Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 1

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 1

–**–**–

ایک سرائیکی کہاوت ہے کہ میرے محبوب ایسے یگبارگی جدائی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے تجھے مجھ سے بچھڑنا ہی ہے تو دھیرے دھیرے قسطوں میں بچھڑ اس بار کا موسم گرما بھی کچھ اس سنگ دل محبوب جیسا روپ دھارے دھیرے دھیرے قسطوں میں بچھڑنے کے جتن کر رہا تھا تیز دھوپ میں کولتار کی لمبی سنسان سڑک کیسی سیاہ گلیشیئر سے پچھلی ہوئی جھیل جیسی چمک رہی تھی میرے پرانے فلیٹ جوتوں کا تلاش نیچے سے کئ جگہ کھل چکا تھا لہذا ابلتا ہوا کولتار میرے پیروں میں انگارے سے بھر رہا تھا اسکول کی چھٹی کے بعد گھر تک یہ راستے کا پل صراط مجھے ہر روز پار کرنا ہوتا تھا کتنی بار دبے لفظوں میں اماں کو جاتا چکا تھا کہ میرے پیروں کے چھاپے اب شمار کی حد سے نکلتے جارہے تھے مگر چار بہن بھائیوں میں میرا اور کا میرٹ نکالا جاتا تو میری عرضی کا تیسرا نمبر نکلتا تھا اور ابا کی تنخواہ بس اتنی تھی کی وہ صرف اماں کی ہی سن سکتے تھے پھر بھی پھر بھی ہر پندرہ دن کے بعد گھر کے راشن کا رونا شروع ہوجاتا تھا راستے میں گزارتے ہوے مجھے حسب معمول چند لمحوں کے لیے برٹش جوتوں کی بڑی دوکان کے چھپر تلے سستانے کا موقع ملا میں ہمیشہ کی طرح مسرت بھرے تجس کے ہاتھوں مجبور ہو کر دوکان کے شیشے کی دیوار سے پرے ہاتھوں کا کٹھورا بنا کر جھانکنا شروع کر دیا اندر دوکان کا نوکر ایک میم صاحب کو اس کی پسند کے سینڈل پہنا کر جانچ کروارہا تھا کتنی پیاری تھی وہ گوری سی میم دودھ سی دھلی ہوئی آمنہ 😍
آبشار کی جلترنگ کی مانند بکھری نکھری سی تھی ۔۔مگر میرے خیالات کا تسلسل ہی ٹوٹ گیا شاید پہلے دوکان کا مالک اور پھر نوکر نے مجھے دیکھ لیا تھا نوکر تیزی سے دوکان باہر آیا اور مجھے ہکارت بھرے لہجے میں جھڑکنے لگا ۔۔
اوئے لڑکے کتنی بار تجھے کہا ہے یہاں شیشہ کے پاس نہ کھڑا ہوا کر سارا شیشہ گندہ کردیا چل بھاگ یہاں سے ورنہ مار کھائے گا آج مجھ سے ۔۔ میں جلدی گھبرا کر اپنا بستہ سنبھالے ہوے وہاں سے آگے بڑھ گیا یہ نفرت یہ حقارت یہ رویہ میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی بچپن سے ہی مجھے ہوش سنبھالتے ہی مجھے ہر طرف سے ایسے ہی تحقیر آمیز رویوں کا سامنا تھا اور پھر لوگوں سے کیا گلہ شکوہ کیوں کر۔۔۔؟میری صورت میرا حلیہ ایسے ہی رویے ایسی ہی حقارت اور نفرت کا منتقاضی تھا ۔۔
میں اپنے ماں باپ کا تیسرا بچہ تھا ابا ایک شربت کی پیکنگ والی پرائیویٹ فیکٹری میں کام کرتے تھے صبع سے شام تک بوتلوں کا گتے کے ڈبوں میں بند کر کے شام کو وہ جب گھر آتے تو ان کے غصہ کا جن کھل چکا ہوتا اور ہم سب کہیں دبک کر باقی کا وقت گزارا کرتے تھے قلیل تنخواہ ضروریات مہنگائی اوپر سے چار بچوں کی فوج۔۔ کھبی کھبی مجھے ایسا لگتا تھا کہ یہ جو غریب ماں باپ ہوتے ہیں یہ آپنی غربت کو بانٹنے کے لیے آپنا آنگن بچوں سے بھر لیتے ہیں ۔۔یا پھر شاید ان کا غربت سے کوئی انتقام ہوتا ہے ۔۔
وہ سردیوں کی طویل اور کھٹن رات تھی جب میرا جنم ہوا ۔دائی اماں بتاتی تھیں کہ میری پیدائش کے وقت حسب معمول خوراک کی کمی کی وجہ سے اماں کی صحت اور طبیعت کافی بگڑی ہوئی تھی نتیجہ میری صورت میں ایک کمزور لاغر اور گہرے سانولےرنگ کا بچہ اس دنیا میں ہوا میرے باقی بہن بھائی پھر بھی کافی بہتر اور کھولی ہوئی گندی رنگت لیے پیدا ہوے تھے پر نہ جانے قدرت نے یہ ساری سیاھی مقدر کی دوات میں کیوں بھر دی ۔چھوٹی خالہ کی اماں سے ہمیشہ پی کچھ نا کچھ کھٹ پٹ چلتی رہتی تھی لہذا انہیں تو جیسے موقع مل گیا پھر سے طنز تیر چلانے کا جھٹ سے بولی آئے ہائے باجی۔۔ یہ اتنا کالا کلوٹا بچہ کس پر چلا گیا ۔۔لگتا ہے جیسے اماوس کی رات آنگن میں اتر آئی ہو ۔آس پاس کھڑی سبھی عورتیں ذور سے قہقہ مار کہ ہنس پڑیں ۔۔اماں جو پہلے ہی میرے رنگ کہ وجہ سے جلی پڑی تھی ۔تلملا ہی تو گئیں اور جھٹ سے بولیں ۔۔۔
جیسا بھی ہے ہے تو میری اولاد ۔۔اور بھئی تو تمہاری اس بھینگی بیٹی سے زیادہ ہی پیارا لگتا ہے۔۔
اب جلنے کی باری خالہ کی تھی تڑپ کی بولی ہاں ہاں ۔۔بڑا کوہ قاف کا شہزادہ جنا ہے تم نے ۔۔
اماں بھلا کہاں پیچھے رہنے والی تھیں پلٹ کر ترکی بے ترکی حساب برابر کیا۔ہاں میرے لیے تو کوہ قاف کا شہزادہ ہی ہے ۔۔اور میں اس کا نام بھی شہزادوں والا ہی سوچا رکھا ہے ۔پری زاد ۔ہاں یہی نام ہوگا میرے بچے کا ۔۔،،
پری زاد سبھی عورتیں زیر لب بڑ بڑائیں اور کن اکھیوں سے ایک دوسرے کو اشارہ کرتیں اور معینی خیز مسکراہٹ لیے یہ کہتے باہر نکل گئیں ۔۔
پری پیکر سنا تھا ۔۔یہ پری زاد بھلا کیا نام ہوا ؟؟
بس وہ دن تھا جب میری قسمت میں ہمیشہ کیے لیے لوگوں کی نظر میں تمسخر طنز اور حقارت لکھ دی گئی تھی ۔
کاش اس روز اماں چھوٹی خالہ کی طنز کے جواب میں خاموش رہتیں تو شاید میری زندگی اتنی تلخ نہ ہوتی میری کالی گھٹاؤں جیسی رنگت لاغر جسم اور غیر دل کش نیں نقش والی مسکین سی صورت کا تعارف جب پری زاد نام سے کراوایا جاتا تو اگلا سننے والا قہقہے مارنے پہ مجبور ہوجاتا تھا مجھے یاد ہے جب مجھے پہلی جماعت میں داخل کروایا گیا تو استاد نے بچوں کو فردا فردا کھڑےکر کے ان کا نام پوچھتے تھے ۔
میری باری آئی تو میں نے کھڑے ہوکر معصومیت سے اپنا نام بتایا ۔۔پری زاد۔۔استاد چند لمحے حیرت سے میرے پرانے لباس اور حلیہ کو دیکھتا رہا اور پھر مجھے دیکھ کر زور سے ہنس پڑا ۔۔
واہ شہزادہ ۔۔۔نام تو بڑا کمال رکھا ہے ماں باپ نے ۔۔۔؟
استاد کی بات پر باقی بچے بھی زور سے ہنس پڑے تب مجھے سمجھ نہیں آیا تھا کہ آخر میرے نام میں ایسی کیا خامی ہے جو بھی سنتا ہے مزاق اڑاتے ہے مگر پھر دھیرے دھیرے مجھے اس بات کا احساس ہوتا گیا کہ مسلہ میرے نام کا نہیں ۔۔میری صورت کا ہے دھیرے دھیرے میں میرا نام بزات خود ایک مزاق بنتا چلا گیا اور پھر سکول ہی کیا گلہ محلے بازاروں میں جہاں بھی میرے نام کی شہرت پہنچی پہلے تو لوگ اچنھبے کاشکار ہوجاتے اور پھر مجھ پر نظر پڑتے ہی ان کی یہ حیرت ایک طنز یہ مسکراہٹ میں تبدیلہوجاتی مگر اس وقت میں ایک نا سمجھ معصوم بچہ تھا میں یہ نہیں جانتا تھا کہ اس دوغلی دنیا میں انسان کا من چاہے جتنا بھی میلا ہو اوس کا تن ضرور اجلا ہونا چاہئے بندے کے دل میں چاہے جتنی ہی کھوٹ ہوں اوس کے چہرے اور صورت میں کوئی کھوٹ نہیں ہونی چاہیے کیوں کی یہ دنیا ظاہر پرستوں کا ڈیرہ ہے ۔۔روح کے اجھلے پن اور خوبصورتی کو پرکھنے والی آنکھیں ان بے بصیرت لوگوں کے پاس کہاں ۔۔۔؟
میری بد نصیبی کی داستاں یہی ختم نہیں ہوتی قدرت کا مذاق میرے ساتھ سنگین ترتب ہونے لگے جب شاید ڈھائی یہ تین سال کی عمر میں میرے من میں چھپی خوبصورتی کی چاہ اس پاس کے لوگوں نے محسوس کرنا شروع کردیا اماں بتاتی تھی کے بھری پڑی محفل جب کوئی مجھے پکارتا تو میرے درمیاں میں بیٹھی درجن بھر عورتوں کو چھوڑ کر صرف اس کی گود میں جا بیٹھا جو اس محفل میں سب سے اجھلے چہرے والی ہوتی تھی ۔خوبصورتی کی یہ چاہ صرف خوبصورت چہروں تک ہی محدود نہیں تھی مجھے قدرت کی بنائی ہر چیز سے پیار ہوجاتا تھا پھر وہ چاہے پھول ہوں رنگ ہوں آسمان یہ بادل کوئی دھن ہو بارش یہ برف سے سجا کوئی نظارہ مجھے یاد ہے میں سکول کے راستے میں پڑنے والی تصویروں کی دوکان کے باہر گھنٹوں کھڑا خوبصورت نطاروں والی تصاویر دور سے ہی دیکھ دیکھ خوش ہوتا رہتا تھا مگر مجھ جیسے غریب خاندان میں پیدا ہونے والے بچے کے اندر ہلتی یہ حسن پرستی میرے لیے ایک دوھرا عذاب بنتی گئی دنیا کی ہر خوبصورت چیز پر شاید ضرف حسیں لوگوں کا ہی حق ہوتا ہے بدصورت لوگوں کے لیے معاشرے کے ہر طرف بدصورتی ہی پنپتی ہے پے سو میرے آس پاس بھی ہر لمحہ وہی بدصورتی بھٹکتی رہتی تھی چھوٹا سا کچا گھر کچرے سے اٹی گلیاں ڈھول اڑاتا محلہ اور سب سے بڑھ کر میرے لیے لوگوں کی کرخت اور بد صورت سوچ اور نظر ۔۔۔
اس پر ایک ستم یہ بھی ہوا کہ پانچوں جماعت میں جس دن اسکول میں فیصل سے سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے والی سرکاری ٹیم آنی تھی اس روز نا جانے میں کس وجہ سے سکول نہ جا پایا ۔ان دنوں ملک میں چیچک بڑی طرح پھیل رہی تھی اور ٹھیک ایک ماہ بعد میرے چہرے پر عجیب سے سرخ دانے ابھرتے دیکھ کر اماں چلا کر ابا سے کہا ۔پری زاد کے بابا ۔۔یہ لڑکے کا چہرہ تو دیکھوں ۔یہ کیسے دانے ہیں ؟ابا بھاگم بھاگ مجھے لیے سرکاری ہسپتال ٹیکہ لگوانے پہنچ تو گئےمگر تب تک بیماری اپنا کام کر چکی تھی اور چند ہفتوں بعد ہی جب میرے چہرے سے زخموں کا کھرنڈا اترو تو ساری عمر کے لیے میرے چہرے پے چیچک کے بد نما داغوں کی نشانی چھوڑ چکا تھا مگر میرے دل پر ان داغوں سے کئی زیادہ گہرے داغ اور زخم ان لوگوں کی باتوں نے لگائے جو بظاہر میری تیمارداری اور اماں سے ہمدردی مٹانے کے لیے آتے تھے مگر ہنسی اور مذاق کی تہہ میں چھپے طنز کے ایسے نشتر اور تیر چلاتے تھے کہ اس چھوٹی عمر میں بھی میرا دل چھلنی ہوجاتا تھا ۔کون کہتا ہے کہ انسان نے جدید دور میں میزائیل ۔بم اور ڈاون ایجاد کر کے تباہی پھیلائی ۔ختما تیرا گھاو انسان کی زبان کیسی انسان کے دل میں کر سکتی ہے ۔اس لوٹ اور ذخم کا مقابلہ یہ نئے دور کی یتھیار کیا کر پائیں گے کھبی کھبی میں سوچتا تھا کہ ایٹم بم بنانے والے سائنس دان کو شاید زبان کا زہر کا ٹھیک طرح سے ادراک نہیں ہے ۔۔۔ورنہ اسے دنیا برباد کرنے کے لیے اتنی محنت نہ کرنی پڑتی ۔۔۔
شاید میرے ماں باپ کا اس معاملے میں اتنا قصور نہیں تھا
جب کیسی غریب گھرانے میں یکے بعد دیگرے اوپر نیچے نو بچے پیدا ہوجائے تو پھر ان بچوں میں کیسی ایک بچے کی حسایت کا بھلا کیسے خیال رہتا ہے ۔۔
یہ میرے بدقسمتی تھی کے کہ میں ایسی صورت کی باوجود بھی اندر سے بے حد حساس واقع ہوا تھا ۔
بدصورتاگر حساس بھی ہوتو اوسے سونے پر سہاگہ ہی کہاں جائے گا کاش انسان اس دنیا میں غریب ہی پیدا ہوتا ۔
یا صرف نازک دل ۔مجھ جیسے لاکھوں کروڑوں بچے کے انہی گلی کوچوں کی دھول چاٹنے ہوے دل کھول کر بڑے ہو ہی جاتے ہوگئے مگر مگر میری خساسیت نے میری زندگی کا خارزاد میرے لیے طویل کر ڈالا ۔میں جتنا لوگوں کی آنکھوں سے چھپتا اتنا ہی ان کی نظر میں آتا تھا اور میرے اندر پلتا وہ ایک حسن پرستی پری زاد ہر خوبصورت چہرہ آپنی جانب لبھاتا تھا کسی مہہ جبییں کی ایک جھلک میرے دل میں اتھل پتھل مچادیتی تھی دھڑکن اتنی تیز ہوجاتی کئ لگتا ابھی دل سینے کا پینجرہ توڑ کر باہر نکل آئے گا ۔مگر اس آفت روگ سے اس وقت تک ناآشنا رہا جب تک میں نے لڑکپن میں قدم نہیں رکھا تھا ۔بچپن تو یو ہی مٹی کی سحن میں مٹی ہو کے گزرتا گیا ۔
مجھ سے بڑی ٹیں بہنیں اور سب سے بڑے دو بھائی اور مجھ سے چھوٹی ایک بہن اور دو بھائی سبھی کی زندگی میں گزر رہی تھی کیوں کے انہیں نہ تو اپنی زندگی سے کوئی توقع تھی نہ پی جیون کا برتاؤں ان سے کچھ الگ تھا
شاید زندگی میں سب سے بڑے دشمن آپنی توقع ہوتی ہے ۔کانٹوں میں الجھا دینے والی امیدیں گرم تپتی ریت پر چلنے پر مجبور کرنے والی تواقعات ۔۔۔ میں آٹھویں جماعت میں تھا جب دو بڑے بھائیوں کی اکٹھے شادی کر دی گئی ۔گھر میں دو افراد کا اضافہ ہوگیا اور ہم سب بہن بھائی آپنی اپنی مخصوص جگہوں پر سکتے ہوے باہر برامدے اور صحن میں آگئے چھوٹے سے گھر کی تقصیم کتنی مشکل ہوتی ہے جہاں باتیں رو درکنار ایک دوسرے کی سوچ بھی سنائی دی جاتی ہے لہذا دھیرے دھیرے ہم بہن بھائیوں کی سوچ بھی سرگوشیانہ ہوتی چلی گئی شاید مجبوری اور غلامی کی انتہا بھی یہی ہوتی ہو گی انسان اپنی سوچ کی بولی بھی اونچی نہ ہونے دے سوچنا بھی سرگوشیوں میں شروع کردے ۔۔۔
بھائیوں کی شادی کے بعد گھر کی آبادی بڑھی تو ہم سب کومزید سرکا دیا گیا کمرے والے برامدے میں برامدے والے صحن میں اور جو صحن میں سوچتا تھا میرے لیے فرمان صادر ہوا کی باقی بھائی بہن چونکہ چھوٹے ہیں لہذا مجھے گھر کی چھت پر بنے ایک کچھ گودام نما کمرے منتقل ہونا پڑے گا چھت پریٹن اور مٹی کا بنایہ یہ چھوٹا سا کمرہ گھر کے کاٹھ کباڑ خو جمع کرنے کے کام آتا تھا غریبوں کی زندگی میں کوئی چیز فالتوں نہیں ہوتی ایک سال پہلے جس شے کو فالتو یا کچرہ یا زائدہ سمجھ کر اس گودام میں پھینک دیا جاتا تھا اگلے سال اسی کی تلاش میں اماں اور بڑی بہنیں سارا گودام الٹ پلٹ کر رہی ہوتی تھی ۔
میری لیے بھی یہی حکم تھا گودام کی تمام قیمتی اشیاء ایک طرف سلیقہ سے لگا کر اپنی پرانی چارپائی اس گودام میں ڈال دو ۔آتے وقت میں اپنی کورس کی کتابیں وہی اٹھا لایا ۔۔
اب سکول واپسی پر کھانا کھانے کے بعد میں چپ چاپ اوپر بنے ٹین کی چھت والے کمرے میں چلا آتا شروع شروع میں تو مجھے اس تنہائی میں سکون کا احساس ہونے لگا تنہائی میرے وجود سرئیت کرنے لگی اور میری اس تنہائی سے دوستی سی ہوگئی ۔تنہائی میں ہم خود اپنے ساتھ ہوتے ہیں اور مجھ جیسا لڑکا جیسے کیسی دوست یا ساتھی کا ساتھ میسر نہ ہو اس کے لیے آپنا یہ ساتھ کتنا غنیمت تھا یہ میں ہی جانتا تھا آہستہ آہستہ میری یہ تنہائی مجھ سے باتیں کرنے لگی ۔وہ مجھے اوروں کی طرح بدصورت لاغر اور کم تر نہیں سمجھتی تھی بلکہ اس کے لیے میں حقیقیت میں پری زاد تھا وہ میرے ساتھ مختلف کھیل کھیلا کرتی میری تنہائی مجھے کھبی سکول کا سب سے لائق ہونہار طلبہ علم بنا دیتی جو سارے ضلع اول پوزیشن لینے کے بعد کھچا کھچ بھرے ہوے میں ہیڈ ماسٹر سے ٹرافی وصول کر رہا ہے
کھبی میں اسکول کا سب سے بہترین کھلاڑی بن کر سارے مقابلے بہت رہا ہوتا تو کھبی آپنی ٹیم کو آخری بال پر چھکا لگا کر بتا دیتا سارا سکول دیوانہ وار تالیاں بجاتا اور میں ضلع کے اسکولوں میں سے تقریری مقابلے میں اول آکر اپنے ہم جماعتوں کے کندھوں پر سوار واپس اپنے اسکول پہنچ جاتا غرض میری تنہائی نے میرا ہر خواب سچ کر دکھایا جس کا میں عام زندگی میں کھبی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کلاس میں میں ایک درمیانے درجے کا شرمیلا طالب علم تھا جس نے غیر نصابی سرگرمیاں تو دور کھبی نصاب میں بھی کوئی غیر معمولی کارکردگی نہیں دکھائی تھی ۔اگر غلطی سے استاد کھبی کوئی سوال پوچھ بھی لیتا تو میری ٹانگیں کانپنے لگتی ۔۔سانس پھول جاتی اور اگر خوش قسمتی سے مجھے اس سوال کا جواب آتا ہو تب بھی میرے منہ سے کچھ اور ہی نکلتا ۔اس کیے مجھ سے کیسی استاد نے توقع رکھنا ہی چھوڑ دی تھی ۔مجھ سے بڑے بھائیوں نے جیسے تیسے دسویں امتحان پاس کر کے کلرکی نوکری شروع کردی تھی اور اب وہ اپنی دنیا میں مگن تھے انہی دنوں جب میں دسویں جماعت میں تھا ۔میری بڑی بہن کی بات کہیں طے ہوگئی اور اس کے سسرال والوں کی ضد کے آگے ہار کر ابا کو رخصتی کی ہامی بھرتے بنی ہماری برسوں کی لگی بندھی زندگی کی روٹین میں ایک ذرا سی ہلچل پیدا ہوئی اور اماں اس پاس کے پڑوسیوں اور لڑکیوں بالوں کو ڈھولکی کے لیے ہفتہ بھر پہلے ہی روزانہ شام کو گھر آنے کی دعوت دے دی ۔ایسے موقعوں میں زیادہ تر چھت آپنے ڈر بے نما کمرے میں ہی قید رہتا تھا حلانکہ میرا دل بہت چاہتا کہ میں صحن جھانک کر محلے کی لڑکیوں کا شوروغل اور دھنگامہ کرے دیکھوں ان کی ہنسی اور قہقہوں کی آواز میرے کمرے تک آتی تو میں کوئی بار چھت کی منڈیر تک آہ کر واپس لوٹ جایا کرتا تھا اگر کیسی کام سے گھر سے باہر جانا ہو تو میں چپ چاپ صحن کی پچھلی جانب سے نیچے اوتر کر گھر کا کان پورا کر آتا ان دنوں سر شام ہی محلے کے نوجوان لڑکے پوری گلی ارد گرد منڈلانے لگے تھے اور اماں یہ ابا بھلاوے پر بھاگ بھاگ کر ہمارے گھر کا کام یو کرتے جیسے ان پر فرض ہو مجھ پر یہ بھید بہت دیر بعد کھلا کہ ان میں سے ہر ایک محلے کی کسی کی ایک جھلک دیکھنے کی آس میں یہ گلی یا ترس کرتا ہے کھبی کھبار ان کے قریب سے گزرتے ہوئے ان کی سرد آہیں اور عشقیہ جملے میرے کانوں میں بھی پڑ جاتے ۔۔
یار کیا ہوا۔۔وہ آئی کی نہیں ۔۔اس کا تو گھر گھر سے نکلنا ہی عذاب ہوچکا ہے ۔تو بتا تیرے والی آئی کے نہیں ۔۔۔
ہاں ۔۔آئی تو ہے ۔۔۔پر اس کی ماں کی بڑی کڑی نگرانی ہے آج کل ۔۔اس پر سوچتا ہوں کے خط پکڑا کی کوئی ترکیب کروں۔
میں حیرت سے ان کی باتیں سنتا رہتا اور رشک سے ان سب کو دیکھا کرتا تھا میری نظر سب لوفر بہت عظیم درجہ رکھتے تھے بھلا اس دینا میں کسی محبوب بننے سے بڑا کوئی درجہ ہوسکتا ہے ؟
عاشق تو لاکھ مل جائیں گے ۔۔پر محبوب کے درجے پر شاذو نازر ہی کوئی فائیز ہوتا ہے یہ خود کو کتنا مکمل کر دینے والا احساس تھا کہ کوئی اس دنیا میں ایسا بھی ہے جو آپنی تنہائی میں آپ کو سوچتا ہے آپ کی فکر کرتا ہے آپ کی یاد اس کے ہونٹوں پر ایک میٹھی سی مسکان بکھیر دیتی ہے مجھ جیسے معمولی لڑکے کے لیے تو یہ زندگی کی معراج تھی کیونکہ مجھے محلہ کی کیسی لڑکی نے آج تک دیکھنا رو دور درکنار مجھ پر ایک چھوٹی سے نگاہ بھی نہیں ڈالی تھی ۔لڑکیاں تو لڑکیاں مجھ سے محلے کے خوبرو لڑکے بھی بات کرنا پسند نہیں کرے تھے یا شاید میں ان کے لیے واقع ہی نہیں ہوا تھا وہ گھنٹوں آپس میں اپنی معاشقوں کی باتیں کرتیں رہتے اور میں ان کے قریب بیٹھے ہونے کے باوجود کھبی اتنی توجہ کا باعث بھی نہیں بن سکا تھا کہ ان میں سے کوئی مجھ سے اتنا ہی کہ دے کہ ۔۔۔
بھائی جاوں جو کر اپنا کام کرو ۔۔۔کہاں ہمارے درمیان گھسے پڑے ہو ؟۔۔۔۔
ان میں سے اگر کیسی کی کوئی اچنتی نگاہ مجھ پر پڑ بھی جاتی تو وہ بے پرواہی سے کہتا ۔۔یار پری ۔۔۔جلدی سے ایک ڈبیہ کیپٹن کی تو پکڑ لا ۔۔۔
یا دوسرا کہتا ۔۔اچھا سن ۔۔دو ماچس بھی لے آنا کم بخت لائٹر تو ہفتہ بھر بھی نہیں چلا ۔۔۔۔
ہم۔سب عمر کے اس دور میں تھے جہاں گھر والوں سے چھپ کر سگریٹ پینا ایک کارنامہ سمجھا جاتا تھا اور ان کی نظر میں میری وقعت اتنی ہی تھی کہ میں ان کی یہ ہلکی پھلکی خدمت کرتا رہوں ۔۔یا پھر ہو کہہ لے کہ میں ان کہ نظروں میں قطعی بے ضرور تھا ۔۔عاشق کو خطرہ صرف اپنے رقیب سے ہوتا ہے اور میری اتنی اوقات ہی نہیں تھی کہ میں کیسی ادنی درجے کے رقیب کی عہدے پر ہی فائیز ہو سکوں ۔ان دنوں محلے میں میں دعا کی خوبصورتی کا بڑا چرچہ تھا 😍
محلے کے سبھی لڑکوں کی نیندے حرام کر رکھی تھی اس پری چہرہ نے ۔اور ہماری گلی میں جمع ہونے والی بھیڑ کی بنیادی وجہ دعا ہی تھی ۔۔کیونکہ وہ روزانہ آپنی ماں کے ساتھ مغرب کے بعد ہمارے گھر کی تقریب میں شامل ہونے آتی تھی ہمشیہ نظریں جکائے اور سر پر اوڑھی اوڑھے دعا کو میں نے ایک آدھی بار گلی میں آتے جاتے دیکھا تھا سفید لباس میں وہ کتنی پاکیزہ اور معصوم دکھائی دیتی تھی ۔شادی کا دن قریب تھا اور گھر میں ہنگامہ بھی اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا جب ایسے ہی ایک شام گھر کے صحن سے گزر کر میں کیسی کام سے باہر کے لیے صحن سے نکلا تو صحن میں بیٹھی کسی لڑکی کی آواز سنائی دی ۔۔
پری زاد زرا سنیے ۔۔۔میں نے پلٹ کر دیکھا تو اور میری سانس تھم گئی ۔مجھے پکارنے والی کوئی اور نہیں،
دعا ہی تھی..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: