Pak Daman By Hijab Rana – Episode 4

0
پاک دامن از حجاب رانا – قسط نمبر 4

–**–**–

مجھ پر تہمت مت لگاؤ
میرا کردار تو پاک دامن ہے
میں ہوں حوا کی بیٹی
مجھے بھی حساب دینا ہے
عروج نے گھر پہنچتے صوفہ پر بیگ رکھا اور وضو کرنے چلی گئی۔
ماما آج خیریت تو ہے عروج کو عمر نے عروج کی طرف دیکھتے ہی پوچھا۔
عروج نے دوپٹہ سر پے لئے اور وضو کئے کہا جی بھائی سب خیریت ہے آپ ایسا کیوں پوچھ رہے ہو ۔
تمہارے اندر یہ تبدیلی دیکھ کر تو سب ہی پوچھیں گے۔
بھائی جب ایک بھٹکا ہوا انسان راہ راہ پر آتا ہے تو سب کو تبدیلی لگتی ہے “
ٹھیک کہہ رہی ہے میری بیٹی عروسہ نے عروج کی بات ہو سراہتے ہوئے کہا۔
بھائی ایک بات تو بتائیں زندگی پرسکون کیوں نہیں ہوتی اور وہ صوفہ پر بیٹھتے ہی بولی”
پرسکون مطلب عروج کیا پوچھنا چاہ رہی ہو ۔
بھائی ہمارے پاس کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے اللہ کا دیا سب کچھ ہے ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں لیکن پھر بھی دل پر ایک بوجھ رہتا ہے ایسا لگتا ہے سکون نہیں ہے۔
اصل سکون تو کہیں اور ہی چھپا ہے عروج بیٹا احمد نے گیٹ میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
بابا آپ آج جلدی آگئے خیریت تو ہے ۔
آج بس وہ کالج میں کام کچھ کم تھا اس لیے آ گیا ۔
کیونکہ عروج کے بابا ایک پرائیویٹ کالج کے پرنسپل تھے۔
جی بابا کیا کہہ رہے تھے آپ عروج نے تجسس بھری نظروں سے پوچھا۔
عروج بابا کو بیٹھنے تو دو عمر نے عروج کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
کوئی بات نہیں بیٹا احمد نے صوفہ پر براجمان ہوتے ہوئے عمر کو کہنے لگے۔
بیٹا کہنے کو تو سکون بہت چھوٹا لفظ ہے لیکن اس کی تلاش سب کو ہے”
ملتا بس اسی کو ہے جو ڈھونڈتا ہے جو اس کی تلاش میں دن رات رہتا ہے ۔
بابا سکون تلاش کیا ہوتی ہے عروج اپنے دونوں بازو سینے پر باندھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
بیٹا عبادت اللہ کی عبادت اس پاک ذات کی عبادت اور اس کے نبی کی اطاعت میں ہے”
جو انسان اللہ کی عبادت کو اپنی زندگی کا اہم ترین حصہ بنا لیتا ہے ذہنی سکون کی تلاش ختم ہو جاتی ہے وہی تلاش سکون ہوتا ہے جب جب اللہ کا قرب انسان حاصل کر لیتا ہے تو انسان اپنی منزل پا لیتا ہے یہ کوئی آسان نہیں ہے جیسا کہ ہم اپنی زندگی میں اپنے مقصد تک پانے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں اسی طرح سکون کو پانے کے لئے بھی اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ضروری ہوتا ہے “”
یہی بات ہے بابا عمر نے اپنے بابا کی بات کو سراہتے ہوئے کہا۔
عروج ایک اور بات”
جی بھائی عروج نے صوفہ سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا ۔
اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ہو جاتا ہے جو اللہ کی مرضی کے مطابق چلتا ہے۔
اللہ کی مانتے ہیں اللہ پھر ان کو رسوا نہیں ہونے دیتا اور ان کے ساتھ ہر پل ہر گھڑی موجود رہتا ہے “
جو اللہ کی مانتے ہیں اللہ ان کے ساتھ قدم قدم پر ہوتا ہے چاہئے آپ زندگی کے جس بھی موڑ پر کھڑے ہو اللہ کا ساتھ ہمیشہ ہوتا ہے “
شکریہ بابا اور بھائی مجھے اپنے سوالات کے جوابات مل گئے بہت سی الجھنیں میری سلجھ گئی یہ کہتے ہوئے عروج اپنے کمرے کی جانب چل پڑی اور جاتے جاتے یہ الفاظ دہرانے لگے
“””””میری شدتیں ہیں بے انتہا میری شدتوں کو خدا ملے
میرا درد ہے بے زباں میرے درد کو زباں ملے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابدال کیا ہوا بیٹا جو بیڈ پر تکیے سے ٹیک لگائے سینے پر بازو باندھے اور آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹا ہوا تھا۔
ناہید نے کمرے میں داخل ہوتے ہی پوچھا۔
جیسے ہی وہ اس کے سامنے سے گزر رہی تھی اس کو ابدال پریشان دکھائی دیا۔
جی ماما آپ ابدال نے آنکھیں کھولتے ہی کہا۔
کیا ہو ابدال پریشان کیوں ہو ؟؟؟
کچھ نہیں مما بس ایسی کوئی بات نہیں ابدال نے آہستہ سے جواب دیا ۔
بیٹا میں ماں ہوں آپ کی ماں تو اولاد کا چہرہ دیکھ کر سب دل کے حال جان لیتی ہے۔
چلو شاباش بتاؤ اداسی کی کیا وجہ ہے۔
مما میرا ایک کلاس فیلو ہے پتا نہیں اپنا ہی رعب مجھ پر ڈالے رکھتا ہے اب سر نے مجھ پر کلاس کی ذمہ داری سونپی ہے وہ مجھ پر طنز کرتا ہے۔
ابدال نے روہانسا ہو کر کہا۔
بیٹا اتنی سی بات پر پریشان ہونے کی کیا بات ہے ایسی باتوں کو برداشت کیا جاتا ہے اور لوگوں کو بھی برداشت کیا جاتا ہے””
ماما آخر کب تک ہم کسی کو برداشت کرسکتے ہیں ایک چیز کی حد ہوتی ہے ابدال نے بیٹھتے ہی کہا۔
بیٹا آپ کو ایک واقعہ یاد ہے”
کونسا ماما ابدال نے اپنی ماما کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا”
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا پیغام لے کر طائف گئے تھے انہوں نے اوباش لڑکے پیچھے لگا دیے تھے اور جنہوں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو پتھر مار کر لہولہان کردیا تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کیا تھا اور اپنی زبان مبارکہ سے کچھ بھی نہیں کہا تھا””””
کم سے کم ہمیں نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی ذات مبارکہ سے کچھ سبق حاصل کرنا چاہئے “
البتہ ہم مکمل ان کی تعلیمات پر عمل پیرا تو نہیں ہو سکتے ہیں تھوڑی بہت تو کوشش کر سکتے ہیں۔
مگر ہم لوگ کیا کرتے ہیں اگر کوئی ایک بات کہے تو ہم اسے چار سناتے ہیں اور لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔
اور بیٹا اللہ پر بھروسہ رکھو بس وہی آپ کے ساتھ ہیں نا آپ کے لئے یہی کافی ہونا چاہیے ۔
اور لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرنا سیکھو۔
سمجھ گئے نا بیٹا ناہید نے اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
جی مما شکریہ آپ کا آپ نے میری ساری پریشانی دور کر دی۔
آئندہ میں کوشش کروں گا برداشت کرنے کی اور غصہ بھی نہیں کروں گا۔
اوکے چلتی ہوں آرام کرو یہ کہہ کر ناہید اپنے کمرے کی جانب آ گئی۔
ابدال خاموشی سے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے لیٹ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں آج آپ جنت کے گھر جائیں رئیس نے کمرے سے نکلتے ہی کہا”
ابھی تک بھوت تیرے سر سے نہیں اترا کیا کنزا نے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔
بس میں نے کہہ دیا نا آپ جائیں ورنہ اچھا نہیں ہوگا آپ کو جانا ہی ہوگا ورنہ ذمہ دار آپ خود ہوگی یہ کہتے ہوئے رئیس گھر سے باہر نکل گیا۔
اللہ کیا جادو کر دیا اس لڑکی نے میرے معصوم بیٹے پر جو اس کے لیے پاگل ہوا جارہا ہے جنت تجھے تو خدا پوچھے میرے معصوم سے بیٹے پر ڈورے ڈالے اور اسے اپنے چنگل میں پھنسا لیا یہ کہتے ہوئے چادر لے کر جنت کے گھر کے جانے چل پڑی۔
دروازہ پر جیسے ہی پہنچی تو دروازہ کھلا تھا اندر ایسے ہی چلی گئی صحن میں کوئی نظر نہ آیا تو اندر چلی گئی جنت اور ارسلان کو ایک ساتھ پا کر وہاں سے الٹے پاؤں واپس پلٹنے لگی۔
نادیہ بہن بیٹھو تو واپس کیوں جا رہی ہو جنت کی ماں م کچن سے نکلتے ہی کہا۔
یہ ارسلان کیا کر رہا ہے تمہارے گھر میں نادیہ نے منہ بسورے پوچھا۔
اچھا ارسلان بیٹا انجینئر ہے تو گھر کا پنکھا خراب ہوگیا تھا تو وہی دیکھنے آیا تھا۔
اوہ بیٹا آیا بیٹا ہمممم منہ بناتے ہوئے نا ہید کہنے لگی۔
کیسے ماں باپ ہیں جو جوان لڑکی کو آزادی دے رکھی ہے۔
جو لڑکے کے ساتھ کیسے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی ہے اللّہ توبہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بڑبڑانے لگی۔
تبھی تو میرا شہزادہ رئیس اس لڑکی کے چنگل میں آگیا لو ایسی لڑکی کو کون بہو بنائے گا نادیہ یہ سوچتے ہوئے گھر کی طرف جانے لگی۔
نادیہ بہن بیٹھو تو چائے پیتی جاؤ ۔
پیچھے سے فاخرہ کی آواز تھی۔
پھر کبھی بس یہی کہہ کر نادیہ دروازہ بند کر کے اپنے گھر کی جانب چل پڑی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب رات کو عروج پڑھائی کرکے بیڈ پر لیٹیاور موبائل اٹھایا جیسے ہی فیس بک آن کی تو انباکس میں عمر کا میسج تھا۔
کیا بات ہے میڈم آپ کی تو انسان کسی کا خیال کر لے کوئی بے چینی سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں اتنا ہی سوچ لے جب سے آپ کو دیکھا ہے دل میں گھر کر گئی ہو۔
میں منتظر ہوں آپ کے جواب کا براہ مہربانی جواب دیں۔ عروج کے چہرے کے تاثرات فورا تبدیل ہوگئے کہا مائنڈ یور لینگویج”
ایسے تو نہ بولو یار کچھ تو خیال کر لو کسی کے احساسات کو ایسے نہیں ٹھکراتے۔
عمر کا میس تھا ۔
جو عروج کے غصہ کی شدت کو بڑھا رہے تھے۔
اپنا منہ بند رکھو عروج نے غصہ سے بھرے لہجہ میں کہا۔
پلیز یار میرا دل ٹوٹ جائے گا ایسے مت کہو عمر نے بنا کسی بات کا اثر لیے پھر جواب دیا۔
جاؤ تم اور تمہارا دل بھاڑ میں یہ کہہ کر عروج نے اپنا موبائل بند کرکے کے سائیڈ پہ رکھ دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لڑکی کو پھنسانے میں بڑا مزا آئے گا یہ کہتے ہوئے عمر بھی موبائل سائید پہ رکھ کر لیٹ گیا۔
پتا نہیں کیا سمجھتی ہے خود کو اکڑ دیکھ عمر کے سامنے اسسے اچھی تو آمنہ ہے ہاہاہا اچھی ، اگر اچھی ہوتی تو اتنی جلدی مان گئی ہاہاہا یہ کہتے ہوئے عمر نیند کی وادیوں میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔
اماں مجھے سکول میں بچوں کو پڑھانے کی اجازت چاہیے میرا دل چاہتا ہے کہ میں بچوں کو سکول میں پڑھانا شروع کردو جنت نے کمرے سے نکلتے ہیج کہا”
کیوں جنت تجھے کیا ضرورت ہے فاخرہ نے سبزی کو ٹوکڑی میں ڈالتے کہا۔
اماں بس شوق ہے میرے پاس جو علم ہے اسے میں دوسروں تک بھی پہنچانا چاہتی ہوں جنت نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔
فاخرہ جو سبزی کاٹنے میں مصروف تھی ٹھیک ہے جنت جیسے تیری مرضی آ لو جھیلتے ہوئے جواب دیا۔
مگر ایک بات کا خیال رکھنا گھر سے باہر نکلتے ہوئے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے جب ایک لڑکی گھر سے باہر نکلتی ہے گھر کی عزت اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے ہمیشہ اپنے ماں باپ کا بھرم رکھنا بس یہی کہنا چاہوں گی اور ایک بات کچھ بھی ماں باپ کی عزت اور اللہ کی ذات سے بڑھ کر نہیں ہوتا بہت مان ہوتا ہے ماں باپ کو اپنی بیٹیوں پر یہ مان ہمیشہ قائم رکھنا فاخرہ نے آلو پلیٹ میں رہتے ہوئے کہا۔
جی اماں میں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھوں گی میں یہ آپ کا مان کبھی نہیں توڑوں گی۔
کیا آج تک کبھی تھوڑا ہے جی جنت بیٹا مجھے یقین ہے اسی لیے تو آپ کو میں نے اجازت دی ہے ٹھیک ہے چلو میں کھانا بنا لو تم جاکر تیاری کرو اور چلی جاؤ لیکن سنبھلتے ہوئے جانا یہ کہہ کر فاخرہ کچن کی جانب چلی گئی۔
اور جنت تیارہونے اپنے کمرے میں چلی گئی جاتے ہیں اس نے الماری کھولی جنت نے جامنی رنگ کی قمیض اور سفید شلوار نکالی اور ساتھ میں سفید چادر اس نے جلدی سے کپڑے استری کیے اور پھر کپڑے تبدیل کر کے آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
سفیدرنگت بھورے بال بھوری آنکھیں کالی لمبی پلکیں کالی گھنی بھنویں اور سادہ لباس میں ملبوس توجہ نظر لگ رہی تھی”
جنت نے بالوں میں کیچر لگایا اور چادر اوڑھی اور سادہ سا سفید موتی والا جوتا پہنا اور اپنی اماں کو خدا حافظ کہتے ہوئے گھر سے باہر سکول کی جانب چل پڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں کیا بات کرکے آئی رئیس نے گھر میں داخل ہوتے ہی پوچھا۔
رئیس بھول جا اس لڑکی کو وہ تیرے قابل نہیں ہے۔
ا ماں کیا کہہ رہی ہیں آپ؟؟
میں تو سمجھتی تھی پڑھی لکھی ہے مگر وہ تو اس بلکل بھی قابل نہیں کہ تیرا اس سے رشتہ ہو۔
اس کے تو لچھن ہی اچھے نہیں ہیں اب ایسی لڑکی کو میں اپنے گھر کی بہو نہیں بنا سکتی ۔
بنانا تو پڑے گا ۔
رئیس سو چتے ہوئے کہنے لگا۔
ایک ایک بات کا بدلہ جو لینا ہے اس نے اس دن اس لونڈے کے سامنے میرے اتنی بےعزتی جو کی تھی رئیس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
کیا بول رہا ہے رئیس۔
کیونکہ کنیز کو صرف رئیس کے لب ہلتے نظر آئے مگر کچھ سنائی نہیں دیا۔
کچھ نہیں اماں بس جو ہوگا میری مرضی سے ہوگا اور رشتہ تو اسی کے ساتھ ہوگا تو شادی بھی اسی سے ہی ہوگی۔
آپ نہیں جاتی نہ جائیں ابا کے پاس جا رہا ہوں یہ کہتے ہوئے رئیس شاہنواز کے پاس کھیتوں کی طرف چل پڑا۔
ابھی رئیس گھر سے چند قدم دور ہی گیا تھا اس کی ٹکڑ راستے میں جنت سے ہوگئی۔
اندھی ہو دیکھ کر نہیں چل سکتی کیا رئیس نے دیکھتے ہی کہا۔
وہی کچھ سیکنڈز چند لمحے جنت کو دیکھتے ہی اس کے قدم رک گئے تھے اسکے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔
کیوں کہ جنت کی معصومیت اس کے دل میں گھر کر رہی تھی ۔
او کے جنت نے بس اتنا ہی کہا۔
اتنا نظر انداز رئیس نے گھورتے ہوئے کہا۔
مجھے شوق نہیں آپ کو جواب دینے کا جنت نے چادر ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔
میڈم چار کلاس کیا پڑھ لی پتا نہیں خود کو کیا سمجھتی ہو۔
رئیس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔
میں آپ کو کچھ کہنا پسند نہیں کرتی یہ کہہ کر جنت سائیڈ والی گلی کی طرف مڑ گئی۔
اکڑ دیکھو تمہاری ایک دن یہی اکڑ میں ایک دن اتاروں گا ۔
جنت بی بی ایک دن کیا اب تم ساری زندگی یاد رکھو گی۔
یہ کہہ کر رئیس کھیتوں کی طرف چلا گیا۔
ابا مجھے آپ سے بات کرنی ہے رئیس نے جاتے ہی کہا۔
شاہنواز بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔
جی فرمائیں میرا پتر بہت ہی شائستگی سے جواب دیا۔
ابا مجھے اگلے ہی ہفتے شادی کرنی ہے ۔
شاہنواز حیرانی سے کیا کہا تیور ہی بدل گئے اچانک رئیس کی بات سن کر۔
رئیس تیرا دماغ تو ٹھیک ہے نا۔
جی ابا ٹھیک ہے اب بس بتائیں آپ میرا رشتہ لیکر کب جا رہے ہیں۔
میرا آخری فیصلہ ہے اس نے درخت سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
ہاں ٹھیک ہے میرا بیٹا جیسے تیری مرضی ۔
یہ سن کر رئیس کے چہرے کی مسکراہٹ لوٹ آئی ۔
ابا مجھے یہی امید تھی آپ سے یہ کہہ کر رئیس اپنے ابا کے گلے لگ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میم عشرت نے کلاس میں داخل ہوتے ہی سلام کیا۔
سب سٹوڈنٹس نے گرم جوشی سے جواب دیا۔
میم عروج نے دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے مخاطب کیا۔
عروج مکمل طور پر ان کی باتوں سے متاثر ہو رہی تھی۔
اسی لیے آج اس نے سر پر دوپٹہ لیا ہوا تھا۔
آمنہ کو دیکھ کر حیرانی ہوئی تھی مگر حناء نے خوش آمدید کہا تھا۔
جس نے عروج کو دلی طور بہت خوش کردیا تھا۔
جی پوچھیں عروج میم عشرت نے اپنی کتاب ڈائز رکھتے ہوئے کہا ۔
میم لڑکے اور لڑکی کے درمیان دوستی کے بارے میں کیا رائے ہے آپکی عروج نے کتاب بند کرتے ہوئے پوچھا
بہت شاندار سوال ہے۔
جی بس میم ذہن میں آ گیا تھا اس لئے آپ سے اسکی کے متعلق پوچھا۔
چلیں ٹھیک ہے آجکل اس کی بہت اشد ضرورت بھی ہے۔
یہ بات سب کو پتہ ہونی چاہیے۔۔
کیا کسی لڑکی سے دوستی کرنے سے معاشرے پر منفی اثرات پڑتے ہیں؟؟؟؟؟
یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔
کسی لڑکی کو گرل فرینڈ بنانا حرام ہے اس کی حرمت پر قرآن و حدیث کے دلائل اور علماء کرام کا اتفاق ہے ۔
اسی طرح قرآن پاک میں ارشاد ہے۔
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰)
ترجمہ:
“””مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے۔”””
اسی طرح یہ حکم عورتوں کے بارے میں بھی آیا ہے۔
” اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دیں کہ اپنی نظریں نیچے رکھیں”””
نیز اللہ تعالیٰ نے خواتین کو اجنبی مردوں کے سامنے پردہ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۵۹)
“””””اے نبی!اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے او پر ڈالے رکھیں ، یہ اس سے زیادہ نزدیک ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔””””””
ایسے ہی خواتین پر بے پردگی حرام کرتے ہوئے فرمایا۔
وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳)
“”””””اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے پہلی جاہلیت کی بے پردگی اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔اے نبی کے گھر والو! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب صاف ستھرا کردے۔”””””””
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اجنبی مردوں کے سامنے عورتوں کو نرم اور بہترین لہجے میں بات کرنے سے بھی منع فرمادیا گیا ہے تاکہ اسکا برا نتیجہ سامنے نا آئے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے۔
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ(۳۲)
“””””””اے نبی کی بیویو!تم اور عورتوں جیسی نہیں ہو۔اگرتم اللہ سے ڈرتی ہو تو بات کرنے میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے اورتم اچھی بات کہو۔”””””””””
اسی طرح نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد ہے۔۔
“”” کوئی بھی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرتا ہے تو تیسرا انکے ساتھ شیطان ہوتا ہے” (ترمذی 1091)
اس حدیث کو البانی نے صحیح کیا ہے۔
اس لیے دوستی کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔
ظاہر سی بات ہے جب دو انجان لوگ ملیں گے تو تیسرا الشیطان ہوگا انسان کا کردار اس کی اصل پہچان ہوتا ہے ہر انسان اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے اور نہ ہی لڑکوں سے بے تکلف ہونے کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ آج کل لڑکیاں بے تکلف ہو کر بات کر رہی ہوتی ہیں۔
اپنی عزت کروانا خود سیکھنا چاہیے لڑکیوں کو پھر لڑکے بھی عزت کریں گے خود کو بچا کر رکھنا چاہیے۔
اور محرم رشتوں کے علاوہ کوئی رشتہ نہیں ہوتا کوئی دوست کوئی بھائی نہیں ہوتا اس سے معاشرے میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں جو لڑکوں اور لڑکیوں کی دوستی کی بنا پر سامنے آتی ہیں۔
مجھے امید ہے آپ لوگوں کو سمجھ آ گئی ہو گی ۔
آمنہ یہ سن کر سکتہ میں آگئی تھی۔
کیونکہ وہ اپنی تصویریں ہیں عمر کو بھیج چکی تھی عروج اس سے بے خبر تھی تھی۔
اوکے میں چلتی ہوں میم عشرت یہ کہہ کر کلاس سے چلی گئی۔
آمنہ تم ٹھیک تو ہو عروج بازو پکڑ کر جھنجھوڑا ۔
کیا کہہ رہی ہو اچانک مخاطب کرنے پر آمنہ نے پوچھا۔
ٹھیک تو ہو نا ؟؟؟
ہمم ٹھیک آمنہ نے بس اتنا ہی جواب دیا۔
اچھا باہر نہیں جا رہی آج تم عروج نے کتاب بیگ میں رکھتے ہوئے پوچھا۔
نہیں میں نہیں جارہی میرا موڈ نہیں ہے تم جاؤ ۔
اوکے میں تو کینٹین جارہی ہوں یہ کہہ عروج کلاس سے باہر چلی گئی۔
عروج ابھی کینٹین سے کچھہ ہی دور تھی پیچھے سے عمر آ گیا۔
اور بتاؤ کیا سوچا جان من مجھ سے دوستی کے بارے میں عمر نے پیچھے سے ہی کہا۔
بی ہیو یور سیلف عمر عروج نے چلتے ہوئے غصہ سے جواب دیا۔
پیار سے بات کرئیے جناب نازک سا دل ہے ٹوٹ جائے گا عمر نے ڈھٹائی سے کہا۔
دفع ہو جاؤ عمر یہاں سے میرے بھائی کے نصیب خراب جو تمہارے گھر رشتہ کیا ۔
اچھا یار غصہ تو چھوڑو عمر نے سامنے آتے ہی کہا۔
میرے راستے سے ہٹو تم عروج نے تلخ لہجہ میں کہا۔
ابدال اپنے سر کے ساتھ کچھہ فاصلے پر کھڑا سب دیکھ رہا تھا۔
وہ عمر کی حر کات دیکھتے ہی سر کے ساتھ ان لوگوں کی طرف بڑھنے لگا۔
پلیز میری دوست بن جاؤ جیسا چاہو گی ویسا بن جاؤں گا۔
میں پیار کرنے لگا ہوں تم سے پلیز عمر ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔
میرا کردار بہت پاکیزہ ہے عمر شاہ میرا ایمان بہت مضبوط ہے عروج نے سینے پر ہاتھ باندھتے جواب دیا۔
میں باکردار ہوں بد کردار نہیں”
با اخلاق ہوں مگر بد اخلاق ہونا بھی آتا ہے۔
میں ان لڑکیوں میں سے نہیں جو کسی لڑکے کے چند الفاظ پر پگھل جائے۔
اب سمجھے چلتے بنو یہاں سے عروج نے ہاتھ کے اشارے سے کہا ۔
عمر نے اچانک عروج کا ہاتھ پکڑ لیا۔
چھوڑو میرا ہاتھ عروج چلائی۔
گھٹیا انسان میرے کردار پہ تہمت مت بنو چھوڑو۔
اتنے میں سر مرتضیٰ نے عمر کو گریبان سے پکڑ کر اسکا چہرہ اپنی طرف کیا ایک زوردار تھپڑ رسید کیا۔
جس سے عمر زمین پر منہ کے بل جا گرا۔
سر آپ عمر کے منہ سے اچانک نکلا۔
شرم آنی چاہیے عمر تمہیں اتنے گھٹیا نکلو گے اس بات ک اندازہ نہیں تھا۔
البتہ رپورٹ تو مل رہی تھی تمہارے بارے مگر میں خاموش تھا ۔
عمر ڈھٹائی سے ابدال کو گھور رہا تھا۔
کیا گھور رہے ہو ابدال کو کھڑے ہو جاؤ اور پرنسپل اوفس پہنچو آج ہی بندوبست کرتا ہوں تمہارا یہ کہتے ہوئے سر مرتضیٰ پرنسپل اوفس چلے گئے۔
عروج تم ٹھیک ہو نا ابدال نے عروج کے پاس جاکر پوچھا
جی ٹھیک ہوں عروج نے آنسو چھپاتے کہا اسنے آنسو آنکھوں سے چھلکنے نہیں دیے تھے درد ک لہر کی شدت آنکھوں سے واضح ہو رہی تھی جو ابدال دیکھ چکا تھا۔
ہاہاہا تیرا بھی عاشق ہے عروج میڈم عمر نے بےشرمی سے ہنستے ہوئے کہا۔
بکواس بند کرو عمر عروج چلائی میں پاک دامن ہوں۔
ہاہاہا پاک دامن میں رہنے دوں گا پھر کہنا تیرا یہ غرور خاک میں نہ ملایا تو میرا نام بھی عمر شاہ نہیں یہ کہتا ہوا پرنسپل اوفس چلا گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: