Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 16

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 16

–**–**–

لہذا کچھ ہی دیر میں مجھ سے کہیں زیادہ خوش لباس اور اونچے درجے کے دکھائی دینے والے مسافر جہاز کے پچھلےحصہ میں بیٹھ چکے تھے اور جہاز کا سارا عملہ میرے اگے بچھا جارہا تھا۔مجھے جانے کیوں اپنے کالج کے روٹ پر چلنے والی لوکل بس یاد آگئی۔جس کے پائیدان پر لٹکتے میں نے کالج تک انہ گنت سفر کیے تھے۔کیونکہ میرے پاس اندر بیٹھنے کے پیسے نہیں ہوتے تھے اور کنڈکٹر ترس کھا کر چند سکوں کے عوض مجھے پائیدان پر لٹکنے کی اجازت دے دیتا تھا۔اسپین کے جس سات ستارہ ہوٹل میں میرا قیام تھا اس کے صدارتی سوئٹ سے باہر دیکھنے پر دور سفید پتھر اور لکڑی سے بنا ایک بہت بڑا گول اکھاڑہ دکھائی دیتا تھا۔میرے مہربانوں نے اگلی شام معاہدہ طے ہوجانے کی خوشی میںجھے اسی اکھاڑے میں بھینسے کی انسان سے جنگ دکھانے کا اہتمام کر ڈالا۔میں نہیں چاہتا تھا مگر میرے میزبان بہت ضدی تھے کہ کوئی اسپین آئے اور یہ تماشہ نہ دیکھے تو ان سے کفران نعمت کہا جاتا ہے۔اب میں انہیں کیا بتاتا کی مجھے تو دنیا کے سبھی بڑے شہراب ایک جیسے لگتے ہیں۔وہی بھاگ دوڑ وہی نفسا نفسی۔۔۔وہی سب کا ایک دوسرے کو اپنی سے زیادہ خوش اور مطمئن جان کر اپنے آپ کو مزید مشقت میں مبتلا کرنا۔مگر یہ شہر باقی بڑے شہروں سے کچھ جدا دکھائی دے رہا تھا۔مشرقی اور مغربی تعمیر کا سنگم مجھے بچپن میں آنہ لائبریری سے کرائے پر لی گئی الف لیلی کی کہانیاں یاد آنے لگیں۔وہی محرابین وہی ستونوں کے قوس وقزاح اندرون شہر آینٹوں کی بنی گلیاں اور راستے۔نئی تعمیر کا شاہکار الف لیلوی گھر اور عمارتیں
مسلمان کیا تھے ۔۔۔اور کیا سے کیا ہوگئے دنیا کی تاریخ میں جتنا عروج اور پھر جتنا زوال ہم مسلمانوں نے دیکھا ہے۔اتنا شاید کسی اور قوم اور مذہب نے نہ دیکھا ہو۔شام چار بجے ہم اکھاڑے اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔اکھاڑہ کھچا کھچ تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا۔انسان سدا لا وحشی ہے اور اسے بھر تماشے دیکھنے میں ہمیشہ ہی لطف آتا ہے۔کچھ ہی دیر میں سیاہ بل فائٹنگ کت سوٹ پر سرخ جیکٹ اور سر پر کالا ہیٹ پہنے ایک سرخ چادر لہراتا ہوا ہسپانوی بل فائٹر اکھاڑے میں داخل ہوا تو تماشائیوں نے تالیاں اور سیٹیوں سے آسمان سر پر اٹھا لیا۔کنواری لڑکی نے اس وجیہہ لڑاکے پر پھولوں کی بارش کردی۔مگر بل فائٹر نے ایک گلاب اٹھا کر اپنے ہونٹوں سے لگایا۔جو اس کی محبوبہ نے اس کی طرف پھینکا تھا۔میرا خاص میزبان مجھے ساری روائد کسی رواں تبصرے کی طرح سنا رہا تھا۔یہ لڑاکا اسپین کے بہترین فائٹرز میں سے ایک تھا جسے لوگ انتونیو کے نام سے جانتے تھے۔انتونیو آج تک اسپین کے ننانوے جنگلی بھینسوں کو ایسے اکھاڑوں میں ہرا کر موت کی گھاٹ اتار چکا تھا اور اج اس کا یہ سووا تھا اور اس نے اپنی محبوبہ ماریا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنا سینکڑہ مکمل کرکے ماریا سے شادی کر لے گا سارا شہر یہ بات جانتا تھا اور اسی لیے آج اکھاڑے میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔دوسری جانب اندھیرے سے قید خانے میں کھڑا بھینسا۔بھی آج اپنی سوویں لڑائی لڑنے جارہا تھا۔لوگوں نے اس کی طاقت اور وحشیانہ طاقت کی وجہ سے اس کا نام کلر رکھ چھوڑا تھا اور کلر نے اپنے ننانوے گزشتہ مقابلوں میں کسی بھی بل فائٹر کا جسم ادھیڑے بنا اسے اکھاڑے سے واپس نہیں جانے دیا تھا مگر اپنے وقت کے یہ دو بہترین لڑاکا آج پہلی مرتبہ ایک دوسرے کے مد مقابل آرہے تھے۔انتونیو نے اپنی تلوار کی چمکتی دھار
کو چھو کر دیکھا اور کمرے میں بند کلر نے اپنے کھروں سے ریتلی زمین کو کھروچا ماریا نے انتونیو سے وعدہ لیا تھا کہ اس آخری بھینسے کو زیر کرنے کے بعد وہ اس کھیل کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دے گا۔کیونکہ اپنے محبوب کے توانا جسم پر مزید نو کیلے سینگوں کے کاٹ اور زخموں کے نشان نہیں دیکھنا چاہتئ تھی۔انتونیو نے اپنی سیاہ مخملی پوشاک کے سنہری بٹن بند کیے اور گھنٹوں تک لمبے مخصوص چمڑے کے جوتوں کت تسمے باندھ اور تلوار کی نوک زمین پر ٹیک کر ایک شان ادا سے کھڑا ہوگیا۔یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ لڑائی کے لیے تیار ہے ۔تماشائیوں کی تالیاں سیٹیوں اور شور سے کان پڑی آواز سنائی دے رہی تھی۔ماریا نے اپنے سر پہ جمے سیاہ جالی نقاب والے ہیٹ کو ذرا سا
سرکا کر انتونیو کو سلام اور اپنے ہاتھوں میں پکڑا دوسرا سرخ گلاب اپنے محبوب پر نچھاور کر دیا۔ٹھیک اسی لمحے میری نظر اکھاڑے میں دوسری جانب بیٹھے ایک شخص پر پڑی جو میری طرف ہی دیکھ رہا تھا اس نے میری طرف دیکھا اور ہاتھ ہلایا اور تعظیم سے سر جھکا کر سلام کیا۔شاید میں نے اس سے پہلے کہیں اسے دیکھا تھاگر اس وقت میری پوری توجہ انتونیو اور کلر کے مقابلے پر تھی۔کلرکی آنکھوں سے پٹی ہٹا کر اس کے قید خانے کا دروازہ کھول دیا گیا تھا اور اب وہ اکھاڑے میں داخل ہونے کے بعد اپنے سوویں شکار انتونیو کو اکھاڑے کے درمیان کھڑے سرخ کپڑا لہراتے ہوئے دیکھ رہا تھا مگر کلر اتنی جنگوں کے بعد ایک بات تو اچھی طرح جان چکا تھا کہ اس کا ہدف وہ بے جان سرخ کپڑا نہیں۔۔۔۔۔بلکہ اس کے ڈوبیں کھڑا وہ سفاک دشمن جو پہلے اسے تماشے کی غرض سے خوب تھکائے گا اور پھر اسے نڈھال کرنے کے بعد ٹھیک اس کی دو آنکھوں کے درمیان نازک جلد والےحصے میں اپنی تیز دھار تلوار پوری گھونپ کر اسے ہمیشہ کے لیے ختم کردے گا۔۔۔
مگر اس لمحہ آنے سے پہلے ہی اپنے اس دشمن کو اپنے نوکیلے سینگوں میں پروکر آسمان کی جانب اچھال کر اس کے جسم کو ادھیڑ کر رکھ دینا ہوگا۔بل فائٹنگ دراصل بھینسے اور بل فائٹر کے درمیان اعصاب کی جنگ ہوتی ہے اور جو اعصاب قابو میں رکھے وہی فاتح بن کر اکھاڑے سے باہر نکلتا ہے۔انتونیو نے سرخ مخملی کپڑا لہرایا جنگ شروع ہوگئی۔کلر کا پہلا وار خالی گیا اور انتونیو نے اپنی تلوار سے اس کے جسم پر کٹ لگا کر کلر کے مضبوط جسم پر پڑے درجنوں داغوں میں ایک اور اضافہ کر دیا۔کلر غضب ناک ہوکر پلٹا اور دور سے بھاگتے ہوئے قریب آخر اچانک اس نے اپنا زاویہ بدل لیا۔اس کے تیز دھار سنگ کے نوک مے انتونیو میں چنگاریاں سے بھر دیں۔تماشائیوں کی چیخیں نکل گئیں اور ماریا گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔انتونیو اور کلر دونوں ہی جان چکے تھے کہ ان کا مقابلہ آج کسی عام حریف سے نہیں ہے۔انتونیو کے ہاتھ میں پکڑی سرخ چادر اب دھیرے دھیرے چیتھڑوں میں تبدیل ہوتی جارہی تھی اور کلر کا جسم انتونیو کی تلوار کے چرکوں سے لہو لہان تھا وہیں انتونیو کا بدن بھی بے حد مہارت اور احتیاط کے باوجود خراشوں سے بھر چکا تھا اور دونوں ہی شدید تھکن سے نڈھال ہو چکے تھے۔ماریا جب اپنے محبوب کو اس خونخوار قاتل بھینسے کے جسم سے مس ہوتے دیکھتی تو اس کے حلق سے بے اختیار چیخ بلند ہوجاتی اس نے چلا کر انتونیو سے کہا ۔۔
انتونیو۔۔بس کردو میرے فائٹر۔۔یہ دیوانگی ہے ۔۔مقابلہ ختم کردو۔۔۔
مگر انتونیو نے مسکرا کر اپنی زندگی کی طرف دیکھا اور آخری اور آخری بار چادر لہرا کر پھینک دی۔یہ اس بات کا اشارہ تھاکہ وہ بھینسے کی آنکھوں کے درمیان تلوار گھونپنے کے لیے تیار ہے گر اس نے خود کو بھی کلر کے سامنے پوری طرح عیاں کردیا تھا تاکہ بھینسا ساری احتیات بھلا کر تیزی سے اس کی جانب بڑھے اور اور انتونیو موقع ملتے ہی اسے ختم کردے۔تماشائیوں کا شور اور چیخیں آسمان تک بلند ہورہی تھیں اور وہ سب انتونیو کو اس کی دیوانگی سے روکنے کی کوشش کررہے۔مگر انتویو اپنی زندگی کا آخری مقابلہ ہار کر واپس پلٹنا نہیں چاہتا تھا۔کلر نے پلٹ کر اپنے اس بہادر دشمن کو دیکھا اور چند لمحے رک کر دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تولتے رہے اور پھر کلر غراتا اور منہ سے جھاگ بہاتا ہوا انتونیو کی طرف دوڑتے ہوئے لپکا۔انتونیو نے اپنے جسم کو ایک خاص انداز میں اکڑا کر تلوار کا دستہ مضبوطی سے سے اپنے ہوا میں اٹھے ہوئے دائیں ہاتھ میں تھام لیا۔کلر بھی سمجھ گیا کہ اس کا یہ آخری حملہ ان میں سے کسی ایک کے لیے ہار جیت ثابت ہونے والا ہے۔وہ ایک انتہائی ذہین جانور تھا اور دشمن کی چالوں کو سمجھتا تھا۔اس بھاگتے بھاگتے اپنے جسم اچانک ایک جھکائی دی تاکہ اپنے سر کی جانب لپکی تلوار کی نوک سے بچ سکے۔مگر تلوار دستے تک اس کے سر میں اتر چکی تھی۔مگر خود انتونیو بھی کلر کے ٹنوں وزنی جسم کی زوردار سے کئی فٹ ہوا میں اچھلا اور جب زمین کی طرف گر رہا تھا تو کلر کے نوکیلے سینگ اس کے گرتے جسم کا انتظار کر رہے تھا۔انتونیو کے جسم میں کلر نے اپنے سینگ پرودئیے اور ایک لمحے بعد دونوں ہی اکھاڑے کی ریتلی زمین پر گرے اپنے آخری سانس لے رہے تھے دونوں کی آنکھیں بند ہونے سے پہلے پہلے بہادر دشمن کو آخری پیغام دیا ۔۔۔۔
بہت خوب۔۔۔۔تم واقعی ہی بہترین لڑاکے تھے میرے دشمن
ماریا اپنے محبوب کی حالت دیکھ کر صدمے سے لہرائی اور وہی گر کر بے سدھد ہوگئی سارے مجمعے کو جیسے سانپ چھوگیا۔عورتیں روپڑیں اپنی اپنی زندگی کے آخری مقابلے میں کلر اور انتونیو دونوں ہی برابر رہے تھے تماشا ختم ہوچکا تھا۔ٹھیک اسی لمحے میرے گندھے پر کسی نے ہاتھ رکھیں اس سارے تماشےیں اتنا ڈوبا تھا کے اس کے ہاتھ رکھنے سے بڑی طرح چونک گیا ۔یہ وہی شخص تھا جس نے مقابلہ شروع ہونے سے پہلے مجھے سلام کیا تھا وہ پراسرار انداز مںسکرایا ۔
بہت تلاش کیا ہے میں نے تمہیں۔۔آخر آج تم پکڑے گئے۔۔۔
میں نے حیرت سے اس شخص کی طرف دیکھا وہ اردو میں بات کر رہا تھا کیا ہم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔۔۔
وہ مسکرایا۔ہم دونوں نہیں۔صرف میں تمہیں جانتا ہوں۔
تم پری زاد ہو نا۔بہروز کریم کے جان نشین۔نہیں میں صرف پری زاد ہوں۔بہروز کریم کا جان نشین بننے کی اہلیت نہیں ہے مجھ میں۔۔۔
اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔لوگ مجھے سیٹھ ابراہیم کے نام سے جانتے ہیں۔بھارت کی شان بمبئی میں رہتا ہوں۔۔
میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔۔بمبئی۔۔
ہاں بھئی۔۔۔یہ نہا نام بمبئی ہمیں تو بالکل نہیں جمتا۔۔جو بات ممبئی میں تھی وہ بات اس بمبئی میں کہاں۔جانے یہ لوگ شہر کا نام کیوں بدل دیتے ہیں۔کتنی یادیں جڑی ہوئی ہیں ہماری ان ناموں کے ساتھ ۔۔۔اب تمہارے لاہور کو کوئی کل سے اچانک ٹمبکٹو کہہ کر بلانا شروع کردے تو تمہیں کیسے لگا گا؟
میں اس کی بے تکلفی سے عجیب سی بے چینی محسوس کررہا تھا۔تم نے مجھے بتایا نہیں تم مجھے کیسے جانتے ہو ۔؟
سیٹھ ابراہیم میرے ساتھ چلتے چلتے اکھاڑے سے باہر آچکا تھا۔میرے میزبان مجھے مضبوط دیکھ کر میرے لیے دوسری گاڑی منگوا چکا تھا۔میں گاڑی کا دروازہ کھولا تو سیٹھ ابراھیم کئ گاڑی بھی ہماری گاڑی کے پیچھے آہ کر رک چکی تھی۔سیٹھ ابراہیم نے جیب سے اپنا کارڈ نکالا اور مجھے دیتے ہوے بولا۔میں شام کو تم سے ملنا چاہتا ہوں۔تمہارا مالک بہروز مجھے اچھی طرح جانتا تھا۔ہم بزنس پارٹنر تھے باقی باتیں شام کو ہونگی۔۔۔
سیٹھ ابراہیم نے مجھے ایک نئی الجھن میں مبتلا کر کے چلا گیا۔شام کو سوئمنگ پول کے کنارے بچھے کرسیوں پر وہ موجود تھا۔میں نے براہ راست مدعے کی بات کی
ہاں بولو ابراہیم سیٹھ۔تمہیں مجھ سے ایسا کیا خاص کام ہے
سیٹھ دھیرے سے مسکرایا۔تم نے شاید غور سے میرا نام نہیں سنا مجھے ابراہیم کہتے ہیں بمبئی فلم انڈسٹری میرے دم سے چلتی ہے۔۔میں زیادہ تر دوبئی میں ہی رہتا ہوں یہاں اسپین میں بھی ایک فلم کی افتتاحی تقریب میں آیا ہوں
خوش قسمتی سے تم بھی یہی مل گئے شاید بہروز نے تمہیں بتایا نہیں کہ اس کا اربوں کا کالا دھن ہماری فلم انڈسٹری میں ہی سفید ہوتا تھا۔میں چاہتا ہوں کہ ہمارا وہ پرانا رشتہ برقرار رہے۔کہو کیا کہتے ہو تم۔۔۔؟؟
میں کچھ سمجھا نہیں؟؟
ابراہیم نے اپنی آنکھوں پر لگا قیمتی چشمہ اتارا۔ہم بھارتی فلموں میں اپنا روپیہ لگاتے ہیں۔۔ایک فلم ستر اسی کروڑ تک چلی جاتی ہے۔۔فلم چل جائے تو تین چار سو کروڑ لے آتی ہے پٹ بھی جائے تو ہمارا کوئی نقصان نہیں۔۔ہمارے ٹیکس کے وکیل اس نقصان کو تین گناہ بڑھا کر ٹیکس کے گوشواروں میں بھر دیتے ہیں مطلب چٹ بھی میری اور پٹ بھی ہماری منافع تو ساری دنیا کے سامنے سفید دھن آتا ہے۔نقصان ہو تو ہمارا کالا دھن نقصان کے پردے میں چھپ جاتا ہے۔بولو پیسہ لگاوں گے فلم انڈسٹری میں۔۔
تمہاری پیش کش کا بہت شکریہ۔۔مگر میرا کالا دھن کمانے یا اسے سفید کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔میرے پاس جو ہے وہ بھی میری اوقات سے کہیں زیادہ ہے۔مجھ سے تو یہ بھی نہیں سمبھلتا۔۔سیٹھ ابراہیم طنز سے مسکرایا۔جانتا ہوں
تم شاید بہروز کے خاص محافظ تھے مگر یاد رکھو۔۔اپنی سلطنت قائم رکھنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے اور شاید تم یہ بات نہیں جانتے کہ بمبئی کی فلم انڈسٹری پر ہمیشہ انڈر ورلڈ کا راج رہا ہے۔۔ہم ان کٹھ پتلیوں کو اپنی انگلیوں پر بچاتے ہیں۔آدھی رات کو بھی ہمارا فون چلا جائے ان کے بڑے بڑے ستارے بھاگتے چلے آتے ہیں۔ورنہ تم نے اپنے ملک میں رہتے ہوے بھی کھبی سوچا تھا کہ شاہ رخ خان یا سلمان کرینہ یا کترینہ تمہارے بیٹے بھائی کی سالگیرہ میں کہہ کٹوانے چلے آئیں۔۔یہ سب ہماری زیر زمین دنیا کی طاقت کے کرشمے ہیں اور سچ پوچھو ان لوگوں پر حکومت کرکے بڑا مزہ آتا ہے۔۔۔اور چونکہ بہروز کریم ہماری سلطنت کا ایک اہم عہدے دار تھا۔۔لہذا میں نےباہنا فرض سمجھا کے تمہیں بھی شمولیت کی دعوت دوں۔۔۔۔آگے فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے
ویسے تم اتنا لیے دیے کیوں رہتے ہو۔۔؟-
دوبئی میں بھی میں نے تمہیں کسی تقریب میں نہی دیکھا سنا ہے پیتے پلاتے بھی نہیں ہو؟
کیوں یہ جوگ لے رکھا ہے تم نے ۔۔۔۔؟؟؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: