Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 7

0
پاگل آنکھوں والی لڑکی از اشنال سید – قسط نمبر 7

–**–**–

یہ خوبصورت سے شاہ ولا کا منظر تھا جہاں برگیڈیئر سید ابراہیم شاہ کے اکلوتے بیٹے لیفٹیننٹ (ر)سید احتشام شاہ اپنی بوڑھی ماں آور دو بیٹوں سید وہاج شاہ اور سید سکندر شاہ کے ساتھ رہتے تھے……
انکے بڑے بیٹے میجر ڈاکٹر سید وہاج شاہ شادی شدہ تھے اور اپنی بیوی مہوش وہاج اور بیٹے سید واسع، شاہ ولا میں موجود تھے۔
ان کی فیملی پشت در پشت فوج کے ساتھ منسلک رہتی چلی آرہی تھی۔
بلاشبہ وہ ایک فوجی گھرانہ تھا……
_________________________
اشنال کی بڑی بہن کچھ دن کے لئے اپنے گھر رہنے آئی ہوئی تھی، اس کے آجانے کی وجہ سے گھر میں دونق کا سماں تھا، بچوں کے ساتھ اشنال کا دل بھی بہل جاتا تھا۔
بوقت فجر وضو بنا کر وہ گلاب کی کیاریوں کے پاس گزری تو روز کی طرح ایک تازہ گلاب توڑکر اپنے ساتھ لے آئی، نماز پڑھتے ہوئے وہ گلاب رکھا دیکھ کر ننھی پری یعنی اس کی بھانجی نے اس سے پوچھا”
“آنی.! آپ نے پھول کس لیے توڑا ہے؟”
“اس نے دعا ختم کی اور اس گیارہ سالہ بچی کو دیکھا، جسے اللہ تعالیٰ نے آٹھ سال کی عمر میں ہی اپنے قریب کر رکھا تھا، وہ بھی پانچوں نمازیں پڑھتی تھی، سخت سردی میں بھی وہ فجر کی نماز کے لیے پچھلے دو سال سے اٹھ رہی تھی،
اشنال نے اس کے لئے جگہ خالی کی، اور وہ اس کی جگہ کھڑی ہوئی،اور اسے جواب دیا..!
“اللہ تعالیٰ کیلئے”
“اللہ تعالیٰ کو پھول کیوں دیتے ہیں؟
“جب ہم سے کوئی ناراض ہوتا ہے توہم اسے پھول دے کر مناتے ہیں”
“ماما کہتی ہیں نماز نا پڑھنے والے سے اللہ تعالیٰ خفا ہوتے ہیں لیکن آنی آپ تو ساری نمازیں پڑھتی ہیں؟
وہ حیران تھی اور اس باتونی کے پہ در پے سوالوں کیلئے خود کو تیار کر رہی تھی!!
“ہاں……… بس ایک نماز رہ گئی تھی مجھ سے”
اس نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا،تو اس نے پوچھا،
“پھول لے کر اللہ مان جاتے ہیں؟
“ہاں وہ مان جاتے ہیں”
“جب وہ مان جاتے ہیں تو وہ ہمیں سکون دے دیتے ہیں”
” سکون کیا ہوتا ہے آنی؟
اس نے پوچھا….!
“سکون وہ ہوتا ہے جو اپکے پاس ہے، آپ کے چہرے پر ہے،
آپ کے دل میں ہے”
اشنال نے اس کی تھوڑی کو چھوا….
تواس نے اس کے چہرے کو کھوجا….
“کیا آپ کے پاس سکون نہیں ہے آنی…..؟”
“نہیں میرے پاس سکون نہیں ہے”
یہ کہنے کے ساتھ ہی اس نے اپنی نظریں جکا لی، کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا۔
کیا میں بھی پھول توڑ سکتی ہوں آنی؟
آپ پھول توڑ کر کیا کرو گے جانی؟
“میں وہ اللہ تعالیٰ کو دے کر آپ کیلئے سکون مانگوں گی
“وہ ننھی پری اسے سکتے میں چھوڑ کر خو گلاب کی کیاریوں تک گئی ، اور دوسرا پھول توڑ لائی۔
اشنال کی آنکھوں میں آنسو بھر چکے تھے۔
نماز پڑھ کر وہ اس کا پھول بھی لیکر اس کے پاس آکر گئی، اور اپنے گلاب کی پتیاں ایک ایک کر کے کھانے لگی۔
“اب مجھے پتا چلا ہے آنی آپ گلاب کی پتیاں کیوں کھاتی ہیں”
اس نے اس کا گلاب اسکی ہتھیلی پر رکھا۔
اسے یہ تو معلوم تھا ہی کہ وہ اسے follow کرتی ہے مگر
اتنا اندازہ نہیں ہوا تھا کہ وہ مجھے اس قدرنوٹس کرتی ہے،
پانی پی کر وہ سو چکی تھی،اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ اب بوقت فجر ایک نہیں دو گلاب ٹہنیوں سے جدا ہوا کریں گے!!
ہم اپنا سکون خود برباد کرتے ہیں،اورپھر اس سکون کو واپس پانے کیلئے اللہ تعالیٰ ہی ہماری مدد کرتا ہے،
اور میں اللہ سے مانگ کر کبھی مایوس نہیں ہوئی،مجھے تو میرا سکون واپس مل جائے گا،مگر دعا کرو تمہیں میرا سکون نا لگ جائے”
لوکی منگدے وے ربا
اس دی چاہ وچ سکون نی کوئی”
لے لے ساریاں چاہواں میتھوں
دےدے مینو سکون ہی فیر”
______________________
ننھی پری کے سو جانے کے بعد وہ صحن میں بنی کیاریوں کے پاس آبیٹھی، جس پر گلاب کے پھول لگے تھے۔ یہ پودا آپی نے لگایا تھا،اور اس پر بہت پیارے پھول لگتے تھے۔
تازہ پھولوں کی خوشبوں صحن میں رچی بسی تھی۔
پھولوں کو دیکھتے اسے پھول چہرا نظر آیا اور وہ پھر ماضی میں پہنچ گئی۔
“تم لڑکی ہو؟ “عجیب سوال پوچھا گیا۔
“کوئی شک ہے؟”
“ہاں نا، نا کوئی چوڑیاں نا پائل، نا بالیاں، نا نوز رنگ۔
اپسی لڑکی زئی نے پہلی بار دیکھی ہے”
وہ ہنسی اور بولی۔
“میں ایسی ہی ہوں، مجھے جیولری سے وحشت ہوتی ہے، خاص کر چوڑیوں سے۔ جب چھن چھن کرتی ہے ان کی آواز مجھے بری لگتی ہے۔”
کوئی وحشت نہیں ہوتی، میں چوڑیاں بھیجوں گا،
پہن لینا۔ مجھے مہندی اور چوڑیوں والے ہاتھ اچھے لگتے ہیں۔”
پھر زئی نے اسے سرخ رنگ کی کانچ کی چوڑیاں بھیجیں، جو اس نے پہن لی تھیں……..
اس نے چوڑیوں کی چھن چھن کی آواز اسے سنائی…..
ہائے…….. دل چاہتا ہے تمہارے ہاتھ چوم لوں۔”
زئی کی ایسی باتوں پر اس کی سانسیں رکنے لگتی تھیں۔
“آئی لو یو ایشے۔”
“لویو ٹو زئی…..”
اور جب وہ حقیقت معلوم ہو جائے کہ پیار سارا فریب تھا تو دنیا ہی نہیں اپنا آپ بھی برا لگنے لگتا ہے۔
اب گلاب کے ساتھ لگے کانٹے اسے دکھائی دیئے، گلابوں کو چھونے کی خاطر جو ہاتھ اس نے بڑھایا اب کانٹوں کی طرف جانے لگا تھا۔
موٹے نوکدار کانٹوں بھری ٹہنی اس نے اپنی ہتھیلی میں جکڑ لی،کاجل سے پاک بےرنگ آنکھیں ایسے کانٹوں کی عادی ہو چکی تھیں……
کچھ دیر بعد اس کی ہتھیلی سے خون نچڑنےلگا، کانٹوں سے ہاتھ چھڑا کر وہ ہتھیلی سے ٹپکتا خون دیکھنے لگی..
وہ اذیت پسند ہو چکی تھی،
لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں
ہم نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں…..
__________________________
سورج کی تیز شعاعیں ایبٹ آباد شہر کی سڑکوں پر پھیلی تھیں۔ شاہ آج ایبٹ آباد کسی دوست سے ملنے آیا تھا، اور اس وقت کافی تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا۔ اس نے اپنی بلیک مرسڈیز سڑک کنارے روکی، سڑک کے موڑ سے کچھ لڑکیاں نمودار ہوئیں، اس کی نظر سب لڑکیوں سے ہوتی ہوئی اپنی جگہ پلٹنے ہی والی تھی کہ اسے پیچھے سے آتی ہوئی ایک اور لڑکی نظر آئی……
میرون شال میں اس کی نگاہیں الجھی، یہ وہی شال تھی جو اس کی پاگل آنکھوں والی لڑکی کے سر پر ہوتی تھی
ابھی وہ کچھ دیر اور میرون شال میں الجھا رہتا کہ لڑکی چلتے ہوئے اس کے قریب آئی…….
وہ گاڑی سے نکلا……… گلاسز اتارے…..
جوں جوں ان کے درمیان فاصلہ کم ہونے لگا، شاہ پر اس کی آنکھیں واضح ہونے لگیں….. وہ شاہ سے چند قدموں کے فاصلے پر تھی جب…..
میرون شال والی لڑکی حجاب میں قید آنکھیں ذرا کی ذراہ اوپر اٹھیں۔
شاہ کا سانس ہوا میں معلق ہو کر رہ گیا۔
وہ اپنا دوسرا پیر گاڑی سے نکالنا بھول گیا، وہ پلکیں جھپکنے کا ہنر بھول گیا،وہ پاس سے گزرتے لوگوں کو بھول گیا
اسے یاد رہا تو بس اتنا….
“پاگل آنکھوں والی لڑکی”
وہ زیرلب دہرایا۔
بلاشبہ وہ پاگل آنکھوں والی لڑکی ہی تھی۔
اسے لگا شاید وہ ابھی بھی رات والے خواب کے زیراثر ہے،
مگر جب وہ لڑکی اس کے سامنے گلی کا موڑ مڑی اور سڑک کے ساتھ بنی حویلی کا دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔
دروازے کے بند ہونے کی آواز پر وہ حقیقت میں پہنچا….
اس نے اپنی تلاش کو پالیا تھا……
_________________________
شاہ گاڑی پورچ میں پارک کی تقریباً بھاگتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا۔
بابا………..بابا…….. کی آوازیں لگاتا وہ سامنے سے آتی بھابھی سے ٹکرایا………. ان کے ہاتھ م پکڑی کچے چاولوں کی ٹرے چھوٹی اور ٹرررررررررررررششش کی آواز کے ساتھ سارے چاول زمین بوس ہوگئے……
“ارے ارے کیا ہو گیا ہے، کیوں اتاولے ہو رہے ہو، دشمنوں نے پھر حملہ کر دیا کیا؟”
دادو نے دل پر ہاتھ رکھے آواز لگائی……….
“سوری سوری سوری بھابھی۔”
شاہ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر معذرت طلب کی، بھابھی نے انکھ کے اشارے سے بابا کا پتا دیا……..
دودو سیڑھیاں ایک ساتھ پھلانگتے وہ اسٹڈی روم پہنچا،
دوزانوں باپ کے سامنے بیٹھا اور سر جھکا کر لمبے لمبے سانس لینے لگا۔
سید احتشام شاہ نے ہاتھ میں پکڑی کتاب گود میں رکھ دی….
“خریت شاہ……؟”
اس نے سر اٹھایا تو نیلی آنکھوں کے گرد سرخ ریشے دکھائی دیئے…….
“بابا وہ مجھے مل گئی ہے۔” اس کا لہجہ اسکی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں۔
سید صاحب مسکرائے، اور شاہ کے ماتھے پر چپکے بالوں کو انگلی کی مدد سے پرے ہٹایا……..
“بری بات کیپٹن روتے نہیں ہوتے۔”
وہ ہنس دیا،اور سر ان کے گھٹنوں پر رکھ دیا……
وہ جانتے تھے یہ خوشی کے آنسو تھے……..
میں نے کہا تھا ناں اللہ تمہاری مدد کرے گا۔”
پچھلی بار جب میں فرینڈز کے ساتھ ایبٹ آباد گیا تھا، وہاں راستے میں یہ لڑکی میں نے دیکھی تھی۔ وہ بہت خوش تھی، سس کے لہجے میں خواب بولتے تھے،
بابا مگر اب اس کی آنکھوں میں خواب مر گئے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جسے کسی نے اس کی آنکھوں سے روشنی چرالی ہو،اسے میری نظر لگ گئی ہے بابا…..”
انہوں نے اپنے شہزادوں جیسے فوجی بیٹے کو دیکھا، جسے اس کے خوابوں نے کچھ ہفتوں میں کملا کر رکھ دیا تھا۔
“سب بہتر ہو جائے گا ان شاءاللہ۔”
سس نے باپ کے گھٹنوں پر سر رکھا۔
“کیسے بابا؟”
کچھ سوچتے ہیں اس بارے میں۔
تم فریش ہو کر آؤ،لان میں چائے پیتے ہیں۔”
عہ سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا……
اسے راستہ مل گیا تھا،بس منزل تک جانا باقی رہ گیا تھا…..
________________________
ایبٹ آباد شہر سردیوں کی راتیں اتنی خاموش ہوتیں کہ گیدڑوں کے باؤ باؤ کی آوازیں صاف سنی جاتی تھیں۔
شروع شروع میں اسے خوف آتا تھا، مگر اب وہ عادی ہوگئی تھی۔
اکتیس دسمبر کی رات گیارہ بج کر پینتیس منٹ پر وہ رائیٹنگ ٹیبل کے قریب ڈائری لئے بیٹھی تھی۔
بارہ بجنے میں پچیس منٹ باقی تھے، سال کا پرانا ہندسہ بدلنے والا تھا۔ اسے یاد تھا شہر کراچی میں آج کا دن عید جیسا ہوتا تھا،پھٹے سائلنسر کی آوازیں، بارہ بجتے ہی ہوائی فائرنگ آتش بازی، لوگوں کی زندگی سے بھر پور آوازیں وہ بیٹھے سن سکتی تھی۔
لیکن آج کے دن صرف کیلنڈر کا سال ہی نہیں بدلنا تھا، بلکہ آج کا دن کسی کے برتھ ڈے کا دن بھی تھا،وہ چند سال پیچھے چلی گئی….
ہیپی برتھ ڈے ٹویو….
ہیپی برتھ ڈے ٹویو، ہیپی برتھ ڈے ڈئیر زئی۔”
تھینک یو میری جان، یو میڈ مائے ڈے بیوٹی فل۔”
“کیسا لگا گفٹ؟”
بہت پیارا، ونس اگین تھینک یو۔”
“میں نے پہن بھی لی ہے دیکھو۔”
ایک تصویر اسے انباکس میں ملی۔ زئی کے ہاتھ پر بندھی رسٹ واچ جس پر اس نے اپنے لب رکھے تھے۔
ایشے کے گال بلش کر اٹھے۔
“ویسے یہ رسٹ واچ ہی کیوں؟”
“وہ اس لیے کہ میں چاہتی ہوں یہ گھڑی تمہیں ہر گھنٹے کے ساتھ یاد دلائے کہ کوئی ہے جو تمہارا انتظار کر رہا ہے، اور دن کے اتنے سارے وقت میں سے تمہیں کچھ حصہ نکال کر اس کیلئے بھی رکھنا ہے….”
اچھا جناب۔ اور کوئی حکم؟”
“اور…………اور کیک کب کھلا رہے ہیں؟”
“آآآ کرو، کھلاتا ہوں۔”
“ہاہاہاہاہا”وہ ہنسنے لگی۔
“اب ایک عرض میری بھی ہے۔”
کہیئے۔”
“آج کی رات میرے نام، میں تم سے بہت ساری باتیں کرنا چاہتا ہوں پوری رات۔”
“مگر زئی…..”
جان! پلیز، انکار نہیں۔”
“اچھا ٹھیک ہے……”
وہ مان گئی کہ وہ اسے کھونے سے ڈرتی تھی، اور وہ زئی کو کھونا نہیں چاہتی تھی، اس کیلئے زئی سب کچھ تھا……
اسے گیارہ بجے کے بعد سیل فون یوز کرنے کی پرمیشن نہیں تھی۔
آج سے پہلے وہ ہمیشہ زئی سے معذرت کر کے چلی جاتی تھی، مگر آج زئی کے اصرار پر زئی کے لیے اس نے اپنا ایک اور اصول توڑنے کے ساتھ ساتھ ماں باپ کا یقین بھی توڑا تھا۔
یہ جو محبت میں دھوکا ملا ہے ناں!
یہ ماں، باپ، کس دئیے گئے دھوکے کا
مکافات عمل ہے…!
________________________
کھٹ کھٹ کی آواز سے وہ حال میں لوٹی، شاید کوئی بلی چھت پر بھاگی تھی۔
بارہ بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔
اس نے سیل فون اٹھایا،واٹس ایپ کھولا اور آرچیوڈ چیٹ میں زئی کے نمبر پر کلک کیا، ٹائپ آمیسج میں ایک جملہ ٹائپ کیا’
“ہیپی برتھ ڈے زئی” اور پھر سینڈ کے آپشن کو ٹچ کر کے روانہ کر دیا، مگر اسے ڈبل کلک ریسیو نہیں ہوا، ناہی اس کا بھیجا”اشنال” گیا نا ٹک مارک بلیو ہوا۔
شاید نہیں یقیناً وہ یہ نمبر ختم کر چکا تھا، یاپھر ممکن ہے وہ واٹس ایپ ختم کر چکا تھا۔
وہ جانتی تھی اسے کوئی رپلائے نہیں ملنا۔
وہ ہمیشہ اسے ایک شعر سناتی تھی۔
“لاوارث قبروں پر دعائیں کون کرتا ہے، جس پر وہ کہتا میں کروں گا دعائیں، مگر ایشے ٹھیک کہتی تھی،زئی اسے لاوارث قبر بنا کر پھینک گیا تھا۔
موبائل سائیڈ پر رکھ کر اس نے ڈائری کو کھولا اور گرین رنگ کی قلم کا ڈھکن ہٹا کر قلم کو ڈائری پر گھسیٹا، سرخ رنگ کی روشنائی سفید رنگ کے پیج پر چمکنے لگی تھی۔
بہت خوبصورت سا برتھ ڈے کیک ڈرائنگ کرنے کے بعد اس نے نیچے” ہیپی برتھ ڈے زئی” لکھا،
اس کے سامنے والے صفحے پر اس نے سیاہ رنگ کی روشنائی والا قلم گھسیٹا۔
“میری گھڑی تو تم نے اتار دی ہو گی ناں؟
میرا بنایا گیا گاجر کا حلوہ اب اپنا ذائقہ کھو چکا ہوگا۔
میری تصویروں کی جگہ چند نئی تصویریں تمہیں گڑیا جیسی لگ رہی ہو گی۔
غرض ایشے کا ہر نقش مٹ چکا ہوگا اب تک۔
مگر زئی،
تمہاری پہنائی گئی پائلوں کی خوشبو مجھے ابھی بھی اپنے پیروں سے اٹھتی محسوس ہوتی ہے، وہ سرخ چوڑیاں میں نے اتار دی ہیں کہ وہ جب کھنکتی تھیں تو تمہارے دئیے زخم میرے اندر رسنے لگتے تھے،
میری نوزرنگ میرا اب منہ چڑاتی ہے۔ تم نے مجھے کسی سے بدل دیا ہے ، مگر میں تمہیں وہاں سے انچ بھر بھی نہیں ہٹاپا رہی جہاں تم تھے۔
میں رونا نہیں چاہتی زئی، کہ آنسو بےرحم ہوتے ہیں
بد دعائیں دینے لگتے ہیں، پر زئی آنسوؤں کو روکتے روکتے میرا دل بند ہونے لگتا ہے۔
میں اپنے آنسوؤں سے کہوگی وہ تمہیں کچھ نا کہیں،
تم………….تم ہمیشہ خوش رہنا زئی……… ہمیشہ…….”
اور اس کے آس پاس کئی ٹوٹے ہوئے دل رقم کر دئیے، ڈائری کے ورق پر سرخ رنگ کی گریٹنگز نیلے نائٹ بلب کی روشنی میں افسردگی پھیلا رہی تھی۔
اس کی آنکھوں کے جگنو آنسوؤں کوقید کرتے کرتے ہار گئے تھے، دو قطرے دونوں آنکھوں نے زئی کی برتھ ڈے وش پر گرائے، کاغذ کی سطح گیلی ہونے لگی تو اس نے ڈائری بند کر کے سر کو ڈائری پر گرا لیا۔
اب وہ بے آواز رو رہی تھی، اس کی آنکھوں کی رم جھم کے ساتھ باہر کا منظر بھی رم جھم میں بدل گیا تھا، یہ بارش کا موسم اس کے درد کو اور بڑھا رہا تھا، اس کا دل چاہ رہا تھا کہ کہی سے بھی زئی اس کے پاس لوٹ آئے، واپس آ جائے،وہ اس کی ہر خطا کو بھولا دے گی ایک بار وہ لوٹ آئے اس کے پاس..
کالی رات تے ہووے پئی بارش
تیری یاد کرے کوئی سازش
نالے دل دی اے فرمائش
تو اک واری آجا وے…!
کہ دل زرا لگ جاوے…..!
مشکل دل نوں اج سمجھانا
تینوں سجنا پینا اے انا…!
جگ گیا فیر اک درد پرانا
کول بیٹھا کے تینوں سنانا…!
مرجانے اس چندرےدل دی
ہو جاوے پوری خاہش….!
تو اک واری آجا وے
کہ دل زرا لگ جاوے…!
پرانی یادوں کی اذیت میں روتی وہ وہی سو گئی تھی۔
زئی اس کو بھول گیا تھا لیکن اسے آج بھی اس کی خوشی یاد تھی،
وہ اشنال عبداللہ تھی، ہر بار نئے انداز سے وش کرتی تھی…
___________________
ایبٹ آباد میں پرانے طرز کی بنی ان کی حویلی سڑک کے کنارے کھڑی تھی، یہی وجہ تھی کہ اس راستے سے گزرنے والے بہت سے اجنبی مسافر انکی حویلی کا پانی پی کر اپنی پیاس بجھاتے اور چل دیتے۔ کئی بر اجنبی عورتیں ان کی حویلی میں کچھ دیر ریسٹ کرنے آتیں،وہ اکثر امی سے کہتی۔
“اللہ جانے امی ہم اب تک کتنے دہشت گردوں کو پانی پلا چکے ہیں۔”
جس پر آسیہ خاتون کہتی…..
“پانی پلانا ثواب کا کام ہے، چاہے کوئی دشمن ہی کیوں نا ہو۔”
ہمیشہ کی طرح کسی شام دو اجنبی عورتیں ان کے گھر کچھ دیر ریسٹ کیلئے آئیں، اگلے دن وہی دو عورتیں اشنال کا رشتہ لینے آپہنچیں۔ان دونوں میں ایک خاص عمر رسیدہ خاتون تھیں جبکہ دوسری آپی جتنی تھیں، وہ خاصی امیر گھرانے کی دکھتی تھیں…..
اپنے اب تک کے آنے والے رشتوں کا سن سن کر اس کے کان پک چکے تھے، اسلئے وہ ان باتوں پر غور ہی نہیں کرتی تھی….
تین مہینے میں ان کے کوئی نو دس چکر لگ چکے تھے، کافی مستقل مزاج لوگ تھے….
کہتے ہیں نا کہ جب کوئی رشتہ آسمانوں پر لکھ دیا جاتا ہے تو زمین والوں کے دل میں اللہ خود ہی اس کا خیال ڈال دیتا ہے،اشنال کی پوری فیملی کو وہ رشتہ بہت پسند آیا تھا۔
اب باری اشنال کی مرضی پوچھنے کی تھی۔
“برگیڈئیر کا پوتا، کرنل کا بیٹا، کیپٹن کا بھائی، خود بھی پائلٹ، واہ رے ایشنے، فوجیوں کے خاندان میں جارہی ہو۔”
عشیہ اسے اس نئے رشتے سے متعلق معلومات فراہم کر رہی تھی….. جسے اشنال ہمیشہ کی طرح اکتائے ہوئے انداز سے سن رہی تھی، اور سامنے لیٹی عشیہ کی ننھی حورین کو سیریلک کھلاتی جا رہی تھی۔
“میں نے کسی فوجی سے شادی نہیں کرنی۔”
ہمیشہ کی طرح انکار ہوا، ابھی بہانا آنا باقی تھا….
“لے” پاکستان کی آدھی کڑیاں فوجیوں کیلئے مری جارہی ہیں، ادھر ایشے میڈم کے نخرے نہیں ختم ہو رہے۔”
عشیہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا….
“نخرے نہیں کر رہی بس انکار کر رہی ہوں۔”
اس نے تصیح کی.…..
“انکار کا ریزن؟”
“فوجی ہے تو شہید ہوجائے گا۔”
“تو”؟
میں بیوا ہو جاؤں گی۔”
شرارتی حورین اسکے ہاتھ سے اسپون پکڑنے کی کوشش کی تھی،جس کے نتیجے میں چمچ میں بھرا سفوف نیپکن پر گرا تھا،
اشنال نے اسے گھوری دی جس پر وہ کھلکھلائی۔
“بیوا نہیں شہید کی بیوی کہلاؤ گی، پاگل۔”
“کچھ بھی ہے، میں نے اتنی جلدی بیوا نہیں ہونا۔”
“کہہ تو ایسے رہی ہو جیسے تم نے جاتے ہی بیوا ہو جانا ہے۔”
عشیہ کو بھونڈا جواز ہضم نہیں ہوا….
” ہاں تو فوجیوں کی زندگی کا کیا بھروسہ، بس میری طرف سے انکار ہے۔”
حورین کا پیٹ بھرنے کے بعد اب وہ نیپکن اتار رہی تھی…کہ اسے کمرے میں داخل ہوتیں امی کی آواز سنائی دی….
“ملائیشیا والے سے شادی نہیں کرنی فراڈئیے ہوتے ہیں، ڈاکٹر سے شادی نہیں کرنی ان سے میڈیسنز کی اسمیل آتی ہے۔
فوجی سے نہیں کرنی شہید ہوجاتے ہیں۔ اس سے پوچھو اس موئے کتابوں والے سے کروادوں اسکی شادی؟
سارا دن کتابیں پڑھتی رہے گی۔ اور تو دونوں کوکوئی کام ہی نہیں ہے، وہ کتابیں دکان پر سجاسجا رکھتا ہے، یہ وہاں سے اٹھا کر گھر میں سجالیتی ہے۔”
امی نہایت غصے میں بولیں……..
“نہیں بلکل نہیں، دوسرا مہینہ ہے اس ڈیش نے ڈائجسٹ لانے ہی چھوڑ دئیے ہیں، مجھے لگتا ہے آپ نے اسے منع کیا ہوگا۔”
امی اسکی بات کو اگنور کرتیں کمرے سے اپنا چشمہ اُٹھائے نکل گئیں…..
“شکر کرو امی کو ڈیش کا مطلب نہیں پتا، ورنہ تمہاری کمر ہوتی اور امی کی باٹا کی جوتی۔ٹھاااااہ کر کے وجتی۔”
پھر وہ دونوں ہنسنے لگیں، انہیں ہنستا دیکھ کر حورین کی قلقاریاں بھی کمرے گونجنے لگیں……
روتے روتے ہنستی ہوں پھ پھر روتی ہوں
عشق نے کیسی مجھکو سزا دی شہزادے
_________________________
عشاء کی نماز کے بعد اس نے سلام پھیرا تو ساتھی پائلٹ فیضان نے اطلاع دی کہ گھر سے اس کیلئے کال آئی ہے، اس نے بابا کے نمبر پر کال بیک کی…..
“کیسے ہو شاہ؟”
“کرم ہے اللہ کا۔ آپ سنائیں….”
“یہاں بھی سب ٹھیک ہیں۔”
“وہ بابا کوئی جواب آیا وہاں سے؟”
“نہیں شاہ ابھی تک کوئی مؤثر جواب نہیں آیا۔ تمہاری دادو اور بھابھی گئیں تھیں آج فون نمبر لائی ہیں۔ اب دیکھو کیا جواب آتا ہے۔”
“بابا اگر انکار ہو گیا تو؟”
“آں ہاں، کیپٹن مایوسی والی باتیں نہیں کرتے۔”
انہوں نے شاہ کی نیگٹیو سوچ کو ٹوکا.……
اگر اللہ نے اسے تمہارے نصیب میں لکھا ہے، جوکہ مجھے لگتا ہے کہ واقعی لکھا ہے، تو تمہیں ضرور ملے گی۔
ٹینشن نالو، اپنی ٹریننگ پر فوکسڈ رہو۔ اللہ سب بہتر کرے گا۔”
“ان شاءاللہ۔”
وہ عزم سے مسکرایا اور چند باتوں کے بعد فون بند کرکے سونے لیٹ گیا……
پہلے اس کے خواب اسے ستاتے تھے،اب وہ خود خواب دیکھنا چاہتا تھا……
_______________________
اسکی گلابی مائل رنگت میں زردیاں گھل گئی تھیں، ہاتھوں کی نیلی رگیں انگلیوں پر گنی جا سکتی تھیں، اسکے جسم کا گوشت گل سڑ گیا تھا، آنکھوں کے گرد حلقے واضح دکھائی دیتے تھے، کھانے بیٹھتی تو کھانا دیکھ کر ہی اسکی بھوک ختم ہو جاتی۔
صبح سکول جاتی، شام میں ٹیوشن پڑھاتی، چھٹی کاسارا دن لیٹے لیٹے گزار دیتی، دنیا سے قطع تعلق کر چکی تھی وہ، بہنوں کے گھر بھی نہیں جاتی تھی، وہ مر نہیں سکتی تھی یہ تو طے تھا وہ اپنی زندگی کے دن گن گن کر گزار رہی تھی……
مائیگرین نے اس پر حملہ کیا تھا، یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی اس کے سر پر ہتھوڑے سے ضربیں لگا رہا ہے۔ سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑے کبھی وہ مکے مارتی کبھی تکیہ کو سر پر رکھ کر لیٹ جاتی، کبھی اسے قے آنے لگتی، اسکا جسم کانپنے لگتا، اس قدر شدید درد اسے ہمیشہ لگتا وہ آج مر جائے گی……
اس درد نے اسکی آدھی جان ختم کرلی تھی۔
میڈیسن لینے پر بعض اوقات آرام نا آتا، تین تین دن گزر جاتے….
وہ یوں ہی بےسدھ پڑھی رہتی…..
وہ یقین سے کہہ سکتی تھی کہ اس کی موت مائیگرین سے ہی لکھی ہے….
______________________
پورے گھر کی صفائی ختم کرنے کے بعد وہ اس آخری کمرے کی طرف بڑھی،جو خاص مہمانوں کیلئے مختص تھا۔ کمرے کا دروازہ کھولتے ہی کوئی جانی پہچانی خوشبو اس کی سانسوں سے ٹکرائی، اس کے منہ سے بے اختیار نکلا……
“بابا۔”
سگریٹ کی خوشبو نے پورے کمرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
اس نے کارپٹ پر نظر دوڑائی، ایش ٹرے میں تین سے چار ادھ جلے سگریٹ کے ٹکڑے پڑے تھے، جس مطلب تھا یہاں کوئی آیا تھا۔
وہ ایش ٹرے اٹھا کر روم سے باہر نکل آئی۔
“امی……….امی………یہ سگریٹ……کوئی آیا تھا کیا؟”
“ہاں شاہ آیا تھا کل۔” امی نے سبزیاں کاٹتے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔
شاہ یہ نام سن سن کر اسکے کان پک چکے تھے، چہرے پر ناگواری در آئی۔
اس نے لب بھینچ لئے۔
وہ پلٹی اور ایش ٹرے میں پڑی راکھ کو ڈسٹ بن میں جھاڑا، اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایش ٹرے بھی کوڑے کی نذر کر دے۔
پھر وہ روم میں داخل ہوئی، پھر اسی خوشبو نےاستقبال کیا۔
جو خوشبو ابھی تھوڑی دیر پہلے اسے بھلی لگ رہی تھی وہی اب کڑوے دھوئیں جیسی محسوس ہورہی تھی۔
اس نے جلدی سے روم کی صفائی ختم کی اور کھڑکیوں کے پردے ہٹا کر فین فل سپیڈ میں چلا دیا،اور خود باہر نکل آئی….
وہ سمجھتی تھی کہ اس طرح کرنے سے کمرے سے اس کے سگریٹ کی خوشبو چلی جائے گی۔
مگر شاہ کی خوشبو نے اس کے گھر کا راستہ ہمسفر کر لیا تھا……
_______________________
اس رشتہ کا دباؤ اس پر بڑھنے لگا تھا، سب ہی راضی تھے ماسوا اشنال کے۔ عشیہ ہر ہفتے اسے منانے آتی اسکی ناں ہاں میں نہیں بدلتی، آج بھی وہ جاتے ہوئے کہہ گئی تھی کہ اشنال، شاہ تم سے بات کرنا چاہتا ہے، اس نمبر سے تمہیں کال آئے گی اٹھالینا، اور اسے ساتھ ہدایت کر گئی تھی کہ اچھے الفاظ منہ سے نکالنا کہ فوجیوں کی ریسپکٹ ہمارا فرض ہے………
دو دن لگاتار اسی نمبر سے اسے کال ملی جسے وہ اگنور کرتی رہی، ابھی وہ رات کا کھانا بنا کر کچن سے نکلی ہی تھی کہ اس کا سیل فون بج اٹھا۔
سکرین پر وہی نمبر لہرا رہا تھا جسے وہ جان بوجھ کر اگنور کر رہی تھی۔ مگر آج اسے فیصلہ کرنا تھا، آر یا پار…
اس نے کال ریسیو کی، بھاری مردانہ آواز میں سلام ہوا…
“اسلام علیکم۔ مجھے سید سکندر شاہ کہتے ہیں، غالباً اس نام سے آپ واقف ہونگی ناں؟ کیسی ہیں آپ؟”
ٹھہر ٹھہر کر کئے گئے سوالات پر وہ پھٹ پڑی……
“کسی کی زندگی عذاب بنا کر اس سے مت پوچھیں کہ وہ کیسی ہے…..”
اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ غصے کی بہت تیز تھی…
شاہ خاموش رہا۔
“معذرت کے ساتھ مگر آپ جیسا ڈھیٹ شخص میں نے زندگی میں نہیں دیکھا۔”
اپنی اس عزت افزائی پر وہ مسکرایا، اسے اشنال عبداللہ کے بارے میں تفصیل سے بتا دیا گیا تھا، اور وہ کچھ تھا بھی فوجی بندہ، ایسے جملوں کیلئے تیار رہتا تھا…..
“آپ مجھے انکار کا سولڈ ریزن بتاسکتی ہیں؟”
میں آپ کو بتانے کی پابند نہیں۔”
وہ سمجھ سکتا تھا،اس کا پالا اس کے ملک کی طرح سرپھرے حریف سے ہوا تھا، مگر اپنے اس سرپھرے حریف کو کس طرح ڈیل کرنا ہے وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ ایک فوجی تھا……
تو پھر ٹھیک ہے آپ کے کسی انکار سے مجھے بھی کوئی فرق نہیں، میں یہ نکاح نہیں رکوا سکتا….””
شاہ نے اپنا موقف پیش کیا تو اشنال کا خون کھول اٹھا…
“کوئی بھی مرد کسی ایسی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا جس کے دل میں کوئی اور رہتا ہو۔”
آخر کار وہ سچ بول ہی پڑی۔
شاہ کے اندر کچھ ٹوٹا،شاید دل، مگر نہیں،اسے ہمت نہیں ہارنی تھی…
“مجھے کوئی ایشو نہیں.”
وہ ہر طرح سے تیار تھا، دھیمے لہجے میں وہ اپنا اثر چھوڑ گیا۔
اشنال کچھ دیر کچھ نا بول سکی۔
“آپ نے شاید ٹھیک سے سنا نہیں، یا شاید مجھے سننے میں غلطی ہوئی تھی کہ فوجی غداروں سے روابط نہیں بڑھاتے۔ ایک فوجی یہ کیسے برداشت کرسکتا ہے کہ اس کی بیوی اسے چھوڑ کر کسی اور کو یاد کرے؟”
وہ استہزئیہ مسکرائی۔
“بلکل ہمارے شعبے میں غداری کی سزا موت ہے،اور میں اپنی بیوی کو کبھی اس کام کی اجازت نہیں دونگا، لیکن میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اشنال سید بن جانے کے بعد سب کچھ بھول جائیں گی، کیونکہ آپ کسی کے نکاح میں ہونگی اور نکاح جیسے پاکیزہ بندھن کے آگے باقی ساری چیزیں بےمعنی رہ جاتی ہیں۔”
“ہاہاہاہاہاہا” اس کی ہنسی میں طنز تھا جسےوہ محسوس کر چکا تھا۔
“کئی سال میں جسے ایک لمحہ نہیں بھولی اسے بس نام کے ساتھ سید لگانے سے بھلادونگی! سلام ہے آپ کی سوچ کو کیپٹن شاہ۔”
کیپٹن شاہ پر اس کا دل دھڑکا…… وہ مسکرایا تو گالوں پر پڑنے والے بھنور بھی بول اٹھے…..
“جوشخص آپ کے دل کا سکون کھا جائے، اسے آپ کے دل میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے،
اشنے۔”
اپنا انوکھا سا نام ایک اجنبی کے منہ سے سن کر اسے بہت برا لگا…..
اسے اسپیکر سے اٹھنے والی شائستہ آواز کے پیچھے چھپی بدصورتی دکھنے لگی، وہ کھا جانے والے لہجے میں بولی۔
“یہ میرا دل ہے، اور میں اچھے سے جانتی ہوں کہ اس میں کسے رہنا ہے اور کسے نہیں۔ آپ کے لیے اتنا کافی ہے کہ مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی، سمجھے آپ؟”
“جی بہتر…..”
اشنال نے فون بند کر دیا۔
فون بند ہوا تو شاہ نے ایک آہ بھر کر بادلوں میں چھپن چھپائی کھیلتے چاند کو دیکھا اور مسکرا دیا۔
جس بات کا اسے گمان تھا اس پر یقین کی مہر لگ گئی تھی، اس کی پاگل آنکھوں والی لڑکی کا دل اسکا نہیں تھا، ہاں مگر وہ تھی اسی کیلئے…..
اور بہت جلد اسکا فیصلہ ہونا تھا…..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: