکتا، اس کے پیچھے مت بھاگو۔
زندگی کو سمجھ جاؤ اشنال اس سے کہ زندگی ختم ہو جائے۔ اپنا خیال رکھنا، چلتی ہوں۔
“تم اچھی لڑکی ہو، یقیناً میری بات سمجھ جاؤ گی…””
وہ خود تو چلی گئی مگر اشنال کو جھکڑو کی زد میں لا گئی۔”
کیا تھی اشنال کی اوقات…..
کسی کی اترن کو پہنے والی…..
ماتھے پہ جو لکھی تھی قسمت
اس میں نہیں تھی کسی کی محبت…”
تڑپ تڑپ کے ترس ترس کے
دل کو رجاوے نا کوئی بغاوت….”
عمرہ ہاں جاگی ،میں ڈر ڈر کے
یوں گٹ گٹ کے، یو مر مر کے…..”
🍁🍁🍁🍁
وہ دو منٹ میں اشنال کو اس کی اوقات یاد دلا گئی تھی…
زئی کی ووت گزاری کا سامان….
زئی کے پارٹ ٹائم کا شغل….
زئی کے دل بہلانے کا کھیلونا….
اشنال کی محبت زئی کے دھوکے کی زد میں آ گئی…..
اس بار سب کچھ ختم ہوگیا تھا….
رات کو زئی کا ٹیکسٹ آیا…..
“موڈ پھر سے بدلنے لگا ہے تمہارا، ایشے؟”
“پیاری ہے تمہاری منگیتر۔”
او تو وہ تم سے ملنے آئی تھی۔” شاید وہ سمجھ چکا تھا۔۔۔
“تمہیں یاد ہے زئی ایک بار میں نے پہلے بھی تم سے کہا تھا کہ اگر ایسا کچھ ہے تو تم مجھے بتا دو ابھی سے۔
تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا زئی؟”
اسکرین پر گرتے آنسو اسے ٹیکسٹ لکھنے اور میسج پڑھنے سے روک رہے تھے……
“ایشے ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تمہیں بتایا گیا ہے۔”
پھر کیسا ہے زئی؟ تم مجھے بتا دو کیسا ہے؟”
“میں تمہیں نہیں بتا سکتا، نا میں تمہیں بتاؤں گا..”
آہ….. تم مجھ پر شک کر رہی ہو؟”
“نہیں زئی، جہاں حقیقت سامنے آجائے شکوک وہیں دم توڑ جاتے ہیں۔”
“اوکے فائن، تو تمہیں جاناہے، ٹھیک..؟”
اپنا خیال رکھنا، دعا ہے ہمیشہ خوش رہو۔”
“ایشے پاگل مت بنو، میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ کسی ایکس وائے زیڈ سے نہیں….”
“بس کرو زئی، اور کتنا شرمندہ کرو گے محبت کو؟”
“بکواس بند کرو ایشے۔ تمہیں حقیقت نہیں پتا۔”
“تو تم مجھے حقیقت بتاؤ نا زئی، کیوں مجھے سولی پہ لٹکا رکھا ہے؟”
کیوں مجھے پل پل اذیت دے رہے ہوں؟”
میں تمہیں بتا نہیں سکتا، بس اتنا کہہ رہا ہوں مجھ پر ٹرسٹ کرو۔”
وہ ہنسی۔”
“ٹرسٹ کیلئے کچھ چھوڑا ہی نہیں تم نے..”
“تمہارا جانا میرے لئے کوئی ایشو نہیں ہے، تم نے جانا ہے جاؤ، میں نہیں روکوگا، میں تنگ آگیا ہوں، تمہاری روز روز کی لڑائیوں سے….
اچھا ہے جاؤ گی سکون، میں تو سکون میں رہونگا۔”
کوئی پوچھے میرے دل سے
کیسے یہ زہر پیا ہے…😭
مرنا کس کو کہتے ہیں
جیتے جی یہ جان لیا ہے….
بے درد زمانے سے میں
کوئی شکوہ کروں تو کیسے….💔
ہمدر جسے سمجھا تھا
اس نے ہی تو درد دیا ہے…..،
ہائے ربا، ہائے ربا
کوئی درد نہ جانے میرا…..💔
محبت ایسا بھی حال کرتی ہے،کہ پھول لہجے شعلے بن جاتے ہیں۔
میرے آنسوں قرض ہیں تم پر زئی….٫”
میرا خدا تم سے پوچھے گا…….”
“کیسے آنسوں، نا محرم کے آنسو، ایک چیز سرے سے ہے ہی غلط اسکا کیا گناہ کیا ثواب….”
اور کیا گناہ کیا ثواب….”
اور گناہ تم نے کیا ہے ،خدا مجھ سے کیوں پوچھے گا….؟
جاؤ اور اس بار وآپس نا آنا…”
💔💔💔💔💔
وہ ایک لڑکا
جو ایک عرصے تک
ایک غیر محرم لڑکی سے
اپنی بےپناہ محبتوں کا
دعویٰ کرتا رہا
آج سس لڑکی کو
ایک” اچھی بات” بتا رہا ہے۔
کہ اچھی لڑکیاں” کسی غیر محرم سے
محبت نہیں کرتیں۔
کتنی آسانی سے وہ سسرے گناہ اشنال کے سر تھوپ گیا تھا۔
کتنی آسانی سے گہنگار ٹھہرا گیا تھا۔
کیا وہ واقعی اکیلی گنہگار تھی؟”
کیا زئی اس کے ساتھ اس گناہ میں شریک نہیں تھا؟ یا وہ سب زئی کے لیے جائز تھا؟
کیا نامحرم محبت کا گناہ عورت کے کھاتے میں ہی لکھا جاتا ہے؟
کیا مرد واقعی بری الزمہ ہوتا ہے؟
کئی سوال تھے اس کے پاس مگر سننے احتساب کرنے والا کوئی نہیں تھا….
مگر پہل اس نے کی تھی……سو…… اس نے مان لیا تھا وہ ایک بری خراب اور گنہگار لڑکی ہے۔
اس رات وہ دیواروں سے ٹکریں مار مار کر روئی تھی، ساری رات وہ اتنا روئی کے اس کی آنکھیں سوجھ گئیں، اس کا گلہ بیٹھ گیا……
وہ شخص جو اس کے ساتھ محبت میں برابر کا شریک تھا، مگر درد اس اکیلی کے حصے میں آیا تھا کیونکہ وہ عورت تھی۔ اپنے حق کے لیے کس کو کہتی کس سے اپنی بے شمار محبت کا صلہ مانگتی، وہ تو خدا کی بھی گنہگار تھی۔
______________________________
اس رات اور اس سے آگے آنے والی کئی راتیں وہ سو نہیں سکی تھی۔
راتوں کو خاموش کمرے میں اس کی سسکیاں گونجتی، کبھی اپنی سسکیوں کو روکتی، کبھی گھٹن اس قدر بڑھ جاتی کہ وہ رونے لگتی ایسا محسوس ہوتا کہ ابھی دل درد سے پھٹ جائے گا، جان نکل جائے گی، مگر یہ سیسی اذیت ہوتی ہے اس درد میں کسی کو موت نہیں آتی، یہ درد نا چاہتے ہوئے بھی سہنا پڑتا ہے۔”
وہ کہہ رہا ہے مالا تیری سوچ ہی غلط ہے۔
میں نےاسی کو سوچا یعنی کہ وہ غلط تھا؟
___________________________
وہ زندگی سے تنگ آگئی تھی، وہ فرار چاہتی تھی، مرنے کی دعا مانگتی تھی، مگر موت مانگنے والے کو موت نہیں ملتی اور زندگی مانگنے والے کو جینا نصیب نہیں ہوتا…..
رمضان کا آخری روزہ تھا،بابا کی طبیعت آج پھر بگڑ گئی تھی۔ ہاسپٹل سے واپسی پر بستر پر لیٹے بابا نے اسے پکارا۔
“ایشے پتری۔”
“جی بابا ۔”
“پتری ایبٹ آباد چلیں؟”
“بابا….؟”
“میں اس شہر میں نہیں مرنا چاہتا، میں چاہتا ہوں مرنے کے بعد مجھے ایبٹ آباد کی زمین نصیب ہو۔”
“استغفرُللہ بابا”، کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ، کچھ نہیں ہو گا آپ کو دیکھنا، بھلے چنگے ہو جائیں گے آپ۔”
وہ انھیں حوصلہ دینے لگی۔
ایک ساتھ کئی دکھوں نے اسے آ گھیرا تھا…..
تکا دیا تھا زندگی نے اسے…….
حقیقت تو یہ تھی وہ خود بھی اس شہر سےدور جانا چائتی تھی،
اس شہر میں زئی کی خوشبو اسے تنگ کرتی تھی۔
اس کے بائیک کی آواز پگھلے ہوئے سیسے کی طرح محسوس ہوتی۔
وہ اس شہر میں میرے لئے آتا ہے،یہ جملہ اسے رات میں سونے نہیں دیتا تھا۔
__________________________
اس نے سنا تھا،جس محبت کا آغاز اور اظہار عورت کی طرف سے ہو اس محبت کی کوئی اوقات کوئی منزل نہیں ہوتی….
واقعی وہ مان گئی تھی،اور پھر جب آغاز اور اظہار میں پہل اس نے کی تھی تو اب محبت کا انجام بھی اسے ہی بھگتنا تھا۔
رشتوں میں دوری تو وہ کر چکا، اب بس راستوں میں دوری باقی تھی……
وہ باپ بیٹی دونوں فرار چاہتے تھے،مگر شہر بدلنے سے دلوں پر چھائے بوجھ کہاں کم جاتے ہیں۔
فرار صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے اور وہ تھی موت…..
اور دونوں میں سے کسی ایک کو نصیب ہوئی تھی……
پراپرٹی ڈیلر کے ہاتھ گھر بیچ کر انہوں نے باقی کا قرض ادا کر دیا تھا۔
عیدالفطر کے پانچویں روز انہوں نے اپنے اس گھر کو آخری بار نظروں میں بھرا اور ٹرین کے ذریعے ایبٹ آباد کیلئے نکلے……
__________________________
گھر کی دہلیز سے گلی کے آخر تک ہر قدم کے ساتھ آنسو اس کے شہر کی زمین میں جذب ہوتے رہے۔
صبح بعد ازفجر گلیاں سنسان تھیں،وہ زمین پر بیٹھی اور مٹھی میں ریت کو بھر کر ٹشو میں بند کر دیا۔
” جس شہر کو تیرے قدموں نے چھوا
وللہ میں اس مٹی کے صدقے”
وہ رو رہی تھی،اس نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی، پانی کی چند بوندیں اس کے چہرے پر پڑیں….
تو اس کے جانے پر آسمان بھی رو رہا تھا….
گھر سے پلیٹ فارم تک کے راستے وہ روتی آنکھوں سے آنسوں خشک کرتی اور اس شہر کی ایک ایک گلی کو اپنی آنکھوں میں بھر لیتی۔
ٹرین نے سائرن دے کر جھٹکا کھایا۔ کراچی کے رینگتے منظر اس سے کھونے لگے، وہ اب بھی رو رہی تھی، اس کے آنسو ٹرین کی کھڑکی کو گیلا کر رہے تھے…..
اور رونا تو شاید اس کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا…….
وہ اسے اس کیلئے چھوڑ آئی تھی، جس کیلئے وہ اس شہر آتا تھا….
___________________________
ایبٹ آباد آئے انہیں پندرہواں روز تھا، جب اس کے بابا کو شوکت خانم میموریل ہاسپٹل سے واپس لایا گیا۔
کسی نے جب اس سے کہا کہ تمہارے بابا کو ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے، وہ چیخی اور لڑنے لگی۔
“ڈاکٹر خدا تو نہیں ہیں جو جواب دے دیں۔”
پھر ایک صبح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی زندگی اجڑ گئی…..
بابا بھی چھوڑ گئے…..
کراچی سے اسے سب فرینڈز کی کالز آئیں سوائے زئی کے…
اسے انتظار تھا اس کی کال کا، یا یوں کہہ لے کہ اس کے کوٹ آنے کی امید…..
مرد بھی بڑی عجیب شے ہے،عورت کی آنکھوں سےستارے نوچ کر اسے بےنور کر کے لاوارثوں کی طرح پھینک جاتا ہے…
اور پھر……
لاوارث قبروں پر
دعائیں کون کرتاہے۔
________________________
بابا کی ڈیتھ کے بیسویں روز اسے فروا کی کال ملی تو اسنے پوچھا۔
“اسے بابا کی ڈیتھ کا بتایا تھا فری؟”
“ہاں”
“کیا کہاں اس نے؟”
“وہی بات جو وہ تمہیں ہمیشہ کہتا تھا، کہہ رہا تھا سبھی نے مرنا ہے….”
ابھی وہ اس جملے سے نہیں نکلی تھی کہ فری کا ایک اور لفظ اس کی روح قبض کر گیا۔
“ایشے۔”
“ہممممم۔”
وہ شادی کر چکا ہے جس دن انکل کی ڈیتھ ہوتی تھی،
اس شام زئی کی مایوں تھی….”
شاید اس سے آگے بھی فری نے کچھ کہا ہوگا مگر فون پر اس کی گرفت اتنی ہی رہ سکی تھی، اور فون اس کے ہاتھ سے پھسلتا ہوا زمین پر جاگرا…….
وہ خود بھی ایسے ہی شاکڈ کے عالم میں زمین پرانکھوں میں بے یقینی کے ڈھیرے لیےبیٹھتی چلی گئی……
بھول جانے کا ہنر مجھ کو سکھاتے جاؤ
جا رہے ہو تو سبھی نقش مٹاتے جاؤ
چلو رسمن ہی سہی، مڑ کے دیکھ تو لو
توڑتے توڑے……….. تعلق کو نبھاتے جاؤ
______________________
“نہیں زئی، نہیں، تم ایسا کیسے کر سکتے ہو، تم جانتے ہو نا تمہاری ایشے تم سے کتنا پیار کرتی ہے، تمہارے بنا نہیں رہ سکتی…….
زئی مجھے لگا کے میں نے بابا کو کھو دیا ہے،مگر تم میرے ساتھ ہو، کیا پتا تمہیں احساس ہو گیا ہو، کیا پتا تم لوٹ آؤ میرے پاس،ایک امید تھی مجھے زئی…..
زئی ایک بار تو سوچا ہوتا، ایک بار تو میری پکار کو سنا ہوتا، ایک بار زئی…………..ایک بار۔”
کبھی کبھی یہ مجھے ستائے
کبھی کبھی یہ رولائے…….!!
فقط میرے دل سے اتر جائیےگا
بچھڑنا مبارک، بچھڑ جائیے گا…!!
________________________
وہ سسکیوں سے روتی کبھی خود کو تھپڑ مارتی، کبھی بالوں کو نوچتی……
زئی کیوں کیا ایسا تم نے، میری دنیا کو اجاڑ کر اپنی دنیا کیسے بسا لی۔”
دیوار سے ٹیک لگائے زمین پر وہ ایسے بیٹھی تھی،جسے کوئی طوفان پل بھر میں کسی بستی کو اجاڑ گیا ہو،
جیسے کوئی بے سہارا اپنا سب کچھ لوٹا بیٹھا ہو۔۔”
چھت کو تکتی وہ گزرے لمحوں کو سوچنے لگی، آنکھوں سے بہتے آنسوں اس کے دامن کو بگو رہے تھے۔
میں سمجھا تھاتم ہو تو کیا اور مانگوں……..!!!
میری زندگی میں میری آس تم ہو…….!!!
یہ دنیا نہیں ہے میرے پاس تو کیا….!!!
میرا یہ بھرم تھا،میرے پاس تم ہو……!!!
مگر تم سے سیکھا،محبت بھی ہو تو…!!!
دغا کیجیے گا، مکر جائیے گا…..!!!
__________________________
شکستہ قدموں سے وہ اٹھتی،کمرے سے نکلی اور لان میں لگی کیاریوں کے پاس جارکی۔
اب وہ پہلے پودے پر لگے تازہ سرخ گلاب کی پتیاںنوچنے لگی……
میرا ہاتھ کل تک تیرے ہاتھ میں تھا
میرا دل دھڑکتا تھا دل میں تمہارے…!!!
یہ مخمور آنکھیں جو بدلی ہوئی ہے
کبھی ہم نے ان کے تھے صدقے اتارے….!!!
کہی اب ملاقات ہو جائے ہم سے
بچا کر نظر کو گزر جائیے گا….!!!
جینا ہے تیرے بنا، جینا ہے تیرے بنا
جینا ہے اب مجھ کو تیرے بنا…..!!!
________________________
آئی گیٹ زئی، آئی گیٹ ایوری تھنگ،
آئی لوسٹ زئی، آئی لوسٹ ایوری تھنگ,
ایک ایک کرتے سارے پھولوں کی پتیاں اس نے ادھیڑ ڈالیں،،
کیاریاں اپنی اجڑی حالت کو رو رہی تھی، اور زمین پر پڑے پھول الگ رو رہے تھے۔
اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی،تو گلے میں لپٹا دوپٹہ اتار کر زمین پر پھینکا اور خود ٹھنڈے فرش پر سیدھا لیٹ گئی……
اس کی آنکھوں کے کناروں سے آنسوں کی لائنیں اب فرش کو گیلا کر رہی تھی،اس کا بے آواز رونا اب سسکیوں میں ڈھل گیا تھا……..
❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤
اگلی صبح بابا کی قبر پکی ہونی تھی، ساری رات رونے سے بھی اس کے آنسو خشک نہیں ہوئے تھے،وہ سارا دن بھی روتی رہی، دیوار سے پشت لگائے، خاموشی سے آنسو تھے کہ کسی ریلے کی طرح بہے جارہے تھے۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد پرسہ دینے والی خواتین اس کے پاس آتیں اس کے بہتے آنسو اپنے ہاتھوں سے پونچھیں اسے گلے سے لگاتیں، دلاسہ دیتیں اور صبر کی دعا دے کر چلی جاتی…….
وہ کس غم پر روتی، کس پر دلاسہ مانگتی؟
کوئی ایک غم تو نہیں تھا اس کا کچھ غم تو اس نے خود خریدے تھے…..
جب ہمارے گناہوں کی تعداد بڑھ جاتی ہیں نا تو ہمارے دکھوں کی فہرست بھی اسی حساب سے لمبی ہوئی چلی جاتی ہے…..
دلاسہ دینے والے کیا جانیں۔
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے…..
_______________________
ڈائری لکھتے جانے کب اسکی آنکھ لگی اور وہیں ٹیبل پر سر رکھے سوگئی۔
آسیہ خاتون کی پہر آنکھ کھلی، اسے یوں بے ترتیب سوتے دیکھا تو اٹھ کر اس تک آئیں، اسے جگایا۔
کسی کے جھنجھوڑنے پر اسکی آنکھ کھلی، ڈائری بند کرکے وہ بستر پر آکر لیٹ گئی….
تکیہ پھر بھیگنے لگا…….
تینوں پلڑاں میں چاہواں، راتوں رات پل جاواں..!
گل مکدی اے اتھے، میں پلڑاں نہیں چاہندی…..!
________________________
وہ آج بھی مرجھائی ہوئی جھاڑیوں میں پھنسی بیٹھی تھی، کانٹے اس کے جسم میں پیوست تھے اور اس کے جسم سے خون رس رہا تھا، ہاتھوں میں نوکیلے کانٹے پھنسنے سے ہاتھ خون آلود ہو رہے تھے۔ وہ آج بھی میرون چادر میں چہرہ ڈھانپے تھی، وہ رو رہی تھی، اسکے آنسو آنکھوں سے بہہ کر اس کی چادر کو گیلا کر رہے تھے، پھر اس نے دیکھا اس کاسر زمین کی طرف جھکنے لگا تھا، جیسے وہ خود کو کانٹوں سے آزاد کرانے کی کوششوں میں بےبس ہو۔
اس کا جسم ہولے ہولے لرز رہا تھا، پھر اسے اس کی سسکیاں سنائی دیں، وہ چلتا ہوا اس کے سامنے جا رکااور
اسے پکارا۔
“سنو،’ پاگل آنکھوں والی لڑکی۔”
سسکیاں تھمی اور پاگل آنکھوں والی لڑکی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
میرون چادر میں وہ آنسو بھری آنکھیں اوپر کو اٹھیں۔
اس نے غور کیا ان آنکھوں کے کناروں سے آنسوں کی سفید لائینیں نہیں خون کے سرخ قطرے ٹپک رہے تھے۔
اسے قے سی آئی،وہ ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹا تو اسے لگا وہ کسی اونچے پہاڑ سے گر گیا ہو۔
وہ سوتے میں چیخیں مار رہا تھا……. جب کسی نے اسے بری طرح جھنجھوڑا۔
“شاہ…………….. سکندر…………. آنکھیں کھولو۔”
وہ یکدم خواب سے حقیقت میں آیا۔ اس ٹھنڈ میں بھی وہ پورا پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔
“پھر وہی خواب دیکھا تھا؟”
انہوں نے پانی کا گلاس اسکی طرف بڑھایا۔
تین سانسوں میں تھوڑا تھوڑا پانی پی کر اس نے گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
“جی بابا، آپ کی بہو میرے پسینے نکال دیتی ہے۔”
اس نے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر چہرہ خشک کیا۔
کچھ نام پتا بھی معلوم ہے…….
“پاگل آنکھوں والی لڑکی۔”
“یہ کیسا نام ہے؟” انہوں نے نام دہرایا۔
باباوہ کچھ بھی نہیں بولتی بس روتی ہے مگر اسکی آنکھیں بابا، مجھے لگتاہے جیسے اسکی آنکھوں میں ہزار شکوے دفن ہوں،
جیسے کوئی پاگل آنکھیں……”
اچھا چلو پتا لگاتے ہیں پھر اس کا تم سونے کی کوشش کرو۔”
“آپ کی بہو مجھے اتنا ہی سونےدیتی ہیں بابا۔کبھی ملی تو کان کھینچئے گا اسکے……”
“ہاہا ضرور………” وہ ہنسے۔
“آپ جاکر سو جائیں بابا، میں ٹھیک ہوں…..”
جاتے ہوئے وہ گیٹ لاک کرگئے تھے،وہ اٹھا اور وضو بنا کر تہجد کیلئے جائے نماز بچھانے لگا……
__________________________
یہ خواب وہ تب سے دیکھ رہا تھا، جب وہ تفریح کیلئے فرینڈز کے ساتھ کیلی فورنیا گیا تھا……. واپسی پر پلین میں بیٹھے اسے نیند آگئی، اور نیند میں پہلا خواب اس نے یہی دیکھا تھا…….
اور واپس آنے پر اکثر یہ خواب اسے رات میں خوفزدہ کر دیتا تھا۔ ان خوابوں اور اس لڑکی کی وجہ سے وہ سارا سارا دن بےچین رہتا، بے مقصد سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا ہر چہرے کو غور سے دیکھتا کہ کہیں وہ تو نہیں…….
ہر میرون چادر کے پیچھے اسے “پاگل آنکھوں والی لڑکی” کا گمان ہوتا…..
مگر اس کی تلاش ابھی باقی تھی…….
________________________
صبح جب وہ سوکر اٹھی تو منہ دھونے واش بیسن کے سامنے کھڑی ہوئی، پانی کے چھپاکے منہ پر مار کر وہ آئینے میں اپنے ذرد چہرے اور آنکھوں کو دیکھنے لگی، جس پر کل رات کے درد شقیقہ کی باقیات ابھی باقی تھیں……….
گزرتے ماہ وسالوں کی سختیاں اس کے چہرے پر باقی تھیں۔
آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ حلقے، آنکھوں کے اندر تیرتی زردی، اور زردی سے جھانکتے سرخ ریشے، ہاتھوں کی ایک ایک نبض انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی، وہ ایسی تو نہیں تھی……
اسے یاد آیا ایک دن زئی نے اس کی میل کی گئی تصویر دیکھ کر کہا تھا…….
ہائے! گڑیا لگ رہی ہو قسم سے۔ اتنی نازک، گڑیا جیسی……
پتا ہے میرا دل کیا کر رہا ہے؟”
“کیا؟”
“ایک عجب خواہشیں اٹھتی ہیں ہمارے دل میں
کرکے سامنا ہواؤں میں اچھالیں تم کو……..”
وہ شاعرانہ انداز میں گویا ہوا……
” ہاہاہاہا۔” وہ ہنس پڑی……..
سچ ایشے، تم میرے پاس ہوتی میں تمہیں بتاتا میرے دل میں کتنی محبت ہے تمہارے لیے……”
اور لفظ ہی نہیں، لہجے میں سمٹی شدتیں بھی جھوٹی ہوتی ہے۔
“جان، مل لونا مجھ سے، تم جہاں کہو گی جس پارک ریسٹورنٹ، کسی بھی ہوٹل میں آجاؤ گا…..”
ہمیشہ کی طرح وہ آج بھی اسے ملنے پر اکسا رہا تھا…..
وہ ایک محلے میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے اکیلے میں باقاعدہ ملاقات نہیں کر پائے، گوکہ اسے زئی نے کئی بار کہا تھا کہ ملنے آؤ……..
مگر وہ نہیں گئی…….
________________________
ایک بار زئی نے اسے ملنے کے لیے بولا، تو اس نے کہا……
مجھے ملنے سے ڈر لگتا ہےزئی۔”
کیسا ڈر؟ ہم محبت کرتے ہیں یار……”
“وہ تع ٹھیک ہے زئی مگر، ملنے کے بعد ہم اپنے نہیں رہتے،
ملنے کے بعد ہمارے اختیار میں کچھ نہیں رہتا، ایک بار مل کر بار بار ملنے کی خواہش سر اٹھانے لگتی ہے، تشنگی اور بڑھ جاتی ہے۔”
وہ خاموش رہا تو اشنال بول پڑی….
“زئی میں چاہتی ہوں کہ ہماری محبت پاک ہو، کہ اللہ پاک بھی کن کہہ دے….اور ہمیں ملا دے….”
ایک بار ملیں گے ناہم، ہمیشہ کیلئے، تم مجھے مانگنے آنا اور اپنے ساتھ لے جانا۔”
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ بولا….
“ایشے………… میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں مگر…….”
وہ ابھی اس کی بات پوری سن نہیں پائی تھی کہ پیچھے سے اسے امی کی آواز آئی۔
“زئی امی آرہی ہیں، میں بعد میں کال کرتی ہوں۔”
ذور زئی کا مگر سننے سے پہلے کال کٹ چکی تھی……
______________________
حضرت خدیجہ ( رضی اللہ عنہ) وہ پہلی عورت تھیں جنہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف خود نکاح کا پیغام بھیجا تھا، یوں اللہ نے عورت کو یہ اجازت دی تھی کہ اسے اگر کسی کی عادات یا اخلاق پسند آئے تو وہ اسے نکاح کا پیغام خود دے سکتی ہے۔
مگر افسوس ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ عورت کے اس عمل کو عورت کی توہین سمجھتے ہیں۔
یا ایسا کرنے والی لڑکی کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
اگر کوئی لڑکی کسی لڑکے کو نکاح کیلئے کہتی ہے تو وہ اس نامحرم کو محرم بنانا چاہتی ہے، اس رشتے کو جائز نام دینا چائتی ہے۔
پس اگر نکاح کے پیغام پر وہ لڑکا بھی راضی ہو تو دیر نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ عورت اور مرد کے درمیان جائز رشتہ نا ہو تو تعلق گناہ ہوتا ہے۔
اگر کوئی شخص آپ کے نکاح کا انکار کر دیتا ہے، بھلے اس کی سو مجبوریاں کیوں نا ہوں، اس شخص سے تعلق حرام ہو جاتا ہے۔
جو جائز رشتہ نہیں رکھ سکتا، اس کے ساتھ نا جائز رشتے توڑ دینے چاہیے، اسی وقت اسی لمحے……
________________________
وہ جان گئی تھی مگر کے آگے کے سارے لفظ.……
مگر وہ دعاؤں سے تقدیر بدل دینا چاہتی تھی…….
اس نے سنا تھا کہ محبت میں صدق نا ہو تو محبت نہیں ملتی، اسلئے وہ دل کی تمام تو سچائیوں کے ساتھ دعا میں زئی کا ساتھ مانگنے لگی۔
وہ بھول گئی تھی کہ محبت میں صدق دونوں کے دل میں ہو تو محبت ملتی ہیں، وہ اپنے دل کی سچائیوں سے تو مانگتی تھی۔گر اس کے برعکس زئی کے دل میں اس کے لیے خلوص، چاہت، سچائی، محبت، کچھ بھی تو نہ تھی، وہ تو بس اس کے لیے وقت گزاری تھی…..
____________________
اسے یاد تھا اس رات جانے کتنے دنوں بعد اس نے تہجد کی نماز پڑھ کر دعا مانگی تھی کہ کوئی معجزہ اسے میرا کر دے……….
اچھی لڑکیاں جب بری بن جائیں تو پھر کبھی کبھی اپنی پرانی نیکیوں کے بدلے میں اللہ سے معجزے کی آس لگا لیتی ہیں، حالانکہ انکے اعمال ایسے بھی نہیں رہے ہوتے کہ وہ بخشی جا سکیں۔
ایک دھوکا اسے زئی نے دیا تھا،ایک دھوکہ وہ خود ہی خود کو دے رہی تھی، زئی اسے کبھی ملنا نہیں تھا۔۔۔۔۔
کیونکہ جو اپ کا نہیں ہوتا وہ آپ کو کبھی نہیں ملتا۔
اللہ پاک فرماتا ہے کہ:-
بندے ایک تیری چاہت ہے، ایک میری چاہت ہے، تو اگر وہ کرے گاجو میری چاہت ہے، تو میں وہ کروں گا جوتیری چاہت ہے،اگر تو وہ کرے گاجو تیری چاہت ہے تو میں تجھے تھکا دوں گا اس کے پیچھے، پس ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔
اگر ہم وہ کرتے جو اللہ پاک کی چاہت ہے تو یقیناً ہمیں وہ مل ہی جاتا جو ہماری چاہت ہے، مگر ہم محبت پاکر اس قدر غافل ہو جاتے ہیں اپنے رب سے، کہ ہمیں وہ یاد ہی نہیں آتا،اگر کبھی سجدے میں جھک بھی جائے تو دل اور دماغ غیر محرم کے خیالوں میں گم،اور زبان سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔
اس کو کب پسند ہے کہ میرا بندہ جس کو میں اتنی محبت کرتا ہے، 70 ماؤں سے کئی گناہ بڑھ کر محبت کرتاہو،تو وہ کسی غیر کی محبت میں اتنا ڈوب گیا کہ وہ مجھ سے ہی غافل ہو گیا، پس پھر جب ہم اپنی چاہت، اپنی محبت میں مست ہو جاتے ہیں،اس کی چاہت کو بھول جاتے ہیں تو وہ ہمیں اسی شخص کے ہاتھوں توڑ دیتا ہے، جس کے لئے ہم اللہ سے غافل ہو جاتے ہیں،اور بلآخر ہوتا وہی ہے جو اس کی چاہت ہے۔
________________________
آئینے میں اس کا عکس پھر بن چکا تھا…….
آنکھوں کے ڈورے سرخ ہوچکے تھے،اس نے اپنے بڑھے ہوئے ناخنوں سے اپنے چہرے کو ماتھے سے تھوڑی تک کھرچنا شروع کیا۔
وہ دونوں ہاتھوں سے ناخنوں سے چہرے کو نوچ رہی تھی…….
کھرچی گئی جلد پر خون کی دھاریاں بنتی گئیں۔
“نفرت ہے مجھے اپنے چہرے سے، نفرت ہے مجھے ہر اس چیز سے جس میں مجھے تمہارا عکس نظر آتا ہے۔
جدائی جب لکھی جا رہی ہوتی ہے،تو اپنے اپنے حصے کی یادیں بھی واپس کرنی چائیے ناں…….، تم اپنی یادیں میرے پاس کیوں چھوڑ کر گئے ہو…؟
کیوں زئی کیوں کیا تم نے ایسا……؟”
بے حسی کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ ہمیں دوسروں کے گناہ تو دکھائی دیتے ہے مگر اپنے نہیں…….
ہمیشہ کی طرح اس کا دل آنسوؤں کو پیتے پیتے بھر گیا تھا،اور آنسو بہا دینا ہی اچھا ہوتا ہے، ورنہ دلوں پر بوجھ بن جاتے ہیں۔
مگر کچھ بوجھ ایسے ہوتے ہیں جو آنسو بہا کر بھی کم نہیں ہوتے۔ اس کے حصے میں صبر شاید کم لکھا گیا تھا……
____________________________
اس نے تو ابھی بی اے بھی مکمل نہیں کیا تھا، کہ طوفان آپہنچے۔ جو بھی بہر حال اسے ہی کچھ کرنا تھا۔
کم ازکم اتنا کہ وہ ماں بیٹیاں اپنی ضروریات خود پوری کر سکیں۔
اس نے قریب ہی ایک پرائیویٹ سکول میں ٹیچنگ شروع کر دی تھی، عورت کی ٹیچنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی مرد کی آمدنی کے برابر نہیں ہوسکتی، لیکن اسے تھوڑا تھوڑا ہی بہت تھا…….
اللہ جب باپ جیسے مضبوط اور واحد سہارے چھینتا ہے، تو کسی نہ کسی کو وسیلہ بنا ہی دیتا ہے……
سکول سے واپس آتی ڈیڑھ بج جاتا، نماز کے بعد کھانا کھا کر کچھ دیر سستانے لیٹتی کہ ٹیوشن والے بچے آجاتے..۔..
زندگی کی یہی روٹین تھی،وہ خاموش طبع شروع سے تھی مگر اب تو ایسے چپ لگ گئی تھی، اتنی بڑی حویلی میں سناٹے چھائے رہتے، بس یہ حویلی تب گونجتی جب عرشیہ آپی اور عشیہ بچوں کے ساتھ آتیں……
________________________
آج وہ کسی گندے جوہڑ میں بری طرح پھنسی ہوئی تھی، اس کا آدھا دھڑ کیچڑ میں پھنسا تھا اور آدھا اوپر۔
وہ خود کو کیچڑ سے نکالنے کی کوشش میں ہانپ رہی تھی،مگر نا وہ مکمل اوپر آپاتی،نا ہی مکمل نیچے۔
کیچڑ سے اس کے ہاتھ بھرے ہوئے تھے، بالوں پر کئی جگہ چھینٹے پڑے تھے میرون چادر پر جابجا کیچڑ کے دھبے اسے بدنما بنا رہے تھے……
آج وہ پھر اسے پکارے بنا نہیں رہ پایا۔
اس نے پھر نظریں اٹھائیں،وہی آنکھوں میں ہزار شکوے وہی سرخ خونی آنسو……
ان سرخ آنکھوں میں پہلے بےیقینی ابھری پھر خفگی میں بدل گئی۔
شاہ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔
اس سے پہلے کہ وہ اس کے ہاتھ کوتھام لیتاایک بھونچال آیا اور جوہڑ نے اس لڑکی کو مکمل طور پر نگل لیا تھا۔
آج اس کی چیخیں پہلے سے زیادہ اونچی تھیں……..
وہ ابھی تک خواب کی سی کیفیت میں تھا، لیٹے لیٹے ہی انکھ کھول کر بابا کو دیکھا۔
“دیکھو میں تم پر شک نہیں کر رہا لیکن…”
“بابا آپ جو پوچھنا چاہتے ہیں پوچھ سکتے ہیں…”
“تم ہولی ڈیز پر فرینڈز کے ساتھ کیلی فورنیا گئے تھے، میں تم پر شک نہیں کر رہا مگر ہو سکتا ہے تم نے وہاں…..
کبھی کبھی ہم سے غلطیاں بھی ہو جاتیں ہیں ناں۔”
سہ اٹھ کر بیٹھ گیا……
“تم سمجھ سکتے ہو میں کیا کہہ رہا ہوں۔”
“بابا میں برگیڈیئر ابرائیم شاہ کا پوتا،اور ریٹائر کرنل سید احتشام شاہ کا بیٹا کیپٹن سید سکندر شاہ ہوں، بابا ہم لوگ جان دینا جانتے ہیں،لینا نہیں۔
وہ خفا ہوا تھا۔
اسے ہونا بھی چاہیے تھا۔
مجھے فخر ہے اپنی تربیت پر۔”کرنل صاحب نے اس کے کندھے پر تھپکی دی۔
وہ ابھی بھی روٹھا روٹھا تھا…….
“یار شاہ مجھے لگتا ہے کسی کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔”
وہ نا سمجھی کی کیفیت میں باپ کے چہرے کو دیکھنے لگا۔
“شاید کوئی کہیں ایساہے،جو کچھ مشکل میں ہے اور خدا نے تمہیں کسی کی مدد کیلئے چناہے۔”
اگر ایسا ہے بابا تو مجھے اسکی مدد چاہیے،نہیں؟”
اس نے بابا کی تائید چاہی۔
“بالکل……………. میں دعا کروں گا اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کو راستے اور منزلیں عطا کرے،میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
انہوں نے اس کے سر پر بوسا دیا……
“تھینک یو بابا۔”
شاہ نے باپ کے دونوں ہاتھ چوم لئیے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: