Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 9

0
پاگل آنکھوں والی لڑکی از اشنال سید – قسط نمبر 9

–**–**–

اسکول سے واپسی پر بارش کی بوچھاڑ کن من میں بدل چکی تھی، ایبٹ آباد کے سارے منظر دھل گئے تھے، بھیگی سڑکوں پر تیز روم سے جھانکتی خوشبو نے اس کےجکڑ لئے۔
گیسٹ روم کا دروازہ کھلا تھا اور پردے برابر کئے گئے تھے۔
اس کے ناک سے ٹکراتی سگریٹ کی خوشبو اعلان کر رہی تھی کہ اندر کون بیٹھا ہے۔غصےمیں تن فن کرتی راہداری عبور کرکے وہ کچن کے دروازے تک پہنچی، جہاں آسیہ خاتون گیسٹ روم میں بیٹھے شخص کیلئے چائے بنانے کھڑی تھیں۔
“امی…….. یہ کیوں آیا ہے یہاں؟” وہ چیخی۔
“آہستہ بولو، سن لے گا۔ “وہ دبی دبی آواز میں چلائیں۔
“سن بھی لے تو کیا فرق پڑتا ہے، انتہائی ڈھیٹ قسم کا واقع ہوا ہے، جانتا ہے کہ زبردستی میرے متھے لگا ہے۔”
خداکا خوف کرو اشنال، شوہر ہے تمہارا۔”
لفظ شوہر نے اسکا حلق کڑوا کر دیا تھا…
“زبردستی کا شوہر!”
اور بھی بہت کچھ بڑبڑاتے وہ روم کی جانب بڑھی، ہینڈبیگ دور اچھالا، اسکارف،عبایا بھی اتارا اور گولا بنا کر زمین پر پٹخا۔
غصے میں بھری بیڈ پر بیٹھ گئی…..
اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں ہے، حد ہے کسی کے گھر میں آ کر سیگریٹ کے دھوئیں اڑانا بیڈمینرز میں آتا ہے، یقیناً ائیر فورس والوں سے چھپ کر پیتا ہوگا، فوجیوں کی پھینٹی لگے گی تب پتا چلے گا۔”
ابھی تک سیگریٹ کی خوشبو اس کے نتھنوں میں گھسی ہوئی تھی۔
“کتنے دن لگیں گے اب کمرے کو صاف ہوتے، سارا کمرا سگریٹ سے بھر دیا ہے….”
کیپٹن شاہ کے لیے اس کے پاس ناگواری ہی ناگواری تھی۔
سگریٹ کی خوشبو اسے اچانک ماضی میں لے گئی….. اس نے تھک کر تکیہ پر سر رکھ دیا…….
“تمہاری آنکھوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے زئی جیسے……”
“جیسے؟”
“تم ڈرنک کرتے ہو؟”
“ہاہاہا” وہ ہنسا تھا۔
مجھ سے سے سب یہی پوچھتے ہیں، لیکن مجھ سا شریف بندہ تمہیں چراغ لے کر نکلو گی تب بھی نہیں ملے گا۔”
وہ ہنسی تھی…..
اوہو اسے خوشششش…..
“جان شاہ۔”
پہلی بار پہلی بار کسی نے زئی کے خیالوں سے اسے کھینچ نکالا تھا، نامحسوس انداز سے…… وہ آنکھیں بند کئے چونکی…..
زئی کا خیال اڑ چکا تھا۔۔۔
مگر وہ کون تھا، جان شاہ پکارنے والا تو وہ……مگر نہیں یہ تو کوئی ننھی سی آواز تھی….
اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا، سامنے چار پانچ سال کا پیارا سا بچہ کھڑا تھا…..
وہ اسے دیکھ کر مسکرایا۔
جان شاہ۔” اس بچے نے پھر وہی لفظ دہرائے۔
بچے کے نین نقش بتاتے تھے کہ وہ کیپٹن شاہ کا عزیز ہے…
پھر وہ اشنال کے قریب آیا۔
مائے نیم از سید واسع شاہ۔”
شکر ہے اس کی آنکھیں نیلی نہیں ہیں، اشنال نے سانس بھری، اور مسکرائی۔بچے تو دشمن کے بھی پیارے اور معصوم ہوتے ہیں، بچو سے بئیر کیسا،وہ مسکرائی۔
“کم ہئیر۔”
اشنال نے اسے بلایا، اور اب وہ اسکی گود میں بیٹھا اس کی گود میں بیٹھا اس کے لمبے ناخنوں سے کھیل رہا تھا۔
“جے اصلی ہیں؟”
“بلکل۔”
اسے شاید یقین نہیں آیا تھا، اسنے اب اشنال کے ناخن کو پکڑ کر اپنی انگلی سے نیچے کی جانب زور لگایا،
جیسے وہ توڑ کر دیکھنا چاہتا تھا کہ ناخن اصلی ہے کہ نقلی….
“اوووووچ، سسییییء….”
اس سے ہاتھ چھڑا کر اب وہ آپنے بیچارے زخمی ناخن کو پھونکیں مار رہی تھیں…..
ہاہاہاہاہا،وہ ہنسنے لگا تھا….
“یوناٹی بوائے۔”
اشنال نے اس کے کان کھینچے…..
وہ پھر سے ہنسنے لگا….
________________________
واسع شاہ کیپٹن شاہ کی گود میں لیٹا اسکے کف لنکس سے کھیل رہا تھا، اور شاہ کی بےخود سی نظریں اسکے چہرے کے طواف میں لگی تھیں….
جیسے اس کے سامنے واقعی جان شاہ ہو۔۔۔۔۔
“چاچو جان شاہ مجھ سے میری لیشز مانگ رہی تھی۔”
“اچھا۔”اس کے ڈمپل مزید گہرے ہوئے۔
میں نے کہا آپ کی لیشز ہیں تو۔”
ہاں صیح،پھر؟”
“پھر انہوں نے کہا اپکی والی جادہ پاری ہیں۔”
پھر آپ نے دیں؟”
“جی، میں نے دیں۔”
وہ کیسے؟”
میں نے اپنی لیشز جوں فنگر سے ٹچ کرکے انکی لیشز سے جوڑ دیں۔”
ہاہاہاہاہا…. میرا شہزادہ۔”
“چاچو انکی آئیز جادہ پاری ہیں، میں نے انکی آئیز کو کس بھی کیا۔”
“ناااااااا کر یار۔”
شاہ نے جھک کر واسع کے ننھے ہونٹوں کو چوم لیا….
“میرے بیٹے کو کن کاموں پر لگا رہے ہو، کیپٹن شاہ؟”
بھابھی کمر پر ہاتھ رکھ کرگھوری، وہ دونوں چاچو بھتیجا ہنس پڑے….
اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا بھابھی۔”
شاہ واسع شاہ کے بالوں سے کھیلنے لگا…..
یہ بگڑا نا تو سمبھالنا تم ہی۔”
“ارے فکر نا کریں، چاچو نہیں بگڑا بتھیجا کیسے بگڑے گا۔”
میں دیکھ رہی ہوں چاچو آہستہ آہستہ بگڑنے لگے ہیں۔”
ہاہاہا، اب تو بگڑنا بنتا ہے ناں بھابھی۔ وہ آپ نے سنا نہیں، علی زریون کیا فرما گئے ہیں۔
میں اس کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا۔
وہ مجھ کو خواب نہیں،نیند سے جگاتی تھی۔”
پھر اسکی خوبصورت ہنسی شاہ ولا میں بکھرنے لگی۔
______________________
“بیوقوف مت بنو ایشے، بس کرو، کوئی اتنا بڑا ظلم نہیں ہوا ہے تم پر، ہر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے، کب تک مظلومیت کی چادر اوڑھوگی…
اسے نافرق پڑا تھا ناپڑے گا، وہ اپنی زندگی میں خوش ہے، اسے تمہاری زرہ پروا نہیں، وہ بس تمہارے ساتھ وقت گزار رہا تھا، کب تک تم اسے یاد کر کے اپنی زندگی برباد کرتی رہو گی؟
اب تمہاری زندگ تمہاری نہیں رہی، تم اب کسی کی بیوی ہو، بھول جاؤ اسے، کیوں مزید اپنے تماشے لگا رہی ہو….؟
اللہ نے شاہ کی صورت میں تمہیں ایک موقع دیا ہے، خدا کے لئے سمجھ جاؤ۔
کیا تم نے سنا نہیں……
“تمہارا رب جس چیز کو تمہارے قریب کردے اس میں حکمت تلاش کرو، اور جس چیز کو تم سے دور کر دے اس پر صبر احتیار کرو۔”
اب خود کو اور اذیت مت دو۔
فری آج اسے سمجھانے کے لیے پچھلے ایک گھنٹے سے کال پر تھی۔
” کیسے کرو صبر؟ فری، نہیں آتا مجھے صبر، نہیں بھول پا رہی میں اسے، تم میری جگہ پر ہوتی تب میں تم سے پوچھتی کہ بھلا آسان ہوتا ہے یادوں سے چھٹکارا پانا…؟
فری میں جب سوچتی ہوں کہ میں کسی اور کے ساتھ زندگی گزاروں گی، میرا دل چلنا بند ہو جاتا ہے، میں نے اس کے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب دیکھے ہیں فری۔
اس نے میرے ساتھ جو بھی کیا، مجھے دھوکا دیا، وقت گزارا، جو بھی کیا فری اس نے، پر میں نے….. میں نے تو سچی محبت کی ہے ناں فری، میری محبت جھوٹی نہیں تھی، فریب نہیں تھا، دھوکا نہیں تھا، جذبات کے ساتھ کھیلا نہیں تھا میں نے فری…..
تم بتاؤ….؟ مجھے کیسے صبر آئے۔
تم کوشش کرکے دیکھوں ایشے۔”
کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی۔
“تمہیں لگتس ہے میں نے کوشش نہیں کی ہو گی؟
میں جتنا اسے بھولنے کی کوشش کرتی ہوں وہ مجھے اتنا ہی یاد آکر بتاتا ہے کہ میں ہوں۔”
وہ ہے نہیں وہ تھا، اب شاہ ہے۔”
نہیں ہے کہیں شاہ، کہیں نہیں ہے شاہ، زبردستی مسلط کیا گیا مجھ پر۔”
تمہارا جوڑ اللہ نے اس کے ساتھ بنایا ہے۔
نکاح میں بہت طاقت ہوتی ہے، تم بس بیوقوفیاں چھوڑ دو۔”
میں نے کیا تھا میں ابھی شادی نہیں کرسکتی۔
کیوں کہاتھا…؟
اسلئے کہ میں دھوکا نہیں دینا چاہتی تھی کسی کو۔میں ایسا نہیں کر سکتی فری کہ دل میں کوئی اور ہو اور شادی کسی اور سے کر لوں۔
جب دل کسی رشتے کو مانے ہی نا۔ جب دل سے کوئی اور جا ہی نا پائے، تو ایسے کاغذی تعلق کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، دل میں دو لوگ نہیں رہ سکتے۔”
نکال باہر کرو زئی کو، کچھ نہیں لگتا تمہارا وہ۔
اتنا ہی اچھا ہوتا ناں تو وہ تمہیں یوں لاوارثوں کی طرح چھوڑ نا دیتا۔
اگر وہ اتنا سچا ہوتا نا تو وہ تمہارے علاؤہ کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نا دیکھتا، وہ کبھی تمہیں اپنانا چاہتا ہی نہیں تھا، وہ صرف وقت گزاری تھی،
جو محبت کرتے ہے نا، ایشے میری جان وہ جھوٹ کبھی نہیں بولتے ، وہ کبھی دھوکے نہیں دیتے۔
اس کے لیے تم بھی باقی لڑکیوں کی طرح چند دن کی عیش تھی۔
تم اس کے لفظوں کے جال میں پھنس کر اپنا آپ گوا بیٹھی ہو۔
تباہ ہو چکی ہو، بہت تقلیفیں برداشت کر چکی ہو۔
اس کا کیا اس کو کوئی فرق نہیں پڑا، وہ اپنی زندگی میں خوش ہے۔
اس کو یاد بھی نہیں ہوگا کہ اس نے کسی کی خوشیاں چھینی ہے، کسی کو مردہ بنا کر چھوڑ گیا ہے،
ایشے ایسے لوگوں کو اللہ بھی ڈھیل دیتا ہے اور پھر ایک بار رسی کو کھینچتا ہے، اللہ اپنے بندے پر کیے گئےظلم کبھی نہیں بولتا،۔ انسان بول بھی جائے وہ نہیں بولتا، جانتی ہو کیوں ؟
کیونکہ انسان کا دل اللہ کا گھر ہے اور جب کوئی گھر کو توڑتا ہے ، انسان کو تقلیف دیتا ہے تو اللہ کو بھی تقلیف ہوتی اپنے بندے کے درد سے، سو چوں ایشے….
ہماری ماں ہمارے ساتھ برا کرنے والے کو کچھی معاف نہیں کرتی، اسے جب پتا چلتا کہ میرے بچے کا دل توڑا ہے کسی نے تو اسے معاف نہیں کرتی ، تو وہ خدا جو ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے وہ کیسے اپنے بندے کی تقلیف بھول سکتا ہے کیسے اس کو بنا سزا کے چھوڑ اسکتا ہے۔
اسے اپنے کئے کی سزا ضرور ملے گی۔
دفع کرو اسے اب، اور شاہ کو سوچو سب اچھا ہوگا…”
کچھ بھی اچھا نہیں ہے اس شاہ میں۔
چاپلوس ہے بےحد، کبھی خود آتا ہے تو کبھی بھابھی بتھیجے کو بھیج دیتا ہے۔”
ایشے زندگی باربار مہلت نہیں دیتی، سمجھ جاؤ۔
چھوڑ دو اسے سوچنا، بس شاہ کو سوچو، سب وہی سب کچھ ہے۔”
تم لوگوں کی سوچ ہے کہ میں زئی کو بھول جاؤنگی، میں اس شخص کو کیسے بھول سکتی ہوں، جو میرا سکون نگل گیا…. جو میری ذہنی بربادی کا ذمہ دار ہے۔
کیسے بھول جاؤں اسے….؟٫
فون بند کرکے وہ پھر رونے لگی تھی……
تم اس سے دور دہو، لوگ اس سے کہتے تھے
وہ میرا سچ ہے ، بہت چیخ کر بتاتی تھی۔
_________________________
وہ بیڈ پر کافی سارے رسالے پھیلائے بیٹھی تھی، یوں ہی انکو الٹ پلٹ کرتے ایک صفے پر لکھے کچھ لفظوں پر اس کی نگاہ ٹھہر گئی۔ اس نے وہ صفحہ اٹھایا اور پڑھنے لگی…..
اور جن عورتوں کے ساتھ زبردستی زنا کیا جائے ان عورتوں کو چاہیے کہ وہ چیخ وپکار نا مچائیں اور خاموش ہو جائیں۔ اپنا پردہ رکھیں کہ اللہ صبر کرنے والیوں کو پسند کرتا ہے، اور بے شک ان کے ساتھ کی گئی ہر نا انصافی کا پورا پورا حساب لیا جائے گا۔”
دن میں جانے کتنی بار اس نے یہ تحریر پڑھی۔ اس کے ساتھ تو ایسا کچھ نہیں ہوا تھا، زنا کے آگے بیوفائی تو معمولی سی چیز ہے۔ وہ کوئی پہلی لڑکی تو نہیں تھی، جس کے ساتھ دھوکا کر گیا تھا، اپنی حدودسے باہر نکل جانے والی لڑکیوں کو پھر سزائیں تو ملتی ہیں، تو وہ کیوں اتنا واویلا مچارہی تھی۔
اللہ نے توانہیں بھی صبر کا کہاہیں جن کےساتھ زبردستی زنا کیا جاتا ہے جبکہ اس نے تو خود جانتے بوجھتے ایک غیر مرد سے راہِ رسم بڑھائے تھے۔ ٹھیک ہے محبت کرنا گناہ نہیں ہیں، مگر محبت کے کچھ تقاضے ہیں۔
اگر کسی سے محبت ہو بھی تو اس کو نکاح کی دعوت دو ، اور اگر مرد اس بات کے لیے راضی ہو تو پھر تو بلکل بھی دیر نہ کی جائے۔ کیونکہ جب یہ ناپاک رشتے طول پکڑتے ہیں تو تباہی مچاتے ہیں۔
اگر مرد اس بات کے لیے ابھی راضی نہیں،وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا کچھ وقت مانگتا ہے تو اسے صاف کہہ دو کہ جب وقت آیا تو تب آجانا میرے والدین سے اجازت لینے، کیونکہ جہنوں نے محرم بنانا ہوتا ہے نا وہ وقت نہیں مانگاکرتے، اور جو وقت کزار رہے ہوتے ہے نا وہ صرف وقت کو آگے بڑھاتے ہے ، اور مجبوریاں بتاتا ہے ، جانتے ہو مرد کبھی مجبور نہیں ہوتا، وہ اگر احتجاج کرکے چار شادیاں کر سکتا ہے، تو وہ اپنی پسند کی شادی بھی کر سکتا ہے، اگر وہ محبت کے لیے قدم بڑھا سکتا ہے ، قسمیں کھا سکتا ہے تو وہ شادی بھی کر سکتا ہے، اکثر وقت گزارنے کے بعد جان چھڑانے کے لیے کہہ دیتے ہے گھر والے نہیں مانے، درحقیقت وہ خود نہیں مانے ہوتے، ان کی حوس پرستی کی تکمیل ہو جاتی ہے تو وہ کہہ دیتے ہے کہ نہیں مانتے گھر والے ، ماں باپ ظلم نہیں ہوتے، چلو وہ نہیں مانے کچھ دن ضد ہو گی پھر وہ مان بھی جائے گے، پر اگر کوئی مرد نکاح جیسے پاک رشتے کےلئے راضی نہیں تو عورت کو کوئی حق نہیں، کہ وہ ایک غیر مرد سے رشتہ رکھے ، اور بعد میں تباہی کا رونا روئے، وہ اپنی بربادی کی خود زمہ دار ہوتی ہے۔
_________________________
جو لڑکیاں غیر مردوں کو نا محرموں کو اپنا آپ پیش کرتی ہیں، وہ ذلیل و خوار ہی تو ہوتی ہیں۔
اس رات وہ پچھتائی تھی اپنے ان سارے اعمال پر جو اس نے زئی کی محبت میں مبتلا ہو کر کئے تھے، اس نے تو زرا صبر نہیں کیا تھا،
وہ تو روئی تھی، چیخی تھی، بین کئے تھے اس نے، اپنے جسم کے حصوں کو اذیت پہنچائی تھی۔
سب سے بڑی بات اس نے خدا کو ناراض کیا تھا، اس کا کہا نہیں مانا۔ خدا نے کہا مرد کی نگاہوں میں مت جھانکنا، وہ ایک غیر مرد کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ خدا نے کہا تمہارا جوڑ میں خود بناؤں گا، اس نے سنا، اور خود ہی اپنے لئے چن لیا۔ جو خدا کے کاموں میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، پھر خدا بھی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے کہ اچھا..؟ مجھ پر بھروسہ نہیں ہے؟ ٹھیک ہے ڈھونڈو اور جب تھک جاؤ تو لوٹ آنا۔
اور پھر وہی ہوتاہے، ہم تھک جاتے ہیں، اپنی چاہت کے پیچھے بھاگ بھاگ کر، پھر ہم اسی کی طرف لوٹ کر آتے ہیں۔
خوش قسمت ہوتے ہیں وہ چندلوگ جو وقت پر لوٹ آتے ہیں، کچھ بد قسمت لوگوں کو جب احساس ہوتا ہے ،بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
اشنال بھی شاید بدقسمت لوگوں میں سے تھی۔
اس نے بھی گناہ کیا تھا، اللہ کے کاموں میں دخل کرکے، اللہ کو ناراض کر کے، آج وہ جس محبت کے لیے ترس رہی تھی، وہ اللہ کی نافرمانی کر کے اس نے کی تھی، کہیں نہ کہیں اس نے فہد کے سچے پیار کو ٹھکرا کر اس کے دل کو توڑ کر بھی گناہ کیا تھا،اور اللہ کے بندے کا دل توڑ کر کیسے انسان سکون میں رہ سکتا ہے، کبھی نا کبھی مکافات عمل دنیا میں ہی ہو جاتاہے۔
آج ب اس کا اپنا دل ٹوٹا تو اس کو احساس ہواتھا، آج اسے اپنے سارے کئے گناہ یاد آرہے تھے، اس کے آنسو اس کی ندامت کو واضح کر رہے تھے۔
آج کی رات اس کے احتساب کی رات تھی، آج اس نے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنی تھی۔
تہجد کا وقت تھا ،چہرے سے آنسوؤں کو صاف کیا اور وضو کر کے جائےنماز بچھائی، آج اس کو جائے نماز بچھاتے ہوئے بھی شرمندگی ہو رہی تھی، وہ جب بھی رب کے آگے جھکی اپنے مطلب کی خاطر جھکی۔
تہجدکی نیت باندھی تو ندامت کے آنسو بہتے ہوئے جائے نماز پر گرنے لگے، اسے اپنے وہ سارے گناہ یاد آرہے تھے، جو وہ ایک غیر مرد کی محبت میں مبتلا ہو کر کرتی ائی تھی،
جو میل ہے تیرے دل میں
وہ صاف کر دے گا….!!
تو مانگ تو صحیح دل سے
وہ معاف کر دے گا…..!!
مولا میری توبہ
مولا میری توبہ……!!!
_______________________
سجدے میں جا کر اس کے آنسوؤں میں اور روانی آ گئی تھی، اس کے آنسو اب سسکیوں میں بدل گئے تھے۔
وہ روتے روتے صرف اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہی تھی، وہ گناہ جو اس کو ایک اچھی لڑکی سے بری لڑکی میں تبدیل کر گے تھے، اس نے محبت تو کی تھی مگر حدود کو توڑ کر..
تہجد کی تمام رکات اسی طرح اس نے روتے ہوئے ادا کی ۔
دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو اس کے لبوں نے بے ساختہ یہ ہی الفاظ ادا کئے……..اللہ پاک معاف کر دے، میرے مالک میں گناہگار ہو گی……میں اتنی غافل ہوگئی تھی… میں بھول ہی گئی کہ میں تو تیری نافرمانی کر رہی ہوں…
میں جس راستے پر چل رہی ہو وہ صرف اور صرف گہری کھائی میں جاتا ہے…، میں نے تجھ کو اتنا ناراض کر دیا میرے مالک معاف کر دے…….
اک عرض کروں میں، سن میرے خدا
میں تو کچھ بھی نہیں ہوں، کہیں تیرےسوا..!
دل سے ہوئی ہے، جو بھی خطائیں
کر معاف مجھ کو یہی التجا ہے…..!!!
پل،پل ہر دم…..اک تو ہم دم
بس دل یہ ہی پکارے…….!!!!
مولا میری توبہ….. مولا میری توبہ….!!
_______________________
آنسوؤں کی کڑیاں اس کے چہرے کو بھگوتے ہوئے اس کی کی ہتھیلی کو بھر رہے تھے،مگر اس اج اپنے گناہوں کی معافی مانگنی تھی۔
اللہ پاک تو کہتا ہے ناکہ ایک بار میرے در پر جھک کر دیکھوں، اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر دیکھوں میں معاف کر دو گا۔
آج تیری یہ بندی نادم ہے اپنے کئے پہ، اپنے گناہوں پہ، معاف کردے مجھے میرے مولا بخش دے…
میں نے خود کو خود ہی اس عذاب میں جھونکا ہے، میں نے خود یہ راستہ چنا ہے آج میں خود اپنی تباہی کی زمہ دار ہوں، میں نے گناہ کیے ہیں، غیر محرم سے محبت کی ہے، تیرےبنائے قانون کو توڑا تیری نافرمانی کی، تو نے مجھ بار بار ٹھکر لگوائی مگر میں آندھی ہو گئی تھی، تجھے ناراض کرنے میں میں نے کوئی کسر نا چھوڑی ، اج اگر تو معاف نہیں کرے گا تو مولا میں کس کے در پر جاؤ گی… تو واحد ہے معاف کرنے والا…
میری سانس سانس تیری خدائی
کیوں ملی تھی مجھ کو تیری جدائی..!!
بگڑی میری کو مولا زرا سلجھادے
یہ جوآگ ہے میں نے خود لگائی..!!
نہیں مجھ سے پھر یہ گئی بجھائی
اپنے کرم سے مولا رحم برسادے..!!
اللہ پاک میں نے تیرے بندے کا دل توڑا تھا،میں نے غرور کیا تھا، میں نے اسے دوتکار دیا تھا۔
میں یہ بھول گئی تھی…. کہ تو اپنے بندے کے دل دکھانے والے کو سزا ضرور دیتا ہے۔
میں نے اس کو ٹھکرایا تب احساس نہ ہوا، آج جب مجھے زئی نے توڑا، مجھے دھوکا ملا،تو احساس ہوا،درد ہوا کہ اس شخص پر کیا گزری ہوگی جس کو میں نے توڑاتھا، جس کو میں نے ٹھکرایا تھا،جس کی محبت کو میں نے بکاری سمجھا تھا….. وہ تو میری زندگی سے خاموشی سے چلا گیا، اس نے تو صبر کر لیا…. مگر اللہ پاک اس کا صبر، اس کی آہ مجھے لگ گئی، مجھے میرے کئے کا صلہ مل گیا….
کسی کو بکاری سمجھتے سمجھتے، کسی کی سچی محبت کو ٹھکرا کر آج میں کسی کی محبت کے لئے خود بکاری بن گئی…. آج میں بھی تباہ ہو گئی ہو…. مجھے معاف کر دے نا میرے مولا۔
اللہ پاک میں تو اسے بھول گئی تھی….. اس کے ساتھ کی گئی زیادتی بھول گئی تھی…… زئی کی محبت میں اتنا ڈوب گئی کہ میں نے اپنی الگ دنیا بنا لی۔ میں حوا میں اڑنے لگی تھی……
تجھ سے اس قدر دور ہوگئی کہ تو مجھے بلاتا رہا اور میں نے اٹھ کر سجدہ نا کیا …. میں اپنی بربادی کے گلے کرتی رہی، پر اپنے گناہوں کو نا دیکھا… میں کہتی رہی کہ میں نے کیا کیا، کیوں ہوا میرے ساتھ یہ…. میں بھول گئی تھی کہ میں نے خود یہ راستہ چنا تھا، میں نے غیر مرد سے رشتہ جوڑا تھا یہ قصور تھا میرا یہ گناہ تھا میرا…
کبھی دل جو توڑے تھے میں نے
بڑی بھول مجھ سے ہوئی ہے
وہ جو چوٹ میں نے لگائی
میرے دل پہ بھی آلگی ہے
_______________________
میں نہیں جانتی میں کس طرح اپنے گناہوں کی معافی مانگو….. میرے پاس لفظ نہیں ہے مولا ….. تو تو رحیم ہے بن بولے سمجھ جاتا ہے….تیری رحمت کا دریا چھلکیاں مار رہا ہے، اک قطرہ مجھے بھی دے مولا….. اک قطرہ اس گناہگار کو بھی عنایت کردیں۔
میرے پاس لفظ نہیں ہے
مانگوں میں کیسے اپنی دعا….!!
دل سے ہوئی ہے، جو بھی خطائیں
کر معاف مجھ کوز یہ ہی التجاہے…!!!
پل، پل، ہر دم، اک تو ہم دم
بس دل یہی پکاریں….!!!!
مولا میری توبہ…… مولا میری توبہ….!!
___________________________
آج اس کے گناہ جیسے جیسے دھل رہے تھے، ویسے ویسے وہ اللہ کے آگے جھکتی جارہی تھی…..
آج اس وقت کا اندازہ ہی نہیں رہا تھا۔ وہ سمجھ رہی تھی اگر آج اسے معاف نا کیا گیا تو کبھی اس کو واپس موقع نہ ملے گا، آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی……. غیر کی محبت کے لئے بھی تو روئی تھی ،پر اج وہ اللہ کے آگے معافی کے لئے رو رہی تھی اسے پروا نہیں تھی……
آج وہ رو کے سسک کر فریاد کر رہی تھی اپنے رب سے….
اللہ پاک ہم انسان بھی نا کیسے تجھ سے غافل ہو جاتے ہیں ناں…… کسی انسان کی محبت میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ تجھے بھول جاتے ہیں کہ تجھے بھول جاتے ہیں، تو ہمیں کیسے کیسے یاد کرواتاہے اپنی….. ہم پھر بھی غافل رہتے ہے۔
اللہ پاک میں نے ایک غیر کو چاہ کر ناقابلے معافی گناہ کیا ہے، مجھے لگا وہ میرے لیے سچا ہے، مجھے کبھی کوئی دور نہیں کرسکتا اس سے…..
میں اس سچی اور مخلص محبت کرتی رہی…. میں اس کی محرم بنا چاہتی تھی، مگر وہ میرے لئے مخلص تھا ہی نہیں، اس کی خطائیں کیا گنو میں مولا …. میری اپنی ہی خطائیں ہیں….
تو نے جوکیا اپنے اپنے بندے کے لیے اچھا کیا۔ مگر یہ انسان کبھی بھی نا سمجھ سکا…. ہمیشہ ناشکرا رہا…. جب جب گناہ کئے یہ ہی کہا میرے ساتھ ہی کیوں ہوا یہ؟…. کبھی اپنے گناہوں کو نا دیکھا….
میں نے خود کو اذیت دے کر تجھے اور دکھ دیا…. تیری ناشکری بن گئی…. میں آج اپنے ہر گناہ کی معافی مانگتی ہوں مجھے معاف کر دے نا….
اللہ پاک کیا میرے گناہ تیری رحمت سے زیادہ ہے..؟بلکل بھی نہیں۔ میرے سارے گناہ ایک طرف، تیری رحمت کا ایک قطرہ ایک طرف، معاف کر دے ناں میرے رب…
میرے دل سے اس کی محبت کو نکال دے۔ میرے اس سلگتے وجود کو راحت دے…. میں دن رات تڑپتی ہوں میرے اللہ…. مجھے سکون نہیں آتا کہیں بھی…. میرا دل اکثر درد سے پھٹتا ہے…. میری ااس اذیت کو ختم کر دے۔
میں ہار گئی مولا… میں ہار گئی ہوں۔ واقع میں تیری چاہت جیت گئی، میں تھک گئی بھاگ بھاگ کر اپنی چاہت کے پیچھے، میرا سکون تک چھین گیا مجھ سے…
“مجھے سکون دے دے…. سکون دے دے۔” وہ سسکیاں لیتے ہوئے بولی تھی….
تو نے مجھے شاہ جیسا ہمسفر دیا، میں اس کے قابل بھی نا تھی میرے مولا۔
میں اسے کوئی دکھ نہیں دینا چاہتی، میں کسی کو اب تکیف نہیں دینا چاہتی، میں دل میں کسی اور کو رکھ کر اس سے شادی نہیں کر سکتی تھی۔ میں اس کے ساتھ ناانصافی نہیں کرنا چاہتی تو مجھ پر رحم فرما دےمولا۔
آنسوؤں تھے کہ بہتے ہی جا رہے تھے آج آنکھیں بھی اپنے قصور وار ہونے پر رو رہی تھی قرض ادا کر رہی تھی….
میں تو اپنے لائق نہیں تھا،
جوملا ہے تو نے دیا ہے…!!!
جو کرے تو سب سے اچھا
جو برا ہے میں نے کیا ہے…!!!
اب کوئی درد نہیں ہے
دل کا سکوں ہے تو اے خدا…!!!
دل سے ہوئی ہے،جو بھی خطائیں
کر معاف مجھ کو یہ ہی التجا ہے…!!!
پل پل،ہردم، اک تو ہم دم
بس دل یہ ہی پکارے…!!!
مولا میری توبہ…….. مولا میری توبہ…!!!
___________________
آج اس نے دل سے دعا کی تھی کہ وہ زئی کو بھول جائے۔
زئی کی سوچیں اس سے دور ہو جائیں۔
خدا مان تو جاتا ہے…. مگر وقت لگتا ہے۔
اس نے اپنے آنسو صاف کئے اور جائے نماز طے کر کے رکھی۔ اور وہی بیڈ کے ساتھ زمین پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: