Paiyal Ki ChanChan Novel by Insia Awan – Episode 2

0

پائل کی چھن چھن از انسیا اعوان – قسط نمبر 2

–**–**–

تحریم نے اپنی آنکھیں کھولیں اور خود کو بستر پہ پایا… ارد گرد نظر گھمائی تو حزیفہ اسے اپنے پاؤں کے پاس بیٹھا ہوا نظر آیا…
وہ ایک دم اوپر اٹھی…
“خدا کا شکر ہے.. آپ کو ہوش تو آیا”
“میرا سر بہت چکرا رہا ہے” تحریم نے سر پہ ہاتھ رکھا
“اتنا سو سو کر بھی؟” وہ حیران ہوا
“مطلب…؟”
“کل سے آپ بےہوش ہی پڑی ہیں…..” حزیفہ کی بات سن کر تحریم کی بولتی بند ہو گئی.. جواباً خاموشی ملی تو حزیفہ بول اٹھا..
“کس نے کہا تھا وہاں جانے کا؟” وہ سوالیہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا..
“میں نہیں گئی مجھے وہ لڑکی لے کر گئی..” وہ ڈر کے مارے بولی..
“کونسی لڑکی…؟”
“وہ پپ..پا..ئل والی….” خوف اب تک اسکی آنکھوں میں تھا..
“پھر سے وہی بات تحریم…؟” وہ منہ بنا کر بولا….
“اس دن بھی مجھے کوئی خواب نہیں آیا ہو گا… آپ نے جھوٹ بولا…. “
“خواب ہی تھا وہ…”
“اچھا تو یہ جو کل ہوا وہ تو خواب نہیں تھا.. وہ دروازہ وہ تو اب بھی ہو گا وہاں پہ.. یہ سب خواب تو نہیں ہے”
“ہاں بالکل ہے.. آپ گھر کے تہہ خانے کی طرف چلی گئ تھیں… لیکن وہاں کوئی لڑکی نہیں تھی..”
“میں مانتی ہی نہیں ہوں میں نے خود اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے…” وہ ایک بات پہ اڑ گئی…
“تحریم…” وہ غصے میں اٹھ کر وہاں سے چل دیا.. تحریم اسے دیکھتی ہی رہ گئی..
….….
تحریم سوچوں میں گم اب تک بستر پر ہی بیٹھی تھی..
“کچھ تو ہے جو حزیفہ مجھ سے چھپا رہا ہے…”
“اسکے ہاتھوں پہ وہ ناخن کے نشان…”
“اس لہنگے والی اور پیٹنگ والی لڑکی کے لہنگے کی مشابہت…”
کتنے ہی سوال تھے جو اسکے ذہن میں اٹھ رہے تھے…
“حزیفہ کچھ نہ کچھ تو جانتا ہے وہ میرے سامنے جھوٹ بول رہا ہے…….” وہ اٹھ کر کمرے سے باہر گئی…
“حزیفہ.. حزیفہ…” وہ زور زور سے چلانے لگی…
“کیا کیا.. کیا ہو گیا ہے.. کیوں چلا رہی ہو” حزیفہ ایک طرف سے بھاگتا ہوا آیا…
“وہ جو بازو پہ نشان تھے وہ کیسے لگے…؟”
“چھری سے بتایا تو تھا…”
“اچھا اتنے گہرے.. مجھے تو کسی کے ناخن کے لگ رہے تھے”
“کیا ثابت کرنا چاہتی ہیں آپ..؟”
“یہی کہ اس گھر میں کچھ نہ کچھ تو گڑبڑ ہے… اور آپ چھپا رہے ہیں…”
“ایسا نہیں ہے…”
“بہرحال جو بھی ہے.. میں یہاں سے جا رہی ہوں.. مجھے ڈر لگنے لگا ہے…” وہ پیچھے مڑتے ہوئے بولی…
“رکو…” وہ اسکی طرف بڑھا..
“نہیں.. رک سکتی..” وہ دروازے تک پہنچ گئی تھی.
“اس سے آگے قدم بڑھایا تو تم بچو گی نہیں تحریم..”
“کیا…” تحریم کپکپا کر پیچھے مڑی…
“ہاں وہ تمہیں جانے نہیں دے گی بلکہ مار ڈالے گی…” وہ پریشانی کے عالم میں بولا…
“کو..کو..کون…؟” تحریم کے چھکے چھوٹ چکے تھے…
….….
پانچ سال پہلے طیب صاحب کے گھر کی جگہ کوٹھا تھا جہاں آئے دن رقص کی محفلیں لگا کرتی تھیں.. مردوں کے ہجوم میں دلکش عورتیں ناچا کرتی تھیں…
وہاں ایک خاتون غزالہ بیگم بھی تھیں جنکا دل بےحد پاکیزہ تھا اور وہ مجبوریوں کے تحت اس کوٹھے تک آ گئی تھیں.. لیکن جلد ہی ایک عزت دار مرد سے نکاح کر کے اپنے گھر کی ہو گئیں…
شادی کے بعد انکے گھر میں ایک ننھی سی جان پیدا ہوئی. جسکا نام “پاکیزہ” رکھ دیا گیا… جوان ہوئی تو بےحد حسین ثابت ہوئی….
ایک دن وہ باہر گھوم پھر رہی تھی کہ کوٹھے کی بڑی میم کی اس پہ نظر پڑ گئی.. اسکی خوبصورت ادائیں دل لبھانے والی تھیں.. جب معلوم ہوا کہ وہ غزالہ کی بیٹی ہے تو وہ اسے واپس کوٹھے میں لانے کی ترقیبیں سوچنے لگیی..
لڑکی خوبصورت تھی.. کوٹھے کی میم کو کوٹھے کا کاروبار اس میں دکھائی دے رہا تھا… کچھ عرصے بعد پاکیزہ کے والد کا انتقال ہو گیا.. گھر میں حان کے لالے پڑ گئے.. کسی کے بہکاوے میں آ کر غزالہ بیگم نے پھر سے کوٹھے کا دروازہ کھٹکھٹایا..
لالچ کے باعث بڑی میم نے انہیں جگہ دے دی.. وقفے وقفے سے وہ غزالہ بیگم کو اکساتی رہیں کہ وہ بیٹی کو اس کام میں لائیں.. لیکن ہر بار غزالہ بیگم نے انکار کیا.. جونہی انکا انتقال ہوا تو بڑی بیگم نے اس چیز کا فائدہ اٹھا کر اس بییس سالہ پاکیزہ کو اس دلدل میں پھنسا لیا…
وہ دن بہ دن نہ چاہتے ہوئے بھی اس دلدل میں دھنسی جا رہی تھی.. نامحرموں کے سامنے ناچنا.. انکی غلیظ نظریں.. سب اسکے لئے گندگی تھی..
پھر ایک دن تو بہت ہی برا ہوا.. اس دن اس نے لال رنگ کا لہنگا پہنا تھا… پائل پہنے وہ مردوں کے سامنے رقص کر رہی تھی…
کچھ اس سے اس قدر لطف اندوز ہوئے کہ بڑی میم کو پیسوں کی پیشکش کر کے اس لڑکی کو خریدنے کی بات کی. پیسوں کی لالچ میں آ کر اس بدکردار عورت نے اس لڑکی کو کتنے ہی بھوکے درندوں کے سامنے پیش کر دیا..
انہوں نے اس معصوم سی لڑکی کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا.. وہ اندر ہی اندر گھٹتی رہی.. لال رنگ کے لباس سے کوفت ہونے لگی.. پائل کی چھن چھن عزاب لگنے لگی ..اب وہ پاکیزہ نہیں تھی.. صرف نام کی پاکیزہ رہ گئی تھی..
اسے اپنے وجود سے گھن آ رہی تھی.. بہت بےبس ہو گئی تھی وہ.. اسے کوئی اور چارہ نظر نہ آیا… کرسی پہ کھڑی ہوئی اور اسی لال ڈوپٹے کے ساتھ خود کو ٹانگ لیا…چاندی کی پائل دیکھتے ہی دیکھتے لال خون سے سرخ ہو گئی… وہ مر گئ….
“…لیکن اس کی روح اب تک اس گھر میں زندہ ہے…” حزیفہ نے آبرو اٹھا کر تحریم کو دیکھا جو دروازے کے پاس اب تک کھڑی اسے سہمی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھی..
“طیب صاحب میرے والد تھے اور انہوں نے یہ گھر خریدا تھا.. کچھ دن بعد ہمارے گھر میں عجیب عجیب واقعات ہوئے… چھن چھن کی آواز آتی تھی اور کوئی چھت پر ناچتا تھا..” حزیفہ بولے جا رہا تھا لیکن تحریم خاموش تھی..
“پھر پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ یہاں پانچ سال پہلے کوٹھا ہوا کرتا تھا اور ساتھ ہی پاکیزہ کی سٹوری بھی پتہ لگی… ہم نے لاکھ کوشش کی پاکیزہ کی روح سے پیچھا چھڑوانے کی لیکن نتیجہ کیا نکلا وہ تو یہی رہی لیکن میرے ولدین چل بسے..” حزیفہ کی آنکھیں نم ہونے لگیں..
“وہ جو پیٹنگ تم نے دیکھی تھی پاکیزہ کی ہی ہے…اسی کی وجہ سے لگائی.. ہاتھوں میں نوچنے کے نشان اس وجہ سے کہ میں نے اس گھر سے بھاگنے کی کوشس کی تھی لیکن میرے ساتھ اس نے یہ کیا..” حزیفہ نے اسے دونوں ہاتھ دکھائے.
“تو اسکے بعد بھاگنے کا سوچا تک نہیں… تم بھی جاؤ گی تو تمہارے ساتھ بھی ایسا ہو گا” تحریم کو لگا اسکے پیروں سے زمین ہی سرک گئی.. ڈر خوف سب اسکی آنکھوں میں جگمگا رہا تھا…
“لیکن میں کیسے…” اس نے کانپتے کانپتے لب کھولے تو گھر کی ساری بتیاں خود بہ خود گل ہو گئیں.. زور سے دروازے کے بجنے کی آواز آئی. تحریم چیخی اور آگے ڈوڑ کر حزیفہ کے ساتھ ٹکرا گئی….
..
پورے گھر کی بتیاں گل ہو چکی تھیں اور تحریم دوڑ کر جب حزیفہ سے ٹکرائی تو حزیفہ نے اسی تسلی دی..
“تحریم شارٹ سرکٹ ہو گیا ہو گا فکر نہیں کرو…”
“شارٹ سرکٹ…” وہ حیرانگی سے اندھیرے میں حزیفہ کا چہرہ تلاش کر رہی تھی…
“میں آتا ہوں صبر کرو…”
“نہیں نہیں تم یہاں سے مت جاؤ” اس نے حزیفہ کے ہاتھوں کو اور کس کے پکڑ لیا..
“ڈرو نہیں میں بس دیکھ کر آتا ہوں….”
“کیسے نہیں ڈروں…؟” وہ پریشانی میں بولی…
“تم نے وہ کہاوت نہیں سنی جو ڈر گیا وہ مر گیا…” اندھیرے میں حزیفہ کی آواز تحریم کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی…
“سنی ہے” وہ آہستہ سا بولی..
“ہاں تو پھر بس ڈرو نہیں میں آ رہا ہوں….” وہ کہتا ہوا تحریم کا ہاتھ چھوڑ کر چلا گیا… تحریم اسے روک نہ پائی.. اس کے قدموں کی ہلکی ہلکی آواز تحریم کے کانوں میں پڑ رہی تھی.. پھر کچھ دیر بعد مکمل سناٹا چھا گیا.. وہ جا چکا تھا…
تحریم نے خود کو قابو میں رکھا اور سہارا لے کر صوفے پہ جا کر بیٹھ گئی اور حزیفہ کا انتظار کرنے لگی…
اس کے پاس فون بھی نہیں تھا.. وہ خالی ہاتھ گھر سے نکلی تھی..
“کاش فون ہوتا.. میں ٹارچ آن کر لیتی… کچھ تو ڈر کم ہوتا” اس نے دل ہی دل میں سوچا….
…………..
یک دم ہی موسم خراب ہونے لگا اور تیز بارش شروع ہو گئی.. بادلوں کی گرج و چمک صوفے پہ بیٹھی تحریم کی سماعتوں سے ٹکرا رہی تھی.. وہ بہت سہمی ہوئی تھی.. ماتھے پہ بل تھے.. خاموش بیٹھی وہ حزیفہ کی راہ تک رہی تھی….
پھر ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا اور سامنے کی کھڑکی کھل گئی… اس کے اردگرد کے پردے لہرانے لگے… وہ کالی آنکھیں اسی منظر کو دیکھ رہی تھیں کہ اچانک سے کھڑکی سے تیز روشنی آئی اور پاس ہی رکھی اس پیٹنگ کو روشن کر گئی…
تحریم کی نظر اس تصویر پہ پڑی… چاندی کی پائل.. لال لہنگا.. اسے اس لڑکی سے خوف آنے لگا… پھر اس نے غور کیا تو تصویر پہ کچھ بدلا بدلا دکھائی دے رہا تھا.. اس کے وسط میں ایک لائن لکھی ہوئی تھی جسے پڑھ کر تحریم کے ہوش اڑ گئے….
“I will kill you”
خوف اس قدر طاری ہوا کہ آنکھیں برسنے لگیں اور وہ یک دم صوفے سے اٹھ کر کسی کونے کی جانب بھاگی… وہ حزیفہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی…
ایک کونے میں پہنچی تو آگے جانے کا راستہ دکھائی نہ دیا… وہ وہیں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی… کانوں میں سناٹا چھایا ہوا تھا… تحریم بےحد خوف میں تھی…
“Tip toes through the window by the window”
ہلکی ہلکی کہیں سے آواز آنے لگی… ریڈیو پہ ہلکی ہلکی یہ پوئم (poem) بج رہی تھی…. جونہی پوئم کے الفاظ تحریم کے کانوں سے ٹکرائے اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا…
رونے کی وجہ سے کاجل پھیل چکا تھا.. کالی آنکھیں اور ہی زیادہ سیاہ ہو چکی تھیں…..
“کو کو کون ریڈیو چلا رہا ہے…؟” گلے سے آواز دبی دبی نکل رہی تھی….لیکن کوئی جواب نہ آیا
ایک دو سیکنڈ کے بعد تحریم کو محسوس ہوا کہ کسی نے اسکے کندھے پہ آہستہ سے ہاتھ رکھا… تحریم کی دھڑکن تیز ہو گئی.. وہ چیخنا چاہ رہی تھی لیکن آواز ہی نہیں نکل رہی تھی…..
پھر کسی نے زور سے اسے پیچھے گھسیٹا….
“آآآ….. چھوڑ دو مجھے.. میں نے کچھ نہیں کیا….” وہ رو رو کر گڑگڑانے لگی اور خود کو اسکی گرفت سے آزاد کر کے آگے بھاگی…..
بھاگتے ہوئے وہ کسی سے زور سے ٹکرائی… اور بتیاں چاروں طرف کی روشن ہو گئیں….
تحریم کی ٹکرانے والے شخص پہ نظر پڑے تو وہ کپکپا اٹھی…
“حزیفہ…یہ یہ… کیا ہوا…” حزیفہ کے چہرے سے جگہ جگہ خون ٹپک رہا تھا… کسی نے بری طرح سے ناخن مارے تھے…
“میں میں تمہارے طرف….. آ رہا تھا کہ کسی نے مجھ پہ ووو وار کر دیا…” وہ بامشکل بول پایا… اسکی حالت بےحد خراب تھی….
“اچھا تم ادھر بیٹھو…” تحریم نے اسے جلدی سے صوفے پہ بٹھایا… وہ خود بھی ڈری ہوئی تھی اور خزیفہ کی آنکھوں کا ڈر بھی دیکھ چکی تھی…
تحریم نے تیزی تیزی میں ٹشو اور سنی پلاس لائے.. اور بیٹھ کر حزیفہ کا خون صاف کر کے جگہ جگہ سنی پلاس لگانے لگی…
کالی اندھیری رات تھی اور ان کے چاروں طرف سناٹا چھایا ہوا تھا…
…..……
جب حزیفہ تھوڑا بہتر ہوا تو تحریم نے اس سے سوال کیا..
“کیا ہوا تھا…؟”
“میں جب چیک کرنے گیا کہ لائٹ کو کیا ہوا تو پتہ لگا لائٹ گئی ہوئی ہے.. تمہیں بتانے ہی آ رہا تھا کہ کسی نے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور مجھے دبوچ لیا… اسکے ہاتھوں پہ مہندے اور لال نیل پالش لگی ہوئی تھی..” خوف اب تک حزیفہ کی آنکھوں میں تھا..
“ہلکی سی روشنی میں میں صرف اسکے ہاتھ دیکھ پایا… اور انہیں ہاتھوں سے وہ مجھے نوچنے لگی…. میں بنا آواز کے درد سے کراہ رہا تھا…” حزیفہ آہستہ آہستہ بولے جا رہا تھا…
“پھر جب تم مجھ سے ٹکرائی تو وہ ایک پل میں غائب ہو گئی…” تحریم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے….
“اب ہم کیا کریں گے؟…” تحریم نے ڈری ڈری آواز میں پوچھا…
“نہیں جانتا پر کچھ دیر سونا چاہتا ہوں.. درد ہو رہا ہے…” وہ تھکا تھکا بول رہا تھا…
“سو جاؤ.. میں تمہارے لئے سوپ بنا دیتی ہوں….” خوف تو تھا ہی لیکن حزیفہ کو بھی اس حالت میں سنھبالنا تھا
“اوکے…” جواب سن کر تحریم کچن میں چلی گئی اور کچن کا دروازہ کھلا ہی چھوڑا…
چولہے کے پاس کھڑی وہ سوپ کے لئے مختلف چیزیں نکال رہی تھی.. وہ ابھی تک ڈری ہوئی تھی.. اور اِدھر اُدھر نظریں گھما کر کام کر رہی تھی….
سب کچھ نارمل تھا اور تحریم کچھ دیر بعد ہی مطمئن ہو کر سوپ بنانے لگی.. ٹھیک دس منٹ بعد کچن کا دروازہ زور سے بند ہوا اور تحریم کے ہاتھ سے چمچ ڈر کے مارے نیچے گری…
اس نے دروازے کی طرف دیکھا… وہ پہلے کھلا تھا لیکن اب بند ہو چکا تھا… وہ دروازے کی طرف بڑھی ہی کہ چھت سے “چھن چھن” کی آواز ایک بار پھر سے آنے لگی…
تحریم کے قدم وہیں رک گئے…
“پاکیزہ میں نے کچھ نہیں کیا…” وہ روئی…
“چھن چھن” کی آواز تیز ہونے لگی… مسلسل چھت سے قدموں کی آواز آ رہی تھی.. پھر سے ایک بار رقص شروع ہو گیا تھا….
تحریم نے ہوش سنھبالا اور دروازے کی طرف بڑھی.. کنڈی کو گھمایا لیکن دروازہ نہ کھلا.. اس نے بار بار تیزی میں کوشش کی لیکن دروازہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا…
“حزیفہ… حزیفہ…..” وہ زور زور سے روتے ہوئے دروازہ پیٹنے لگی…
“حزیفہ دروازہ کھولو… کسی طرح پلیز…” وہ گڑگڑا رہی تھی… چھن چھن کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی…
“حزیفہ میں مر جاؤنگی.. کچھ تو کرو” وہ اب تک دروازہ پیٹ رہی تھی.. لیکن حزیفہ کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں آ رہا تھا.. یا تو وہ گہری نیند سو چکا تھا یا اس کے ساتھ کچھ اور ہو چکا تھا…..
…..……
حزیفہ کے کانوں میں جب چیخوں کی آواز گونجی تو اس نے اپنی آنکھوں کو کھولا… وہ فوراً کچن کے دروازے کی طرف بڑھا..
تحریم کی چیخوں کی آواز “حزیفہ مجھے بچاؤ…” اب تک برقرار تھی…
“کیا ہو گیا… تحریم…” وہ دروازے کے بالکل پاس آ کر بولا..
“وہ مجھے مار دے گی.. وہ مجھے مار دے گی..” وہ اب تک دروازہ پیٹ رہی تھی..
“اچھا ریلیکس ہو.. سب کچھ نارمل ہے…”
“نہیں ابھی چھت سے….” تحریم کی بات ادھوری رہ گئی.. کیونکہ جب غور کیا تو “چھن چھن” کی آواز کا نام ونشان نہیں تھا
” وہ آواز کب بند ہوئی؟”… تحریم سوچوں میں ڈوب گئی..
“کیا چھت سے…؟” مکمل خاموشی کے باعث حزیفہ نے سوال کیا…
“کچھ بھی نہیں…” وہ الجھی چکی تھی.. پھر کلک کی آواز آئی اور اسکی نظریں حزیفہ سے جا ملیں.. حزیفہ دروازہ کھول چکا تھا…
“یہ کیسے کھل گیا…؟”
“جام ہو گیا ہو گا لیکن اب میں نے کھول دیا ہے..”
“ہم..” وہ اب تک الجھی ہوئی تھی..
“کیا ہوا تھا.. پوری بات بتاؤ؟” حزیفہ نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھے…
“میں سوپ بنانے آئی تو دروازہ بند ہو گیا… پھر چھن چھن کی آواز آنے لگی.. اور میں ڈر گئی…”
“اچھا… پاکیزہ کی روح نے مجھے جانی نقصان نہیں پہنچایا تمہیں بھی نہیں پہنچائی گی… بس ڈراتی صرف ڈراتی ہے…. اسلئے فکر نہیں کرو…”
“لیکن اس کا مستقل حل بھی تو ہونا چاہئیے کیونکہ میں ہمیشہ کے لئے یہاں پہ تو نہیں رہ سکتی.”
“سوچتے ہیں کچھ اس بارے میں پر جب تک پاکیزہ کی روح اس گھر میں ہے تم نہیں جا سکتی کہیں…”
“جانتی ہوں..” وہ زمیں پہ نظر جمائے بولی تھی…
…..…..
رات گزر گئی اور پھر ایک نئی صبح کا سورج جگمگانے لگا.. حزیفہ کچن میں کھڑا ناشتہ تیار کر رہا تھا اور تحریم بھی اس کی مدد کے لئے کچن میں آگئی تھی….
“حزیفہ تم اکیلے کیسے رہ لیتے ہو وہ بھی اس ڈرونے سے گھر میں”
“بس کیا کروں.. فیملی جدا ہوگئی… اور میں اکیلا رہ گیا.. ٹائم کے ساتھ عادت پڑ گئی لیکن اب تم بھی تو آ گئی ہو…”
“ہاں مگر یہ گھر بھی بہت عجیب.. مطلب اس گھر میں اتنی پرانی چیزیں کیوں ہیں؟.. جیسا کہ ریڈیو تو اب کوئی نہیں استعمال کرتا….” اس نے کچن سے باہر ریڈیو کی طرف اشارہ کیا
“ریڈیو میرے ابا کا ہے اسلئے رکھا ہوا ہے… اور پرانی چیزیں اس لئے کہ یہ گھر بھی تو پرانا ہی تھا… “
“اچھا اور وہ تہہ خانہ اتنا عجیب کیوں…؟” کالا سیاہ تہہ خانہ اسکے ذہن میں آیا..
“اسکی کہانی میں پھر کبھی تمہیں بتاؤں گا.. ابھی آؤ ناشتہ تیار ہو گیا ہے….” وہ کچن سے باہر نکل گیا…
“اوکے…” وہ بھی پیچھے پیچھے گئی….
….…..
گپیں لگاتے وہ دونوں مزے سے ناشتہ کر رہے تھے جب ٹیلی فون کی گھنٹی بجی…
“حزیفہ فون بج رہا ہے….”
“اچھا نہ جانے کون ہو گا میں دیکھ کر آتا ہوں…” حزیفہ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا…
فون کی گھنٹی ایک بار بند ہو کر پھر سے بجنے لگی.. حزیفہ نے فورًا فون اٹھایا..
“ییلو…” لیکن جواباً کوئی آواز نہ آئی…
“ہیلو کون ہے…”ایک بار پھر سے خاموشی ملی…
“اف کون بات کر رہا ہے؟…. ” ایسا تیسری بار ہو چکا تھا اور وہ تنگ آ گیا تھا…
“آآآ……..” تحریم کی درد بھری چیخ سنائی دی تو حزیفہ کے ہاتھ سے فون پھسل گیا.. وہ بھاگتا ہوا تحریم کی طرف گیا اور فون وہیں ہوا میں جھولتا رہا….
“کیا ہوا تحریم”.. لیکن تحریم چپ تھی… تحریم کا بازو دیکھا تو اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں..
گہرا لال کٹ کا نشان اسکے بازو پہ تھا…
“یہ کیا ہوا..” وہ اسکے پاس بیٹھا….
“وہ ایپل کاٹ رہی تھی تو لگ گئی چھری…”
“حد ہے تحریم دھیان کہاں تھا؟”
“ارے ہلکا سا کٹ ہی لگا ہے…”
“چپ کرو… یہ ہلکا نہیں ہے… میں آتا ہوں صبر” وہ کافی پریشان ہو گیا تھا…
کچھ دیر بعد تحریم نے دیکھا کہ حزیفہ فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا اور تحریم کے برابر بیٹھ کر زخم پہ پٹی کرنے لگا..
اسکے چہرے پہ فکر تھی جو تحریم دیکھ چکی تھی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mohabbat aur ibadat Novel by Chanda Ali – Episode 1

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: