Pak Daman By Hijab Rana – Episode 3

0
پاک دامن از حجاب رانا – قسط نمبر 3

–**–**–

مجھ پر تہمت مت لگاؤ
میرا کردار تو پاک دامن ہے
میں ہوں حوا کی بیٹی
مجھے بھی حساب دینا ہے
آ منہ جیسے ہی کینٹین گئی پیچھے سے کسی نے آکر ہائے کہا آمنہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ کون ہے۔
اس کے سامنے کوئی کھڑا تھا۔
کون؟ آمنہ نے پوچھا۔
عمر جس سے آپ کی دوست کی صبح ٹکر ہوئی تھی اور آپ نے مجھ معصوم کو اچھا خاصا سنا دیا تھا۔
میں بہت شرمندہ ہوں غلطی میری تھی میں بہت شرمندہ ہوں ۔
کوئی بات نہیں جانے د یا آپ بھی کیا یاد رکھیں گے آمنہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
اور سناؤ آپ یہاں کیا کر رہی تھی عمر نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
کچھ نہیں بس کلاس میں بور ہو رہی تھی اس لیے باہر چہل قدمی کرنے آگئی تاکہ بوریت دور ہو جائے آمنہ نے بالوں کو ہاتھ میں گھماتے ہوئے جواب دیا۔
ہماری سوچ کتنی ملتی ہے عمر نے اپنے نمبر بناتے ہوئے کہا۔
ملتی ہوگی” آمنہ نے جواب دیا۔
چلو میں چلتی ہوں لیکچر کا وقت ہوگیا ہے یہ کہتے ہوئے آمنہ کلاس کی جانب آگے بڑھنے لگی۔
سنو ! عمر نے پیچھے سے آواز دی آپ بہت نائس ہوں اور آپ سے بات کر کے اچھا لگا ۔
کیا بات ہے اتنی جلدی لوگ میرے فین ہو جاتے ہیں یہ بات مجھے تو پتا ہی نہیں تھی یہ کہتے ہوئے کلاس کی جانب چل دی ۔
کہاں رہ گئی تھی تم عروج نے آ تے ہی پوچھا ۔
وہ کیا کہتے ہیں کوئی مل گیا بس میرا دل گیا ۔
فضول باتیں مت کرو آمنہ ،عروج نے ڈانتے ہوئے کہا۔
وہ عمر مل گیا تھا ۔
کون عمر؟ عروج نے حیرانی سے پوچھا۔
وہی جسں سے صبح تمہاری ٹکر ہوئی تھی۔۔
اچھا اب بیٹھ جاؤ سر آنے والے ہیں۔
اوکے میڈم یہ کہتے ہوئے آمنہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج جیسے ہی گھر میں پہنچی گھر میں گہما گہمی کا سماں تھا۔
خیریت آج سب موجود ہیں اور گھر میں گہماگہمی عروج نے بیگ رکھتے ہوئے ہی پوچھا۔
جی میڈم آئیے آپ کا ہی بس انتظار ہو رہا تھا عروج کے بھائی عمر نے جواب میں کہا۔
خوشی کی بات ہے بیٹا عروج کی طرف دیکھتے ہوئے عروسہ نے کہا ۔
واہ! مجھے تو خوشی کا بتاتے نہیں ہو عروج نے منہ بسورے کہا۔
اوہ میری چٹکی ادھر تو بیٹھو میرے پاس آکر عمر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ماما دیکھ لیں بھائی کو اب بھی اسی نام سے بلاتا ہے۔
جانے دو تم عمر کی باتوں کو عروسہ نے بیٹھتی ہوئی عروج کو کہا۔
آج ہم تمہارے بھائی کا رشتہ پکا کرنے جا رہے ہیں
کیا رشتہ پکا کرنے جا رہے ہیں اتنی بڑی بات آپ لوگ نے مجھ سے چھپائی ہوئی تھی عروج ایک دم کھڑے ہوتے بولی۔
اور بھائی آپ اتنی جلدی لڑکی بھی پسند کرلی ابھی جمعہ جمعہ آ ٹھ دن نہیں ہوئے فیکٹری جاتے عروج نے ہنستے ہوئے کہا۔
آپ لوگوں نے مجھ سے چھپائی۔
تمہارے بھلا ہم کچھ کر سکیں اتنی مجال ابھی کہاں ہوگئ ہماری چٹکی عمر نے ہنستے ہوئے کہا۔
بھائی بعض آجائیں عروج نے کشن اچھالتے ہوئے کہا۔
تھوڑی دیر تک ہمیں نکلنا ہے چلو عروج تیاری کرو اور مجھے بھی کام ہیں یہ کہتے ہوئے عروسہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
اوکے میں بھی جاتی ہوں بھیا ٹوٹ بٹوٹ ہاہاہا کہتے ہی اپنے کمرے میں تیار ہونے کے لئے چلی گئی۔
کمرے میں جاتے ہی عروج کپڑوں کی الماری کھول کر کھڑی ہوگئی
ہائے!
اللہ کیا پہنو کیا نہیں کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی اس نے ایک سفید رنگ کا فراک نکالا جو اسے بہت پسند تھا۔
اسنے جیسے ہی فراک دیکھا اسکے بازو ہاف تھے۔
اسے میںم عشرت کے بات یاد آگئی ۔
کہ تمہارا لباس ایسا نہیں ہونا چاہیے جو آپ کے اعضاء کو ظاہر کرے یہ بات اللہ تعالی کو بالکل پسند نہیں ہے قرآن پاک میں یہ بات واضح طور پر موجود ہے”
اس نے سوچتے ہوئے وہیں پر واپس رکھ دیا۔
اور گلابی رنگ کا سادہ سا فل بازوؤں والا فراک نکالا سفید ٹراؤزر جس کے ساتھ تھا اور سفید دوپٹہ
ہلکی سی لپسٹک لگائی اور ہیل والا جوتا پہننے لگی۔
عروج کدھر رہ گئی جلدی آؤ عروسہ نے گیٹ کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
جی آگئ ماما عروج نے دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے کہا۔
عروج خیریت ہے عمر نے عروج کی طرف ایک نظر دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
کیوں بھائی کیا ہوا عروج نے آہستہ سے پوچھا۔
عروج میرا رشتہ طے کرنے جا رہی ہوں کہیں ختم پاک پر نہیں جارہی جو ایسے کپڑے پہن کر تیار ہوئی
بے ڈھنگی سی لگ رہی ہو ۔
اوہ اچھا جی نہیں آپکی کوئی عزت کم ہوتی میرے ان کپڑوں سے رشتہ آپ کا ہو رہا ہے میرا نہیں اب چلیے پھر کہیں گے میں نے دیر کروادی لڑکی والے رشتہ سے انکار کردیں اور آپ منہ لٹکاتے پھریں گے ہاہاہا یہ کہتے ہی گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی۔
کیا حناء کو بھی اسکے گھر والے یہی کہتے ہوں گے عروج سوچنے لگی۔
حالانکہ میں نے تو لباس ہی بدلا ہے۔
کبھی کبھی دل کتنا سکون میں آجاتا ہے جب اللہ کی سنو۔
میم کی باتیں دل پہ لگی تھی
کمال کا لیکچر تھا۔
کتنی پر سکون زندگی ہوگی نا میم کی بھی اسلام پہ چلنے والوں کی زندگی ہو تی ہی پر سکون ہے ۔
عروج ابھی اپنی سوچوں میں گم تھی ۔
عروج اسکی ماما نے آواز دی مگر وہ اپنی سوچوں میں گم تھی۔
عروج پھر عروسہ نے بازو پکڑ کر ہلایا ۔
جی ماما عروج نے اچانک ہلانے پر جواب دیا ۔
کدھر گم ہو ۔
آدھے گھنٹہ بعد اس کے بھائی نے گاڑی ایک گھر کے سامنے روک دی تھی اسے پتا نہ چلا وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔
عروج اب اترو نیچے ہم پہنچ گئے۔
ہمم جیسے ہی عروج اتری سامنے وہی لڑکا نظر آیا۔
تو اسکے منہ سے اچانک نکلا عمر یہاں ہم اسکے گھر آئے ہیں۔
اسلام علیکم!
عمر نے آگے بڑھ کر سلام کیا میں آپ لوگوں کا ہی انتظار کر رہا تھا ۔
اوہ سوری بیٹا تھوڑا ٹریفک کی وجہ سے لیٹ ہو گئے عروسہ نے جواب میں کہا۔
اور چاروں پھر عمر کے ساتھ اندر چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت کدھر ہو جی اماں جنت نے کتاب بند کرتے ہوئے جواب دیا یہ لو کھیر کی پلیٹ ثانیہ کے گھر دے آؤ کھیر کی پلیٹ آگے کرتے ہوئے فاخرہ کہنے لگی۔
اماں میں نہیں جاتی کسی بچے کو بھیج دو جنت نہ منہ بناتے ہوئے جواب دیا ۔
اب میں کس کس کی منت کرتی پھروں گی۔
چل اٹھ اور جا۔
جنت کی ماں جنت کو ہاتھ میں پلیٹ دے کر کمرے سے باہر چلی گئی۔
جنت نے ایک چھوٹا سا دوپٹہ لینے کی بجائے بڑی چاڑ چادر اوڑھ لی ۔
ہائے! اللہ
وہ سامنے نہ آجائے سوچتے ہوئے گھر سے باہر گھر سے باہر نکل پڑی۔
ابھی وہ گلی کے درمیان میں ہی پہنچتی تھی کہ راستے میں ارسلان آتا دکھائی دیا۔
آپ کدھر جارہی ہیں جنت جی ارسلان نے پوچھا
وہ میں ثانیہ کے گھر جا رہی تھی چلں میں بھی چلتا ہوں آپ کے ساتھ۔
میرے ساتھ مطلب “
جنت نے معصومیت سے پوچھا” آپ آگے چلیں میں آپ کے پیچھے آتا ہوں.
اوکے جنت آگے کی طرف چل پڑی ۔
سامنے گلی کے کونے میں ہی رئیس کھڑا تھا۔
اس کے قدم وہی رک گئے تھے۔
کیا ہوا جنت ارسلان نے پوچھا۔
تم چل کیوں نہیں رہی رک کیوں گئی۔
چل رہی ہوں آ ہستہ سے قدم اٹھاتے ہوئے بولی۔
جیسے ہی جنت رئیس کے سامنے پہنچی ۔
اس نے جنت کا گھورا۔
جنت کو اس کی نظروں سے وحشت ہوئی۔
اور خوف آرہا تھا ۔
وہ اپنے غصے پر کنٹرول نہ کر سکا اور سامنے آگیا کتنی بے شرم لڑکی ہو تم کسی غیر مرد کے ساتھ کیسے پھیر رہی ہو ۔ایک ایسا لڑکا جسے تم جانتی بھی نہیں ہو۔
بھائی اپنی زبان سنبھال کر بات کریں آپ یوں کسی کو جانے بنا اسکے کردار پر انگلی نہیں اٹھا سکتے اب ارسلان نے جواب دیا تھا۔
چپ کرو تم جن کے گھر آئے ہو وہی ہو کر رہو۔
میرے سامنے زیادہ بک بک کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہی اپنی زبان کو لگام لو۔
رئیس نے غصہ میں جواب دیا۔
کیا مسئلہ ہے رئیس میری مرضی ہے تم ہوتے کون ہو مجھ پر بات کرنے والے تمہارا کونسا میرے ساتھ رشتہ ہے میں کہاں جاؤں کہاں نہیں یہ میری مرضی ہے تم اس کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔
رئیس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ جنت ایسا کہہ رہی تھی وہ ڈرپوک سی دکھتی تھی۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو ۔
مجھے فرق نہیں پڑتا تم میرے بارے میں کیا سوچتے ہو کیا نہیں ۔
چلو ارسلان یہ کہہ کر جنت سائیڈ گزر گئی۔
رئیس کو دھچکا سا لگا اور وہ پیچھے ہٹ گیا اس کے الفاظ اس پر بجلی کی طرح برس رہے تھے میں تو اس کی بھلائی کے لئے کہا تھا اور یہ لڑکی پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتی ہے دیکھنا تم جنت ایک دن تمہارے یہی الفاظ تمہیں واپس لوٹاؤں گا تمہارے غرور کو خاک میں ملا دوں گا۔
یہ کہتا ہوا رئیس اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تو بہت تھک گئی عروج نے آتے ہی کہا اور بیڈ پر لیٹ گئی۔
موبائل پرس سے نکالا۔
آج موبائل دیکھنے کا وقت ہی نہیں ملا جیسے ہی اس نے فیس بک چلائی سامنے کسی کی فرینڈ ریکویسٹ تھی اس نے جیسے ہی اوپن کی تو سامنے عمر کی فرینڈ ریکویسٹ تھی۔
عمر کی ریکویسٹ اس نے حیرانی سے کہا۔
بھلا یہ کیوں مجھے بھیج رہا ہے میں تو ڈیلیٹ کر دیتی ہوں۔
فوراً انگلی کنفرم پر لگ گئی۔
اور وہ اس کی فرینڈ لسٹ میں شامل ہوگیا ۔
اوہ ابھی اسے انفرینڈ کرتی ہوں۔
ابھی وہ انفرینڈ کرنے ہی والی تھی۔
فوراً سکرین پر میسج جگمگایا۔
اسلام علیکم!
اب اس کو میں کیا جواب دوں پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے وہ بھی انہیں سوچوں میں گم تھی۔
سوچ کیا رہی ہو جواب تو دو سلام کا جواب دینا تو بنتا ہے ہے۔
عمر کی طرف سے پھر میسج تھا۔
وعلیکم اسلام!
عروج نے میسج ٹائپ کرکے موبائل آف کرکے سائیڈ پہ رکھ دیا
۔صبح عروج کی آنکھ تھوڑا دیر سے کھلی ۔
اللہ لیٹ ہوگئی جلدی جلدی تیار ہوئی اور یونیورسٹی کے لیے نکل گئی عروج ناشتہ تو کرتی جاؤ عروسہ نے عروج کو کہا۔
نہیں مما میں لیٹ ہو رہی ہوں آج میں یونیورسٹی میں ہی کھا لوں گی یہ کہتے ہیں چل پڑی۔
جیسے ہی یونیورسٹی پہنچی ۔
سب سٹوڈنٹس کلاس میں تھے۔
آمنہ بھی اپنی جگہ پر بیٹھی تھی۔
کدھر رہ گئی تھی عروج کب سے انتظار کر رہی تھی۔
آمنہ نے دیکھتے ہی پوچھا۔
وہ بس آنکھ نہیں کھلی تھی۔
یہ کہتے ہوئے اپنی جگہ بیٹھ گئی۔
اتنے میں میم عشرت کلاس میں داخل ہوئیں۔
اور سلام کیا ۔
گرم جوشی سے سب نے جواب دیا۔
سٹوڈنٹس کیسا لگا تھا لیکچر؟
میم بہت اچھا لگا تھا حناء نے جواب دیا۔
اوکے شروع کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے میم بورڈ کی جانب متوجہ ہو گئ۔
کتنا نالج ہے نا میم کے پاس عروج نے سوچتے ہوئے کہا۔
اور دین دار بھی ہیں۔
میرے جیسی تو کچی نمازوں کی مالک ہے۔
پکے وعدوں کی ادھوری لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج میم کی طرف دیکھ رہی تھی آج تو میم بہت دلکش اور جاذب نظر لگ رہی ہیں عروج نے سوچتے ہوئے کہا۔
ان کی زندگی کتنی خوشگوار ہوگی اور بہت پرسکون ہوگی عروج سوچتے ہوئے کہنے لگی۔
سٹوڈینٹس پردہ ہمارے لباس کا بہت اہم حصہ ہے بلکہ یوں کہیے ہمارا لباس ہمارا پردہ ہے۔
اس طرح سورۃ نور میں دوپٹہ لینے کے بھی بات آئی ہے دوپٹہ سر ڈھانپنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اس طرح اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ کسی کے سامنے جسم کی ساخت ساتھ ظاہر نہ ہو ۔
اس طرح ہمیں چاہئے دوپٹہ اس طرح لیں کہ جسم کا کوئی بھی حصہ نمایاں نہ ہو ۔
اس طرح دوپٹہ لباس کے ساتھ بہت ضروری ہے۔
کسی غیر محرم کے سامنے اوڑھنی، چادر اور دوپٹہ سے اپنے سر اور کمر کے ساتھ اپنے گریبانوں کو بھی چھپایا جائے۔
اسلئے دوپٹا لینے کی پابندی سے صرف وہ بوڑھی عورتیں مستثنیٰ ہیں جو نکاح کی عمر سے گزر گئی ہیں اگرچہ اس کے لئے بھی وہی حکم ہے وہ بھی اہتمام کرے “
سورۃ نور “
اب اب آجکل دوپٹہ کو آ رائش کے طور پر لیا جاتا ہے مگر اس کا اصل مقصد تو جسم کو چھپانا ہے”
بناؤ سنگھار کا بھی واضح رہے اس طرح کہا گیا ہے کہ جو صرف محرم کے سامنے کرکے آنا چاہیے ۔”
اس میں محرم رشتے بھائی بھتیجے، بھانجے بھائی شوہر،سسر،شوہروں کے بیٹے یہ سب محرم ہیں۔
اس طرح عورتوں کا ذکر ہے جو میل جول کی عورتیں ہیں جن سے آپکی جان پہچان ہو جیسا کہ آپکی ہمسائی ہو ان کے سامنے بناؤسنگھار جائز ہے ۔
ایسی عورتیں ہوں جن کو آپ جانتے تک نہیں ان کے سامنے زینت نہیں دکھانی چاہیے۔
عورتوں میں جو اچھی عورتیں ہوں انھیں اپنا بناؤ سنگھار دکھانا چاہئے”
جو دوسری عورتیں جن کا معلوم نہیں کون ہے کس قماش کی ہیں یا کہتے ہیں جو باہر جاکر دوسروں کے سامنے تذکرہ کریں یا باہر جاکر باتیں کریں گی ان سے پردہ کرنا جائز ہے۔
بس چہرہ دکھانے کی اجازت ہے ۔
عروج کے دل پر ایک ایک بات اثر انداز ہو رہی تھی وہ ایک ایک لفظ کو توجہ سے سن رہی تھی ۔
اسلئے اسنے دوپٹہ کو اپنے گلے سے اتار کر سر پر لے لیا تھا “”
آمنہ حیرانی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی مگر عروج نے اگنور کیا اور میم کی طرف متوجہ ہو گئی۔
یہ بات جائز نہیں اس طرح ایک جگہ آتا ہے،
“””””وہ اپنے پاؤں زمین پر نہ مارتی ہوئے چلا کریں کہ اپنی زینت چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے “”””””
یہ احتیاط گھر میں بھی کرنا چاہیے کیوں کہ گھر میں اور رشتہ بھی موجود ہوتے ہیں دیور وغیرہ اور اوپر محرم رشتوں کے بارے میں بھی میں نے بتا دیا ہے۔
بازار میں تو حکم کا درجہ رکھتا ہے وہاں بہتر ہے کہ زیورات پہن کر نہ جائیں۔
جس طرح چوڑیاں٫پازیب تیز عطر،پرفیوم لگا کر جاتے ہیں نامحرم آدمی متوجہ ہوں ہیں۔
اس طرح آیا ہے۔
“””” اے مومنو تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو توقع ہے فلاح پاؤ گے”””
اگر ماضی میں ایسا نہیں کر رہے تو اب مستقبل کے لیے پکا ارادہ کر لو آپ کا مستقبل تو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
اور یہ دعا کرو کہ اللّہ کے حکم پر عمل کریں گے آمین ۔
جیسے ہی میم نے آمین کہا پوری کلاس تالیوں سے گونج اٹھی تھی۔۔
عروج ابھی اپنی ہی سوچوں میں ہی گم تھی۔
تالیوں کی گونج پر وہ چونک گئی”
ایک آخری بات میم نے تالیوں کی بند ہوتے ہی کہا۔
عورتوں کو اپنے پردے کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ چہرے کا پردہ شامل اس میں شامل نہیں ہے۔
مگر معاشرے میں فتنہ کے ڈر سے چہرے کے پردے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس لیے پردے میں داخل ہوجاتا ہے۔
میم آپ سے سوال ہے حناء نے مداخلت کرتے ہوئے کہا ۔
اب اس کے بولنے کی کمی رہ گئی تھی آمنہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
میم اگر آپ حدیث کے ذریعے کچھ پردے کے بارے میں بیان کریں۔
محرم یا نا محرم رشتوں کے لحاظ سے جیسا کہ دیور “”
کیوں نہیں میں ضرور اس بات کی وضاحت کروں گی میم عشرت نے شائستگی سے جواب دیا۔
حدیث کچھ یوں ہے !
نبی کریم صلی اللہ وسلم نے فرمایا ہے”
“”” تم عورتوں کے پاس جانے سے اجتناب کرو”””
تو ایک انصاری شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم جو ذرا خاوند کے قریب مرد یعنی دیور ہو اس کے متعلق تو ارشاد فرمائیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
“””” دیور تو موت ہے”””
( صحیح بخاری حدیث نمبر 5232 صحیح مسلم حدیث 21 72 )
ہمیں ہر نا محرم رشتوں سے دوری اختیار کر نی چاہیے۔
اوکے آجکا لیکچر یہی ختم ہو امید ہے آپ لوگوں کو اچھے سے سمجھ آئی ہوگی۔
یہ کہتے ہوئے میم عشرت کلاس سے چل دی۔
پوری کلاس پھر سے تالیوں سے گونج اٹھی تھی۔
ساری کلاس میم کو تشکر بھری نگاہوں سے خدا حافظ کہہ رہے تھی ۔
آج تو بہت پرسکون ہو گئی میں آمنہ ،عروج نے آمنہ کی طرف دیکھتے ہی کہا۔
اچھا میں تو باہر جا رہی ہوں تم نے آنا ہے آ جاؤ ورنہ میں تو چلی۔
یہ کہتے ہوئے آمنہ کلاس سے باہر چلی گئی۔
عروج اٹھ کر حناء کی طرف چلی گئی ۔
حناء ایک بات تو بتاؤ۔
جی کہیے !
حناء نے آہستہ سے کہا
میم نے آتے ہی اس دن تمہارا نام کیوں لیا تھا ۔
عروج نے ہاتھ میں بال پوائنٹ گھماتے ہوئے پوچھا۔
میم عشرت کی بات کر رہی ہیں آپ عروج ؟؟؟
حناء نے عروج کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جی وہ میری بہن ہے
کیا بہن ؟؟
جی جی۔
جی بہن ! صحیح سنا آپ نے”
تبھی تو دونوں اسلامی ہیں عروج نے سوچتے ہوئے کہا۔
اچھا ایک اور سوال سوال پوچھوں؟؟
جی پوچھیے عروج حناء نے نظریں جھکائے کہا ۔
آپ عالمہ ہیں؟؟؟
مطلب؟؟ آپ کا اس سے عروج”
جیسا کہ آپ کا پہناوا ہوتا ہے آپ پردہ کرتی ہیں آپ کے اندر بہت شائستگی ہے ۔
اسلام کے مطابق چلتی ہیں ایسا تو عالمہ ہی کرتی ہیں۔
نہیں یہ کہاں لکھا ہے حناء نے جواب دیا
جو پردہ کریں اور تھوڑی بہت کوشش اللہ کے احکامات کو پوری کرنے کے لئے کریں ۔
اس سب کے لیے عالمہ ہونا ضروری نہیں ہے۔
عالمہ ہی نہیں کرتی یہ تو اللہ کے احکامات ہیں جو ہر مسلمان پر فرض ہوتے ہیں انہی کی پیروی کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور امت مسلمہ کا فرض ہے ۔
تم صحیح کہہ رہی ہو یہ کہہ کر عروج اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئی ۔
کبھی کبھی زندگی بھی کتنی الجھنوں کا شکار ہوجاتی ہے ۔
یہ سوچتے ہیں اس کا اچانک دماغ عمر کی جانب چلا گیا اس نے بھلا مجھے میسج کیوں کیا ہو گا ۔
میں کیوں سوچنے لگی ایک نامحرم کے بارے میں یہ کہتے ہی کتاب کے صفحات پلٹنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو! آمنہ عمر نے گراؤنڈ میں آتے ہی آمنہ کی جانب ہاتھ بڑھایا ۔
اوہ ! آپ آمنہ نے بھی آگے ہاتھ کردیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابدال جو دور کھڑا سب دیکھ رہا تھا اسے غصہ آرہا تھا عمر پہ اور سوچتے ہوئے کہنے لگا۔
کلاس میں کیا تھکتا نہیں لڑکیوں سے تعریفیں لیتے ہوئے اب پھر شروع ہوگیا۔
گھٹیا انسان یہ کہتا ہوا کلاس میں چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آمنہ ایک بات کہوں ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے عمر نے کہا ۔
جی کہیے آمنہ نے عمر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
مجھے ساری رات بس نیند نہیں آئی۔
کیوں آمنہ نے حیرانی سے پوچھا۔
ساری رات بس آپکا خیال رہا سوچتا رہا آپ کتنی اچھی ہو جلد ہی گھل مل جاتی ہو۔
معصوم ہو بہت پیاری سی ہو۔
ہاہاہا اچھا جی آمنہ نے جواب دیا ۔
آمنہ یوں کسی کا مزاق نہیں اڑاتے یقین کرو میرا ۔
بس آپ جیسی معصوم لڑکی دوست بن جائے ۔
اوکے عمر جی سوچ کر بتاؤں گی یہ کہتے ہوئے کلاس میں چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واہ عمر واہ کیا بات ہے تیری خود کی تعریف کرتے ہوئے کہنے لگا۔
لڑکیاں کتنی معصوم ہوتی ہیں بس انکے تو تعریفوں کے پل باندھ دو فوراً پگھل جاتی ہیں
بےوقوف لڑکی کہی کی یہ کہتے ہوئے کلاس میں چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں آپ سے بات کرنی ہے میں نے رئیس نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
کہو رئیس کنزہ نے کپڑے استری کرتے ہوئے کہا۔
اماں مجھے شادی کرنی ہے.
کیا کہا شادی ؟
پاگل ہوگیا ہے رئیس ۔
اماں پاگل ہونے کی کیا بات ہے بس کہہ دیا جو کہہ دیا ۔
اچھا کس سے کرنی ہے کنیز نے استری بند کرتے ہوئے کہا۔
وہ اماں جنت سے رئیس نے نظریں جھکائے ہوئے کہا
کیا کہا جنت وہ کیوں دینگے تجھے رشتہ وہ بہت پڑی لکھی ہے اور تم آٹھ پاس نا کام کے نا کاج کے بس نہیں کرنی نکال دے یہ خیال دل سے دوبارہ یہ بات نا کرنا۔
اماں ہوگا وہی جو میں چاہتا ہوں دیکھتے ہیں کیسے نہیں کرتے آپ لوگ یہ کہتے ہوئے کمرے سے چلا گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: