Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Last Episode 12

0
پاگل آنکھوں والی لڑکی از اشنال سید – آخری قسط نمبر 12

–**–**–

رخصتی کا دن آپہنچا….
کوئی اسے بیڈ روم کے دروازے تک چھوڑ گیا تھا جس کا مطلب تھا آگے اسے خود جانا تھا۔ ایک ہاتھ سے لہنگا تھامے دوسرے ہاتھ سے ہینڈل گھما کر وہ اندر داخل ہوئی۔
خوشبوؤں کا تیز جھونکا اسکے نتھنوں سے ٹکرایا،اس نے آنکھیں بند کیں،سانس کھینچ کر خوشبوؤں کو محسوس کیا، گیٹ لاک کرکے اس نےروم لائیٹس جلائیں تو اسکی آنکھیں پلکیں جھپکنے کا ہنر بھول گئیں۔
جہازی سائز بیڈ کے چاروں اطراف سفید کرٹنز کو ایک ایک کرکے باندھا گیا تھا،بیڈ کی پشت کوسفید، پنک گلابوں،پنک للی،وائیٹ للی کے پھولوں سے بینچ بنایا گیا تھا، جن کے بیچ جھالروں کی صورت کرسٹل کے شائنی اسٹارز اسے مسکراتے ہوئے ویلکم کر رہے تھے۔
بیڈ کے چاروں طرف لٹکتے سفید کرٹنز پر ڈیری ملک چاکلیٹس کو پنز کی مدد سے چپکایا گیا تھا، کمرے میں تازہ پھولوں کی خوشبو کا ایک طوفان تھا۔
بیڈ کے اوپر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پنک اور وائٹ للی فلاوربنچ رکھے تھے، جن کے اوپر بھی ڈیری ملک چاکلیٹس رکھی تھیں۔ وہ بیڈ روم کم چاکلیٹ لینڈ زیادہ لگ رہا تھا۔
بیڈ کے آگے منسلک لمبے سے کشن پر انگلیش حروف میں لکھا” جان شاہ” لائٹس کی مدد سے چمکیں مار رہا تھا۔
“ہائے اللہ میں صدقے۔”
وہ اپنے ہاتھ گالوں پر رکھے حیرت سے اپنے اس خوبصورت سے” ویڈنگ سرپرائز” کو دیکھ رہی تھی۔
کمرے میں فریش فلاورز کی خوشبو نے اننی مچائی ہوئی تھی۔
وہ دونوں ہاتھوں سے لہنگا سنبھالے بیڈ کے اوپر چڑھی، اور اپنے چاکلیٹ لینڈ کو ندیدوں کی طرح تکتی گول گول گھومنے لگی۔
پھر وہ اپنا لہنگا بیڈ پر پھیلا کر بیٹھی، ڈیری ملک اس کے سامنے ہو اور وہ صبر کر جائے، ناممکن۔ اس نے کرٹن کے ساتھ چپکے ڈیری ملک کی ایک کٹ علحیدہ کی اور اس کا ریپر اتارنے لگی۔
وہ ڈیری ملک کو اس قدر ندیدوں کی طرح کھاتی تھی کہ کچھ عرصے سے ڈیری ملک بھی اس سے چھپتی پھرتی تھی۔ ریپر اترتے ہی اس کے منہ میں ڈھیروں پانی بھر آیا، جسے اس نے بمشکل حلق سے اتارا اور اب بڑے مزے سے اسکوائر شیپ چاکلیٹ کے بائیٹ لینے لگی۔
شرم؟ نہیں بلکل نہیں۔
اسے ذرا شرم نہیں آئی۔ وہ جانتی تھی وہ عام لڑکی تھوڑی تھی، وہ اشنال سید تھی، چاکلیٹ کی دشمن، بلاشبہ ایک ندیدی دلہن۔
ایک پیکٹ سے اس کا دل کہاں بھرتا تھا، ابھی وہ ہاتھ دوسرے پیکٹ کو اتارنے کیلئے بڑھانے ہی لگی تھی کہ گھڑی نے ایک بجے کا الارم دیا۔
چاکلیٹ ملنے کی خوشی میں وہ یہ بھول ہی گئی تھی کہ وہ کہاں،کس کے روم میں کس کیلئے بیٹھی ہے۔
“شاہ!” وہ یاد آتے ہی اشنال نے اپنے دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھ دئیے۔
“کیا ہی اچھا ہو کہ تم نا آؤ، کیا ہی اچھا ہو کہ میں ساری چاکلیٹس کھا سکوں۔”
اس نے نہایت افسردگی سے ڈیری ملک کو دیکھا۔
بیڈ کے وسط میں دلہن بنی بیٹھی اشنے کا دل جیٹ طیارے کی طرح شور کر رہا تھا، اضطراب میں آدھی سے زیادہ لپ اسٹک وہ ہونٹوں کو دانتوں تلے کتر کتر چکی تھی۔
اسے بس یہی خوف کھائے جارہا تھا کہ نیلی آنکھیں اس کے سامنے ہوں گی اور وہ کیسے چھپے گی؟
اففففف……….. اس نے جھرجھری لی…..
آہستہ آہستہ اسکا دماغ کام کرنے لگا اور پھر اس نے خود کو داد دی واقعی اشنال سید ایک جینیئس لڑکی تھی۔
یہاں گھڑی نے ڈیڈھ بجایا، وہاں دروازے کاہینڈل گھوما۔
اشنال کی جان ہوا ہوگئی، دل پتے کی طرح لرزنے لگا مگر اسے دماغ کو کام میں لانا تھا، اسکیم پر عمل پیرا ہونے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔
اس نے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر گھٹنوں پر رکھ دیا… اب اس کا چہرہ چھپ گیا تھا۔ کسی حد تک وہ نیلی آنکھوں سے محفوظ تھی۔
اندر داخل ہوتے شاہ کا استقبال بھی خوشبوؤں نے کیا، اس نے پکارا مگر وہ ٹس سے مس ناہوئی۔
“اشنے۔”وہ پھر بھی نہیں ہلی۔
شاہ نے اس کے کاندھے کو چھوا تو وہ کرنٹ کھا کر اوپر کوہوئی، اور آنکھیں بند کئے سر کو مسلتی رہی۔
آر یو اوکے؟” وہ اس سچویشن کیلئے ہرگز تیار نا تھا، گھبرا گیا۔
میرے سر میں درد ہے۔”
میڈیسن لی…؟
جی لے لی ہے۔” اس نے ابھی بھی نیلی آنکھوں میں نہیں دیکھا تھا۔
شاہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا،وہ کیا کرے، یہ سب اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتا اشنال نے ریکوئسٹ کی۔
“شاہ میں چینج کر آؤں؟”
“چینج؟”
“اس کے سارے سامان نے میرے سر میں درد کر رکھا ہے۔” اس نے اپنی جیولری کی طرف اشارہ کیا۔
اس نے ایک نظر نیلی آنکھوں میں دیکھا جن میں ارمان ہی ارمان تھے، جن پر ابھی وہ پانی پھیرنے والی تھی، پھر فوراً ہی نظریں جھکا کر بولی۔
“آپ کہتے ہیں تو میں نہیں کرتی چینج۔”
پھر آنکھیں میچے درد کی شدت کو سہنے کے ڈرامے کرنے لگی…..
شاہ نے بےحد پیار سے اپنی معصوم سی دلہن کو دیکھا جسے درد کی شدت میں بھی اس کا کتنا خیال تھا۔ سرخ رنگ کے بھاری کامدار لہنگے پر بالوں کا خوبصورت سا ہئیر اسٹائل بنائے، ماتھے کو کور کی گئی چین والی بندیا، ناک میں گول سی نتھنی ، ہر قسم کے زیورات سے لدھی، وہ اس کے خوبصورت سے کمرے میں روشن سا جگنو بنی بیٹھی…..
گوکہ دل نہیں مان رہا تھا، وہ اسے فرصت سے دیکھنا چاہتا تھا،خواب کو حقیقت کے روپ میں روبرو پاکر تادیر اس میں زندہ رہنا چاہتا تھا۔
مگر یہ بھی سچ تھا کہ اسے خود سے زیادہ اس کی فکر تھی…..
” تم چینج کر آؤ۔”
بس یہ سننے کی دیر تھی وہ لہنگا اٹھا کر واش روم میں گھس گئی۔ اس کی واپسی ایک گھنٹے تک جب نہیں ہوئی تو شاہ پریشان ہو گیا اور واش روم کا گیٹ ناک کرکے پوچھا۔
“اشنے آر یو اوکے؟”
اندر سے مری مری سی جی جی آواز آئی، کچھ بھی تھا اسے باہر تو نکلنا تھا۔
لہنگا بازو پر رکھے وہ واش روم سے نکلی تو وہ نیلی آنکھیں تیزی سے اسکی طرف بڑھیں، شاہ نے اس کے ہاتھ سے لہنگا لے کر صوفے پر رکھا۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس کی نیلی آنکھوں کے ہوتے سو کیسے سکتی تھی؟
وہ تذبذب کے عالم میں بیڈ کے قریب کھڑی رہی جب اسے واش روم کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔ اس نے شکر کے کلمے پڑھے،اور بیڈ کنارے لیٹ کر کمبل میں چھپ گئی۔
شاہ واش روم سے نکل کر اب اس کے پاس آرہا تھا۔
پھر وہ اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھا اور اس کے سر کو اپنے مضبوط ہاتھوں سے دبانے لگا۔
“میں کچھ سناتا ہوں تمہیں اس سے ضرور آرام آئے گا….”
پھر وہ اپنی آواز میں سورۃ یسین سنانے لگا۔
ایک بار اس نے سوچا کہ وہ شاہ کے ساتھ غلط کر رہی ہے،مگر وہ پھر ریلکس ہو گئی…..
بلاشبہ اسکی آواز بہت خوبصورت تھی….
اس کی آواز میں قرات سنتے سنتے اس کی آنکھ لگ گئی…
________________________
ولیمے کی تقریب کے بعد ہوٹل سے گھر پہنچتے رات کافی گہری ہو گئی تھی۔ وہ دونوں ساتھ ہی روم میں انٹر ہوئے تھے، اشنال مصنوعی ہتھیار سے خود کو آزاد کران ڈریسنگ ٹیبل کی طرف جانے لگی تھی کہ پیچھے سے شاہ کی آواز نے اس کا تراہ نکال دیا۔
“اشنے چھپکلی۔”
ایک زور دار چیخ کے ساتھ اس نے بیڈ پر چھلانگ لگائی۔ اب وہ بیڈ پر چڑھی خوفزدہ آنکھوں سے منہ پر ہاتھ رکھے چھپکلی کو ڈھونڈ رہی تھی۔ شاہ کی ہنسی کا پھوارا قہقہ کی صورت نکلا۔
وہ سلور کلر کے بھاری سیلور کام دار لہنگے میں ولیمے کی برائیڈ بیڈ پر خوفزدہ سی کھڑی تھی۔
“کہاں ہے چھپکلی؟”
اس کا سانس پھول چکا تھا، وہ چھپکلی سے اتنا ہی ڈرتی تھی کہ جتنا شاہ سے…..
“آئینے میں، نظر نہیں آئی….”
بلیو رنگ کے تھری پیس سوٹ میں،ہئیر اسٹائل کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود یوں لگتا جیسے ابھی بنایا گیا ہو، ولیمے کا گروم قہقہے لگاتے ہوئے۔
یہ مذاق تھا؟” اشنال نے کھڑے کھڑے کمر پر ہاتھ رکھ کر گھوری دی۔
آپ نے سنا میں نے کہا ہوکہ چھپکلی ہے؟ میں نے اشنے چھپکلی کہا تھا…”
شااااااااہ……” اس نے دانت پیسے۔
“جی جان شاہ۔”
شاہ محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے، وہ اسے پھاڑ کھانے والے لہجے میں کمر پر ہاتھ رکھے گھوری رہی تھی اورشاہ پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہنستے ہنستے دہرا ہورہا تھا۔
” بہت خراب ہیں آپ۔” اشنے نے کلائی پر بندھا گجرا اتار کر شاہ کو دے مارا۔ جو شاہ نے انتہائی آسان سا باونڈری کیچ سمجھ کر کیچ کر لیا۔
پچھلے ایک سال سے کوئی لاکھ کروڑ بار سن چکا ہو کہ بہت خراب ہوں میں لیکن آج میں تمہیں بتاؤں گا کہ واقعی میں کس حد تک خراب ہوں۔” وہ معنی خیزی میں کہتا ہوا بیڈ کی جانب بڑھا۔ اشنے کی چھٹی حس حرکت میں آئی اور وہ فوراً لہنگا دونوں ہاتھوں میں تھامے بیڈ کے دوسری طرف اتر گئی۔
دیکھیں شاہ اگر آپ نے مجھے تنگ کیا تو…”
“تو۔۔۔؟”
“تو میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔” وہ بیڈ پر بیٹھی دونوں ہاتھوں سے سر کو تھام کر کرا ہنے لگی۔
“ڈرامے باز لڑکی۔” وہ بیڈ کے دوسری سائیڈ سے اس تک پہنچا مگر وہ چھلانگ لگا کر دوبارہ بیڈ پر چڑھ گئی۔
“شاہ میں بابا کو آواز دے رہی ہوں، انسان بن جائیں۔”
اشنے نے اسے ڈرانا چاہا…
“کل بھی میرے ساتھ ڈرامہ کیا تھا نا تم نے؟ کس قدر معصوم ہوں میں تمہارے ڈراموں میں آجاتا ہوں۔ اور یہ بابا کی تڑیاں دینے کا کوئی فائدہ نہیں، وہ میرے بابا ہیں، ایک بار سوگئے تو ڈھول لیکر سر پر کھڑی ہوجاؤ نہیں اٹھنے والے۔
شاہ کو چکر دے رہی ہو میسنی….”
“ہااااااو آپ نے مجھے میسنی کہا۔”
وہ دونوں گالوں پر ہاتھ رکھے ڈرامائی انداز میں آنکھیں پھاڑنے لگی…..
ذرا ترس نہیں آیا مجھ پر، ہائے شاہ بیچارہ جان شاہ کے ہاتھوں الو بن گیا……
مگر اب اور نہیں…..”
وہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھا اور اس کا لمبا دوپٹہ تھام کر اس کی جائے فرار مسدود کر دی۔
اب وہ مکمل طور پر شاہ کے رحم و کرم پر تھی…..
“شاہ-“
“جی جان شاہ۔”
“میرے سر میں واقع درد ہے۔” اب وہ بیڈ سے اتر کر کارپٹ پر بیٹھ گئی تھی…..
یہ تو طے تھا کہ فرار اب ممکن نا تھی….
“اشنے۔”
“شاہ آپ بھی میرا یقین نہیں کریں گے نا تو کسی دن سچ مچ مجھے کھو بیٹھیں گے….”
آنکھوں میں آنسو کی ہلکی سی لکیر نے شاہ کے دل کو سہما دیا تھا….
“اشنے چپ۔”
وہ اس کے پاس فرش پر بیٹھا، اور اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر اپنے گالوں پر رکھے….
پاگل آنکھوں والی لڑکی کے آنسوؤں کے آگے شاہ پھر ہار گیا…..
اور اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ سید سکندر شاہ کو اشنال سید کے صدقے وار کر پھینک دیتا…..
_____________________
رات کے کسی پہر جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خور کو کسی پہاڑ تلے دبا محسوس کیا….
شاہ کیپٹن ہونے کے ساتھ ساتھ باڈی بلڈر بھی تھا، جس کا اندازہ اسے آج ہوا تھا، شاہ کا سر اسکے کاندھے کو ٹچ کر رہا تھا وہ کسی جن کے قبضے میں ہے، نیلی آنکھوں والے جن کے۔
اس جن کا ایک بازو اٹھانا اشنال جیسی نازک تتلی کیلئے ناممکن تھا۔
وہ مسکرائی….. کیسا جن تھا جس کی قید میں رہ کر بھی نازک تتلی مسکرا رہی تھی۔
اس نے اپنی انگلیوں سے شاہ کے بالوں کو چھیڑا، جنہیں اس نے کبھی بےترتیب نہیں دیکھا تھا۔
وہ کہہ سکتی تھی بلاشبہ الجھے بالوں کے ساتھ بھی اس کی خوبصورتی کم نہیں ہوئی تھی، وہ واقعی بلا کا حسین تھا۔
اسکی پلکیں بہت لمبی تھیں وہ آج پہلی بار نوٹ کر رہی تھی، اسے کسی مصنوعی لیشز کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ پہلی بار شاہ کو غور سے دیکھ رہی تھی، اور ایسا وہ صرف شاہ کے سوتے میں ہی کر سکتی تھی۔
اس نے سراٹھا کر شاہ کو دیکھنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے وہ ذرا سا کسمسایا اور اپنا چہرا اس کی نیک بون پر رکھ دیا….. اس کا سانس کچھ دیر کو بند ہوا مگر پھر اس نے شاہ کے بالوں سے اٹھتی خوشبو کو سانسوں میں محسوس کیا۔ اور گنگنائی….
تو ملا ہے تو احساس ہوا مجھ کو
یہ میری عمر محبت کیلئے تھوڑی ہے..!
_______________________
یہ سالار زئی کی حویلی کا منظر تھا جہاں سے ابھی ایک چھوٹی سی ننھی روتی نکلی تھی، گھر کے اندر ایک پانچ سال کا بچہ فٹ بال سے کھیل رہا تھا، اور اس کی ماما اس سے پوچھ رہی تھیں…….
“بیٹا عنایا بیبی کیوں روئی ہیں، کیا کہا ہے آپ نے ان سے؟”
اور وہ پانچ سال کا بچہ لہجے میں بے پناہ بیزاریت لئے بولا۔
“ماما میں نے عنایا سے دوستی ختم کر دی ہے۔”
“مگر کیوں بیٹا؟”
” ماما عنایا گندی بچی ہیں، میں نے فریشے سے دوستی کر لی ہے۔” اب وہ فخر سے اپنا خیال بتا رہا تھا۔
گھر میں داخل ہوتے زئی نے اپنے بیٹے کا آخری جملہ سنا اور بیوی کو مسکراہٹ پاس کی۔ اس کی بیوی اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
” بیٹا کس کا ہے۔”
وہ سالہ بچہ گردن اکڑائے بولا۔
“سالار زئی کا۔ اور اپنے بابا کے بازوؤں میں چھپ گیا۔
پورے گھر میں سالار زئی کا قہقہہ گونجا…..
شاید ٹھیک کہتے ہیں کچھ فیصلے زمین پر نہیں ہوپاتے، انہیں آخری دن کیلئے دکھ دیا جاتا ہے……
یا اولاد کے ذریعے اس کا مکافات عمل ہوتا ہے، اور شاید زئی کا مکافات عمل اس کے بیٹے کے زریعے ہونے والا تھا۔
_______________________
ایبٹ آباد شہر ختم ہوتے ہی ایک قبرستان آتا تھا، جس کے داخلی دروازے پر، آخری آرام گاہ کا بورڈ چسپاں تھا۔
عموماً قبرستان میں خاموشی ہوتی ہے مگر آج شب قدر کی شام تھی، شاید اسلئے بہت سارے لوگ اپنے پیاروں کی قبر پر پھول چڑھانے اور فاتحہ پڑھنے آئے تھے۔
پھولوں، اگر بتیوں کی خوشبو سارے قبرستان میں پھیلی تھی….
بہت ساری پکی، ماربل لگی قبروں کے بیچ ایک چھوٹی سے قبر تھی، دیکھنے والوں کو اس قبر پر لگی ننھی تتلی کا گمان ہوتا تھا….
ننھی قبریں تو اور بھی تھیں مگر اس قبر پر لگی تختی پر لکھا نام”پاگل آنکھوں والی لڑکی” لوگوں کو رک کراپنی طرف متوجہ کرتا تھا۔ اس نام کی قبر شاید آج سے پہلے کبھی نہیں بنی تھی….
ابھی ابھی ایک کپل جاتے ہوئے اس قبر کے پاس ٹھہرا، قبر کی تختی پر لگی گرد جھاڑی….. قبر پر پڑے مرجھائے ہوئے پھولوں کو سمیٹ کر ان کی جگہ تازہ گلابوں کی سیج بچھا گیا۔
آج ہی نہیں یہاں سے گزرنے والے اکثر لوگ اس ننھی تتلی کی قبر پر پھول چڑھاتے اور فاتحہ خوانی کر جاتے تھے…
گورکن کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس قبر میں کسی مردہ انسان کا بیجان جسم نہیں بلکہ کسی زندہ انسان کی محبت کی باقیات دفنائی گئی تھی ….
وہ آج بھی یہی سوچ رہا تھا کہ اگر ہر انسان اپنی محبت کی باقیات اسی طرح دفن کرتا رہے تو دنیا کی زمین باقیات محبت کے قبرستانوں کیلئے کم پڑ جائے…..
قبرستان کے بیچوں بیچ بنی ننھی قبر پر لگی “پاگل آنکھوں والی تختی” مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی…..
اور اچھی لڑکیاں اپنی قدر نہیں کرتیں، یہاں تک کہ وہ گلنے سڑنے لگتیں ہیں۔”
کچھ اشنال کی طرح گلنے سڑنے کے بعد شاہ جیسی محفوظ پناہ گاہوں میں آجاتی ہیں تو کچھ “پاگل آنکھوں والی لڑکی” طرح ایسی زندہ قبروں میں دفن ہوجاتی ہے….
کسی کو راستے مل جاتے ہیں تو کوئی دیر کردیتا ہے…
قبر کی تختی بول رہی تھی دیکھو۔
“میں پاگل آنکھوں والی لڑکی۔”
_______________________
“جان شاہ۔”
“جی کراں شاہ۔”
” یار میں مس کر رہا ہوں ان ٹیکسٹ میسجز کو، ریسور سے اٹھتی ان روٹھی روٹھی کالز کو اور خاص کر اس ٹوں ٹوں کال ڈسکنیکٹڈ کو….”
شاہ بیڈ پر آڑھا ترچھا لیٹا ہاتھ میں سیل فون گھماتے اشنے سے مخاطب تھا، جبکہ وہ خود ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بالوں پر برش کر رہی تھی۔
” آئینے میں نظر آتے شاہ کے عکس کو دیکھ کر اس نے کچھ سوچا اور پلٹی۔
“شاہ آپ نے ڈریس چینج نہیں کرنا؟”
“کرتا ہوں۔” وہ اٹھا اور باتھروم میں بند ہوگیا۔ اشنے نے سیل اٹھایا اور چپکے سے روم سے باہر نکل گئی۔
کچھ دیر میں وہ شاور لیکر نکلا تو اسے غائب پاکر پریشان ہو اٹھا، بستر پر پڑا سیل پر شاہ کالنگ پر پہلے وہ مسکرائی، پھر گرین سرکل کو اوپر کی جانب پش کیا۔
“کہا ہو تم؟”
“گیسٹ روم میں۔” (بڑےمزے سے جواب دیا گیا)
“وااااٹ، گیسٹ روم میں، مگر کیوں؟ وہ چیخا۔
میں نے سوچا آپ میری ہر خواہش بن کہے پوری کر دیتے ہیں، تو مجھے بھی آپ کی اس خواہش کو پورا کرنا چاہیے نا۔”
“ہاں تو اس کیلئے گیسٹ روم میں جانے کی کیا تک؟”
وہ روم سے نکل کر ساڑھیوں تک پہنچا۔
” تک ہے ناں، ابھی آپ کو یاد آ رہی تھی ناں ٹیکسٹ میسجز اور خاص کر ٹوں ٹوں کال ڈسکنیکٹڈ کی، تو بس یہ آئیڈیا میرے ذہںن میں آیا، اب خوش ہے ناں آپ؟”
” کوئی ضرورت نہیں ہے ایسے فضول آئیڈیاز کی، واپس آؤ فوراً۔”
نا بابا ناں۔”
وہ سیڑھیاں اتر کر گیسٹ روم تک آیا، ہینڈل گھمانے پر لاک اسکا منہ چڑانے لگا…..
” گیٹ کھولو۔”
” آپ ہی نے کہا تھا ناں شاہ کہ اشنال سید ایک بار جو دروازہ بند کر لیں اسے کھولنا نہیں چاہیے، سو اب یہ دروازہ صبح سے پہلے نہیں کھلے گا۔”
“باہر کھڑاشاہ اپنا سر پیٹ کر رہ گیا۔
“جان شاہ۔”
” میں نے تم کو سر پر چڑھا کر برا کیا ہے۔”
“چچچچ، خیر اب کچھ نہیں ہوسکتا، اب مجھے نیند آرہی ہے۔
گڈ نائٹ سویٹ ڈریمز۔”
“اشنے…….. اشنے……. جان شاااااہ…… جان۔”
ٹوں ٹوں کال ڈسکنیکٹڈ……
یہ آواز اور الفاظ اب اسے زہر لگ رہے تھے…. اس نے دانت پیسے…
اور بند دروازے کو گھورکر بیڈ روم کی طرف بڑھنے لگا، ساتھ ساتھ واٹس ایپ پر ٹیکسٹ ٹائپ کیا۔
” کل پوچھتا ہوں تمہیں باندری، میسنی ،چھپکلی۔”
دوسری طرف سے رپلائے فوراً آیا۔
” کل نہیں ایک مہینے بعد، لمبے دانتوں والے خرگوش۔”
ساتھ میں زبان نکالتا ایموجی۔ اسے یاد آیا، کل تو اس نے ائیر بیس واپس جانا تھا۔
اسکا دل کیا اپنی زبان کاٹ لے، یا گیسٹ روم کا دروازہ توڑ دے۔
وہاں وہ مزے سے بستر پر لیٹی سیل فون پر شاہ کی آئی ڈی پر ہنسی سے آنسو نکل آنے والا ایمو جی دس بار بھیج چکی تھی….
اب آنکھیں بند کر کے اسکی موجودگی کو محسوس کرنے کے سوا شاہ کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا….
____________________
ہر کسی کو زندگی میں شاہ جیسا چاہنے والا نہیں ملتا، ہر کسی کی زندگی میں خوشیاں ایسی دستک نہیں دیتی کچھ لوگ اس اذیت میں زندگی گزار دیتے ہیں، کچھ لوگ کسی کی زندگی میں داخل ہو کر بھی اپنی پرانی محبت کو نہیں بھول پاتے۔ اپنے ساتھ دوسروں کی زندگی بھی تباہ کردیتے ہیں۔
میں نے یہ ناول ان لوگوں کے لیے لکھا ہے۔ خاص کر ان لڑکیوں کے لئے جو کسی غیر شخص پر اس قدر یقین کرلیتی ہے کہ اپنی محبت میں اندھی ہوجاتی ہے ، پھر اپنی تباہی پر ساری زندگی آنسو بہاتی ہیں۔
جانتی ہوں محبت کی نہیں جاتی، یہ خود ہی ہو جاتی ہے، مگر محبت کہ بھی کچھ تقاضے ہے، محبت وہ ہی سچی، جو پاک ہو، جو آپ کے محرم سے ہو، اور اگر محرم نا ہو تو جلد سے جلد اس رشتے کو نکاح جیسے پاک رشتے میں باند ھ دیا جائے۔ ناکہ محبت میں اتنا آگے بڑھ جانا کے صیح اور غلط کی پہچان بھول جانا۔
اس شخص کی ہر جائز ناجائز خواہش پر مرمٹنا محبت نہیں، بلکہ سراسر پاگل پن ہے، پھر اس حوس پرست شخص سے جب دھوکا ملتا ہے تو ہم روتے ہیں، چیختے ہے، خود کو اذیت دیتے ہے، کہ ہمارے ساتھ کیوں ہوا، غیر محرم سے محبت بھی تو ہم ہی کرتے ہیں نا، کسی پر اندھا یقین بھی تو ہم ہی کرتے ہیں نا….. اپنے ماں باپ کو دھوکا دے کر پورا پورا دن پوری پوری رات غیر شخص سے باتیں بھی تو ہم کرتے ہیں ناں…… اپنے اللہ کی بنائی گئی حدود بھی تو ہم توڑتے ہیں نا ں…….. محبت جیسے پاک رشتے کے تقاضوں کو روند کر اندھے ہو کر آگے بھی تو ہم ہی نکلتے ہیں ناں…… اپنے محرم کی امانت میں خیانت بھی تو ہم کرتے ہیں ناں۔
تو پھر ان گناہوں کی سزا بھی تو ہمیں ملتی ہیں ناں، ہم اس کے حق دار ہوتے ہیں کس بات پر اللہ سے شکوہ کرتے ہیں کیا اس نے تمہیں روکا نہیں۔
کیا اس نے نامحرم سے رشتا بنانے سے منا نہیں کیا….
تو پھر کس بات کا شکوہ…. جانتی ہو اس اذیت کو برداشت کر پانا بہت مشکل ہو جاتا ہیں، بھٹک جاتا ہیں انسان مگر اتنا بھی نا بھٹکے کہ اپنی زندگی اپنے ہاتھوں تباہ کر دے۔
جب اللہ پاک نے ہمارے لئے ہمسفر چن رکھا ہے تو ہمیں کیا ضروت اس کی کی بنائی گئی حدود توڑنے کی۔
جو ہمارا ہے وہ ہمارے ماں باپ تک پہنچا دیا جائے گا ، اور عزت سے لے جائے گا…..
_______________________
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے تو سچی محبت کی پھر ہم کیوں نہیں ایک ہوئے…؟
وہ اس لئے کیونکہ تم اپنی سچی محبت میں اس قدر ڈوب گئے تھے کہ اللہ پاک کو ہی بھول گئے، تو خدا نے تمہیں اسی کے ہاتھوں توڑ ا ،اور پھر تمہیں دو راستے دئیے ایک اچھا، جو اس کی طرف جاتا ہے۔ اور دوسرا برا جو تم کسی اور غیر محرم پر بھروسہ کر کے اس کا یقین کرکے اس کا ہاتھ تھام لیتے ہو۔ اور پھر ساری عمر سکون کی تلاش میں رہتے ہو۔
اور جو اللہ کا راستہ چن لیتا ہے اس کے دل میں اللہ اپنی محبت ڈال دیتا ہے، دراصل وہ خود نہیں چنتا، جس کی محبت سچی ہو نا تو اللہ پاک اس کو اپنی محبت کے لئے چن لیتا ہے اور پھر عشق مجازی سے عشق حقیقی تک کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اور اس وقت انسان کے دل پر اللہ کی سچی محبت اتر کرتی ہے وہ اس سے پہلے نہیں کرتی۔
_________________
گڑیاں سکون صرف محرم کی محبت میں ہے، غیر سے محبت کر کے خدارا اپنی زندگی کو وہ داغ مت لگاؤ، جو بعد میں اتر پانا مشکل ہو، ساری زندگی اس بات کا ڈر رہے کہ اگر میرے شریکِ حیات کو پتا چلا تو کیا ہو گا….
تم یقین تو لیتی ہو مگر تم کیا جانوں کہ وہ شخص انسان کے روپ میں بھیڑیا ہے۔
اشنال کو شاہ جیسا ہمسفر ملا جو اس کے درد کو مٹا گیا، مگر ضروری نہیں ہر ایک کا نصیب اشنال جیسا ہو۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: