Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 13

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 13

–**–**–

فیروز خان نے سر جھکا لیا۔اب مجھے بہروز کی منصوبہ بندی نظر آرہی تھی۔اس نے جان بوجھ کر مجھے لیلی کی نگرانی پر رکھا تھا کیونکہ وہ جانتا تھاکہ لیلی صباہ میری نگرانی غیر محتاط ہوجائے گی اس کی سالگرہ والے دن جزیرے پر خانے کا پروگرام بھی ساری ڈرامے بازی تھی۔وہ کھبی شہر سے باہر گیا ہے نہیں تھا۔اسے بہت پہلے ہی لیلی کی بے وفائی کا علم تھا۔وہ تو بس لیلی کو رنگے ہاتھ پکڑنا چاہتا تھا سب مہرے بہروز نے بہت پہلے ماہ تول کر چنے تھے ساری بساط ہی بہروز کی اپنی بچھائی ہوئی تھی۔اور بازی بھی اسی کے ہاتھ تھی۔بہروز کھوئی کھوئی آنکھوں سے فیروز خان کی طرف دیکھا۔۔
مجھے لیلی صباہ بہت پیاری ہے فیروز اس سے بہت ٹوٹ کر محبت کی ہے میں نے دھیان رہے اسے مرتے وقت زیادہ تکلیف نہ ہو۔اور ولید چونکہ میری محبوب کا محبوب ہے۔لہذا اس کی موت بھی اس کے لیے اعزاز سے کم نہیں ہونی چاہیے۔آخر یہ بہروز کریم کا رقیب ہے۔یہ اگر عام چلے لفنگے عاشقوں کی طرح مارا گیا تو یہ اس کے ساتھ بڑی زیادتی ہوگی ل۔لے جاو ان دونوں کو۔۔
لیلی زور سے چلائی۔نہیں بہروز نہیں۔
فیروز نے محافظوں کو اشارہ کیا۔انہوں نے لڑکے اور لیلی کو لے جانے لیے کھینچا۔بہروز دھیرے سے بڑبڑایا۔عشق بڑا ظلم ہوتا جان کا صدقہ لیے بنا کہاں ٹلتا ہے۔اب مجھ سے صبر نہیں ہوسکا اور میں جلدی سے بہروز کی طرف بڑھا۔انہیں معاف کردیں ان کا قصور بہت بڑا ہے۔مگر آپ رحم کریں
میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی میرے سر پر کسی محافظ
کی خودکار مشین گن کا دستہ پوری قوت کے ساتھ ٹکرایا اور میرا ذہن اندھیرے میں ڈوب گیا۔گرنے سے پہلے میں نے تہہ خانے کے کسی کونے سے دو فائر کی آواز سنی اور اس سے زیادہ بلند لیلی کی کرب ناک چیخ تھی پھر دھیرے دھیرے میرا وجود گہرے تاریک اندھیرے کے اتھاہ سمندر میں ڈوبتا چلا گیا۔
سائنسدان موت کی ایک تشریح بھی کرتے ہیں کہ جب انسان دماغ کی نکلنے والی برقی نبض۔Electrical impulse.
تھم جائے تو اس روح نکل جانے سے تشبیہ دی جاتی ہے اور روح نکل جانے کے بعد انسانی جسم کی حالت کو ہم موت کہتے ہیں جانے میری روح کتنے عرصے بعد دوبارہ میرے جسم میں واپس آئی۔رات کا شاید آخری پہر تھا میں کسی اندھیرے کمرے میں بستر بستر پر پڑا ہوا تھا مگر یہاں اتنا
اندھیرا کیوں تھا۔ضرور بہروز نے ان دونوں کے ساتھ مجھے بھی ختم کردیا تھا۔اور اب میں کمرے میں نہیں۔کسی قبر میں دفنایا جا چکا تھا۔ٹھیک ہی کیا بہروز نے زندگی کے کسی امتحان میں بھی پورا نہیں اتر پایا تھا میں چلو۔جو ہوا اچھا ہوا قصہ تمام پوا۔۔
شجر تو تھے ہی نہیں راستے میں کیا کرتے
خود اپنے سائے میں چل کر سفر تمام کیا
مگر میرا سفر ابھی کچھ باقی تھا شاید اچانک کمرے میں تیز روشنی ہوگئی اور کسی نے دھیرے سے میرا نام پکارا۔۔
پری زاد۔ہوش میں آو۔ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔
رومی کہتا کہ۔تمہارا مقصد محبت کی تلاش میں بھٹکتا نہیں۔۔تمہیں تو بس ان تمام رکاوٹوں کو کھوجنا ہے جو تم نے خود اپنے اندر کی رکاوٹیں کھوج لیتا اگر مجھے مزید کچھ دیر اس بے ہوشی کے سمندر میں غرق رہنے کا موقع مل پاتا۔مگر کوئی مجھے زور زور سے جھنجوڑ رہا تھا۔پری زاد۔۔
ہوش میں آو۔۔ہم یہاں سے کوچ کر رہے ہیں ۔۔۔
میری چندھائی ہوئی آنکھوں نے فیروز خان کا دھندلا سا چہرہ دیکھا جو مجھ پر جھکا مجھے ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا۔چند لمحوں کی غنودگی کے بعد میں ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔میں انیکسی میں اپنے بستر پر موجود تھا۔فیروز نے میرا چہرہ تھپتھپایا۔۔۔
جلدی سے تیار ہوجاوں ل۔ہم سب کچھ دن کے لیے کسی دوسری جگہ منتقل ہورہے ہیں تمہارے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہے۔ہم لوگ باہر گاڑیوں کے قریبتمہرا انتطار کررہے ہیں
میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔دوپہر کی تیز دھوپ ڈھل رہی تھی۔مطلب میں میرا پورا دن بے سدھ پڑا رہا تھا۔میرے سر میں ابھی تک درد کی ٹیس اٹھ رہی تھیں۔ہاتھ لگا کر دیکھا تو پٹی بندھی ہوئی تھی۔کھڑے ہوتے ہی مجھے ایک زور دار چکر آیا اور میں جلدی سے پلنگ پائینی کو پکڑ لیا۔کچھ دیر تک سرخ اور سیاہ دائرے میری آنکھوں کے سامنے رقص کرتے رہے اور پھر میں اپنے ڈولتے قدم سنبھال سنبھال کر رکھتا ہوا باہر نکل ایا۔پورچ تقریبا سبھی گاڑیاں روانگی کے لیے تیار کھڑی تھیں۔سارا گھر بائیں بائیں کر رہا تھا۔یہ عمارتیں مکینوں کے بنا کتنی ویران ہوجاتی ہیں۔شاید انسان دنیا کا سب سے بڑا جادو ٹوٹنا ہے لوگوں کو تو اپنا عادی بناتا ہی ہے۔یہ گھر۔دیواریں۔اور مکان بھی اس کے سحر سے بچ نہیں پاتے۔میرے گاڑی میں بیٹھتے ہی فیروز نے گاڑی آگے بڑھا دی اور باقی ساری گاڑیاں بھی ہمارے پیچھے چل پڑیں
مالک کہاں ہیں۔۔؟فیروز میرا سوال سن کر کچھ دیر خاموش رہا۔وہ وہیں گھر پر رہیں گے تین دن۔۔۔مالکن کو سوئم کے بعد ہم بھی واپس چلے جائے گے گھر ۔۔۔
میرے اندر دل نما چیز بہت زور سے ٹوٹی۔بڑے کا جھٹکا ہوا
ایک ہلکی سی آس جو میرے سینے میں کسی پھانسی کی طرح اٹکی ہوئی تھی۔فیروز جھٹکے میں ہی اسے کھینچ کر باہر نکال دیا۔کچھ تیر جن کے دو موہے سرے آگے کی جانب سے باہر کو مڑے ہوتے ہیں۔ان کا جسم میں پیوست ہونا اتنا تکلیف دی نہیں ہوتا۔جتنی اذیت اس تیر کو جسم سے باہر کھینچ کر نکالنے میں ہوتی ہے۔خانے میں کیوں یہ امیدیں لگائے بیٹھا تھا کی بہروز کریم لیلی کو معاف کردیا ہوگا۔مگر افسوس ہماری آس اور ہماری امیدیں اکثر دغا دے جاتی ہیں فیروز نے مجھے بتایا کہ رات کو قریبی پولیس اسٹیشن میں بہروز کے ڈرائیور نے رپورٹ درج کرائی کہ جیسے اس کی مالکن لفٹ سے باہر نکلی ایک نوجوان نے اس کی مالکن پر حملہ کر دیا اور نوجوان کے پستول سے نکلی گولی لیلی کے سینے میں پیوست ہوگئی ڈرائیور کی جوابی گولی نوجوان بھی وہیں ڈھیر ہوگیا۔لیلی کے سینے میں پیوست گولی خس پستول سے نکلی تھی وہ بنا لائسنس تھا اور نوجوان کے ہاتھ میں دبا پایا گیا تھا۔ڈرائیور کا پسٹل لائسنس والا تھا جو ڈرائیور نے رپورٹ کے ساتھ ہی تھانے میں جمع کرادیا تھا اور اس وقت ڈرائیور پولیس کی حراست میں تھا۔بہروز نے ہم سب کو احتیاطا محل سے منتقل کروادیا تھا تاکہ ہم میں سے کوئی پولیس کی نظروں میں نہ آسکے۔پولیس اس بات کی تفشیش میں لگی ہوئی تھی آخر مرنے والے اس نوجوان کا مقصد کیا تھا؟بہروز نے پولیس کے سامنے شک ظاہر کیا تھا کہ مرنے والے ولید کا تعلق اس کے مخالف کاروباری طبقے سے ہوسکتا ہے۔بہرحال جو کچھ بھی تھا یہ تفشیش اب لمبی چلنے والی تھی مگر میں ان سب باتوں سے لاتعلق اپنے آپ میں غم بیٹھا صرف لیلی کے بارے سوچتا رہا لیلی صباہ نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔؟
یہ محبت انسان کو جان لیوا حد تک نڑر بنا دیتی ہے۔آخر کس چیز کی کمی تھی لیلی کو۔۔۔حسن صورت شکل دولت مرتبہ اور عزت۔۔۔کیا محبت ان سب نعمتوں سے الگ۔کچھ سوا مانگتی ہے؟شاید محبت کی ضروریات اور محبت کی دنیا ہماری ان سب عارضی خواہشات اور دکھاوے کی دنیاوں سے بہت بلند بہت جدا ہوتی ہے۔ہم ایک ہفتے تک کسی اور کوٹھی میں منتقل بلکہ مقید رہے۔پابندی اور اکتاہٹ گزرتے وقت کو بہت طویل بنا دیتی ہے مگر جیسے تیسے وہ ایک طویل ترین ہفتہ گزر ہی گیا۔آٹھویں دن ہم پھر سے بہروز کے محل میں موجود تھے۔مگر بہروز اب وہ بیروز نہیں تھا جیسے میں نے آٹھ دن پہلے دیکھا تھا۔اس کی آنکھوں میں ویرانی اور وحشت دیکھ کر میں اندر سے لرز سا گیا۔وہ چپ چاپ سا اپنی خواب گاہ کی بالکونی(ٹیرس)میں بیٹھا ہوا دور خلا میں کچھ گھور رہا تھا۔
آگئے تم لوگ۔۔؟اچھا کیا۔۔مگر کچھ دنوں تک اب ذرا محتاط رہنا معاملہ تازہ ہے۔فیروز سر بلا کر باقی ساتھیوں سمیت پلٹ گیا مگر میں اپنی جگہ کھڑا رہا اور تنہائی پاتے ہی میں نے براہ راست پوچھ لیا۔آپ نے انہیں مار کیوں دیا۔۔؟آپ تو ان سے بہت محبت کرتے تھے پھر؟
بہروز اب بھی غم سا تھا محبت کرتا تھا تبھی تو مار ڈالا ۔
میری آواز نہ چاہتے ہوے بھی بلند ہوگئی۔مگر کیوں۔۔۔؟
آپ انہیں طلاق دے کر فارغ بھی تو کر سکتے تھے۔جان بخشی بھی تو ممکن تھی ان کی۔۔آپ کے ساتھ ناں سہی مگر کم از کم وہ زندہ تو رہتیں۔۔
بہروز نے میری طرف دیکھا میری نظر جھک گئی۔اتنا ظرف نہیں مجھ میں پری زاد۔۔کھبی کھبی محبت ہمیں بہت خود غرض۔۔بہت کم ظرف بنا دیتی ہے۔۔جو لوگ میں قربان ایثار اور بانٹ دینے کے فلسفے کی بات کرتے ہیں یہ سب بکواس ہے جھوٹ بولتے ہیں وہ سارے محبت شدید نفرت سے بھی زیادہ کمینہ اور خود غرض جذبہ ہے اور جن کی محبت میں لالچ خود غرضی اور سب کچھ پالینے کی ہوس نہیں ہوتی سمجھ لو ان کی محبت میں ہی نرا کھوٹ ہے ۔۔
بہروز نے آج پہلی بار یوں مجھ دے کھل کر بات کی تھی یا پھر شاید آج اسے دل کی بات سنانے کے لیے کسی سامع کی ضرورت تھی۔ہم زندگی میں اپنے دل کی بہت سی باتیں اس لیے نہیں کر پاتے کیوں کہ ہمیں معیار کا سامع نہیں ملتا۔میری آواز ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہی تھی۔پھر مجھے کیوں بخش دیا آپ نے۔میرا جرم بھی تو کچھ کم نہیں تھا۔۔مجھے بھی وہیں مار ڈالتے۔۔بہروز اب بھی بے حس و حرکت بیٹھا رہا۔ہاں۔تمہیں بھی مار دیتا اسی وقت بس تمہاری آخری خواہش نے ہاتھ روک دیا میرا۔پری زاد۔کیوں خود سے اتنی نفرت کرتے ہو۔۔؟مرد کی شخصیت صرف اس کے چہرے سے مکمل نہیں ہوتی۔یہ سب لوئر مڈل کلاس طبقے کی محرومیاں ہوتی ہیں مرد دولت اختیار طاقت اور رتبے سے مکمل ہوتی ہے۔۔یہ چہرہ وجاہت وغیرہ فلمی سٹاروں کی ضرورت ہوتا ہے۔سپنوں کے شہزادے صرف ناولز میں پائے جاتے ہیں۔اصل دنیا تمہارے چہرے سے کہیں زیادہ کرخت ہے پری زاد۔۔۔۔
میں چپ چاپ کھڑا سنتا رہا۔یہ بات مجھے آمنہ کی ماں نے بھی کہی تھی۔۔اب میں بہروز کو کیا بتاتا دنیا خود چاہے کتنی بھی کرخت اور سفاک کیوں نہ ہو۔اس بدلے میں ہمیشہ سپنوں کے شہزادے ہی درکار ہوتے ہیں۔پھر اچانک بہروز کو کچھ یاد آگیا۔۔
ہاں پری زاد مگر تمہیں خود کشی کا اتنا شوق کیوں ہے۔۔؟تم جانتے تھے کی وہ عورت تمہاری جان کے درپے اور سارے الزام تمہارے سر ڈال کر اپنی آئی قضا تمہارے متنتقل کرنا چاہتی ہے پھر بھی تم نے اس کے لیے جھوٹ کیوں بوکا۔۔؟
اس لیے کہ میں آپ کے نوکروں اور دیگر عملے کے سامنے اپ کے گھر کی عزت رسوا نہیں کرنا چاہتا تھا۔مجھے لیلی مالکن نے ہمیشہ یہی بتایا کہ وہ آپنی سہیلیوں یا رشتہ داروں سے ملنے جاتی ہیں اپنی تنہائی سے گھبرا کر۔۔ورنہ میں کھبی آپ سے نہ چھپاتا ۔۔
بہروز نے ایک گہری سانس لی۔۔میں جانتا ہوں۔۔اس کے لیے تمہیں بےوقوف بنانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔۔تم نے آپنی زندگی کے بدلے میری عزت بچانے کا سوچا میں یہ بات ہمیشہ یاد رکھوں گا تمہاری ذمہ داریاں آج سے بدل گئی ہیں جاتے ہوے فیروز سے ملتے جانا اور ہاں اب تم انیکسی میں ہی رہوں گے ۔۔
بہروز کے کمرے سے نکل کر میں انیکسی میں واپس آگیا۔اگلے روز فیروز نے مجھے ایک آراستہ دفتر میں پہنچا دیا
یہ آج سے تمہارا دفتر ہے پری زاد مالک نے تمہیں مینجر کے عہدے پر ترقی دے دی ہے باہر بیٹھا عملہ تمہیں سارا کام سمجھا دے گا۔یہ ہماری سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی کا دفتر ہے اور یہ سارا عملہ آج سے تمہارے ماتحت ہوگا۔میں حیرت سے فیروز کو دیکھتا رہا۔فیروز نے میرے چہرے پر لکھے سوال پڑھ لیے اور مسکرا کر بولا۔تم بہت جذباتی ہو اور وفادار بھی ہو پری زاد۔اور مالک وفاداروں کی بہت قدر کرتے ہیں ۔۔تمہیں اب کچھ عرصے تک اسی کمپنی کا کام دیکھنا ہوگا کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ تمہاری جذباتیت کسی بھی موڑ پر ہمارے لیے کوئی نیا بکھیرا نہ کھڑا کردے لہذا فی الحال تمہیں کسی خطرے والے جھنجھٹ میں نہیں ڈالنا چاہیے ویسے بھی دوبئی کی پولیس اب چوبیس گھنٹے ہم سب پر نظر رکھ رہی ہے۔یہاں کا قانون سب کے لیے یکساں اور بہت سخت ہے۔تمہیں بھی بہت ہوشیار رہنا ہوگا۔
فیروز اپنی بات ختم کرکے چلا گیا۔میں بہت دیر تک وہیں کھڑا اس عالی شان دفتر اور بڑی سی میز کے پیچھے رکھی ہوئی چمکتی سیاہ کرسی کو دیکھتا رہا۔کل ایک غریب بستی کا پری زاد آج دوبئی کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی کا مینجر تھا۔میں نے کرسی کے بے داغ سطح پر ہاتھ پھیرا اور اس پر بیٹھ کر تین مرتبہ اسے گھما کر بارھویں منزل پر واقع اپنے دفتر کی بڑی بڑی شیشے کی کھڑکیوں سے دوبئی شہر گہما گہمی کا نظارہ کیا۔اس روز مجھ پر ایک اور صدیوں پرانا راز بھی منکشف ہوا کہ ان اونچی آسمانی سے باتیں کرتی عمارتوں کے کمروں میں بیٹھے لوگوں کو زمین پر چلتے عام انسان اتنے چھوٹے حقیر اور کیڑے مکوڑے جیسے کیوں دکھائی دیتے ہیں۔تیسرے دن رفیق اچانک ہی بنا بتائے کسی کام سے دوبئی آگیا اور عملے سے پوچھتے پاچھتے کے دفتر تک آہ پہنچا۔مجھے مینیجر کی کرسی پر بیٹھے دیکھ کر کچھ دیر کے لیے وہ کہنا ہی بھول گیا۔میں نے چپڑاسی سے چائے یا کافی لانے کے لیے کہا اور رفیق کو ہاتھ دے پکڑ کر سامنے صوفے پر بیٹھا دیا اب کچھ کہوں گے بھی یا یونہی گم سم بیٹھے رہو گئے۔۔؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: