Parishay Novel by Nazia Shazia – Episode 6

0
پریشے از نازیہ شازیہ – قسط نمبر 6

–**–**–

رنگیلی کو دیکھ کر پری کے حوش اڑ گۓ ،رنگیلی کے کوٹھے پے گزارا ہوا ایک ایک لمحہ پری کئی آنکھوں کے سامنے کسی ویڈیو کئی طرح گردش کرنے لگا ،ایک پل کے لئے تو پری لرز کر رہ گئی وہ دوبارہ اس جہنم میں نہیں جانا چاہتی تھی جہاں سے اس نے بڑی مشکل سے فرار حاصل کیا تھا
“مجھے یہاں سے ابھی جانا ہو گا عائشہ “پری بھاگ کر عائشہ کے پاس آئ اور اسے گلے سے لگا لیا ،اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا کے ایسے مشکل وقت میں اپنی سہیلی کو تنہا چھوڑ دے پر وقت کا یہی تقاضا تھا
“پر پری تم جاؤ گی کہاں ؟؟”عائشہ نے بھوکلاہٹ میں پری سے سوال کیا
“دیکھو عائشہ تم میری فکر نا کرو بس مجھے جلدی جانا ہو گا یہاں سے بس تم اپنا خیال رکھنا “پری بہت جلدی جلدی میں لگ رہی تھی
“اچھا ٹھیک ھے پر تم بھی اپنا خیال رکھنا “عائشہ کی آنکھیں آنسوؤں سے نم ہو چکی تھیں ،دل تو اس کا چاہ رہا تھا کے وہ پری کو اپنے پاس روک لے پر وہ مجبور تھی
“ہمم ٹھیک ہے “پری نے اثبات میں سر ہلایا عائشہ سے الواعی مصافحہ کیا اور سعد کی جانب چل دی
💚💙💚💙💙💙💚💙💚💙💚💙
اسی اثنا میں رنگیلی نے پری کو دیکھ لیا
“ارے شمع اگر میں غلط نہیں ہوں تو وہ لڑکی پارو ہی ہے نا “رنگیلی نے پری کی طرف اشارہ کیا ،اس کو ایک بار پھر امید کی کرن نظر آئ
“نہیں بی بی وہ پارو تو نہیں لگ رہی “شمع جان گئی تھی کہ وہ پری ہی ہے پر انجان بن رہی تھی تا کہ رنگیلی پری تک دوبارہ رسائی حاصل نا کر لے
“ارے اندھی ہو گئی ہے کیا پارو ھی ہے وہ تو یہیں رک شمع اس کو تو میں ابھی پکڑ کے لاتی ہوں “رنگیلی شمع پر چلائی ،پری کو دیکھ کر رنگیلی کا چہرہ ایک بار پھر کھلکھلا گیا ،رنگیلی کسی بھوکی شیرنی کی طرح پری کی جانب بھاگی
*ارے ارے رنگیلی رکو تو صحیح “شمع رنگیلی کو روکتی ہی رہ گئی پر رنگیلی پر تو پری کو پکڑنے کا بھوت سوار تھا
🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼
“سعد ” پری نے سعد کے قریب پہنچ کر اس کو آواز لگائی
“جی بولیں کوئی کام ہے آپ کو ؟” وہ لڑکا سعد نہیں تھا کوئی اجنبی تھا دور سے دیکھنے پر پری کو وہ سعد ھی لگا تھا پر وہ لڑکا تو کوئی اور ہی نکلا
“جی نہیں شکریہ ” پری شرمندہ سی ہو گئی
“آخر لگ ہی گئی ہاتھ کمینی کہاں بھاگ رہی تھی ،تو سمجھی کے مجھ سے بچ نکلے گی پر میں بھی تیرا پیچھا کبھی نہیں چھوڑوں گی اب چل میرے ساتھ “رنگیلی نے پری کو اس کے بازو سے پکڑ لیا اور اپنی گرفت مضبوط کر لی ،رنگیلی ساتھ ساتھ پری پہ بھڑک بھی رہی تھی ،رنگیلی کی خوشی کی کوئی انتہا نا رہی اس نے پری کو دوبارہ حاصل کر لیا تھا،دوسری طرف پری رنگیلی کو اپنے سر پہ دیکھ کر حواس باختہ ہو گئی ،مگر پھر پری نے ہمت کر کے خود کو مضبوط کیا بلکہ یہ کہنا صحیح رہے گا کے وقت اور حالات کے تکلیف دہ تھپیڑوں نے پری کو مضبوط کر دیا تھا
“تیرے ساتھ جانے سے بہتر ہے میں زہر کھا کے مر جاؤں”پری نے بھی رنگیلی کو برابر جواب دیا ،وہ جانتی تھی کہ وہ اس وقت رنگیلی کے کوٹھے میں نہیں تھی جہاں صرف رنگیلی کا حکم ہی چلتا ہے ،پری نے پوری قوت لگا کر رنگیلی کو دھکا دیا اور خود کو اس سے آزاد کروالیا رنگیلی سر کے بل فرش پر گر گئی اور اسی موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پری دربار سے بھاگ نکلی پر رنگیلی بھی کچھ کم نا تھی وہ بھی جلدی جلدی اٹھی اور پری کے پیچھے بھاگی
🌹🌸🌹🌸🌹🌸🌹🌸🌹🌸
“ماں میں پوری رات پری کو ڈھونڈتا رہا مگر اس کا کچھ پتہ نا چلا خدا جانے کہاں چلی گئی ،مجھے لگتا ہے اب ہمیں پولیس کو آگاہ کرنا چاہیے “سعد شائستہ بیگم سے مخاطب تھا اس کے چہرے پر تھکان کے آثار نمایاں تھے ،پوری رات باہر گزارنے کے بعد وہ صبح کے بارہ بجے گھر آیا تھا ،سعد کا بس نہیں چل رہا تھا کے پری کے پاس وہ اڑ کر چلا جاۓ پر یہ ناممکن تھا
“ہم بیٹا اب آپ آرام کرو میں ڈرائیور کو لے کر جا رہی ہوں پری کو ڈھونڈنے اگر پھر بھی پری نا ملی تو میں پولیس میں رپورٹ درج کروا کر آؤں گی “شائستہ بیگم نے سعد کو حوصلہ دیا ،پر وہ سعد کی طرح صرف جوش سے ہی نہیں بلکہ حوش سے بھی کام لے رہی تھیں
“پر ماں ۔۔۔۔”سعد نے مزاحمت کرنا چاہی تو شائستہ بیگم نے سعد کو ٹوک دیا
“سعد پر ور کچھ نہیں میں نے کہا نا جو مجھے صحیح لگے گا میں وہی کروں گی “ماں کی ڈانٹ سن کر سعد منہ بنا کر لیٹ گیا جب کہ شائستہ بیگم پری کو ڈھونڈنے نکل پڑی ،ان کی آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے اور تھکا ماندہ چہرہ اس بات کا ثبوت تھا کے وہ پری کی فکر میں ساری رات جاگتی رہی ہیں
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
پری نے دیکھا کے باہر کئی رکشے کھڑے ہیں وہ جلدی جلدی ایک رکشے میں سوار ہو گئی
“بھائی جلدی یہاں سے چلیں جلدی کریں “پری نے رکشہ ڈرائیور سے کہا
“وہ تو ٹھیک پر آپ بتائیں تو صحیح جانا کہاں ہے ؟؟”رکشہ ڈرائیور نے منہ بناتے ہوئے پری سے سوال کیا
“وہ میں بعد میں بتاؤں گئی بس جلدی چلیں “
رکشہ ڈرائیور نے اثبات میں سر ہلایا اور رکشہ چلانے لگا
ادھر رنگیلی بھی جلدی جلدی پری کے پیچھے دوسرے رکشے میں سوار ہوئی
“بھائی جلدی کر وہ جو ابھی ابھی سامنے والے رکشے میں لڑکی بیٹھی ہے نا اس رکشے کے پیچھے اپنا رکشہ لگا جتنے پیسے مانگے گا اتنے دوں گی بس اس رکشے کو پکڑنا ہے “رنگیلی پسینہ خشک کرتے ہوئے بولی
اب پری کا رکشہ آگے آگے جب کے رنگیلی کا رکشہ اس کے پیچھے پیچھے رنگیلی کا رکشہ پری کے رکشے کے بہت قریب پہنچ گیا تھا بس دو سے تین فٹ کا فاصلہ رہ گیا تھا
🌺🍀💚🌺🍀💙🍂
جس رکشے میں پری سوار تھی اس کا فاصلہ رنگیلی کے رکشے سے صرف 2 سے 3 فٹ کا رہ گیا تھا ،پری کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ،پیر کپکانے لگے ،وہ اللّه سے اپنی حفاظت کی مسلسل دعائیں کر رہی تھی ،رکشہ ڈرائیور کی لاپرواہی اور رکشے کی تیز رفتار رکھنے کی وجہ سے رنگیلی کا رکشہ آئل ٹینکر سے ٹکرا گیا ،اور ایک دم آگ بھڑک اٹھی ،آئل ٹینکر اور رکشہ دونوں بری طرح جھلس چکے تھے ،اور رنگیلی اس حادثے کی وجہ سے دار فانی سے کوچ کر گئی اور رنگیلی کی پری کو حاصل کرنے کی تمنا ،تمنا ہی رہ گئی ،دوسری جانب خوش قسمتی سے پری کو اور رکشہ ڈرائیور کو کوئی جانی نقصان نا ہوا اور رکشہ بھی محفوظ رہا ،رکشہ ڈرائیور نے رکشہ سڑک کی ایک طرف کھڑا کیا اور حادثے کا جائزہ لینے چلا گیا
“اللّه کی پناہ بہت برا حادثہ ہوا ہے ،اللّه سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے “واپس آکر رکشہ ڈرائیور بڑبڑانے لگا
“آمین “یہ حادثہ دیکھ کر پری کی ہوائیاں اڑ چکی تھیں ،اس کا چہرہ زرد پر گیا تھا پیر ابھی تک کپکپا رہے تھے
“بی بی جی کہاں جانا ہے آپ نے بتایا نہیں ؟؟”رکشہ ڈرائیور نے پری کو مخاطب کیا ،پر پری نے کوئی جواب نا دیا ،وہ تو ناجانے کن خیالوں کن سوچوں میں گم ہو گئی تھی
“بی بی جی ” اس مرتبہ رکشہ ڈرائیور اونچی آواز سے چیخا
“جی ….. جی جی بولیں “پری رکشہ ڈرائیور کی آواز سن کر خیالوں کی دنیا سے باہر آئ ،وہ مسلسل رنگیلی کے بارے میں سوچ رہی تھی ،وہ حادثہ پری کے دماغ پر گہرا اثر چھوڑ گیا تھا
“بی بی جی میں کہہ رہا ہوں کہاں جانا ہے آپ کو ؟؟”رکشہ ڈرائیور نے منہ بناتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پری سے سوال کیا
“میں نے کہاں جانا ہے ،میں نے ……ہاں !!آپ ایسا کریں اگر پاس ہی یہاں کوئی گرلز ہاسٹل یا دارلامان ہے تو مجھے وہاں اتار دیں “پری نے سوچتے ہوئے جواب دیا ،پری سعد کے گھر واپس جانا چاہتی تھی پر گھر کا پتہ معلوم نا تھا نا ہی کسی کا فون نمبر یاد تھا ،وہ بےگھر لڑکی اس وحشی دنیا میں لاوارثوں کی طرح در در کی ٹھوکریں کھا رہی تھی
“ہاں ایک گرلز ہاسٹل یہاں پاس ہی ہے وہاں آپ کو لے جا سکتا ہوں “رکشہ ڈرائیور نے پری سے اجازت چاہی
“جی ٹھیک ہے “،پری نے جواب دیا
کچھ ہی دیر بعد پری الحمید ہاسٹل کے باہر کھڑی تھی
“بی بی جی 300 روپے کرایہ ہو گیا “رکشہ ڈرائیور نے پری سے کرایہ وصول کرنا چاہا ،یہ سن کر پری خوفزدہ ہو گئی ،کیوں کہ اس کے پاس کرایہ دینے کے لئے پیسے موجود نا تھے ،پھر اچانک اس کو یاد آیا کے شائستہ بیگم نے اس کو سونے کی انگوٹھی دی تھی جو اس نے اپنے ہاتھ میں پہنی ہوئی تھی ،اس نے اپنی انگلی سے وہ انگوٹھی اتاری اور رکشہ ڈرائیور کی جانب بڑھا دی
“بھائی میرے پاس پیسے نہیں ہیں پر یہ سونے کی انگوٹھی ہے یہ رکھ لیں “
“بی بی جی آپ کا کوئی گھر نہیں “رکشہ ڈرائیور نے پری سے سوال کیا ،روتے ہوئے پری نے نفی میں سر ہلا دیا
“یہ انگوٹھی اپنے پاس ھی رکھیں اور یہ لیں 500 میں جانتا ہوں یہ زیادہ تو نہیں ہے پر شاید آپ کے کام آسکیں ،مجھے اپنا بھائی ہی سمجھنا بہن “رکشہ ڈرائیور نے پری کے سر پر ہاتھ رکھ دیا وہ پری کی حالت بھانپ گیا تھا
“کاش کوئی میرا محافظ ہوتا ،کاش میرا بھی کوئی بھائی ہوتا تو آج میں یوں سڑکوں کی دھول نا بنی ہوتی “پری رنجیدہ ہو گئی تھی ،اس کی معصوم آنکھیں نم ہو گئی تھیں ،اس نے 500 کی پیشکش ٹھکرا دی
“میری بہن رؤ مت میں تمھارا بھائی ہوں اور اللّه پر یقین رکھو وہ تم کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑے گا اور یہ 500 رکھو بہن اگر تم نے یہ نا لئے تو میرا دل ٹوٹ جاۓ گا “پری کو دیکھ رکشہ ڈرائیور کا بھی دل بھر آیا پر اس نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھا
“ہمم جی شکریہ “پری نے رکشہ ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا اور ہاسٹل کی جانب چل دی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
“کون ہو اور اندر کہاں چلی جا رہی ہو ؟؟میں اس ہوسٹل کی وارڈن ہوں جو بات کرنی ہے مجھ سے کرو ” ایک عورت جو تقریباً 40 سے 45 سال کی دکھائی دیتی تھی اس نے پری کو روک کر اس سے سوال کیا
“جی میں یہاں رہنا چاہتی ہوں ،پیسے نہیں ہیں پر آپ مجھے ملاذمہ کے طور پر رکھ سکتی ہیں ،میں سارے کام کر لیا کروں گی بس آپ مجھے سر چھپانے کو ایک چھت اور دو وقت کی روٹی دے دیا کریں “پری نے جواب دیا
“سودا تو برا نہیں ہے بس دو وقت کی روٹی ہی تو دینی ہے ” اس عورت نے دل میں سوچا “ہم چل ٹھیک ہے اندر آجا “،وہ عورت پری کو ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گئی ،”لے یہ تیرا کمرہ ہے تو یہاں رہ سکتی ہے میرا نام مائدہ ہے اور میں اس ہاسٹل کی وارڈن اور نگران ہوں ،ابھی آرام کر شام کو صفائی شروع کر دینا لڑکی کیوں کہ اس وقت کوئی لڑکی نہیں ہوتی ہاسٹل میں اور اس ہاسٹل کی لڑکیوں سے دور ہی رہنا بہت بدمعاش ہیں وہ “مائدہ پری کو حکم دے کر چلی گئی جب کہ پری کمرے کا جائزہ لینے لگی
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
شام کے وقت پری نے جھاڑو اٹھایا اور ہاسٹل کی صفائی شروع کر دی ،اکیلی جان تھی اور اتنا بڑا ہاسٹل تھا تین سے چار گھنٹے لگے صفائی کرنے میں ،رات کے وقت کھانا لگا تو سب لڑکیاں لاؤنج میں موجود ٹیبل پر بیٹھ گئی جہاں کھانا کھایا جاتا تھا ،پری معصوم پورے دن کی محنت کے بعد ان سب لڑکیوں کے برابر ہی ٹیبل پر بیٹھ گئی
“اے لڑکی تم کیا یہاں نئی ہو میرا نام صدف ہے “صدف نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پری سے سوال کیا
“جی میں یہاں کی نئی ملاذمہ ہوں آج ہی مائدہ باجی نے رکھا ہے “پری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
“کیا ملازمہ!! تیری ہمت کیسے ہوئے ہم سب کے ساتھ بیٹھنے کی “صدف ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے غصے سے بولی
“جی میں وہ ….”پری گھبرا کر جلدی جلدی کھڑی ہو گئی
“تو رک ذرا بتاتی ہوں تجھے میں “صدف کرسی سے اٹھی اور پری کی جانب بڑھی ،اور ایک زور دار تھپڑ پری کے منہ پر رسید کیا ،پری کو تھپڑ پڑتے ہی پورا لاؤنج قہقہوں کی آواز سے گونج اٹھا
“یہ ہے تیری اوقات ملازمہ کہیں کی “پری کو تھپڑ مارنے کے بعد صدف گردن اکڑاتے ہوئے بولی جیسے بہت ہی فخر کا کام کیا ہو ،دوسری طرف بیچاری پری منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگی اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ سب کہ برابر بیٹھی تھی
“اے مائدہ ،مائدہ “صدف اونچی آواز سے چیخی
“کیا ہے کیوں چیخ رہی ہے صدف “مائدہ نے ابرو اچکاتے ہوئے سوال کیا
“ہونا کیا ہے یہ دو ٹکے کی ملازمہ برابر بیٹھی تھی ہمارے ،مائدہ اگر تیرے ہاسٹل کا یہی حال رہا تو ہم نہیں رہیں گے یہاں “صدف نے واضح کر دیا
سب لڑکیوں نے صدف کی ہاں میں ہاں ملائی
“اچھا اچھا ٹھیک ہے معاف کردو آئندہ ایسا نہیں ہو گا اور اس لڑکی سے تو میں ابھی پوچھتی ہوں ” مائدہ نے سب کی یقین دہانی کرائی اور پری کو بالوں سے گھسیٹتے ہوئے اس کے کمرے میں لے گئی
“کیا ضرورت تھی تجھے ان سب کے ساتھ بیٹھنے کی اگر وہ سب چلے گئی نا یہاں سے گو تجھے میں چھوڑوں گی نہیں ،ہاسٹل میں جگہ کیا دے دی اپنی اوقات ہی بھول گئی ،آج تجھے کھانا نہیں ملے گا میں تجھے یہاں بند کر رہی ہوں اب صبح کو ہی یہ دروازہ کھلے گا “مائدہ پری پر مسلسل چیخ رہی تھی ،اس کو چھوٹی سی غلطی کی اتنی بڑی سزا دی جا رہی تھی
“اچھا کھانا نا دیجئے پانی تو دے دیں “،پری مائدہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی
“اچھا پانی چاہیے تجھے ابھی دیتی ہوں پانی “،مائدہ نے پانی کا خالی گلاس پری کے منہ پر دے مارا
“لو پیو پانی جو اس گلاس میں بوندیں بچی ہیں نا پانی کی اسی کو پیو “مائدہ نے باہر سے دروازہ بند کر کے اس کو تالا لگا دیا جب کہ پری کمرے کے ایک کونے میں دبک کر آنسو بہانے لگی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: