Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 8

0
پاگل آنکھوں والی لڑکی از اشنال سید – قسط نمبر 8

–**–**–

وہ لان میں ٹہل رہا تھا جب اپنے پیچھے اسے کرنل صاحب کی آواز سنائی دی۔
“کیا بات ہے شاہ اس وقت یہاں؟”
“نیند نہیں آ رہی بابا۔”اس نے بے بسی سے کہا۔
“یہاں ٹہلنے سے کیا نیند آ جائے گی؟”
“سونے کی کوشش میں ہی یہ ٹائم ہو گیا ہے اندر دم گھٹ رہا تھا اس لیے یہاں آگیا۔
مجھے نیند نہیں آ رہی بابا، میں سویا نہیں تو وہ خواب میں کیسے آئے گی؟”
“تو شاہ کو عادت ہوگئی ہےاسکی۔”کرنل صاحب مسکرائے۔
“عادت……… نہیں بابا وہ تو ایسی ہے کہ بس اس سے محبت کی جاسکے،
عادت چھوڑنے کا من کرتا ہے پر محبت ہو تو چھوٹ جانے کا خوف ہی گناہ لگتا ہے۔”
تو پھر یہ بےچینی کیسی؟ جا کر کہہ دو اسے۔”
“وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے بابا۔”
شاہ نے تھکے ہوئے لہجے میں بتایا۔
“تمہیں کس نے بتایا؟”
“اس نے خود۔”
“تو کیا وہ اس کے ساتھ ہے؟”
“مجھے نہیں لگتا بابا.”
“اگر وہ اس کے ساتھ ہوتا تو یہ حالت نا ہوتی اسکی۔”
“ہممممم……….
“اسے کسی نے توڑ دیا ہے بابا۔”
“تو تم جوڑ دو اسے۔”
بابا وہ بکھر گئی ہے، شاید وہ اب کسی کو اپنی زندگی میں لانے سے ڈرتی ہے شاید اس کی زندگی اس اذیت بھرے سفر میں اس جگہ آکر رک گئی ہے، جہاں وہ نا آگے جاسکتی ہے نا پیچھے۔
اس کو جوڑنا مشکل ہے بابا، بلکہ کسی حدتک ناممکن ہے، لڑکیوں کا دل شیشے کی طرح ہوتا ہے بابا، ٹوٹ جائےپر کرچیاں نہیں جوڑپاتا…..
“ارے دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں، اور تمہیں تو خدا نے خود راستہ دکھایا ہے، جب خدا راستے دیتا ہے تو سارے اسباب خود ہی پیدا کرتا ہے۔
تم ہمت نہ ہارو،اس پر یقین رکھو۔”
وہ اسے حوصلہ دے رہے تھے، ہمت بندھا رہے تھے۔
پر بابا، کسی کے دل سے کسی کو کھرچ کر خود کی جگہ بنانا ناممکن ہوتا ہے۔”
تو پھر کیا کرو گے، ساری عمر یونہی خواب ہی دیکھتے رہوں گے؟”
شاہ محبت کرتے ہوتو اس کا درد تمہارا درد ہونا چاہیے۔
کچھ سمجھ نہیں آرہا بابا کیا کروں…..”
اس کے چہرے پر پھیلی بےبسی اسے بلکل بھی نہیں سوٹ کرتی تھی…….
تمہیں میں ایک بات بتاتا ہوں شاہ، شاید تمہارے لیے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے۔”
اور وہ سوالیہ نگاہوں سے بابا کو دیکھنے لگا۔ وہ بولے،
“ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا، عائشہ! آج جو دل میں آئے مانگ لو، آج میں بہت خوش ہوں۔”
ام المؤمنین نے یہ سنا تو شش و پنج میں مبتلا ہو گئیں، سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا مانگیں۔ کافی سوچ بچار کے بعد عرض کیا۔”
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کیا میں اپنے والد محترم سے مشورہ کر سکتی ہوں؟”
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا،” ضرور۔”
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر تشریف لے گئیں اور جاکر حضرت ابوبکر صدیق کو ساری صورت حال بتاکر مشورہ مانگا۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کہا،” بیٹی!
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنا کہ معراج کے وقت جب عرش معلیٰ پر تشریف لے گئے تو وہاں آپ کی اللہ کے ساتھ رازو نیاز میں باتیں ہوئی تھیں ( جہاں نہ جبرائیل تھے نہ کراماکاتبین وغیرہ)۔
ان میں سے صرف ایک بات بتا دیں۔”
حضرت عائشہ صدیقہ واپس آئیں اور آکر کہہ دیا کہ،” یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! معراج کے وقت جب آپ عرش معلیٰ پر تشریف لے گئے تو وہاں آپ کی اللہ کے ساتھ رازو نیاز میں کیا باتیں ہوئیں تھیں، جو آپ اور اللہ کے علاؤہ کسی تیسرے کو معلوم نہیں، سن میں سے کوئی ایک بات بتا دیجیے۔”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا،” عائشہ! وہ باتیں تو راز کی تھیں لیکن چونکہ وعدہ کیا تھا اسلئے ایک بات ضرور بتاؤں گا۔
میں نے اللہ سے پوچھا تھا کہ تجھے اپنے بندے کا کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے، تو اللہ نے کہا، جب میرا کوئی بندہ کسی ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، کسی کی مدد کرتا ہے، تب اس کا یہ عمل مجھے ہر عمل سے زیادہ پسند ہے۔”
شاہ وہ جو بھی شخص تھا، اس بچی کے ساتھ جو بھی کر کے گیا، اس کا دل توڑا ہے، وہ اپنی آخرت خراب کر چکا ہے، اپنے اللہ کو ناراض کر چکا ہے، اپنے لیے جہنم کا انتخاب کر چکا ہے، اب جب تک وہ معاف نہیں کرے گی، اللہ پاک بھی اسے معاف نہیں کرے گا۔
مگر بیٹا اب تم نے اس کے دل کو جوڑنا ہے، اپنے اللہ کے بندے کا دل جوڑنا ہے، اسے احساس دلانا ہے کہ دنیا میں محرم رشتہ ہی وہ رشتہ ہے جس میں سکون ہے، اس کی اجڑی زند کو پھر سے بسانا ہے۔ اس کی مدد کرنی ہے آگے بڑھنے میں، اور اللہ تمہاری مدد کریں گا انشاء اللہ۔
اپنی بات کے اختتام پر انہوں نے شاہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔
“جاؤ نماز پڑھو اور سونے کی کوشش کرو، اللہ تمہارے ساتھ ہے۔”
وہ مسکرائے، شاہ سر ہلاتا ہوا روم کی طرف بڑھا……..
_____________________
صبح سے اس کے سر میں شدید درد تھا، جس کی وجہ سے بستر پر لیٹی تھی، تکیے کو سر سر پر رکھ کر دونوں ہاتھوں سے جکڑا ہوا تھا، دونوں بہنیں اشنال کے آس پاس بیٹھی تھی……
ہوبہو Dean Winchester کی ڈپلیکیٹ ہے، قسمے، وہی کھڑی مغرور ناک، وہی باڈی، گال پہ پڑتا ڈمپل، وہی ٹور،وہی Dean Winchester جیسا ایٹی ٹیوڈ….”
آپی نے اس کی بات کاٹی۔
“ایٹی ٹیوڈ نہیں ہے،بس وہ کم گو ہے…..”
“ہاں لیکن سوٹ کرتا ہے ایٹی ٹیوڈ اسے، فوجی ہئیر کٹ، اسٹائلش سی بئیرڈ، وہ دوبارہ بولی۔
بس آنکھیں Dean Winchester جیسی نہیں، نیلی آنکھیں ہیں، سید سکندر شاہ کی….”
“وللہ ہولی وڈ کا ہیرو ہے ہیرو….”
اور اشنال تکیے میں دئیے ہی اکتائے ہوئے لہجے میں بولی اور بولی بھی تو کیا بولی……
ہولی وڈ کے ہیرو کے کرتوت بھی ہولی وڈ جیسے ہونے ہے….”
دونوں بہنوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، پھر آپی شروع ہوئیں…..
“نہیں اشنال ماشاءاللہ، پاک ائیر فورس میں اپنی بٹالین کا کیپٹن ہے، بہت ذہین اور ڈیسنٹ لڑکا ہے، ہم مل کر آئیں ہیں اس سے، کوئی بری عادت نہیں ہے اس میں، فوجیوں
میں بری عادتیں ہوتی کہاں ہیں….”
کیا پرسنیلٹی ہے یار، میں تو فوجی یونیفارم میں اسے دیکھ کر غش کھا رہی تھی۔” عشیہ اس کی خوبصورتی سے ہی نہیں نکل پا رہی تھی…..
اب وہ اٹھ کر بیٹھی اور تکیہ کو گود میں رکھ لیا…..
“عشیہ کاش میں تمہیں یہ کہہ سکتی کہ تم ہی شادی کرلو اس Dean Winchesterپلس فوجی سے۔”
اشنال نے منہ بنایا……
“اگر مجھے یہ پہلے مل جاتا تو میں ایک منٹ نالگاتی ہاں کرنے میں…..”اس نے افسوس سے کہا……
“وہ لوگ نکاح کرنا چاہتے ہیں…” آپی نے بم پھوڑا۔
“خدا کے لیے آپی، بس کردیں، نہیں کرنی مجھے کسی خوبصورت لڑکے سے شادی۔ خوبصورت چہروں نے ماسک پہنا ہوتا ہے، جب یہ اپنا ماسک اتارتے ہیں نا تو اندر سے بھیڑئیے نکلتے ہیں بھیڑئیے…..
اور بھیڑئیے کھا جاتے ہیں، ہمارے خواب، ہماری خوشیاں، ہمارا سکون،……
کچھ بھی تو نہیں بچتا سوائے پچھتاوے کے……. وہ چلا اٹھی……
“ناولوں نے تمہارا دماغ خراب کر رکھا ہے۔”
میرا دماغ بلکل ٹھیک ہے، ہاں البتہ آپ لوگوں کے دماغ ہل گئے ہیں……. ایک تو سر درد اوپر سے یہ شاہ کا بکھیڑا۔”
وہ تنگ آگئی تھی…..
“برائی کیا ہے اس رشتے میں؟” آپی نے وجہ پوچھی….
“آپی دو عورتیں ایک دن ہمارے گھر ریسٹ کرنے آئیں، اگلے دن رشتہ لے کر آگئیں۔
اور صدقے جاؤں اپنے گھر والوں کےجوانکی خوبصورتی، دھیمے لہجے،امیری، فوجی خاندان پہ دل ہار گئیں….
یعنی حد ہے…….”وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی…..
“اشنال ایسا رشتہ تمہیں چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا…”
“آپی مجھے اندھیرے ہی بھلے ہیں، آپ میری شادی اسی محلے کے کسی ٹرک ڈرائیور، کسی نان والے یا پھر کسی موٹر مکینک سے کر دیں مگر اس کیپٹن شاہ سے نہیں، مجھے محلوں میں نہیں رہنا آپی، مجھے زمین پر ہی رہنے دیں….”
اس کی آواز مدھم ہوگئی……
“انتہائی کوئی بھونڈا جواز ہے اشنال…..
امی سے کہتی ہوں نکاح کی ڈیٹ فکس کردیں، ہماری لڑکی کا تو دماغ چل گیا ہے…..” وہ اٹھ کر جانے لگیں تھیں کہ اشنال کی آواز پر رک گئیں……
“سن لیں آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا کوئی..”
اس نے دھمکاوا دیا….
“کس سے کرو گی پھر شادی؟ کون سے شہزادے کی آس میں بیٹھی ہو؟ کوئی ہے تو بتاؤ پھر؟”
وہ سناٹوں کی زد میں آگئی۔
اور وہ کیسے بتاتی کوئی تھا تو سہی مگر اس نے کبھی ایسا اختیار ایسا حق اسے دیا ہی کب تھا کہ وہ اس کا نام لے سکتی۔”
وہ تو بس ایک بےنام رشتہ تھا…..
لفظوں کا فیک سا تعلق…..
آواز اور چند ٹیکسٹ میسجز کا تعلق….
وقت گزارنے کا سامان…”
“اتنی بوجھ ہوگئی ہوں میں آپ لوگوں پر تو زہر دے کر مار کیوں نہیں دیتے؟ آج اگر بابا زندہ ہوتے تو کوئی میرے ساتھ یوں نا کرتا…..”
آخر میں اس کی آواز نمی گھول لائی تھی، ابھی وہ جڑی ہی تھی، ابھی وہ مڑی ہی تھی کہ عشیہ کی چیخ سے واپس پلٹی…..
“امی……”دونوں بہنیں بھاگ کر امی کے پاس گئیں۔
آسیہ خاتون کی سانس اکھڑنے لگی تھی، انہیں پھر اٹیک پڑا تھا….
ابھی اس نے ایک قدم اگے بڑھانے کیلئے اٹھایا ہی تھا کہ آپی ی آواز اسے سکتے میں چھوڑ گئی۔
“اگر امی ع کچھ ہوا تو یاد رکھنا اشنال اس کی ذمہ دار تم ہوگی….”
وہ لوگ امی کو لے کر دروازہ عبور کرچکیں تھیں۔
اشنال کا سکتا ٹوٹا اور وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی….
____________________
سفید رنگ کے کاٹن کے سادے سے سوٹ میں بنا کسی میک اپ کے سر پر سرخ رنگ کا زرتار دوپٹے کا لمبا سا گھونگھٹ لئے، اسے صوفے پر بیٹھایا گیا تھا……
نکاح کے پیپرز اس کے سامنے رکھےتھے، کچھ اپنے اس کے آس پاس کھڑے اس کی ہاں کے منتظر تھے، وہ مٹھیوں کو سختی سے بھینچے بیٹھی تھی کہ کسی نے زبردستی اسکی مٹھیاں کھول کر قلم پکڑایا۔
اس کی نظریں پیپرز سے ہٹ کر قلم پر جارکیں۔ کتنی عجیب بات ہے ناں، ایسی ہی ایک قلم سے اپنی زندگی کے ان گنت سالوں کے ہر دن میں جانے کتنی بار وہ زئی کا نام لکھتی آئی تھی، ایسے ہی ایک قلم سے کہی بار زئی نے بھی اس کا نام لکھا تھا، مگر پھر بھی وہ دونوں ایک دوسرے کے نا ہوپائے تھے۔
ایک یہ قلم تھا جس سے بس تین بار اپنا نام لکھ کر خود کو مکمل کسی اور کے اختیار میں دے دینا تھا، اس تین بار لکھے نام نے ہزاروں بار لکھے زئی کے نام کو محض چند منٹوں میں خاک بنا کر اڑا دینا تھا۔
“اشنال۔” اسے امی کی آواز سنائی دی۔
کسی نے اسے ہلایا، ایک بار، دوسری بار، تیسری بار….
اس نے قلم کی نوک کو کاغذ پر ایک بار گھسیٹا، تو اسے لگا جیسے کسی نے اسے آرے سے کاٹ لیا ہو۔
آج سے پہلے اسے اپنا نام کبھی اتنا برا نہیں لگا تھا،
پھر اس نے قلم کو دوسری بار گھسیٹا، اور زئی کی اشنال کو مر جانے دیا۔
تیسری بار اسکے نام کے ساتھ کچھ آنسو بھی نکاح نامے میں جذب ہو گئے۔
وہ اب کبھی اشنال زئی نہیں بن سکتی تھی کیونکہ وہ اشنال سید بن گئی تھی۔
یہ لمحہ اس لئے سب سے بڑی اذیت کا لمحہ تھا، جب انسان کسی اور کے ساتھ زندگی گزارنے کے سپنے دیکھ چکا ہو، سوچ چکا ہو، تو اچانک سے کسی اور کا ہوجانا موت سے کم نہیں ہوتا، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی کانٹوں بھری جھاڑیوں میں گھسیٹ رہا ہے.. اور وہ اندر سے آج مر گئی تھی، زندہ تھی تو بس لال جوڑے میں لاش کی مانند۔
بنت حوا کی بیٹی کی زندگی سے کھیلنے والے کیا جانے..
لال جوڑوں میں اٹھتی لاشیں کیا ہوتی ہے….
___________________
کیپٹن شاہ جیت گیا تھا، اشنال عبداللہ ہمیشہ کی طرح ہار گئی…..
وہ دوپٹے کو خود پر پھیلائے آنکھوں پر بازو رکھے لیٹی تھی جب عشیہ اس کے پاس آئی۔
“آپ کے شاہ صاحب تو خاصے اتاولے ثابت ہوئے ہیں۔”
اس نے آنکھوں سے ہاتھ نہیں ہٹائے۔
“میں نے اڑتی اڑتی خبر سنی ہے وہ بڑوں کو راضی کر رہے ہیں کہ جناب ہمیں اپنی مسز شاہ سے ملنے دیا جائے۔”
اس نے ایکدم آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے اور بے یقینی سے عشیہ کو دیکھا۔
اور بڑے مان گئے ہیں۔” عشیہ بڑے آرام سے بولی۔
“کیا دماغ خراب ہوگیا ہے سب کا، پتا نہیں کیا دم پڑھتا ہے سب پر؟”وہ عشیہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی…
“اب تو ہو گیا دم درود، اب تم ملنے کی تیاری کرو۔”
میں کسی سے نہیں ملنا۔ جو سب چاہتے تھے وہ کر لیا میں نے، خدارا مجھ پراتنے ظلم کریں جتنے میں سہہ سکوں…. وہ رودینے کوتھی……
“وہ تم سے بات کرنا چاہتا ہے اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔”
“کیا یہ کافی نہیں ہے کہ میں اس سے نہیں ملنا چائتی؟”
“اس کی خواہش ہے یہ، ہم اسے ناراض نہیں کر سکتے۔”
میری خواہش، میری مرضی، میرا سکون، میری خوشی کوئی کیوں نہیں پوچھتا؟ سب کو وہی نظر آرہا ہے، میں کیوں نظر نہیں آتی کسی کو؟” اس کی آواز کانپ رہی تھی…..
“بس اب وہ آرہا ہے، خدا کیلئے ڈھنگ کے الفاظ منہ سے نکال لینا، نہیں نکال سکتی تو بس چپ ہی رہنا، فوجیوں سے بیراچھا نہیں ہوتا۔”
اسے وارن کرکے وہ خود کمرے سے نکلنے لگی تھی کہ اشنال بول پڑی۔
” میں سر پھاڑ دونگی اسکا اگر اس نے یہاں قدم رکھا تو….”
“فوجی ہے خود نپٹ لےگا تم سے۔”
وہ بری طرح پھنسی تھی آج…….. آج اس کی آنکھوں کے جگنو گھبرا گئے تھے۔
“سوری بابا، میں اس سلسلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتی۔
اور سنو، یو پھاڑ کھانے والے انداز میں اسے نا دیکھنا، انڈین طیارہ سمجھ کر مار گرائے گا۔”
اسے مشکل میں ڈال کر عشیہ خود چلی گئی…..
_______________________
اشنال نے زمین پر پڑے دوپٹے کو اٹھا کر سر پر جمایا اور اچھی طرح خود کو اوڑھ لیا، ابھی وہ کسی واز وغیرہ کی تلاش میں کمرے میں نظریں گھمانے لگی تھی کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔
وہ اچھل پڑی، ٹیبل پر پڑی گلاب جامن کی پلیٹ میں اسے چھری نظر آئی جو اس نے اٹھا لی، اور دیوار کی جانب رخ موڑے کھڑی رہی
دروازہ کھلنے پھر بند ہونے کی آواز آئی۔
چھری پر اسکی گرفت مضبوط ہوگئی۔ پھر قدموں کی آواز اس کے قریب آکر رک گئی۔
آہاں، کیپٹن شاہ کے استقبال کا اچھا طریقہ ہے، آئی لائیک اٹ۔”
گھمبیر آواز نے اس کے گرد حصار باندھا تھا۔
شاہ نے اس کی چھری والی کلائی تھامی تو اس لمس پر وہ کانپی اور چھری ہاتھ سے چھوٹ گئی….
وہ ایسے کسی بھی لمس سے ناواقف تھی، پہلی بار کسی مرد کالمس محسوس ہوا تھا اسے…..
زئی کے ساتھ محبت ہونے کے باوجود کبھی اس سے روح بروح ملی نہ تھی۔
آج پہلی بار کسی مرد سے اس کا سامنا ہوا تھا۔ اور وہ اس کا محرم تھا۔
اس لمس پر اسے بہت تاؤ چڑھا۔
“بس اتنی جلدی سرینڈر؟ کیپٹن شاہ کی وائف سے ایسا ایکسپکٹ نہیں کر رہا تھا میں۔”
وہ اسے چیلینج کر رہا تھا۔
وہ سوچ بیٹھی تھی کہ کیپٹن شاہ کے چاروں طبق روشن کرے گی، اسکی خود کی آنکھوں کے تارے ناچ گئے تھے۔اس نے بھرپور کوشش کرکے اپنی کلائی چھڑوالی۔
“دیکھیں آپ…….”اسکاجملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی شاہ نے اس کا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا……. اس اچانک جھٹکے پر وہ پلٹتے ہی سیدھا شاہ کے کندھے سے ٹکرائی……
مردانہ کلون کا ایک طوفان اس کے نتھنوں سے ٹکرایا، تو مدہوش کن خوشبو مرچوں کی طرح اسکے دماغ پر چڑھ گئی، دماغ غصہ سے جھنجھلااٹھا…..
دوپٹہ سر سے سرک کر کندھوں پر گر گیا…… کچھ آوارہ لٹیں چہرے پر جھول گئی…..
غصہ سے جبڑے بھنچے، اس نے چہرے اوپر اٹھایا۔
“دیکھیں…..”
شاہ نے اس کے دونوں بازو سختی سے جکڑ رکھا تھا…..
اب اسکا چہرہ شاہ کے عین سامنے تھا،وہ چہرے جو خواب در خواب اسکی آنکھوں میں رہا تھا،وہ چہرہ جسے اس نے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تھا…..
وہ پہلی بار اسے دیکھ رہا تھا،سارے خواب ایک ایک کر کے اسکی آنکھوں میں اتر آئے تھے….
“ان آنکھوں نے کئی راتیں جگایا ہے، اس چہرے کو دیکھنے کیلئے کئی راتیں سو نہیں پایا میں۔
آپ نے کیپٹن شاہ کو آن دا ڈیوٹی ڈپریشن میں رکھا ہے پاگل آنکھوں والی لڑکی…”
مجھے معلوم ہوتا آپ بھی مجھے دیکھنے کیلئے بےتاب ہیں تو ایسی کوشش پہلے ہی کہ لیتا۔”
وہ مسکرایا تو اسکے گال کا سمپل اور گہرا ہو گیا……
وہ دونوں ایک دوسرے کو پہلی بار دیکھ رہے تھے، مگر دونوں کے دیکھنے میں فرق تھا۔
ایک انتہائی غصے میں دیکھ رہا تھا، جبکہ دوسرا انتہائی محبت سے۔
وائٹ کرتے میں بلیک ویس کوٹ، فولڈڈکف، سلور گھڑی، فوجیوں سائیر کٹ، اسٹائلش بئیرڈ، گالوں پر پڑتاڈمپل، جو چیز اسے سب سے منفرد بناتی تھی وہ اسکی نیلی آنکھیں تھیں، اونچا لمبا بھرپور قدکاٹھ کا مالک، کوئی بھی لڑکی آنکھیں بند کئے اسے اپنے لئے منتخب کر سکتی تھی…..
اس کے پاس سے اٹھتی Eternal love کی خوشبو نے کمرے میں تسلط جمالیا تھا……..
اس نے پاگل آنکھوں والی لڑکی کے ادھورے چہرے کو مکمل دیکھ لیا تھا۔
مگر اشنال زیادہ دیر اسکی نیلی آنکھوں میں نہیں دیکھ پائی تھی۔ا
آنکھیں بند کر کے خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ بےبس تھی۔
بلآخر وہ اپنی ٹون میں لوٹی اور چیخی……
“چھوڑیں مجھے۔”
“فوجی دشمن کونہیں چھوڑتے، آپ تو پھر اپنی جندجان ہیں۔”
وہ بےباقیوں کی انتہا پہ تھا، جبکہ اشنال سوچ رہی تھی فوجی بھی ٹھرکی ہوتے ہیں، یکدم فوجیوں سے اسے بیر ہونے لگا……
“ہاں البتہ آنکھیں کھول کر ریکوئسٹ کریں اسطرح کہ “کیپٹن شاہ, ہوش میں آئیں،” تو ممکن ہے میں آپکا بازو چھوڑ دوں۔”
وہ اب اسے تنگ کر رہا تھا جان کر…….
اشنال کا ضبط جواب دینے لگا تو اس نے ایک اور کوشش کی خود کو چھڑانے کی، اس بار شاہ نے اس کے دونوں کمر کے پیچھے لے جاکر ایک ہاتھ میں جکڑ لئے اور دوسرے ہاتھ سے اسکی تھوڑی کو انگلی سے چھو کر اوپر اٹھایا۔
اشنال نے پھر آنکھیں بند کر لی،وہ آئی کانٹیکٹ میں صفر تھی اور مقابل اگر شوخ گستاخانہ نیلی آنکھیں ہوں تو اللہ اللہ…..
وہ مکمل طور پر شاہ کے رحم و کرم پر تھی…..
“جان شاہ۔”
پاگل آنکھوں والی لڑکی۔”
باری باری وہ اسے یونیک ناموں سے پکار کر شاہ اس کے چہرے پر جھکا اور باری باری اسکی آنکھوں پر اپنے لب رکھے…..
اپنی بند آنکھوں پر شاہ کا لمس اسکی سانس روک گیا..
وہ اس سچویشن کیلئے ہرگز تیار نا تھی، اسے گمان ہی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ ایسا ہو سکتا تھا….
پھر وہ اوپر اٹھا…..
اس نے دیکھا وہ رو رہی تھی….
بند پلکوں کے کنارے بھیگے ہوئے تھے….
“میں سوری نہیں کرونگا، نامجھے پچھتاوا ہے کوئی، یہ سب ضروری تھا تاکہ آپ کو احساس ہو کہ پہلے جو کچھ بھی تھا، مگر اب آپ جان شاہ ہیں۔”
آنسو پلکوں سے ٹپکے تو شاہ نے انہیں اپنی پوروں میں سمیٹا…..
کیپٹن شاہ کی امانت اپنا خیال رکھئے گا۔”
یہ کہہ کر شاہ نے اسے خود سے الگ کیا اور مسکراتے ہوئے دروازہ کھول کر باہر نکل گیا….
پہلے اس کے گرد لپٹا دوپٹہ زمین پر گرا،پھر وہ خود کٹی ہوئی ٹہنی کی طرح زمین پر گرتی گئی…..
آنسو کے ساتھ سسکیاں تیز ہوتے ہوئے چیخوں میں بدل گئیں……”
گلاب جامن کی پلیٹ اٹھا کر اس نے دیوار سے ماری…..
اپنی انکھوں کو سختی سے رگڑا، مگر لمس کوئی میل تو نہیں تھی جسے دھو کر رگڑ کر مٹایا جاسکتا تھا…….
اس رات بھی وہ رات تھی…..
کچھ دیر پہلے نیند سے وہ دیر تک روتی رہی…..
ادھر کیپٹن شاہ نکاح کے بعد مسرور ساسب سے باری باری گلے مل کر واپس ائیر بیس چلا گیا……
دن ہفتوں میں بدلے ہفتے مہینوں میں……
مگر اگر کچھ نہیں بدلا تھا تو وہ تھی اشنال عبداللہ۔
جو اشنال سید بن جانے کے بعد بھی ویسی کی ویسی تھی……

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: