Hashim Nadeem Urdu Novels

Parizad Novel By Hashim Nadeem – Episode 18

Parizad by Hashim Nadeem
Written by Peerzada M Mohin

پری زاد از ہاشم ندیم – قسط نمبر 18

–**–**–

استاد مستانے نے نکڑ کے ہوٹل دے میری پسندیدہ دودھ پتی منگوائی اور خود مجھے بیٹھ کر ٹکر ٹکر دیکھنے لگا۔
تم نے واقعی ہی کر دکھایا پیارے۔۔ورنہ میرا تو معجزوں سے یقین پی اٹھ چلا تھا۔۔جو تمہیں چاہا تمہیں مل گیا اس دنیا میں کہاں ہوتا ہے میں نے مسکرا کر استاد کی طرف دیکھا۔صرف تھوڑی سی دولت آگئی ہے میرے پاس باقی کچھ نہیں بدلا استاد میں ابھی تک وہی پری زاد ہوں۔۔
استاد نے پینترا بدل کر کہا کمال کرتے ہو میاں دولت سے بڑی تبدیلی بھی کچھ اور ہوتی ہے بھلا۔لوگوں کی زندگیاں ختم ہوجاتی ہیں چند دھیلے کمانے میں سب مجھے ہی دیکھ لو سدا کنگال ہی رہے۔اچھا یہ بتاو۔۔کوئی شادی وادی بھی کی پے یا نہیں یا ابھی تک وہی شرمیلے کنوارے پری زاد ہو۔۔۔؟
میں نے مزید چائے کا گھونٹ حلق سے نیچے اتارا مجھ سے بھلا کون شادی کرے گی استاد۔اور پھر شاگرد بیاہ کرلے اور استاد کنوارہ رہے یہ کہاں کا دستور ہے۔۔۔
استاد نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔کیوں اس عمر میں بھری لٹیا ڈبونے کی بات کرتے ہو پری زاد پیارے اور یہ کہا بات کردی کہ تم سے کون بیاہ کرے گی۔ذرا علان تو کرکے دیکھو نکاح کا پورے سوئمبر رچے گا تمہارا تو۔۔
میں نے استاد کی بات کسی اور جانب موڑ دی۔۔میری شادی کی بات چھوڑو تم یہ بتاؤ کے گیراج کا یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟لگتا برسوں سے رنگ و روغن نہیں کروایا۔کام والی گاڑیاں بھی اکا دکا کھڑی نظر آرہی ہیں صحن میں۔۔یہ سب کیا ہے ؟
استاد نے میری بات ٹالنے کی کوشش کی۔کچھ نہیں دھندے میں تو بھلا مندا چلتا ہی رہتا ہے تم سناو کیسی گزر رہی ہے
اتنے میں چائے کے برتن اٹھانے والے لڑکے نے ہماری بات سن کر راز کھول ہی دیا یہ پری زاد بھائی گیراج تو گروی پڑا ہے ہمارا تین سال سے استاد غلط بتا رہا ہے کوئی دھندا نہیں صرف منڈا ہی منڈا ہے آج کل استاد نے بری طرح سے اس شاگرد کو جھاڑ پلائی۔کم بخت۔تو باز نہیں آئے گا بزرگوں کی بات میں دخل دینے سے۔چل دفع ہو۔۔جاکر اس اٹھتر بیاسی کرولا کے ڈینٹ نکال۔شام تک مجھے گاڑی تیار چاہیے ورنہ کھال ادھیڑوں گا تیری۔۔۔
لڑکا منہ بسورتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔میں نے استاد کی طرف دیکھا یہ میں کیا سن رہا ہوں استاد گیراج گروی پڑا ہے کیوں؟
استاد نے ایک لمبی سانس بھری۔اب کیا بتائیں میاں پرانے مکینک اور گیراجوں کا کام ٹھپ ہوچکا ہے۔گاڑیوں کے انجن اب سیل بند آتے ہیں ٹیوننگ اور مرمت کمپیوٹر مشینوں پر ہوتی ہے ٹائر بنا ٹیوب کے آگے ہیں اور خراد کا کام اب ماڈرن مشین کرتی ہے ہمارے پاس وہی چند پرانا کھٹارہ گاڑیاں آتی ہیں جن کا مزاج نئی مشینیں سمجھ نہیں سکتی خرچے تمہارے سامنے ہی تھے سارے ایسے میں گیراج گروی نا رکھتا تو کیا کرتا۔۔؟ مجھے اپنی فکر نہیں بس یہی سوچ کر پریشان رہتا ہوں کے گیراج کی قرقی یا نیلامی کے بعد نیا مالک کہیں ان بچوں کو یہاں دے بے دخل نہ کردے تم تو جانتے ہو۔۔ان سب کے گھر انہی کے دم سے چلتا ہے کئی دغا ان سے کہا ہے کہ کم بختو جاو جا کر کوئی نیا دھندا ڈھونڈو پر یہ ہیں کہ یہاں سے جاتے ہی نہیں۔۔
میں چپ چاپ استاد کی ساری بات سنتا رہا کس کے پاس گروی رکھا ہے یہ گیراج تم نے ۔۔۔؟؟؟
استاد نے بے چارگی سے میری طرف دیکھا اس علاقے کا ایک مارواڑی سیٹھ بھلا آدمی ہے نلامی کی تاریخ سے پہلے تنگ نہیں کرے گا۔۔
مجھے اس سیٹھ کا نام اور مکمل پتا چاہیے استاد ۔۔
استاد نے نفی میں ڈر ہلایا نہیں پیارے استاد اپنے شاگردوں کو دیتا ہے لیتا کچھ نہیں میں نے استاد سے بحث نہیں کی اور کمالی کو فون کرکے گیراج پینچنے کا کہا۔۔آدھے گھنٹے بعد ہی وہ ہڑبڑایا سا گیراج میں موجود تھا۔میں نے گیراج کے سب سے سینئر شاگرد کو کمالی اور ڈرائیور ساتھ سیٹھ کی طرف بھجوادیا جس کا پتا گیراج کے سبھی لڑکے جانتے تھے۔تین گھٹنے بعد کمالی رہہن رکھے گئے کاغذات کے ساتھ میرے سامنے کھڑا تھا۔میں نے جائیداد کی آزادی کے کاغذ استاد کی جھولی میں ڈال دئیے۔یہ گیراج جتنا تمہارا ہے اتنا ہی میرا بھی ہے استا۔اگلے ہفتے تک نئی کمپیوٹرائزڈ مشینری بھی آجائے گی اور تمہاری یہ ڈیوٹی ہے کہ اپنی نگرانی میں میرے اس گیراج کو ایک دم ٹپ ٹاپ بنا دو اگلی دفعہ جب میں اپنے گیراج کو دیکھنے آوں تو مجھے یہاں پرانا پرانا استاد مستانہ چاہیے ہاں مگر یہ ریڈیو نہ بدلنا
اس کے بنا گیراج مکمل نہیں ہوگا۔۔۔
استاد مستانہ گم سم ہاتھوں میں نلامی کھلنے کے کاغذات لیے بیٹھا مجھے دیکھ رہا تھا۔میں نے اس کے کاندھا تھپتپھایا اور اٹھ کر وہاں دے جانے کے لیے مڑا استاد نے مجھے پیچھے سے آواز دی پری زاد ۔۔۔
میں نے مڑ کر دیکھا تو استاد میرے گلے لگ گیا میرے آس پاس گیراج کے سارے لڑکے جمع ہوچکے تھے کسی نے میرے ہاتھ تھام رکھے تھے تو کوئی میرے ساتھ چپکا کھڑا تھا یہ کم بخت بے جان اور کھر درے کاغذ کے چند روپے کتنی خوشیوں پر قبضہ جما رکھتے ہیں۔۔۔
کیسے جادو ٹونےکیسے کرشمے دیکھتا ہے یہ پیسہ۔راتوں کو ہنسا دیتا ہے اور ہنستوں سے سے بچھڑ کر انہیں آٹھ آٹھ آنسوں رلاتا ہے اور یہ دولت مند کتنے انجان رہتے ہیں اس پیسے کے استعمال سے کاش ان بے جان کاغذ ان بے جان کاغذ کے ٹکڑوں کا صرف صرف ایک مصرف ہوتا۔خوشیوں کا کاروبار۔۔ان لڑکوں کے چہرے پر ایسی خوشی تھی کہ جس کے بدلے ساری دنیا کی دولت بھی لٹا دی جاتی تو کوئی گھاٹے کا سودا نہ ہوتا۔۔مگر عموما قدرت جنہیں دولت دیتی ہے بدلے میں ان کا دل نکال لے جاتی ہے ل۔شاید اس لیے یہ دنیا دل والوں سے خالی ہوتی جارہی ہے۔گیراج سے نکلتے سہ پہر کے چار بج گئے دفتر جانے کا وقت تو رہا نہیں تھا میں نے ڈرائیور کو گاڑی گھر کی طرف موڑنے کا کہہ دیا اور پھر واپسی پر میری نظر اپنی پرانی یونیورسٹی کے بورڈ پر پڑی۔میں نے گاڑی رکوادی اور کچھ دیر کے لیے نیچے اتر کر گیٹ دے اندر چلا گیا۔اس درد گاہ میں میں نے اپنی زندگی کے چند آچھے دن گزارے تھے۔اچانک ہی میرے اندر خود میرے ہی ہاتھوں دفنایا ہوا وہ ایک ناکام سا شاعر جاگ اٹھا جس کے کلام پر دادو تحسین سے کھبی وہ سامنے نظر آنے والا بڑا آڈیٹوریم گونج اٹھتا تھا۔مجھے یاد آیا کی دوبئی جاتے وقت اپنی ساری نظمیں اور کلام ٹینکے ایک بکس میں بند کرکے اپنے پرانی گھر کے چھت والے کمرے میں چھوڑ آیا تھا۔جانے اب وہ سارے رجسٹر اور کاغذوں کے دستے جانے کہاں ہوں گے۔کاش میں وہ سب ساتھ دوبئی لے جاتا۔میں انہیں خیالوں میں گم تھا کی میرے عقب میں ایک مانوس سی بھاری آواز گونجی ۔۔۔
تم پری زاد ہو ناں۔۔۔
میں چونک کر پلٹا۔میرے عقب میں کھڑی میری گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک بزرگ شیروانی اور جناح ٹوپی پہنے کھڑے اپنی نظر کے چشمے کے پیچھے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
جی۔۔۔۔ میں پری زاد۔۔۔۔۔مگر آپ ۔۔۔۔
وہ میری طرف بڑھے ۔بھول گئے۔۔یاداشت کی کمزوری تو بڑھاپے سے مشروط ہوتی ہے۔۔مگر میں تمہیں پہلی نظر پہچان لیا تھا۔۔۔میری زبان سے بے اختیار نکل پڑا۔مجھے پہنچانے کے لیے شاید یادداشتشرط نہ ہو۔۔آپ شاید سر احمد ہیں۔۔؟ہمارے لائبریری انچارج؟؟؟
وہ مسکرائے ٹھیک پہچانا تمہارے جانے کے بعد اردو بزم ادب کا شعبہ بھی میرے حوالے کردیا گیا۔تمہاری کہیں ہوئی نظمیں آج تک جامعہ کے ادبی پرچے پر چھپتی رہتی ہیں اور تمہاری وہ اسٹیج ڈرامے والی نظم۔۔گر تمہیں مجھ سے نفرت ہوجائے۔۔بھئی واہ ۔۔کیا بات ہے ۔۔ہر سال جب اوتھیلو اسٹیج پر پیش کیا جاتا ہے پس منظر میں تمہاری وہ نظم ضرور دہرائی جاتی ہے اور سچ پوچھو تو ہر بار سارا ہال مبہوت اور ساکت بیٹھا سنتا رہتا ہے ۔۔۔میں خاموشی سے احمد صاحب کی بات سنتا رہا۔میرا دل چاہا کی میں انہیں بتادوں کہ وہ شاعری میں بھی کسی خاص مقصد سے کرتا تھا۔کالج کے چند جبینوں میں توجہ حاصل کرنا مقصد تھا میرا اور بس۔۔سچے شاعر ایسا بھلا کب کرتے ہیں۔؟انہوں نے غور سے میری طرف دیکھا۔مگر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی تم اچانک یونیورسٹی چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے؟ تعلیم مکمل کی تم نے یا نہیں ۔۔۔؟؟
میں دھیرے سے جواب دیا۔کچھ گھریلو مجبوریاںتھیں
مجھے دوبئی جانا پڑا۔۔۔احمد نے سر پلٹ کر میری قیمتی گاڑی اور گارڈز کی طرف دیکھا۔لگتا ہے تم نے رو وقت ضائع نہیں کیا وہاں لیکن تم یہاں باہر لان میں کیوں کھڑے ہ۔
اندر چلو ۔۔بہتسے طالب علم تم سے ملنا چاہیں گئے اردو شعبے میں اکثر تمہاری نظموں کی بات چلتی ہے۔میں نے طریقے معذرت کی۔نہیں سر۔آج نہیں ۔یہ میرا کارڈ ہے۔کھبی فرصت ملے تو میرے دفتر چکر لگائیے گا۔آپ کی خدمت کرکے مجھے بہت خوشی ہوگی یونیورسٹی سے گھر واپس آنے کے بعد بھی میں بہت دیر تک یونیورسٹی کی یادوں کو اپنے زہن ست نکال نہیں پایا۔مجھے نٹ کھٹ آمنہ بھی یاد آئی جانے وہ کہاں ہوگی؟سیٹھ عابد سے شادی کت بعد کھبی اس کے بارے کچھ سننے میں نہیں آیا۔۔آمنہ کئ ماں کے ایک جمعلے میری زندگی کے تمام راستے بدل دئیے تھے۔مگر میں دولت کمانے کی دھن میں ایسا مگن ہوا کہ میں اپنے اندر بسنے والے اس حساس اور نازک انسان خو بھی کچل کے رکھ دیا تھا جو کھبی میرا سب سے اچھا دوست تھالیکن اس ساری زندگی میں مجھے کیا ملا؟میں آج بھی اتنا ہی تنہا اور اکیلا تھا نہ کسی حرف دعا میں تھا نہ کسی کے دست طلب میں۔۔نہ کسی کی آنکھ کا نور تھا نہ کسی کے دل کا قرار۔۔میں بھی بہادر شاہ ظفر کی غزل کے بولوں کی طرح وہی ایک غبار تھا جو کسی کے کام نہ آسکا۔مجھے ٹیرس پر بیٹھے جانے کتنی دیر ہوچکی تھی باہر اندھیرا پھیل کر شام کو رات کی سیاہ چادر میں لپیٹ چکا تھا لوگ دن اور رات کو ایک دوسرے کی ضد کہتے ہیں مگر مجھے یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھی لگتے ہیں پلٹ دوست تبھی تو جب دن شدید تھکن سے چور ہو کر شام تک ہانپنے لگتا ہے تب شام اپنی مہربان سہیلی رات کو اواز دے کر بلاتی ہے اور رات اپنی کالی شال میں اس تھکے ماندے دن کو سمیٹ کر اس سلا دیتی ہے ۔یوں شاید ہر رات کی گود میں ایک بھر پور دن آنکھیں موندھے سورہا ہوتا ہے۔بس ہمیں نظر نہیں آتا کچھ دیر بعد نوکر نے آکر بتایا کے کہ کمالی آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔کمالی ٹیرس پر آیا تو معمول سے کچھ زیادہ تکلف لباس میں ملبوس تھا ۔۔۔
یہ کیا سر۔۔۔؟آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئے۔ہمیں سیٹھ رحمان کے فارم ہاوس پر جانا ہے پارٹی میں۔۔شام سے تین مرتبہ وہ خود مجھے یاد دہانی کروا چکے ہیں کہ یہ دعوت خاص طور پر آپ کے اعزاز میں منعقد کی جارہی ہے میں نے جان چھڑانے کی کوشش کی۔۔۔میرا موڈ نہیں ہے کمالی۔۔تم میری طرف سے کوئی مناسب معذرت کر دینا۔۔
الی گڑ بڑا سا گیا۔نہیں سر اچھا نہیں لگے گا۔۔سارے شہر کے امیر وہاں اکٹھے ہوں گے اور پھر ہمیں وہاں پر نئے آنے والے ٹینڈر کے امیدوار سے ملنے کا موقع بھی مل جائے گا۔نیا نیا کاروبار ہے اپنا سر۔یہ میل جول رکھنا ضروری ہے ۔۔
میں نے بادل نخواستہ خود کو بڑی مشکل سے آمادہ کیا اور گھنٹے بعد پھر سیٹھ رحمان کے فارم ہاوس کی راہ پر جارہے تھے۔آج کل یہ امیروں کا نیا مشغلہ بنتا جارہا ہے۔شہر میں ٹھیک ٹھاک عالی شان گھر یا جائیداد ہونے کا باوجود کسی ویرانے میں سینکڑوں ایکڑ اراضی پر ایک فارم ہاوس تعمیر کیا جاتا ہے۔جہاں ایسی کاروباری اور غیر رسمی دعوتیں رکھی جاتی ہیں یہ فارم ہاوسز ایک طرح سے امراء کا اسٹیٹس سمبل(status symbel)بھی ہوتے ہیں اور کچھ خاص لوگوں کے لیے پردے کا کام بھی کرتے ہیں۔سیٹھ رحمان کا گا تم ہاوس میں کچھ ایسا ہی پردہ محسوس ہوتا تھا۔کئی ایکڑ گھاس کے میدان اور گالف کورس کے درمیان بنی شیشے کی عمارت جس کے آس پاس مضوعی نہر اور دوسروں کے ذریعے پانی کے بہاو کا انتظام موجود تھا انسان مادی طور پر جتنی بھی ترقی کر لے۔۔پانی اور سبزہ اس کی جبلت سے کھبی نہیں نکل سکتا۔ہمارے ذہنوں میں جنت کا تصور بھی تو بہتی نہروں ٹھنڈے چشموں اور گھنے سایوں سے مربوط ہے سارا فارم ہاوس برقی قمقہوں سے جگمگا رہا تھا۔باربی کیو کا بندوبست بھی باہر سبزے میں ہی کیا گیا تھا۔میں وہاں موجود لوگوں سے صرف نام کی حد تک ہی واقف تھا مگر لگتا تھا کہ کمالی نے میرا کافی تفصیلی تعارف کروا رکھا تھا ۔تب ہی وہ سب مجھے اچھی طرح جانتے تھے۔میری کمپنی اگلے ہفتے ایک بہت بڑا آرڈر ٹینٹدر کرنے والی تھی۔معیاری آلات کی فراہمی اور ایک نئی جدید ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے ہمیں بہت بڑی مالیت کا ٹھیکہ دینا تھا اور وہاں پارٹی میں موجود سبھی کاروباری طبقے اس ٹھیکے میں دلچسپی کا اظہار کر رہے تھے۔سیٹھ رحمان پچاس پچپن سالہ ایک گھاگ اور شوقین مزاج شخص تھا جسے باتیں بنانے کے فن سے کافی اگاہی معلوم ہوتی تھی۔اس فردا فردا سبھی مہمانوں سے میرا تعارف کروایا اور وقتا فوقتا اپنی گفتگو کے درمیان مجھے جتانے میں قطعا عار محسوس نہیں کی کہ وہ ہماری کمپنی کے ٹھیکے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ہمارے ساتھ چلتے ہوئے کمالی جس طرح سیٹھ رحمان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہا تھا اس سے مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی اس نے کمالی کو بھی خوش رکھا ہے۔۔
کیا بتاوں سر جی۔۔۔یہ اپنے رحمان صاحب تو یاروں کے یار ہیں بڑا ہلہ گلہ رہتا ہے ان کے فارم ہاوس پر۔۔صوبائی اور وفاقی وزراء اور نوکر شاہی تو سمجھیں بس انہی کا دلدادہ ہے آج بھی کافی منسٹرز اور سیکرٹریز آپ کی اس دعوت میں نظر آرہے ہیں یہ انہی کا کمال ہے۔۔سبھی کو خوش رکھنے کا فن تو کوئی رحمان صاحب سے سیکھے۔۔۔۔
کمالی کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی اس محفل میں مجھے ایک اور ادارک ہوا اخلاقیات اور شرم حیا کے معیار ہر طبقے میں اپنے طور پر رائج شدہ ہوتے ہیں۔محفل میں فرق برق اور جھلمل کرتے لباسوں میں موجود خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو اس آزادانہ ماحول میں یہاں وہاں اچھلتی پھر رہی تھیں اور ان میں زیادہ طر وہ تھیں جو کسی نہ کسی بڑے آدمی نے ساتھ بطور دوست اس محفل میں شریک تھیں۔تعارف کے دوران ان میں سے اکثر نے مجھ سے بھی مسکراتے ہوئے ہاتھ ملایا کھبی مشرقی اقدار میں زنانے اور مردانے کا رواج ہوا کرتا تھا۔بڑے بڑے راجے مہاراجوں اور نوابوں کی محفلوں اور دعوتوں میں مرد اورعورتیں الگ الگ حصوں میں شریک ہوا کرتی تھیں۔مطلب یہ کے دولت کی فروانی کا ان بدلتی قدروں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔کیونکہ دولت اور پیسہ ان کے پاس آج کے ان نو دولتیوں سے کہیں زیادہ ہوا کرتا تھا۔پھر یہ آزاد خیالی اور بے حجابی ہمارے معاشرے میں کہاں سے ڈر آتی ہی۔۔؟؟
کہتے ہیں انسان کی ابتدا پتھر کے دور سے ہوئی تھی اور شاید اس کا اختتام بھی دوبارہ پتھر کے دور پر ہی ہوگ۔درمیانی مدت مکمل عروج اور پھر یکسر زوال کا مخص ایک دورانیہ ہی تو ہے۔کھانے سے پہلے ہر طرح کے ممنوعہ اور غیر ممنوعہ مشروبات سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔انسان خدا سے ہمیشہ عقل اور ہوش مندی کا طلب گار رہتا ہے تاکہ متوازن اور خوشگوار گزار سکے۔مگر پھر شام ہوتے ہی ہم سے اکثر اس ہوش مندی سے گھبرا کر خود کو مدہوشی کے اندھیرے کنویں میں اتار دیتے ہیں۔میرے اردگرد بھی اس مصنوعی مدہوشی کا دور دورہ تھا عارضی اور جھوٹی بے خودی وہ مدہوشی ہی کیا جو خمار میں بھی ہوش مند رہے؟
میں اکتا کر کمالی کو وہاں سے نکلنے کا اشارہ کیا۔وہ تیزی سے لپک کر میرے قریب آیا اتنی جلدی سر۔۔۔کھانا بس لگنے والا ہے۔۔۔سیٹھ رحمان کو کسی خاص مہمان کا انتطار ہے۔ان کے اتے ہی کھانا رکھ دیا جائے گا۔میں اکتاہٹ سے کمالی کی طرف دیکھا ہماری حاضری لگ گئی اب تم بھی یہاں سے نکلنے کی کرو کمالی نے سر ہلایا اور سیٹھ رحمان کو ہماری روانگی سے مطلع کرنے کے لیے چلا گیا۔میں نے بھی کار پارکنگ کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ کسی جانب سے سیٹھ رحمان کمالی کے ساتھ تیز اور لمبے قدم بھرتا ہوا نمودار ہوا۔یہ کیا پی زیڈ صاحب۔۔آپ ابھی سے چل دئیے ابھی تو شام اور محفل ٹھیک طرح سے بھیگی بھی نہیں میں دھیرے سے مسکرایا میں شام کو دیر تک باہر اوس میں بھیگتا رہوں تو مجھے زکام ہوجاتا ہے۔۔بھیگنے کے معاملے میں کم ظرف واقع ہوا ہوں۔۔۔
رحمان میری بات سن کر زور سے قہقہہ مار کر ہنس پڑا خوب بہت ہی خوب۔۔بھئی میں تو سمجھا تھا کہ پورے شہر میں صرف میں ہی ایک بذلہ سنج باقی بچا ہوں۔۔مگر آج اپنا مقابل دیکھ کر جی خوش ہوگیا۔اب تو میں ہرگز اتنی جلدی آپ کو واپس نہیں جانے دو گا محفل کے بعد بیٹھ کر آپ سے بہت دی باتیں کرنی ہیں۔برسوں بعد کسی ہم زاد سے واسطہ پڑا ہے۔۔۔
میں نے جان چھڑانے کی کوشش کی کہ مجھے اگلے دن کسی اہم پروجیکٹ کے لیے میٹنگ اور مواد کی تیاری کرنی ہے مگر سیٹھ رحمان اڑگیا۔۔نہیں بھئی ۔۔ابھی تو آپ خو اس محفل کی جان سے ملوانہ ہے ۔شہہ پارہ بیگم۔چوٹی کی ایکٹریس ہیں بڑی دھوم مچائی ہے انہوں نے فلم انڈسٹری میں۔ویسے تو وہ کھبی کسی پبلک پلیس پر یوں آتی جاتی نہیں مگر ہمارے ساتھ کچھ دیرینہ مراسم کا خیال ہے انہیں کہ آرہی ہیں۔۔۔یہ لیں۔۔شاید انہی کی گاڑی ہے۔۔وہ اگئیں۔آپ بس دو لمحے انتظار کریں میں نے آپ کی بڑی تعریف کی ہے ان سے وہ خود بہت کہتی تھیں آپ سے ملنے کا سچ پوچھیں تو وہ صرف آپ سے ملنے کے لیے آرہی ہیں ۔۔۔
سیٹھ رحمان جلدی سے آگے بڑھ گیا اور میرے سوال میرے دل میں ہی مچل کر رہ گیا کہ وہ بھلا مجھے جانتا ہی کتنا تھا کہ اسے میری تعریف کرنے کی ضرورت پڑگئی۔کچھ ہی دیر میں سیٹھ رحمان کا زوق برق اور نازو ادا پیکر کو لیے میری طرف آتا نظر آیا میری نظر اس کے چہرے ہٹ کر ساتھ چلتی عورت پر پڑی اور مجھے حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا۔میں اس عورت کو جانتا تھا مگر تب اس کا نام شہہ پارہ نہیں کچھ اور تھا۔شہہ پارہ کی نظر سے میری نظر ٹکرائی اور وہ بھی ایک جھٹکے سے ٹھٹھک کر وہیں جم کر رہ گئ…
جاری ہے….
آخر وہ لڑکی کون ہوگی اپنے رائے کا اظہار کمنٹ بکس میں بتائیے گا..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Last Episode 33

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: