Paiyal Ki ChanChan Novel by Insia Awan – Episode 5

0

پائل کی چھن چھن از انسیا اعوان – قسط نمبر 5

–**–**–

ماں سے بہانہ کر کے وہ اس بوڑھی عورت کے گھر کے بالکل سامنے کھڑی تھی… ان کا گھر بےحد پرانا سا لگ رہا تھا…
اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر لکڑی کے دروازے پہ دستک دی.. کچھ ہی منٹ بعد دروازہ کھل گیا…
“اسلامُ علیکم..” تحریم کو دیکھ کر انکی آنکھیں بڑی ہو گئیں…
“وعلیکم اسلام..”
“وہ میں نے آپ سے کچھ پوچھنا تھا…”
“ہم… اندر آؤ… ” تبسم بی بی نے راستہ دیا…
تحریم اندر آئی اور انکے چھوٹے سے گھر گھر کا کونا کونا دیکھنے لگی.. ان کے گھر میں روشنی بہت کم تھی… بس ایک پیلا لیمپ ہی ٹیبل پہ پڑا تھا جس نے گھر کو تھوڑا بہت روشن کیا ہوا تھا..
“کیا پوچھنا چاہتی ہو؟ اس دن کے متعلق؟” وہ سوالیہ نظروں سے تحریم کو دیکھنے لگیں… وہ بہت عجیب سی تھیں..
“جی آپ نے مجھے کیوں بچایا تھا…؟”
“اسکے علاوہ بھی کوئی اور سوال ہیں؟” تحریم نے ہاں میں سر ہلایا..
“پھر بیٹھو…” تبسم بی بی نے صوفے کی طرف اشارہ کیا…
تحریم آہستہ قدموں سے صوفے کے ایک کونے میں بیٹھ گئی.. صوفے کے سامنے ٹیبل پہ لیمپ پڑا تھا جسکی روشنی تحریم کے چہرے پہ پڑ رہی تھی…
تبسم بی بی بھی تحریم کے فخالف صوفے پہ بیٹھ گئیں..
“کیا پوچھنا ہیں…؟”
“آپ حزیفہ کو کیسے جانتی ہیں؟…”
“یہ تو بہت لمبی کہانی ہے.. پہلے سنو گی کہ چائے بناؤں؟..”
“نہیں نہیں کسی تکلف کی ضرورت نہیں.. میں بس یہی پوچھنے آئی ہوں…”
“ہم تو پھر شروع کریں…”
“جی..”
“میں جانتی تھی تم کبھی نہ کبھی یہاں آؤ گی.. اور دیکھو اب تم میرے سامنے بیٹھی ہو…” تحریم انکا چہرہ تکنے لگی..
“خیر تو میں حزیفہ کو نہیں پاکیزہ کی امی کو جانتی ہوں..” پاکیزہ کا نام سن کر تحریم کی شکل پہ بارہ بج گئے… لیکن وہ خاموش رہی..
*فلیش بیک*
“غزالہ اور میں کوٹھے پہ ملے تھے.. ہم دونوں وہیں دوست بنے.. دونوں ہی مجبوری کی وجہ سے وہاں پھنس چکے تھے لیکن کچھ عرصہ بعد ہی غزالہ کی ایک رئیس سے شادی ہو گئی… اور وہ کوٹھے سے چلی گئی…” تبسم بی بی نے ایک لمبی سانس لی اور پھر سے کہانی شروع کی…
“پھر انکے ہاں پاکیزہ ہوئی.. اور اسکے والد کی ڈیتھ ہو گئی اور کاروبار سارا ٹھپ ہو گیا.. جسکی وجہ سے دونوں ماں بیٹی کا جینا مشکل ہو گیا… وہ اپنی بیٹی کو پھر کوٹھے میں لے آئی.. لیکن اس نے غلطی کر دی…” تبسم بیگم نے آبرو اچکائی..
“پاکیزہ بےحد خوبصورت تھی.. کوٹھے کی بڑی میم بار بار اسکے پیچھے لگی رہتی تھیں… میرے ساتھ بھی پاکیزہ کی بہت بنتی تھی.. وہ مجھے خالہ کہتی تھی لیکن میں اسکی خالہ نہ بن پائی.. میں اسے اس گندگی سے نہ بچا پائی اور ماں کے مرنے کے بعد وہ اس دلدل میں دھنسی چلی گئی..” انکی آنکھوں میں آنسو آئے…
“پھر ایک بےغیرت گھٹیا مرد.. “طیب..” نشے میں دھت اس کھوٹے میں آیا کرتا تھا..”
“طیب…؟ حزیفہ کا باپ” تحریم کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں..
“ہم لیکن سوتیلا باپ… اس نے پاکیزہ کو رقص کرتے دیکھا یہاں اور کتنی بار اسکی ڈیمانڈ کی.. بڑی میم نے پیسے کی لالچ میں اس کی ڈیمانڈ قبول بھی کر لی اور پاکیزہ کو اسکے سامنے پیش کر دیا… لیکن پاکیزہ کی عزت بچ گئی.. اسی دن طیب کا بیٹا یعنی.. حزیفہ کوٹھے پہ آ گیا اور پاکیزہ کو اپنے باپ سے بچا لیا…”
“اور اس لڑکی سے نکاح کر لیا.. میں اس دن بہت خوش تھی.. پاکیزہ کی عزت خراب کرنے والے شخص کے بیٹے نے ہی نکاح کر کے پاکیزہ کو عزت دی تھی اور وہ اپنے گھر کی ہو گئی..”
“لیکن پھر یہ سب…؟ حزیفہ نے اسے مارا کیوں..؟” تحریم سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگی…
“سوتیلا باپ تھا نہ.. آس نے اپنے رنگ دکھانا شروع کر دئیے .. حزیفہ کے سگے والد کا انتقال حزیفہ کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا… لیکن وہ پھر بھی بیٹے اور بیوی کے لئے کافی جائیداد چھوڑ گئے جسکی وجہ سے حزیفہ کی ماں ایک امیر خاتون بن گئیں.. کچھ ہی مہینوں بعد وہ طیب کی باتوں میں آ گئیں… اور اس سے شادی کر لی تب حزیفہ چھوٹا سا تھا…” تحریم کو اپنی کہانی یاد آئی وہ بھی کسی کے چکر میں آئی تھی…
“پھر وقت کے ساتھ ساتھ حزیفہ اور اسکی ماں کو طیب کی اصلیت پتہ لگی.. تب حزیفہ میچور ہو چکا تھا…طیب صرف انکے پیسے کی پیچھے تھا اور کتنی ہی پراپٹی ہتھیا چکا تھا… شراب.. نشہ.. کوٹھے ان سب چیزوں پہ وہ دولت خرش کر رہا تھا…کوٹھے پہ ہی اسے پاکیزہ ملی اور اس نے اسکی عزت پہ ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی”
“خیر حزیفہ نے پاکیزہ کو تو بچا لیا تھا.. اور ماں کے کہنے پہ اس سے شادی بھی کر لی اور اپنے باپ کے پلان پہ پانی بھی پھیر دیا لیکن ماں کے غم کو پوری طرح مٹا نہ پایا کیونکہ ساتھ ہی یہ اصلیت بھی کھل گئی تھی کہ طیب پہلے سے شادی شدہ تھا اور اسکا ایک بیٹا بھی تھا اسامہ جو اسکی ہر سازش میں مدد کر رہا تھا…”
“اسامہ…. وہ جو لمبا سا لڑکا ہے.. چھوٹے چھوٹے براؤن بالوں والا..؟” وہ حیران تھی..
“ہاں لیکن تم کیسے جانتی ہو؟..” وہ بھی شاکڈ ہو گئیں
” جب میں گھر سے بھاگی اسی کی گاڑی سے میری ٹکر ہوئی تھی.. وہ مجھے اپنے گھر لے گیا تھا.. لیکن میں اگلے ہی دن وہاں سے فرار ہو گئی…”
“بہت اچھا کیا.. وہ اچھا لڑکا نہیں ہے پتہ نہیں وہ تمہارے ساتھ کیا کرتا…” تحریم نے ایک سکھ کی آہ بھری.. اللہ نے ہی اسے بچایا تھا… اسے شکر کرنا چاہئیے تھا…
“لیکن حزیفہ نے پاکیزہ کو مارا کیوں؟”
“مارا نہیں مروایا گیا… حزیفہ کی ماں کے انتقال کے بعد… ا طیب کے دل میں بدلے کی آگ جلنے لگی.. اسکی پول کھل گئی تھی اور اسے لگ رہا تھا کہ جو آخری گھر حزیفہ کے پاس رہ گیا تھا وہ اسے نہیں ملے گا…تو اس نے بیٹے کے ساتھ مل کر ایک پلان بنایا…پہلے تو اس نے حزیفہ سے معافی مانگ کر اسکا اعتماد حاصل کیا… حزیفہ نے اسے معاف کر دیا اور یہی بڑی غلطی حزیفہ نے کی “
” اس کے بعد طیب نے باہر سے ایک دوائی سمگل کروائی… وہ دوائی بےحد نقصان دہ تھی..اگر کسی کو اسکی ہائی ڈوز ملتی رہے تو وہ آپے سے باہر آ جاتا ہے اور ہائیپر ہو جائے تو سائیکو ہو جاتا ہے… پھر اسے صحیح غلط میں کوئی فرق نہیں دکھتا…” تحریم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے.. یعنی حزیفہ اسی وجہ سے پاگل تھا… اس کا سوتیلا باپ اسے وہی دوائی دیتا رہا ہو گا
“لال رنگ کی جو دوائی ہے؟..” تحریم کانپنے لگی..
“ہاں شاید وہی….” تحریم کے سامنے پھر سے وہ واقعہ گھوم گیا اسے بھی وہ دوائی لگائی گئی تھی.. لیکن شاید صرف ایک ڈوز سے اس پہ ات اثر نہیں ہوا تھا.. لیکن جو درد ہوا تھا وہ اب تک اسے یاد تھا..
…..…..
تحریم خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی جب تبسم بی بی کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی…
“طیب وقفے وقفے سے نیند میں حزیفہ کو دوائی دیتا رہا.. جس کی وجہ سے اسکے ذہن پہ اثر ہوا.. . وہ چھوٹی چھوٹی بات پہ ہائیپر ہو جاتا تھا اور پاکیزہ سے زبان درازی کرتا تھا.. کبھی کبھی ہاتھ بھی اٹھا دیتا تھا.. پاکیزہ مجھے خالہ مانتی تھی میرے پاس آ کر اپنے دکھ درد بانٹ لیا کرتی تھی…. مجھے بھی حیرت ہوتی تھی کہ یہ حزیفہ کو یہ اچانک ہو کیا گیا ہے؟.. ” انکے ماتھے پہ بل آئے..
“پھر ایک دن ایسا ہوا کہ پاکیزہ کےسامنے طیب کی سچائی کھل گئی…. وہ حزیفہ کو انجیکشن کے ذریعے دوائی لگا رہا تھا.. پاکیزہ نے چھان بین کی تو اسے علم ہو گیا کہ یہ کیسی دوائی تھی.. وہ طیب کے خلاف کھڑی تو ہو گئی لیکن حزیفہ کو دوائی سے روک نہ پائی کیونکہ وہ اسکا عادی ہو چکا تھا اور اب خود ہی خود کو انجیکشن لگا دیتا تھا… ” تحریم کے چہرے پہ خوف آنے لگا.. اتنا بڑا سچ آج اسکے سامنے آیا تھا..
“جب پاکیزہ طیب کے رستے میں آئی تو طیب نے اسے رستے سے ہٹانے کی کوشش کی.. اسامہ کو استعمال کر کے اسے حزیفہ کے سامنے بدکردار بنا دیا.. پاکیزہ کا بیک گراؤنڈ بھی ایسا تھا.. اور حزیفہ پہ دوائیوں کا بھی اثر تھا.. اس نے ہائیپر ہو کر بیوی کی ایک نہ سنی اور موت کے گھاٹ اتار دیا… ” تحریم کی آنکھیں نم ہونے لگیں.. آخر اس معصوم لڑکی کا کیا قصور تھا…
“پھر کچھ ہی دنوں بعد حزیفہ نے باپ بیٹے کو اس بارے میں بات کرتے سن لیا.. اور انکی اصلیت کھل گئی.. حزیفہ شدید طیش میں تھا.. کیونکہ وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا تھا … بس اسی طیش میں اس نے جا کر طیب کا بھی قتل کر دیا لیکن اسامہ وہاں سے جان بچا کر نکل گیا..”
“حزیفہ پہ دوائیوں کا اثر تھا ہی.. ساتھ چہیتی بیوی کے مرنے کے غم میں وہ اور ہی پاگل ہو گیا.. اور ایسا ہو گیا جیسا تم نے دیکھا…” تبسم بی بی نے آبرو اٹھا کر اوپر دیکھا…
“اس کے بعد سے اسکی دماغی حالت ایسی بگڑی کہ وہ مکمل سائیکو بن گیا اور کوئی بھی اسکے راستے میں آئے وہ اسے قتل کر دیتا تھا.. اور اس پاگل پن میں اس نے بہت سے قتل بھی کئے.. ” تحریم کی دونوں آنکھیں اشک بار ہو گئیں..
“پھر مجھے اسکی فکر رہتی تھی.. میں نے اس پہ نظر رکھنا شروع کر دیا.. اور ٹھان لیا کہ اب اسکے ہاتھوں سے کسی کا قتل نہ ہونے دونگی. یہ جیل جا سکتا تھا.. “
“لیکن اس کا علاج کیوں نہیں کروایا؟.. اور جن لوگوں کا قتل کیا ان کے گھر والوں نے رپورٹ نہیں لکھوائی.. ” تحریم نے کئی سوالات کئے..
“علاج کا نام لو تو پائیپر ہو جاتا ہے اور پھر وہی پاگل پن.. اور جہاں تک رپورٹ کی بات ہے وہ میں تو نہیں جانتی لیکن کیا پتہ لکھوائی ہو… اور پولیس کو کوئی سراغ نہ ملا ہو.. “
“ہم دیتھ باڈی بھی تو اسی کے گھر پڑیں ہیں.. ” تحریم کی آواز میں مایوسی تھی..
“تم نے دیکھا تھا.. ؟”
“ہم دیکھا… لیکن ایک بات اب تک سمجھ نہیں آئی… “
“کیا بات… ؟”
“آپ اس دن کیسے مجھے بچانے کے لئے آ گئیں تھیں؟.. “
“میں نے کہا تو ہے کہ اس پہ میں نظر رکھتی تھی.. اور ساتھ فون وغیرہ بھی کر دیتی تھی.. لیکن اس دن میں نے جب فون کیا تو مجھے ایک لڑکی کی چیخ کی آواز آئی.. اور حزیفہ فوراً فون چھوڑ کر تمہارے پاس چلا گیا اور میں نے تم لوگوں کی باتیں سنی.. پھر مجھے تھا کہ وہ تمہیں نقصان پہنچائے گا.. اسلئے میں تمہیں بچانے کے لئے آئی.. موسم کے باعث تھوڑا لیٹ ہو گئی لیکن درست وقت پہ آ گئی.. ” تحریم کو وہ پورا واقعہ یاد آیا جب اسکا ہاتھ کٹا تھا اور حزیفہ دوڑ کر اسکے پاس آیا تھا اور پٹی کی تھی..
“ویسے تم جانتی ہو… ؟”
“کیا..؟”
“جس دن میں نے تم دونوں کی باتیں سنی مجھے اس پاگل حزیفہ کی آواز نہیں آئی بلکہ پرانے نارمل حزیفہ کی آواز سنائی دی.. وہ مجھے تمہارے ساتھ بالکل نارمل لگ رہا تھا لیکن میں پھر بھی رسک نہیں لیا اور تمہارے لئے آ گئی.. “
“پر ایک بات ہے وہ اس وقت ٹھیک تھا اور اسکی وجہ تم تھی.. تم نے ضرور کچھ ایسا کیا ہو گا جس سے تم نے اسکا وہ روپ دیکھا… ” ذہن پہ زور ڈالا تو تحریم کو یاد آیا.. ہاں اس نے شادی سے منع کیا تھا اور اسکی پول بھی تو کھول دی تھی..
“ہاں مجھے اسکی اصلیت کا معلوم ہو گیا تھا.. اور میں تھوڑا بہت بول گئی تھی”
“دیکھا میرا اندازہ ٹھیک نکلا.. تم اسے ٹھیک کر سکتی ہو”
“ٹھیک کر سکتی ہوں.. لیکن وہ تو مر نہیں گیا.. ؟” تحریم شاکڈ تھی..
“نہیں وہ زندہ ہے”
“لیکن وہ پھر میرےخوابوں میں آ کر ڈراتا کیوں ہے؟ اور اسے میں نے گھر کی چھت پہ بھی تو دیکھا تھا… ” یہ سب کیا ہو رہا تھا اسکی سمجھ سے باہر تھا..
“ہو سکتا ہے وہ تمہارا ڈر ہو.. تم اسے مصیبت میں چھوڑ کر بھاگی تھی نہ.. اسلئے تم نے بہت سوچا ہو گا اس بارے میں.. اور جیسا سوچتے ہیں پھر وہی سب دکھتا بھی ہے.. “
تحریم خاموش ان کا چہرہ تکنے لگی.. شاید وہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں..
“…جب تم بھاگ گئی تھی میں نے اسے سنھبالا اور یہاں لے آئی..” تبسم بی بی نے اپنی بات جاری کی..
“تو وہ یہاں پہ ہے…؟” تحریم کی آنکھوں میں خوف چھانے لگا…
“نہیں وہ زد میں واپس اپنے گھر چلا گیا.. لیکن یقین مانو اسکا پاگل پن پہلے سے کم ہو چکا ہے اور اسکی وجہ تم ہو”
“میں کیسے.. آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں.. “
“میرا تجربہ کہتا ہے کہ اسے تم سے محبت ہو چکی ہے… پاکیزہ سے بھی کئی زیادہ.. تب ہی اسکا پیار پاگل پن پہ حاوی ہو رہا ہے… پیار میں بہت طاقت ہوتی ہے وہ کسی دوائی کا اثر بھی ختم کر سکتی ہے… “
“لیکن یہ کیسے… ” تحریم کو حزیفہ کی آنکھوں کی سچائی یاد آئی.. اس نے بےحد پیار سے اسکے ہاتھوں پہ مرہم پٹی کی تھی.. وہ فکر اسکی آنکھوں میں دیکھی جا سکتی تھی.. پھر اسے وہ واقعہ یاد آیا جب وہ تھپکی دے کر اسے اٹھا رہا تھا.. وہ اس وقت بھی بدلا بدلا سا تھا.. تحریم نے پاکیزہ کا ذکر کر کے اسے ہائیپر کر دیا تھا..
“یعنی وہ مجھ سے سچا پیار….” تحریم نے دونوں ہاتھ سر پہ رکھے…
“ہاں.. لیکن تمہیں اسکے پیار کو اسکے پاگل پن پہ مکمل حاوی کرنا ہو گا پھر وہ ٹھیک ہو جائے گا…”
“لیکن میں کیسے کر سکتی ہوں یہ..”
“پہلے اسکی دوائیاں پیار سے ختم کرواؤ..”
” دوائی.. حیرت ہے اتنی بڑی بوتل تو نہ تھی کہ اب تک ختم نہ ہوئی ہو؟ نئی دوائی کون لا کر دیتا ہو گا.. ویسے بھی باہر سے سمگل جو ہو کر آتی ہے؟ اور حزیفہ تو جاتا نہیں باہر”
“شاید اسامہ وہ تب بھی تمہیں وہاں ملا تھا.. اور”
“او ہاں میں نے اسکے گھر میں وہ دوائی بھی دیکھی تھی.” تحریم یک دم بولی..
“پھر میرا اندازہ صحیح ہے.. وہ شاید اب تک اسکے گھر کے پیچھے ہے… “
“تو اب کیا؟.. “
“اب یہ کہ تم اگر اسکی مدد کرنا چاہتی ہو تو واپس چلی جاؤ اس کے پاس.. “
“میں میں… نہیں جاؤنگی..” وہ ایک بار پھر کیسے اس دوزخ میں جا سکتی تھی..
“وہ تمہیں کچھ نہیں کہے گا.. اتنے دن نہیں کہا تو اب بھی نہیں کہے گا.. بس اسے غصہ مت دلانا.. ” تحریم خاموش تھی..
“بس ایک بات یاد رکھنا اگر تم جاؤ اسکی مدد کرنے تو تمہارے دل میں اسکے لئے محبت ہونی چاہئیے.. پھر تم کسی بھی مصیبت کا سامنا کر لو گی.. چاہے اسامہ بھی ٹانگ اڑائے..” تحریم بےحد کنفیوز تھی..
“لڑکی تم کنفیوز لگ رہی ہو.. پہلے گھر جا کر سوچو تمہیں اس سے محبت بھی ہے کہ نہیں.. پھر کوئی قدم اٹھانا..
“ہم گھر جانا بہتر ہے.. ٹائم بھی زیادہ ہو گیا ہے.. ” تبسم بی بی نے سر کو جنبش دی اور تحریم وہاں سے آٹھ کھڑی ہوئی..
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ آگے کیا کرے… حزیفہ.. اسامہ.. یہ سب اسکی زندگی میں آئے ہی کیوں تھے..؟
….….
تحریم بستر پہ بیٹھی حزیفہ کو ہی یاد کر رہی تھی.. وہ جیسا تھا اس میں اسکی کوئی غلطی نہیں تھی.. تبسم بی بی کی ایک ایک بات اسکے ذہن میں آ رہی تھی..
“میں اسے ٹھیک کر سکتی ہوں…؟” وہ خود سے ہی سوال کرنے لگی..
“لیکن اتنا بڑا قدم میں کیسے اٹھا سکتی ہوں.. اسکی بیوی بھی تو اسے ٹھیک نہ کر پائی..”
“لیکن اس وقت بھڑکانے والے بھی بہت لوگ تھے…”
“کیا مجھے اسکی مدد کرنی چاہئیے…؟” وہ بالکل الجھ چکی تھی…
“کیا پتہ وہ ٹھیک ہو حائے کیا پتہ وہ ٹھیک نہ ہو؟..تبسم بی بی کو غلط فہمی بھی تو ہو سکتی ہے کہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے…”
“پر اسکی آنکھوں کی وہ سچائی…لیکن…لیکن اگلے ہی لمحے میں نے اسکی آنکھوں میں وحشی درندہ بھی تو دیکھا تھا…”
“اے میرے رب تو ہی کوئی راستہ دکھا دے میں کیا کروں..” وہ بیٹھے بیٹھے کتنے ہی خیالوں میں ڈوب چکی تھی..
…..……
“شاید مجھے چلے ہی جانا چاہئیے…” وہ بستر سے اٹھی اور والدین کو بہانا بنا کر گھر سے نکل آئی…
کچھ ہی گھنٹوں بعد وہ اس گھر کے بالکل سامنے کھڑی تھی…
بہت سے خیال تھے جو اسکے ذہن میں آ رہے تھے…
“ایک بار پھر سے شاید وہ یہاں قید ہو جائے… یا شاید وہ اسے ٹھیک کر دے..”
اس نے لکڑی کے دروازے پہ دستک دی لیکن دروازہ خود بہ خود آواز پیدا کرتے کھل گیا…
گھر میں گپ اندھیرا تھا.. کانپتی آواز سے اس نے حزیفہ کو پکارنا شروع کیا لیکن کوئی جواب نہ آیا…
“حزیفہ… حزیفہ…” نظر دور جا کر فرش پہ رک گئی اور تحریم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے..
چھوٹے چھوٹے خون کے قطرے فرش پہ پڑے تھے جو حزیفہ کے کمرے تک جارہے تھے.. وہ قطروں کا پیچھا کرتے ہوئے کمرے تک آ گئی…
ہلکے ہاتھوں سے دروازہ کھولا تو وہ گھبرا گئی… حزیفہ الٹے منہ فرش پہ پڑا ہوا تھا.. اس کے ارد گرد خون ہی خون تھا… ساتھ دوائی کی بوتل ٹوٹی پڑی تھی…
“حزیفہ حزیفہ…” وہ دوڑ کے اسکے پاس گئی.. حزیفہ کے جسم کو اپنے ہاتھوں میں لیا..
اسکے ناک اور کان سے خون بہتے بہتے اب جم چکا تھا… نبض پہ ہاتھ رکھا تو وہ بھی بند ہو چکی تھی.. سانسیں بھی اب برقرار نہیں رہی تھیں….
“حزیفہ…” وہ چلائی.. آنسوؤں کا سیلاب اسکی آنکھوں سے بہنے لگا.. حزیفہ کا بے جان جسم اسکے ہاتھوں میں تھا…
“حزیفہ…حزیفہ… میں نے دیر کر دی حزیفہ…”
حزییییییییفہہہہہہہہ” تحریم نیند میں چونک کر اٹھی… وہ خیالوں میں ڈوبی… کب سو گئی تھی خدا جانے..
“کتنا بھیانک خواب تھا… کہیں حزیفہ سچ مچ مر….” اسکی آنکھوں میں اداسی چھانے لگی…
“نہیں نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے… وہ کیسے مر سکتا ہے…”
“مجھے جلدی اسکے پاس جانا چاہئیے.. کہیں یہ خواب سچا نہ ہو جائے….” وہ فورُا بستر سے اٹھی اور اپنا سامان پیک کرنے لگی… حزیفہ کی مدد کرنے کا اشارہ اسے مل چکا تھا….
….….
اسکے ماں باپ کی اس پہ نظر پڑی جب وہ بیگ لے کر کمرے سے باہر نکلی
“بیٹا تم کہاں جا رہی ہو.. ” آسیہ بیگم اس کے پاس دوڑ کر آئیں….
“امی میں ایک کام سے جا رہی ہوں پلیز جانے دیں…”
“اسے کہو.. ایک دفعہ عزت مٹی میں ملا چکی ہے.. پھر سے مت ملائے..” باپ کا غصہ اب تک ٹھنڈا نہیں ہوا تھا…
“آپ تو..” لیکن آسیہ بیگم کی بات تحریم نے کاٹ دی..
“آپ رہنے دیں.. میں بات کرتی ہوں..” وہ باپ کے قدموں میں جا کر بیٹھی..
“ایک بار کر کے سزا پا چکی ہوں بابا.. پھر ایسا قدم نہیں اٹھاؤں گی.. ” فاروق صاحب خاموش تھے…
“مجھے جانے دیں.. اس بار آپ کی بیٹی ایک اچھا کام کرنے جا رہی ہے…” خاموشی اب تک باپ کے لبوں پہ تھی..
“بابا پلیز…”
“جاؤ…” وہ کچھ لمحے بعد بولے..
“ٹھینک یو بابا..” اس کے لبوں پہ مسکراہٹ آئی.. دونوں کو اللہ حافظ کہہ کر وہ وہاں سے نکل آئی…
….……
کچھ ہی گھنٹوں بعد وہ حزیفہ کے گھر کے سامنے تھی…
کانپتے ہاتھوں سے اس نے دروازہ کھٹکھٹایا..
کچھ ہی دیر بعد دروازہ کھلا اور ٹاور جیسے لڑکے سے اسکا سامنا ہوا…
“حزیفہ….”
“تم….” تحریم کو دیکھ کر اسکے یکدم تاٹرات بدلے.. وہ یہاں کیسے آ سکتی تھی.. وہ حیران تھا..
“تم یہاں کیا کر رہی ہو…” وہ چلایا..
“ریلیکس مجھے ساری اصلیت معلوم ہو گئی ہے…”
“پھر بھی تم یہاں کیوں آئی ہو….؟”
“مدد کرنے….”
“مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے.. دفع ہو جاؤ یہاں سے.. اس سے پہلے کے میرے اندر کا شیطان جاگ جائے…”
“میں نہیں جا سکتی…” وہ دٹ گئی…
“کیوں نہیں اس دن تو آرام سے بھاگ گئی تھی…” اس نے طنز مار دیا..
“اس دن بات کچھ اور تھی.. آج کچھ اور ہے….”
“ہاہاہا… کیا نئی بات ہے اب..” اس نے طنزاً قہقہ لگایا…
“میں اب تمہیں پسند کرتی ہوں…” وہ یک دم بول گئی.. اور سامنے کھڑے ٹاور جیسے لڑکے کی بولتی بند ہو گئی.. وہ یک دم رستے سے کسکا..
تحریم اس کے بدلتے رویے سے حیران ہوئی.. بس اتنی سی بات کی وجہ سے اسکا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تھا… بغیر کچھ بولے وہ گھر کے اندر چلی گئی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 2

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: