Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 14

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 14

–**–**–

رفیق نے ایک پی سانس میں پانی کا پوالرا گلاس حلق سے نیچے انڈیل لیا۔پری زاد۔پیارے ڈچ بتاو تم نے کوئی ایسا کام تو نہیں کر رہے جو تم مجھے اور باقی دنیا کو بتا نہیں سکتے
میں نے گہری سانس بھری۔نہیں۔میں ایسا کوئی کام نہیں کر رہا ہوں جس کے بارے میں مجھے تم سے یا کسی اور سے کچھ چھپانے کی ضرورت پیش آئے۔۔
مگر میرے جواب سے رفیق کی تفشیش نہیں ہوئی۔دیکھوں پری زاد میں جانتا ہوں کہ بہروز مالک کے ہاں ایساں بہت کچھ ہوتا ہے جس کی ہمیں بھی خبر نہیں ہوتی۔اگر خود کو کسی ایسی گرہ میں الجھا بیٹھے ہو تو ابھی بھی وقت ہے میں تمہیں چپ چاپ دوبئی سے پار کروا سکتا ہوں ایک اور دوست ہے میرے لانچ والے۔۔کسی کو تمہارے فرار کی خبر نہیں ہوگی میں نے مسکرا کر اپنے اس ناداں دوست کی طرف دیکھا۔مجھے صرف خود آپنے آپ سے فرار چاہیے بولو خود مجھے آپنے آپ سے فرار کرواسکتے ہو۔۔؟ہے کوئی ایسی لانچ بحری جہاز یا اڑان کھٹولہ خو مجھے خود میری ذات کے جزیرے سے فرار کروانے میں مدد کر سکے۔۔۔؟
رفیق کی پلکیں نم ہوگئیں اور پھر وہ زیادہ دیر وہاں بیٹھ نہیں سکا۔میرے دن اور رات پھر سے اسی یکسانیت کا شکار ہونے لگے۔جس سے ہمیشہ ہی بہت بےزار رہتا تھا۔البتہ پیانو سے میری دوستی پکی ہوچکی تھی۔لیلی کی موت کے بعد مارتھا نے محل میں آنا بند کر دیا تھا مگر اب میری انگلیاں آپنی مرضی کی دھنیں بکھیرنا خوب جانتی تھی۔بہروز کریم اب زیادہ تر گھر پے ہی رہتا تھا خاموش کھویا کھویا اور گم سم سا۔۔اس شام میں ایک ضروری فائل پر اس کے دستخط لینے اس کے پاس پہنچا تو وہ کہیں تو وہ کہیں جانے کی تیاری میں دکھائی دیا۔۔
آپ کہیں جارہے ہیں مالک ۔۔۔؟؟؟
ہاں۔۔۔کچھ دن کے لیے اس کی یادوں سے فرار کی ایک کوشش کر کے دیکھتا ہوں۔حالانکہ کہیں نہ کہیں اندر سے میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ سب بے کار جائے گا۔۔۔
بہروز شام کے جہاز سے لندن فلائی کر گیا اور میں رات گئے تک یہ سوچتا رہا کہ ہم انسان سب کچھ بھلا دیتے ہیں۔رشتے ناطے۔دوستیاں۔دشمنیاں۔مذہب اور حتی کہ اپنے خدا کو بھی۔۔تو پھر صرف ایک محبت کی یاد کو اپنے دل سے مٹا کیوں نہیں پاتے۔۔۔کاش یہ مقدر انسان کو کوئی اور اختیار نہ دیتا۔صرف یادیں بھلانے کا مختار بنا دیتا۔میری طوقع کے مطابق بہروز زیادہ دن باہر نہیں بتا سکا اور ٹھیک دو ہفتے کے بعد واپس آگیا مگر اس کی واپسی کی وجہ کچھ اور بھی تھی یہ بعد میں پتا چلا کہ جب فیروز نے مجھے خبر دی کہ اس ترک نوجوان ولید کا باپ انتہائی اثرو سوراخ والا ہے اور بہت جلد دوبئی پہنچ کر پھر سے لیلی صباہ اور اپنے بیٹے کے قتل کے کیس کی نئے سرے سے تفشیش شروع کروانا چاہتا ہے اور پھر ٹھیک تین دن بعد پولیس کی بہت سی گاڑیاں بہروز کریم کے گھر کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئیں اور ایک بار پھر ہم سب سے بیانات لیے گئے ۔۔بہروز کے چہرے پر حسب معمول کوئی تاثر نہیں تھا مگر فیروز مجھے کافی پریشان دیکھائی دیا۔رات کو بہروز نے ہم سب کو محل کے بڑے ہال میں میٹنگ کے لیے بلایا اور پر سکون لہجے میں بتایا کہ دوبئی پولیس نے کیس پھر دے کھول لیا ہے اور ڈرائیور جس کی ضمانت ہوچکی تھی اسے بھی دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے لہذا اس کے ذاتی عملے کو آج کے بعد کھلی اجازت ہے جو آپنی جان بچانے کے لیے جو جہاں نکلنا چاہتا ہے نکل جائے۔۔اور ہوسکتا ہے کہ آنے والے دن بہت سخت ہوں۔
کیانکہ دوبئی پولیس بہت عرصے سے اس موقع کی تلاش میں تھی کہ انہیں بہروز کے خلاف کوئی شکایت معصول ہوتو وہ سارے گڑے مردے ایک ساتھ ہی اکھاڑنا شروع کر دیں۔کیونکہ کہ اب تک بہروز اتنا محتاط رہا تھا کہ سب جانتے ہوے بھی کوئی اس کی طرف انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا۔میٹنگ ختم ہوئی تو صرف میں اور فیروز وہاں رکے رہے
باقی تمام ممبران نے حسب توقع جانے سے پہلے آپنا آخری فیصلہ بہروز کو سنا دیا کہ وہ ایسے مشکل وقت میں بہروز کا ساتھ چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے چاہے انجام کچھ بھی ہو۔۔واقعی بہروز نے اپنے ارد گرد بہت چن کے لوگ جمع کیے تھے۔فیروز ان کئ جاتے ہی دروازہ بند کیا اور پریشانی سے بولا۔۔۔
ہم سب یہیں رہیں گئے۔۔مگر آپ کو فورا یہاں سے کسی اور ملک نکل جانا چاہیے۔۔ان حالات میں انڈیا یا پاکستان ہی بہتر رہے گا۔میں آج رات ہی بڑی لانچ تیار کروا دیتا ہوں ابھی سمندر میں ہمارے وفاداروں کی کمی نہیں ہوئی۔۔دو راتوں کے بعد آپ کسی محفوط مقام پر ہوں گے
بہروز نے اطمینان سے فیروز کی پوری بات سنی۔۔کھبی کھبی روپوشی انسان کو مزید ظاہر کر دیتی ہے فیروز خان
تم پری زاد کو لے کر کسی طرف نکل جاو۔۔۔اس کے ہاتھ ابھی صاف ہیں میں نہیں چاہتا کہ اسے بھی دوسروں کے ساتھ شک کی بنیاد پے دھر لیا جائے۔۔بہروز کریم کا لہجہ حتمی تھا۔فیروز مایوس سا وہاں سے پلٹ گیا میں نے واپسی کے لیے قدم بڑھائے تو میرے عقب میں بہروز کی آواز گونجی
جب کوچ کرنے کا وقت آئے تو ضد مت کرنا۔۔چلے جانا ۔۔
میں نے پلٹ کر جواب دیا۔آپ جانتے ہیں اپ ہمیں قانون میں مقرر سزا سے بڑی سزا دے رہے ہیں ۔۔
بہروز نے سگار کا ایک لمبا سا کش لیا اور ایک چیک میری جاانب بڑھایا اسے رکھ لو برے وقت میں کام ائے گا اور میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔آپنے آپ کو اتنا حقیر مت جانو۔۔
یہ دنیا مرے ہوئے کو مزید مارتی ہے۔مگر جو سینہ تان کر اس کے سامنے کھڑا ہوجائے اور اس دنیا کو للکارے یہ دنیا اسی کو سلام کرتی ہے۔۔دنیا کو للکارنا سیکھ لو پری زاد ۔محبت زندگی کی پہلی یا آخری ضرورت نہیں ہوتی اور تم تو بہت خوش قسمت ہوکہ تمہارے پاس دل بہلانے کو ایک عذر تو موجود ہے کہ کسی کی محبت تمہارا مقدر ہی نہیں
مسلہ تو ہم جیسوں کا ہے جو محبت پاکر اسے آپنے ہاتھوں سے کھو دیتے ہیں۔تمہیں دیکھ کر مجھے اکثر رشک آتا ہے کہ کاش تمہاری طرح میں بھی عمر بھر اس عذاب سے محروم رہتا تو کتنا اچھا تھا۔۔۔۔۔
میں حیرت سے بہروز کی طرف دیکھا۔شاید کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ کھبی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ۔۔
لیلی صباہ کت قتل کی تفشیش کا دائرہ تیزی سے ہمارے گرد تنگ ہوتا جارہا تھا۔میں نے فیروز سے بہروز کریم کو دوبئی سے نکال لے جانے کی ایک آخری کوشش کرنے کو کہا۔فیروز نے مجھے بتایا کہ اب شاید یہاں سے نکلنا اتنا آسان نہ ہو کیوں کے اس کی اطلاح کے مطابق پولیس نے محل کے اردگرد راستوں کی نگرانی بھی شروع کر دی تھی۔فیروز نے ایک حتمی کوشش کرنے کا فیصلہ کرلیا اور ہم سب نے مل کر کسی نہ کسی طرح بہروز کریم کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ ٹھیک تین دن بعد ہم سارے کارندے بمع بہروز دو بڑی لانچوں میں بنکاک یا کسی اور جانب نکل جائیں گے۔ہمارے چہروں پر لکھا فیصلہ پڑھ کر بہرود سمجھ گیا کہ ہم سے مزید بحث بے فاعدہ رہے گی۔فیروز خان کو ایسے معاملات کی سنگینی کا اندازہ اور ان سے نمٹنے کا طریقہ خوب آتا تھا
اس نے ہمارے فرار والی بات رات ہی محل میں بہروز کی سالگیرہ کا جشن اور پارٹی منعقد کرنے کا ڈھونگ رچایا اور شہر کے تمام رئیسوں کو دعوت نامے میں بھی ارسال کر دیئے گئے۔طے یہ پایا کہ شام کا اندھیرا ڈھلتے ہی جب مہمانوں کی آمد شروع ہونے والی ہوگی۔فیروز خان بہروز اور دیگر چند کارندے کو لے کر پہلی لانچ پکڑلے گا۔تب تک میں اور دیگر عملہ مہمانوں کی آو بھگت میں مصروف رہیں گے اور موقع ملتے ہی ہم بھی یہاں سے نکل جائیں گے۔تیسرے دن شام سے ہی محل میں ہل چل سی مچ گئی۔فیروز نے مجھے بتایا کے پہرہ کافی سخت ہے۔اس لیے انہیں اندھیرا ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔میں نے فیروز کے سامنے ایک ہمیشہ کی آزمائی ہوئی ترکیب تجویز کی۔۔
فیروز نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سر ہلایا۔ٹھیک ہے۔۔یہ
جوا بھی کھیل لیتے ہیں۔۔کوئی حرج نہیں۔۔مگر پھر شاید تمہارا یہاں سے جلدی نکلنا شاید ممکن نہ ہو ۔۔
بہروز ابھی بھی اپنی خواب گاہ میں تھ۔میں نے اس کے ڈرائیور کو بہروز کی خاص گاڑی لگانے کا کہا اور گھر سے نکلتے ہوئے میں نے لاونج میں پڑے بہروز کے سگار کیس سے ایک سگار اٹھایا۔ڈھلتے اندھیرے میں جب بہروز کی کار محل سے باہر نکلی تو ایسے زاویے کے ساتھ ہاتھ میں ایک سگار لیے پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا کہ پہلی نظر میں باہر سے دیکھنے والے یہی سمجھے کے کار میں بہروز بیٹھا ہے کہیں جارہا ہے۔حتی کہ محل کے دربانوں نے بھی کھٹ سے سلام جڑ دیئے۔شاید ہم لوگوں سے کہیں زیادہ اس کے معمولات سے مانوس اور آشنا ہوجاتے ہیں
ہماری ذاتی ایشیا اوقات کار اور عادات ہماری پہچان بن جاتے ہیں اور خود ہم اس پہچان میں کہیں کھو سے جاتے ہیں۔
بہروز کی مخصوص کار کے محل سے نکلتے ہی ایک سیاہ رنگ کی بڑی چروکی جیپ ہمارے تعاقب میں چل پڑی ۔ہمارا پرانا طریقہ ابھی بھی تک کار آمد تھا۔میں نے ڈرائیور کو گاڑی کی رفتار بڑھانے کا کہا اور ہم تین چار گھنٹے تک دوبئی کی سڑکوں پر ادھر سے ادھر بے مقصد کار دوڑاتے رہے
تعاقب میں آنے والی جیپ کو ہم نے برابر یہی تاثر دیے رکھا جیسے ہم اس کے تعاقب سے جان چھڑانے کئ لیے بار بار کار کی رفتار تیز کر رہے ہیں۔پرانی انگریزی جاسوسی فلموں میں میں نے ایسے مناظر بار بار دیکھ لیے تھے مگر تب میں یہ نہیں جانتا تھا کہ خود میری زندگی میں کھبی یہ مناظر حقیقت کا روپ دھارلیں گے۔شاید قدرت انسانی ذہن کی اڑان وہاں تک رکھتی ہے۔جہاں تک اس جہاں نا تمام میں ممکنات کی حد ہو۔ورنہ یہ مصنف رائٹر اور یہ قلم کار وہ سب کچھ کیسے سوچ اور لکھ لیتے ہیں جو کھبی ان کے ساتھ پیش ہی نہ آیا ہو؟یہ تخیل کیا بھلا ہے؟جو انہونی کو بھی ہونی کر کے لکھتا ہے۔مگر میرا پیچھا کرنے والی جیپ میرا تخیل نہیں تھی۔جب مجھے اس بات کا یقین ہوگیا کہ بہروز کریم اور دیگر ساتھی محل سے نکل کر ساحل تک پہنچ گئے ہوں گے تب میں نے ڈرائیور کو گاڑی محل کی طرف موڑنے کا کہا
میری توقع کے مطابق فیروز خان ان سب کو لے کر نکل چکا تھا۔مہمانوں کی بھیڑ نے کار اندر آتے دیکھی تو سب ہماری طرف لپکے۔میں نے بمشکل ان سے معذرت کی مالک کچھ دیر میں پہچنے والے ہیں۔وہ لوگ تب تک عشائیہ تناول فرائیں
۔مطلب رات کا کھانا۔مجھے اندازہ تھا کہ ان مہمانوں میں سے کچھ کا تعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی ضرور ہوگا مگر مجھے بہرحال ان کا یہ بھرم آخری وقت تک سمیٹے رکھنا تھا کہ بہروز ضرور کام نپٹا کر آتا ہی ہوگا۔کہتے ہیں تنہائی آس پاس لوگوں کی غیر موجودگی کا نام ہے نہیں۔۔ہمارے آس پاس موجود انسانوں میں ہماری غیر دلچسپی ہمیں تنہا کرتی ہے۔میں بھی اس پارٹی کے ہجوم میں تنہا کھڑا محفل کو برخاست کرنے کے بہانے ڈھونڈتا رہا تھا۔پھر اچانک محل کے گیٹ پر کچھ گاڑیوں اور مخصوص جگہ پر سائرن کا ایک شور سا اٹھا۔چند لمحے بعد دوبئی پولیس کا ایک بڑا افسر میرے سامنے کھڑا تھا۔اس کا انداز اس کے عہدے سے کہیں زیادہ تحکمانہ تھا۔۔
تمہارا مالک بہروز کریم کہاں ہے۔؟؟
بس آتے ہی ہوں گے مالک ۔۔
افسر مخصوص عربی لہجے کی انگریزی میں گرجا ہمارے پاس اس کی گرفتاری کا وارنٹ ہے۔میں نے سادگی سے جواب دیا۔جب وہ آئیں تو گرفتار کر لیجئے گا۔۔۔
مہمان سارا معاملہ دیکھ کر دھیرے دھیرے چھٹنے لگے اور پھر کچھ دیر بعد اس افسر کے ماتحت باہر سے بھاگتا ہوا اندر آیا اور اس نے افسر کے کان میں کچھ کہا۔افسر بھنویں تن گئیں اور وہ غصے سے میری طرف پلٹا اور پھر اس کے ہونٹوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ابھر ائی۔۔
میرے پاس تمہارے لیے ایک خبر ہے ۔۔
میرا دل زور سے دھڑکا اس پولیس افسر نے مڑکر اپنے ماتحت سے عربی میں کچھ کہا اور پھر میری طرف پلٹا۔
میں تمہیں گرفتار کر رہا ہوں۔تمہارا مالک اور دیگر ساتھی پہلے ہی پکڑے جاچکے ہیں۔فی الحال تم پر کوئی واضع الزام نہیں ہے مگر شک کی بنیاد پر تمہیں حراست میں لیا جاتا ہے
کھبی کھبی ہمارے خدشات حقیقت کا روپ دھارنے میں زیادہ دیر نہیں کرتے شاید ہمارے اندر ابھرتے خوف اور وہم کا ابھال پیش آنے والے واقعات دے کچھ خاص اور براہ راست رشتہ ہوتا ہے اس لیے جب مجھے گرفتار کرکے لاک آپ میں پہنچایا گیا تو اپنے خدشات کے عین مطابق بہروز کریم فیروز کریم اور دیگر عملے کو مختلف چھوٹے چھوٹے حوالات نما کمروں میں بند پایا بہروز کے قانونی مشیروں اور چوٹی کے وکلاہ کی ٹیم بھی پولیس حکام کے ساتھ بحث کرتی نظر آئی۔مجھے بھی ایک لاک۔اپ میں دھکیل دیا گیا اور میں اطمینان سے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا
انسانوں کی ساری بے چینی اور بے قراری اس وقت تک ہے جب تک اختیارات اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں رہتا جب ہمارے فیصلوں کے مختار دوسرے بن جائیں تو ایک ان جانا سا سکون اور ٹھراو ہمارے وجود کی بے چینی کو گھیر لیتا ہے۔میرا فیصلہ بھی اب میرا فیصلہ بھی قانون کے ہاتھ میں تھا بھلا مجھے کاہے کی فکر ہوتی؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: