Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 10

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 10

–**–**–

بہروز کریم کی آواز سننے ہی میرے خوابیدہ کو ایک جھٹکا سا لگا
مگر پھر میں ہوش کی سفاک سرحدوں کو پاس کر گیا۔میں آج تک یہ نہیں سمجھ پایا تھا کہ یہ سرحدیں کیوں بنائی جاتی ہیں جاوید اختر ٹھیک ہی کہا تھا۔۔
سرحدیں انسان کے لیے ہوتی ہیں۔سوچو تم نے اور میں نے کیا پایا انسان ہوکے۔؟میں بھی ایک ایسا ہی بدنصیب انسان تھا۔پنچھی ندیا یا پون کا جھونکا ہوتا تو جانے کب اس زفاخ دنیا دے پرواز کر چکا ہوتا مگر میرے پر تو باندھے تھے جتنی بار مجھے ہوش آیا میں نے خود کو سفید پٹیوں میں بندھے ہوے پایا پھر ناجانے کتنے دن بعد مجھے تھوڑی دیر کے لیے مکمل ہوش آیا تو میں ایک آرام دہ کمرے میں ایک نرم بستر پر پڑا ہوا تھا۔ایک برس میرے قریب بیٹھی مستعدی سے میری دواوون کا چوٹ بنا رہی تھی میں نے گھبرا کر اس سے پوچھا ۔
میں کہا ہوں؟؟
نرس نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔تب مجھے خیال آیا کے میں بے خیالی میں اردو میں بات کر رہا ہوں۔میں نے دوبارہ انگریزی میں پوچھا تو وہ مسکرا کر بولی۔فکر مت کرو تم محفوظ ہاتھوں میں ہو تمہارے زخم دھیرے دھیرے بھر رہے ہیں۔تم بس آرام کرو ۔
نرس کمرے سے نکل گئی اور پھر مجھے جتنی دفعہ بھی ہوش آیا میں نے اسی نرس سے چند مخصوص چہروں کو اپنے ارد گرد منڈلاتے دیکھا۔خو پوری طرح میرا خیال رکھ رہے تھے یہ زخم بھی کتنے بے وفا ہوتے ہیں۔میسحائی کا مرہم ملتے ہی کیسے اپنا مسکن ہمارا یہ جسم چھوڑ جاتے ہیں وہی جسم جوان زخموں کی خاطر جانے کیسے کیسے درد عذاب جھیلتا ہے یہ اسی کو بھول جاتے ہیں۔ان سے اچھے تو ان زخموں کے دیے ہوئے داغ ہوتے ہیں۔عمر بھر ساتھ تو نبھاتے ہیں کاش رشتے بھی داغ جیسے ہوا کرتے زخم بن کر عارضی ساتھ نہ دیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔تقریبا ہفتہ بعد میں اٹھنے بیٹھنے کے قابل ہوگیا مجھے سب سے زیادہ فکر رفیق کی تھی جانے وہ میری تلاش میں کہا کہا بھٹک رہا ہوگا۔۔؟کہیں اس نے پریشان ہو کر میرے گھر والوں کو خبر نہ کردی ہو؟میری دیکھ بال پر مامور طلبی عملہ میرے کسی سوال کا جواب نہیں دیتا تھا یا شاید انہیں واقعی ہی کچھ پتا نہیں تھا اور پھر اٹھویں دن پہلی مرتبہ مجھے فیروز خان کا چہرہ نظر آیا وہ میرے کمرے میں داخل ہوا تو میں اٹھ بیٹھا ۔
یہ سب کیا ہے فیروز؟اور میں کہاں ہوں؟مجھے یہاں کون لایا ہے؟ مالک کہاں ہیں ؟کوئی میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتا؟فیروز نے حسب معمول خاموشی سے سارے تابڑ توڑ سوالات سنے اور پھر اطمینان کے ساتھ بولا۔سب پتا چل جائے گا ویسے تم واقعی ہی بڑی سخت خان نکلے ورنہ میرا خیال تھا کہ جیسا کچا لڑکا ایک جھٹکے میں ہی ٹوٹ جائے گا۔لیکن زندگی میں پہلی مرتبہ میرا اندازہ غلط ثابت ہوا میں نے حیرت سے فیروز کی طرف دیکھا ۔۔۔کیا مطلب۔۔؟
تو کیا تم لوگوں کو خبر تھی کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے اوڑھے اغوا کر کے کہاں رکھا گیا ہے ۔۔؟
فیروز کے طیرے ہر حسب معمول کا فقدان تھا۔اس نے جیب سے اپنی مخصوص برینڈ کی بیڑی نکالی تو ہونٹوں میں لگا کر سلگائی۔ہاں۔۔ نہ صرف جگہ کا پتا تھا بلکہ تمہیں یہاں اٹھا کر لانے والے بھی ہمارے آدمی تھے ۔۔؟
میرے دماغ کا تو جیسے فیوز ہی اڑ گیا میں نے چلا کر کہا مگر کیوں ؟مگر میرے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کیا گیا؟؟
فیروز کا لہجہ بھی دھیما اور پرسکون تھا ۔۔تمہی نے تو مالک سے کہاں تھا کہ تمہیں بہت پیسہ کمانا ہے۔یہ پیسے کمانے کی پہلی کسوٹی تھی تم کیا سمجھتے ہو کہ ہم اتنے ہی پاغل ہیں کہ ایک دن راہ چلتے تمہیں پسٹل تھما کر کروڑوں ریال کا مال لینے ساحل پر بھیج دے گے۔؟تمہیں تو شاید ابھی تک گولی چلانا بھی نہیں آتی۔پیسہ کمانے کے لیے صرف کلائی کی نہیں کلیجے کی بھی ضرورت ہوتی ہے یہ تمہاری برداشت حوصلے اور بہادری کا امتحان تھا۔ہم میں سے جو بھی مالک کے خاص کارندے ہیں انہیں اس طرح کی کئی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ہاں۔مگر تمہاری باری پر مالک نے ناجانے ہاتھ اتنا سخت کیوں رکھا ۔۔
میں منہ کھولے حیرت سے فیروز کی ساری بات سنتا رہا۔اس نے مجھے بتایا کے ساحل پر ہونے والے ڈرامے سے لے کر میرے فرار کی کوشش تک سبھی پہلے سے طے شدہ تھا مجھے فیروز کریم کے خاص گروہ میں شامل کرنے سے پہلے انہیں میری وفاداری کا ہر طرح امتحان لینا تھا ۔کیوں کے جب کھبی میں ان کے لیے باقاعدہ کام شروع کرتا تو کسی بھی وقت گرفتاری کی صورت میں مجھے انہی حالات سے گزرنا پڑتا اور وہ لوگ یہی جاننا چاہتے تھے کہ کہیں میں تشدد اور اذیت سے ٹوٹ کر کسی مرحلے پر بھی بہروز کریم یا دیگر عملے کا نام افشا تو نہیں کردوں گا۔فیروز کے مطابق اگر میں کسی بھی مرحلے پر ہار اپنی زبان کھول دیتا تو مجھے آذیت خانے سے نکال کر پہلی فلائٹ سے دوبارہ ڈیپورٹ کر دیا جاتا مجھے فرار کو موقع بھی جان بوجھ کر دیا گیا تھا۔کیونکہ بہروز کریم یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کہیں میں درد سے ٹوٹ کر اپنی پلٹ اور حوصلہ تو نہیں کھو بیٹھا۔فیروز نے مجھے یہ بھی بتایا اس ساری کاروائی کے براہ راست نگرانی خود بہروز کریم کرتا ہے کیوں کے اسے آپنے ارد صرف ایسے خاص چنے ہوئے وفاداروں کا گروہ چاہیے ہوتا ہے جو اس کے امتحان پر پورا اتر چکے ہوں میں نے فیروز سے رفیق کے بارے پوچھا تو اس نے مجھے تسلی رکھنے کو کہا رفیق کو اتنا ہی پتا ہے کہ مجھے مالک نے کسی ضروری کام سے ابوظہبی کے دفتربھیج دی ہے اور اس سارے عرصے میں وہ لوگ میری طرف سے رفیق کو میرے گھر بھیجنے کے لیے پیسے بھی دیتے رہے ہیں خود رفیق کو کسی نہ کسی کام کے بہانے اس سارے عرصے میں شہر سے دور ہی رکھا گیا تھا تاکہ وہ میری لمبی غیر حاضری محسوس نا کر سکے۔وہیں بیٹھے بیٹھے فیروز نے اپنے فون پر میری رفیق سے بات بھی کروا دی۔میری آواز دن کر رفیق کھل سا گیا ۔
اوئے کہاں ہو تم یار۔۔ایسی بھی کیا نوکری ہے۔۔یاروں کو ہی بھلا دیا ۔۔
میری اواز بھراسی گئ آستیں نے اسے بتایا کہ میں جلدی ہی واپس آکر ملوگا ۔۔بہروز کے جانے کے بعد میں تھک کر آنکھیں موندھ لیں ۔۔اس دن مجھے بھی احساس کہ دنیا میں انسان دولت اور پیسہ روپیہ سب کچھ کما لیتا ہے۔مگر سب سے مشکل کسی کی وفاداری کمانا ہوتا ہے۔کیونکہ اس تعلق کسی دوسرے کے خلوص اور ایمان سے ہوتا ہے۔بہروز کریم کی یہ احتیاط اور پریشانی اپنی جگہ بلکل بجا تھی سلطنت بنا لینے سے کہیں زیادہ مشکل سلطنت قائم رکھنا ہوتا ہے۔دنیا کے بڑے بڑے شہنشاہ بہت چھوٹے اور معمولی غداروں کے ہاتھ اپنی بادشاہت گنوا چکے ہیں اور بہروز کریم مجھے تاریخ کو یاد رکھنے والا شخص معلوم ہوتا تھا۔شام کو اچانک باہر وہی ہل چل سی گئی جو بہروز کریم کی آمد کا خاصہ اور ابتدائی پیغام لے کر آتی تھی۔کچھ دیر بعد ہی فیروز میرے کمرے میں موجود تھا فیروز خان بھی اس کے ہمراہ آیا تھا۔میں نے کھڑے ہونے کی کوشش کی تو لڑکھڑا گیا بہروز نے مجھے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور خود میرے بستر کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ کر دیر تک مجھے غور سے دیکھتا رہا ۔کچھ کہوں گئے نہیں مجھ سے ؟
میری وجہ سے تم پر یہ ظلم کے اتنے پہاڑ توڑے گئے تمہاری پور پور اور نس نس میں درد کا زہر بھر دیا گیا۔غصہ تو بہت آیا ہوگا مجھ پر میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ براہ راست بہروز کی طرف دیکھا ۔نہیں آپ نے وہی کیا جو دنیا میں کسی وفاداری جانچنے کے لیے رائج طریقہ ہے انسان کا جسم ہی بظاہر اس کی سب بڑی کمزوری اور مجبوری ہوتا ہے تو اگر آپ نے بھی اس کمزوری کو ازما کر وفاداری کی جانچ کی ہے تو آپ سے کیا گلہ شکوہ کرنا ۔۔؟
بہروز نے دلچسپی سے پوچھا۔خوب گویا وفاداری کو پرکھنے کو کوئی طریقہ بھی ہوتا ہے ؟
میں بھی جاننا چاہوں گا ۔۔۔
جس وفادار کے لیے اس کا جسم اور درد کمزوری ہو اس کے لیے برداشت کی جانچ ہی اب سے زیادہ آزمودہ طریقہ ہے۔مگر جسے درد سہنے اور اذیت برداشت کرنے کی عادت پڑ چکی ہو۔۔اس کا امتحان کیا ہوگا؟میں تو ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو لذت کے حصول کے لیے اذیت سے گزرتے ہیں ان کی وفاداری کیسے ناپیں گئے آپ؟؟
بہروز چپ رہا میں اپنی بات جاری رکھی ۔
اس دنیا میں ہر انسان کے لیے قدرت نے ایک الگ امتحان تیار رکھا ہے کہیں درد کہیں دولت کہیں حسن اور کہیں اقتدار
آپ نے تو مجھے ابھی صرف ایک آزمائش سے گزارا ہے ۔۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ میرے حصہ کا امتحان ہی نہ ہو
بہروز نے اپنے سگار کو بے خیالی میں توڑا اور اور فیروز خان نے جلدی سے لائٹر سے سگار کا شعلہ دکھایا۔تم ٹھیک کہہ رہے ہو لڑکے مگر میں اپنے وفاداروں کو اتنا کچھ سے دیتا ہوں کہ انہیں دیگر کسی چیز کی ہوش باقی نہیں رہتی لیکن ایک بات تمہاری دل کو لگتی ہے وفاداروں کی وفا ناپنے کا کوئی حتمی فیصلہ پیمانہ ایجاد ہی نہیں ہوا کھبی۔انسان کے خون میں ہی وفا نہ ہو تو یہ صرف دل بہلاوے کی آزمائشیں ہیں۔مجھے تمہاری صاف گوئی پسند آئی اور مجھے تمہاری قوت برداشت کی داد بھی دینا پڑے گی حالانکہ دیکھنے میں تم اتنے سخت جان نہیں لگتے۔بہرحال۔اب تم بھی ہماری ٹیم کا حصہ بن چکے ہو۔مگر یاد رہے ۔جس دنیا میں تم قدم رکھنے جا رہے ہو۔وہاں سے واپسی کا کوئی دروازہ نہیں ہے لہذا ایک بار پھر اچھی طرح سوچ لو میں خود کھبی کسی کو پیش کش نہیں کرتا مگر تم اگر چاہو تو تمہیں آج بھی بہت کچھ دے کر تمہارے ملک واپس رخصت کر سکتا ہوں
مگر ایک بار جب تم ہمارے راز اور ٹھکانوں سے واقف ہو گئے پھر کھبی تمہاری واپسی ممکن نہیں ہوگی چاہو تو میں تمہیں سوچنے کے لیے دو دن مزید دے سکتا ہوں میں واپس جانے کئ لیے یہاں نہیں آیا تھا یہاں آنے سے پہلے ہی میں واپسی کے سارے راستے بند کر چکا ہوں اور واپسی کی فکر وہ کرتے ہیں جن کی واپسی کا کوئی منتظر ہو۔۔۔
میرا کوئی آگے ہے نہ پیچھے۔۔۔آپ حکم کرے۔۔مجھے کرنا کیا ہوگا؟؟؟؟
بہروز اطمینان سے میری ساری بات سنی اور میرا کاندھا تھپتھاتے اٹھ کھڑا ہوا۔پہلے تم مکمل صحت یاب ہوجاو
پھر بہت کام پڑے ہیں تمہارے کرنے کے ۔۔
اور ہاں کچھ دن بعد تمہارے دوست کو بہتر جگہ ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔کیونکہ یہاں سے واپسی کے بعد تم اس کے ساتھ نہیں رہو گئے ۔۔
بہروز کریم کمرے سے باہر نکل گیا۔فیروز خان کچھ حیرت زدہ سا تھا وہ ایک لمحے کے لیے میرے پاس رکا تم واقعی بہت خوش قسمت ہو لڑکے۔۔مالک کو میں نے آج تک اتنی باتیں کسی سے کرتے نہیں دیکھا ۔۔جلدی تندرست ہوکر باہر آنا تمہارے ساتھ مل کر کام کرنے کا مزہ آئے گا
فیروز چلا گیا اور اس کے ٹھیک ایک ہفتے بعد جب میں رفیق کے فلیٹ پر پہنچا تو وہ اپنا سامان باندھ رہا تھا مجھے دیکھ کر وہ مجھ سے لپٹ گیا۔اچھا ہوا کہ تم آگئے مجھے مالک نے انچارج بنا کر ابوظہبی والی فیکٹری میں ٹرانسفر کر دیا ہے۔پر تم فکر نہ کرنا میں نے مالک سے التجا کی ہے کہ وہ تمہیں بہت جلد ترقی دے کر میرے پاس بھجوادے۔تب تک تم یہی میرے فلیٹ میں رہو گئے
میں خاموش رہا۔اب میں اسے کیا بتاتا کہ ہمارے راستے جدا ہو چکے ہیں میں رفیق کو رخصت کرنے کے لیے ائیرپورٹ تک اس کے ساتھ آیا اور جہاز فضا میں بلند ہونے تک باہر لاونج میں کھڑا رہا۔ہماری زندگی میں کچھ ایسے لوگ بھی آتے ہیں جن کی موجودگی دے کہیں زیادہ ہمیں ان کی غیر حاضری محسوس ہوتی ہے۔رفیق لے خانے کہ بعد ہی میں نے اس زیادہ اپنے قریب پایا ہم انسان اتنے تاہ نظر کیوں ہوتے ہیں ؟
اپنے قریب کی چیزیں رشتے ناطے اور لوگ ہمیں کیوں نظر نہیں آتے جبکہ اپنے جذبوں اور اور رشتوں کی تلاش میں ہم سات سمندر پار تک ساری دنیا چھان لیتے ہیں مجھے تو ویسے بھی دور چار دن میں بہروز کریم کی طرف سے دیے گئے نئے اپارٹمنٹ میں شفٹ ہوجانا تھا مگر رفیق کے جانے کی بعد مجھ سے چوبیس گھنٹے اس کے فیلٹ میں نہیں رہا گیا۔میں نے فیروز کو کہلوا بھیجا کہ ہوسکے تو مجھے چند دن کیسی ہوٹل وغیرہ میں منتقل کروادے۔جواب میں فیروز نے شام تک ایک بڑے پیارے اپارٹمنٹ کی چابی میرے حوالے کر دی جہاز سائز کے اس اپارٹمنٹ میں ضرورت کی ہر شے پہلے ہی موجود تھی۔پر چیز نئی اور قیمتی چمکتی ہوئی۔قرینے سے ڈھائی گئی اتنی بڑی خواب گاہ جس کی کھڑکی سمندر کی طرف کھلتی تھی۔دبیز ایرانی قالین ریشم پردے فانوس بڑے بڑے مصوروں۔کی تصویرے سے سجی دیواریں ساتویں منزل پر بنے ہوئے اس اپارٹمنٹ کا سمندر کی طرف کھلنے والی ٹیرس اور وہاں پڑی وہ بیدکی قیمتی کرسی ۔۔۔
پل بھر کے لیے مجھے اپنے گھر کی چھت پر بنا وہ گودام نما چھوٹا سا کمرہ یاد آگیا اور میری آنکھیں بھیگ بھیگ گئیں اس چھوٹے سے ڈربہ نما کمرے سے لے کر اس عالی شان اپارٹمنٹ کے سفر میں ناجانے میں نے پایا زیادہ تھا یا کھویا بہت؟۔۔۔مجھے ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا تھا مجھے کام کیا کرنا ہوگا۔مگر ایک بات تو بہت حد تک واضع ہوچکی تھی کہ بہروز کریم کے خفیہ دھندے بھی ہیں جو قانون کی نظر سے چھپ کر جاری تھے۔فیروز سے مجھے اتنا ضرور پتا چل گیا تھا کہ وہ لوگ درپردہ سونے کی اسمگلنگ کا کاروبار کرتے تھے۔یہ دولت کمانا بھی تو ایک خبط ہے۔شاید دنیا کا سب سے بڑا اخبار اور جنون۔۔ورنہ بہروز کریم کو بھلا مزید روپیہ کمانے کی کیا ضرورت تھی؟یا شاید یہ بھی ایک نشہ ہے۔کچھ لوگ کرکے اس نشے کا سرور محسوس کرتے ہیں اور کچھ جمع کرکے۔۔اس روز مجھے ایک اور ادارک بھی ہوا کہ دولت مندکی دولت جتنی بڑھتی جاتی ہے۔وہ اتنا ہی اپنے اندر سے خود غیر محفوظ تصور کرنے لگتا ہے..
اور ٹھیک اس کے برعکس فقیر کا فقر اور فاقہ جتنا زیادہ بڑھتا ہے۔وہ اتنا ہی بہادر اور لاپروہ ہوتا جاتا ہیں بھی جب تک فقیر تھا۔مجھے اپنی جھلنگار چارپائی پر جھولتے جھولتے نیند آجاتی تھی۔اور آج رات جب میرے پاس دوبئی کے سب سے پوش علاقے میں مہنگاترین اپارٹمنٹ موجود تھا تو میں اپنی خواب گاہ کی نرم مسہری پر ساری رات بے چینی سے کروٹیں بدلتا رہا۔اگلی صبع سویرے ہی فیروز خان کا پیغام آگیا کہ بہروز کریم کچھ دن کے لیے شیر سے باہر جارہا ہے اور جانے سے پہلے ہم سب کو ایک خاص میٹنگ کے لیے اپنے ساحلوالے بنگلے پر بلایا ہے۔سہ پہر کو ڈرائیور گاڑی لے آیا اور مجھے اور دوچار مزید ارکان کو لیے بہروز کریم کی شاہانہ رہائش گاہ پر پہنچ گیا۔میں نے اس پہلے یہ جگہ نہیں دیکھی تھی۔میرا اندازہ درست تھا۔کہ بہروز کو صرف کمانا نہیں خرچ کرنا بھی آتا تھا اور اس نے اپنی اس رہائش گاہ پر جی بھر کر خرچ کیا تھا۔کہتے ہیں انسان کا خط اور اس کی رہائش کا سلیقہ اس کے اندر کے آدمی کی نزاکت یا کرختگی بیان کرتے ہیں۔بہروز کریم کا یہ عالی شان محل اسی مثال کی غمازی کر رہا تھا۔اندر داخل ہوتے ہی ایک جانب پورچ میں دنیا کی چند بہترین اور مہنگی گاڑیاں شیڈ کے نیچے کھڑی تھی۔شاید بہروز کو دنیا کی نایاب ترین کاریں جمع کرنے کا شوق تھا۔دائیں جانب چھوٹی سی پانی کی ایک نہر تھی جس سے پڑے سبزے پر ایک وسیع و عریض گالف کورس بنایا گیا تھا۔گھاس کے اونچے نیچے ٹیلوں کی پشت پر جہاں وہ پتھر اور درختون کے جھنڈ ختم ہوئے تھے۔وہاں ٹینس کورٹ بھی تھا مگر گاڑی ہم سب کے لیے ان سب عجوبوں کو پار کرتی ہوئی شیشے اور لکڑی کی ایک خوبصورت عمارت کی طرف بڑھتی گئی جو شاید بہروز کے بنگلے کی انیسکی تھی۔کیوں کہ اصل گھر جو کسی برطانوی دور قلعے سے متشابہ تھا اس کی سرخ اور بھوری اینٹوں سے بنی عمارت تو ان سب سے پڑے دیکھائی دے رہی تھی۔ہم سب انیسکی میں داخل ہوئے تو بہروز اور فیروز خان پہلے سے وہاں موجود تھے بہروز نے مجھ سمیت سب کا حال پوچھا اور پھر ہمیں بتایا کہ اسے اچانک ایک ضروری کام سے چند کے لیے لندن جانا پڑ رہا ہے اور اس کی واپسی ہفتہ بھر میں متوقع ہے۔پھر اس نے فیروز کو اس عرصے میں سبھی ارکان کی ڈیوٹی کے بارے میں تفصیل بتانے کی ہدایت کی فیروز نے سبھی کو مختلف ادھورے کام اور وہ سقدے بتائے جو اس عرصے میں انہیں پایہ تکمیل کو پہنچانے تھے مگر میرے لیے تفصیل میں کوئی فرض شامل نہیں تھا۔باقی رکن ایک ایک کر وہاں سے رخصت ہوتے گئے اور پھر آخر میں صرف میں ہی وہاں کھڑا رہ گیا ۔
بہروز کریم نے مسکرا کر فیروز سے پوچھا۔کیوں فیروز خان
پری زاد سے تمہاری بہت دوستی ہوگئی ہے کیا۔۔۔؟
اسے کوئی کام نہیں دیا تم نے ۔۔۔
فیروز خان نے حسب معمول سپاٹ چہرے کے ساتھ جواب دیا یہ ابھی نیا ہے مالک اور اس نے کوئی پرانا سودا بھی نہیں چکانا۔آپ خود ہی اس کے لیے کام بتا دیں ۔۔
بہروز کریم نے اپنا مخصوص سگار نکالا اور فیروز نے اسے لائٹر سے سلگایا۔ہاں اس کے لیے میرے پاس ایک خاص کام ہے تم جانتے ہو پری زاد۔تم میرے گروپ کے سب سے نئے رکن ہو۔اس لیے میرے کاروباری حریفوں اور میرے دشمنوں کی اب تک تم پر نظر نہیں پڑی ہے تمہاری اسی خصوصیت کو میں اس ایک ہفتے بروئے کارلانا چاہتا ہوں۔۔
میں نے سر جھکا کر کہا۔میں آپ کے حکم کا منتظر ہوں۔
بہروز نے مجھے بتایا کہ اس نے یہ محل اپنی چھوتھی بیوی کے لیے تیار کروایا تھا جو اس کی سب سے زیادہ لاڈلی بھی ہے اس نے باقی دو بیگمات یہیں دوبئی میں اور ایک بیوی اور چھوٹا بیٹا لندن میں رہتے تھے۔وہ لندن اپنے اسی بیٹے کے لیے کسی نام اور تعلیمی ادارے میں داخلہ کروانے کی غرض سے جارہا تھا لیکن اسے اپنی اس نئی کم سن دلہن کی بہت زیادہ فکر لگی رہتی تھی اس لیے بہروز نے اس محل میں اس کی تفریح کا ہر سامان مہیا کر رکھا تھا۔اس کے دشمنوں کو ابھی بہروز کریم کی اس نئی شادی کا علم نہیں تھا نہ ہی وہ کریم کی نئی نویلی دلہن کی صورت سے واقف تھے۔مگر بہروز کے بقول اس کی گھر والی اب گھر میں بیٹھے بیٹھے اوب چکی تھی لہذا وہ اپنی سہیلیوں اور اپنے خاندان ملنے کے لیے باہر جانے کی ضد کرنے لگی تھی بہروز اس کی محبت کے ہاتھوں انتہائی مجبور ہونے کے باوجود اسے اپنے کسی پرانے وفادار یا محافظ کے ساتھ باہر بھیجنا چاہتا تھا۔کیونکہ بہروز کے پرانے وفاداروں کو تو پورا شہر جانتا تھا لہذا ان کے ساتھ کا مطلب ہی بہروز کے خاندان کی نشاندہی نہ تھی۔لہذا بہروز چاہتا تھا کہ اس کی غیر موجودگی میں اگر اس کی دلہن کو کہیں جانا ہوتو میں ڈرائیور کے ساتھ اس کے ہمراہ جاوں۔دوسری احتیاط مجھے یہ بھی کرنی تھی کہ بہروز کی دولہن کو کسی گاڑی کی موجودگی کی الجھن سے بے خبر رکھنا تھا کیونکہ اس زیر زمین دنیا کے خطرات سے آگاہ کرکے بہروز اس کی زندگی اجیرن نہیں کرنا چاہتا تھا۔ہاں البتہ خس گاڑی میں میں اور ڈرائیور اور بہروز کی لاڈلی گھر سے نکلا کرے گی۔اس کا تعاقب میں بہروز کے خاص وفادار اور محافظوں کی ایک ٹیم غیر محسوس طور پر پیچھے ہی رہی گی۔اس دوسری گاڑی کا صرف مجھے پتا ہوگا اور ان کمانڈوز سے فون پر میرا رابطہ رہے گا تاکہ جب کھبی کوئی خطرہ محسوس کرو تو وہ پلک جھپکتے ہی ہماری گاڑی اپنی حفاظت کے حصار میں لے لیں۔۔
پوری بات کہنے کے بعد بہروز نے تصدیق کے لیے میری طرف دیکھا اب سمجھ گئے ناں۔۔۔کوئی بات پوچھنی ہو تو پوچھ سکتے ہو مگر یاد رکھنا لیلی صبا میری جان ہے اسے ہلکی سی کھرونچ بھی آئی تو غضب ہوجائے گا تمہارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں پری زاد ۔۔
میں نے سر ہلایا ۔نہیں مالک ۔میں اچھی طرح سمجھ گیا ہوں کوئی غلطی نہیں ہوگی ۔۔
بہروز مسکرایا۔۔شاباش ۔۔تم ظاہر نہیں کرتے۔۔مگر کافی ذہین ہو۔۔میں چپ رہا مگر نہ جانے مجھے یہ اس ساری کہانی میں کوئی ایک چیز بار بار الجھا رہی تھی جیسے بہروز نے سب کچھ بتاتے ہوئے کچھ خاص چھپا لیا ہو ۔۔
جیسے کوئی بڑا راز میرے آس پاس بھٹک کر میرے کان میں کوئی سرگوشی کر کے مجھے کچھ بتانا چاہیے۔مگر بڑا نہیں پارہا تھا کچھ بھی تھا مگر میں بہت دیر تک الجھن کی سولی پر لٹکا رہا۔کچھ دیر بعد میں فیروز خان نے آکر بتایا کہ لیلی صباہ جاگ چکی ہیں اور کریم کا پوچھ رہی تھیں ۔فیروز کو بہروز نے ہماری باتوں کے درمیان کچھ کام اندر کوٹھی میں بھیج دیا تھا بہروز کریم نے اٹھتے ہوئے مجھے بھی اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔
تم بھی وہیں آجاو میں تمہارا تعارف بھی لیلی سے کروادیتا ہوں ۔۔میں بہروز کریم اور فیروز کے نقش قدم پر چلتا ہوا اس محل کے ہال نما لاوئج میں داخل ہوا تو ایک جانب رکھے نفیس اور خوبصورت رنگ کے پیانو کو دیکھ کر میرے قدم ٹھٹک سے گئے مجھے یاد آیا کہ بچپن میں میں بھی تو ایک پیانسٹ بننا چاہتا تھا اور آج قدرت نے پیانو دکھایا بھی تو کہاں ۔۔؟اتنے میں اوپر منزل کی طرف سے نیچے آتی لکڑی کی سیڑھیوں پر کسی کے نازک قدموں کی آواز گونجی میری نظریں خود بخود جھک گئیں۔آنے والی نزاکت سے پاوں دھرتے نیچے اتری تو بہروز نے مجھ سے کہا ان سے ملو پری زاد۔جی نہیں میری بیگم۔اس گھر کی مالکن لیلی صباہ۔میں نے خھجکتے ہوئے نظر اٹھائی اور مجھ پر جیسے ایک پل کے لیے بجلی سی گر گئی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: