Paiyal Ki ChanChan Novel by Insia Awan – Episode 3

0

پائل کی چھن چھن از انسیا اعوان – قسط نمبر 3

–**–**–

کالا سیاہ دروازہ اور اسکی لال کنڈی تحریم کے بالکل سامنے تھی….
کچھ دیر بعد وہ دروازہ خود بہ خود کھل گیا اور تحریم کو سامنے چاروں طرف اندھیرا نظر آیا….
“کوئی ہے… کوئی ہے کیا یہاں..؟” وہ ڈری ڈری سہمی ہوئی سیڑھیاں اترنے لگی…
“ہیلو… کوئی ہے کیا یہاں…؟”
دور سے ہلکی ہلکی پیلی روشنی تحریم کو دکھائی دی…
تحریم آہستہ قدموں سے اس روشنی کے پیچھے گئی…
روشنی کا پیچھا کیا تو اسے کوئی لڑکی لہنگے میں ملبوس دکھائی دی… اسکے ہاتھ میں موم بتی پکڑی تھی… اور پیٹ تحریم کی طرف تھی…
لال لہنگا.. پاؤں میں پائل… پیروں میں مہندی… وہ یک دم تحریم کی طرف مڑی.. تحریم کی سانس جانے لگی..
گھونگٹ کئے ہوئے وہ لڑکی ہاتھوں میں موم بتی لئے تحریم کی طرف بڑھنے لگی…
“تم آگئی تحریم میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی..” اس نے یک دم اپنا گھونگٹ اوپر کیا…
ناک کا کوکا.. وہ خوبصورت آنکھیں تحریم کو پیٹنگ یاد آنے لگی.. وہ پاکیزہ تھی.. لیکن اس کی رنگت بےحد سفید تھی اور آنکھوں میں دہشت بھری تھی…
تحریم کو اس سے خوف آ رہا تھا اور وہ اسی کی طرف بڑھے جا رہی تھی…جونہی گلے پہ ہاتھ رکھا تو تحریم کی چیخ نکلی اور بھیانک خواب ٹوٹ گیا…
وہ پسینے سے شرابور بیڈ پر اٹھ کر بیٹھی.. پاس پڑی پانی کی بوتل کو لبوں سے لگایا.. اور ایک گہرا سانس لیا….
“یہ خواب تو اب سونے ہی نہیں دے گا… تہہ خانے سے کیا کنکشن ہے.. اس سب کا” وہ سوچوں میں تھی…
“جب حزیفہ سے پوچھا تھا تہہ خانے کا تو… کچھ وقت کے لئے اس کے تاسرات بھی بدلے تھے لیکن اگلے ہی لمحے اس نے نارمل کر لئے… کوئی تو بات ہے اس تہہ خانے میں…” وہ اپنے بستر سے اٹھی..
کمرے کا دروازہ کھولا اور سامنے کا جائزہ لیا….
“حزیفہ کے اٹھنے سے پہلے تہہ خانے میں جا کر دیکھتی ہوں” وہ آہستہ قدموں سے تہہ خانے کے دروازے کی چھان بین کرنے لگی..
رات کے دو بج رہے تھے اور وہ گھر کا کونا کونا چھان رہی تھی.. تہہ خانے تک پہنچنا اس کے لئے ضروری بن گیا تھا….
کچھ دیر بعد ہی اسے دور سے وہ کالا دروازہ دکھ گیا… شکر ہے وہ ساتھ ٹادچ لے آئی تھی.. وہ اسکی طرف بڑھی اور تہہ خانے کہ دروازے کے ساتھ ہی ایک بٹن دبایا اور دروازے کے ٹھیک اوپر لگا پیلا بلب روشن ہو گیا….
ایک بار پھر تحریم کو اس دروازے سے خوف آنے لگا… وہ پورا سیاہ تھا اور بیچ میں ایک لال رنگ کی کنڈی تھی.. اس نے ٹارچ ایک کونے میں رکھی کیونکہ کنڈی بڑی تھی اور دونوں ہاتھوں کی مدد سے کھلنی تھی..
خود پہ قانو پا کر اس نے دونوں ہاتھ کنڈی پہ رکھے اور اسے کھولنے لگی… کنڈی پرانی تھی وہ آواز پیدا کر رہی تھی… تحریم نے پھر بےحد آہستہ سے کنڈی کھولنے کی کوشش کی اور کالا دروازہ کھل گیا…..
اس نے ٹارچ اٹھائی اور نیچے کی طرف لگائی تو سیڑھیاں نظر آئیں نیچے گپ اندھیرا تھا… وہ آہستہ قدموں سے سیڑھیوں سے نیچے اتری.. اس ساتھ ساتھ ڈر بھی لگ رہا تھا…….
آخری سیڑھی پہ پاؤں رکھا تو ٹارچ کی مدد سے سوئچ بورڈ دھونڈا جو کچھ ہی دیر بعد نظر آگیا….
لائٹ کے بٹن دبائے تو پورا تہہ خانہ روشن ہو گیا… جگہ جگہ نظر پڑی تو وہ چونک گئی اور ہاتھ سے ٹارچ سلپ ہو کر نیچے جا لگی….
چاروں اطراف پاکیزہ کی تصویریں لگی تھیں… ایک کونے میں ڈریسنگ ٹیبل تھی چسکے کونے کہ ساتھ لال رنگ کا لہنگا لٹکا ہوا تھا… تحریم نے ایک ہاتھ سے لہنگے کو پکڑا وہ بالکل وہی لہنگا تھا جو اس نے پیٹنگ میں دیکھا تھا یا چھت پر اس لڑکی کو پہنے ہوئے دیکھا تھا…
ٹیبل پہ نظر گئی تو اسے وہ پائل نظر آئی جو اس نے چھت پر اسی لڑکی کو پہنے ہوئے دیکھی تھی.. ساتھ لال لپسٹک… ناک کا کوکا… مہندی..زیور وہ سب چیزیں ٹیبل پر ایک ترتیب سے پڑیں تھیں….
عموماً لڑکیاں ایسی چیزیں دیکھ کر خوش ہو جایا کرتی ہیں لیکن تحریم خوف زدہ ہو گئی تھی…..
وہ جونہی ڈر کر پیچھے مڑی تو تہہ خانے کے وسط پہ نظر پڑی… وہاں دو قبریں تھیں… مٹی کی دو قبریں.. ایک کے پاس پاکیزہ کی تصویر پڑی تھی اور دوسری کے پاس ایک بوڑھے آدمی کی…
وہ لڑکھڑاتے قدموں سے قبروں کے پاس گئی تو اس کے چھکے چھوٹ گئے اس نے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا.. قبروں کے تھوڑے ہی آگے چھ سات لوگوں کی اوپر نیچے لاشیں پڑی ہوئی تھیں….
کسی کے ناک سے خون بہہ رہا تھا تو کسی کے سر سے… قبروں نے ان لاشوں کو چھپایا ہوا تھا لیکن تحریم اب سب دیکھ چکی تھی….
وہ یک دم اس کمرے سے بھاگنے کے لئے پیچھے ہی مڑی کہ ٹاور جیسا لڑکا ٹھیک اس کے سامنے کھڑا اسے گھور رہا تھا… تحریم کو پسینے آنے لگے…. وہ خوف سے کانپنے لگی..
“تم یہاں کیا کر رہی ہو……؟” بلی کی مانند ہری آنکھوں میں دہشت بھری ہوئی تھی اور وہ تحریم کی طرف ہی بڑھ رہا تھا……..
____________
“تم یہاں کیا کرنے آئی تھی؟” وہ آنکھوں میں خون اتارے اسکی طرف بڑھ رہا تھا… تحریم تیزی سے پیچھے جاتی جا رہی تھی…
“کس نے اجازت دی رات کے اس پہر اس تہہ خانے میں آنے کی؟” حزیفہ نے یک دم تحریم کی کلائی پکڑی اور اسے اپنے قریب کیا… تحریم کی سانس رکنے لگی.. کاش وہ یہاں نہ آتی…
“کیوں کس لئے آئی تم یہاں؟” آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس نے آہستہ سے کان میں سرگوشی کی اور اگلے ہی لمحے تحریم کو زوردار دھکا دیا… وہ دیوار کے ساتھ جا لگی…
“ہاہاہا… شکل دیکھو اپنی…” اس نے زوردار قہقہ لگایا…
“او مائی سویٹ ہارٹ میں اتنا بھی خوفناک نہیں ہوں ڈرو تو نہیں…” اس نے تحریم کے رخسار کو چھوہا….
“اب تم دیکھ ہی چکی ہو تو آؤ تمہیں پوری کہانی سناتا ہوں” وہ تحریم سے پیچھے ہوا اور فرش پہ پڑی پاکیزہ کی تصویر اٹھائی…
“ہاہاہا… تم کتنی نادان ہو… روحوں پہ یقین رکھتی ہو..” اس نے ایک نگاہ تصویر پہ ڈالی اور پھر شیطانی نظروں سے تحریم کو دیکھا..
“بیوی تھی میری مار ڈالا اپنے ان ہاتھوں سے اور تمہیں ڈرانے کے لئے اسکا روپ دھارا…” وہ زور سے چلایا اور پاکیزہ کی تصویر تحریم کے بلکل قریب ہی دیوار پر دے ماری….
تحریم ڈر کر ایک دم پیچھے ہوئی.. اور وہ شیشے کی فریم نیچے لگتے ہی ٹکروں ٹکروں میں بٹ گئی…
“وہ سب کچھ میں نے کیا… چھت پہ تم نے مجھے لہنگے میں دیکھا تھا… کبھی سوچا ہے میں جوتے کیوں پہنے رکھتا ہوں” اس نے اپنے جوتوں کی طرف اشارہ کیا….
“اس وجہ سے…” اس نے ایک جھٹکے میں جوتے اتارے اور تحریم کو اسکے پاؤں کی لال مہندی نظر آئی.. وہ رونے لگی..
” ارے روتی کیوں ہو.. ابھی تو اور بھی باتیں بتانی ہیں.. یہ پاکیزہ کی قبر ہے…….انہیں ہاتھوں سے میں نے اسے دفنا دیا….” حزیفہ کی آنکھوں میں آگ کا جوالا مکھی جگمگا رہا تھا….
“اور یہ میرے سو کالڈ فادر کی قبر ہے…” وہ پاکیزہ کی قبر سے تھوڑا آگے کسکا…
“انہیں بھی میں نے مارا…” اس نے تحریم پہ نظر ڈالی اور ایک شیطانی قہقہ لگایا….
تحریم مکمل سہم چکی تھی… اسے حزیفہ کی آنکھوں سے خوف آ رہا تھا… وہ یک دم اسکی طرف بڑھا اور بالوں سے تحریم کو اپنی گرفت میں کیا… وہ چیخی چلائی پر اس کے سنگ دل پہ کوئی اثر نہ ہوا….
حزیفہ نے اسے پکڑ کر لاشوں کے ڈھیر کے سامنے لا بٹھایا…
“یہ لڑکی جسکے ماتھے سے خون بہہ رہا ہے اس نے میری بےعزتی کی تھی صرف اور صرف چھوٹی سی بات پہ… بس مار ڈالا اسے بھی” اسکی چہرے پہ شیطانی ہنسی تھی…
“اور یہ شخص اس نے مجھے یعنی حزیفہ کو دھکا دیا اسے بھی مرنا تھا….” تحریم بے حد گھبراہٹ میں اسکی شکل تکنے لگی….
“تم تم پاگل ہو…” وہ روتے ہوئے ہلکا سا بولی…
“شش ایسے مت بولو… تمہارا شوہر پاگل نہیں ہو سکتا” اس نے تحریم کے لبوں پہ انگلی رکھی…
“شوہر…..؟” اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں…
“ہاں مجھے تم پسند ہو ہم شادی کر لیں گے اور کوئی نہیں آئے گا ہمارے درمیان…” اس نے ایک بار پھر اسکے گال پہ ہاتھ رکھا..
“میں تم جیسے سائیکو سے شادی نہیں کرونگی….” وہ چلائی اور حزیفہ کا ہاتھ پیچھے کیا….
وہ اٹھنے ہی لگی کہ حزیفہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا….
“تم نے میرا پلان خراب کیا…. میں تمہیں پاکیزہ کی روح سے ڈرا کر یہاں روک کر شادی کرنا چاہتا تھا…” وہ آہستہ سا بولا…
“لیکن تم یہاں تہہ خانے میں آگئی…. اور میرا پلان خراب کر دیا.. میں نے پھر بھی تمہیں اب تک ایک خروش نہیں آنے دی.. اگر میں تمہیں ویسے روک سکتا ہوں تو زبردستی بھی روک سکتا ہوں.. بہتر ہے مان جاؤ….” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا..
“نہیں تم خونی ہو.. دھوکے باز ہو… تم مجھے ڈراتے رہے پاکیزہ بن کر… ” اس نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور سیڑھیوں کی طرف بھاگنی لگی….
حزیفہ کا خون کھولنے لگا اس نے یک دم تحریم کو پکڑا اور گھسیٹ کر ڈریسنگ ٹیبل تک لے گیا… تحریم کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہنے لگا…
حزیفہ نے تحریم کو اپنے قریب کیا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چلایا…
“تم نے شیطان کو آج کے دن جگا دیا تحریم” اسی لمحے اس نے تحریم کو زوردار دھکا دیا اور وہ ڈریسنگ ٹیبل پہ جا لگی…
ڈریسنگ ٹیبل کی ایک ایک چیز نیچے فرش پہ گری…
“نہیں مانو گی نہ میرے بات؟…” بالوں سے پکڑ کر حزیفہ نے اسے اوپر کیا…..
“دیکھو کیسے منواتا ہوں اب…” اس نے یک دم فرش سے لال لپسٹک اٹھائی… اور تحریم کو قریب کر کے اسکے چہرے پہ لال لپسٹک تھوپنے لگا…
“تم دلہن بنو گی… میری دلہن……..” وہ بےحد بے دردی سے لپسٹک لگا رہا تھا.. تحریم کے چہرے پہ جگہ جگہ ریڈ لپسٹک کے نشان لگ چکے تھے…
“تم یہ لہنگا پہنو گی.. تم میری ہو گی صرف میری….” حزیفہ کے اندر کا شیطان جاگ چکا تھا….
“چھ چھوڑ دو چھوڑ دو مج مجھے..” وہ بامشکل اپنا منہ کھول پائی… لیکن اس کے پاگل پن میں ذرا بھی کمی نہ آئی..
“ہاں تم یہ پہنو گی.. تم پہ یہ بہت جچے گا…” اس نے لپسٹک نیچے پھینک دی اور لہنگے کا ڈوپٹہ تحریم کو اوڑھایا…
“دیکھو کتنی پیاری لگ رہی ہو…” حزیفہ نے تحریم کو آئینے کے سامنے کھڑا کیا… حزیفہ اسے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا… لیکن تحریم شیشے میں ایک بےسہارا, بےبس لڑکی کا عکس دیکھ رہی تھی… جس کے چہرے پہ جگہ جگہ لال لپسٹک کے نشان تھے.. سر پہ پڑا لال ڈوپٹہ اسے سفید کفن کی مانند لگ رہا تھا….
تحریم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور تیزی سے حزیفہ کو دھکا دیا… سر سے ڈوپٹہ پھینک کر وہ سیڑھیوں کی طرف بھاگی….
حزیفہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے فرش پہ پڑے ڈوپٹے کو دیکھ رہا تھا.. اس کی آنکھوں میں غصے کی لہر دوڑ آئی…
“تححححریمممممم” وہ شیر کی طرح غرایا لیکن تحریم اسکی آواز نظر انداز کر کے آگے کی طرف بھاگی….
…..……
تحریم بغیر کچھ سوچے سمجھے سیڑھیوں پہ بھاگے جا رہی تھی…. حزیفہ بھی اسکا پیچھا کر رہا تھا…
تحریم تہہ خانے سے نکلی اور باہر کا دروازہ تلاش کرنے لگی.. اس بھول بھلیا میں مشکل سے اسے باہر کا دروازہ دکھ گیا…
آنکھوں میں چمک آئی.. دل گواہی دے رہا تھا کہ اب وہ بچ جائے گی..لیکن اگلے ہی لمحے اس کا خواب چکناچور ہو گیا جب اس نے حزیفہ کو دروازے کے سامنے کھڑا دیکھا…
وہ دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا..
“کیا لگا تھا بچ کے نکل جاؤ گی؟” اس کی آنکھوں میں دہشت بھری تھی…
“غلط فہمی تھی تمہاری…” اس نے ہاتھ میں پکڑا چاقو تحریم کے سامنے کیا…
تحریم کے اوسان خطا ہو گئے… اس کے ہاتھ میں چاقو تھا اور وہ چاقو کی نوک پہ نظریں جمائے ہوا تھا…
“اب میرا کیا ہو گا…” تحریم خوف سے کانپ رہی تھی…
…..
حزیفہ وحشی درندے کی طرح ہاتھ میں چاقو لے کر تحریم کی طرف دوڑا….
تحریم چیخی اور ڈر کے مارے پیچھے کی طرف بھاگی….
“حزیفہ میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے..؟” وہ چلائے جا رہی تھی لیکن حزیفہ پہ کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا تھا…
“تم سے تو شادی میں کر کے رہوں گا چاہے تمہاری لاش سے ہی کیوں نہ کرنی پڑے…”
تحریم بچتے بچاتے حزیفہ کے کمرے میں گھس گئی اور خود کو لاک کر لیا… دروازے کے پاس بیٹھی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی… کانوں میں حزیفہ کی آواز گونج رہی تھی..
“تحریم دروازہ کھول دو.. میں نے کہا دروازہ کھول دو…” وہ زور زور سے دروازہ پیٹ رہا تھا… دروازے کی دھمک سے کمرے کی ایک ایک چیز ہل رہی تھی…
“تحریم میں دروازہ توڑ دونگا….” اس نے اور زور سے دروازہ پیٹنا شروع کر دیا تھا… دروازے کے ساتھ ہی پڑی ٹیبل ہلنے لگی جسکی بدولت اوپر پڑی البم نیچے گری اور ایک پکچر کھل گئی….
تصویر پہ نظر پڑی تو تحریم چونک گئی.. پکچر میں حزیفہ اور پاکیزہ شادی کے کپڑے پہنے ہوئے کھڑے تھے پاکیزہ کا لال لہنگا اور حزیفہ کی وائٹ شیروانی تھی… جسں اپنائیت اور محبت سے وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے وہ انمول تھی
دونوں کے چہرے کی ہنسی انکے پیار کی گواہی دی رہی تھی.
“پھر ایسا کیا ہوا کہ حزیفہ اس قدر ظالم ہو گیا اور اس نے اپنے ہی پیار کو مار ڈالا؟”… تحریم کے ذہن میں ایک سوال ابھر کر آیا لیکن اگلے ہی لمحے وہ سب بھول گئی کیونکہ اس کے آنکھوں کے سامنے دروازہ گر پڑا اور اسکی نظری حزیفہ سے جا ملیں…
چاقو اب تک اسکے ہاتھ میں تھا اور وہ خوفناک نگاہوں سے تحریم کو ہی دیکھ رہا تھا….تحریم نے بغیر وقت ضائع کئے البم اٹھا کر اسکے منہ پہ دے ماری…
“آآآہ..تحریممممم” وہ غرایا.. لیکن تحریم وہاں سے فرار ہو چکی تھی…
…..……
رات کے تین بج رہے تھے اور وہ حزیفہ کے چنگل سے آزاد ہو گئی تھی. سنسان خالی روڈ پہ وہ تیزی سے قدم بڑھا رہی تھی… اسے یہاں کے سناٹے سے خوف نہیں آرہا تھا…
وہ جو کچھ دیکھ چکی تھی اس کے آگے یہ کچھ بھی نہیں تھا.. وہ تیزی سے بڑھ رہی تھی تا کہ اس بستی سے نکل کر کہیں دور بھاگ جائے….
دل میں بہت سے خیالات آ رہے تھے..
“کاش میں گھر سے بھاگتی ہی نہیں..”
“کاش میں اس دھوکے باز سے پیار ہی نہ کرتی…”
“کاش میں حزیفہ سے ملتی ہی نہ….”
“جتنی سزا ملنی چاہئیے تھی جھیل چکی ہوں میں… اب جا کر بابا کے سینے سے لگ جاؤں گی وہ اپنی لاڈلی بیٹی کو ٹھکرا نہیں پائیں گے…” اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے… بےبس لڑکی اپنی غلطیوں پہ رونے دھونے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتی ہے..
….….
تحریم کو لگ رہا تھا کہ وہ حزیفہ کی پہنچ سے بہت دور جا چکی ہے لیکن یہ اسکی غلط فہمی تھی… حزیفہ کب سے اسکا پیچھا کر رہا تھا اور موقع ملتے ہی اس نے تحریم کے سر پہ وار کر دیا….
تحریم یک دم بےحوش ہو گئی… حزیفہ اسے اٹھا کر پھر سے اسی چاردیواری کے اندر لے آیا جس میں تحریم قید تھی اور اب کتنے ہی سالوں اسے اور قید رہنا تھا…
حزیفہ نے اسے کچن کے فرش پہ لٹایا اور خود تیار ہونے لگا… اس نے وہ لال لہنگا پہنا… پاؤں میں پائل سجائی… ہونٹوں کو لپسٹک سے سرخ کیا اور پھر سے ایک دلہن کا روپ دھارا…
“ہائے میں کتنا پیارا لگ رہا ہوں…. تحریم بھی ایسے ہی خوبصورت لگی گی…” شیطانی مسکراہٹ ایک بار پھر چہرے پہ چھا گئی…
“لیکن لیکن….پہلے اسے یہ انجیکشن تو دے دوں…تاکہ یہ پھر سے نہ بھاگنے پائے…” حزیفہ نے دراز میں سے ایک بڑی سی سرنج نکالی اور اس میں لال رنگ کی کوئی دوائی بھرنے لگا….
“ہاہاہا. یہ اسے لگاؤں گا.. پھر وہ بھاگی گی ہی نہیں….” اس نے زوردار قہقہ لگایا اور پیچھے مڑا.. چہرے کی ہنسی ایک پل میں غائب ہوئی کیونکہ تحریم وہاں پہ اب نہیں تھی…
“تحریم اب تو تمہیں نہیں چھوڑوں گا…” وہ انجیکشن لے کر کچن سے باہر کی طرف دوڑا….
…..…..
تحریم منہ پہ ہاتھ رکھے اپنے کمرے کی الماری میں بیٹھی تھی…
جب اسے ہوش آیا تو اس نے لہنگے میں ملبوس حزیفہ کے ہاتھ میں انجیکشن دیکھا تو وہ کانپ اٹھی…بغیر آواز نکالے وہ رینگتے ہوئے وہاں سے نکلی… اور یہاں تک پہنچ آئی….
وہ خوف سے کانپے جا رہی تھی.. ٹھنڈ میں پسینے نکل رہے تھے… حزیفہ کی آواز اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی….
“تحریم نکل آؤ میں کچھ بھی نہیں کہوں گا..” وہ دھیمے آواز میں بول رہا تھا…
“لیکن اگر میں نے ڈھونڈ لیا تو بہت برا ہو گا تحریم…”
“کہاں جا سکتی ہے یہ باہر کے دروازے کو تو تالا لگا چکا ہوں میں..” حزیفہ نے سوچا پھر یک دم کمروں کی چھان بین کرنے لگا…
کچھ دیر بعد وہ تحریم کے کمرے میں آیا…تحریم کی دھڑکن تیز ہوئی.. دروازے کی آواز سن کر تحریم نے زور سے منہ پہ ہاتھ رکھ لئے تا کہ کوئی سانس کوئی آواز اس تک پہنچ نہ سکے…
“تحریم تم یہاں ہو کیا…” وہ آہستہ سا بولا.. کچھ دیر تک اسکے قدموں کی آواز آتی رہی پھر یک دم دروازہ بند کرنے کی آواز آئی اور سناٹا چھا گیا..
تحریم نے سکھ کا سانس لیا اور الماری تھوڑی سی کھول کر ارد گرد کا جائزہ لیا.. سب نارمل تھا… وہ باہر نکلی.. اور اگلے ہی لمحے اسکی سانس جانے لگی… حزیفہ سامنے لہنگے میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا.. ہاتھ میں انجیکشن اسی طرح پکڑا ہوا تھا…
“بہت ہو گئی چھپن چھپائی نہیں..؟” وہ تحریم کے بالکل قریب آیا…
“حزیفہ مجھے چھوڑ دو..پلیز..” وہ گڑگڑانے لگی لیکن حزیفہ نے بغیر کچھ کہے اسے کندھوں پہ اٹھا لیا…
….….
حزیفہ اسے ہال کے اندر لے آیا تھا اور اسکے پاؤں ہاتھ سب کرسی کے ساتھ باندھ دئیے تھے…منہ پہ ٹیپ چڑھا دی تھی.. اور تحریم روئے جا رہی تھی…
“پتہ ہے یہ انجیکشن لگاؤ تو بندہ سو جاتا ہے…” اس نے انجیکشن کی سوئی پہ نظریں جمائیں اور تحریم کے قریب آیا…
“اپنی کلائی تو آگے کرو….اوہ تم تو باندھی ہوئی ہو سوری..” حزیفہ نے یک دم بے رحمی سے تحریم کی کلائی پکڑی..
تحریم خود کو بچانے کی خوب کوشش کر رہی تھی لیکن وہ بےبس تھی.. حزیفہ کی طاقت کے سامنے وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی…
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے..دل ہی دل میں وہ دعائیں کر رہی تھی.. حزیفہ نے اسی لمحے انجیکشن کی سوئی اسکی نرم سی کلائی میں کھبو دی..
تحریم کو شدید درد کا احساس ہوا…ٹیپ کے باعث اسکی چیخ حلق میں ہی دب گئی.. آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا…
یہ سونے کی ہی دوائی تھی کہ کوئی زہر تھا؟ اس قدر تیز ریکشن… آخری وقت میں اسکے دل میں خیال آیا تھا..
ایک دو سیکنڈ کے اندر ہی تحریم کی آنکھیں بند ہو گئیں اور باڈی نے بھی حرکت کرنا چھوڑ دیا…
حزیفہ تحریم کے بےجان جسم کو دیکھ کر قہقہ لگانے لگا..اس کا سر ایک طرف کو جھک چکا تھا…
“اب تم صرف اور صرف میری ہو گی….”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: