Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 15

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 15

–**–**–

اگلے روز ہمیں عدالت میں پیش کرنے سے پہلے ایک چھوٹے سے ہال نما کمرے میں جمع کیا گیا۔بہروز کریم کے چہرے پر حسب معمول سکون تھا۔مجھے دیکھ کر وہ دھیرے سے مسکرایا۔کہو پری زاد۔۔۔نیند کیسی رہی؟کہتے ہیں مشکلات سے ور بھاگ کر ہم صرف اس مصیبت کے حل سے اپنا فاصلہ بڑھا رہے ہوتے ہیں۔۔مشکلات ہمارے ساتھ ہی چل رہی ہوتی ہے بہروز لے وکلا نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر وہ اس کی ضمانت کروانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔رات کو جب لاک اپ میں سناٹا چھا گیا تو میں ساتھ والے لاک اپ کی دیوار پر دھیرے سے دستک دی۔۔۔
آپ اور نہیں گئے مالک ۔۔؟
کچھ دیر بعد بہروز کی آواز گونجی۔۔۔کسی سوتے ہوئے سے یہ بڑا عجیب سوال ہوتا ہے۔میں نے گہری سانس لی معذرت چاہتا ہوں۔۔مالک۔۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کل عدالت میں قاضی کے سامنے مالکن کے قتل کا اعتراف کرکے جرم اپنے سر لے لو گا۔۔اگر آپ میرے اعتراف کے بعد کوئی اعتراض نہ کریں تو مہربانی ہوگی۔۔۔۔
بہروز نے کچھ دیر توقف کیا اور پھر اسی کی ٹھرتی ہوئی آواز بھری۔۔۔بہروز کریم اتنا بوجھ لادتا پے جتنا وہ ڈھو سکے
تمہارے اس احسان کا بوجھ بہت بھاری ہے پری زاد۔۔اور ویسے بھی ولید کا باپ اس کی لیلی سے پرانی رفاقت کے سارے ثبوت لے کر ایا ہے تم پہ قتل ڈال بھی دیے جائیں تو دوسری طرف کا کوئی بھی اچھا وکیل بہت جلد سچ کی تہہ تک پہنچ کر اسے عدالت کے سامنے پیش کردے گا۔۔میں نے زندگی میں بہت جرم کیے ہیں۔۔کسی نہ کسی مقام پر تو رسی کو تنگہونا ہی تھا تم اطمینان سے سوجاو مجھے اب بہت جاگنا ہے پھر شاید پوری رات میں اور بہروز آہنی کو ٹھڑیوں میں ساری رات جاگتے رہے۔بظاہر ہم دونوں ہی قیدی تھے۔لیکن ان دو قیدیوں میں فرق کتنا فرق تھا ہم۔میں سے ایک ساری دنیا جیت کر اور جہاں بھر کی نعمتیں سمیٹ کر اس عقوبت خانے میں پہنچا تھا اور شاید ہی اس کی کوئی حسرت باقی بچی کو جبکہ دوسرا وہ بد نصیب تھا جس کی زندگی ہی عمر بھر حسرت کا دوسرا نام رہی تھی۔کھبی کھبی میں سوچتا تھا کہ اس دنیا میں ایک ہی وقت میں کسے عرب شہنشاہ یا امریکی ارب پتی کے گھر میں پیدا ہونے والے اور میرے کچی بستی میں جنم لینے والے کسی بھی دو بچوں کی تقدیر میں توازن کیسے رکھتی ہوگی یہ قدرت۔۔۔بادشاہ اور فقیر کے گناہ و ثواب برابر کیسے تولے جاسکتے ہیں؟پھر چاہے وہ دونوں ہم مذہب ہی کیوں نہ ہوں
آخر اس فرق کی کوئی تو وجہ ہوگی۔۔کوئی تو صلہ یا انعام طے کر رکھا ہوگا اوپر والے نے۔۔۔کسی مقام پر تو اس فقیر کی محرومیاں کا حساب برابر کیا جائے گا۔یا پھر اسے بھی تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا جائے گا؟اگلے روز عدالت میں قاضی کے سامنے وکلا کی بحث شروع ہونے سے پہلے ہی بہروز کریم نے اپنا گناہ قبول کر لیا اور ساتھ ہی عدالت سے درخواست کی کہ گرفتار شدہ عملے میں بہت سے ایسے بھی ہیں جن کا اس مجرمانہ سرگرمیوں دے کوئی تعلق نہیں ہے لہذا انہیں ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔ہم۔سب گم سم کھڑے بہروز کریم کا بیان سنتے رہے اس نے اپنے بیان میں اپنے ہر جرم کا مرکزی کردار خود کو ہی ٹھہرایا۔فیروز اپنے مالک کی بات سن کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا ہم سبھی کی پلکیں نم تھیں۔بہروز کریم کا بیان کسی زندہ انسان کا اقرار نامہ نہیں لگتا تھا۔کہتے ہیں زندگی کا المیہ یہ نہیں ہے کہ یہ بہت جلد ختم ہوجاتی ہے۔المیہ یہ ہے کہ ہم بہت دیر بعد اسے جینا شروع کرتے ہیں۔لیکن بہروز کے بیان کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اس نے جی بھر کے زندگی خو جی لیا ہے۔
اتنا کہ اب وہ اس تماشے سے بور پوچکا ہے۔کچھ لوگ صدیوں زندہ رہ کر بھی ایک پل زندگی جی نہیں پاتے اور کچھ پل بھر میں صدیوں کا زندہ رہ کر بھی ایک پل زندگی جی نہیں پاتے اور کچھ پل بھر میں صدیوں کا مزہ کشیدہ کر لیتے ہیں۔تو پھر ہم کسی بھی شخص کی عمر کو سال اور مہینوں میں کیوں ناپتے ہیں؟یہ کیوں کہ فلاح شخص دو پل جیا اور پھر مرگیا اور فلاح عمر بھر جیتا رہا؟
ایک ملنے کہ اندر قاضی نے بہروز کو موت کی سزا سنا دی
فیروز خان کو بھی اس کی معاونت کے جرم میں زندگی کی قضاہ کی سزا ملی۔۔۔چند کو عمر قید ہوئی اور مجھ سمیت
کچھ اور نا مکمل شہادتوں کی بنیاد پر رہا کردیے گئے۔انصاف وہی ہوتا ہے جو فوری ہو۔ہمارے ہاں تو انصاف اتنی دیر سے ملتا ہے کی خود کی خود انصاف ہی سزا بن جاتا ہے۔بہروز کریم نے اپنی ساری دولت جائیداد اور اثاثوں کو دو حصوں میں تقسیم کر کے آدھا حصہ اپنی بیوی اور بچوں میں بانٹ دیا اور آدھا اپنے تمام بچ جانے والے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔اس نے وہ تمام ٹرسٹ اور فلاحی ادارے بھی ہمیشہ کے لیے یکجا کر کے ایک بورڈ آف ڈائریکٹر کے زیر اہتمام کردیے جو کریم کی سر پرستی میں چلتے تھے اور جن کی کمائی سے ہزاروں ضرورت مندوں کو فائدہ ہوتا تھا۔میں نے کہیں پڑھا تھا کی ظلم بہت سخی ہوتا ہے۔بہروز کریم اگر ظالم تھا تو سخاوت کا یہ معیار اس کے شایان شان تھا۔شاید چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا گنہگار بھی کہیں نہ کہیں اپنے اعمال کا وزن برابر رکھنے کی شدید خواہش میں مبتلا رہتا ہے ہم کچھ بھی کر لے مگر سزا اور جزا کا یہ نظام خود ہماری رگوں میں سرایت کیے رہتا ہے۔میں بہروز کریم کے اثاثوں کی وصیت پڑھتے ہوئے رو پڑا اس نے اپنے محل میں پڑا ہوا بڑا پیانو میرے نام لکھ دیا تھا اور پھر ساتھ ہی ایک ضمنی نوٹ میں آگے تحریر تھا کہ چونکہ اس پیانو کا وزن بہت بھاری اور زیادہ ہے اور بہروز کا خدشہ ہے کہ اس کی محبوب بیوی کا یہ پسندیدہ پیانو محل سے کہیں منتقل کیے جانے کی صورت میں آپنی اصل شکل۔ وہیت کھو نہ دے لہذا وہ جائیداد جہاں وہ پیانو پڑا ہوا ہے۔تمام تر محل اور انیکسی سمیت پری زاد کے نام کی جاتی ہے۔بہروز جاتے جاتے ہم سب کے نام اتنا کچھ کر گیا تھا جو ہم سب کی سات نسلوں کے لیے کافی تھا۔اس نے اپنے تمام اداروں میں کام کرنے والے اعلی سے اعلی افسر سے لے کر ایک معمولی نوکر اور چپڑاسی تک کو برابر بانٹا تھا آخری ملاقات کی رات جب ہم سب کارکن اس سے آخری بار مل کر واپس لوٹ رہے تھے تو میں قطار میں دب سے آخر میں کھڑا رہا۔دب جاچکے تو بہروز نے میری طرف دیکھا۔۔
تم مجھ سے نہیں ملو گے پری زاد۔۔۔۔
مجھ سے نہیں رہا گیا اور میں تمام ادب و آداب بالائے طاق رکھ کر روتے ہوئے اس کے گلے لگ گیا اور پھر مجھے سنبھالتے ہوے بہروز بھی رو پڑا۔اور آہنی اور فولادی وجود اعصاب کے آدمی کو میں نے پہلی بار نم آنکھیں لیے سر جھکائے کھڑے دیکھا۔میں نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔۔کیوں کیا آپ نے ایسا۔۔؟کیوں خود کو موت کہ منہ جھونک دیا۔۔اپ کے وکلاء اور قانونی مشیر اتنے اہل تھے کہ آپ کی سزا کو کم از کم عمر قید میں تبدیل کروادیتے۔۔میں جانتا ہوں کہ یہ سزا آپ نے اپنے لیے خود تجویز کی ہے۔۔قاضی نے تو بس اپنے دستخط ثبت کیے ہیں اپ کے فیصلے پر بہروز نے سر اٹھایا۔۔شاید لیلی کے ساتھ ہی مرگیا تھا۔۔۔۔
میں خود کو بہت مضبوط سمجھتا تھا پری زاد۔۔لیکن یہ محبت بڑے بڑے تنادر درختوں کو دیمک کی طرح کھا کر ڈھا سکتی ہے۔۔۔یہ احساس مجھے بہت دیر میں ہوا۔۔میں نے اپنے لیے سزا اس لیے تجویز نہیں کی کیونکہ میں نے اسے مات ڈالا۔میں نے خود کو یہ سزا اس لیے دی ہے کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی تھی جب کے میں اسی کی محبت میں سے بااثر بڑھ گیا تھا کہ مجھے احساس ہی نہیں ہوا کی اب میری واپسی نا ممکن ہے۔یہ راز تب کھلا جب وہ دنیا سے جا چکی تھی۔تب میں نے جانا کہ میں بھی اس کے بنا جی نہیں پاوں گا۔اگر مزید زندہ رہتا تو یہ منافقت تھی اور بہروز نے آج تک ہر گناہ کیا سوائے منافقت کے۔۔۔
اس نے مجھے آخری مرتبہ بھینچ کر گلے لگایا اور اپنا خیال رکھنا ۔۔بہت قیمتی ہو تم ۔۔۔مگر نہ جانے کیوں۔۔۔خود کو اتنا ارزاں کر رکھا ہے ۔۔
میں ایک بار پھر رو پڑا۔بہروز سے رخصت ہونا دنیا کا سب سے مشکل کام تھا مگر سپاہی میرے سر پر اکھڑا تھا ہوا واپسی پر فیروز خان کی کوٹھڑی کے پاس رک گیا وہ آہٹ سن کر سلاخوں کے قریب آگیا میں نے نم پلکوں سے اس کا استقبال کیا۔۔
جارہے ہو فیروز۔۔۔؟😭
وہ دکھ سے مسکرایا۔۔ایک نہ ایک دن تو جانا ہی تھا۔مالک کے ساتھ ہی چلا جاوں تو بہتر ہے میں نے ان کی زندگی کی حفاظت کی قسم کھا رکھی تھی۔دعا کرو کہ کل مجھے ان سے پہلے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ورنہ میں اوپر جا کر خدا کو کیا منہ دکھاوں گا۔۔۔؟
میں نے فیروز کا کاندھا تھپتھپیا۔تم سے بڑھ کر وفاداری اس دنیا میں بھلا کسی اور نے کیا نبھائی ہوگی۔بے وفا تو ہم سب ہیں۔جنہیں تم یہاں تنہا کسی آسرے کے بغیر چھوڑے جارہے ہو۔۔کہاں ملے گا اب مجھے تم جیسا سچا اور وفادار دوست۔۔۔❤😢
فیروز خان مسکرایا۔پاکستان میں میرا ایک بھائی ہے کبیر خان بلا لینا۔۔ہم دونوں کا ایک ہی خون ہے۔۔اب تم جاو پری زاد۔مجھے اپنی آخری عبادت کرنی ہے شاید آخری سجدہ ہی وہاں کام آجائے۔۔ورنہ عمر تو بس رائیگاں گئی ۔۔۔
میں آنکھوں میں آنسوں لیے بوجھل قدموں سے وہاں سے چلا آیا بہروز اور اس کے وفادار فیروز کی آخری رسومات ایک ساتھ ادا کر کے انہیں اسی شہر میں دفنا دیا گیا😭 جہاں انہوں نے عروج کی آخری منزل سرکی تھی اور جہاں وہ ایک ساتھ زوال پذیر ہوگئے۔بہت دنوں تک تو مجھ سے کچھ بولا ہی نہیں گیا۔غم کی شدت شاید ہماری قوت گویائی بھی سلب کر لیتی ہے۔میں گھنٹوں بڑے ہال میں گم سم بیٹھا اس بڑے سفید پیانو کو دیکھتا رہتا تھا جیسے لیلی صباہ بیٹھ کر کھبی بجایا کرتی تھی۔شاید اس کی نازک انگلیوں کے نشانات بھی ابھی تک اس پیانو کے سروں پر ثبت ہوں گے میرا جی ہی نہیں مانتا تھا کہ میں اپنے ہاتھ لگا کر اس کے نشان مٹا دوں۔پھر ایک شام مارتھا واپس اگئی اور مجھے دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔وہ انگلینڈ اپنی سوتیلی ماں کو ملنے گئی ہوئی تھیں جب یہ ساری واردات ہوئی۔میں نے مارتھا کو پھر سے کام پہ رکھ لیا اور انیکسی میں شفٹ ہو جانے کے لیے درخواست بھی کی۔جانے کیوں وہ مجھے اس محل اور لیلی صباہ کا ایک حصہ نظر آتی تھی۔رفیق کو بھی میں نے دوبارہ دوبئی واپس بلا لیا تھا۔مگر اس نے محل میں منتقل ہونے سے معذرت کرلی۔۔
نہیں پیارے یہاں پر تو ہی سنتا ہے۔۔مالک یہ سب کچھ تیرے نام کرگئے ہیں۔مجھے اس فلیٹ میں رہنے دے۔
میں جانتا تھا کہ اس کا جواب یہی ہوگا۔ ٹھیک ہے۔۔مگر ایک شرط تمہیں بھی ماننی ہوگی۔۔۔ورنہ میں سمجھوں گا تم نے مجھے دل سے اپنا دوست نہیں مانا۔۔
کیسی شرط ۔۔؟؟
میں نے دروازے سے ایک چابی نکال کر اس کے ہاتھ میں تھمائی۔تم یہاں ہمیشہ ایک بہت اچھا پاکستانی ریسٹورنٹ کھولنا چاہتے تھے نا۔۔۔۔ یہ تمہارے ریسٹورنٹ کی چابی ہے
رفیق کچھ دیر تک ڈبڈبائی آنکھوں سے میری طرف دیکھتا رہا اور پھر اس نے مجھے آگے بڑھ کر گلے لگا لیا۔تو صرف نام کا ہی نہیں۔۔دل کا بھی پری زاد ہے۔۔۔
بہروز کے جانے کے بعد مجھے پتا چلا کہ یہ امیر کیسے امیر تر ہوتے جاتے ہیں دولت ایک ایسا مقناطیس ہےجو صرف دولت کے لوہے کو آپنی جانب کھنچتا ہے بہروز کے شروع کیے گئے درجنوں منصوبے جو میرے حصے میں آئے تھے وہ پیسہ کھینچنے کا کچھ ایسا ہی مقناطیس تھے۔میرا کام صرف اتنا رہ گیا تھا کہ میں اپنے مینجرز کی بتائی ہوئی اسکیموں میں پیسے لگاوں اور پھر ہفتوں بیٹھ کر ان سے حاصل ہونے والا منافع گنگا رہوں۔اس سے کہیں زیادہ محنت تو میں استاد مستانہ کے ورکشاپ پر دن کے چند گھنٹوں میں کر لیتا تھا۔یا پھر شاید ان ان امیروں کے بیٹھ کر یوں دولت گنتا بھی محنت ہی لگتی ہو۔۔لیکن میں اس جمع تفریح کے کھیل سے چند مہینوں میں ہی اکتانے لگا۔دولت مند کو دولت خرچ کرنے کا سلیقہ آنا بہت ضروری ہے۔ورنہ وہی دولت اس کے لیے سر درد بننے لگتی ہے۔میرے مینیجرز مجھے روزانہ پیسہ کمانے کے نت نئے گر بتاتے اور پھر جب ان کے منصوبے کامیاب ہو جاتے تو وہ پارٹی کرتے اور جشن مناتے انہیں اس بات پر بھی حیرت ہوتی تھی کہ میں اب اکتاہٹ سے ان کی دماغی عرق ریزی کے نتیجے سنتا تھا۔انہی دنوں اسپین کی ایک بڑی تعمیراتی کمپنی نے ہمارا ٹینڈر منظور کر لیا
میں سفرسے بہت اکتاتا تھا اور میری حتی الامکان کوشش یہی ہوتی تھی کہ مجھے خود کہیں نا جانا پڑے۔مگر کچھ ایسی صورت حال بنی کہ مجھے بار سلونا جانا ہی پڑا۔یہ پیسہ بڑے کمال کی چیز ہے۔ایک ہی جیسے خوش پوش اور معزز دکھائی دینے والے انسانوں کو پل بھر میں درجوں تقسیم کر دیتا ہے۔میرے فلائیٹ کا ٹکٹ عملے نے بزنس ایگزیکٹو کلاس میں سب سے اونچی تقسیم کا بک کروایا تھا..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: