Paiyal Ki ChanChan Novel by Insia Awan – Episode 4

0

پائل کی چھن چھن از انسیا اعوان – قسط نمبر 4

–**–**–

“تحریم… تحریم…” تحریم کو محسوس ہوا کہ کوئی اسکے گالوں پہ تھپکی دے رہا تھا…
کچھ ہی لمحے بعد تحریم نے زبردستی اپنی آنکھوں کو کھولا.. سامنے دھندلا دھندلا کوئی نظر آ رہا تھا… اب تک وہ صحیح سے ہوش میں نہیں آ پائی تھی.. سر میں شدید درد ہو رہا تھا.. اس نے دونوں ہاتھ اپنے سر پہ رکھے تو معلوم ہوا کہ اس نے وہی لال رنگ کا ڈوپٹہ پہنا ہوا تھا… اور منہ کی ٹیپ اب اتری ہوئی تھی….
نظر کچھ بہتر ہوئی تو اس نے سامنے کھڑے بندے پہ غور کیا…
جب حزیفہ کو اس نے اپنے سامنے پایا تو ڈر کے مارے اسکی آنکھیں باہر آگئیں.. وہ اسے اٹھا رہا تھا اور اب تک لال جوڑا پہنے ہوئے تھا…. منہ اور ہاتھ پہ جگہ جگہ کاٹنے کے نشان تھے… ہاتھ پہ چھری پکڑی تھی جس سے لال رنگ کا خون ٹپک رہا تھا…
تحریم نے فورًا خود پہ نظر دوڑائی لیکن اسے کوئی کٹ کا نشان نہیں دکھا.. یقیناً حزیفہ نے خود کو تکلیف پہنچائی تھی…
“ارے تم جاگ گئی…” حزیفہ یک دم بولا..
“یہ خون…میرے سے دور ہو جاؤ..” وہ ڈر کے مارے آہستہ سا چلائی…
“ڈرو نہیں یہ تو کچھ نہیں ہے… میں نے بس خود کو سزا دی تھی…”
“سزا…” تحریم کی شکل پہ بارہ بج گئے..
“ہاں میں نے تمہیں اذیت دی انجیکشن لگایا یہ اسکی سزا ہے…” اس نے اپنے ہاتھ کے زخم دکھائے…
“تم خود کو کیسے سزا دے سکتے ہو…؟
“جیسے تمہیں دی ویسے ہی خود کو…” تحریم کو یقین ہی نہ آیا.. کیا یہ وہی حزیفہ تھا… اتنا بدلا بدلا سا لگ رہا تھا وہ….
“تم بہت عجیب ہو…”
“صحیح کہتی ہو میں بہت عجیب ہوں….” وہ تحریم سے پیچھے ہوا..
“جانتی ہو تحریم…؟”
“کیا؟” تحریم شاکڈ تھی وہ اسکا چہرہ تک رہی تھی..
“میں بہت اکیلا ہوں.. جب مجھے پاکیزہ کی یاد آتی ہے میں یہ کپڑے پہن کر اس سے بےحد قریب محسوس کرتا ہوں…”
“اب یہ بات کرنے کا کیا فائدہ؟ تم نے خود ہی اپنے ہاتھوں سے مار ڈالا اسے….”
“نہیں میں نے نہیں مارا……..” حزیفہ کے تاثرات یک دم بدلے
اسی لمحے وہ تحریم کے پاس آیا اور ایک جھٹکے میں اسکے سر سے ڈوپٹہ اتار کر خود پہنا….
“میں نے نہیں مارا اسے… بولو میں نے نہیں مارا اسے…” آگ پھر اسکی آنکھوں میں ابھر آئی… تحریم ڈر گئی…
“حزیفہ…..”
“تم بولو…میں نے اسے نہیں مارا….” وہ چلایا…
“ہاں تم نے اسے نہیں مارا…” وہ کانپتے ہوئے بولی…
“ہاہاہا” حزیفہ نے زوردار قہقہ لگایا… اور ہال کے بیچ و بیچ رقص کرنے لگا… پائل کی چھن چھن تحریم کی سماعتوں سے ٹکرا رہی تھی…
اس نے پہلی بار کسی لڑکے کا یہ روپ دیکھا تھا.. وہ خوف سے کانپ رہی تھی….. یہ وہی چھن چھن کی آواز تھی جو چھت سے آیا کرتی تھی….
“تحریم تم جانتی ہو….” وہ رکا…
“ایسے کوئی کٹ لگائے ہاتھ پہ…” اس نے یک دم چھری سے اپنی کلائی کاٹی.. ٹپکتا خون دیکھ کر تحریم کے طوطے اڑ گئے…
“تو ذرا تکلیف نہیں ہوتی” حزیفہ نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو وہ تحریم کی آنکھوں کا ڈر بھانپ گیا….
“ارے ارے… تم ڈر کیوں رہی ہو؟… ٹرائے کرو کچھ نہیں ہوتا…” وہ آہستہ قدموں سے تحریم کی طرف بڑھا…
“مم مم میرے قریب مت آؤ…”
“نہیں میں تمہارا ڈر نکالوں گا….” وہ چھری لے کر ڈور کر تحریم کے پاس آیا..
“نہییییییں….” اسی لمحے تحریم نے حرکت کی اور اسکی کرسی نیچے گر گئی…
حزیفہ کی رفتار تیز تھی.. وہ اپنے قدم روک نہ پایا اور تحریم کی کرسی کے پیچھی ہی پڑی ایک لوہے کی کرسی کے ساتھ ٹکرا گیا… کرسی کا کونا نوکیلا تھا.. وہ حزیفہ کے اندر تک دھنس گیا….
“آآآآ….” حزیفہ درد سے کراہنے لگا… تحریم کرسی کے ساتھ بندھی وہ منظر دیکھ رہی تھی.. حزیفہ کی باڈی سے نکلنے والے خون کے چھینٹے اسکے چہرے پہ بھی پڑے تھے… وہ بن آواز نکالے رو رہی تھی… وہ منظر بہت دردناک تھا
عین اسی وقت دروازے کے ٹوٹنے کی زوردار آواز تحریم کے کانوں میں پڑی اور ایک عمر رسیدہ خاتون اسے اپنے سامنے نظر آئیں… وہ آنکھوں سے تو انہیں دیکھ رہی تھی پر دماغ کہیں اور اٹکا ہوا تھا…
انہوں نے جلدی جلدی سے اسکی پٹیاں کھولیں…
“بھاگ جاؤ.. تم بھاگ جاؤ یہاں سے.. ورنہ حزیفہ کے مڈر کا کیس بن جائے گا تم پر..” تحریم چپ چاپ کھڑی انہیں سن تو رہی تھی لیکن اس وقت اس کا دماغ سن تھا.. جو ابھی اس نے دیکھا تھا وہ اس سے ہضم نہیں ہو رہا تھا… اللہ نے اسے بچا لیا تھا لیکن حزیفہ کی اس قدر تکلیف دہ موت.. وہ مکمل شاکڈ تھی.. بس ایک دو ہی لفظ تھے جو زہن میں گردش کر رہے تھے…
“بھاگ جاؤ.. بھاگ جاؤ…”
تحریم نے ایک نظر حزیفہ پہ ڈالی..ہر طرف خون ہی خون تھا.. خوف اس قدر طاری ہوا کہ وہ کچھ کہے بغیر وہاں سے دم دبا کر بھاگ گئی..
وہ عورت کون تھی.. اس کے ذہن میں خیال تک نہ آیا.. حزیفہ کے ساتھ جو ہوا تھا وہی دماغ میں گردش کر رہا تھا…
…..……
تحریم تیز قدموں سے باہر نکلی… اور خالی روڈ پہ چلنے لگی.. آنکھوں میں آنسو تھے… اور ماتھے پہ بل آئے ہوئے تھے… ایک فلیش بیک کی طرح سب اسکی نظروں کے سامنے گھوم رہا تھا….
حزیفہ.. اس بستی میں آنا… وہ پائل کی چھن چھن… پاکیزہ.. وہ البم…سب کچھ اسے یاد آنے لگا… اس کے قدم رکے اور وہ واپس پیچھے مڑی…
ایک آخری نظر گھر پہ ڈالی… چھت پہ نظر گئی تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے.. وہی لہنگا… وہی گھونگٹ…وہی پائل… ایک بار پھر اسے چھت پہ وہ نظر آیا… اس نے گھونگٹ اٹھایا.. اور تحریم کو اسکی بلی جیسی آنکھوں میں انتقام کی آگ نظر آئی…..وہ کانپ اٹھی
“حزیفہ….موت….یہ پھر کون…” اس نے دونوں ہاتھ سر پہ رکھ دئیے.. اور پیچھے کی طرف قدم بڑھائے…
“یہ سب…” اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے… وہ اب تک قدم پیچھے کی طرف بڑھا رہی تھی…
اسی لمحے گاڑی کی تیز روشنی اور ہارن کی آواز آئی…. تحریم نے سامنے دیکھا لیکن وہ حرکت نہ کر پائی اور بلیک کار سے اسکی ٹکر ہو گئی…
وہ اڑ کے روڈ کے دوسری جانب گری اور کالی آنکھیں بند ہو گئیں….
….…..
تحریم نے اپنی آنکھوں کو کھولا اور ارد گرد کا جائزہ لیا.. یہ جگہ اس کے لئے بالکل نئی تھی.. نہ جانے وہ کہاں تھی…
پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ کمرے کا کونا کونا دیکھ رہی تھی جب دروازے پہ کسی نے دستک دی..
“کون…؟”
“میں اسامہ ہوں..” پروقار لڑکا دروازہ کھول کر اندر آیا….
“آپ..؟”
“آپ میری گاڑی کے ساتھ ٹکرا گئی تھیں.. اسلئے آپ کو میں اپنے گھر لے آیا..”
“اچھا… لیکن مجھے یہاں سے چلنا چاہئیے…” وہ اٹھی لیکن کمر میں شدید درد ہونے لگا…
“آپ کے زخم ابھی ٹھیک نہیں ہوئے… جب مکمل ٹھیک ہو جائیں گے تب بےشک چلی جانا…”
“ہم..” وہ کنفیوز تھی.. حزیفہ کے گھر رک کر اتنی بڑی سزا کاٹی تھی.. اب پھر کسی انجان کے گھر کیسے رکے…
“آپ کچھ کھائیں گی…؟”
“نہیں بھوک نہیں ہے…”
“ایسے کیسے پتہ نہیں کتنے وقت سے بھوکی ہیں آپ…”
“میں لاتا ہوں کچھ..” وہ اٹھ کھڑا ہوا….
….…..
گھنٹہ ہو گیا تھا اور اسامہ اب تک نہیں آیا تھا.. نہ جانے وہ کیا بنانے لگ گیا تھا… تحریم کمرے میں بیٹھ بیٹھ کر تنگ آ گئی تھی…
وہ بیڈ سے اٹھی اور کمرے سے باہر گئی….
کمر پہ ہاٹھ رکھے وہ اسامہ کے بڑے سے عالیشان گھر کو دیکھنے لگی.. ایک ایک چیز بےحد قیمتی تھی…
پھر کچھ ہی دیر بعد اسکی نظر ایک ٹیبل پہ گئی جہاں مختلف قسم کی دوائیاں پڑی ہوئی تھیں…
ایک دوائی کے رنگ پہ نظر پڑی تو تحریم کی روح کانپ گئی… وہی لال کلر کی دوائی جو حزیفہ نے اسے لگائی تھی…
وہ دیکھنے میں تو اسی جیسی ہی لگ رہی تھی.. آگے بڑھ کر جب اس نے دوائی کی شیشی کو اٹھا کر بےحد قریب کیا تو وہ چونک گئی…
وہ دردناک واقعہ اسکی نظر کے سامنے گھوم گیا.. اس دوائی کی خوشبو اور وہ انجیکشن والی دوائی کی خوشبو ایک جیسی تھی…
اسے خوف آنے لگا.. بغیر کچھ سوچے سمجھے اس نے دوائی واپس وہاں رکھی اور اسامہ کے گھر سے بھاگ نکلی..
وہ ایک پل بھی وہاں رکنا نہیں چاہتی تھی.. وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کونسی دوا تھی بس اتنا جانتی تھی کہ جیسی بھی تھی صحت کے لئے مضر تھی..
اور کسی ایسے انجان لڑکے کے گھر میں رہنا جہاں اس قسم کی دوائیاں ملیں اسے درست نہیں لگ رہا تھا.. ایک بار وہ سب دیکھ چکی تھی اب اسے عقل آ گئی تھی..
…..……
رات کے آٹھ بج چکے تھے اور وہ در در کی ٹھوکریں کھا کر اپنے گھر کی دہلیز کے سامنے پہنچ گئی تھی..
” اس بار اسکے والدین اسے یہاں جگہ دیں گے؟… اگر نہ دی تو وہ کہاں جائے گی..”
“ہاں اس نے غلط کیا تھا.. اپنے والدین کی عزت مٹی میں ملائی تھی.. لیکن اسے سزا بھی تو مل گئی تھی اور اسے اپنے کئے پہ پچھتاوا بھی تو تھا… ” عجیب عجیب سے خیال اسکے ذہن میں آ رہے تھے..
کانپتے ہاتھوں سے اس نے دروازے پہ دستک دی… کچھ ہی دیر بعد دروازہ کھلا اور اپنے بوڑھے باپ کے ساتھ اسکی نظریں جا ملیں…
اسے محسوس ہوا کہ لمحہ جیسے وہیں رک گیا… کتنی دنوں بعد اس نے اپنے باپ کا چہرہ دیکھا تھا.. اسکی آنکھیں بھیگ گئیں…
“بابا…” وہ آگے ہوئی..
“مر گیا تمہارا باپ.. چلی جاؤ..” انہوں نے اپنے قدم پیچھے کر لئے..
“بابا ایسا نہ کریں.. میں آپ کی گڑیا ہوں.. لاڈلی ہوں..”
“ہوں نہیں تھی..” تحریم کو لگا اسکے پاؤں سے زمین سرک گئی.. آنکھوں میں آنسو تیز ہو گئے.. لیکن اسکے باپ کا دل نہ پگھلا..
“کون آیا ہے فاروق صاحب..” یک دم تحریم کی ماں بھی دروازے پہ آ گئیں…
“امی….” آسیہ بیگم تحریم کو دیکھ کر شاکڈ ہو گئیں.. وہ ماں تھیں.. بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر انکی مامتا جاگ اٹھی تھی.
“تحریم بیٹا اندر آؤ..” انہوں نے تحریم کا ہاتھ پکڑا..
“یہ اندر نہیں آئے گی..”
“بس کر دیں فاروق.. آپ کی ہی بیٹی ہے.. حالت دیکھیں اسکی…” وہ بیٹی کو پکڑ کر اندر لے گئیں… اور فاروق بیوی کے سامنے کچھ نہ بول پائے… ابھی بھی دل کے کسی کونے میں بیٹی کے لئے پیار زندہ تھا..
اپنا کمرہ دیکھ کر تحریم پہلے سے تھوڑی نارمل ہو گئی..
آسیہ بیگم بھی اس سے پرانی بیتی باتیں کرتی رہیں جن سے بیٹی اور ماں کا کافی وقت ایک ساتھ گزر گیا…
….…..
لال لہنگے میں ملبوس وہ اسکی طرف بڑھ رہا تھا.. پاؤں میں اسی طرح مہندی اور پائل پہنی ہوئی تھی..
وہ یک دم تحریم کے بالکل پاس آ کر کھڑا ہوا اور چہرہ اوپر کیا.. گھونگٹ میں تحریم کو اسکا کوکا نظر آیا…
پھر حزیفہ نے گھونگٹ اٹھایا.. وہ خوفناک آنکھوں سے تحریم کو دیکھنے لگا…
“تم میری قاتل ہو.. تم نے مجھے بچایا نہیں.. بھاگ گئی وہاں سے…” وہ وقفے وقفے سے بول رہا تھا..
“اب تم بھی نہیں بچو گی…” اس نے یک دم تحریم کو گلے سے اٹھایا…
“نہیں میں تمہاری قاتل نہیں ہوں میں نے نہیں مارا تمہیں…” وہ اونچا اونچا چلائی..
“میں تمہاری قاتل نہیں ہوں..” تحریم نیند میں بے چین ہوئی اور یک دم بیڈ پر اٹھ کر بیٹھی..
ماتھے پہ شکن تھی… اور پسینہ پانی کی طرح بہہ رہا تھا..
“حزیفہ… حزیفہ کی موت… میں نے نہیں مارا اسے…” وہ خوف سے کانپنے لگی…
“وہ چھت پہ بھی کھڑا تھا.. وہ تب بھی مجھے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے انتقام لینا ہو…” اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں..
“وہ مجھے نہیں.. چھوڑے گا.. نہیں چھوڑے گا..” وہ ڈر کے مارے چیخنے چلانے لگی…
…..….
تحریم کی چیخ سن کر آسیہ بیگم فورًا دوڑ کر کمرے میں آ گئیں..
“کیا ہوا ہے بیٹا…”
“امی وہ مجھے مار دے گا… وہ مجھے مار دے گا…” وہ ڈر کے مارے چلائی جا رہی تھی..
“کون مار دے گا؟. کوئی نہیں ہے یہاں…” ماں نے بیٹی کو گلے لگایا…
“امی وہ مجھے مار دے گا.. آپ نہیں سمجھ رہیں…” وہ رونے لگی…
“بیٹا کون؟.. کیا ہو گیا ہے..” ماں کے پوچھنے پہ بیٹی نے فر فر سارا واقعہ سنا ڈالا…
آسیہ بیگم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے.. انکی بیٹی اتنی تکلیف سے گزری تھی..
“بیٹا تمہیں اب کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا.. تم اپنے گھر میں محفوظ ہو…”
“نہیں امی اسکی روح مجھے جینے نہیں دے گی.. وہ مجھے میرے خوابوں میں بھی ڈراتا ہے…” وہ کانپ کر بولی تھی..
“اچھا… میں تمہارے ساتھ لیٹ جاتی ہوں.. اگر تمہیں ڈر لگا تو مجھے اٹھا دینا…” ماں نے بیٹی کے سر پہ ہاتھ پھیرا..
تحریم ماں سے لپٹ گئی… ماں کی گود میں بےحد سکون تھا… چند ہی منٹ بعد اسکی آنکھ لگ گئی..
…..
کتنے ہی دن گزر چکے تھے اور تحریم کی صحت بگڑتی جا رہی تھی.. وہ دن بدن دبلی ہوتی جا رہی تھی.. راتوں کو ڈر کر اٹھ جایا کرتی تھی.. اپنی ہی دنیا میں مگن رہتی تھی..
کھانا پینا چھوڑا ہوا تھا.. بات چیت بھی صرف ضرورت کے وقت کیا کرتی تھی.. آنکھوں میں ایک ڈر سا دکھائی دیتا تھا.. حزیفہ نے اسکے ساتھ جو کیا تھا وہ اس کے دماغ پہ برا اثر چھوڑ گیا تھا.. وہ اب چھوٹی چھوٹی باتوں پہ ڈر جایا کرتی تھی…
اسے اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ حزیفہ اسے زندہ نہیں چھوڑے گا اور ایک دردناک موت دے گا اور وہ اسی موت سے بھاگ رہی تھی… آسیہ بیگم بیٹی کی حالت دیکھ کر اندر ہی اندر کڑھتی تھیں..
انکی بیٹی پہلے اتنا بولا کرتی تھی لیکن اب اسے چپ سی لگ گئی تھی جو آسیہ بیگم کو اندر ہی اندر کھائی جا رہی تھی.. وہ اپنی بیٹی کی اس حالت کا قصور وار خود کو ٹھہرانے لگی تھیں اور خاص کر اپنے میاں کو…
اگر اس دن وہ تحریم کو گھر سے نہ نکالتے تو کم ازکم آج انکی بیٹی ایسی حالت میں نہ ہوتی… آسیہ بیگم نے لاکھ کوشش کی کہ کسی طرح اس کے دل میں بیٹھ جانے والے ڈر کو کم کر سکیں لیکن کوئی فائدہ ہی نہ ہوا…
آج وہ سوچ رہی تھیں کہ تحریم کو اپنے ساتھ بازار لے چلیں.. کیونکہ انکی بیٹی شاپنگ کی شوقین تھی.. شاید رنگ برنگی چیزیں دیکھ کر اسکا دل اِدھر اُدھر ہو…
“تحریم بیٹا…”
“جی امی…” وہ کھوئی کھوئی سی بولی تھی..
“آج تیار رہنا ہم شاپنگ پہ چلیں گے…”
“کیسی شاپنگ؟ امی…” وہ حیران تھی..
“ایسے ہی بیٹا میرا دل کر رہا ہے کچھ چیزیں لے لوں…”
“امی میرا دل تو نہیں ہے…”
“بیٹا میرے ساتھ چلی جاؤ.. میری ہیلپ ہو جائے گی..”
“اچھا میں تیار رہوں گی…”
….…..
آدھے گھنٹے سے وہ اور اسکی ماں اِدھر اُدھر دوکانوں میں گھوم رہے تھے.. شاپنگ کے دوران بھی وہ چپ چپ تھی.. کسی چیز میں اسی کوئی دلچسپی ہی نہیں دکھ رہی تھی.. سچ کہتے ہیں جب دل کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو پسندیدہ چیزیں بھی زہر لگتی ہیں…
“تحریم یہ ڈریس کیسا ہے..” ماں کے پوچھنے پہ اس نے اوپر دیکھا..
ڈریس کا کلر اسے شاکڈ کر گیا… لال رنگ کی فراک تھی جس پہ جگہ جگہ گولڈن ایمبرائیڈری (Embroidary) ہوئی تھی.. یہ کنڑاس بالکل حزیفہ کے لہنگے جیسا تھا… وہ خوف سے کانپنے لگی…
“امی ادھر سے چلیں… امی ادھر سے چلیں…” وہ ڈریس سے دور بھاگی.. سب دکاندار بھی شاکڈ ہو گئے…
“کیا ہوا بیٹا؟” آسیہ بیگم فوراً بیٹی کے پاس آئیں.. وہ کانپ رہی تھی…
“چلیں نہ…” وہ رونے لگی..
“اچھا اچھا…” آسیہ بیگم فورُا اسے وہاں سے لے گئیں..
انکی بیٹی نارمل نہیں رہی تھی.. اسکے ذہن پہ بہت گہرا اثر ہو گیا تھا…
….…..
شاپنگ سینٹر سے نکل کر وہ لوگ باہر روڈ پہ آگئے تھے.. لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر تحریم تھوڑا نارمل ہو گئی تھی.. اسے لگتا تھا کہ وہ لوگوں کے ہجوم میں بالکل محفوظ ہے…
“بیٹا ٹھیک ہو..؟”
“جی امی..”
“اچھا میں ادھر سے سبزی لے لوں پھر چلتے ہیں..”
“اوکے..” وہ دونوں آلو کی ریڑھی کے پاس چل دئیے…
تحریم کی امی داموں پہ بحث کر رہی تھیں اور وہ کھڑی ارد گرد لوگوں کو دیکھ رہی تھی…. ایک جگہ اسکی نظر اٹک گئی تھی… اور دل میں خوف کے ساتھ ساتھ ہزار سوالات آنے لگے…
دور کسی کونے میں ٹماٹر کی ریڑھی کہ پاس اسے وہی عورت نظر آئی تھی جس نے تحریم کی پٹیاں کھولی تھیں… انہیں دیکھ وہ بہت کچھ سوچنے لگی..
“وہ کون تھیں..؟”
“انہوں نے مجھے کیوں بچایا؟”
“انکا حزیفہ کے ساتھ کیا تعلق تھا؟..”
“وہ عین اسی وقت وہاں کیسے آ گئی تھیں..؟”
تجسس کے مارے وہ خود کو روک نہ پائی ڈر تو اپنی جگہ تھا ہی اور وہ ان باتوں کو واپس دہرانا بھی نہیں چاہتی تھی لیکن اس عظیم خاتون نے اسکی مدر کی تھی.. اگر وہ پٹیاں نہ آ کر کھولتی تو تحریم کا کیا ہوتا..؟ شکریہ ادا کرنا بھی تو بنتا تھا…تحریم روڈ کراس کر کے انکی طرف بڑھنے لگی کہ ماں نے ہاتھ پکڑا..
“کہاں جا رہی ہو؟”
“امی میں ایک منٹ میں آتی ہوں…”
“میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی..”
“امی میں بالکل ٹھیک ہوں.. بس آتی ہوں…” اس نے ہاتھ چھڑوایا اور آگے کی طرف دیکھا… مایوسی آنکھوں میں چھا گئ.. وہ خاتون اب وہاں نہیں کھڑی تھیں..
“کیا پتہ اس سبزی والے کو کچھ پتہ ہو..” اس نے یک دم روڈ کراس کیا…
“بھائی جو ابھی بوڑھی عورت آپ کے پاس کھڑی تھیں وہ کہاں رہتی ہیں…؟”
“اوہ وہ تبسم بی بی..؟ وہ تو یہ پاس ہی ساتھ والی گلی میں رہتی ہیں..دائیں جانب دوسرا گھر” ریڑھی والے نے اشارہ کیا…
تحریم نی گلی کی طرف دیکھا.. “شکریہ آپ کا” وہ واپس اپنی ماں کے پاس گئی…
“امی… “
آگئی تم.. چلیں گھر..؟”
“امی میں تھوڑی دیر شہلہ کے گھر چلی جاؤں؟”
“شہلہ کہاں سے یاد آ گئی تمہیں…”
“امی بچپن کی دوست تھی.. ایسے ہی ملنے کا دل چاہ رہا.. شاید اس سے مل کر مجھے اچھا فیل ہو..”
“چلو پھر میں بھی چلتی ہوں تمہارے ساتھ”
“نہیں امی گھر میں بابا ویٹ کر رہے ہونگے..”
“ایسے کیسے تمہیں اکیلا چھوڑ دوں..؟”
“امی بھروسہ رکھیں میں ٹھیک ہوں…” تحریم نے انکے دونوں ہاتھ پکڑ کر انکی آنکھوں میں دیکھا…
“ٹھیک ہے جلدی آ جانا.. اور خیال رکھنا…”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 10

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: