Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 17

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 17

–**–**–

میں دھیرے سے مسکرایا۔شاید یہی جوگ میرا مقدر ہے اور میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔مجھے کسی سلطنت یا رتبے کی خواہش نہیں ہے۔۔۔میں شاید ازلی غلام پیدا ہوا ہوں غلام ابن غلام اب یہ خوئے سلطنت مجھ میں پیدا ہونا بہت مشکل ہے یہ تم جیسوں پر ہی سختی ہے۔۔۔
سیٹھ ابراہیم میری بات سن کر سنجیدہ ہوگیا۔اتنے کڑے سچ اتنی آسانی سے کیسے بول لیتے ہوتم۔۔۔؟اور میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ تمہارے بہروز والے محل میں کسی عورت کا آنا جانا بھی نہیں ہے شراب عورت اور جواء۔۔۔اگر یہ تمہاری زندگی میں کوئی معئنی نہیں رکھتا تو پھر آخر اتنا پیسہ تمہارے کس کام کا۔؟آخر کوئی تو خواہش ہوگی تمہاری ۔۔
میں چل رہا۔اب میں اسے کیا بتاتا میری خواہش ساری دنیا سے جدا ہے۔۔ہر آرزو اے سوا ہے۔۔مجھے تو بس ایک نگاہ چاہیے۔۔اپنے نصیب کی ایک جھلک صرف ایک پیار بھری نظر جو صرف میرے لیے ہو۔۔بنا کسی تحقیر طنز حقارت اور ترحم کے جذبات لیے۔۔سیٹھ ابراہیم جاتے جاتے چند لمحوں کے لیے رکا۔۔
اچھے لگے ہو تم مجھے۔۔لالچ نہیں ہے تمہارے اندر
اور جو شخص اپنی خواہشوں پر قابو پالے وہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہوتا ہے۔کھبی کسی مقام ہر میری ضروت پڑے تو یاد کر لینا اور ہاں اور تمہیں ایک ضروری اطلاع بھی دینی ہے مجھے۔۔دوبئی پولیس تم پر کڑی نظر رکھے ہے ہوئے ہے نہ صرف تم پر بلکہ کے ہر قریبی ساتھی پر ان کی خاص توجہ ہے آج کل۔۔تم اس لیے بچے ہوئے ہو کیونکہ فی الحال انہیں تمہارے خلاف کسی غیر قانونی سرگرمی کی خبر نہیں مل سکی۔مگر تمہیں بہت احتیاططدے چلنے کی ضرورت ہے۔وہ لوگ بہت عرصے تک بہروز خو بھولنے والے نہیں ہیں۔۔
سیٹھ ابراہیم واپس پلٹ گیا۔میں دوبئی واپس پہنچا تو میں نے پہلی مرتبہ اطراف غور سے ماحول کا جائزہ لیا تو مجھے سیٹھ ابراہیم کی بات ٹھیک لگی۔دوبئی ائیرپورٹ سے ہی میری نگرانی شروع ہوچکی تھی۔۔؟؟
ایک سرکاری گاڑی نے گھر تک ہمارا پیچھا کیا اور پھر صبع شام آتے جاتے میں نے کچھ مخصوص چہروں اور گاڑیوں خو ہمیشہ اپنے گھر دفتر اور ہر اس جگہ کے آس پاس پایا جہاں مجھے پہنچنا ہوتا تھا مجھے ایک عجیب گھٹن چوبیس گھنٹے ہونے لگی جیسے وہ شہر نہیں کوئی قید خانہ ہو ۔شاید سلاخوں کے پیچھے قید رہنا کسی کھلے شہر میں قید رہنے سے کہیں زیادہ آسان ہوتا ہے۔ویسے بھی بھی اب میرا جی اس ریت اور سیمنٹ سے بنی عمارتوں کے صحرا سے سکھانے لگا تھا۔لہذا میں نے اب اپنے ملک واپسی کا فیصلہ کرلیا رفیق نے یہ خبر سنی تو آگے بڑھ کر مجھے گلے لگا لیا۔۔
خوش کردیا تونے یار۔۔پتہ نہیں کیوں۔مگر مجھے ہر وقت تیری طرف سے دھڑکا ہی لگا رہتا ہے۔تو چل۔میں بعد تیرے پیچھے سب سمیٹ کر واپس پلٹتا ہوں۔۔ہماری مٹی اور ہمارا خمیر یہاں کا نہیں ہے یار۔۔چاہے ساری عمر گزار لیں۔پھر بھی ایک اجنبیت اور غیریت کا احساس ہمیشہ بے چین رکھتا ہے چاہے وہاں اپنے ملک میں کچھ بھی ٹھیک نہیں۔۔پر اس انجانے پن سے رو نجات ملے گی ۔۔۔
میں نے اپنے باقی اسٹاف کو جمع کرکے اپنی واپسی کا فیصلہ سنایا تو وہ پریشان ہوگئے کہ پیچھے اتنا بڑا کاروبار کون سنبھالے گا میں انہیں تسلی دی کہ میں مہینے میں ایک دو بار چکر لگا جایا کروں گا اور پھر آج کل تو ہزار سہولتیں پیدا کردی ہیں ان نت نئی ایجادات نے۔۔انسانی جسمانی طور پر چاہے موجود نہ ہو پر ہر تصویر اور آواز کے ذریعے چوبیس گھٹنے رابطے میں رہ سکتا ہے۔محل کے معاملات میں نے مارتھا کو کیئر ٹیکر بنا کر اس کے حوالے کردئیے میں نے اس دوبئی دے صرف بہروز کا سفید پیانو پاکستان بھجوانے کی درخواست کی۔میرے عملے نے دو ہفتے کی جان فشانی کے بعد میرئ ہی شہر کے سب سے پوش علاقے میں میرئ لیے ایک بنگلہ خرید کر اسے آپنے طور پر آراستہ بھی کروادیا تھا اور پھر میری روانگی کا دن بھی آگیا میں نے رفیق کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ میری واپسی کی خبر کوحتی الامکان زیادہ پھیلنے سے روکے رکھے مگر میں اسے یہ تاکید کرنا بھول گیا کہ یہی احتیاط وہ پاکستان میں میرئ خاندان والوں کے لیے بھی روا رکھے اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا میرئ شہر کے ہوائی اڈے کے باہر انتظار گاہ میں میرا سارا خاندان پھولوں کے گلدستے اور ہار لیے میرا انتطار کررہا تھا۔میرےسبھی بہن بھائی اور ان کی اولادیں میری بھابھیاں اور میری بھابیوں کی بہنیں اور ان کے خاندان کے بزرگ پورا ایک لشکر میرے استقبال کے لیے موجود کھڑا تھا۔مجھے وہ دن یاد آگیا یہاں سے دوبئی جانےکے لیے ایک پرانے رکشے میں ائیرپورٹ پہنچا تھا اس دن میرے گھر کے صحن تک بھی کوئی مجھے رخصت کرنے نہیں آیا تھا۔۔وقت بھی کیسی کروٹیں بدل لیتا ہے۔نہ جانے کیسے۔۔پل میں بدل جاتے ہیں یہ دنیا کے بدلتے رشتے ساری عمر جنہوں نے پری زاد سنگ باری کی آج وہی لوگ مجھ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے تھے۔سچ تو یہ ہے کہ مجھے ان کے برسائے پتھروں نے اتنی چوٹ نہیں پہنچائی تھی جتنا لہولہان مجھے ان کے پھینکے ہوئے پھولوں نے کیا۔۔۔
بھائیوں کا اصرات تھا کی میں ان کے ساتھ ان کے گھر چلوں میں تقریبا سات سال بعد واپس لوٹا تھا اور ان سات سالوں میں میں نے اپنے بہن بھائیوں کو اتنا روپیہ بھیجا تھا کہ آج وہ سب اپنے اپنے ذاتی گھروں کے مالک تھے بہنوں کی شادیاں ہوچکی تھیں اور وہ بھی اپنے اپنے گھروں میں خوش تھیں سبھی کی خواہش تھی کہ میں کم از کم پہلا دن ان کے گھر پر گزاروں۔بھابیوں کی جو بہنیں اب رشتے کے قابل تھیں وہ پوری تیاری کت ساتھ بن ٹھن کر کر آئیں تھیں اور ہر بھابھی کی تقریبا یہی خواہش محسوس ہورہی تھی کہ میں وہی ائیرپورٹ پر ہی ان سے کسی ایک کو پسند کرکے رشتے کے لیے ہاں کردوں حالانکہ ان مظلوم لڑکیوں کے چہرے پر لکھی بے چارگی کی داستان صاف نظر آرہی تھی کہ وہ خود پر کسی قدر جبر کرکے خود کو اس امتحان کے لیے تیار کر پائی ہوں گی۔۔۔۔۔
میں نے بڑی مشکل سے ان سب کو یقین دلایا کہ مجھے کسی بے حد فوری نوعیت کی کاروباری میٹنگ کے لیے جانا ہے اور میں موقع ملتے ہی ان سب کی طرف فردا فردا حاضری دینے ضرور آؤں گا۔ میرا پاکستانی عملہ، جس کی بھرتی میرے مینیجر نے چند ہفتے قبل ہی کی تھی،حیرت سے کھڑا یہ سارا تماشا دیکھ رہا تھا-ایئرپورٹ کی پارک لین میں سیاہ مرسیڈیز گاڑیوں کا فلیٹ میرے استقبال کے لیے موجود تھا اور میں کسی نہ کسی طرح سب کو مطمئن کر کے،یا شاید غیر مطمئن چھوڑ کر اپنے گھر کو روانہ ہوا تو شہر کے راستے گلیاں مجھے اسی طرح خود پر مسکراتے نظر آئے جیسے میں انہیں سات سال پہلے مسکراتا ہوا چھوڑ گیا تھا نہ جانے ہم پردیس جا کر کیوں یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہمارے جاتے ہی دیس میں سب کچھ بدل چکا ہوگا-کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا-وہی سڑکیں،وہی راہیں جن پر میں جانے کتنے سال جوتیاں چٹخاتے رہا تھا-میں شہر کے سب سے قیمتی علاقے میں اپنے نئے گھر پہنچا تو مجھے ان اجنبی دیواروں سے شناسائی میں کافی وقت لگا-بظاہر پتھر کے بے جان نظر آنے والے یہ درودیوار بھی اپنے اندر ایک عجیب سا احساس رکھتے ہیں،ہم سے خوش یا نا خوش رہتے ہیں۔۔۔۔۔کبھی تو ہم سے باتیں بھی کرتے ہیں۔۔۔۔مگر ہم انسانوں کی محدود سماعت ان کی یہ گفتگو سن نہیں پاتی۔۔۔۔شام کو میرے بلاوے پر کبیر بھی پہنچ گیا-اسے دیکھ کر چند لمحوں کے لیے میں حیرت زدہ سا رہ گیا-وہ بہت حد تک اپنے بڑے بھائی فیروز سے مشابہت رکھتا تھا گوعمر میں اس سے چھوٹا تھا۔۔۔۔کبیر بھی فیروز کے ذکر پر افسردہ ہو گیا،میں نے اسے گھر کی تمام تر ذمہ داری سونپ دی-وہ شروع میں ہی اتنی بڑی ذمہ داری لینے سے کچھ ہچکچا رہا تھا-مگر میرے اصرار پر مان گیا-میں نے اسی کو اپنا سیکیورٹی انچارج بھی مقرر کر دیا اور شاید اپنے بڑے بھائی کی طرح وہ بھی اسی کام میں راحت محسوس کرتا گیا-اس نے بڑے فخر سے اپنے جیب سے ایک غیر ممنوعہ پستول کا لائسنس نکال کر مجھے دکھایا-
یہ دیکھو صاحب ۔۔۔۔۔ہمارے پاس اسلحے کا لائسنس بھی ہے۔۔۔ہمارے ہوتے ہوئے آپکو کسی فکر کا ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔”
میں جانتا تھا کہ کبیر خان سچ کہہ رہا ہے-ہمارے ملک میں بڑے لوگوں میں شمار کیلئے آج کل ذاتی محافظوں کی ایک فوج بھی لازمی درکار ہوتی ہے-مجھے بہروز کی ایک نصیحت ہمیشہ یاد رہتی تھی کہ جیسا دیس ہو بھیس بھی ویسا ہی ضروری ہے۔۔۔۔ورنہ یہ انسان عموما دوسرے انسانوں کو کم تر سمجھنے میں دیر نہیں کرتا-اور میں نے پردیس میں اپنی زندگی کے اتنے سال کم تر دکھائی دینے کے لیے ضائع نہیں کیے تھے-ہفتے بھر میں ہی سارے شہر کے امراء کو خبر ہو چکی تھی کہ پی- زیڈ (P.Z) نامی کوئی انتہائی بڑا صنعت کار شہر میں اپنا کاروبار پھیلانے کے لیے وارد ہو چکا ہے-ہاں پی-زیڈ (P.Z) یہی نام تجویز کیا تھا میرے مینیجرز نے میری نئی کمپنی کے لئے۔۔۔۔اور وہ مجھے میرے نام سے نہیں جانتے تھے اب میں ان کے لیے پی-زیڈ نامی ایک بڑا انڈسٹریلسٹ تھا-اس طرح مجھے اس تعارفی شرمندگی سے بھی عارضی طور پر نجات مل گئی تھی جو پورا نام بتانے میں مجھے ہمیشہ اٹھانی پڑتی تھی-یہ دولت مند لوگ اندر سے کتنے تنہا ہوتے ہیں-اس کا اندازہ مجھے چند دنوں میں ہی ہوگیا جب چاروں طرف سے مجھے تعارفی دعوتوں کے دعوت ناموں نے گھیر لیا-یہ شام کی پارٹیاں،رات کی دعوتیں،ظہرانے،عصرانے، اور عشائیے۔۔۔۔آخر ان امیروں کو اپنے ارد گرد ہر وقت اتنا ہجوم کیوں چاہئے ہوتا ہے؟ یہ سب اندر سے شدید تنہا ہونے کی نشانی نہیں تو اور کیا ہے؟مگر میں تو ہمیشہ سے ہی ان پرہجوم محفلوں سے کتراتا تھا،لوگوں کی تیز چھٹی نظریں اور طنز اور طعنوں کا عادی ہوجانے کے باوجود میں اس تجربے کو بار بار نہیں دہرانا چاہتا تھا-ہم اپنی زندگی میں بہت سی بے چینیاں اور درد اس لیے بھی پال لیتے ہیں کیوں کہ ہمیں حقائق سے نظریں چرانے کی عادت پڑ جاتی ہے-مجھے سٹاف مینیجر کمالی بہت تیز اور چلتا پرزہ قسم کا بندہ تھا-وہ شہر میں ہونے والی کسی بھی بڑی تقریب کا دعوت نامہ مجھ تک پہنچانے میں دیر نہیں کرتا گیا-میں میں ہر بار کسی نہ کسی طور اسے ٹال دیتا تھا-اگلے ہفتے سے میں نے سمندر کنارے ایک اعلی ذاتی عمارت میں قائم اپنے دفتر جانا شروع کردیا-ہمارا زیادہ تر کام ابھی تک دوبئی آفس سے ہی ہوتا آرہا تھا مگر کمالی نے یہاں بھی خاصہ عملہ بھرتی کر رکھا تھا-
مجھے ایک بار پھر تعارفی مرحلے کی اذیت سے گزرنا پڑا،ایک بات میں کبھی بھی ٹھیک طرح سے سمجھ نہیں پایا تھا کہ یہ ان بڑے بڑے غیر متعلقہ دفتروں میں اتنی بہت ساری خواتین کیوں بھرتی کر لی جاتی ہیں۔۔۔۔؟
جب کہ کچھ کاموں کی نوعیت اس صنف نازک کی موجودگی سے بالکل بھی میل نہیں کھاتی ۔۔۔۔جیسا کہ ہماری تعمیراتی کمپنی۔۔۔۔۔جانے کمالی نے اتنے بہت سے اسسٹنٹ اور ڈپٹی مینیجر ٹائپ عہدوں پر ان نازک لڑکیوں کو کیوں بھرتی کر رکھا تھا؟میرے استفسار پر وہ دھیرے سے مسکرایا-
ساری بات حس کثافت کی ہے سر۔۔۔۔وہ جسے انگریزی میں Aesthetic Sence(استھیٹک سینس) کہتے ہیں۔۔۔۔ویسے بھی ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ جن دفاتر میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔۔۔۔وہاں کے مرد ورکرز زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کام کرتے ہیں۔۔۔۔لباس اور اوقات کار کا بھی خیال رکھتے ہیں سر جی۔۔۔۔اور دفتر کا ماحول بھی خوشگوار رہتا ہے۔۔۔۔”
میرا جی چاہا کہ میں کمالی سے پوچھوں کہ اس نے دفاتر اور ان کے طریقہ کار پر ہونے والی سینکڑوں تحقیقات میں سے صرف ایک اسی ریسرچ کو ہی نافذ العمل کیوں سمجھا؟مگر میں چپ رہا،دفتر میں کام کرنے والی خواتین اور لڑکیاں بھی پہلی بار مجھے دیکھ کر اسی تذبذب کا شکار ہوئیں جو میرے لئے ہر عورت کا خاصہ رہا تھا-مگر میں اس کمپنی کا مالک تھا اور ان کی مجبوری تھی کہ وہ میرے احترام میں کھڑی ہو جائیں اور مجھ سے بات کرتے وقت انکے ہونٹوں پر ایک مصنوعی مسکراہٹ جمی رہے-کمالی نے میرے آنے سے پہلے ہی میرے لئے ایک تیز طراز سی لیڈی سیکرٹری کا بندوبست کر رکھا تھا جسے میں نے پہلے دن ہی کسی ڈپٹی مینیجر کے سیکشن میں منتقل کر دیا اور کمالی کو ہی اپنا پی-اے بھی مقرر کردیا-جانے یہ کمالی کی ترقی تھی یا تنزلی تھی۔۔۔۔
مگر وہ اس خدمت سے خوش دکھائی دیتا تھا۔کبیر خان میرے ساتھ ہی میری گاڑی میں دفتر آتا اور میری روانگی تک عمارت کے کسی گوشے میں یا باہر گاڑی میں ہی میرا انتظار کرتا رہتا تھا۔مگر نہ جانے کیوں کمالی کی اس سے جان جاتی تھی۔کمالی کئی بار مجھ سے دبے لفظوں میں گزارش کرچکا تھاکہ میں اسے آپنے دفتر کے اندر نہ لایا کروں کیونکہ بقول اس کے کبیر خان کا اندازہ ہی بڑا خوفناک تھا۔خود کبیر خان کے بھی کمالی کے بارے کچھ اچھے خیالات نہیں تھے۔۔
ہم کو یہ آدمی کچھ ٹھیک نہیں لگتا صاحب۔۔یہ بڑا چابلوس ہے۔۔۔اور خوشامدی لوگ اچھے نہیں ہوتا۔۔۔
وہ دونوں میرے لحاظ کی وجہ سے ایک دوسرے کو برداشت کرتے آرہے تھے۔میں نے کبیر خان کو سمجھایا کہ یہ دنیا چلتی ہی خوشامد پر ہے۔صدر سے لے کر کلر تک سب کسی نہ کسی خوشامد کئ وجہ سے اپنی جگہ اور عہدے پر قائم ہیں۔خوشامد شاید دنیا کا سب سے قدیم ہتھیار ہے جس کی دھار کسی بھی دور میں کند نہیں ہوتی۔کچھ دن اس ہنگامہ خیزی کی نظر ہوگئے مگر جیسے ہی کاروباری معاملات اور اپنی ڈگر پر آئے میں نے ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کے لیے کہا اور اس شہر کے وسط میں واقع ایک گنجان علاقے میں چلنے کے لیے کہا۔تنگ سڑکوں اور گلیوں سے ہوتے ہوتے ہم گھنٹہ بھر بعد ایک کھولے میدان میں آنکلے سامنے ابھی تک وہی پرانا ٹین کا بڑا سا نصف گولائی میں کٹا بورڈ گیٹ پر آویزاں تھا۔مستانہ گیراج۔۔۔۔۔
میری آنکھوں کے سامنے ماضی کے کئی دن پل بھر میں لہراگئے۔ڈرائیور کو میں نے گاڑی گیراج کے احاطے میں لے جانے کا کہا۔اس نے دبے لفظوں میں مجھے بتانے کی کوشش کی کہ کمپنی کی گاڑیوں کے لیے آپنا مخصوص ڈیلر اور گیراج شہر لے پوش علاقے میں موجود ہے مگر میں نے اس کی سنی اور سنی کردی۔گیراج کے برآمدے میں لکڑی کے ستون کے ساتھ اپنی مخصوص جگہ پروہی پرانا سا ریڈیو لٹکا ہوا تھا اور فضا استاد مستانے کے من بھاتے گانوں کی آواز گونج رہی تھی۔۔
جو درد اپنوں نے دیا۔۔۔۔۔غیروں سے شکایت کون کرے ۔۔۔
گاڑی اندر داخل ہوتے ہی شاگرد بھاگتا ہوا ہماری کار کی طرف آیا۔جی صاحب حکم کریں۔سروس کرنی ہے یہ آئل بدلوانا ہے۔۔ٹیونگ بھی ہوجائے گی یہ آپ کی گاڑی کا انجن سیل بند ہے۔۔۔کچھ وقت لگے گا ہماری ورک شاپ پر۔۔۔
یہ کوئی نیا لڑکا تھا۔کچھ دور باقی لڑکے ویلڈنگ پلانٹ پر اس طرح ویلڈنگ میں جتے ہوئے تھے جیسے کھبی میں وہاں سارا دن بیٹھ کر اپنا خون ویلڈنگ کی چنگاریوں میں جلایا کرتا تھا۔میں نے لڑکے سے سختی سے کہا۔تمہارا استاد کہاں ہے؟اس نے ہماری گاڑی کا ستیاناس کر دیا ہے۔۔
ٹھیک سے اسے کام کرنا نہیں آتا۔جاو۔۔بلا کر لاو اسے۔۔
شاگرد گھبرا کر اندر کی جانب بھاگا اور چند لمحوں بعد استاد کی غصے میں بھری آواز سنائی دی۔ارے کون سا سیٹھ ہے میاں۔۔ہم بھی تو دیکھیں۔۔۔؟استاد مستانے نے آج تک اپنے کام میں ہیرا پھیری نہیں کی۔۔ہم محنت کرے ہیں چوڑی نہیں کرتے۔۔۔استاد مستانہ اپنے مخصوص حلیے میں سر پر دوپلی ٹوپی رکھے۔واسکٹ پہنے اور منہ میں پان دبائے بڑ بڑاتا ہوا برآمدے سے نکل کر گیراج کے صحن میں آیا اور ہماری گاڑی کی طرف بڑھا ۔میں نے ڈرائیور اور کبیر کا گاڑی سے نکل کر گیراج کے اندر بیٹھنے رہنے کا کہا اور خود نیچے اتر آیا۔میری آنکھوں پر دھوپ کا چشمہ تھا جیسے میں نے اتار کر اپنے کوٹ کی جیب میں رکھا لیا۔مستانہ استاد بے خیالی میں غصے میں بھرا میری طرف بڑھا۔میں منہ دوسری جانب موڑ کر کھڑا ہوگیا اور غصے سے بولا۔۔۔
کیوں استاد مستانے۔۔یہ گیراج ہے یا ہیرا پھیری کا اڈا ۔۔۔۔۔؟
مستانے کے سارے شاگرد برآمدے میں دم بخود کھڑے اس بات کا انتظار کر رہے تھے کی کب ان کا بھڑکیلا استاد سب کچھ بھول کر مجھ پر برس پڑے۔۔میرے تیور دیکھ کر
کبیر خان کا ہاتھ ہولسٹر میں بندھے پسٹل کی جانب بڑھا گیا۔استاد مستانے کے شاگردوں نے بھی اپنے طور پر آس پاس پڑے اوزار بطور ہتھیار اٹھالیے کیونکہ انہیں یقین ہوگیا تھا کہ ان کا استاد اکیلا ہی ہم سے بھڑ جائے گا۔تبی میں نے پلٹ کر بیپھرے ہوئے استاد مستانے کی طرف دیکھا۔
کم از کم یہ سات سو سال پرانا ریڈیو تو بدل لیتے استاد۔۔اب اس کے ارد گرد گانے بھی چائینز میں سنائی دیتے ہیں۔۔
استاد منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور مجھ پر نظر پڑتے ہی جیسے وہ اپنی جگہ جام ہوگیا اور پھر اس کی آنکھوں سے جھڑی سی جاری ہوئی اور وہ دوڑ کر روتے ہوئے میرے گلے لگ گیا۔اتنے دن بعد اپنے استاد کی یاد آئی او بے وفا۔۔مجھے رفیق نے فون کر کے بتا دیا تھا کی تم واپس آچکے ہو ۔۔۔سارا گیراج ہمیں حیرت سے دیکھ رہا تھا اور چند پرانے شاگردوں نے بھی مجھے پہچان لیا اور ہمارے گرد ایک جمگھٹا سا لگ گیا۔۔۔
استاد نے بڑی مشکل انہیں ڈانٹ کر کام پر لگا دیا مگر وہ سب بہانے بہانے سے میری کار کے اردگرد چکر کاٹتے رہے۔۔وہ سب جان چکے تھے کہ کل تک میں بھی انہیں میں سے ایک تھا مگر آج میں ان کے سامنے ان کی خوابوں کی تعبیر بنا کھڑا تھا۔ہم۔کمزور اور بے بس انسان جنم سے لے کر گنا ہونے تک یہی کتے رہتے ہیں اپنے خوابوں کا پیچھا ان خوابوں کو سچ کرنے کی دھن۔۔مگر میرئ حصے کی تعبیریں بھلا کب آتی ہیں وہ کوئی اور ہوتے ہوں گے جن کے خواب تعبیر پاتے۔ہم تو ساری زندگی اپنی جھوٹے سچے خوابوں کے پیچھے بھاگتے گزار دیتے ہیں۔یا پھر کسی دوسرے کی کامیابی میں اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھ کر خوش ہوجاتے ہیں۔مگر گیراج کے یہ معصوم لڑکے یہ بات نہیں جانتے تھے کی جو میں آج تھا۔۔وہ کھبی میرا خواب نہیں تھا۔۔میں نے تو بہت چھوٹا سا خواب دیکھا تھا۔بہت معصوم سا سپنا تھا میرا مگر اس کی تعبیر پانے کے لیے مجھے جانے کتنے طویل راستوں سے گزرنا باقی تھا۔مگر منزل ابھی تک لاپتہ تھی ۔شاید ہر انسان کا مقدر اپنے خوابوں کو کسی اور اور کے لیے تعبیر ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔اس کا اپنا خواب سدا خواب ہی رہ جاتا ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: