Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 11

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 11

–**–**–

لیلی صباہ خو میں نے دیکھا تو چند لمحوں کے لیے تو جیسے میں پتھر کا ہوگیا۔بہروز کریم کو خدا نے صرف روپے پیسے کی دولت ہی نہیں نوازا تھا۔قدرت نے لیلی صباہ کی صورت میں اسے حسن کی ایسی انمول نعمت کا خزانہ سونپ رکھا تھا جو دنیا میں بہت کم خوش نصیبوں کے حصہ میں آتا ہے۔لیلی حسن اور نزاکت کا ایک مکمل امتزاج تھی۔مغربی لباس میں ملبوس۔سیاہ فلیپر کے اوپر میرون شرٹ اور گلے میں سیاہ اسکارف کھلے بال اور بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں نیند کا خمار۔۔بہروز کریم کی فکر اپنی جگہ بلکل بجا تھی۔اس گل رخ کی حفاظت کے لیے سارے دوبئی کو بھی معمور کردیا جاتا تو یہ کم ہوتا ۔۔
کریم نے لیلی سے میرا تعارف کروایا۔اس سے ملو۔۔یہ ہے پری زاد میرا نیا اسسٹنٹ ۔۔
میں نے چونک کر بہروز کی طرف دیکھا وہ لیلی سے اردو میں بات کر رہا تھا لیلی نے نخوت سے میری طرف دیکھا اور انگریزی میں بہروز سے کہا ۔۔اوہ کم ان آغا۔۔آپ کی پسند کوکیا ہوتا جارہا ہے ۔۔بہروز نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور انگریزی میں ہی مجھے لاوئج کے ساتھ ملحق دوسرے کمرے میں انتظار کرنے کا کہا۔شاید وہ لیلی صباہ کو یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ میں انگریزی جانتا ہوں۔میں چپ چاپ وہاں اےنکل آیا مگر میرے جانے کے بعد بھی لیلی اور کریم کی اونچی آواز کی بحث میرے کانوں تک پہنچ رہی ۔خاص طور پر جب بہروز نے لیلی کو بتایا کی اب میں گھر سے باہر نکلتے وقت ہمیشہ لیلی کئ ساتھ رہوں گا تو لیلی کی آواز مزید اونچی ہوگئی ۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بہروز ۔۔؟اب یہ شخص میرا سایہ بنا رہے گا ۔۔؟آپ یہ تو سوچیں کہ جب میرے ساتھ چلے گا تو میرا کتنا مذاق بنے گا بازاروں میں ۔۔اس سے تو بہتر ہے کہ میں گھر باہر ہی نہ نکلوں۔۔
بہروز کریم نے مخصوص ٹھنڈے لیجے میں بیوی کو سمجھایا کی میرا اس کے ساتھ باہر جانا کیوں ناگزیر ہے اور یہ کہ وہ یہ سب لیلی کی محبت میں کررہا تھا ہے ورنہ وہ پردیس جاکر بھی لیلی کی طرف سے پریشانی میں مبتلا رہے گا۔بہر حال ایک لمبی بحث اور تکرار کے بعد آخر کار وہ لیلی کو معاملے کی نزاکت سمجھانے میں کامیاب ہوگیا ۔اس دن مجھے احساس ہوا کے محبت کا زنگ کتنا طاقت ور ہوتا ہے کہ جو بہروز کریم جیسے فولاد کو کو بھی بھر بھری مٹی میں تبدیل کرسکتا ہے۔۔مجھے نیا حکم یہ ملا میں اپنا ضروری سامان لے کر انیکسی میں منتقل ہوجاوں۔تاکہ اگر کھبی لیلی کو اچانک باہر جانا ہوتو اسے میرا انتظار نی کرنا پڑے۔مگر میری الجھن بڑھتی ہی جارہی تھی۔بظاہر یہ سیدھا سادھا نظر آنے والا معاملہ مجھے بہت ٹیٹرھا دکھائی دے رہا تھا جانے کیوں مجھے ایساں لگ رہا تھا کہ بات صرف لیلی کی حفاظت سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے اور پھر میرے اس خدشے کی تصدیق بھی جلدی ہوگئی جب ائیرپورٹ روانگی سے قبل بہروز مجھے بکا کر سختی سے تاکید کی کہ گھر سے باہر مجھے ہر وقت ہر لمحہ لیلی کے ساتھ رہنا ہوگا اور روزانہ کی رپورٹ دینا ہوگی۔بہروز کے لندن جانے سے پہلے میں انیکسی میں منتقل ہوچکا تھا۔فیروز نے لیلی کے اردو بولنے کا کا معاملہ بھی حل کردیا کہ دراصل لیلی ترکی سے تعلق رکھتی ہے اور بہروز نے اسے وہی استنبول کے میلے میں دیکھا اور اس پر دل ہار بیٹھا تھا لیلی نے بہروز کی محبت میں اردو سیکھی اور اب وہ ٹوٹی پھوٹی اردو بول بھی لیتی ہے۔یہ ان کی شادی کا دوسرا سال تھا مگر میں بدقسمتی سے پہلے روز لیلی صباہ کی نظروں میں ایک
نا پسندیدہ شخص قرار پا چکا تھا کیونکہ اسے بہروز کے لگائے ہوے میرے پہرے شدید چڑ ہوگئی تھی اور اس کی جھنجھناہٹ کا سارا نزلہ مجھ پر گرنا تھا۔لیکن اگر بہروز حکم نہ بھی دیتا تو تن بھی لیلی جیسی ماہ رخ کا مجھ جیسے بھدے شخص سے نفرت کرنا لازمی تھا۔خاص طور پر اس وقت جب اس شخص کی ہم سفری کی شرط بھی لازمی قرار دے دی گئی ہو۔میں انیکسی میں اپنے کمرے میں آرام کرسی پر بیٹھا بہت دیر تک سامنے دیوار میں لگے بڑے آئینے کو دیکھتا رہا۔مجھے ائینہ پسند نہیں تھا مگر ہر گھر میں ہر دیوار پر لگے یہ شیشے ہر پل میرا راستہ کاٹتے رہتے تھے اور گھر پر ہی کیا مخحصر باہر گلی میں۔سڑک پر ۔گاڑیوں میں۔عمارتوں کے اندر ہر طرف میرے یہ دشمن میری تاک میں گھات لگائے بیٹھے رہتے تھے کہاں کہاں ان سے بچ جاتا میں۔۔۔؟
سارے شہر میں جابجا یہ میرا منہ چڑانے اور میرا مذاق اڑانے کے لیے مجھے کھڑے ملتے تھے۔میں نے سوچ لیا تھا کہ اگر زندگی میں مجھے اپنا گھر بنانے کا موقع ملا تو اس میں کسی آئینے کی جگہ نہیں ہوگی۔کوئی گوشہ تو اس دنیا میں ایسا ہو جہاں میں بنا کسی خوف اور جھجک کے صرف اپنے ساتھ رہ سکو۔اگلے روز سہ پہر تین بجے کے قریب مجھے گھر کے ملازم نے آکر حکم سنایا کی مالکن لیلی باہر جانا چاہتی ہیں اور ڈرائیور باہر پوچ میں میرا انتظار کر رہا ہے میں گاڑی کے قریب پہنچا تو لیلی صباہ غصے میں بھری کھڑی تھی ۔
اتنی دیر کہاں لگا دی تم نے ۔۔؟کیا اب مجھے تمہاری تیاری کا انتظار کرنا پڑے گا ۔۔؟میں نے اسے بتایا کہ مجھے ملازم نے صرف تین منٹ پہلے روانگی کا بتایا اور میں جس حالتوں بیٹھا تھا ویسے چکا آیا مگر لیلی نے میری بات پوری ہی نہیں ہونے دی اور جھڑک دیا۔
اچھا اچھا۔۔اب گاڑی میں بیٹھو ۔۔میں فضول بحث کے موڈ میں نہیں ہوں ۔۔۔۔
میں چپ چاپ ڈرائیور کے ساتھ آگے بیٹھ گیا اور لیلی نے عربی میں میں ڈرائیور سے چلنے کا کہاں۔گاڑی دوبئی کی بارونق سڑکوں سے ہوتی ہوئی ہوئی ایک جدید طرز کی کالونی میں داخل ہوگئی جہاں اونچے اونچے پر تعیش اپارٹمنٹس کی بہت سی قطاریں ترتیب سے جڑی ہوئی تھیں ہماری گاڑی جے سیریز کے اپارٹمنٹ کی قطار کے سامنے آکر رک گئئ۔لیلی نیطئ اوتری تو میں بھی نیچے اوتار آیا اس نے غصے سے میری طرف دیکھا۔
تم کہاں اتر آئے۔۔یہی نیچے میرا انتظار کرو ۔۔میں اپنی سہیلی سے مل کر آتی ہوں۔۔میں نے سر جھکا کر جواب دیا مجھے آپ کو اکیلا نہ چھوڑنے کا حکم ہے میں آپ کی سہیلی کے اپارٹمنٹ تک آپ کے ساتھ چلوں گا لیلی میری بات سنتے ہی اپے سے باہر ہوگئی۔۔پاس ڈئیر یو ۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے پلٹ کر جواب دینے کی اپنی اوقات میں اوقات میں رہو ورنہ۔۔اس بات پر مجھے اپنا لہجہ سخت کرنا پڑا۔معافی چاہتا ہوں۔مگر یہ مالک کا حکم ہے ۔۔۔
ہمارے تعاقب میں آنے والی گارڈ کی گاڑی کچھ فاصلے پر کھڑی ہوچکی تھی اور مجھے ان کی بے چینی سے ایساں محسوس ہورہا جیسے انہیں ہمارا زیادہ دیر رکنا یہاں کچھ پریشان کر رہا تھا۔لیلی نے غصے سے دانت پیسے اور پیر پٹختی ہوئی اندر لفٹ کی جانب بڑھ گئی پندرھویں منزل پر لیلی کی دوست کا اپارٹمنٹ تھا اس نے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولا تو دونوں سہیلیوں یوں ملیں جیسے برسوں بعد ملاقات ہوئی ہو۔لیلی اندر چلی گئی اور میں باہر راہداری میں ایک جانب دیوار کے ساتھ لگے لوہے کے بینچ پر بیٹھ گیا
تقریبا دوگھنٹے بعد وہ دونوں باہر نکلیں لیلی نے قریبی سپر مارکیٹ کچھ خریداری کی اور ہم اس کی سہیلی کو اپارٹمنٹ کے باہر چھوڑ کر واپس چلے آئے۔لیلی نے گاڑی سے اترتے ہی چیخ کر فیروز خان کا حاضر ہونے کا حکم دیا اور غصے میں بھری اندر چلی گئی۔میں انیسکی میں آکر بستر پر دراز ہوگیا۔تھوڑی دیر بعد فیروز خان بھی وہی نازل ہوگیا ۔
تمہاری مالکن سے کوئی بحث ہوئی تھی آج ۔۔؟؟
ہاں۔۔۔وہ اکیلے جانے کی ضد کررہی تھیں۔میں نے صرف مالک کے حکم کی تعمیل کی ۔۔۔فیروز نے ایک لمبی سانس بھری ائندہ ایسی نوبت نہ آئے تو بہتر ہے لیلی مالک کی بہت چہیتی ہیں۔۔۔وہ یہ سب برداشت نہیں کریں گئے۔۔یوں سمجھ لو کہ تم ایک دو دھاری تلوار پر چل رہے ہوں اور تمہیں دونوں طرف اپنا وزن برابر بچائے رکھنا ہے ۔۔
ورنہ کٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو کر گر پڑوگئے ۔۔فیروز جاتے جاتے مجھے ایک نئی الجھن میں مبتلا کر گیا تھا ۔اگر میں بہروز کریم کا حکم مانتا تو لیلی کی ناراضگی یقینی تھی اور اگر لیلی کی ہدائیت پر عمل کرے ہوئے اس سے دور رہتا اور مکمل نگرانی نہ کرتا تو بہروز کی حکم عدولی ہوتی تھی اور ان دونوں صورتوں میں سزا میرے ہی مقدر میں تھی۔شام ڈھلتے ہی گھر کے حال سے پیانو کی مدھر تانیں ابھرنے لگیں۔کوئی پیانو پر بہت خوبصورت دھن بجا رہا تھا۔نہ چاہتے ہوئے بھی میرے قدم ہال کی جانب بڑھ گئے ایک بوڑھی انگریز استانی پیانوں بجاتے ہوئے لیلی کو پیانو کا سبق دے رہی تھی۔میں لاونچ کی کھڑکی سے ہال کے اندر کا منظر دیکھا تو الٹے قدموں واپس چلا آیا گویا لیلی صباہ کو پیانو سیکھنے کا شوق تھا۔چلو ایک بات تو ثابت ہوئی کی کم از کم خوبصورت اور بد صورت لوگوں کے اندر دل ایک سا ہی ہوتا ہے۔ورنہ میں تو آج تک یہی سمجھتا رہا کے بدصورت لوگوں کا دل شاید تھوڑا کم دھڑکتا ہوگا۔۔اگلے روز لیلی صبع سویرے ہی کہیں جانے کے لیے تیار کھڑی تھی شاید ڈرائیور تک بہروز کریم کی ہدائیت پہنچا دی گئی تھیں ورنہ لیلی کا بس چلتا تو وہ اکیلی ہی ڈرائیو کے ساتھ نکل چکی ہوتی آج لیلی مجھ سے بحث نہیں کی اور ڈرائیور سے جمیرا کی طرف سے چلنے کو کہا اور خواہ مخواہ شام تک تک مالز میں خریداری کرتی رہی۔جانے یہ امیر عورتوں کی شاپنگ کا اتنا خبط کیوں ہوتا ہے؟شاید یہ بھی ایک طرح کی بھوک ہوتی ہے اور یہ بھوک صرف بھرے پیٹ ہی لگتی ہے شام کو گھر واپسی کے بعد میرے کان نہ چاہتے ہوے بھی پیانو کی اس خوبصورت دھن کی آس کرنے لگے۔سماعت کو بھی کھبی کھبی بڑی شدید بھوک لگتی ہے۔۔خاص طور پر مجھ جیسوں کی سماعت۔۔جو ساری عمر کسی زبان سے دو میٹھے بول سننے لو ترستے رہے ۔۔
ہماری سماعت انسانون کی زبان سے مایوس ہو کر قدرت کی بکھری دیگر آوازوں میں اپنے حصے کی روشنی ڈھونڈنے لگتی ہے۔مجھ بہتے پانی کی آواز بارش کی خاموش بوندوں کی ٹپ ٹپ ضرور آتی ہوا جھرنوں اور ایسی میٹھی دھنوں کی سرگوشیاں ہمیشہ اپنی جانب کھینچتی تھیں۔سو جب پیانو کی لے چھڑی تو میں بے اختیار انیکسی سے نکل ایا اور باہر باغیچے میں لاونچ کی کھڑکیوں کے اس پاس ٹہلنے لگا جانے کتنی دیر بعد اندر سے آواز آنا بند ہوئی اور بوڑھی پیانوں ٹیچر سر پر اسکارف ٹھیک کرتے ہوئے باہر نکلی اور گیٹ کی طرف چل پڑی میں نے جلدی سے اسے آگے بڑھ کر سلام کیا اور بہروز کے خادم کی حیثیت سے اپنا تعارف کروایا وہ خوش دلی سے مسکرادی۔اس کا نام مارتھا تھا۔میں نے مارتھا سے درخواست کی کہ کیا وہ مجھے پیانو بجھانا دیکھا سکتی ہیں۔۔؟میں اسے پورا معاوضہ دینے پر بھی تیار تھا مگر مارتھا کے چہرے پر مایوسی کی لکیریں ابھر آئیں۔اس نے مجھے بتایا کہ اس نے مجھے بتایا کے اس کے پاس پیانو تو نہیں ہے۔وہ تو کرسچن کالونی میں رہتی ہے اور اسکول کے بچوں اور شام کو ایک دو بڑے گھروں میں پیانو کر اپنا گزارہ کرتی ہے اس کی بات سن کر میری امیدوں پر بھی اوس گرگئی۔پھر کسی خیال سے میری آنکھیں چمکیں اگر میں کھبی پیانو لے سکو تو کیا آپ مجھے سکھانے آئیں گی ۔۔۔؟
مارتھا میرا سوال سن کر زور سے ہنس پڑی۔۔ہاں ہاں کیوں نہیں بلکہ تمہارے شوق کو دیکھتے ہوئے بھی تمہاری فیس بھی آدھی کردو گی ۔۔۔
مارتھا ہنستے ہوئے وہاں سے چلی گئی اور میرے دل میں یہ خواب پلنے لگا کہ جانے کب میں اپنا پیانو خریدوں گا اور مارتھا سے پہلا سبق لو گا۔اب میرے پاس اچھی خاصی رقم ہر ماں جمع ہوجاتی تھی۔پیانو خریدنا میرے لیے خاص بڑا مسئلہ نہیں تھا۔مگر انیکسی میں مجھے پیانو رکھنےکی اجازت شاید مجھے نہ مل پاتی۔ساری رات میں یہی سوچ کر کروٹیں بدلتا رہا کہ ایسی کیا تدبیر کروں کی میری برسوں کی دبی خواہش پوری ہو سکے۔جب خواب روٹھ جائے تو راتیں بڑی طویل ہوجاتی ہیں۔انسان بھی عجیب ہے خواب دیکھے تو راتوں تو راتوں پر پڑ فریب اور جال بننے کا الزام لگا دیتا ہے اور خواب نہ آئیں تو اسی سے رات کی طوالت سے بے زاری ہونے لگتی ہے میں بھی اس طویل رات کے بعد صبع اٹھا تو سر درد سے پھٹ رہا تھا۔بستر چھوڑنے کو من نہیں تھا مگر دس بجتے ہی مالکن کا پیغام آگیا۔نوکری یا غلامی کی ایک تعریف شاید اپنے اندر کچلنا بھی ہے کسی طرح اٹھ کر منہ پر دو چار چھینٹے مارے اور شوخی آنکھوں کے ساتھ پورچ میں پہنچ گیا۔مگر توقع کے برعکس ابھی تک وہاں کوئی گاڑی روانگی کے لیے تیار نہیں تھی۔البتہ دوسری گاڑی میں محافظ چاکو چوبند اور تیار بیٹھے ہوئے تھے۔کچھ دیر میں اندر سے ایک خادمہ باہر آئی کہ مالکن اندر لاونج میں مجھے یاد کر رہی ہیں۔میں الجھا ہوا سا لاونج کے ہال کی طرف بڑھ گیا جانے اب کیا آفت آنے والی تھی لیلی کے مزاج کا کچھ بھروسہ نہیں تھا اور یہ بات بھی تحقیق طلب تھی کہ یہ خلل کثرت حسن کی وجہ سے تھا یا نفرت ذر کی وجہ سے ۔۔۔؟
کیونکہ یہ دونوں ہی اپنے اندر دماغی فتور پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مگر جب میں ہال میں داخل ہوا تو خلاف معمولی بڑی پرسکون پیانو کے قریب بیٹھی اس کے تاروں سے کھیل رہی تھی مجھے دیکھ کر اس نے زور سے پیانو کی کلوں پر ہاتھ پھیرا اور مجھ سے کہا تمہیں پیانو بہت پسند ہے ۔۔۔؟بجھانا سیکھانا چاہتے ہو۔۔۔؟
میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا وہ مسکرائی۔میں نے کل شام تمہاری اور مارتھا کی گفتگو سن لی تھی۔۔۔
تم چاہو تو اس پیانو پر مارتھا سے سیکھ سکتے۔۔۔تمہارے مالک سے اجازت تمہیں میں لے دو گی۔۔وہ میری کوئی بات نہیں ٹالتے ۔۔۔
میرا جی چاہا کہ اس سے پوچھوں کہ اس کرم خاص اور مہربانی کی کوئی وجہ بھی تو بتائیں۔اس نے شاید میری آنکھوں میں میرا سوال پڑھ لیا تھا۔۔
ہاں مگر بدلے میں تمہیں مجھ سے کچھ تعاون کرنا پڑے گا ؟
کیسا تعاون۔۔؟ میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔۔
وہ جھٹک کر بولی جب سے میں اس محل میں آئی ہوں۔۔مجھے لگتا ہے جیسے کسی قید خانے میں آگئی ہوں۔بہروز مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔بہت خیال رکھتے ہیں میرا۔
مگر میرے لیے ان کا یہ خوف اور اختیار کی انتہا کھبی کھبی میرا دم گھونٹنے لگتی ہے۔جس سے سانس بند ہونے لگتا ہے میرا۔میں اپنی ہم عمر سہیلیوں سے ملنا چاہتی ہوں ان کے ساتھ شہر گھومنا چاہتی ہوں۔وہاں ترکی میں تو میں کسی تتلی کی طرح خوشی میں اڑتی پھرتی تھی مگر یہاں مجھ پر بڑی پہرے ہیں ۔۔۔
میں نے دھیرے سے سر جھکائے ہوئے جواب دیا یہ سب آپ کی حفاظت کی خاطر کیا گیا ہے۔مالک کے دشمن بہت ہیں
جو ہر پل انہیں نقصان پہنچانے کی تاک میں لگے رہتے ہیں ۔۔
لیلی نے اداسی سے ایک سرد آہ بھری۔۔جانتی ہوں میں۔۔لیکن کیا تم نہیں سمجھتے کہ اس طرح پہروں میں نکلنے سے میں بہروز کے دشمنوں کی نظر میں زیادہ نمایاں ہوجاوں گی۔۔؟اگر میں اسکارف اور نقاب کے ساتھ سارا دن بھی شہر میں گھومتی پھروں تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔۔۔
میں نے بے بسی اس ضدی لڑکی کی طرف دیکھا۔آپ مجھ سے کیا چاہتی ہیں۔۔؟لیلی نے غور سے میری طرف دیکھا میری نظر خود بخود جھک گئی۔میں صرف اتنا چاہتی ہو کہ تم یوں دم چھلا بن کر میرے نہ پھیرا کرو۔میری سہیلیاں کتنا مزاق اڑاتی ہیں میرا میں تمہیں بتا نہیں سکتی ۔۔
میری نظر بت اختیار اٹھ گئی لیلی نے جلدی سے بات جوڑی
میری بات کا غلط مطلب مت لینا میں تمہارا مذاق نہیں اڑا رہی۔مگر جب ہم ساتھ چلتے ہیں تو مذاق بن ہی جاتا ہے۔میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ تم دکھاوے کے لیے میرا ساتھ گھر سے نکلا ضرور کرو۔مگر کیسی مال یا شاپنگ پلازہ میں اسکارف اور نقاب پہن کر اپنا حلیہ بدل لیا کرو گی تم وہی کسی کیفے میں میں بیٹھ کر میرا انتطار کیا کرنا۔میں اپنی سہیلیوں کےساتھ گھوم پھر کر دوبارہ واپس آیا کرو گی اور ہم دونوں ایسے ہی معمول کے طور پر باہر نکل کر گھر آجایا کریں گے۔جیسے تم ہم وقت میرے ساتھ ہی تھے بہروز کو اطمینان رہے گا کہ تم میری نگرانی کے لیے تم میرے ساتھ ہی تھے۔تمہارا بھرم بھی سب قائم رہے گا اور میں بھی کچھ گھنٹوں کے لیے ان ساری زنجیروں سے آزاد ہو کر اپنی زندگی جی لیا کرو گی۔۔بولو میرا ساتھ دو گے ۔۔پری زاد۔۔۔؟
اپنا نام لیلی صباہ کی زبان سے سن کر زور سے چونکا۔اس نے آج تک کھبی مجھے ہوں براہ راست نام لے کر مخاطب نہیں کیا تھا۔کچھ لہجے کچھ بولیاں کچھ تلفظ اور کچھ لبوں کی ایک جنبش سے ہی عام سے حرف لفظ اور نام کتنے معتبر ہوجاتے ہیں۔میرا دل بھی کتنا پاغل تھا پل بھر میں ہی بول گیا کہ کل تک یہی عورت مجھے کسی نفرت اور حقارت سے پکارتی رہی تھی۔ مگر میں ابھی تک اس لہجہ بدلنے کے فن اور ہنر سے واقف نہیں تھا۔لہذا میرا جواب بھی سیدھا تھا
شاید مالک میرا لاونج میں بیٹھ کر پیانو سیکھنا پسند نہ کریں۔میری حدود اس لاونج سے باہر تک ہے۔۔
لیلی نے اس مسئلے کا حل چٹکیوں میں نکال لیا۔کوئی بات نہیں تم انیکسی میں پیانو رکھا سکتے ہو۔اس کا انتطام بھی ہوجائے گا۔میں آج ہی تمہارے لیے ایک نیا پیانو بک کروادیتی
ہوں ویسے بھی میں بہت عرصے سے انیکسی کی نئی تزائین اور رہائش کا سوچ رہی تھی۔۔۔
اس بہانے یہ کام بھی ہوجائے گا ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: