Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 12

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 12

–**–**–

جواب میں کہنے کے لیے میرا پاس اب کچھ نہیں بچا تھا۔اگلے دو دن کے اندر انیکسی کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔نیا رنگ نئے پردے قالین پینٹینگز۔آرائش اور سب سے بڑھ کر سیاہ رنگ کا ایک بڑا سا خوبصورت پیانو جب کا کاریگر وہ پیانو انیکسی کے ہال میں رکھا کر اس کی فٹنگ کر رہے تھے تو میں وہیں بیٹھا اپنے ایک دیرینہ خواب کو پورا ہوتے دیکھ رہا تھا ل۔خواب حقیقت میں ڈھلنے لگیں تب بھی بہت دیر تک ہمیں خواب ہی لگتے ہیں۔شاید انسان سدا کا بے اعتبار ہے یا پھر مجھ جیسے۔جن کے خواب سدا خواب ہی رہتے ہیں۔انہیں خوابوں کی تعبیر پر ذرہ دیر سے ہی یقین آتا ہے۔اس شام مارتھا نے مجھے ایک گھنٹے کی ٹیوشن میں پیانو کی بنیادی کلوں اور سروں کے بارے میں پہلی کلاس دی اور تیسرے دن میری انگلیوں نے پہلی بار کسی دھن کو چھیڑا۔اس درمیان لیلی دو مرتبہ گھر سے باہر نکلی اور شہر کے وسط میں واقع ایک کثیر المخنز شاپنگ مال میں داخل ہو کر اس نے اپنے منصوبے کے مطابق کو اسکارف اور نقاب سے ڈھانپ لیا۔میں وہی ایک کیفے میں بیٹھا اس کا انتظار کرتا رہا اور وہ تقریبا تین چار گھنٹے کے درمیان میں واپس لوٹ آئی۔اس مال کے دونوں اطراف آنے اور جانے کے راستے واقع تھے اور لیلی نے باہر نکلنے کے لیے پچھلے راستے کا انتخاب کیا تھا پھر ایک دن وقفے کے بعد وہ اپنی سہیلی سے ملنے کے لیے گئی۔جہاں میں پہلے بھی ایک بار اس کے ساتھ جا چکا تھا۔مگر اس بار اس نے مجھے نچلے فلور پر ہی رکنے کا اشارہ کیا اور خود لفٹ کے ڈریعے اوپر چلی گئی۔بہروز کے واپس آنے میں ابھی دو دن باقی تھے۔میں لیلی کی بات مان تو لی تھی مگر میں اندر سے جانے کیوں ایک عجیب سی بے چینی محسوس کر رہا تھا۔میں جانتا تھا کے میں بہروز کا حکم نہ ماں کر بہت بڑا کر رہا ہوں۔مگر لیلی کی آزادی کی خواہش بھی مجھے اتنی ہی جائیں لگ رہی تھی۔عجیب کش مکش جاری تھی میرے دل اور دماغ کے درمیان۔۔۔دل کہتا تھا کے لیلی صباہ کا ساتھ دے کر میں کچھ غلط نہیں کیا مگر دماغ کچھ الگ ہی راگ الاپ رہا تھا۔جانے یہ دل اور دماغ نامی دو سوکنوں کی آپس میں بنتی کیوں نہیں تھی ؟
مگر یہ خوف مجھے بہر حال مستقبل لاحق رہتا کہ اگر لیلی کو اس مٹر گشتی کر دوران کوئی نقصان پہنچ گیا تو بہروز تو کیا۔۔۔میں خود بھی اپنے آپ کو کھبی معاف نہیں کر پاوں گا۔آخر کار اس شش و پنج نے مجھے پوری طرح نڈھال کر دیا تو تیسرے دن مال سے نکلنے سے پہلے ہی میں ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا۔لیلی جیسے ہی مال کے پچھلے دروازے سے باہر نکلی میں بھی کیفے دے نکل کر اس کے پیچھے چل پڑا۔لیلی نے خود کو ایک لمبی سے عبایا سے ڈھانپ رکھا تھا وہ سڑک پار کر کے دوسری جانب بنی ایک پارکنگ میں پہنچی جہاں پہلے سے ایک سیاہ لینڈ کروزر ٹائپ کی گاڑی اس کا انتظار کر رہی تھی۔یہ گاڑی پہلے بھی لیلی کی دوست کے اپارٹمنٹ کے نیچے کھڑی دیکھ چکا تھا۔مطلب لیلی اپنی اسی دوست سے ملنے جارہی تھی یا اس کے ساتھ مل کر کہیں اور گھومنے جارہی تھی۔میں نے فورا قریب سے گزرتی ٹیکسی کو ہاتھ دیا اور اس آگے جاتی سیاہ لینڈ کروزر کے پچھے چلنے کا کہ۔میں نے سوچا تھا کے لیلی کو بغیر بتائے اس کی نگرانی جاری رکھوں گا۔اس طرح میری الجھن کا حل بھی نکل آئے گا اور لیلی کو بھی میری وجہ سے اپنی سہیلیوں اور رشتہ داروں کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا۔دوبئی کی سڑکوں کا ہجوم اور ٹیکسی کے لیے مقررہ رفتار کی حد ہماری گاڑی کی راہ میں حائل تھی مگر ہم پھر بھی کسی نہ کسی طرح اس سیاہ بڑی گاڑی کا پیچھا کرتے رہے مگر پھر ایک سگنل کے بند ہونے کی وجہ سے لیلی کی گاڑی ہماری نظروں سے ہی دور ہوتی ہوئی اوجھل ہوگئی کیونکہ وہ ہم سے پہلے ہی سگنل پار کر چکی تھی۔سگنل کھولنے کے بعد ٹیکسی ڈرائیور نے پوری کوشش کی کہ ہم دوبارہ اسے پکڑ سکیں مگر ناکام رہے تھک ہار کر ہم دوبارہ اسی مال کے باہر آکر رک گئے جہاں سے میں نے ٹیکسی پکڑی تھی۔مجھے کیفے میں دو گھنٹے انتظار کرنا پڑا تب کہیں جاکر لیلی کی صورت دکھائی دی۔وہ بہت خوش نظر آرہی تھی۔ہم واپس گھر پہنچے تو لیلی اتر کر اندر چکی گئی اور میں انیکسی کی جانب قدم بڑھائے ہی تھے کہ میرے عقب میں ایک گرج دار آواز گونجی۔اتنی دیر کہاں لگا دی تم لوگوں نے ۔۔؟میں گھبرا کر واپس پلٹا ۔کچھ فاصلے پر بہروز کریم کھڑا مجھے گھور رہا تھا۔۔۔
بہروز کے آواز سن کر ایک لمحے کے لیے تو جیسے میرا خون ہی خشک ہوگیا۔انسان بظاہر تو بڑے بڑے ڈاکے مار کر صاف بچ نکلتا ہے مگر اس دل کے چور کی ایک چھوٹی سی چوری چھپائے نہیں چھپتی۔میں نے بڑ بڑا کر بہروز کو سلام کیا۔۔
مالک آپ واپس آگئے ۔۔
بہروز مسکرایا۔تو کیا کچھ غلط کیا واپس آکر
مگر تم لوگ اتنی فیر سے کہاں تھے ۔۔؟؟
میں نے نظریں جھکائے صرف اتنا بتایا کہ مالکن کو کچھ ضروری خریداری کرنی تھی۔لہذا ہم شاپنگ مال تک گئے تھی
بہروز نے بظاہر اس بات پر کوئی خاص نوٹس نہیں لیا مگر خود میرے مدت کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی۔انسان جسم اور اس کے دماغ کو سلانے اور سن کرنے کے لیے ہزاروں دوائیں بازار میں مل جاتی ہیں۔مگر سارے زمانے کے وید۔حکیم اور طبیب مل کر بھی ایسی دوا ایجاد نہیں کرپائے جو چند لمحوں کے لیے کسی کے جاگتے ہوئے ضمیر کو سلا دے بہروز کے گھر واپس لوٹنے کے بعد لیلی نے باہر نکلنا کم کر دیا۔اب وہ تین چار دن بعد گھنٹے دو گھنٹے کے لیے باہر گھوم آیا کرتی اور زیادہ تر گھر میں رہتی تھی ان دنوں مجھے مارتھا سے پیانو سیکھنے کا برپور وقت ملا اور مہینے بھر میں میری انگلیاں پیانو پر خوب چلنے لگیں۔خود مارتھا بھی میری اس تیز پیش رفت اور لگن سے بہت خوش تھی ایک شام میں تنہا بیٹھا پیانو پر کسی نئی دھن کی مشق کرتے ہوئے اپنے آپ میں اس قدر مگن ہوگیا کی مجھے انیکسی کے دروازے سے اندر ہال تک آتے قدموں کی چاپ بھی سنائی نہ دی اس وقت چونکاجب پس منظر میں بہروز کریم کی بھاری آواز گونجی۔
اچھا بجا لیتے ہو۔میں گھبرا کر چونک سا گیا اور جلدی سے کھڑا ہوگیا معاف کیجیئے مجھے آپ کے آنے کا پتا نہیں چکا
بہروز نے غور سے میری طرف دیکھا۔انسان کو اپنے اندر اتنا مگن نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے اپنی طرف بڑھنے والے قدموں کی چاپ بھی سنائی نہ دے۔آنے والا دشمن بھی ہوسکتا ہے میں نے دوبارہ بہروز سے معذرت کی اس نے آگے بڑھ کر پیانو کی بے داغ سطح پر ہاتھ پھیر کر اسے غور سے دیکھا۔۔مجھے لیلی صباہ نے بتادیا تھا کہ اس نے انیکسی میں پیانو رکھا دیا ہے۔تم نے بہت تھوڑی مدت میں اپنی مالکن کا اعتبار جیت لیا۔حالانکہ لیلی صباہ جیسی عورت کے خیالات اپنئ حق میں بدلنا بہت مشکل کام ہے ایسا کیا جادو تمہارے پاس۔۔۔پری زاد۔۔۔؟کھبی ہمیں بھی بتاو۔۔
میں نے چونک کے بہروز کی طرف دیکھا۔مگر اس کے چہرے پر حسب معمول کوئی مثبت یا منفی تاثر نہیں تھا۔میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ایسے بے تاثر چہرے والے بہت غیر متوقع شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔میں چپ رہا بہروز چند ضروری ہدایات دے کر واپس لوٹ پلٹ گیا۔اگلے ہفتے کی ابتدا سے ہی محل کی نئی سجاوٹ اور تزئین شروع ہوگئی۔پتا چلا کے دو دم بعد لیلی صباہ کی سالگیرہ ہے اور بہروز پچھلے سال کی طرح دھوم دھام سے منانا چاہتا تھا۔لیلی بھی انتہائی خوش دیکھائی دیتی تھی مگر نا جانے کیوں مجھے لیلی کے اس کھلے چہرے کے پیچھے کھبی کھبی ایک بڑی گہری اداسی چھپی دکھائی دیتی تھی۔شاید بہت ذیادہ خوشی اور اطمینان بھی اپنے ساتھ ایک نا معلوم سی اداسی لے کر وارد ہوتے ہیں۔یا پھر ساری بات توازن کی ہے۔تھوڑی سی پریشانی
بے قراری اور بے چینی بھی ضروری ہے۔زندگی کا ترازو کو برابر رکھنے کے لیے۔اگلے روز جب بہروز سالگیرہ کی تیاریوں میں مصروف تھا اور محل کے دوکان میں بیٹھا ہم سب کو مختلف ہدایات دے رہا تھا کہ اچانک فیروز خان پریشانی میں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے بہروز کے قریب آیا اور اس نے جھک کر بہروز کے کان میں کوئی بات کی ۔لیلی بھی اسی وقت وہاں پہنچی تھی۔اس نے بہروز کے چہرے پر پریشانی اور کش مکش کے آثار دیکھے تو فیروز خان کو جھڑک دیا ۔
تمہیں کتنی بار منع کیا ہے میں نے فیروز یوں وقت بے وقت اپنے مالک کو پریشان مت کیا کرو۔فیروز سر جھکائے کھڑا رہا
بہروز نے فیروز کی طرف دیکھ کر کہا۔ایک آدھ دن آگے نہیں ہو سکتا یہ سودا۔۔؟
نہیں مالک وہ لوگ بہت دور سے آئے ہیں اتنا لمبا انتظار نہیں کرے گے ہمارا۔۔۔ان کو زیادہ دیر جزیرے پر انتطار کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔۔بہروز نے ایک گہری سانس لی۔۔
مگر فیروز خاں۔۔۔تم جانتے ہو کل تمہاری مالکن کی سالگرہ ہے اور میں پورا سال اس دن کا انتظار کرتا رہا ہوں۔۔
لیلی نے چلا کر پوچھا۔کوئی مجھے بھی بتائے گا۔یہ سب کیا چل رہا ہے؟بہروز نے ٹھنڈے لہجے میں لیلی کو بتایا کہ ایک بہت ضروری سودے کے لیے اسے دو راتوں کے لیے ایک قریبی جزیرے پر جانا تھا۔یہ سودا پہلے طے شدہ تو تھا مگر فیروز خاں نے ابھی آخر بتایا کہ انہیں آج شام ہی نکلنا ہوگا۔لیلی یہ سنتے ہی غصے سے کھڑی ہوگئی۔
ٹھیک ہے بہروز آپ پھر جائیں آپنے ضروری سودے کے لیے۔مگر مجھ سے ابھی دوبارہ کھبی بات کرنے کی کوشش نہ کیجیئے گا۔نہیں منانی مجھے کوئی سالگرہ وغیرہ۔۔لیلی پیڑ پٹختے ہوے اندر چلی گئی اور بہروز اسے آوازیں دیتا رہ گیا لیلی کے جانے کے بعد بہروز نے غصے سے گھورا فیروز کی طرف دیکھا کر دیا نا اسے ناراض فیروز خاں۔۔تم کھبی موقع دیکھ کر بات نہیں کرتے جاو۔۔۔چلنے کی تیاری کرو میں اسے منا کر آتا ہوں۔۔
بہروز بھی اٹھ کر اندر چلا گیا۔جانے اس نے کس طرح اپنی محبوب بیوی کو رضا مند کیا ہوگا۔مگر مگر جب شام کو وہ گھر سے رخصت ہونے کے لیے نکلا تو لیلی صباہ بھی اسے پورچ تک چھوڑنے کے لیے آئی۔البتہ لیلی کے چہرے پر خفگی کے آثار ابھی تک نمایاں تھے اور وہ بجھی بجھی سی دکھائی دے رہی تھی۔بہروز کریم جانے سے پہلے جلد واپس لوٹنے اور پھر بہت دن اس کے ساتھ رہنے کے وعدوں کے ساتھ رخصت ہوگیا لیلی بھی پلٹ کر اندر چلی گئی۔انسان ساری زندگی وعدے کرنے اور وعدہ نبھانے کی زنجیر سے بندھا رہتا ہے۔شاید ہم دوسروں سے کیے وعدے تو نبھا لیتے ہیں مگر ہمارے خود اپنے آپ سے کیے وعدے سدا وفا ہونے کا انتطار کرتے رہتے ہیں۔میں نے بھی اپنے آپ سے ایک وعدہ کیا تھا کہ اب اگر لیلی نے مجھ سے کہیں جانے کی ضد کی تو میں اسے صاف بتا دوں گا کی میں بہروز کے ساتھ مزید غداری نہیں کر سکتا۔ہاں یہ غداری ہی تو تھی کہ میں بہروز کی دی ہوئی ہدایات پر پوری طرح عمل نہیں کر پا رہا تھا دوسرے روز حسب توقع لیلی نے سر شام ہی کہیں جانے کی ٹھانی لی۔اور ہم گاڑی میں انہی اپارٹمنٹس کی پارکنگ میں پہنچ گئے جہاں ساتویں منزل پر لیلی کی سہیلی رہتی تھی۔میں نے لیلی سے ڈبے لفظوں میں کہا کہ ہمیں یہاں زیادہ دیر نہیں ٹھرنا چاہیے کیونکہ مالک نے مجھے جاتے ہوئے خاص طور ہدایت کی ہے کہ ان دنوں میں لیلی کے ساتھ کہیں بھی باہر نکلنے سے گریز کروں کیونکہ وہ جس بڑے کاروباری سودے کے لیے گھر سے باہر نکل رہا ہے۔وہ سودا اس حریفوں کے دلوں میں کاروباری رقابت کی آگ مزید سلگا کر انہیں بھی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر سکتا ہے ۔۔
لیلی نے میری بات سن کر ایک گہری سانس لی۔ہاں وہ جاتے ہوئے مجھے بھی گھر سے نہ نکلنے کی تاکیدی کر کے گئے ہیں
مگر تم فخر نہ کرو۔میں جلدی مل کر واپس آجاوں گی۔میری دوست نے میری سالگرہ کا خاص اہتمام کر رکھا ہے نہ آتی تو وہ مجھ سے ناراض ہوجاتی۔۔۔
لیلی تیزی سے لفٹ کی جانب بڑھ گئی اور میں نے اپنے ساتھ لیے ہوئے وعدے کی لاش اپنے کاندھوں پر اٹھائے وہیں تہہ خانے کی پارکنگ میں کھڑا رہ گیا۔شام تیزی سے ڈھل رہی تھی اور پارکنگ لاٹ میں لگی بتیاں دھیرے دھیرے ایک ایک کر جلنا شروع ہوچکی تھی جب لیلی کو گئے تین گھنٹے سے زیادہ ہونے کو آئے تو میں خود اوپر جانے کا فیصلہ کر لیا اور میں قدم بڑھائے ہی تھے کہ لیلی تیزی سے لفٹ سے نکل کر میری جانب بڑھتی ہوئی نظر آئی وہ اپنا اسکاف لپیٹ کر پڑا میں رکھ رہی تھی آپ نے بہت دیر کردی آج تو ہم نے آتے وقت آپ کی ہدایت کے مطابق محافظوں کی گاڑی کو بھی منزل سے آگاہ نہیں کیا تھا۔وہ سب وہاں گھر میں بے چین ہوں گے۔لیلی نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ہاں بس فیر ہوگئی مگر اب چلو۔ہمیں وہاں گھر میں یہی تاثر دینا ہے کہ ہم قریبی مال سے روز مرہ کی چند ضروری لینے کے لیے اچانک نکل گئے تھے لہذا انہیں بتانے کا موقع ہی نہیں ملا۔میں جلدی سے گاڑی کی طرف بڑھا اور ٹھیک اسی وقت تہہ خانے کی مضوعی سر فضا میں ایک بھاری آواز گونجی ایسی بھی کیا جلدی جان لیلی۔دیکھوں ہم تو تمہاری تلاش میں خود ہی چل کر یہاں تک آپہنچے ۔۔۔
میرے قدموں تلے زمین سرک گئی۔وہ اندھیرے میں ایک ستون کی آڑ میں کھڑی گاڑی سے بہروز کریم اور فیروز خاں
ہماری جانب بڑھتے ہوئے دیکھائی دیتے۔پس منظر میں ہمارے محافظوں کی وہ جیپ بھی نظر آئی جسے میں اور لیلی اپنی دانست میں چکما دے کر گھر میں ہی چھوڑ آئے تھے لیلی کے چہرے کا رنگ پل بھر میں زردہ پڑگیا اور میں نے اس کے جسم میں باقاعدہ کانپتے جیسی لرزش دیکھی۔بہروز نے لیلی کے قرہب پہنچ کر پیار سے اس کی ٹھوڑی اٹھا کر لیلی کا جھکا ہوا چہرہ بلند کیا۔یہ کیا بات ہوئی جان لیلی میرے منع کرنے کے باوجود تم گھر سے نکل آئیں۔کیا کوئی نئی سہیلی بنا لی ہے تم نے یہاں ہمیں بھی تو اس سے ملواو جس کے پیار میں اتنی کشش ہے کہ تم اپنے محبوب بہروز کا حکم کا ماں بھی نہ رکھ پائیں ۔۔
لیلی نے جلدی سے جھک کر بہروز کے پاوں پکڑ لیے معاف کر دے مجھے بہروز بڑی بھول ہوگئی مجھ سے مجھے واقع ہی گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا۔مگر میں کسی کی باتوں میں بہکاوے میں آگئی تھی آئندہ ایسی غلطی کھبی نہیں ہوگی۔بہروز کا چہرہ اب بھی سپاٹ تھا میں تمہیں تو معاف کردوں گا لیلی جان مگر اسے کھبی معاف نہیں کرو گا جس نے تمہیں بہکا کر گھر سے نکالا اور میری حکم عدولی کی بتاوں کون ہے وہ بدنصیب ؟؟؟
لیلی نے اپنے آنسووں سے بھیگا چہرہ اٹھایا۔کہا نا بہروز بڑی غلطی ہوگئی میں گھر میں بیٹھے بیٹھے بور ہوگئی تھی اس لیے یہاں چلی آئی یہاں ٹاپ فلور پر ایک بہت اچھا ریسٹوران ہے سوچا کافی پی کر دل بہلا لو گی اور مجھے اس بات کا بہت افسوس ہے ۔۔بہروز نے دوبارہ سختی سے پوچھا۔کون ہے وہ خس نے تمہیں یہاں آنے پر مجبور کیا ؟
لیلی دھیرے دھیرے کھڑی ہوگئی اور اس نے انگلیاں میری جانب اٹھا دی۔یہ پری زاد یہی مجھے الٹی سیدھی پٹیاں پڑھاتا رہتا ہے کی یہ زندگی میری اپنی ہے۔مجھے اسے اپنی مرضی سے جینا چاہیے۔میں کوئی پنچرے میں قید قیدی تو نہیں کہ ہر لمحہ گھٹ گھٹ کر جیوں ۔۔۔۔💔
لیلی چیخ چیخ کر مجھ پر الزام لگا رہی اور میں تو جیسے پل بھر میں ہی اپنے حواس کھو بیٹھا تھا مجھ سے کچھ کہا ہی نہیں گیا۔ایک لمحے کو میری لیلی سے پل بھر نظر ملی اور مجھے لگا میرے سامنے لیلی نہیں دعا کھڑی ہے اور ہم دوبئی میں نہیں میرے پرانے محل میں کھڑے ہیں۔بہروز کریم نے اطمینان سے لیلی صباہ کی بات سنی اور میرئ طرف پلٹا۔
اچھا تو یہ ہے وہ نکل حرام۔اس سے مجھے ایسی امید ہرگز نہ تھی۔مگر جان بہروز آپ کو تو کچھ خیال کرنا چاہیے تھا ناں۔اگر اس کی نیت میں کوئی فتور پیدا ہوجاتا اور میرے دشمنوں کے ساتھ مل کر یہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیتا تو سوچو۔پھر میرا کیا ہوتا۔تمہیں ایک غلام کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے تھا۔لیلی روتے ہوئے گڑگڑائی۔آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں بہروز۔اس پری زاد نے آپنے ذرا سے فائدہ کے لیے مجھے میری راہ سے بھٹکا دیا۔میری ہمدردی حاصل کرنے کے لیے میرے دل میں بغاوت کی چنگاری کو بھڑکا دیا تھا اس نے آپ جانتے ہیں میں آپ جانتے ہیں میں آپ کے بنا کتنی تنہا پڑ جاتی ہوں۔یہ ضرور مجھے کوئی نقصان پہچانا چاہتا ہوگا۔تبی مجھے اکیلے گھر سے نکلنے پر اکساتا رہتا تھا۔اچھا ہوا آپ لوگ ٹھیک وقت پر یہاں پہنچ گئے۔۔۔
میں حیرت سے گنگ اور آپنی جگہ جما کھڑا لیلی کی یہ ساری خرافات سنتا رہا۔بہروز دھیرے دھیرے چلتے ہوئے میرے قریب آیا اور اس کی آنکھیں میری آنکھوں میں ۔۔
گڑگئیں۔تم بتاوں پری زاد کیا لیلی ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔۔اور کوئی بھی جواب دینے قبل اتنا ضرور سوچ لینا کہ بہروز کریم کی عدالت میں غداری کی صرف ایک سزا مقرر ہے سزائے موت۔میں نے ایک پل کے لیے نظر اٹھا کر لیلی کی طرف دیکھا۔وہ لا تعلق سی کھڑی تھی۔بہروز دوسری بار زور سے چلایا جواب دو لڑکے کیا یہ سچ ہے۔۔۔
میں نے سر جھکا لیا۔جی ہاں مالکن جو کہہ رہی ہیں سچ کہہ رہی ہیں۔میں انہیں بہانے سے سے گھر سے باہر لے کر آیا تھا۔۔۔
ایک لمحے کے لیے لیلی کی آنکھوں میں بے یقینی کی ایک چمک لہرائی مگر فورا ہی اس نے خود کو نارمل کر لیا۔بہروز کریم نے سرسراتی آوازیں مجھ سے پوچھا ۔۔
کوئی آخری خواہش ہوتو بتا دو۔تمہاری گنتی کی چند سانس باقی رہ گئی ہیں۔۔میں نے بہروز کی طرف دیکھا۔جی ہاں مالک بس ایک آخری خواہش ہے مجھے مارنے کے بعد میرا چہرہ مسخ کر دیجئے گا۔۔میں نے تو یہ زندگی جیسے تیسے
اس چہرے کے ساتھ گزار لی مگر میں قبر میں اس شناخت کے ساتھ ہرگز نہیں جانا چاہتا بہروز کچھ دیر تک میری طرف دیکھتا رہا مجھے اس کے لہجے میں پہلی بار اپنے لیے غصے سے زیادہ افسوس کا عزم محسوس ہوا۔جانتے ہو مرد کی برابری کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے ٹھیک اس لمحے جب وہ اپنے دل کے فیصلوں پر عمل کرنا شروع کردیتا ہے۔میری طرح تم نے بھی خود کو اس عورت کی خاطر برباد کر لیا پری زاد برا کیا۔۔بہت بڑا کیا تم نے۔
بہروز پلٹا اور زور سے چلایا۔اسے لے آو فیروز خاں۔۔
بہروز کی آواز اس ویران تہہ خانے کی پارکنگ میں گونج کر رہ گئی۔اس روز مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ لیلی خاص طور پر اس پارکنگ میں کیوں گاڑی لگواتی تھی۔کیونکہ یہ پارکنگ تقریبا متروک ہوچکی تھی اور اپارٹمنٹ والے اب چھت پر بنی نئی پارکنگ کا استعمال کرتے تھے لہذا یہاں کسی کا آنا جانا نہیں تھا۔اس لیے لیلی کی گاڑی گھنٹوں یہاں کھڑی رہتی تب بھی کسی کی متوجہ ہونے کا امکان ذرا کم ہی تھا۔مگر آج وہی ویرانی اور تنہائی اس پارکنگ میں ہمارے لیے وبال جان بن گئی تھی۔بہروز کے چلانے پر کچھ دیر بعد فیروز خاں دو محافظوں کی مدد سے ایک خوبصورت اور ہینڈ سم سے نوجوان کو سختی سے جکڑے اور اس کے منہ پر ٹیپ لپیٹے ایک جانب سے برآمد ہوا۔میں نے حیرت سے دیکھا کیونکہ کے آج سے پہلے اس سے کھبی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔مگر لیلی کے جسم سے تو جیسے خون کا آخری قطرہ بھی نچڑ گیا۔وہ خوف زدہ انداز میں زور سے چلائی۔
نہیں بہروز اس ولید کا کوئی قصور نہیں بخش دے اسے ۔۔
لیلی دوڑتی ہوئی بہروز لے قدموں سے لپٹ گئی۔بہروز نے کسی ان دیکھی اذیت کے احساس سے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں اور دھیرے سے یوں بڑابرایا جیسے خود کلامی کر رہا ہو۔۔کیوں لیلی کیوں۔۔؟کس چیز کی کمی تھی تمہیں۔؟؟
کیا نہیں دیا میں نے تمہیں۔؟پیار محبت۔ عیش۔آرام۔دولت جائیداد رتبہ عزت آخر کس چیز کی کمی تھی میرے پاس تمہیں لیلی زارو قطار رو رہی تھی اور وہ اجنبی نوجوان بہروز کے محافظوں کے شکنجے میں تڑپ رہا تھا بہروز نے لڑکے کی طرف دیکھا یہ وہی ہے نا تمہارا گذشتہ منگیتر استنبول والا ولید؟
لیلی تڑپ کر اگئے بڑھی۔ہاں بہروز یہ وہی ہے۔اسے میری محبت یہاں کھینچ لائی یہ سچ ہے کہ آپ نے مجھے سب کچھ دیا۔پر میں اپنی محبت کھبی بھلا نہی پائی۔معاف کردیں ہم دونوں کو میں آپ کی منت کرتی ہوں کم از کم اسے جانے دیں۔بہروز نے کرب سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں ۔
رقیب کو سامنے دیکھنے سے زیادہ اذیت ناک اس کے لیے اپنے محبوب کی زبان سے تعریف سننا ہوتا ہے۔بہروز نے لیلی کی طرف دیکھا واہ اے عورت واہ ساری کائنات کے سر بستہ راز ایک جانب اور تیرے من کا گورکھ دھندا ایک طرف تجھے سمجھنا کسی کے بس کی بات نہیں۔۔
بہروز ایک جھٹکے سے فیروز کی طرف مڑا۔میں نے تمہیں کہا تھا ناں فیروز خان ۔۔۔ہمارے پیچھے کچھ چل رہا ہے اب دیکھ لیا اپنی آنکھوں سے۔۔۔
جاری ہے..
بہروز لیلی صبا اور اس کے بوائے فرینڈ کے ساتھ کیا کرے گا اپنی رائے کمنٹس بکس میں بتائیے گا..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: