Paiyal Ki ChanChan Novel By Insia Awan – Episode 1

0

پائل کی چھن چھن از انسیا اعوان – قسط نمبر 1

–**–**–

پائل کی ہلکی سی چھن چھن اسکے کانوں میں گونجی تھی….
“رات کے اس اندھیرے میں چھت پر نہ جانے کون ہو سکتا ہے؟” یہ خیال اسکے ہوش اڑا لے گیا.. بلی کی مانند ہری آنکھوں میں خوف و ہراس چھانے لگا…
پلنگ سے اٹھ کر اس نے موبائل کی ٹارچ آن کی.. ارد گرد کا جائزہ لیا… کمرے کا اندھیرا اسے اور خوفزدہ کر رہا تھا…..
“کو…کون….کون ہے…” کسی بچے کی طرح اس نے اپنا سر دروازے سے نکال کر اونچا اونچا بولنا شروع کیا تھا…
“چھت…پہ کون ہے….”
لیکن کوئی جواب نہ آیا….. پائل کی چھن چھن تیز ہونے لگی… کوئی مسلسل چھت پہ ٹہل رہا تھا
“کون……. ہے اوپر….. ” ماتھے پہ بل آنے لگے… سردی میں وہ پسینے سے گیلا ہونے لگا….. لیکن اوپر جانے کی ہمت پھر بھی نہ ہوئی…
ٹانگیں خوف سے کانپ رہی تھیں.. ہاتھ میں پکڑا موبائل بھی ہلے جا رہا تھا….. کچھ دیر مسلسل پائل کی چھن چھن کے بعد سناٹا چھا گیا… اس نے اپنے ہوش پہ قابو پایا اور واپس بیڈ کی طرف مڑا……
ہلکی سی چاند کی روشنی وہاں چھا چکی تھی… جس کمرے میں اندھیرا تھا وہ اب روشن لگ رہا تھا…. وہ بیٹھے بیٹھے کب ڈر کر سو گیا… خدا جانے…
…………
تیز ہوا کے جھونکے اور اس طوفان میں وہ مشکل سے خود کو سنھبال کر خالی روڈ پہ چل رہی تھی..
جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا… ہونٹ سردی سے نیلے پڑ چکے تھے..لیکن وہ پھر بھی جگہ جگہ چھان بین کر رہی تھی کہ کہیں سے رہنے کا ٹھکانا مل جائے…
طوفانی رات میں اس لاوارث لڑکی کی کوئی تو مدد کرے گا…
وہ مشکل سے چل کر ایک ویران سی بستی میں آگئی… پاؤں کی جوتی اتنا دیر تک چلنے کے باعث پھٹ چکی تھی.. پاؤں گھسیٹ گھسیٹ کر وہ بامشکل ایک گھر تک پہنچی. آگے بڑھنا چاہا لیکن آگے کا سفر تہہ کرنا محال ہو گیا….
گلا پیاس سے خشک ہو رہا تھا اور جوتی کا کونہ پاؤں کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کر پاؤں کو زخمی کر رہا تھا…
اس نے ہمت کر کے گھر کی کے دروازے پر دستک دی…. کچھ دیر بعد کلک کی آواز آئی.. اور اسکی کالی آنکھیں ہری آنکھوں سے جا ملیں…
“مجھے پانی……..” وہ بامشکل لب کھول پائی تھی کہ چکر آنے لگے… آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا… اور وہ سامنے کھڑے ٹاور جیسے لڑکے سے ٹکرا کر ہوش و حواس کھو بیٹھی….
“لڑکی…… ” بےہوش ہونے سے قبل اس لڑکے کی رعبدار آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی تھی… لیکن وہ اس وقت کچھ کہنے کے قابل نہ تھی……
…..
بانہوں میں اٹھائے وہ اسے صوفے تک لے آیا.. بےحد آرام سے صوفے پہ لٹا کر وہ اسکے لئے پانی لینے گیا…
ہزاروں کی تعداد میں سوال اسکے ذہن میں گردش کر رہے تھے.. “رات کے اس پہر میں یہ لڑکی سڑک پر کیوں گھوم پھر رہی تھی؟..”
“وہ کون تھی…؟”
“کہاں سے آئی تھی…؟”
سوچوں میں گم اسکی نظر کھڑکی سے باہر طوفانی رات پہ پڑی.. بادلوں کی گرج و چمک نے اسکے اوسان خطا کر دیئے.. ایک بار پھر پائل کی چھن چھن اس کے کانوں میں گونجی….
“چھن..چھن…چھن…” وہ ڈر گیا…
فریج کے پاس کھڑے وہ گلاس میں پانی ڈالنا تک بھول گیا…
.
ایک ہی آواز تھی جو کانوں کے اندر تک سما گئی تھی.. چھن چھن…
بامشکل اس آواز کو اگنور کر کے اس نے پانی گلاس میں انڈیلا.. لبوں پہ مسکراہٹ لئے وہ اس بےسہارا کی طرف جانے لگا… چھن چھن کی آواز اب غائب ہو چکی تھی..
……………
سانسوں کی ہلکی ہلکی آواز اسکے کانوں میں پڑی… وہ صوفے پہ لیٹے لیٹے بےچین ہوئی… جونہی سانسوں کی آواز تیز ہوئی وہ چونک کر اٹھی… اِدھر اُدھر دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا…
ایک نظر گھما کر اس نے گھر کے کونے کونے کا جائزہ لیا… وہ ایک ایک چیز کو دیکھ رہی تھی.. پرانی چیزوں سے گھر بھرا پڑا تھا.. وہ گھر کم میوزیم زیادہ لگ رہا تھا….
نظر دوڑاتے ہوئے اسکی نگاہ ایک تصویر پہ اٹک گئی.. وہ ایک کم عمر خاتون کی فوٹو تھی… جس نے لال لباس کے ساتھ لال ہی لپسٹک لگائی ہوئی تھی.. آنکھیں بےحد خوبصورت تھیں.. بال لمبے اور گھنے تھے… ناک کے کوکے سے لے کر پاؤں کی پائل تک وہ خاتون زیور سے لیس تھی..
وہ اسکی خوبصورتی میں ایسا ڈوبی کہ جیسے ہی ٹاور جیسے لڑکے نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ گھبرا گئی …
“کیا ہو گیا؟” گھبراہٹ سے لب خاموش تھے…
“گھبرائیں مت…یہ پانی پی لیں” اس نے ٹرے اسکے سامنے کی.. لڑکھڑاتے ہاتھوں سے اس نے پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا…
“آپ کا نام کیا ہے؟” وہ ٹرے ٹیبل پر رکھ کر اسی کے پاس صوفے پہ بیٹھا….
“تحریم” وہ بامشکل بول پائی تھی..
“اچھا میں حزیفہ ہوں…” تحریم نے جواباً سر کو جنبش دی..
“کیا میں پوچھ سکتا ہوں.. رات کے اس پہر آپ اِدھر کیا کر رہی تھیں؟…”
تحریم کے دل پہ گویا یہ سوال کسی انگارے کی طرح آگ لگا گیا. اس نے آنکھیں بند کیں.. ایک فلیش بیک اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا…
” میں دھوکا دیتا ہوں آج تمہیں––– چلی جاؤ اپنی شکل مت دکھانا––– یہ سونے کا زیور میرا ہوا––– تم پھر اس گھر کی دہلیز پہ واپس مڑ آئی––– دفع ہو جاؤ ہمارے لئے مر گئی تحریم نامی لڑکی”
بیتی باتوں نے آنکھوں کو برسنے پہ مجبور کر دیا….
“ارے آپ رونے کیوں لگ گئیں.. اچھا نہیں پوچھتا کچھ.. آپ اِدھر رہ سکتی ہیں…” حزیفہ کالی آنکھوں میں نمی دیکھ کر گھبرا گیا…
“ٹھیک ہیں نہ آپ…؟” اس نے نے جھٹ سے سوال کیا….
“ہم..” آنکھوں کی نمی اب کم ہو چکی تھی..
“اٹھیں میں آپ کو کمرے تک لے چلتا ہوں…”
“اوکے….”
حزیفہ دروازہ لاک کرنے کی ہدایت دے کر ابھی ابھی وہاں سے گیا تھا.. اس کے جاتے ہی وہ کمرے کی ایک ایک چیز پہ غور کرنے لگی….
ایک “انجان لڑکا”…”اتنا بڑا گھر”…”ویران بستی”.. اسکا رہنا یہاں ٹھیک بھی ہے کہ نہیں.؟ وہ خود سے ہی سوال کرنے لگی.. لیکن وہ کرے بھی تو کیا کرے.. اس آدھی رات میں وہ آخر جا بھی کہاں سکتی تھی..؟
رشتہ داروں کے گھر دوسرے شہر میں تھے اور گھر والوں نے آدھی رات میں گھر سے نکال دیا تھا….
چپ چاپ کمرے میں کھڑی وہ بیڈ کی طرف بڑھنے لگی.. کہ عین اسی وقت دروازہ پوری قوت سے خود بہ خود بند ہوا…
وہ یک دم پیچھے مڑی.. کمرے کا دروازہ بند ہو چکا تھا… اسکی نظر اس ویران سے دروازے پہ پڑی جو جگہ جگہ سے دیمک کی خوراک بن چکا تھا…..
وہ ہمت کر کے آگے بڑھی… اور دروازے کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھ کر اسے کھولا.. کمرے سے باہر کا جائزہ لیا… باہر کوئی نہ تھا…کونے میں کھڑکی کھلی تھی جس سے تیز ہوا اندر آرہی تھی…
“یقیناً ہوا کے جھونکے سے دروازہ یوں تیزی سے بند ہوا”.. اس کے دل میں خیال آیا اور دروازے کو کنڈی لگا کر آ کر بستر پہ لیٹی…
کالی آنکھیں جونہی بند کیں… نیند کی دیوی اس پر مہربان ہو گئی…
کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی جگمگا رہی تھی… نیند میں پھر سے وہ کسی کی سانسوں کی بدولت بےچین ہوئی تھی… لیکن تھکاوٹ اس قدر تھی کہ اسکی آنکھ نہ کھلی….
رات کے تین بجے کے قریب دروازے کا ہینڈل حرکت کرنے لگا… مسلسل کوئی اسے کھولنے کی کوشش کر رہا تھا…..
ہیڈل کی ٹک ٹک سے تحریم کی آنکھ کھل گئی.. جونہی آنکھ کھولی تو سامنے ویران دروازہ نظر آیا..جس کا ہینڈل حرکت کر رہا تھا… بار بار اوپر نیچے ہو رہا تھا…
“کون ہے.. حز… حزیفہ؟” اس کے بولنے کی دیر تھی کہ ہینڈل حرکت کرنا بند ہو گیا… لیکن جواب میں اسے خاموشی ملی..
اس کے کانوں میں سناٹا چھا گیا.. پھر ایک طرف سے تیز ہوا کا جھونکا آیا… تحریم نے فوراً اپنا چہرے کا رخ ہوا کی طرف کیا.. کونے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی.. اس کے اردگرد کے پردے ہوا سے لہرا رہے تھے…
وہ جب کمرے میں آئی تھی اس نے ایک ایک چیز پہ غور کیا تھا..تب تو یہ کھڑکی بند تھی.. پھر اب کیسے کھل گئی؟ اس خیال سے اسکی روح کانپ اٹھی…
“شاید ہوا کے تیز دباؤ کی وجہ سے کنڈی کھل گئی ہو” اس نے دل ہی دل میں خود کو تسلی دی اور اٹھ کر کھڑکی کو بند کیا…
وہ بستر پر آ کر لیٹ گئی کیونکہ رات کے اس پہر میں کنڈی کھول کر باہر جانا مناسب نہیں تھا.. انجان لڑکا تھا کچھ بھی ہو سکتا تھا… اسلئیے اس نے ہینڈل والی بات کو بھلانا عقلمندی سمجھا….
…………….
صبح چھ کے قریب اسکی آنکھ چھت سے آنے والی آواز کی بدولت کھلی.. ایسے لگ رہا تھا کہ کوئی پائل پہن کر رقص کر رہا تھا..
“چھن.. چھن” کی آواز تحریم کے ہوش اڑانے کے لئے کافی تھی.. کل والے واقعات اب تک ذہن سے نہ نکلے تھے کہ اب ایک اور واقعے نے اس کے رونگٹے کھڑے کر دیئے تھے..
وہ دل ہی دل میں خود کو تسلی دیتے ہوئے بیڈ سے اٹھی.. کمرے کا دروازہ کھولا اور باہر نکلی.. ایک ایک چیز پہ نظر ڈالی..وہاں سب نارمل تھا لیکن بار بار چھت سے آواز آرہی تھی….
دور نظر پڑی تو تحریم کو قدیم زمانے کی سیڑھیاں نظر آئیں جن کا راستہ اوپر کو جاتا تھا.. وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اوپر چھڑنے لگی…
“نہ جانے اس وقت چھت پہ کون ہو گا؟” اسکا دل دھک دھک کر رہا تھا..لیکن تجسس کے مارے اپنے قدم نہ روک پائی…
خود کو سنھبالتے سنھبالتے وہ بامشکل اوپر پہنچی اور آگے کا منظر دیکھ کر وہ کپکپا اٹھی…
سفید پاؤں جن پہ لال رنگ کی مہندی لگی ہوئی تھی… لہنگے میں ملبوس وہ لڑکی گھونگٹ اوڑھے چھت پہ ناچ رہی تھی… دھیمی دھیمی پائل کی آواز…وہ مکمل رقص میں محو تھی.. تحریم کی جانب اسکی پیٹھ تھی…..
“کک کک…کون…” تحریم نے بولنا چاہا لیکن آواز خلق میں دب گئی…..
وہ لڑکی کچھ ہی دیر بعد چھت سے کود کر پلک جھپکتے ہی غائب ہو گئی….
تحریم کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہ آیا… اس نے ابھی جو دیکھا تھا اسکو صحیح معنوں میں پاگل کرنے کے لئے کافی تھا….
وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ سیڑھیوں سے نیچی اتری… ذہن چکر کھا رہا تھا.. سب کچھ الٹا پھلٹا دکھائی دے رہا تھا.. جونہی اگلی سیڑھی پہ پاؤں رکھا… پاؤں پھسل گیا اور وہ رول ہوتے ہوتے نیچے جا لگی…
………….
بےحد تھکاوٹ میں اس نے اپنی کالی آنکھوں کو کھولا.. وہ یک دم اٹھ کر بیٹھی.. ارد گرد دیکھا تو وہ اپنے بستر پہ ہی لیٹی ہوئی تھی.. دروازے پہ نظر پڑی تو وہ بھی بند تھا..
اس نے اپنے ماتھے پہ ہاتھ رکھے.. “کیا میں خواب دیکھ رہی تھی…؟”
“اگر خواب تھا تو یہ میری زندگی کا سب سے بھیانک خواب تھا” اسکے ماتھے پہ بل نمایاں تھے…
کیچر پہننے کے لئے جونہی اس نے بیڈ پہ یاتھ مارا تو اسکی نظر سامنے کھڑکی پہ پڑی جو کھلی ہوئی تھی…
“یہ کھڑی …میں نے رات کو تو اسکو بند کر دیا تھا.. پھر یہ کیسے کھل گئی؟” وہ الجھ گئی…
بستر سے اٹھ کر وہ ایک بار پھر کھڑکی کی طرف گئی… کھڑی کی جانچ پڑتال کی تو کنڈی میں نقص نظر آیا….
اسکے دل کو تسلی ہو گئی.. اس بات پہ یقین ہو گیا کہ کھڑکی ہوا کے دباؤ سے ہی کھلتی ہے… وہ کچھ سوچے بغیر کمرے سے باہر نکلی…
سامنے دیکھا تو حزیفہ اسے میز پر ناشتہ لگاتا ہوا نظر آیا…
“اٹھ گئیں آپ.. آ جائیں ناشتہ لگا چکا ہوں…” وہ اسے دیکھ کر مسکرا کر بولا…. بغیر کوئی جواب دئیے وہ میز کے سامنے آ کر بیٹھ گئی…
………….
چائے کی پیالی لبوں سے لگاتے ہی تحریم کی نظر اسی خاتون کی تصویر پہ پڑی… لہنگے کے نقش ونگار میں وہ گم سی ہو گئی…کچھ دیر غور کیا تو اسے اپنا خواب یاد آنے لگا..
خواب میں لڑکی کا لہنگا اور یہ لہنگا مشابہت رکھتا تھا.. وہ چائے پیتے پیتے چونک گئی…. یہ کوئی اتقاق نہیں تھا..
“یہ.. یہ عورت کون ہے؟” وہ پوچھنے سے رہ نہ پائی…
“کون عورت؟”
“یہ تصویر والی…” تحریم نے اشارہ کیا… حزیفہ نے رخ وہاں موڑا تو اس کی آنکھوں میں ڈر بیٹھ گیا….
“آپ چائے پییں نہ” اس نے سوال کو نظر انداز کر دیا…
“لیکن یہ….”
“یہ ایسے ہی پیٹنگ ہے…” حزیفہ نے اسکی بات کاٹ کر بولا…
“اچھا پتہ کیا…. میں نے ایک عجیب سا خواب دیکھا…” اسکی آنکھوں میں فکر تھی..
“کیسا خواب؟” اسکے پوچھتے ہی تحریم نے ایک سانس میں حزیفہ کو پورا خواب سنا ڈالا…
“ارے آپ نے کل بھی یہ پکچر دیکھی ہو گی.. اسلئے یہ تصویر آپ کے ذہن میں بیٹھ گئ اور وہ خواب آیا..” وہ بالکل نارمل انداز میں بولا…
“ہاں شاید…” اس نے بےحد پریشانی میں ایک بار پھر چائے کی پیالی لبوں سے لگا لی…. پاس بیٹھا حزیفہ اسے ہی دیکھ رہا تھا.. پہلے وہ بالکل نارمل انداز میں تھا لیکن تحریم کے نیچے دیکھتے ہی اسکی آنکھوں میں فکر چھا گئی….
………………
حزیفہ صوفے میں بیٹھا گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا جب تحریم نے اسکے آگے چٹکی بجائی..
“کہاں کھو گئے آپ؟”
“کچھ نہیں.. سوچ رہا تھا”
“کیا..؟”
“چھوڑیں آپ بتائیں یہاں کب تک ہیں؟” یہ سوال تحریم کو مایوس کر گیا…
“نہیں جانتی.. میرے پاس رہنے کا ٹھکانا نہیں کوئی”
“رہنے کا ٹھکانا؟…..” حزیفہ نے تحریم کی آنکھوں میں دیکھا.. نمی اسکی آنکھوں میں صاف دکھائی دی…
“اچھا اچھا میں کچھ نہیں پوچھتا…” وہ یک دم بولا..
“نہیں آپ پوچھ سکتے ہیں.. آپ نے مجھے رہنے کی جگہ دی آپ کو حق ہے جاننے کا…” وہ دھیمی آواز میں بولی..
“بھر بتائیں…”
“اوکے…دراصل…. مجھے ایک لڑکے سے محبت ہو گئی تھی.. لیکن گھر والے شادی کے لئے نہیں مان رہے تھے… بولتے رہتے تھے کہ لڑکا اچھا نہیں ہے..” اسکی آنکھوں میں آنسو کا ایک قطرہ آیا.. حزیفہ چپ چاپ اسکی شکل تک رہا تھا..
“میں نے گھر والوں کی ہر بات پہ کان بند کر لئے اور اس لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی..پھر وہی ہوا جو گھر والوں نے کہا تھا” وہ روتے ہوئے طنزاً مسکرائی…
“وہ لڑکا بےحد ظالم اور برا نکلا اسے پیسے کی لالچ تھی.. کچھ ہی دن بعد میرا زیور ہتھیا کر اس نے مجھے لاوارث روڈ پہ چھوڑ دیا…میں بہت مشکل سے اپنے گھر تک پہنچی لیکن وہاں بھی کسی نے جگہ نہیں دی… انکی عزت جو مٹی میں مل گئی تھی… اسلئے وہاں سے ذلیل ہو کر میں یہاں پہنچی.. اور آپ کی دہلیز پہ آ کر دم توڑ گئی..اس دن میری محبت.. یقین.. اعتماد ہر چیز کا قتل ہو گیا تھا…اور رسوائی الگ تھی…” اسکی آنکھیں اب برسنے لگی تھیں..
“ارے روئیں تو مت.. آپ یہاں رہ سکتی ہیں… ” حزیفہ نے اسے سہارا دیا..
“آپ کا بڑا دل ہے جو مجھے جگہ دے دی آپ نے.. میں اس دن کے بعد سے سوچتی تھی کہ کلرڈ آنکھوں والے ہوتے ہی بےوفا ہیں..کیونکہ اسکی بھی کلرڈ آنکھیں تھیں.. نیلے رنگ کی..” آنکھوں کی نمی اب کچھ کم ہو گئی تھی لیکن محبت میں ٹوٹنے کا غم اب تک ان میں واضح تھا..
“لیکن آج آپ نے میرا نظریہ بدل دیا.. مجھ لاوارث کو رہائش دے کر پھر سے کلرڈ آنکھوں والوں پہ بھروسہ کرنے کی ہمت دی.. میں آپ کی شکر گزار ہوں..”
“ارے کوئی بات نہیں آپ ناشتہ کریں.. اور ماضی کو بھول جائیں…” وہ چائے کی پیالی لبوں سے لگاتے ہوئے بولا…
“جی…”
…………..
سورج غروب ہونے میں کچھ ہی دیر تھی.. اور حزیفہ کچن میں کھڑا رات کے کھانے کا انتظام کر رہا تھا… آہستہ آہستہ قدموں کی آواز اسکے کانوں میں پڑی.. وہ سبزی کاٹتے کاٹتے ڈر کر مڑا…
پیچھے تحریم کو دیکھا تو اس نے سکھ کی سانس لی..
“کیا ہوا…” تحریم اسکے انداز سے ہکابکا رہ گئی..
“کچھ نہیں..آپ یہاں؟”
“میں نے سوچا آپ کی ہیلپ کر دوں..”
“نہیں اسکی کوئی ضرورت نہیں..”
“ارے پھر میں کیا کروں…؟ کچھ کرنے کے لئے تو ہو”
“اچھا یہ سبزی کاٹ دیں..” حزیفہ نے چھری اور سبزی تھمانے کے لئے ہاتھ آگے کئے تو تحریم کو اسکے بازو پہ لال زخم نظر آئے.. بالکل اس لڑکی کی مہندی اور لہنگے کی طرح لال.. ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے ناخن مار مار کر نوچا ہو….تحریم ان زخموں سے نظر نہ ہٹا پائی… وہ پریشان تھی…اتنے گہرے زخم.. آخر کیسے….؟
حزیفہ نے تحریم کی نظروں کا تعاقب کیا اور جیسے ہی زخموں پہ نظر پڑی تو اس نے فورًا سے اپنے بازو پیچھے کر لئے اور قمیض کی آستین نیچے چڑھائیں..
“وہ دراصل کوکنگ کرتے کرتے لگ جاتے ہیں ناخن..” حزیفہ نے صفائی دی..
“اچھا” وہ اب تک شاکڈ تھی.. لیکن پھر بھی بیٹھ کر سبزی کاٹنے لگی..
…………..
رات کے کھانے کے وقت وہ گپیں لگا رہے تھے.. اِدھر اُدھر کی باتوں میں ان دونوں کا ہی وقت اچھے سے گزر گیا…
“ویسے آپ کے ماں باپ وغیرہ سب کدھر ہیں؟” تحریم کا سوال حزیفہ کے دل میں آگ لگا گیا…
“دونوں کا انتقال ہو گیا تھا..” اس نے بغیر کسی تاثر کے جواب دیا…
“اوہ سوری…” تحریم اسکے بدلتے تاثرات دیکھ کر سہم گئ..
“ارے ڈر کیوں گئیں آپ.. بس پرانی یادیں تھوڑی کڑوی ہیں.. اسلئے انہیں یاد کر کے دل جلتا ہے…” وہ اب نارمل انداز میں بولا تھا…
“نہیں نہیں کچھ نہیں…میں چلتی ہوں کھانا بھی ختم ہو چکا ہے..”
“اوکے گڈنائٹ”
………….
گہری رات میں وہ پھر سوتے سوتے بےچین ہوئی.. جب سے وہ یہاں آئی تھی سکون کی نیند نصیب نہ ہوئی تھی… وہ اٹھ کر بستر پہ بیٹھ گئی..
“کیا ہے یار.. روز ہی آنکھ کھل جاتی ہے.. کہیں یہ اس بےوفا کی یاد کی وجہ سے تو نہیں ہو رہا…”
“ہم بےوفا ہر گز نہ تھے پر ہم وفا کر نہ سکے…” تحریم سوچوں میں گم تھی کہ اسکے کانوں سے گانے کے بول ٹکرائے…
“یہ گانا… یہ تو باہر سے آواز آ رہی ہے…” وہ تھرتھرا اٹھی..
“اس وقت حزیفہ یہ گانا.. کیوں…؟”
“ہم بےفا ہر گز نہ تھے پر ہم وفا کر نہ سکے…” آواز اب تک آ رہی تھی.. تحریم کو سخت قسم کی الجھن ہوئی..
وہ بیڈ سے اٹھی…جوتے پہنے.. اور کمرے کا دروازہ کھولا جو ہلکی سی آواز پیدا کرتے کھلا…….
سامنے ٹی-وی پہ گانا بج رہا تھا… “ہم بے وفا…..”
لیکن آس پاس کوئی نہیں تھا.. حزیفہ کا کمرہ بھی لاک تھا… “پھر یہ ٹی وی کس نے لگایا؟” تحریم بالکل ڈر گئی تھی…
پھر کچھ ہی لمحے بعد اسے کہیں سے چھن چھن کی آواز آئی.. وہ اس آواز کا پیچھا کرنے لگی…آج تو اس راز سے پردہ فاش ہو.. وہ اہستہ آہستہ قدم بڑھا رہی تھی اور چھن چھن کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی….
پیچھے سے گانے کی آواز بند ہو گئی اور مکمل سناٹا چھا گیا… اس سناٹے میں بس ایک ہی “چھن چھن” کی آواز تھی… تحریم پیچھا کرتے کرتے نہ جانے گھر کے کس کونے میں آ گئی.. کالا اندھیرا اور ہی ڈرا رہا تھا..
جب تھوڑا آگے بڑھی تو لال رنگ کا لہنگا پہنے ہوئے اسے پھر سے وہ گھونگٹ والی لڑکی نظر آئی.. تحریم بوکھلا گئی…
وہ لڑکی ایک جگہ کھڑی تھی.. اب تک اسکی پیٹھ تحریم کے سامنے تھی…
“تا تا..تم….” کہنے کی دیر تھی کہ وہ لڑکی کسی ایک سمت میں بھاگی….
“ر..ر..رو..کو…” تحریم بھی اسکے پیچھے بھاگی لیکن ایک دروازے کے سامنے رک گئی اس سے آگے کوئی اور راستہ ہی نہیں تھا… وہ گھونگٹ والی لڑکی کا بھی کہیں نظر نہ آئی..
بڑا سا کالا دروازہ دیکھ کر تحریم کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں… ایسا دروازہ تو اب کہیں نہیں ہوتا.. اتنا قدیم اور ویران دروازہ وہ خوفزدہ تھی..پھر کنڈی پہ نظر پڑی تو تحریم کے طوطے اڑ گئے…
کالے دروازے پہ لال کنڈی تھی… بالکل اس لڑکی کے لہنگے کی طرح کا رنگ… کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے کنڈی پہ ہاٹھ رکھا…
“تحححححححححریم…” مردانہ آواز جب اسکے کانوں میں پڑی تو وہ ڈر کے پیچھے مڑی.. سامنے ٹاور جیسا آگ بگولا حزیفہ کھڑا تھا….
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” اسکے آنکھیں لال تھیں…
“وہ وہ.. گاگا گانا…. لہن..لہنگے والی عوعورت” لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے… اس سے آگے وہ کچھ کہتی کہ آنکھوں میں غنودگی چھانے لگی اور وہ وہیں گر گئی.. آج کے دن وہ بہت کچھ دیکھ چکی تھی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 2

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: