Parishay Novel by Nazia Shazia – Episode 1

0
پریشے از نازیہ شازیہ – قسط نمبر 1

–**–**–

“ارے پریشے اتنی تیزی سے کہاں بھاگی جا رہی ہے؟؟”
علیزہ جھنجھلاتے ہوئی بولی
“ارے یار آپا آتی ہوں ابھی ذرا عائشہ کے گھر سے ہو آؤں”
یہ کہتے ہی پریشے گھر سے باہر نکل گئی
“بھیا یہ نہیں سدھرنے والی”علیزہ اپنے پیر پٹختی ہوئی باورچی کھانے میں چلی گئی ،مگر عائشہ کے گھر جانے کی بجاۓ اس نے اپنا رخ بازار کی طرف کر لیا
بازار میں لوگوں کی چہل پہل اور گہما گہمی عروج پر تھی کیوں کے عید الاضحی کو صرف پندرہ دن رہ گئے تھے
پریشے beauty shop میں داخل ہو گئی جہاں عورتوں کا رش لگا ہوا تھا
“ارے بھیا یہ fairness کریم کتنے کی ہے ؟؟”،پریشے مسکراتے ہوئے بولی
“ویسے تو 400 کی ہے پر تجھے 200 کی دوں گا”کامی نے جواب دیا
“کامی اب کیا تو مجھ سے بھی پیسے لے گا ؟؟” پریشے کا لہجہ ذرا غصیلہ تھا
“ارے میری پری تو ناراض کیوں ہوتی ہے ،چل تو بھی کیا یاد کرے گی تجھے یہ کریم مفت دی” کامی پریشے کو منانے کی کوشش کر رہا تھا
“یہ ہوئی نا بات ،چل تو بھی کیا یاد کرے گا جا معاف کیا تجھے “پریشے ناک چڑہاتے ہوئے بولی
“اب بتا تیرے گھر رشتہ کب بھیجوں ؟؟”کامی نے سوال کیا
“دیکھ کامی میں نے تجھے اتنی مرتبہ سمجھایا ہے جب مناسب وقت آۓ گا تو بتا دوں گی تجھے “پریشے غصّے سے بولی اور کریم اٹھا کر دکان سے باہر چلے گئی
“او پری سن تو پری ” کامی پریشے کو آوازیں دیتا رہ گیا
اب کی بار پریشے ایک موبائل شاپ میں داخل ہوئی
“موبائل آگیا میرا ؟؟”پریشے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک ادا سے بولی
“جی جان آپکا موبائل تو آگیا پورے 37000 کا ہے “افضل مسکراتے ہوئے بولا
“اچھا افضل اب تم مجھے ان بے جان چیزوں کی قیمت بتاؤ گے اور اگر ایسی ہی بات ہے نا تو میں ابھی لاتی ہوں اپنا بٹوا اور پیسے تمہارے منہ پر مارتی ہوں ،ویسے بھی تم نے مجھے خودی آفر کی تھی کے میں تمہیں نیا ڈبہ پیک موبائل لا کر دوں گا ،جس پر ہم رات کو باتیں کیا کریں گے “پریشے طیش میں آگئی
“ارے جان تم تو ناراض ہو گئی میں نی تو ویسے ہی ایک بات بول دی تھی ،چلو اب موڈ ٹھیک کرو،اور دیکھ کر بتاؤ موبائل کیسا ہے ؟؟”افضل اپنے سر پے ہاتھ پھیرتا ہوا بولا
“ہاں یار ویسے موبائل تو بڑا اچھا لگ رہا ہے اور دیکھو اگر تم نے آئندہ کوئی ایسی بات کی تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی”،پریشے ظاہری طور پر تو غصّہ تھی پر دل میں نۓ موبائل کو دیکھ کر لڈو پھوٹ رہے تھے
“اچھا بابا یہ لو کان پکڑ لئے اب تو معاف کر دو”افضل کان پکڑتے ہوئے بولا
“اچھا اچھا ٹھیک ہے معاف کیا پر اب چلتی ہوں ،امی فکر مند ہو رہی ہوں گی “یہ کہتے ہی پریشے دکان سے نکل گئی
پریشے ایسی ہی تھی ناک پر ہر وقت غصّہ دھرا رہتا تھا جب کے گردن میں سیسہ بھرا رہتا تھا ،اپنے آپ کو وہ پوری دنیا کی حسین ترین لڑکی تصور کرتی تھی ،اس نے اپنے محبت کے جال میں محلے کے کئی لڑکوں کو پھانس رکھا تھا ،اسکی بہن اور امی تو اس کو بہت سمجھاتی مگروہ ایک کان سے بات سنتی اور دوسرے کان سے نکال دیتی
“پری کہاں سے آرہی ہو”امی جو کے دروازے پر کھڑی پریشے کے آنے کا انتظار کر رہی تھیں اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی بھڑک اٹھیں
“یار امی کیا ؟؟ عائشہ کے گھر گئی تھی آپا کو بتایا تو تھا”پری بہانہ بناتے ہوئے بولی ،اب تو وہ بہانے بنانے اور جھوٹ بولنے میں ماہر ہو گئی تھی
“دیکھ بیٹا تجھے پتہ ہے کے آج علیزہ کے سسرال والوں نے رخصتی کی تاریخ پکی کرنے آنا ہے وہ بیچاری صبح سے کام کر رہی ہے جا جا کے اس کا ہاتھ بٹا”
“اچھا امی کروادوں گی اب جاؤں؟؟”
“چل جا”امی کے چہرے پر پری کو لے کر پریشانی واضح تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپا میری پیاری آپا ،وہ آج نا عریشہ کے گھر میلاد ہے میں اور عائشہ دونوں جائیں گے ،پلیز تم امی کو سمجھا دینا”،پریشے کو جب بھی کوئی بات منوانی ہوتی تو علیزہ ہی سے کہتی تھی ،علیزہ پریشے کو چاہتی بھی بہت تھی ،علیزہ ایک گورنمنٹ کے اسکول میں جاب کرتی تھی جس سے گھر کا خرچہ پورا ہوتا تھا ،خیر اب تو علیزہ بھی رخصت ہونے والی تھی ،اس کا نکاح تو ہو چکا تھا ،بس اب رخصتی رہ گئی تھی
“اچھا چل ہٹ میں بتا دوں گی اب مکھن لگانا بند کر”
“ہاۓ شکریہ پیاری آپا ،تم کتنی اچھی ہو “،پریشے کئی خوشی دیکھ کر علیزہ بھی بہت خوش ہو جاتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چل پریشے آبھی جا اور کتنا makeup کرے گی ،عائشہ جھنجھلا کر بولی
“ہاں آگئی یہ بتا پارٹی شروع ہونے میں کتنی دیر رہ گئی ہے؟؟”پری نے عائشہ سے سوال کیا
“یار بس گھنٹہ رہ گیا”
“بس گھنٹہ چل چل جلدی چل کہیں ہمیں دیر نا ہو جاۓ”پری نے عائشہ کا ہاتھ پکڑا اور دونوں گھر کے باہر کھڑے رکشے میں سوار ہو کر پارٹی کے لئے روانہ ہو گئی
“رکشے والے بھائی ذرا رکشہ روکنا یہاں سے پھولوں کا گلدستہ لینا ہے “پریشے جلدی جلدی میں دکان میں داخل ہوئی اور ابھی وہ گلدستہ خرید کر مڑی ہی تھی کے وہ سعد سکندر سے ٹکرا گئی اور گلدستہ نیچے گر گیا
“اندھے ہو بھائی یہ کیا کیا ایک تو دیکھ کر چلتے بھی نہیں ہیں پاگل لوگ مجھے پہلے ہی اتنی دیر ہو گئی ہے “پری سعد کو اچھی خاصی باتیں سنا کر چلتی بنی ،جب کہ سعد تو پری کے خیالوں میں کھو سا گیا ،اس کو پری کی کڑوی باتیں بھی بہت میٹھی لگ رہی تھیں
نیلے رنگ کے پینٹ کوٹ میں ملبوس سعد سکندر کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا ،
“oh my God she is so pretty”
،سعد سکندر من ہی من میں بڑبڑایا
“کیسی ہو عائشہ ؟؟آج تو بہت پیاری لگ رہی ہو” پریشے نے عریشہ کو پھولوں کا گلدستہ پکڑاتے ہوئے اس کی تعریف کی
“تم بھی آج کسی پری سے کم نہیں لگ رہی ؟؟قیامت ڈھا رہی ہو”عریشہ نے بھی جواباً پری کی تعریف کی
“ارے ہماری تو بات ہی کچھ اور ہے “پریشے ہنستے ہوئے بولی
“ارے بھئی اب اندر بھی جانا ہے یا باہر کھڑے ہو کر باتیں ہی کری جانی ہیں ؟؟” عائشہ منہ بناتے ہوئے بولی
“سوری یار چلو چلو اندر چلو “عریشہ عائشہ اور پری کو لے کر ہال میں داخل ہو گئی جہاں پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا
ہال مہمانوں سے چھکا چھک بھرا ہوا تھا مرد اور عورتوں کا اکٹھا انتظام کیا گیا تھا
پریشے نے جوس کا ایک گلاس اٹھایا اور عائشہ کے ساتھ کھڑی ہو کر باتیں کرنے لگی
اتنی دیر میں ایک بہت ہی خوبرو نوجوان عائشہ اور پری کے پاس آ کھڑا ہوا
“ہیلو معاف کیجیے گا میں نے آپ کی باتوں میں رکاوٹ ڈالی دراصل میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں “وہ نوجوان پری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
“جی ضرور میں سمجھ سکتی ہوں “عائشہ مسکراتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
“جی بولیے کیا بات کرنی ہے آپ کو مجھ سے ویسے میں لڑکوں کو لفٹ نہیں کرواتی پر آپ مجھے شریف سے لگے ہیں اس لئے بات کر رہی ہوں آپ سے “پری کا انداز بڑا شوخ تھا
“زھے نصیب زھے نصیب ،دراصل میں سیدھا سادھا انسان اسی لئے بات بھی سیدھی سادھی کرتا ہوں ،بات کو گھما پھرا کر کرنے کی مجھے عادت نہیں ،میرا نام حمزہ ہے ،مجھے آپ پہلی ہی نظر میں بہت اچھی لگی ہیں اور میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ،میرے والدین جاپان رہتے ہیں اور میرا پاکستان میں ہی بزنس ہے لہذا میں یہیں رہتا ہوں ،میرے والدین نے مجھے اجازت دے رکھی ہے کے میں جس سے چاہوں اس سے شادی کر سکتا ہوں اور مجھے لگتا ہے کے میں نے اپنا ہمسفر ڈھونڈ لیا ہے”پری حمزہ کی باتیں بڑے غور سے سن رہی تھی
“میں آپ کے جذبات سمجھ سکتی ہوں ،مگر یہ سب اتنا آسان نہیں مجھے اپنے گھر والوں سے بات کرنی ہوگی اور پھر میں تو آپ کو جانتی تک نہیں” پری نے جواب دیا
“آپ میرے متعلق عریشہ سے پوچھ سکتی ہیں میں اس کے بھائی کا گہرا دوست ہوں اور یہ میرا کارڈ رکھیں اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے کال کر لیجئے گا” حمزہ کارڈ پری کے ہاتھ میں تھما کر وہاں سے چلتا بنا ،جب کے پری حیران و پریشان کھڑی رہی
“کیا بات ہو رہی تھی”عائشہ نے پری سے استفسار کیا
“وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے کہہ رہا تھا کہ آپ مجھ سے متعلق کوئی سی بھی معلومات عائشہ سے لے لیں”پری نے جواب دیا
“یار اتنا خوبصورت لڑکا ہے اس کے متعلق کیا معلومات حاصل کرنی ہے اچھے بھلے امیر خاندان کا لگ رہا ہے اور تجھے چاہیے ہی کیا ،آج ہی جا کر اماں یا علیزہ آپا سے بات کر”عائشہ نے اپنی تجویز پیش کی اور پری نے اثبات میں سر ہلا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“پری آج میں تیرے لئے بہت بہت بہت خوش ہوں “علیزہ سے خوشی سے پھولے نا سماں رہی تھی
“کیوں آپا ایسا کیا ہوگیا ؟؟” پری نے تعجب سے پوچھا
“آج تم جب میلاد پری گئی تھی تو تمہارے پیچھے افضل کی ماں تمہارا رشتہ لے کر آئ تھی ،اچھا بھلا دیکھا بھالا لڑکا ہے خاندان بھی بہت شریف ہے ،اماں نے تو فورا ہاں کہہ دی”علیزہ نے خوشی سے جواب دیا
“وہی افضل جس کی موبائل کی دکان ہے ؟؟”پری نے منہ بناتے ہوئے سوال کیا
“ہاں ہاں وہی تجھے تو خوش ہو جانا چاہیے تیری تو قسمت جاگ گئی ہے “علیزہ نے جواب دیا
“ایک بات سچ سچ بتانا آپا تم نے افضل کی شکل دیکھی ہے ،کہاں وہ بدصورت سا افضل کہاں میں اتنی حسین دوشیزہ ،اور ویسے بھی میں کسی اور سے شادی کرنا چاہتی ہوں”پھر پری نے علیزہ کو حمزہ کے متعلق سب کچھ بتا دیا
“دیکھ پری پہلی بات اماں افضل کے لئے ہاں کر چکی ہیں دوسری بات ہم حمزہ کے متعلق کچھ نہیں جانتے چلو عائشہ تمہیں اس کے متعلق سب کچھ بتا بھی دے پھر بھی ہم کسی بھی ایرے غیرے پر اعتبار نہیں کر سکتے ،امی کا فیصلہ بہت اچھا ہے اور میرا بیٹا کوئی بھی ایسا قدم نا اٹھانا کے میرا اور امی کا سر شرم سے جھک جاۓ اور جو تم ہر کسی کی شکل میں عیب نکالتی ہو یہ بہت غلط بات ہے ،اللّه میاں ناراض ہوتے ہیں”،علیزہ پری کو سمجھا کر چلی گئی جب کہ پری منہ بنا کر بیٹھ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے ایک بجے حمزہ کے فون پر گھنٹی بجی،”ہیلو جی کون؟”حمزہ آنکھیں ملتا ہوا بولا
“جی میں پریشے ہوں”پری نے گھبراتے ہوئے جواب دیا
“کون پریشے ؟؟” حمزہ حیرانگی سے بولا
“ارے وہی جس کو آپ نے پارٹی میں پرپوز کیا تھا ،پر آپ کو میرا نام کیسے پتہ ہو گا آپ نے تو مجھ سے میرا نام بھی نہیں پوچھا اور چلتے بنے “،پری خوش بھی لگ رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ پریشان بھی
“اوہ سوری سوری جی کہیے کیا کہنا ہے ؟”
“میں آپ سے شادی کرنے کے لئے راضی ہوں پر ایک پریشانی ہے میرے گھر والے میری آپ سے شادی کرنے پر رضا مند نہیں ہیں “،پری نے جواب دیا
“یہ تو بہت پریشانی کی بات ہے ،پر میرے پاس ایک ہل ہے اگر آپ سننا چاہیں”،حمزہ بھی کافی پریشان لگ رہا تھا
“کیسا حل؟؟”
“ہم کورٹ میریج کر لیتے ہیں “حمزہ نے تجویز پیش کی
“کورٹ میریج ؟؟”پری بہت حیران ہوئی
“جی کورٹ میریج ،اگر ہم کورٹ میریج کر لیتے ہیں تو پھر ہم ایک ہو جایں گے ،شروع شروع میں آپ کہ گھر والے خفا ہوں گے پر بعد میں ہم انکو بھی منا لیں گے ،میں کل رات 1 بجے گاڑی لے کر آپ کے گھر کے سامنے آجاؤں گا ،ہم رات کو ہوٹل میں قیام کریں گے اور صبح ہوتے ہی کورٹ میریج کر لیں گے “حمزہ نے اپنا سارا پلان پری کو بتایا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: