Paiyal Ki ChanChan Novel by Insia Awan – Last Episode 6

0

پائل کی چھن چھن از انسیا اعوان -آخری قسط نمبر 6

–**–**–

کچھ دن بعد*
بہت سے دن گزر چکے تھے.. اور تحریم دل و جان لگا کر حزیفہ کی دیکھ بھال کر رہی تھی..
اسے کھانا بنا دیتی تھی.. اسکے ساتھ باتیں کیا کرتی تھی.. حزیفہ بھی کتنے وقت سے اسکے ساتھ نارمل تھا..
دن گزرنے کے ساتھ ساتھ تحریم کو تبسم بی بی کی باتیں سچ لگ رہی تھیں… حزیفہ اب ہائیپر ہوتا ہی نہیں تھا.. کیونکہ تحریم اسے ہائیپر ہونے ہی نہیں دیتی تھی…
آج تحریم نے سوچا ہوا تھا وہ اسے پیار سے دوائی پینے سے منع کرے گی.. شاید اتنے دن گزرنے کے بعد وہ اسکی بات مان جائے…
تحریم حزیفہ کے کمرے میں آئی.. وہ حسب معمول بیٹھا خود کو انجیکسن لگا رہا تھا…
“حزیفہ…”
“ہم… بولو…”
“میں نے تم سے بات کرنی ہے..” وہ تھوڑی سہمی ہوئی تھی..
“سن رہا ہوں…”
“میں کہہ رہی تھی کہ تم یہ دوائی لگانا چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟…” وہ دھیمے لہجے میں بولی..
“نہیں چھوڑ سکتا…”
“لیکن کوشش تو….”
“ایک بار آواز نہیں آتی کہا نہ نہیں چھوڑ سکتا…” وہ تھوڑا اونچا بولا…
“لیکن” وہ حزیفہ کے پاس آئی اور اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا..
“میرے لئے تو چھوڑ…..”
“نہیں چھوڑ سکتا کہا نہ تحریم…. ایک بات کیوں بار بار ریپیٹ کی جا رہی ہو…” اس نے یک دم ہاتھ میں پکڑی بوتل نیچے پھینک دی… اور شیشے کی بوتل ٹکروں ٹکروں میں بٹ گئی…
“کیوں کر رہی ہو میری اتنی فکر…” اس نے تحریم سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور صوفے پہ جا کر بیٹھ گیا…
تحریم خاموش تھی کیونکہ اسے عقل آ گئی تھی.. وہ جتنا آسان سمجھ رہی تھی اتنا یہ آسان نہیں تھا.. لیکن ایک بات تھی اس نے غصے میں تحریم کو نقصان نہیں پہنچایا تھا بلکہ دوائی کی بوتل پہ غصہ نکال دیا تھا….
تحریم کچھ کہے بغیر وہاں سے چلی گئی….
….…..
تحریم دوڑ کر اپنے کمرے میں آئی.. دروازہ کھولا اور لائٹ آن کی.. کسی نے عین اسی لمحے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا…
تحریم نے چیخنا چاہا لیکن اس کی آواز حلق میں رہ گئی..
وہ انجان بندہ منہ پہ ماسک لگائے اسے کھڑکی سے کسی اور ہی جگہ لے جانے لگا…
تحریم کی آنکھوں میں آنسو تھے.. ماں باپ کا چہرہ اسکی آنکھوں میں بار بار آ رہا تھا… وہ چیخ چیخ کر رونا چاہ رہی تھی لیکن بےبس تھی….
….…..
“تحریم… تحریم….” حزیفہ دوڑتا ہوا تحریم کے کمرے میں آیا…
“تحریم میں تم سے معافی…” اس نے جونہی دروازہ کھولا وہ اپنا جملہ مکمل نہ کر پایا.. اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
کمرے کی لائٹ آن تھی اور تحریم اسے کہیں نظر نہیں آ رہی تھی…
“تحریم تم کدھر ہو… تحریم…” وہ کمرے کا کونا کونا چھاننے لگا… لیکن تحریم کہیں نہ تھی…
“تحریم تم مجھے پھر چھوڑ کر چلی گئی….” وہ چلایا…
“تم نے مجھے پھر سے بےسہارا چھوڑ دیا…”
“یہ غصہ… اس کی وجہ سے تم ایک بار پھر چلی گئی..” وہ روتا روتا زمین پہ بیٹھ گیا تھا…
“تحریم تم کہاں ہو… میں پکہ اب نہیں کرونگا غصہ…”
“تحریم واپس آ جاؤ… پلیز واپس آ جاؤ” وہ کسی بچے کی طرح آنسو بہا رہا تھا……
“میری غلطی کی وجہ سے تم پہلے بھی چلی گئی… اب بھی…” تحریم کی غیر موجودگی اسے اندر سے توڑ رہی تھی…
“تحریم میں تمہیں تکلیف نہیں دونگا آئی پرامس…” اس نے چہرہ اوپر کیا… رونے کے باعث آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں…
“تحریییییممممممممم” اس نے فرش پہ زوردار مکہ مارا جسکی بدولت ہاتھ سے خون بہنے لگا…
“یہ دوائیاں…” غصہ اس کی آنکھوں میں ابھر آیا تھا.. وہ فوراً اپنے کمرے کی جانب دوڑا… جلدی میں دراز سے دوائیوں کی ڈھیر ساری شیشیاں نکالیں.. اور انکو باری باری توڑتا گیا…
“تمہاری وجہ سے میری تحریم دور ہوئی…”
“تمہاری وجہ سے میں نے اسے اذیت پہنچائی..”
“تمہاری وجہ سے میں نے… اپنے بیوی کا قتل کیا…”
“تمہاری وجہ سے میں پاگل ہوا…” وہ چیخے جا رہا تھا.. تحریم کی جدائی میں اسکا پیار پاگل پن پہ حاوی ہو رہا تھا….
“میں کیا کروں……تحریم لوٹ آؤ…” وہ کسی ٹوٹے ہوئے انسان کی مانند فرش پہ گرا تھا… ارد گرد پڑی لال رنگ کی دوائی خون جیسی لگ رہی تھی… اور وہ اسکے درمیان میں بیٹھا محبت میں بچھڑنے کا سوگ منا رہا تھا…
….
تحریم کے چہرے سے کسی نے بے دردی سے کالا کپڑا اتارا اور اس نے ارد گرد نظریں گھمائیں.. یہ جگہ جانی پہچانی تھی… یہ تو اسامہ کا عالیشان گھر تھا….
“او ہیلو سویٹ ہارٹ…” اسامہ نے اسکے گالوں کو چوہا…
“ڈونٹ ٹچ می…” تحریم نے چہرہ اُدھر کیا…
“بندھی ہوئی ہو.. پھر بھی اتنی اکڑ…” وہ تحریم کے بالکل پاس آیا…
“کیا چاہتے ہو تم…”
“زیادہ کچھ نہیں بس تم سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہوں..”
“بہت نرم دل ہے نہ تمہارا جو حزیفہ کی مدد کرنے کے لئے آگئی..” اسامہ نے اسکے بال کھینچے… “آآآ…”
“چیخوں اور چیخوں ابھی تو تمہیں بہت کچھ سہنا ہے… میرا پلان خراب کرنے چلی تھی…” اس نے اب تک تحریم کے بال پکڑ رکھے تھے….
“اتنی محنت سے یہ پلان بنایا تھا… کہ حزیفہ سے پڑاپٹی اپنے نام کروا لونگا.. وہ پاگل پن میں میرے نام بھی کر دیتا… لیکن تم کیوں آئی بیچ میں ہاں….؟” اس زوردار تھپر تحریم کے گالوں پہ دے مارا…. تحریم چیخی…
“سن لی تھی تمہاری باتیں.. حزیفہ اس دوائی کو چھوڑ دو…ہاہاہا… لت لگ گئی ہے اسے نہیں چھوڑ سکتا وہ… سمجھی…” وہ تحریم کے بالکل قریب آ کر دھاڑا تھا..
“سب کچھ پرفیکٹ تھا.. حزیفہ سے آج پراپٹی ہی نام کروانے آیا تھا.. پر تمہاری آواز سن کر میرا خون کھولنے لگا…”
“ایسے کیسے تمہیں اپنا پلان خراب کرنے دوں…” اس نے دوسرے گال پہ تحریم کو ایک اور تھپڑ دے مارا…
“حزیفہ دوائی کی اوردوز (over dose) سے مر جاتا.. اور اسکی ساری جائیداد میری ہو جاتی… لیکن تم نے کیوں ٹانگ اڑائی…”
“خیر ہے اسکا بھی حل ہے میرے پاس…” وہ تحریم سے پیچھے ہوا.. تحریم خوف کے مارے کانپ رہی تھی..
“مرنا تو تمہیں ہے ہی.. کیوں نہ میرے ہاتھوں مر جاؤ…” وہ دور ایک ٹیبل کے پاس گیا… اور ٹیبل سے چاقو اٹھایا…
تحریم کی نظر چاقو پہ اٹک گئی.. اسکے طوطے اڑ چکے تھے.. کوئی بچانے والا نہیں تھا وہ اب کیا کرتی…
“بہت اذیت موت دونگا تمہیں…پلان سننا چاہتی ہو…تو سنو”
“… پہلے چاقو سے تمہیں مختلف زخم دے کر تمہاری چیخیں انجوائے کرونگا…” اس نے زوردار قہقہ لگایا اور تحریم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے…
“پھر تمہارا گلا دبا دونگا…”
“اور پھر اس گھر کو آگ لگا کر سارے ثبوت مٹا دونگا اور یہ ثابت کرونگا کہ تم میری گرل فرنڈ تھی.. حادثاً گھر میں آگ لگنے کی وجہ سے.. تمہاری موت ہو گئی…” تحریم کے چہرے پہ خوف و حراس چھانے لگا… کوئی انسان اتنا بےرحم بھی ہو سکتا ہے…..
“کیسا پلان ہے میرا…؟” وہ یک دم چاقو لے کر تحریم کے قریب آیا..
“اچھا ہے نہ جانتا ہوں….” اس کے چہرے پہ شیطانی ہنسی تھی….
“چلو اب اسکو عملی جامہ تو پہنائیں…” اس نے چاقو کی نوک تحریم کی کلائی پہ رکھی….
“نہیں… نہیں…….” تحریم چلائی لیکن وہ رکا نہیں اور ایک پل میں اس کی کلائی پہ کٹ لگا دیا….. تحریم درد سے چیخی…
…..……
“تحریم تحریم… تم مجھے کیوں چھوڑ گئی تحریم…” حزیفہ کی آنکھوں میں آنسو اب تک تھے… تھوڑی دیر بعد اس نے خود کو قابو میں کیا اور کچھ سوچنے لگا…
“کیا پتہ وہ کچن میں ہو… کیا پتہ وہ باتھ روم میں ہو..اور آواز نہ گئی ہو…” وہ ایک امید لے کر پھر سے اٹھا…
پہلے کچن دیکھا لیکن اسے تحریم نظر نہ آئی پھر وہ دوبارہ کمرے میں آ گیا….
باتھ روم کا رخ کیا تو اسکی کھڑکی پہ نظر پڑی…
“یہ کھڑکی کیوں کھلی ہوئی ہے…” وہ کھڑکی کے پاس گیا اور اسکے پاؤں کے نیچے کچھ چبھا.. وہ رکا اور نیچے دیکھا…
“یہ تو تحریم کی گھڑی ہے…” اس نے گھڑی اٹھائی… گھڑی کے ٹھیک سامنے ہی اسے فٹ پرنٹس نظر آئے.. جو کھڑکی سے باہر کی طرف جا رہے تھے.. حزیفہ ان کا پیچھا کرنے لگا کچھ تو گڑبڑ تھی…
…..….
تحریم چیخے جا رہی تھی اور اسامہ قہقے لگا رہا تھا…
“ابھی تو صرف ایک زخم دیا ہے.. اور تم اتنا چیخ رہی ہو…”
“یہ لو اب دوسرا بھی دے دیا…ہاہاہا” اسامہ نے اسکی دوسری کلائی پہ ایک اور کٹ لگایا… تحریم درد سے چلائے جا رہی تھی..
“بہت ہوا تڑپانہ.. اب تمہارا کام تمام کرتے ہیں….” اس نے جونہی تحریم کے گلے کی طرف ہاتھ بڑھائے دونوں کے کانوں میں ایک آواز گونجی…
“اس سے آگے نہیں بڑھنا…..”
“حزیفہ….” اسامہ شاکڈ رہ گیا.. حزیفہ دوڑ کے اسامہ کے پاس آیا اور اسے ایک مکہ دے مارا…
“تھینکس گاڈ… حزیفہ تم آگئے” تحریم نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا…
“حزیفہ یہ تم کیا کر رہے ہو…” حزیفہ اسامہ کو لاتیں مکے مارے جا رہا تھا…
“حزیفہ یہ لڑکی فراڈ ہے… تمہارے ساتھ کھیل کھیل رہی ہے…” حزیفہ نے یک دم اسامہ کے کالر پکڑے..
“یہ لڑکی نہیں تم فراڈ ہو.. میں اب تمہاری باتوں میں نہیں آؤنگا.. ایک بار آ کر اپنی بیوی کو مارا ہے اب نہیں آؤنگا…” اس نے کھینچ کے اسامہ کے چہرے پہ طمانچہ دے مارا…
دونوں میں لڑائی شروع ہو گئی لیکن حزیفہ اسامہ پہ حاوی تھا… مار کھا کھا کر اسامہ بےہوش ہو کر نیچے گرا اور حزیفہ تحریم کے پاس آیا..
“آئی ایم سور تحریم… میں لیٹ ہو گیا…” اس نے فورًا تحریم کی رسیاں کھولیں…
“دیکھو کتنے زخم دے دئیے اس نے تمہیں…” حزیفہ نے تحریم کے دونوں ہاتھ پکڑے… وہ بےحد پریشان تھا…
“حزیفہ میں ٹھیک….”
“کہاں ٹھیک ہو… یہ دیکھو.. اِدھر سے بھی خون بہہ رہا ہے.. اُدھر سے بھی…”
“حزیفہ…شش…” تحریم نے حزیفہ کو چپ کروایا….
“آئی لو یو… حزیفہ….” تحریم کا اقرار سن کر حزیفہ کے چہرے پہ چار چاند لگ گئے..
“تحریممم…” اس نے تحریم کو گلے لگایا…
“آئی لو یو ٹو….”
“جانتی ہو…” اس نے تحریم کو اپنے سامنے کیا..
“کیا…”
“تمہاری جدائی میں میں نے ساری دوائیاں توڑ دیں.. اب وہ دوائی کبھی نہیں کھاؤنگا”
“ارے واہ…” تحریم کے چہرے پہ سمائل آ گئی…
“…تم اب مجھ سے شادی کرو گی نہ؟…” اس کے چہرے پہ ایک امید تھی…
“ہاں کیوں نہیں….” حزیفہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی…
“پھر چلیں….” حزیفہ نے ہاتھ آگے بڑھایا.. تحریم نے سوچے بغیر اپنا ہاتھ اسے تھما دیا… اور وہ دونوں اکھٹے اپنے سفر پہ چل دئیے….
….…..
تحریم اور حزیفہ تحریم کے گھر آ چکے تھے.. فاروق صاحب اور آسیہ بیگم رشتے پہ مان گئے تھے اور انکا نکاح بھی کر دیا تھا…
اب کچھ ہی دنوں بعد شادی تھی… حزیفہ کھڑا خود کے کپڑے سیٹ کر رہا تھا جب تحریم کمرے میں آئی…
“اوئے دروازہ ناک کر کے آتے ہیں…” وہ پیچھے مڑا…
“اچھا جی اب واپس جاؤں…؟”
“نہیں نہیں… مزاق کر رہا تھا…” وہ تحریم کے پاس آیا…
“اچھا پتہ کیا… آئم ایم ریلی سوری.. نہ جانے دوائی کے اثر میں تمہیں کیسی کیسی اذیتیں دیتا رہا…”
“اف دس بار بول چکے سوری.. بھول جائیں بیتی باتوں کو…”
“لیکن پتہ کیا میرا دل کرتا تھا تم چلی جاؤ تب ہی تم سے بار بار پوچھتا تھا کہ تم جاؤ گی کب.. کیونکہ میں تمہیں اذیت نہیں دینا چاہتا تھا..”
“آہاں…”
“ہاں لیکن تم جانے کے موڈ میں ہی نہ تھی.. اسلئیے میرا بھی دل روکنے کو دل کر گیا تب ہی وہ روح والا ڈرامہ رچایا..پر سب الٹا ہو گیا…” اس کی آواز میں مایوسی تھی
“اب تو ہو گیا…ویسے اچھی کب لگی تھی؟…” تحریم نے اسکا دھیان بٹانا چاہا…
“جس دن پہلی بار دروازہ کھٹکھٹانے پر تمہیں دیکھا.. تمہارے بال اتنے اچھے لگے تھے.. اور پھر جب تم نے یہ بتایا کہ تمہیں دھوکا ملا تو مجھے میری ماں کی کہانی یاد آئی..انہیں بھی دھوکا ملا تھا نہ… پھر اس کے بعد میں تمہاری طرف کھچا چلا گیا…”
“اوئے ہوئے…” تحریم نے حزیفہ کو چھیڑا…
“حد ہے چلو شاپنگ پہ چلیں..” وہ چڑ کے بولا….
“ہاہاہا.. چلیں…” دونوں ہنستے مسکراتے کمرے سے باہر چلے گئے… دونوں کی ایک نئی زندگی شروع ہو گئی تھی… حزیفہ بالکل ٹھیک ہو چکا تھا اور تحریم کی پریشانیاں بھی دور ہو گئی تھیں…

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: